سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز :قسط نمبر 39 

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز :قسط نمبر 39 

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

قسط نمبر 39
ہم کئی بار اس حقیقت کا اظہار کرچکے ہیں کہ معراج رسول مصنفین کے سلسلے میں بے حد حساس تھے اور خصوصاً ایسے مصنفین کے بارے میں جن کی تخلیق و تحریر ان کے نزدیک ادارے کے پرچوں کے لیے نہایت فائدہ بخش ثابت ہوئی، وہ ایسے مصنفین کی نازبرداری میں کوئی کمی نہیں کرتے تھے،ان کے ناگوار مطالبات بھی تھوڑی سی حیل حجت کے بعد مان لیا کرتے تھے،یہ روایت برسوں سے چلی آرہی تھی،اکثر مصنفین کا سب سے بڑا مسئلہ رہائش ہوا کرتا تھا، کس قدر افسوس اور عبرت کا مقام ہے کہ قلم سے روزی کمانے والے ہمارے بعض نامور مصنفین کی زندگی کرائے کے مکانوں میں گزری، گویا ہمارے ملک میں کوئی مصنف اپنی قلم کاری کے ذریعے صرف اتنا ہی کماسکتا ہے کہ اپنے اور بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرسکے لیکن ذاتی مکان کا حصول اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا،ڈائجسٹوں سے پہلے تو باقاعدہ طور پر کسی معاوضے کا تصور ہی نہیں تھا،ہمارے اکثر ادیب و شاعر ذریعہ ء معاش کے طور پر دیگر مختلف کام کرکے زندگی گزارتے رہے، برصغیر کے شہرہ آفاق ادبی میگزین ’’ساقی‘‘ کے مدیر و مالک، ڈپٹی نظیر احمد کے پوتے شاہد احمد دہلوی نے کراچی میں ریڈیو پاکستان پر ملازمت حاصل کرنے کے لیے اپنی علم موسیقی کی معلومات پر انحصار کیا، اکثریت کا یہی حال رہا، غزل و افسانہ یا دیگر مضامین کے معاوضے کا کچھ صلہ دینے کا رواج اردو ڈائجسٹ سے شروع ہوا، سب رنگ نے زیادہ فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور اس طرح دیگر ڈائجسٹوں میں بھی مقابلے کا رجحان پیدا ہوا، مقبول مصنفین کو اپنے پرچے تک محدود رکھنے کی دوڑ شروع ہوئی، اس کا فائدہ لکھنے والوں کو بہتر معاوضے کی صورت میں برآمد ہوا، سب رنگ کی طرف بڑے بڑے ثقہ ادیب متوجہ ہوئے اور اپنی تخلیقات شائع کرانے کے لیے سفارشات ڈھونڈتے رہے، یہ الگ بات ہے کہ شکیل عادل زادہ اپنے مقرر کردہ معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں کرتے تھے، انھوں نے بڑے بڑے نامور لکھاریوں کی کہانیاں چھاپنے سے انکار کردیا جن میں کرشن چند اور ممتاز مفتی جیسے نام بھی شامل ہیں، ایسا ہی ہماری آنکھوں کے سامنے بھی ہوا، ڈاکٹر محمد حسن صاحب کا مشہور ناول جو اسرار الحق مجاز کے حوالے سے تھا، معراج صاحب نے معاوضے کی ادائی کے باوجود سرگزشت میں شائع نہیں کیا، مشہور شاعرہ سارا شگفتہ کی سرگزشت جو ہم نے خود انور سن رائے سے لکھوائی تھی اس کا معاوضہ بھی ادا کردیا گیا تھا لیکن معراج رسول اسے شائع کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، ایسے بہت سے واقعات ڈائجسٹوں میں عام رہے، آگے چل کر دیگر اخبارات و رسائل بھی اچھے لکھنے والوں کو ان کی مرضی کے مطابق معاوضہ دینے پر مجبور ہوئے، اخبار جہاں میں بھی فکشن کے صفحات کا آغاز ہوا تو ڈائجسٹ میں لکھنے والوں کی ضرورت محسوس ہوئی اور انھیں اسی حساب سے معاوضہ دیا گیا جو ڈائجسٹوں میں رائج تھا ورنہ پہلے ایسا نہیں تھا، حد یہ کہ ڈائجسٹوں کے نامور لکھاری پی ٹی وی سے بھی اپنی مرضی کا معاوضہ طے کرنے لگے ورنہ پی ٹی وی کے رنگ ڈھنگ بھی اس حوالے سے زیادہ خوش کن نہ تھے، بعض مشہور اور مقبول مصنفین نے پی ٹی وی کے کم معاوضوں کی وجہ سے ان کے لیے لکھنے سے انکار کیا لہٰذا اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ڈائجسٹ انڈسٹری فکشن رائٹرز کے لیے نہایت حوصلہ افزا اور فائدہ بخش رہی۔
بلاشبہ اس حوالے سے بھی معراج رسول صاحب نے خاصی فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، صرف مصنفین ہی کی نہیں ، اپنے بعض سینئرز دفتری ساتھیوں کی بھی اس حوالے سے مدد کی، ہمیں یاد ہے کہ جب سسپنس ڈائجسٹ نے ایک لاکھ کی اشاعت کا ہدف عبور کیا تو معراج صاحب نے الکرم اسکوائر کے برابر میں تعمیر ہونے والے ایک نئے اسکوائر میں پانچ فلیٹ بک کرائے اور دفتر کے پانچ افراد کو دے دیے، ان لوگوں میں سرفہرست معراج صاحب کے بہت ہی پرانے ساتھی مزمل حسین تھے جو ابتدا میں کتابت کرتے تھے اور بعد ازاں سرکولیشن منیجر ہوگئے تھے، دوسرے نمبر پر اختر بیگ تھے، انھوں نے بہت چھوٹی عمر میں معراج صاحب کے پیون کی حیثیت سے اپنی خدمات کا آغاز کیا تھا اور بعد میں ایک طرح سے ان کے پرسنل سیکریٹری کی حیثیت حاصل کرلی، اختر بیگ آج بھی ادارے سے وابستہ ہیں، کس حال میں ہیں؟ اس کا تذکرہ ضروری نہیں ہے۔
تیسرے نفیس احمد خاں عرف پلٹو تھے ، ان کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں ، ان کا انتقال ایک ایکسیڈنٹ میں ہوا، شاید 1987 ء میں کسی بدعنوانی کے سبب انھیں ادارے سے علیحدہ کردیا گیا تھا، چوتھے سرکولیشن ڈپارٹمنٹ کے بدرالدین تھے، پانچویں بھی سرکولیشن سے تھے جن کا نام شمیم تھا لیکن اس حوالے سے بھی کسی مصنف یا ادارتی شعبے کے فرد کی قسمت نہیں کھلی، ان دنوں ہمیں بھی دربدری کا سامنا تھا اور کرائے کے مکان کی تلاش تھی، مرحوم نفیس اور صفیہ ملک صاحبہ نے ہماری سفارش کی جو قبول نہیں ہوئی، اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اس وقت ہم کو ادارے میں زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔
مصنفین کی رہائش کا مسئلہ حل کرنے کی ابتدا بھی معراج رسول نے کی لیکن شاید انھیں مصنفین پر زیادہ بھروسا نہیں تھا لہٰذا کرائے کے مکان کے لیے ایڈوانس لینے کی سہولت تو عام بات تھی مگر بعض مصنف چاہتے تھے کہ ان کا ذاتی مکان یا فلیٹ ہو اور اس حوالے سے وہ معراج صاحب پر دباؤ بھی ڈالا کرتے تھے، سب سے پہلے الیاس سیتا پوری اور محی الدین نواب نے اپنی اس بنیادی ضرورت کے لیے زور دیا، الیاس سیتا پوری کا انتقال جس فلیٹ میں ہوا وہ معراج صاحب نے ہی خریدا تھا مگر شاید الیاس صاحب کے نام پر ٹرانسفر نہیں ہوا تھا، ان کے انتقال کے بعد سنا ہے کہ وہ فلیٹ ان کے بیوی بچوں سے واپس لینے کی کوشش جاری ہے۔
محی الدین نواب کی پہلی بیگم اور بچے شاہ فیصل کالونی میں رہائش پذیر تھے اور ہمیں نہیں معلوم کہ یہ مکان نواب صاحب نے کیسے لیا تھا، البتہ دوسری بیگم کی رہائش اورنگی ٹاؤن میں تھی اور اس مکان کی خریداری میں نواب صاحب نے معراج صاحب سے ایڈوانس لیا تھا جو بعد میں ادا کردیا، تیسری بیگم کی رہائش سرجانی ٹاؤن میں ہے اور یہ مکان بھی معراج صاحب نے خریدا تھا مگر نواب صاحب کے نام پر نہیں بلکہ اپنے ہی ایک خاص بندے کے نام پر، نواب صاحب اس حوالے سے بہت دور اندیش انسان تھے ، چناں چہ انھوں نے کسی اچھے موقع پر مکان اپنی وائف کے نام پر ٹرانسفر کرالیا تھا اور یقیناً وہ اس کی قیمت قسط وار معراج صاحب کو ادا کرچکے تھے، چناں چہ بعد میں کوئی فساد کھڑا نہیں ہوا،جیسا کہ بعض دوسرے کیسوں میں دیکھنے میں آیا۔
عبدالقیوم شاد ہمیشہ کرائے کے فلیٹ میں رہے اور انھیں اس معاملے میں کبھی ہم نے پریشان نہیں دیکھا، احمد اقبال کا اپنا ذاتی مکان دستگیر میں تھا، وہ بھی اس حوالے سے بہت مطمئن تھے،محمود احمد مودی نے اپنی محنت سے ایک پلاٹ خرید کر آہستہ آہستہ مکان بنایا اور اب وہ بھی اپنے ذاتی مکان میں رہتے ہیں، ہمارے علم میں نہیں کہ اس حوالے سے انھوں نے معراج صاحب سے کوئی مدد لی ہو، ساجد امجد کو بھی مکان کی خریداری کے لیے مالی مدد کی ضرورت پیش آئی اور انھوں نے بھی ایک معقول رقم قرض لی مگر وعدے کی سخت پابندی کے ساتھ ادا بھی کردی۔
علیم الحق حقی ابتدا ہی سے بے امان و بے مکان تھے، ان کے والد کا گھر محمود آباد کے قریب لیاقت اشرف کالونی میں تھا جس کا تذکرہ ہم ڈاکٹر اعجاز حسین کے حوالے سے کرچکے ہیں لیکن وہ اپنے والد سے علیحدہ ہوگئے تھے جس کی وجہ کوئی رنجش نہیں بلکہ لکھنے پڑھنے کی معقول جگہ نہ ہونا تھا، سب سے پہلے معراج صاحب نے انھیں طارق روڈ پر اپنے ایک فلیٹ میں شفٹ کیا، یہ نہایت تاریخی فلیٹ تھا، ہم اس کا تذکرہ پہلے بھی کرچکے ہیں، اس فلیٹ میں محی الدین نواب، آرٹسٹ شاہد حسین بھی رہائش پذیر رہے،جن دنوں علیم الحق حقی اس فلیٹ میں تھے تو ہمارا آنا جانا رہتا تھا، حقی کی منگنی بھی اسی فلیٹ میں ہوئی تھی اور اس موقع پر ہماری کئی نادر و یادگار تصاویر انعام راجا نے اپنے کیمرے میں محفوظ کی تھیں۔
شادی کے بعد علیم الحق حقی کرائے کے فلیٹوں اور مکانوں میں چکر کاٹنے لگے اور درحقیقت اپنے تمام ذخیرۂ کتب کے ساتھ رہائش ان کا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا، 1995-96 ء کے حوالے سے ہم لکھ چکے ہیں کہ ایک بار اسی مسئلے کی وجہ سے وہ حسام بٹ سے بھی ناراض ہوئے تھے اور شاید انھیں منانے کے لیے معراج صاحب انھیں علیحدہ فلیٹ دلانے پر راضی ہوگئے، یہ فلیٹ کراچی کے سخی حسن قبرستان سے آگے کسی اسکوائر میں تھا جس کا نام ہمیں یاد نہیں،اگرچہ یہ حقی کے نام پر نہیں تھا پھر بھی حقی اپنی اس کامیابی پر بہت خوش تھے،شاید ان کا اس حوالے سے کوئی معاہدہ ہوگیا تھا کہ وہ فلیٹ کی قیمت قسط وار ادا کرکے فلیٹ اپنے نام پر منتقل کرالیں گے، اس طرح ان کی زندگی میں بہت سکون و اطمینان آگیا تھا اور وہ پوری توجہ سے کہانیاں لکھنے میں مصروف تھے لیکن پھر ایک واقعے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ سب کچھ تباہ کرکے رکھ دیا، وہ ایک بار پھر کرائے کا فلیٹ ڈھونڈنے پر مجبور ہوگئے۔
جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ معراج صاحب کو مصنفین پر مکمل اعتماد نہیں تھا، وہ ڈرتے تھے کہ کل اگر کوئی مصنف انھیں چھوڑ کر کسی اور ادارے کو جوائن کرلے تو کیا ہوگا؟ اسی ڈر کی وجہ سے وہ مکان یا فلیٹ ہمیشہ اپنے نام یا اپنے کسی معتمد کے نام سے لیتے اور مصنف سے وعدہ کرتے کہ جب آپ فلیٹ کی قیمت قسط وار ادا کردیں گے تو یہ آپ کے نام ٹرانسفر ہوجائے گا، اس طرح مصنف پر ایک دباؤ بھی آجاتا تھا، وہ ادارہ چھوڑنے یا معراج صاحب کو آنکھیں دکھانے کی پوزیشن میں نہیں رہتا تھا، رہائش کے حوالے سے اس کے آئے روز کا رونا گانا بھی بند ہوجاتا تھا، ہمارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا تھا جس کا ذکر ہم پہلے کرچکے ہیں، ہمارے خیال سے یہ بھی معراج صاحب کی ایک کاروباری حکمت عملی تھی، وہ کام کے بندے کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کرنے کے لیے ایسی انوسیٹمنٹ کیا کرتے تھے جس میں ان کا نقصان کوئی نہیں تھا، پراپرٹی کے بزنس سے انھیں ہمیشہ سے خصوصی دلچسپی رہی اور بقول خود انھوں نے اس بزنس میں بہت کمایا، ان کے ایک دوست رمضانی صاحب پراپرٹی ایجنٹ تھے جو انھیں ایسے فائدے کے سودے کراتے رہتے تھے اور اپنا کمیشن وصول کرتے رہتے تھے، پلاٹ، مکان یا فلیٹ خرید کر چھوڑ دیے جاتے اور جب ان کی قیمت بڑھتی تو فروخت کردیے جاتے۔
شاید 2001-2 ء کی بات ہے، حقی کی بیگم شگفتہ بہت بیمار ہوئیں، وہ ان کے علاج کے سلسلے میں بہت پریشان رہے، کئی بار ہم سے بھی مشورہ کیا، ایک مصنف بہت حساس ہوتا ہے، اس کی اپنی بیماری اسے اتنا بے چین و پریشان نہیں کرتی جتنا کسی قریبی رشتے کا مسئلہ اس کے لیے اضطراب کا باعث بنتا ہے اور قریبی رشتہ بھی شریک حیات کا، ایسے وقت میں تخلیق و تحریر کا عمل متاثر ہونا لازمی ہے، حقی ویسے بھی کھلے ہاتھ سے خرچ کرنے والوں میں سے تھے اور کل کے لیے کچھ بچاکے رکھنے کے کبھی قائل نہیں رہے، جب بھی ان کے معاملات ڈسٹرب ہوتے اور وہ اپنا لکھنے کا کام نہ کرپاتے تو عموماً قرض لینے کی نوبت آجاتی اور یہ قرض ظاہر ہے ، معراج صاحب ہی دیا کرتے تھے، اس شرط کے ساتھ کہ آئندہ سے ہر ماہ ایک مقررہ رقم ماہانہ بل سے کاٹ لی جائے گی اور پھر یوں ہوتا کہ جس مہینے وہ کم لکھتے اور بل ہی کم بنتا تو ان کا اصرار ہوتا کہ اس ماہ قرضے کی قسط نہ کاٹی جائے، اس حوالے سے وہ معراج صاحب سے ملاقات کرتے اور اکثر معراج صاحب مان جایا کرتے تھے لہٰذا قرض کی اصل رقم کم ہونے کے بجائے بڑھتی چلی جاتی تھی، ہمارے اندازے کے مطابق اس وقت بھی تقریباً چار لاکھ روپے واجب الادا تھے اور وہ زیادہ بھی نہیں لکھ پارہے تھے۔
معراج صاحب امریکا گئے ہوئے تھے، ان کے پیچھے معاملات کو دیکھنے کی ذمے داری اقلیم علیم صاحب پر تھی، اصول یہ تھا کہ حقی کہانی لکھ کر بھیجیں گے تو ایک مقررہ رقم جو ماہانہ طے تھی ، انھیں بھیج دی جائے گی، اتفاق یہ کہ اس ماہ وہ لکھ نہ سکے، آؤٹ ڈور کلرک ان کے گھر جاتا اور خالی ہاتھ واپس آجاتا، یہ صورت حال اقلیم صاحب بذریعہ فون معراج صاحب کو بتاتے رہتے کیوں کہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں دفتر سے فون پر رابطہ رکھتے تھے، ہمیں نہیں معلوم کہ اقلیم صاحب نے معراج صاحب کو اس حوالے سے کیا بتایا اور کیا سمجھایا لیکن یہ ضرور ہوا کہ اس مہینے معراج صاحب کے حکم پر ماہانہ رقم حقی کو نہیں دی گئی جو معاہدے کے مطابق طے تھی۔
علیم الحق حقی جو پہلے ہی وائف کی بیماری کی وجہ سے پریشان تھے یقیناً ماہانہ رقم نہ ملنے کی وجہ سے مزید پریشان ہوئے ہوں گے اور برہم بھی، اس طرح دفتر اور ان کے درمیان ایک ڈیڈ لاک کی کیفیت پیدا ہوگئی، معراج صاحب امریکا سے واپس آئے تو انھوں نے ہمیں بلایا اور جو کچھ بتایا اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ صورت حال بہت خراب ہوچکی ہے، معراج صاحب سخت ناراض تھے، ان کا کہنا یہی تھا کہ حقی وعدے کے مطابق وقت پر کہانیاں نہیں دے رہے اور ان کی طرف خاصی بڑی رقم واجب الادا ہے اسی لیے انھیں اس ماہ کی طے شدہ رقم روکی گئی ہے، انھوں نے مزید لکھنے سے بھی انکار کردیا۔
ہم نے انھیں بتایا کہ ان کی وائف سخت بیمار ہیں اور وہ اس حوالے سے پریشان ہیں لیکن کافی دنوں سے ان سے ہمارا رابطہ نہیں ہوا ہے، ہم ان سے رابطہ کریں گے، ان دنوں موبائل فون اتنا عام نہیں تھا اور حقی کے پاس نہ موبائل فون تھا اور نہ ہی گھر پر لینڈ لائن تھی، بہر حال ہم فوری طور پر ان سے رابطہ نہیں کرسکے اور اسی اثنا میں حقی صاحب کا ایک طویل خط معراج صاحب کو موصول ہوگیا، جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ بھی بہت برہم ہیں، خط میں انھوں نے خاصی برہمی کا اظہار کیا تھا، معراج صاحب نے اس خط کا جواب دینے کی ذمے داری اقلیم صاحب کے سپرد کی اور اس طرح ایک اور ناخوش گوار تحریری بحث و مباحثہ شروع ہوگیا جومعاملے کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھانے کا سبب بن گیا، معراج صاحب کی برہمی بھی بڑھتی چلی گئی اور ہم نے محسوس کیا کہ وہ حقی کے خلاف کوئی سخت ترین قدم اٹھانے کے لیے تیار ہوگئے ہیں اور یہ سخت ترین قدم یہی ہوسکتا تھا کہ ان سے فلیٹ خالی کرالیا جائے۔
ہمارا خیال تھا کہ اگر حقی اس تحریری بحث و مباحثے کے بجائے خود دفتر آکر معراج صاحب سے ملاقات کرلیتے تو مسئلہ حل ہوجاتا اور بات اس قدر نہ بڑھتی جس قدر بڑھ گئی، رو برو گفتگو میں دونوں افراد ہمیشہ سابقہ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے رواداری کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن تحریری مباحثے میں پورا زور ایک دوسرے کو شکست دینے پر لگادیا جاتا ہے جس کی وجہ سے دونوں طرف اشتعال میں اضافہ ہوتا ہے، ہم نے ایک ذریعے سے حقی کو پیغام بھیجا کہ وہ دفتر آجائیں اور معراج صاحب سے ملیں لیکن اس سے پہلے ہم سے بھی ملاقات کرلیں لیکن وہ نہ آئے، خدا معلوم ان کے ذہن میں کیا تھا، یہ تو طے ہے کہ وہ نہایت ضدی انسان تھے اور ان کی انا بھی بہت بلند تھی جو ان جیسے فنکار کی اکثر ہوتی ہے لیکن اس لڑائی میں سارا نقصان خود انہی کا تھا اور ہم اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے تھے، اسی لیے چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ جھگڑا ختم ہو مگر ایسا نہ ہوا۔
ہم نے زندگی میں پہلی مرتبہ معراج صاحب کو انتہائی جارحانہ موڈ میں دیکھا اور ہمیں یقین نہیں آیا کہ وہ ایسا بھی سوچ سکتے ہیں یا اس قدر جارحانہ انداز اختیار کرسکتے ہیں! یقیناً ان کے اس جارحانہ موڈ کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایسی وجہ موجود تھی جسے ہم اس وقت تک سمجھنے سے قاصر تھے، انھوں نے وہ تمام خط و کتابت جو حقی سے ہوئی تھی، ایک فائل میں محفوظ کرلی تھی اور ایک روز ہمیں پڑھوائی، معراج صاحب کی طرف سے جوابات اقلیم علیم صاحب نے لکھے تھے اور شاید حقی کے اشتعال میں اضافے کا سبب بھی یہی تھا، اس حد تک ان کا مؤقف درست تھا کہ تمام تر نوازشات کے باوجود حقی نے لکھنے سے انکار کردیا تھا اور بلاشبہ یہ ان کی ایک بڑی غلطی تھی، اگر وہ کم یا زیادہ کچھ نہ کچھ لکھ کر بھیجتے رہتے جیسا کہ پہلے بھی ہوتا رہا تو معراج صاحب اس قدر برہم نہ ہوتے، ہمیں حیرت ہوئی جب انھوں نے اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے حقی کے گھر کی بجلی منقطع کرادی، اس گھٹیا حرکت کی توقع ہمیں کم از کم معراج صاحب سے نہیں تھی، ان سے فلیٹ خالی کرانے کے لیے شاید پولیس سے بھی مدد لی گئی۔
ایک روز معراج صاحب نے ہمیں بلایا اور کہا ’’حقی فلیٹ خالی کرنے پر راضی ہوگئے ہیں لیکن انھوں نے یہ فرمائش کی ہے کہ فلیٹ کی چابیاں لینے کے لیے آپ کسی اور کے بجائے صرف انور فراز کو بھیجیں‘‘ ہم یہ سن کر حیران ہوئے لیکن خاموش رہے، جو کچھ ہوا تھا اور ہورہا تھا بہر حال اچھا نہیں تھا، اگر حقی کی معقول آمدن ختم ہورہی تھی تو ادارہ بھی ایک غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ادیب سے محروم ہورہا تھا۔
بہر حال حکم حاکم ، مرگِ مفاجات کا مقولہ درست ہے لہٰذا اختر بیگ کے ساتھ ہم فلیٹ کا قبضہ لینے پہنچ گئے،ہماری حقی سے بہت عرصے بعد ملاقات ہوئی، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم نے جو اپنا کلینک شروع کیا تھا، اس کی وجہ سے ہماری مصروفیات بہت زیادہ بڑھ گئیں تھیں، شام 7بجے ہم دفتر سے نکل کر اپنے کلینک پہنچ جاتے اور رات گیارہ بجے تک مصروف رہتے، اس دوران میں صرف ایک بار کلینک کے آغاز میں حقی ہم سے ملنے کلینک آئے تھے اور ہماری اس کوشش کو بہت سراہا تھا پھر شاید سال بھر تک ملاقات ہی نہ ہوئی، جب ہم وہاں پہنچے تو فوری طور پر انھیں پہچان ہی نہ سکے، ہمارے سامنے ایک سفید ریش بزرگ کھڑے تھے، ہمیں بڑی حیرت ہوئی اور بڑے پُر مزاح لہجے میں کہا ’’یار! کسی نے سچ کہا ہے، انسان کو بھٹکتے دیر نہیں لگتی‘‘
حقی مسکرائے لیکن کوئی جواب نہیں دیا، قریب ہی ایک پٹھان کا چائے خانہ تھا، ہمیں وہاں لے گئے اور عذر پیش کیا کہ نئی شفٹنگ کی وجہ سے ابھی گھر کباڑ خانہ بنا ہوا ہے لہٰذا چائے ہوٹل میں ہی پی لیتے ہیں۔
حقی فلیٹ خالی کرچکے تھے اور قریب ہی ایک دوسرے اسکوائر میں کرائے کا فلیٹ لے لیا تھا، ہوٹل میں ان سے بہت کھل کر گلے شکوے ہوئے، ہم نے ان کی غلطیوں کی نشان دہی کی جنھیں انھوں نے تسلیم نہیں کیا اور ان کا خیال یہ تھا کہ اس سارے معاملے کو اس حد تک خراب کرنے میں اقلیم علیم کا کردار نمایاں ہے، یہ ساری گفتگو اختر بیگ کی موجودگی میں ہوئی جو ابھی حیات ہیں اور ادارے سے وابستہ ہیں (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر16

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے …

ایک تبصرہ

  1. Avatar
    ملکہ افروز روہیلہ

    دنیا میں بے مکانی یا بے گھری کا عذاب کیا ہوتا ہے یہ وہی سمجھ سکتا ہے جس نے کرائے کے فلیٹ یا مکان میں وقت گزارا ہو وہ بھی اس صورت میں جب زرائع آمدنی محدود ہوں یا نہ ہونے کے برابر ہوں اس قسط میں حقی صاحب کی حالت و کیفیت ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں شاعر ادیب صحافی غم روزگار کی چھٹی میں جلتے ہی رہتے ہیں سوائے ان فنکاروں کے جنہوں نے اپنے قلم اور سوچ کو گروی رکھ دیا بہت دلچسپ قسط انگلی قسط کا انتظار ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے