سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 7

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 7

بے رنگ پیا

امجد جاوید

قسط نمبر 7

طاہر نے جیسے ہی دو نشستوں کے لئے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے سیاسی ماحول میں ہلچل مچ گئی۔ عام عوام کو تو کیا سمجھ آ تی ، سیاسی حلقوں میں بھی حیرت پھیل گئی۔سیاست بھی شطرنج کی بساط پر مہرے چلنے جیسا ایک کھیل ہے۔بساط بچھتے ہی مہرے سجائے جاتے ہیں، کھلاڑی اپنی اپنی چال چلتے ہیں۔حلقے میں موجود ووٹروں کو سامنے رکھ کر مہرے چلائے جاتے ہیں۔شہ مات کے لئے پورا منصوبہ ہوتا ہے۔لیکن اگر بساط سیاست کا توازن ہی بگڑ جائے تو پلان بھی دھرے رہ جاتے ہیں۔طاہر نے سیاسی حلقے کا توازن ہی بدل کر رکھ دیا تھا۔دوسرے سیاست دانوں نے اسے صرف چھوٹی نشست کا امیدوار سمجھ کر ہی پلان کیا تھا۔ انہیں کیا سمجھ میں آتا، سکندر حیات بھی چکرا کر رہ گیا تھا۔ اس نے طاہر کو اپنے سامنے بٹھا کر کہا

” بیٹا یہ تم نے کیا کیا؟نئے دشمن پیدا کر لئے ،پہلے تو اپنی سیٹ کی کوئی امید تھی ، اب تو ایک جہان سے لڑنا پڑے گا ۔“

”بابا اگر سیاست کرنی تویہاں سب دوست تو نہیں ہوتے، ان میں زیادہ مفاد پرست ہوتے ہیں، جسے جو شے چاہئے ہوتی ہے وہ اگر اسے مل جائے تو خاموشی ہو جاتی ہے۔“ اس نے بڑی سنجیدگی سے کہا

” مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تم کیا کرنا چاہتے ہو ،لیکن تمہیں پتہ ہے الیکشن میں خرچ کتنا ہوتا ہے، مجھے اس کی بھی پروا نہیں۔ لیکن یہ سب اگر فضول گیا توہمارا مذاق بن جائے گا ….“ بابا نے کہنا چاہا تو وہ مودب لہجے میں بولا

”آپ نے ذمہ داری مجھے دی،دیکھیں تو سہی میں کیا کرتا ہوں۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے بیٹا، جیسا تم چاہو۔“ بابا نے بحث کرنے کی بجائے خاموشی کو ترجیح دی ۔

کھیل ہو یا میدان جنگ ،اس میں جیت کی شروعات اس وقت ہوتی ہے ، جب حریف کو اپنی مرضی پر لایا جائے۔بساط پر ایستادہ مہروںکا توازن بگاڑ لینا کوئی بڑی بات نہیں، بساط کا ماحول اپنے نشانے پر لے آنا ہی فنکاری ہے ۔طاہر پورے حلقے کی سیاست کو اپنی ذات کے محور پر لے آ یا تھا۔تھڑے پر بیٹھے ادھ کچری بحث کرنے والوں سے لے کر پرانے سیاست دانوں کے ڈرائنگ رومز تک وہی موضوع گفتگو تھا۔ طاہر مطمئن تھا اور یہی اطمینان دوسروں کی بے چینی بن گیا۔ مختلف جوڑ توڑ اپنے عروج پر تھے۔ الیکشن مہم اپنے فیصلہ کن مر حلے میں داخل ہو گئی تو آیت النساءبھی آ گئی ۔ طاہر نے اسے ائیر پورٹ سے لے لیا۔

”مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے کہ تم میرے لئے یہاں آ گئی ہو ۔“ طاہر نے کار کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا تو آ یت بولی

”جب میں نے تمہارا ساتھ دینے کا وعدہ کر لیا تومجھے ہر ممکن کوشش کرنا ہے۔مجھے اب ضرورت محسوس ہوئی میں مجھے یہاں آ نا چاہئے تو میں آ گئی ۔“

”مجھے بڑا حوصلہ محسوس ہو رہا ہے۔ میں اپنے آ پ کو خوش قسمت سمجھ رہا ہوں کہ اب اتنے دن تمہارا ساتھ رہے گا ، جیت یا ہار اپنی جگہ ، وہ جو بھی ہو ۔“ اس نے اپنے من کی بات کہہ دی ۔

” اور مجھے بہت زیادہ خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔“ اس نے خوشگوار انداز میں کہا، پھر چند ثانئے بعد بولی ، ”ویسے تم جا کدھر رہے ہو ؟“

” گھر ، اور کہاں ؟“ اس نے حیرت سے کہا

” مطلب تمہارے گھر ؟“ اس نے تصدیق چاہی

” ہاں ، میرے گھر ،اور تم ایسے کیوںپوچھ رہی ہو ؟“ اس نے الجھتے ہوئے پوچھا

” نہیں میں تمہارے گھر میں نہیں بلکہ اپنے گھر میںرہوں گی ۔“ اس نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا

” تمہارا گھر …. مطلب ،میرے ساتھ…. ، یہ کیا کہہ رہی ہو ؟“ اس نے کچھ بھی نہ سمجھتے ہوئے پوچھا تو آ یت نے بڑے سکون سے کہا

” کچھ عرصہ پہلے میں نے یہاں کے پوش علاقے میں گھر خریدا تھا۔میں اسی میں رہوں گی ،لیکن، تمہاری الیکشن مہم میں تمہارے ساتھ رہوں گی ۔ فکر مت کرو ۔“ آیت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” اوہ ۔! “ اس کے منہ سے نکلا اور پھر اس نے طویل سانس لی ۔ طاہر کو یہ پوری طرح سمجھ تھی کہ آیت سے بحث کرنا فضول ہوگا ۔اس لئے پوچھا،” کدھر ہے؟“

آ یت نے اسے بتانے لگی ۔تاہم اس کا چہرہ تن گیا تھا ۔

باقی سفر خاموشی میں کٹا۔ آیت سمجھ رہی تھی کہ طاہر کے من میں کیا چل رہا ہوگا لیکن وہ جو سمجھ رہی تھی، اس نے ویسا ہی کرنا تھا۔بہاول پور کے پوش علاقے میں موجود ایک بڑی سی بنگلہ نما کوٹھی کے سامنے جونہی کار رکی ، گیٹ کھول دیا گیا۔طاہر کار پورچ تک لے گیا۔جہاں شہر کی بزنس کمیونٹی کے چند معززین کھڑے تھے۔کار رکتے ہی وہ سب آ گے بڑھے ۔جس قدر پروٹوکول آیت کو دیا جا رہا تھا، طاہر کو بھی ویسا ہی ملا۔ملنے ملانے کے بعد وہ سبھی لاﺅنج میں آ بیٹھے۔وہاں پر آیت نے کوئی سیاسی بات نہیں کی ۔باتیں صرف حال احوال تک چلیں۔لنچ ہوا اور لوگ جانے لگے ۔یہاں شہر سے آئے سارے لوگ چلے گئے۔

” تم آرام کرو ، میں بھی چلتا ہوں۔“ طاہر نے اٹھتے ہوئے کہا ۔ اس کے لہجے میں سے دکھ چھلک رہا تھا۔ آ یت نے اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولی

” بیٹھو۔!“ اس نے کہا تو طاہر پھر صوفے پر بیٹھ گیا ، تبھی وہ بولی ،”میں اگر اتنے سے وقت میں تھک جانے والی ہوتی نا تو یہ لوگ یہاں پر نہ ہوتے ۔جب سے تم نے کاغذات جمع کراوئے ہیں، میں یہاں کے لوگوں سے مسلسل رابطے میں ہوں ۔میں یہاں پر تمہاری الیکشن مہم کی انچارج بن کر نہیں آ ئی ، بلکہ تمہاری مدد کر نے آ ئی ہوں ۔میری بات سمجھ رہے ہو ؟“

” بالکل ، میں سمجھ رہا ہوں ۔“ اس نے سکون سے کہا

” تو پھر موڈ ٹھیک کرو ۔“آ یت نے خوشگوار انداز میں کہا

” میرا موڈ ٹھیک ہے ۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم یہاں اس قدر تعلق رکھتی ہو۔ “ وہ کاندھے اُچکاتے ہوئے بولا

” یہ ایک دن کی بات نہیںہے ۔ اور اس کے لئے مجھے محنت بھی نہیں کرنی پڑی، میرے لئے تو سارا کچھ میرا عشق ہے ۔میں جس قدر اپنے عشق میں ڈوبتی چلی جا رہی ہوں،یہ رسائیاں خود بخود ہوتی چلی جا رہی ہیں۔جان لو جتنا عشق میں ڈوب جاﺅ گے ۔ رسائیاں اتنی ہی ہوتی جائیں گی۔“ اس نے سمجھانے والے انداز میں یوں کہا جیسے وہ خود اپنے آ پ کو سمجھا رہی ہو ۔

”مجھے اعتراف ہے کہ میں تمہارے عشق کی گہرائی کو نہیںجانتا ، مگر محسوس کر سکتا ہوں ۔“ وہ اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے جذب سے بولا تو وہ اپنی ہی رُو میں کہتی چلی گئی

”تمہیں یاد ہے،جب میں تم سے ملی تھی، کیا حال تھا میرا، کوئی جانتا تک نہیںتھامجھے یہاں۔تمہیں مجھ سے نہیں، خود سے ہمدردی تھی۔ اس کا اعتراف تم کر چکے ہو۔آج جو کچھ بھی ہے ،وہ میرے عشق نے مجھے دیا ہے ۔میں اگر یہ کہوں کہ مجھے طلب نہیں تو بھی غلط ہوگا، کیونکہ میں اور میری ذات الگ الگ نہیں،میں عشق سے ہوں اور عشق مجھ سے ہے ، لازم و ملزوم ۔تبھی میں خود عشق بن جاﺅں گی ۔“

” عشق ، کما ل ہے یہ عشق بھی ،کبھی اپنا نہیںہونے دیتا، اور کبھی خود سے الگ نہیںکیا جا سکتا ، کیا گھورکھ دھندہ ہے یہ ۔“ اس نے بے چینی سے پہلو بدلتے ہوئے کہا

”کچھ ایسا نہیں ہے ،بس سمجھ کا فرق ہے ۔سنو۔! جب ہر پل نگاہ اپنے معشوق پر رہتی ہے نا توعشق ہی من و تو کے فرق مٹاتا ہے ، یہی عشق کی کاریگری ہے۔عاشق ، معشوق اور عشق ایک ہو جاتے ہیں۔“ اس نے پھر اسی جذب سے کہا پھر چونک جانے انداز میں بولی،” چھوڑو، یہ بتاﺅ ، تمہیں اپنی الیکشن مہم میں کہاں کہاں مشکلات لگتی ہیں۔“

” ابھی تم آ رام کرو ، شام کو بتاﺅ ںگا ۔“ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور باہر کی جانب چل دیا ۔ آ یت وہیں بیٹھی اسے جاتا ہوا دیکھ کر مسکراتی رہی ۔

اس وقت وہ ڈنر کر کے باہر کاریڈور میں آکر بیٹھ گئی تھی۔اسے طاہر کا انتظار تھا، جس نے سرِ شام آنے کا کہا تھا لیکن ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔وہ کچھ دیر ٹہلتی رہی پھر وہیں پڑی ایک کرسی پر بیٹھ گئی تھی ۔وہ جانتی تھی کہ اس رات شہر سے باہر ایک گاﺅں میں جلسہ تھا۔اگر وہ وہاں چلا گیا تو پھر شاید نہ آ سکے ۔وہ یہی سوچتی ہوئی صحرائی ماحول میں رچی ہوئی ہواﺅں کو محسوس کر رہی تھی ۔ایسے میں گیٹ پر ہلچل ہوئی ، گیٹ کھلا اور طاہر کی گاڑی اندر آ گئی۔اس نے پورچ ہی میںگاڑی روکتے ہی آیت کو دیکھ لیا تھا۔ اس لئے وہ پورچ میں گاڑی کھڑی کرکے اس کی جانب بڑھا۔آتے ہی اس نے پوچھا

”تم سوئی نہیںابھی تک ؟“

” میں تمہارا انتظار کرہی تھی ۔“

” اوہ ۔! میں نے اسی لئے فون نہیںکیا کہ تم کہیں ڈسٹرب نہ ہو جاﺅ۔خود آ گیا تاکہ پتہ کروں اگر تم جاگ رہی ہو ….“

” تم شام کو آ نے کا کہہ کر گئے تھے ، اس لئے میںنے تو انتظار کرنا تھا،چاہئے تم جلسے سے ہو کر رات گئے واپس آ تے ۔“ آ یت نے پرسکون لہجے میں کہا

” تمہیں پتہ ہے میں نے جلسے میں جانا ہے ؟“

” ہاں مجھے پتہ ہے ،مجھے یہ بھی احساس ہے کہ تم اسی وجہ سے مصروف ہو گے۔“

”بس میں یہی بتا نے آ یا تھا کہ تم آ رام کرو ، میں صبح آ ….“

” میںبھی چلتی ہوں تمہارے ساتھ ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گئی ۔ اس پر کچھ کہنے کے لئے اس نے لب کھولے پھر کچھ کہے بنا اس نے ساتھ چلنے ہاتھ کا اشارہ کیا۔ وہ دونوں چلتے ہوئے پورچ تک چلے گئے۔

شہر کے ایک پوائنٹ پر جلوس کی صورت میں ایک قافلہ کھڑا تھا۔ وہ جیسے ہی وہاں پہنچے ، وہ قافلہ چل پڑا۔ جلسہ گاہ تقریباً دس کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔وہ گاڑی میں دونوں ہی تھے۔کچھ فاصلہ طے کرنے تک ان دونوں میں خاموشی رہی ۔تبھی آ یت نے دھیمے سے لہجے میںپوچھا

” اتنے چپ کیوں ہو ؟ کیا بات ہے؟کوئی پریشانی ہے ؟“

” نن …. نہیں تو ، پریشانی کوئی نہیں ، بس یہی ہے کہ اجنبی لوگوں سے ملنا پڑ رہا ہے ، انہیں سمجھنا اور ان سے ووٹ لینا، یہی چل رہاہے ان دنوں ۔ اب ہم جہاں جا رہے ہیں، میں پہلے وہاں کبھی نہیںگیا۔کیونکہ میں صوبائی حلقے سے باہر نکلا ہی نہیں،یہ قومی ….“

”اس میں گھبرانے والی کیابات ہے۔پہلی تو بات یہ ہے کہ جہاںہم جا رہے ہیں، وہاں پہلے ہی کچھ لوگ تمہارے لئے راہ ہموار کر چکے ہیں۔ دوسری بات، انسان کی بنیاد کیا ہے ؟اس کے بنیادی مسائل کیا ہیں،اور اس جگہ کے لوگوں کا بنیادی مسئلہ کیا ہے ؟ جب تم ووٹ کی بجائے انسان کو سوچو گے تو سبھی کچھ واضح ہو جائے گا ۔“

انہی باتوں میں وہ جلسہ گاہ پہنچ گئے ۔وہاں پرلوگوں کا بڑا جوش و خروش تھا۔آیت گاڑی ہی میں بیٹھی رہی۔ جہاں سے اسے جلسے کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔اس نے دیکھا، دیگر لوگوں کی تقریروں کے بعد جب طاہر سٹیج پر آ یا تو اس میں بلا کی خود اعتمادی تھی۔

ز….ژ….ز

 الیکشن میں چند دن باقی تھے۔ حالات بالکل واضح ہو چکے تھے۔انہی دنوں کی ایک شام میں آ یت کے گھر میں طاہر کے ساتھ ساجد بھی آ یا ہوا تھا۔پہلی بار ان کا آ منا سامنا ہوا تھا۔کچھ دیر باتوں کے بعد اس نے آیت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

”طاہر کی ساری الیکشن مہم کو میں ہی دیکھ رہا ہوں ۔میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ آ پ کی آ مد سے پہلے میں بالکل مایوس تھا۔لیکن جیسے ہی آ پ آ ئیں ، ماحول ہی بدل گیا۔ اسے صرف ہم لوگوں ہی نے محسوس نہیںکیا، ہمارے مخالفین بھی یہ جانتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آ پ نے کبھی الیکشن نہیںلڑا، سیاست کو نہیں دیکھا، یہاں کے ماحول سے بھی واقف نہیںتھیں، پھر یہ سب کیسے ممکن ہو ا؟“

” ساجد۔! ہم بالکل سامنے کی چیز پر توجہ نہیںدیتے ، جبکہ اصل بات وہی ہوتی ہے۔ہمارے ہاں کی سیاست میں بنیادی بات کیا ہے؟کیا آپ اُسے سمجھتے ہو ؟“ آ یت نے سمجھانے والے انداز میں کہا

” میں سمجھا نہیں۔“ وہ بولا

” ہماری سیاست کی بنیاد میں دولت موجود ہے محض روپیہ، کوئی خدمت خلق نہیں، کوئی ہمدردی نہیں،اگر ایسا نہ ہوتا تو اب تک ہماری قوم خود انحصار ہو تی ۔کرپشن کی سطح اتنی بلند نہ ہوتی ، بے روزگاری نہ ہوتی ،ہم ایک باوقار قوم کی مانند سربلند ہوتے، یہ سب ….الیکشن میں پوسٹر چپکانے والوں سے لیکر جلسوں کا اہتمام کرنے والوں تک کے بالکل آخر میں دولت موجود ہے۔ یوں دولت والے ہی ماحول بناتے ہیں۔یہاں کی بزنس کمیونٹی کو میںنے یہ باور کرایا ہے کہ طاہر کے ممبر بن جانے کے بعد وہ ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا تو سب ساتھ ہو گئے۔ ان لوگوں کی یہاں بنیادیں ہیں۔وہ اپنا کام کر رہے ہیں ۔کیونکہ انہوں نے اس کا ہی ساتھ دینا ہوتا ہے جو ان کے مفادات کا تحفظ کرے گا ۔“آ یت نے اسے سمجھایا

” ہاں سیاست بھی تو اب بزنس بن چکی ہے ۔“ ساجد نے فیصلہ کن لہجے میں کہا

 ” ظاہر ہے ممبر بننا کتنا مہنگا ہو چکا ہے ، غریب آ دمی تو افورڈ ہی نہیں کر سکتا۔“ آیت نے حتمی لہجے میں کہا توطاہر اس کی طرف دیکھ کر بولا

” خیر یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی ، میں تمہیں لینے کے لئے آ یا ہوں۔ بابا ملنا چاہتے ہیں تم سے ۔“

” میں ان سے ضرور ملوں گی،لیکن تمہاری جیت کے بعد ،میںنے ان سے بڑی تفصیلی باتیںکرنی ہے ،مگر ابھی نہیں۔“ آ یت نے واضح کہہ دیا۔

” دیکھو، میں تمہیںفورس نہیں کر سکتا،یہ تمہاری مرضی ہے لیکن اگر….“ طاہر نے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی

”ہر کام کا ایک وقت ہو تا ہے ،وہ اگر وقت پر ہی ہو تو اچھا لگتا ہے ۔“

” مگر کچھ باتیں ایسی جو وہ کرنا چاہتے ہیں، وہ ضروری ہیں۔اگر سرسری سا مل لو گی تو کیا ہوگا؟“ طاہر نے اصرار بھرے لہجے میں کہا تو آ یت چند لمحے اسے دیکھتی رہی ، پھر مسکراتے ہوئے بولی

” ٹھیک ہے چائے پی لو ، پھر چلتے ہیں۔“

”اوکے ۔“ وہ ایک دم سے خوش ہو گیا۔

وہ تینوں ساجد ہی کی کار میں نکلے تھے تاکہ یہ پتہ نہ چلے کہ طاہر جا رہا ہے۔ ساجد ڈرائیونگ کر رہا تھا اور طاہر اور آ یت دونوں پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔وہ رہائشی علاقے میں سے نکل کر بڑی شاہراہ کی جانب جا رہے تھے۔ ابھی رفتار اتنی زیادہ نہیںتھی۔ آ یت نے طاہر سے پوچھا

” آ خر اتنی ایمر جنسی میں کیوں بلوایا، ایسی کیا خاص بات ہے ، کیا تمہیں پتہ ہے؟“

” مجھے اندازہ ہے ، لیکن وہ حتمی نہیں ہے۔لیکن اتنااندازہ ہے کہ وہ الیکشن کے ہی بارے میں ہے۔“ طاہر نے آ یت کے چہرے پر دیکھتے ہوئے بتایا ۔ آ یت کا رُخ طاہر کی طرف تھا،جس وقت طاہر کہہ رہا تھا، اسی دورانیے میں ایک بائیک کار کے برابر آ چڑھی۔ جو بائیک چلا رہا تھا، اس کے سر پر ہیلمٹ تھا۔اس کے جو پیچھے بیٹھا ہوا تھا، اس نے کپڑے سے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا۔اس نے کار میں جھانکا اور اپنا ہاتھ بلند کیا، آ یت کو اس کے ہاتھ میں پسٹل نظر آ یا ۔صرف ایک لمحہ تھا،آیت کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، وہ ذرا سا اوپر ہوئی اور خود کو طاہر کے اوپر گرا دیا۔یوں جیسے اس نے اپنی عافیت میں لے لیا ہو ، طاہرسمجھ ہی نہ سکا کہ ہوا کیا ہے تب تک باہر بائیک پر بیٹھے شخص نے فائر جھونک دیا۔ شیشہ ٹوٹنے کی آواز کے ساتھ ہی آیت کی چیخ بلند ہوئی ۔ساجد کے ہاتھوں کارلڑکھڑائی ، بائیک والے سائیڈ لگنے سے گر گئے ۔یہ سب ایک لمحے میںہوگیا۔

آیت کے منہ سے نکلنے والی چیخ بے ساختہ تھی ۔ جس کے ساتھ ہی لہو کی چپچپاہٹ پھیل گئی۔ فطری طور پر ہی طاہر نے دیکھا کہ ہوا کیا ہے ۔آیت کے فائر لگ چکا تھا اور وہ ماہی بے آ ب کی مانند تڑپنے لگی تھی۔ جیسے ہی اسے صورت حال کا اندازہ ہوا ، اس نے چیختے ہوئے ساجد کو ہسپتال کی طرف جانے کا کہا۔اس نے ایک دم سے رفتار تیز کر دی ۔طاہر نے آ یت کو ساتھ لگا کر سنبھالتے ہوئے اپنے حواس بحال کئے اور فون تلاش کر کے خود پر قاتلانہ حملے کی اطلاع اپنے بابا کو دی ۔وہ چاہتا تو خود حملہ کرنے والوں کو پکڑ سکتا تھا، مگر اس پر آ یت کی زندگی بچانے کا خیال حاوی ہوگیاتھا۔ ایسا صرف لاشعوری طور پر ہوا تھا۔آیت کا خون اس کے بدن کو بھگونے لگا تھا۔ وہ اس کے ہاتھوں میں تڑپ رہی تھی۔جبکہ وہ ہذیانی انداز میںکہہ رہا تھا

” نہیں آ یت…. تم مجھے چھوڑ کے نہیں جا سکتی …. ساجد تیز چلو …. بس چند منٹ …. سانس لو ، لمبے سانس لو ….تیز چلو ساجد …. آ نکھیں بند نہ کرو پلیز …. آ نکھیں کھولو…. ساجد تیز….“

چند منٹ میں وہ ہسپتال پہنچ گئے ۔ایمر جنسی وارڈ کے سامنے عملہ تیار کھڑا تھا۔ کار رُکتے ہی اگلے چند منٹ میں آ یت آ پر یشن تھیٹر میں تھی ۔اس وقت تک وہ بے ہوش ہو چکی تھی ۔

وقت لمحہ لمحہ گذرتا چلا جا رہا تھا۔ طاہر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی خبر شہر میں جنگل کی آ گ کی مانند پھیلنے لگی تھی۔ایسے میں افواہوں کا بازار بھی گرم ہو جاتا ہے ۔ لوگ ہسپتال کی جانب بھاگنے لگے ۔ طاہر کے سٹاف اور اس سے متعلق ہر بندہ وہاں پہنچ گیاتھا۔لیکن طاہر کے بابا سکندر حیات ہسپتال نہیں آ ئے تھے۔ آ پر یشن تھیٹر میں ڈاکٹر آیت کی زندگی بچانے کے لئے مصروف تھے۔دو گھنٹوں کی مسلسل کوشش کے بعد ، آیت کو آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا۔

اس وقت صبح کے آ ثار نمودار ہو رہے تھے، جب آ یت کو ہوش آ نا شروع ہوا ۔اس نے آ نکھیں کھولیں،جن میں کئی سوال مچل رہے تھے۔ قریب کھڑی نرس پلٹ گئی ۔ طاہر اس پر جھک گیا۔

” رَبّ تعالیٰ نے تمہیں نئی زندگی دی ہے۔گولی کاندھے میں لگ کر نکل گئی ۔تم نے مجھے بچانے کی خاطرخود کو …. “ یہ کہتے ہوئے اس کی آ واز بھرا گئی ۔اس نے آ یت کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا، اور اپنے لرزتے ہوئے لب اس کی ہتھیلی کی پشت پر رکھ دئیے ، جس کے ساتھ ہی دو نرم گرم سے قطرے بھی آ گرے ۔آیت کا ہاتھ ویسے ہی ٹھنڈا تھا۔ آہٹ پاکر طاہر گھوما تو اس کے پاس ڈاکٹر اور نرسیں تھیں ۔ وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔وہ اسے دیکھتے رہے کافی دیر بعد ڈاکٹر نے آ یت سے کہا

” اب آ پ خطرے سے باہر ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں آ پ ٹھیک ہو گئی ہیں۔ابھی آ پ کو تھوڑا رکنا ہوگا ۔تھوڑی سی مزید نیند لینا ہو گی ۔پھر شام کو فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا کرنا ہے ۔ ٹھیک ؟“

ڈاکٹر کے یوں کہنے پر آ کسیجن ماسک کے نیچے سے دکھائی دینے والے لبوں پر مسکراہٹ کی رمق نظر آئی ، آ نکھوں سے مثبت اشارہ دیا تو ڈاکٹر نے نرسوں کو اشارہ دیا ۔ وہ انجکشن لئے تیار کھڑی تھیں۔

ز….ژ….ز

دن کا پہلا پہر گزر جانے والا تھا۔سید ذیشان رسول شاہ صاحب ابھی تک اپنے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے۔یہ وہ دن تھا جس دن وہ لوگوں سے گفتگو نہیں کرتے تھے۔تاہم انہیں اسی نوجوان کا انتظار تھا، جو اکثر ان کے پاس آ تا تھا۔گزرے دن اس سے بات نہیں ہو سکی تھی ۔ بہت سارے لوگ آ ئے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ ظہر کا وقت ہو گیا۔شاہ صاحب چاہتے تھے کہ اس سے بات ہو جائے ۔لیکن وقت نہیں تھا، سو انہوں نے اگلے دن کا وقت دے دیا تھا۔وہ نوجوان بھی خوشی خوشی واپس چلا گیاتھا۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تو شاہ صاحب نے کلاک پر نگاہ ڈالی۔ تبھی دروازہ کھلا اور وہی نوجوان بڑے مودب انداز میں اندر آ یا ، اس نے بڑے ادب سے سلام کیا۔ شاہ صاحب کا اشارہ پاتے ہی وہ سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ تبھی شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا

” بھئی رَبّ تعالیٰ کا شکر ہے جو آپ سے کیا گیا وعدہ پورا ہو رہا ہے ۔“

” جی میں بھی بہت خوش ہوں کہ مجھے یوں پرسکون وقت مل رہا ہے ۔“ نوجوان نے خوش ہوتے ہوئے کہا توشاہ صاحب مسکراتے ہوئے بولئے

” فرمائیں ،آپ کیا بات کرنا چاہتے ہیں۔“

”حضور، آپ نے فرمایا تھا کہ عشق کوئی ادبی اصطلاح نہیں،تو پھر عشق کے وجودکو کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے۔ عشق کی ماہیت کیا ہے؟دوسرے لفظوں میں یہ صرف شاعروں ادیبوں کا گھڑا ہوا لفظ ہے یا اس کی کوئی حقیقت بھی ہے ؟“

نوجوان نے نہایت ادب سے سوال کیا۔ اس پر شاہ صاحب چند لمحے اپنے خیالات کو جمع کرتے رہے پھر بولے

” رَبّ تعالیٰ کی جتنی بھی تخلیق ہے ۔ ہر تخلیق کی اپنی اپنی فطرت ہے ۔لیکن ہر تخلیق کی انفرادیت ہو نے کے باوجود ، اس میں مماثلت بھی ہے ۔ اس کائنات میں انسان بھی موجود ہے ۔ انسان کی اپنی فطرت ہے ۔ اگر وہ اپنی ذات میں انفرایت رکھتا ہے ، مختلف فطرتوں کا مجموعہ ہو سکتا ہے ، کئی ساری خصلتیں اس میں جمع ہیں تو وہ کائنات کے ساتھ بھی پوری ہم آ ہنگی رکھتا ہے ۔ اب ہم بات کرتے ہیں انسان کی ۔انسان کی اپنے ساتھ محبت ایک لازمی امر ہے ۔ اسے جو بھی نام دیں، چاہے خصلت کہیں ، فطرت کہہ دیں یا جو بھی ،جیسا بھی انسان ہو گا،وہ اپنے آ پ سے محبت کرتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں انسان خود سے محبت کرنے پر مجبور ہے یا مختار کہہ لیں ۔ لیکن وہ اپنے ساتھ محبت کرنے پر پابند ہے ۔ ورنہ اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے ۔اپنے آ پ سے محبت ایک بات ہو گئی ۔ اب دوسری بات یہ ہے کہ کیا عشق کا وجود ہے ؟ اس کی دلیل یہ ہے کہ جب تک کوئی چیز اپنا وجود نہیں رکھتی ، تب تک وہ افعالی صورت میں ظاہر نہیں ہو سکتی ۔ پیار،محبت اور عشق کا وجود ہے تو اس کا اظہار ہوتا ہے۔ انسان میں عشق افعالی صورت میں ظاہر ہونے کا مطلب یہی ہے کہ عشق کا وجود ہے ۔عملی طور پر انسان اپنے آپ سے محبت اس وجہ سے کرے گا۔اگر محبت اور عشق کا وجود ہے تو پھر اپنے آ پ کے ساتھ پیار ، محبت یاعشق کرتا ہے۔“

”عشق ہونے کی دلیل کیا ہے ؟“ نوجوان نے سوال کیا

”کوئی ذی روح بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے آپ کو ناپسند کرنے کو تیار ہو جائے ۔یہ دراصل اثبات کا راز ہے ۔انسان کا ہونا ہی دراصل عشق کے اثبات دلیل ہے ۔ انسان کا ہونا ہی عشق پر دلالت کرتا ہے ۔ وجود ہوگا تو کچھ کر سکے گا ، ویسے کر ہی نہیں سکتا ۔مثلا پانی ہے تو پیاس بجھا سکتا ہے ۔اب اس میں سب سے اہم ترین شے انسان کا اپنا وجود ہے ۔ اس کی ذات چونکہ محبت ہے اس لئے اپنی صفات اور افعال میں محبت ہی لے کر آ ئے گا۔“

”وہ انسان جو خود کشی کر لیتا ہے ، وہ تو خود سے محبت نہیں کرتا۔“

”خود کشی کوئی عام شے نہیںہے ۔جسے انسان اچھا بھی سمجھتا ہو ۔عالمگیریت میں خود کشی نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ انسان کے لئے قابل قبول نہیں۔ اب یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھر لوگ خود کشی کیوں کرتے ہیں۔یہ تعداد چاہے معمولی سی کیوں نہیں ہے ۔ اگر آپ بہ نظر غائر دیکھیں ، وہ لوگ بھی دراصل اپنی محبت میں خود کشی کرتے ہیں۔ ویسے وہ بھی نہیںکرتے ۔ جیسے جاپانی ہارا کاری کو بہت اچھا سمجھتے تھے،کیونکہ یہ بات ان کی سوچ میںبٹھا دی گئی تھی لیکن اب کیوں نہیں۔ یہ ایک طویل بحث ہے لیکن آخر میں محبت ہی آ ئے گی۔ عشق بذاتِ خود ذات ہی ہے ۔ انسان اپنے آپ کے ساتھ محبت پر پابند ہے ۔“

”عشق کی حقیقت کیا ہے ؟“

 ”چونکہ انسان خود سے محبت کرتا ہے اس لئے صفاتی اور افعالی صورت میں بھی اس کی اپنے آ پ کے ساتھ محبت ہوتی ہے ۔ لوگ جب یہاں سے راستہ بنا کر گزر جاتے ہیں تو ان کا مزاج بدل جاتا ہے ۔پھر اس کی ذات میں تبدیلیاںآ تی ہیں۔ ان کے رویے بدلتے ہیں۔وہ قربانی دینے کی پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔کسی کو بچانے کے لئے اگر انہیںاپنی جان بھی دینی پڑے تو دے دیتے ہیں ۔عشق دراصل اپنی ذات سے ہے اگر ہم اس کی نفی کرتے ہیں تواصل میںہم اپنی نفی کرتے ہیں۔“

”عشق کے ظہور کا عمل کیا ہے؟“

”تین چیزیں اہم ہیں، ذات ، صفات اور افعال ۔مثال کے طور پر ایک شے ہے ، اس فون ہی کو لے لیجئے۔ ہم اسے فون کہتے ہیں۔یہ اس کی ذات ہے ۔ فون بند پڑا ہے ، چارج ہے ، کھلا ہے، وہ بس فون ہے ۔ دوسری چیز یہ ہے کہ اس کی صفات کیاہیں؟جیسے جتنا سستا فون ہے اس کی صفات کم ہیں، اورجتنا مہنگا ہوتا جائے گا ، اس کی صفات بھی اتنی بڑھتی جائیں گی ۔ گویا وہ اپنی صفات کی وجہ سے مہنگا ہے ۔ تیسری شے یہ ہے کہ اس کے افعال کیا ہیں۔اگرعقل ذات ہے تو ذہنی طور پر مفلوج شخص زندہ ہی نہیں رہ سکتا، اب یہاں سے بھی ایک نئی بحث کا آ غاز ہو سکتا ہے ۔ ،مگر بات وہیں آ جائے گی کہ انسان کی ذات عشق ہے ۔جب اس کے اندر سے دل کی دھڑکن ختم ہو تی ہے تب ہم کہتے ہیں کہ انسان ختم ہو گیا۔ خالی دماغ اس بندے کو زندہ رکھنے کے لئے کافی نہیںہے ۔اور دل ایسی شے ہے کہ وہ اپنے آ پ کے ساتھ محبت کرنے پر مجبور ہے ۔اب دیکھیں ، جب چاہت آ ئے گی تو اپنے آپ ہی سے آ ئے گی ،اندر سے آ ئے گی ۔میرے اندر محبت ہوگی تو میں کسی سے اس کا اظہار کر پاﺅں گا ، میرے پاس محبت ہوگی تو میں کسی کو دے پاﺅں گا۔“

”اگر انسان کی ذات ہے تو گویا عشق بھی فطرت ہے ؟“

”فطرت کی اکائی انسان خود ہے۔ انسان عشق پر کھڑا ہے ۔اگر وہ اپنے آ پ کےساتھ عشق چھوڑ دیتا ہے تو وہ انسان خود کو برقرار ہی نہیں رکھ پائے گا ۔گو یہ عشق بہت محدود سطح پر ہے لیکن وہ لازم ہے ہر انسان کے ساتھ ۔ انسان کا اپنے آ پ کےساتھ عشق ناگزیر ہے ۔ جبکہ نیچر بھی محبت پر کھڑی ہے ۔انسان سب سے زیادہ نزدیک خود اپنے آپ سے ہے ۔ یہ تو خود ہر انسان یہ فیصلہ دے گا کہ وہ خود سے نفرت نہیںکرتا۔ کبھی بھی کسی بھی صورت میں نہیںکرے گا ۔ اگر کسی دوسرے کی نگاہ میں وہ غلط بھی ہو گا لیکن وہ خود کو درست ہی کہے گا ۔ اگر غلط بھی سمجھ رہاہے تو غلطی کی تلافی کرے گا ، اپنی ذات کو غلط نہیں کہے گا ۔ غلطی کے بارے میںاس کا اپنا ہی فیصلہ ہوگا ۔اپنی ذات کو برا نہیںٹھہرائے گا ۔ وہ چاہے گا کہ اپنی ذات کے ساتھ اس غلط کو بھی درست کر لے ۔ مطلب وہ اپنے عشق پر کاربند رہتا ہے ۔ نرگسیت کی ایک نفسیاتی اصطلاح ہے ، وہ بھی سننے میں آ تی ہے۔“

”کائنات کا انسان سے تعلق اس میںہے ؟“

” ساری کائنات کو دیکھیں ۔ انسان کے ساتھ سب سے پہلے جو شے جڑتی ہے وہ ہے ،ہَوا۔دنیا میں آ تے ہی سب سے پہلے وہ ہَوا میں سانس لیتا ہے ۔ اگر سانس روک بھی لیں تو ہَوا اس چیز کا برا نہیں منائے گی ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم دوبارہ سانس کب لیں گے ۔ ہَوا ہمیشہ اپنی محبت پر پکّی اور قائم ہے ۔ہمارے ساتھ اپنی محبت کو جاری رکھتی ہے ۔ یہاں تک کہ انسان سانس لینا چھوڑ دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہَوا رُک گئی ہے یا ختم ہو گئی ہے یا رُوٹھ گئی یا پھر ہَوا نے انکار کر دیا ۔کوئی بھی شخص جب فوت ہو جاتا ہے وہاں ہَوا اس کے راستے بند نہیں کرتی ایسا نہیں ہوا کہ ہَوا نے اپنا راستہ بدل دیاہو یا پیچھے ہٹ گئی ہو ۔زندگی کی طاقت کو انسان روکنا بھی چاہے تو قدرت نے ماحول ایسا بنایا ہوا ہے کہ انسان کے ساتھ لازمی طور پر اس کا حصہ بن جاتی ہے ۔اس کی زندگی بن جاتی ہے ۔ جیسے آسمانوں میں ستارے اور سیارے گھوم رہے ہیں۔ وہ کیسے گھوم رہے ہیں؟ دیکھنے والی بات تو یہ ہے نا کہ اگر کائنات میں دو جسم آ پس میں ٹکرا جائیں تو کیا اس صورت میں کائنات بچتی ہے ؟اگر ان میں تضاد آئے گا تو فوری طور پر آ پس میں ٹکرا جائیں گے اگر ان میںمحبت ہے تو وہ ایک محور پر چلتے ہیں۔تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ایک دوسرے کو محفوظ بنائے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کی کشش کے پابند ہیں ۔کسی ایک محور پر چلتے رہنا بھی کشش ہے ۔وہ سب احترام میں ہیں۔آسمانوں سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ سب محبت پر قائم ہے ۔اگر محبت کو اس میں سے نکال دیا جائے تو کائنات نہیںبچے گی ۔ اب نیچر میں جو اہم ترین چیز آ رہی ہے وہ انسان خود ہے ۔اب جو کچھ اس کے درمیان میں ، وہ سب درمیان ہی میں ہیں ، اس سے ہٹ کر نہیں ، یہ جڑے ہوئے ہیں۔اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ نیچر عشق پر کھڑی ہے ۔اگر اس میں سے عشق کو نکال دیں تو زندگی ختم ، کائنات ختم ۔ سو کشش یا عشق ایک ہی شے ہے ۔معروضی ویلیو کو ہم کشش کا نام دے رہے ہیں، کہہ لیں کہ ادبی اصطلاح میں اسے عشق کہتے ہیں ،یا سائنسی زبان میں قوت ۔ عشق ایک قوت ہے ، جس پر ساری کائنات کھڑی ہے۔ اس وقت کے ختم ہو جانے پر آ پ اندازہ لگا لیںکہ پھر کیا ہوگا ؟“

” حضور مَن کیا ہے ؟“

” ایک شخصیت مختلف اجزا کا مجموعہ ہوتی ہے یا مختلف اجزا مل کر ایک شخصیت بنتی ہیں۔شخصیت کو اجزا میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا ۔اب دیکھیں یہ ہاتھ ہیں ، ان کا علیحدہ کوئی تشخص نہیں۔ اور نہ ہی وہ حقیقی تشخص سے جُدا ہیں۔ یہی کہا جائے گا نا کہ یہ فلاں کے ہاتھ ہیں۔ اسی طرح دل ، دماغ، نظر سب مل کر ایک وجود بنتا ہے ۔ اور یہ وجود اپنی شناخت رکھتا ہے ۔اب کوئی ایک جز اہم ہو کر آ گے بڑھتا ہے تو اس وجود کی شناخت بن جاتا ہے ۔ جیسے ہم ایک اصطلاح سنتے ہیں سراپا دل ، سراپا حسن ، اس پر حضرت اقبال ؒ کا ایک شعر یاد آ گیا،سراپا حسن بن جاتا ہے جس کے حسن کا عاشق ….جب دل کی حکومت پورے وجود پر ہو تو سراپا دِل۔ایسے ہی وہ لوگ جو سراپا عشق بن کر ظاہر ہوئے وہ بھی تاریخ کا حصہ بنے ہیں۔عشق ایک ایسی شے ہے جو امر ہے ، وہ لوگ جو عشق کے ساتھ تعلق رکھتے تھے ، وہ کتابیں، وہ داستانیںسب امر ہو گئے ۔تاریخ سب دکھاتی ہے ۔ جس نے اس شے کو اپنے وجود میں اجاگر کر لیا اسے ہی پسندیدہ قرار دیا گیا۔ سو اندر کے ظہور کو من کہتے ہیں ۔ وہ کیسا سراپا ہے ۔“

” سرکار عشق کا کوئی عملی پہلو بھی ہے ؟“

” اس کی یہی عملی دلیل کیا کم ہے کہ جس شے کو زوال نہیں وہ عشق ہے ، انسان کی بقا کے لئے کیسے ہے ؟ کسی بھی حالت میں چلے جائیں یہ بات سامنے رہتی ہے کہ ہم نے ہر حال میں اپنے آ پ کو قائم رکھنا ہے۔ عشق پھر ظاہر ہوتا ہے ۔کسی شے میں سے ، عورت سے، وطن سے ، کسی مقصد سے ظہور ہوتا ہے ۔یہ اپنی زندگی پرسے حاوی ہوتا ہے تو بندہ جاں سے گزر جاتا ہے ۔ تبھی عشق اہم ہو جاتا ہے ۔ اب عشق کی حقیقت تبھی جان پاتے ہیں جب ہم اس سے گزرتے ہیں ۔اب بات ہے عشق کے عملی پہلو کی تو خود عشق کریں ورنہ میں وضاحت کروں گا تو یہ باتیں ایک گفتگو تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ یہ روحانی اصطلاحات سے بھرا ایک لیکچر بن جائے گا ۔یہ سمجھ میں نہ آ نے والی شے بن جائے گی۔ کسی بھی کرامت یا معجزہ کی دلیل ہے سمجھ نہ آنا ۔دوسری بات ہے ، کیونکہ یہ احساس کی دنیا نہیں ہے ،خیالی نہیں ہے ۔سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی ﷺسے مجھے ،کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں۔ روحانیت کے علم کو جس علم میں بھی لے جائیں اسے ڈی کوڈ تو کرنا پڑے گا ۔ بس یہ سمجھ لیں کسی شے کا تخلیق کرنا عشق کرنے کی عملی پہلو ہے۔“

” بہت شکریہ حضور ، آج کے لئے اتنا ہی ، آپ آرام فرمائیں ۔“ نوجوان نے کہا تو شاہ صاحب مسکرا دئیے ۔ نوجوان نے اٹھ کر مصافحہ کیا اور کمرے سے باہر چلا گیا، شاہ صاحب پھر سے کتاب کھول کر بیٹھ گئے ۔

ز….ژ….ز

جاری ہے ۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر9

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر9 ۔آیت اس کی طرف کی دیکھتی رہی، جب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے