سر ورق / کہانی / خوشی شیکھا گپتا/عامر صدیقی

خوشی شیکھا گپتا/عامر صدیقی

خوشی

شیکھا گپتا/عامر صدیقی

ہندی کہانی

…………….

آج جیسے ہی گھر سے آفس کے لئے نکلی اوربس اسٹاپ پر پہنچی ہی تھی کہ بس اسٹاپ پر ششانک کو دیکھ کر میں حیران ہو گئی ۔یادوں نے کروٹ لینی شروع کر دی۔

میں اکثر اپنے ننہال جایا کرتی تھی اور اُس دن اچانک ہی نانا کے ساتھ کسی کو دیکھا۔

نانی سے پوچھا۔” یہ کون ہے؟“

نانی جی نے بتایا،”دامودر تمہارے پاپا کے دوست ہے۔“

میرے والد گری راج داس، پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتے تھے۔ ایک دن اچانک ان کی ملاقات اپنے اسکول کے دنوں کے ساتھی دامودر سنگھ سے ہو گئی۔ وہ اپنے بچپن کے ساتھی سے مل کر بہت خوش تھے۔ دامودر سنگھ کا اچھا خاصا بزنس تھا اور وہ اپنے اکلوتے بیٹے ششانک کے لئے ہم پلہ لڑکی کی تلاش میں تھے۔ ششانک کہیں اور شادی کرنا چاہتا تھا، لیکن والد کی ضد اور کروڑوں کی جائیداد کے لالچ کی وجہ سے شاید وہ لاچار تھا۔ دامودر سنگھ ایک دن گری راج داس کے گھر آئے اور جیا کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ وہ خوبصورت اور سلیقہ شعار لڑکی تھی، اس لئے انہوں نے اپنے دوست گری راج غلام سے جیا اور ششانک کی شادی کے بارے میں بات کی۔ پاپا کو پہلے تو جیاکی قسمت پر یقین نہیں ہوا۔ پھر انہیں یہ لگا، دہلی جیسے شہر میں رہنے والا ماڈرن خیالات والا لڑکا، کیا چھوٹے سے شہر میں رہنے والی جیا کوپسند کرے گا اور اس سے شادی کے لئے راضی ہوگا۔ لیکن دامودر سنگھ کی ضد کے آگے گری راج داس کی ایک نہ چلی۔ ہر باپ کی طرح وہ بھی بیٹی کے سنہرے مستقبل کا تصور کرتے۔ سواس طرح ششانک اور جیا کی شادی ہو گئی۔

ششانک اپنی شادی سے خوش تو نہیںتھا، پر والد صاحب کی جائیدادکے لالچ میں اس نے جیا سے شادی کر لی تھی، پر اندر ہی اندر وہ اپنے لئے ایک ماڈرن لڑکی کا تصور کرتا رہتا اور ادھر ادھر بھٹکتا رہتا۔ وہ جیا سے دور دور رہتا۔ اس سے سیدھے منہ بات تک نہیں کرتا۔ لیکن جیا ایک ہندوستانی لڑکی کی طرح ششانک کو ” شوہر میرا دیوتا“کے سمان سمجھتی رہی۔

”جیا، ششانک کے اس طرح کے رویے سے سوچنے لگی کہ شاید یہ کسی اور کو پسند کرتے ہیں مجھے نہیں۔ کیا میں ان کی محبت کے قابل نہیں ہوں؟ مجھے خود کو ان کی پسند ناپسند کے مطابق ڈھال لینا ہی ہوگا۔

جیانے شوہر کی پسند ناپسند کے مطابق خود کو ڈھالنا شروع کر دیا۔ کافی کم وقت میں جیا نے جدید رہن سہن اپنا لیا۔ پھر بھی ششانک اس سے اپنا رویہ نہیں بدلا تھا۔

جیا بہت دکھی ہوئی۔ اس نے سوچا کہ وہ ششانک سے پوچھے کہ کتنی چوٹ پہنچی ہے مجھے۔ اپنے اندرونی درد سے وہ چیخ سی اٹھتی تھی۔ ایک دن وہ ششانک سے پوچھ ہی بیٹھی،” کیا کمی ہے ۔۔۔ بتائیے تو؟ آپ جیسا چاہتے ہیں، میں ویسا ہی خودکو بنانے کی کوشش کروںگی۔“

ششانک کس طرح کہے کہ وہ اسے پسند نہیں ۔اس نے تو والد کی خوشی اور کروڑوں کی جائیدادکے لالچ میں اس سے شادی کی ہے۔ وہ تو ایک کھلے خیالات والی ماڈرن لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا۔

شادی سے پہلے ششانک نے اپنے دوستوں سے لیٹ نائٹ پارٹیوں کے بارے میں سنا تھا۔ ان پارٹیوں میں کئی ایسے پروگرام ہوتے ہیں، جن سے زندگی میں نیاپن آتا ہے۔ ان پارٹیوں میں صرف شادی شدہ لوگ ہی شرکت کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کی شادی کیونکہ گاو ¿ں کی ایک سیدھی سادی، شرمیلی لڑکی سے ہو ئی تھی، لہذا وہ کبھی ان پارٹیوں میں شرکت نہیں کر پائے گا۔ شادی کے چند ماہ بعد کافی سوچ بچار کرنے بعد بالآخر اس نے فیصلہ کیاکہ وہ جیاکو ان پارٹیوں میں کر لے جائے گا۔ پھر نتیجہ چاہے جو بھی ہو۔ دیکھا جائے گا۔

ایک شام ششانک نے جیا کو پارٹی میں چلنے کو کہا۔

جیا کی خوشی کی ٹھکانہ ہی نہیںتھا۔ آج پہلی بار اس کے شوہر نے اپنے ساتھ کسی پارٹی میں چلنے کو کہاتھا۔

ششانک اس کے لئے ایک ماڈرن ڈریس لے کر آیا اور تیار ہونے کا کہا۔ جیانے پہلے کبھی ایسا ڈریس نہیں پہنا تھا۔ لیکن ششانک کی خوشی کے لئے وہ تیار ہو گئی۔

جیا نے پہلی بار ایسی پارٹی دیکھی تھی۔ جیا کو سب کچھ بڑا عجیب سا لگ رہا تھا، وہ ڈرنے لگی تھی ، پر کیا کرے؟ ششانک نے اسے بھی ڈرنک لینے کو کہا، پر اس نے انکار کر دیا۔ ششانک دوسری عورتوں کی جانب بڑھ گیا۔ جیا دیکھ رہی تھی کہ وہاں موجود مرد، دوسری عورتوں میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے اور عورتیں بھی دوسرے مردوں میں۔ تبھی اچانک ششانک کے پھسپھساتے ا لفاظ جیا کے کانوں میں پڑے۔

” کہاں کھو گئی ہو۔“

” دیکھو اب اس پروگرام کا حقیقی کھیل شروع ہونے والا ہے۔“

جیا نے کہا ،” کون سا۔“

 ششانک بولا،” تم دیکھتی جاو ¿۔“

” کیوں؟“ جیا نے پوچھا،” یہ کھیل ہے اور اس کھیل کا حصہ ہر کسی کو بننا پڑتا ہے۔“

اس میں ایک مرد آکر پرچی اٹھاتا ہے اور اس درج نام کی عورت کو اس مرد کے ساتھ رات بھر رہنا ہوتا ہے۔ جیانے جیسے ہی یہ سنا اس کے پاو ¿ں کے نیچے کی زمین کھسک گئی۔ وہ سوچنے لگی، اپنے پورے وجود کو ششانک کو وقف کرکے بھی وہ اسے خوش نہیں کر پائی۔ میرے وجود پر ایسی گہری چوٹ! میری نسوانیت کی ایسی سخت توہین۔

” کیا کروں؟ کیسے اپنی شادی شدہ زندگی کو بچاﺅں؟ کیا میں ششانک کی بات مان لوں؟ آخر اسی کے ساتھ تو زندگی گزارنی ہے مجھے۔ کیا ایک مرد یا ایک شوہر اس عذاب کا مطلب سمجھ سکتا ہے؟“

” کیا ہم جانوروں ہو گئے ہیں، جہاں عورت بس عورت اور مرد صرف مرد۔ کیسے کوئی بِنا دل سے جڑے کسی کے ساتھ اپنا بدن بانٹ سکتا ہے؟ کیسے ہم صبح ہوتے ہی اسے بھول سکتے ہیں، جس کے ساتھ ہم نے رات گزاری ہو؟ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ہرربط روح کی کتاب میں درج ہو جاتا ہے اور انسان اسے جیتے جی نہیں بھول سکتا ہے۔ کیا جذبات کی کوئی اہمیت نہیں؟ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ ششانک کو وہ کس طرح سمجھائے؟ کس طرح کہے کہ نفرت کی آگ میں جتنا گھی ڈالوگے، وہ اتنی ہی تیز بھڑکتی ہے۔ خواہشات کا کہیں کوئی سرا نہیں! کیوں مرد مختلف عورتوں کامزہ لینا چاہتا ہے؟ کیا تمام عورتیں جسم کے لحاظ سے ایک جیسی نہیں ہوتیں؟ الگ سامزہ، بس دماغ کا فتور ہے۔ اس کا یہ وہم توڑنا ہوگا۔ وہ بھول گیا ہے کہ مزہ بدن میں نہیں، ذہن میں ہوتا ہے۔ مزہ تبدیلی میں نہیں، تعلق کے احساس میں ہے۔“

انہی سوچوں کے درمیان گھری جیا، اپنی اس نئی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی، جسے لے کر کچھ دنوں پہلے تک اس کے پاو ¿ں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے اور وہ بغیر پر لگائے آسمانوں میں اڑرہی تھی۔ لیکن جب حقیقت سے سامنا ہوا تو نفرت ہوتی ہے ایسے ماحول سے۔ پر یہ سب ششانک کی خوشی کی خاطر کرنا ہی پڑے گا۔ اپنے متعلق سوچ کر ایک اداسی بھرا احساس اس کے اندر پیدا ہو گیا تھا۔ ٹھیک ہے جوہو گا دیکھا جائے گا۔

 جیانے اس کے سامنے آخر ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ عورت،مرد کے خلاف کیسے جا سکتی ہے؟ ششانک اپنی جیت پر مسکرایا۔ اچانک اس نے ششانک کی طرف دیکھا۔ وہ اپنا ساتھی چن کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اس کے کمرے میں جا چکا تھا۔ جیا کو بھی نئے پارٹنر کے ساتھ جانا تھا۔ اس کی آنکھیں جیسے کچھ نہیں دیکھ رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا ،جیسے وہ خواب دیکھ رہی ہو یا پھر نیند میں چل رہی ہو۔ پہلی بار شراب کی ہلکی چسکی لی تھی اس نے۔ نشہ چڑھ رہا تھا۔ کسی نے بہت نرمی بھرے انداز سے اسے اپنی بانہوں میں باندھا۔ مانو کوئی بہت احتیاط سے زمین پر گرے مکھن کو بٹور رہا ہو۔ کیا ہو رہا ہے؟ جیا نے سوچنا چاہا۔ مگر دماغ نے کچھ بھی سوچنے سے انکار کر دیا۔ پھر اس نے محسوس کیا، اچانک ایک گھبراہٹ کی لہر سی اس کے اندر سے گزر گئی۔ ایک عجیب سے ڈر کا غلبہ ہونے لگا۔ کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ میرے لئے بھی صرف مزہ نہیں ہے اس رات میں کچھ اور بھی ہے۔ کچھ ناپسندیدہ؟ کچھ نامعلوم سا؟ کوئی اسے پیار سے چھو رہا ہے۔ پر یہ کیا؟ یہ لمس تو اس کی روح کو چھو رہا ہے! یہ کیسا لمس ہے جو اس کے روم روم کو جگا رہا ہے! ایک انجان مزہ! کون ہے یہ شخص! یہ اس کا شوہر ششانک نہیں، اس کا پریمی نہیں، پھر بھی اس سے مزہ مل رہا ہے۔ یہ گناہ ہے؟ ششانک کے ساتھ تو اسے کبھی ایسا نہیں لگا۔ اس کی محبت، اس کا جسم، اس کی سانسیں، اس کی گند، تو کبھی اس طرح اس کی روح تک نہیں پہنچ سکی تھیں۔ پھر یہ کیسے؟ صرف رات بھر کا ساتھی! کل صبح کے ساتھ ان خوشیوں سے بھی ساتھ چھوٹ جائے گا۔ کاش! اس رات کی صبح نہیں ہو! کاش! یہ ساتھی اس کی ہر رات کا ساتھی ہو۔۔۔ کاش! ۔۔۔ جیا کے اندر کی بیوی ۔۔۔ جانے کب کی سوئی انجان عورت ۔۔۔دعا کرتی رہی ۔۔۔ اور صبح ہو گئی۔

سبھی جوڑے ہال میں جمع ہو گئے۔ اپنے اپنے ساتھی کے ساتھ۔ ششانک بہت خوش نظر آ رہا تھا، پر جیا ششانک سے آنکھیں نہیں ملا پا رہی تھی۔ اسے اپنے عورت ہونے پر دکھ اورپچھتاوا ہونے لگا ،کیسی پریت ہے ششانک کی؟ کیا ٹوٹ جائے گی کچے دھاگے سی؟ وہ یہی سوچتے سوچتے جیسے ہی وہ ششانک کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھی، ایک جانی پہچانی خوشبو جیا کو اپنے قریب آتی محسوس ہوئی۔ کسی نے جیا کا ہاتھ تھاما اور اسے چومتے ہوئے کہاتھا،” تھینک یو، یہ رات میں زندگی بھر نہیں بھول پاﺅںگا۔ اس خوشی کو جو آپ سے پہلی بار ملی۔“

وہ یہ کہہ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا، جیا کو وہ چہرہ یاد رہا نہ اس کا پہناوا یاد رہا۔ یاد رہی تو اس کی خوشبو،جو اسے اپنی سی لگ رہی تھی۔ اتنی اپنی جیسے صدیوں سے وہ اسی خوشبو کی تلاش میں بھٹک رہی ہو۔ خوشبو کا وہ جھونکا ایک گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ جیانے گھبرا کر ششانک کی طرف دیکھا۔ جانے کیوں اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا! راستے بھر ششانک بے قراررہا۔ کیا اس لئے کہ جیا نے اس اجنبی کے ساتھ رات گزاری تھی؟ مگر ششانک نے بھی تو دوسری عورت کے ساتھ رات گزاری تھی۔ پھر یہ اسی کی ضد تھی۔

لیکن پھر بھی یہ بات ششانک کو چبھ رہی تھی۔

” کیا بات ہے؟“ جیانے پوچھا۔

” تم نے اس کے ساتھ ایسا کیا کیا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ تمہیں بھول نہیں پائے گا؟“

” کیا کہہ رہے ہیں آپ؟ میں نے کچھ نہیں کیا۔ آپ نے جو چاہا وہ ہوا۔“ جیانے ناراضگی ظاہر کی۔

” اچھا، میرے ساتھ تو مردے کی طرح پڑی رہتی ہے اور اس سالے کو ایسے خوش کیا کہ کہہ رہا تھا کہ تجھے کبھی بھول نہیں پائے گا۔“ مارے غصے کے ششانک کانپنے لگا تھا۔

” بند کریں یہ سب!“ جیا چلائی۔

”اچھا۔ چلاتی ہے!“کہتے ہوئے ششانک نے جیا کے گال پر چانٹا مار دیا۔ جیا لڑکھڑا گئی۔

ششانک نے جیسے ہی دوبارہ ہاتھ اٹھایا، تو جیا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور چیخ کر بولی۔

” خبردار ششانک۔“

ششانک حیران تھا۔ پر اس کے اندر کا مرد ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ وہ جیا کے کپڑے اتارنے کی کوشش کرنے لگا۔ جیا جم کرمزاحمت کرتی رہی۔ اسے لگتا ہے کسی کے مقدس لمس سے پوتر ہوئی اسکی روح ، انوکھی خوشی میں شرابور ہوئے اسکے جسم پر اب کوئی اجنبی حملے کر رہا ہے اور اس نے پورا زور لگا کر اپنا دفاع کیا۔ ششانک حیران رہ گیا۔ ذلت سے تلملا اٹھا۔

” میں تم کو چھوڑ دوں گا۔ جو دوسرے مردوں کو خوشیاں دیتی پھرتی ہو۔“

” ٹھیک ہے ۔۔۔ جیسا آپ مناسب سمجھیں۔ میں آپ کا گھر چھوڑنے کے لیے تیار ہوں۔ جانے سے پہلے میں ایک سچ کو بتا دینا چاہتی ہوں۔ میں نے اس پرائے مرد کو خوشی دی ہو یا نہ دی ہو، اس نے مجھے وہ خوشی دی ہے، جو آپ کبھی نہیں دے پائے۔ دے بھی کیسے پاتے؟ اپنی مردانگی کھو بیٹھے ہیں آپ۔ وہ تومیری اچھی تربیت تھی کہ میں آپ کی کمزوری کو سہلاتی رہی کہ آپ اندر سے مجروح نہ ہوں۔ عورت کی اسی شرافت کا فائدہ آپ مرد اٹھاتے ہیں، ورنہ عورتیں سچ بولنے لگیں تو آپ جیسے مرد منہ چھپاتے پھریں۔ مگر میں آپ کو معاف کرتی ہوں ۔کیونکہ آپ ہی کی وجہ سے میں نے عورت ہونے کا مطلب جانا، بھلے ایک رات کے لئے ہی سہی۔ آپ ضد نہ کرتے تو شاید میں زندگی بھر اس خوشی سے محروم رہتی۔ اب میں آپ کے ساتھ ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتی۔“

ششانک بھونچا سا جیا کو دیکھتا رہا۔ وہ تو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ اس عورت کے اندر اتنی آگ ہے۔ جیا سوچ رہی تھی کہ کیا حقیقی مرد کا کچھ گھنٹوں کا ساتھ بھی عورت کو اتنی خود اعتمادی سے بھر دیتا ہے؟کہاں چھپی تھی اس کے اندر کی یہ طاقت؟

” آپ نے تو مجھے پرائے مرد کے پاس بھیج دیا تھا۔ کل پھر کسی کے پاس بھیجیں گے۔ ایسے شخص کے ساتھ میں نہیں رہ سکتی۔“جیا آگے بڑھی،” اب میرا یہ بدن آپ کے لمس کو سہہ نہیں پائے گا۔“

 ”میںناطہ توڑتی ہوں ان وشواسوں سے ،ان عقیدوں سے جو آج بھی استحقاق کرتے ہیں عورت کا۔ جو ایک چھوٹی سی چوک ہونے پر عمر بھر سزا دیتے رہتے ہیں۔ کیونکہ خود کو تبدیل کر پانا، ہر انسان کے لئے بہت مشکل ہے اور ناطہ توڑتی ہوں اس خاموشی سے، جو عورت کو خود پر ہونے والے ظلم کو زبان نہیں دینے دیتی۔“

”اب مجھے اپنا بدن اپنا لگنے لگا ہے۔ اب کوئی ششانک اسے کسی کو سونپ نہیں سکتا تھا۔“

ششانک شکستہ سا راستے سے ہٹ گیا۔ جیا اسکے بنگلے سے باہر نکل گئی، شادی کے بعد دلہن بن کر، جہاں داخل ہوتے ہوئے کبھی اس نے خود کو خوش قسمت سمجھا تھا۔ مگر وہ خوش تھی۔ صبح کی پہلی کرن ایک نئی زندگی کی طرح، اس کے استقبال میں کھڑی تھی اور خوشبو کے ایک توانائی بھرا احساس اس کو مہکائے ہوئے تھا۔ اندر کا سارا شور پرسکون ہو چکا تھا۔

جیا کو لگا، اس کی زندگی کو صحیح سمت مل گئی ہے۔ اسکی صحیح ترتیب شروع ہو گئی ہے۔ کوئی فالتوکاتبصرہ کرنے والا نہیں ہو گا۔ کسی کا ڈر نہیں، کسی کی پرواہ نہیں! بس اپنے آپ زندگی کو جیو۔ واقعی بہت خوش قسمت ہوں، بہت ہی خوش قسمت۔ پتہ نہیں کس طرح مل گئی ایسی قسمت؟ لیکن اب بھی کئی راستے تلاش کرنے ہیں مجھے۔ جو آشیرواد ساتھ ہیں ،وہ ہوا کے جھونکے بن کر مجھے سہارا دیتے رہیں گے، میری رفتار میں اضافہ کرتے رہیں گے، کبھی پھولوں کی طرح میرا شررنگار بن جائیں گے، کبھی دیئے بن میرے من کوروشن کرتے رہیں گے۔ جو روڑے پتھر راستہ اٹکائیں گے، انہیں پار کر جاو ¿ں گی۔ رفتار تھمے گی نہیں۔ لافانی خوشی جو میرے ساتھ ہے۔

(اختتام)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

منا لینا عشناء ۔۔۔کوثر سردار ۔۔۔پہلا حصہ

منا لینا عشناء کوثر سردار پہلا حصہ ”مجھے نہیں معلوم تھا اگر محبت دل میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے