سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ۔۔۔رضالحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ۔۔۔رضالحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ

رضالحق صدیقی

گیارہ ستمبر کے آنجہانی لوگوں کی یادگار

ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے بارے میں سن رکھا تھا کہ اپنے زمانے میں دنیا کی بلند ترین عمارت تھی۔ایک ہزار تین سو فٹ بلند،ایک دس منزلہ عمارت تصاویر میں آسمان سے باتیں کرتی محسوس ہوتی تھی۔ایسا کوئی وسیلہ نہ تھا کہ ایسی شان و شوکت والی شاندار عمارت دیکھ سکیں۔کچھ کارِ روزگار کی مجبوری اور کچھ قلتِ زر ہمیشہ ایسے معاملات میں آڑے آتی رہی،وہ تو اللہ بھلا کرے عدیل کا کہ ہمیں اس نے دنیا کے بہت سے ممالک کی سیر کرا دی۔

ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت یا عمارتوں کا مجموعہ ،کہتے ہیں کہ 16ایکڑ پر بنی ہوئی تھیں،اسے امریکی آرکیٹیکٹ Miniru Yamasakiنے ڈیزائین کیا تھا اور اس کے تخلیق کار کا دعویٰ تھا کہ یہ عمارت اتنی مضبوط ہے کہ اسے توڑنے یا گرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تخلیق کار کا دعویٰ کچھ غلط بھی نہ تھا کیونکہ اس نے اپنے وقت کی بلند ترین اور آٹھویں عجوبے ،، ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے سن 1945میں ایک سپر سانک جیٹ طیارے کے ٹکرانے اور اس سے ہونے والے اوپری تین منزلوں کے نقصان کو بھی مدِ نظر رکھا تھا۔لیکن نیویارک کے لوگوں نے تخلیق کار کے دعویٰ کو غلط ہوتے اور قیامتِ صغرا ء بپا ہوتے دیکھی۔یہ گیارہ ستمبر 2001کی صبح پونے نو بجے کا وقت تھا جب ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں کام کرتے لوگوں نے جیٹ طیاروں کو اپنی جانب بڑھتے اور ٹاوروں سے ٹکراتے دیکھاور دونوں ٹاور دیکھتے ہی دیکھتے زمیں بوس ہو گئے۔

سرکاری اعلانیے کے مطابق،چار جیٹ طیارے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ہائی جیکروں نے اغوا کئے دو طیارے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹاوروں سے ٹکرا دئیے،ایک طیارہ پینٹاگون پر گرا دیا اور ایک کو امریکی حکام نے مار گرایا۔اس حملے میںاس کمپلیکس کی دوسری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا،اسی حادثے میں تکلیف دہ عمل یہ تھا کہ2763افراد لقمہِ اجل بن گئے۔

اس واقعہ کو14برس بیت گئے تھے جب ہمیں امریکہ یاترا کا موقع ملا،ہمیں اس وقت بھی اور آج بھی اس سانحہ پر افسوس ہے اس لئے نہیں کہ ایسی عظیم الشان عمارتیں تباہ ہو گئیں بلکہ اس لئے کہ ہزاروں افراد لقمہِ اجل بن گئے اور انسانی جان کی تلافی ممکن نہیں ہے،یہ ہمارا احساس ہے کہ انسانی جان کا زیاں کہیں بھی نہیں ہونا چاہیئے،لیکن انسان کیا سے کیا بن جاتا ہے وہ خود بھی مر جاتا ہے اور ہزاروں افراد کو بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے،یہ واقعہ چاہے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر رونما ہو یا چشم زدن میں ہیرو شیما ناگاساکی میں لاکھوں افراد کے لقمہِ اجل بن جانے کا ہو یاافغانستان میں وقوع پذیر ہوا ہو۔بے گناہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارنے والوں کو تو شاید اس بات کا احساس بھی نہ ہو کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔

اسے جذبات کا اظہار کہنا چاہیئے جو صفدر صدیق رضی نے اکتوبر2001میںماہنامہ تخلیق میں شائع ہونے والی اپنی تخلیق میں کیا۔صفدر صدیق رضی نے اس واقعہ کو جس طرح محسو س کیاوہ شاید دنیا بھر میں جنگ کے سیاہ بادلوں کے نتیجے میں مرنے والوں کے لواحقین کے جذبات کی ترجمانی ہے۔

ورلڈ ٹریڈ سنٹر

زمانے کی قیادت کرنے والو

خلق سے بیوپار

انسانوں سے کاروبار کر کے

تم نے دیکھا ہی نہیں انسانیت سے پیار کرکے

ساری دنیا کو تجارت گہ بنا کر

حرص کے لالچ گہ بنا کر

آﺅ اور دیکھو

کہ دنیا کی تجارت گاہ شعلوں میں گھری ہے

آدمی جو آرزو ہے،پیار ہے

مدت سے جنسِ قریہ و بازار ہے

آخر اسے بے قدروپائمال کر کے

نذرِ استحصال کر کے

بھول بیٹھے ہو کہ سیلِ ظلم جب حد سے گزرتا ہے

تو صبرواستقامت کی چٹانوں سے وہ ٹکرا کر پلٹتا ہے

انہی سفاک آنکھوں اور ہاتھوں کی طرف

مانندِ سیل آتش و آہن جھلساتا ہے

ہیروشیما کے ایک تباہ شدہ حصے کو جاپان نے آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر لیاہے کیونکہ یہ ایک مفتوح قوم تھی لیکن امریکہ ایک فاتح اور دنیا پر حکمرانی کرنے والی قوم بن کر رہنا چاہتی ہے،وہ اس سانحہ سے اپنی جگ ہنسائی نہیں چاہتی جتنا ماتم انہوں نے کرنا تھا وہ کر لیا اب وہ ماتم کروانے کے در پہ ہے۔اس تباہ شدہ حصے پر اب امریکی نہیں آتے صرف سیاح آتے ہیں۔

امریکیوں نے اس جگہ کو جاپانیوں کی طرح محفوظ نہیں کیا بلکہ اسی مقام پر ایک نیا ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تعمیرِ نو کا کام شروع کر دیا ہے بلکہ اس کا بیشتر حصہ تعمیر بھی کر لیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ پہلے یہ کمپلیکس دو ٹوئن ٹاوروں سمیت 7عمارتوں پر مشتمل تھا،اب یہ پانچ آسمان سے باتیں کرتے ٹاوروں کے ساتھ ایک میموریل پارک اور میوزیم پر مشتمل ہے۔

اس روز جب ہمیں مجسمہِ آزادی دیکھنے جانا تھا تو ہم صبح ہی صبح برکلین سے نکل آئے تھے۔مجسمہِ آزادی کے جزیرے پر کرنے کو کچھ بھی نہیں ہے،آپ یہاں آتے ہیں کچھ سیر کرتے ہیں،تھوڑی دیر مجسمے کو سر اٹھا کر دیکھتے ہیں،اس کے گرد حیرت زدہ آنکھوں کے ساتھ پھرتے ہیں،لیموں پانی کا گلاس ختم کرتے ہیں،دوچار سلفیاں بناتے ہیں اور اگر کوئی ساتھ ہے تو اسے تصویر کھینچنے کے لئے کہتے ہیں،پھر واپسی کے لئے فیری میں آ بیٹھتے ہیں۔ اور بس، اتنا سا ہے مجسمہِ آزادی کے جزیرے کا سفر۔اس لئے وہاں اتنا وقت بھی نہیں لگا جتنا وہ تک پہنچنے اورجامہ تلاشی میں صرف ہوا تھا،اس لئے ابھی دوپہر ہی تھی چبھنے والی دھوپ کے ساتھ،آپ کو پسینہ تو نہیں آتا لیکن دھوپ اپنا احساس بہرحال کرا دیتی ہے۔واپسی ہماری بیٹری پارک میں ہی ہوئی جو بذاتِ خود ایک سیر گاہ ہے،اس لئے وہاں تھوڑا وقت گذارنا ضروری تھا کیونکہ عنایہ کے لئے مجسمہِ آزادی پر کچھ نہیں تھا اس لئے ہم نے تھوڑی دیر کے لئے اسے وہاں بھاگنے دوڑنے دیا،وہاں ایک بینچ پر بیٹھے بیٹھے میں نے عدیل سے کہا

،، ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی تو بیٹری پارک کے گردو نواح میں کہیں ہے وہاں چلتے ہیں،،

،، جی پاپا واپسی پر گراونڈ زیرو پر تھوڑی دیر رکتے ہوئے جائیں گے،،عدیل نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا لفظ اپنے آئی فون میں گوگل میپ کے حوالے کرتے ہوئے کہا،

،،یار میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی بات کر رہا ہوں،تم ،،گراونڈ زیرو،، کئے جا رہے ہو،،

میں نے کہا

،،پاپا، ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جگہ کو اب گراﺅنڈ زیرو ہی کہتے ہیں،وہاں اب میموریل پارک اور میوزیم بنا دیا گیا ہے،، عدیل نے جواب دیا

،،اچھا،لیکن میں نے تو سنا تھا کہ وہاں دوبارہ ٹریڈ سنٹر تعمیر کر دیا گیا ہے،، میں نے اپنی معلومات کے مطابق کہا۔

،، جی سنا تو میں نے بھی ہے کہ وہاں تباہ ہونے والی عمارتیں دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہیںایک نیا ٹاور بھی بنا ہے جسے فریڈم ٹاور کہتے ہیں لیکن جہاں ورلڈ ٹریڈ ٹاور تھا وہاں میموریل بنا دیا گیا ہے،،عدیل نے کہا

پھر کہنے لگا مجھے اتنا عرصہ ہو گیا امریکہ آئے لیکن نیویارک پہلی بار آیا ہوں اتنی فرصت سے آپ لوگوں کے ساتھ،ورنہ کام سے فرصت ہی نہیں ملتی کہ نکل سکوں۔چلیں چل کر دیکھ لیتے ہیں کہ وہاں کیا کیا تھا اور کیا کیا دوبارہ بن گیا ہے۔کیونکہ میرے لئے بھی سب کچھ نیا ہے،،عدیل نے کہا

گاڑی کے پاس پہنچ کر عدیل نے آئی فون میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا پتہ فیڈ کیا تو حیرانی سے بولا ،،ارے یہ تو یہاں سے بہت ہی قریب ہے،گاڑی یہیں پارک رہنے دیتے ہیں،پیدل ہی چلتے ہیں۔بیچ بیچ میں سے جلدی پہنچ جائیں گے،ویسے آپ تھکیں گے تو نہیں پیدل چل کر،،

،،ارے نہیں ،تھکنا کیسا،چلو دیر کس بات کی ہے،، میں نے کہا

ورلڈ ٹریڈ سنٹر جو پہلی بار سن 1973میں لوئر مین ہاٹن میں تعمیر ہوا 7عمارتوں پر مشتمل ایک کمپلیکس تھا جس کی نمایاں خصوصیت اس کے آسمان سے باتیں کرتے ہوئے دو شاہکار ٹوئن ٹاور تھے۔اپنی تعمیر کے وقت ٹاور نمبر ایک،1368فٹ جبکہ ٹاور نمبر دو کی اونچائی1362فٹ تھی۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی یہ ٹوئن ٹاور بلڈنگ سن1973میں دنیا کی بلند ترین عمارت تھی ۔نیویارک کے فنانسل ڈسٹرکٹ میں واقع یہ کمپلیکس 13,400,000مربع فٹ آفس جگہ کا حامل تھا۔گیارہ ستمبر 2001میں یہ کاروباری شاہکار تخریب کاری کے نتیجے میں زمین بوس ہو گیا تھا اب یہی شاہکار دوبارہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔لیکن اس بار یہ سات عمارتوں کی بجائے پانچ بلندقامت عمارتوں پر مشتمل ہے جس میں نمایاں 104 منزلہ ون ورلڈ ٹریڈسنٹر کی عمارت ہے جو اب امریکہ کی بلند ترین جبکہ دنیا کی بلند ترین عمارتوں میںچھٹے نمبر پر ہے۔سن 2014میں اس کی تعمیر اگرچہ مکمل ہو گئی تھی لیکن اسے گذشتہ سال کھولا گیا ہے۔ اسے سابقہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے شمالی ٹاور کی جگہ تعمیر کیا گیا ہے،اسے فریڈم ٹاور کا نام دیا گیا تھا لیکن سن 2009میں ہی جب یہ ابھی زیرِ تعمیر ہی تھا اسے ون ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا نام لوٹا دیا گیا۔اس ٹاور کی بلندی اس کے انٹینا کی اونچائی سمیت 1776فٹ ہے اتنی بلندی جان بوجھ کر رکھی گئی ہے کیونکہ 1776وہ سن ہے جب امریکہ کی آزادی کی قرارداد پر دستخط ہوئے تھے،یہی سن مجسمہِ آزادی کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب پر بھی درج ہے۔

عدیل نے ہمیں اس میموریل پارک کے پاس لا کھڑا کیا جہاں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے عظیم الشان آسمان سے باتیں کرتے دو ٹاور اپنی عظمت کی کہانی دنیا بھر کے سیاحوں کو سنایا کرتے تھے،آج وہ جگہ ایک میدان کی شکل اختیار کر چکی ہے،یہ وہی جگہ ہے جہاں ہزاروں افراد زندگی سے بھرپور جدوجہد میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے ،یہیں وہ عمارت تھی جس کی ایک سو چھ اور ایک سو ساتویں منزل پر وہ ریسٹوران تھا جو ،،ونڈو آف دی ورلڈ،، کہلاتا تھا،وہاں روزانہ دو لاکھ سیاحوں کی آمدورفت رہتی تھی۔میںاس مقام پر اپنا سر آسمان کی جانب کئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی اونچائی کو اپنے تصور میں لانے کی کوشش کر رہا تھا کہ عدیل نے میرے قریب آتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو آپ کچھ بھی محسوس نہیں کر پائیں گے۔جو چیز موجود ہی نہیں اس کی بلندی کا اندازہ ممکن ہی نہیں ہے۔میں نے اپنی سعیِ لاحاصل ترک کر دی اور جنگلے سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا شاید یہ میرا خاموش خراج تھا ان آنجہانی افرد کے لئے جو اس دہشت گردی کی جنگ میں ناحق روئی کے گا لوں کی طرح اڑ گئے تھے۔

ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ

اس روز جب ہم برکلین سے مین ہاٹن کے لئے روانہ ہوئے تو ہمارا ارادہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ دیکھتے کا تھا۔ہمیں بتایا گیا تھا کہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ دیکھنے میں اتنا ٹائم نہیں لگتا جتنا ٹائم اس بلڈنگ میں داخلے کے لئے لمبی قطاروں میں دل تھام کر کھڑے ہونے میں ضائع ہوتا ہے۔

عدیل جب گاڑی میں بیٹھتا ہے تو اپنے آئی فون میں گوگل میپ اوپن کر لیتا ہے۔گوگل میپ میں بول کر بھی ہدایات دی جاتی ہیں۔گوگل کی ماسی(گائیڈ) وقفے وقفے سے بولنا شروع کر دیتی ہے۔آج جب عدیل نے ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کا پتہ فیڈ کیا تو برکلین سے مین ہاٹن تک کا راستہ نقشے کی صورت سامنے آ گیا،گوگل کی یہ ماسی اتنا لیفٹ رائیٹ کر رہی تھی کہ میرا سر چکرا گیا لیکن عدیل بڑے اطمینان اور خاموشی سے اس کی ہدایت پر عمل کر رہا تھا۔ہمم پہلے بھی برکلین سے مین ہاٹن آئے تھے لیکن اس بار یہ نیا ہی رستہ تھا۔میں نے عدیل سے پوچھا،

،،ہر بار نیا رستہ،اس طرح بھٹک نہیں جاتے ، ہر دفعہ نئے راستے سے آنا،غلط بھی تو ہو سکتا ہے،،

عدیل ہنسنے لگا،پھر کہنے لگا یہ دو جمع دو چار کی طرح ہے،آپ کو میرے ساتھ پھرتے اتنے دن ہو گئے ہیں، کبھی اس نے بھٹکایا؟۔

میں نے کہا

،، ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا لیکن ہو تو سکتا ہے،،

عدیل کہنے لگا

،،پاپا،ایسا کبھی ہوا تو نہیں،اس میں کسی جگہ پہنچنے کا ہر ممکنہ راستہ فیڈ شدہ ہے۔یہ ٹریفک کے حساب سے صاف راستوں کا تعین کر کے آپ کو منزل پر پہنچا ہی دیتے ہیں،اسی لئے ہر با رراستہ مختلف ہوتا ہے۔،،

باتوں ہی باتوں میںکافی سفر گذر گیا ،، گوگل کی ماسی ،، نے بیالسویں سٹریٹ اور میڈیسن ایونیو سے گذرنے کا لیفٹ یا شاید رائیٹ اشارہ کیا۔ایک قدیم سی بلڈنگ سامنے سے گاڑی کی طرف آتی محسوس ہوئی۔

،، ارے اس بار یہ ہمیں گرینڈ سنٹرل ریلوے اسٹیشن کے راستے سے لے آئی آپ کی گوگل کی ماسی،عدیل نے ہنستے ہوئے کہا

،،یہ دنیا کا سب سے بڑا ریلوے اسٹیشن ہے،یہ اسی کی عمارت ہے ۔ہم اس کے بائیں طرف سے ہو کر گذریں گے،، عدیل نے بتایا۔

،،کمال ہے دنیا کی سب ،سب سے بڑی چیزیں امریکہ میں پائی جاتی ہیں،، میں نے کہا۔

،،یہ بات کسی حد تک درست ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ اعزازات امریکہ کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں لیکن گرینڈ سنٹرل ریلوے اسٹیشن کے بارے میں جو اعزاز اسے حاصل ہے وہ اب بھی امریکہ ہی کے پاس ہے،،عدیل نے میری بات کا جواب دیا۔

،،بڑی معلومات حاصل کر لی ہیں،،میں نے کہا۔

،،پاپا جب یہاں رہنا ہے تو معلومات تواکھٹی کرناپڑتی ہیں نا،یہاں مختلف ٹیسٹوں کی تیاری کے لئے معلومات درکار ہوتی ہیں۔بہت محنت کی ہے ریسرچ کرنے میں،، عدیل نے سامنے راستہ دیکھتے ہوئے کہا۔

،،وہ تو تیری باتوں سے لگ رہا ہے،،میں نے اس کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

،،یہ ریلوے اسٹیشن بھی دیکھنے کی چیز ہے، میں اسے دکھا تو دیتا لیکن پھر ہم ایپائر اسٹیٹ بلڈنگ نہیں دیکھ سکیں گے۔ اب کیا کہتے ہیں آپ یہاں رکیں یا چلیں؟،،عدیل نے کہا

،، چلو یار ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ دیکھتے ہیں،راستے میں اسٹیشن کے بارے میں تم معلومات شیئر کر دینا۔

ٹھیک ہے،کہہ کر عدیل نے گاڑی آگے بڑھا دی۔

،، پاپا،یہ جو اسٹیشن ہے ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا اسٹیشن ہے، یہ تو میں بتا ہی چکا ہوں،اس میں 123ریلوے لائینیں ہیں،یہ دو منزلہ ہے۔اس کی اوپری منزل پر 66جبکہ نیچے والی منزل پر57لائینیں ہیں۔یہ ریلوے اسٹیشن1913میں مکمل ہوا۔اس اسٹیشن پر رش کی وجہ سے قیامت کا سا سماں ہوتا ہے صبح اور شام کے وقت یہ ہجوم بہت بڑھ جاتا ہے۔تعلیمی اداروں میں آنے جانے والے طلباء ، دفتروں میں کام کرنے والے،ذاتی کاروبار کے لئے مختلف جگہوں پر آنے اور جانے والوں کے علاﺅہ سیاحوں کا بھی تانتا بندھا رہتا ہے۔ہم گاڑی پر آئے ہیں میری لینڈ سے یہاں لیکن اگر ہم ٹرین سے آتے تو ہم بھی انہی لوگوں میں شامل ہوتے جو ٹرین کو استعمال کرتے ہیں۔لاکھوں لوگ روزانہ اس ریلوے کے نظام کو استعمال کرتے ہیں،عدیل اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا کیونکہ ہم اس جگہ کے قریب پہنچ گئے جہاں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ واقع ہے۔لیکن ہمیں پارکنگ بڑی تلاش کے بعد ملی۔سڑک کے کنارے ایستادہ مشین میں عدیل نے سکے ڈالے،اس مشین کا سرخ نشان سکے ڈالتے ہی سبز ہو گیا،امریکہ میں پارکنگ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اگر غلط جگہ پارکنگ کر دی تو گاڑی وہاں سے اٹھالی جاتی ہے اور جرمانہ بھی خاصا ہوتا ہے۔پاکستان کی طرح نہیں کہ جہاں جی چاہا گاڑی کھڑی کی اور چل دئیے۔

وہاں سے ہم بیالس سٹریٹ پر جا پہنچے جہاں ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ واقع ہے۔یہ زمین سے چھت تک1250فٹ اونچی عمارت ہے جسے امریکن انجمن برائے شہری انجینئرز نے جدید دنیا کے7عجائبات میں سے ایک قرار دیا ہے۔اتنی اونچی عمارت بنانے کا پلان امریکن پالیٹیشن الفریڈ سمتھ نے بنایا۔اس کا سٹیل فریم اتنا مضبوط ہے کہ 1945 میں ایک جہاز حادثاتی طور پر اس سے ٹکرا گیا تھا جس سے اس کی صرف اوپر کی دو منزلوں کو نقصان پہنچا۔

سن1931میں اپنی تکمیل سے سن1973 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تعمیر تک یہ عمارت دنیا کی بلند ترین عمارت کا درجہ رکھتی تھی۔ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی 11ستمبر2001میں تباہی کے بعدیہ ایک بار پھر نیویارک سٹی کی بلند ترین عمارت بن چکی ہے لیکن دنیا کی نہیں کیونکہ دنیا میں بہت بہت بلند عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں۔ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی102منزلیں ہیں۔

فلموں میں اس عمارت کو متعدد بار دیکھا تھا،میں نے سینما میں فلمیں دیکھنا بہت عرصہ ہوا چھوڑ دیا تھا لیکن کہا گیا کہ فلم ،، کنگ کانگ،، آئی ہے،بڑی تھرلنگ مووی ہے لیکن اسے دیکھنے کا مزا سینما میں ہی ہے۔سو ہم نے سینما میں کنگ کانگ دیکھی۔اس فلم کا اختتام اسی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی چھت پر فلمایا گیا ہے جہاں کنگ کانگ گوریلے کو مارا جاتا ہے۔آج وہی ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میرے سامنے تھی۔

ہم نے سڑک پار کی اور ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے اندر داخل ہو گئے۔ایک بلند چھت تلے سرخ پتھر سے آراستہ ایک راستہ تھا،ایک لابی تھی جس کے ماتھے پر اس بلڈنگ کی ایک شبیہ نقش تھی اور اس کی آخری منزل کے گرد روشنی کا ہالہ تھا ویسا ہی ہالہ جو گرجا گھروں میں ننھے فرشتوں کے سروں کے گرد روشن ہوتا ہے۔اس شبیہ کے نیچے ایک ڈیسک کے پیچھے ایک خاتون سیاحوں کو معلومات فراہم کر رہی تھی۔

اس کی معلومات کی روشنی میں ہم دوسرے منزل پر پہنچے جہاں ٹکٹ گھر تھا۔یہاں عدیل نے ٹکٹ خریدے اور ہم اوپر جانے کے لئے لفٹوں کی جانب بڑھے،ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ایسے ہی ڈرایا ہوا تھا کہ بہت ٹائم لگتا ہے لیکن اتنی جلدی کام ہونے کی ہمیں توقع نہیں تھی،لیکن یہ شاید ہماری غلط فہمی تھی کیونکہ ہم سے آگے ایک طویل کیو تھی لفٹوں تک پہنچنے کے لئے اور کیوں نا ہوتی،اسی روزانہ کے رش کی بنا پرہی کہا جاتا ہے کہ کوئی چالیس ،پچاس لاکھ سیاح ہر سال اس عمارت کی سیر کو آتے ہیں،ہم نے اس طویل قطار کو دیکھ کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا،عدیل نے کندھے اچکائے کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے۔آئیں ہیں تو دیکھ کر ہی جائیں گے۔لفٹوں سے پہلے تلاشی کا ویسا ہی مقام آ گیا جیسا مجسمہِ آزادی پر جاتے ہوئے پیش آیا تھا۔کہتے ہیں ایسا پہلے تو نہیں ہوتا تھا لیکن جب سے اسلامک دہشت گردوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو تباہ کیا تھا اور ساتھ ہی امریکہ کی دیگر اہم تنصیبات کو بھی تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا اس وقت سے امریکہ کو بہانہ مل گیا اور انہوں نے اپنی تنصیبات کی حفاظت کے لئے سیر کے لئے آنے والوں کی تلاشی کا نظام رائج کر دیا۔ہمیں شاید ابھی اور وقت لگ جاتا لیکن عنایہ کے رونے نے ہمارا کام آسان کر دیا اور تلاشی لینے والوں نے ہمیں پہلے بلا کر فارغ کر دیا۔سٹولر کو امریکہ میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔

وہاں سے ہم لفٹوں کی جانب بڑھے،ہم لفٹ میں داخل ہوئے تو اس کے چلنے کا انتظار کرنے لگے لیکن یہ کیا ،لفٹ ایک ہزار پانچ فٹ کی بلندی پر واقع 86ویں منزل پر ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پہنچ گئی۔ہم اس منزل پر اتر گئے،وہاں ایک ریستوران،صاف ستھرا ماحول،رنگ برنگی میزیں اور کرسیاں، سیاحوں کی ایک بڑی تعداد پہلے سے وہاں موجود تھی۔باہر کی جانب دیکھا تو آس پاس کچھ بھی نہیں تھادوسری عمارتیں بہت نیچے رہ گئیں تھیں۔سیاح شیشے کے پار نیویارک کو دیکھ رہے تھے،ایک طرف ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، دور سٹیچو آف لبرٹی ایک ننھی سی گڑیا کی مانند نظر آ رہا تھا۔

مجھے بلندی سے خوف آتا ہے کسی آسمان سے باتیں کرتی عمارت کی انتہائی بلندی سے نیچے جھاک کر نہیں دیکھ سکتا،نیچے نظر ڈالتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نظر کے ساتھ میں بھی نیچے گر رہا ہوں۔امریکہ کی اس پہلی یاترا میں بچہ لوگ نے مجھے آسمان سے باتیں کرتے برقی ہنڈولے پر تو ساتھ بیٹھا لیا تھا لیکن میں نے توبہ کی تھی کہ ایسی عمارتوں میں ایسی جگہ نہیں جاﺅں گا جہاں اوپر سے نیچے جھانکنا پڑے۔ لیکن آج پھر اپنا وعدہ توڑ کر بچوں کے ساتھ اتنی بلندی پر آ گیا تھا اور شیشے کی چار دیواری سے نیچے بھی جھانک رہا تھا۔یہ الگ بات کہ خوف کے احساس سے میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور میری ریڑھ کی ہڈی میں سرسراہٹ بڑھ رہی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دیکھا تیرا امریکہ۔ رضا الحق صدیقی۔

نیویارک نیو یارک یا نیو نیدر لینڈ عدیل نے گاڑی آئی95 پر ڈال دی،ساتھ ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے