سر ورق / سفر نامہ / سفر نامہ بھارت۔ حسن عباسی قسط نمبر 3

سفر نامہ بھارت۔ حسن عباسی قسط نمبر 3

امرتسر

امرتسر کے لغوی معنی ہیں ”آبِ حیات کا تالاب“ سکھوں کا یہ مقدس شہر لاہور کے مشرق میں ذرا سے فاصلے پر واقع ہے۔ شہر کی سب سے بڑی وجہ شہرت ”ہری مندر صاحب گوردوارہ“ ہے، جسے عرفِ عام گولڈن ٹیمپل کہا جاتا ہے۔ سکھوں کے لےے اس شہر کی اہمیت ثقافتی بھی ہے اور روحانی بھی۔ اس شہر کو ایک بار شہرت 1919ءمیں ہونے والے جلیانوالہ باغ کے قتل عام سے ملی تو ایک بار یہ آپریشن بلیو سٹار 1984ءکی وجہ سے بھی شہہ سرخیوں کا موضوع بنا۔ اس گورو دوارے کی بنیاد حضرت میاں میرؒ نے رکھی۔

اس شہر کو گرو امرداس کی ہدایت پر گرورام داس نے 1574ءمیں بسانا شروع کیا اس وقت اسے ”گرو داچک“ کہا جاتا تھا۔ 1581ءمیں گورو دوارے کا تالاب بنا تو اس کی نسبت سے شہر امرتسر کہلانے لگا۔ اس وقت سے آج تک اس شہر پر بہت سے نشیب و فراز آئے۔ کبھی سکّھوں کی مغل حکمرانوں سے ٹھنی تو کبھی احمد شاہ ابدالی، اس شہر کو تاراج کرتا یہاں سے گزرا۔ بھنگیوں اور بعض ہم مذہب مخالفین کو شکست دینے کے بعد رنجیت سنگھ ’مہاراجہ“ بنا تو اس نے دربار صاحب کے کچھ حصوں پر سونے کا پانی چڑھوایا جس کے بعد اس کا نام گولڈن ٹیمپل پڑا۔

آج اس شہر میں بہت سے گردواروں کے علاوہ مرکزی سکھ میوزیم اور سکھ ریفرنس لائبریری بھی واقع ہے۔ شہر میں واقع تعلیمی اداروں کی کثیر تعداد نے تعلیمی حوالے سے بھی امرتسر کو پورے ہندوستان میں اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ مندروں، گردواروں، تعلیمی اداروں اور دیگر اداروں کی وجہ سے یہ شہر سیاحت کا مرکز بھی بنتا جا رہا ہے۔

—–٭٭٭—–

            پھر ملتے ہیں دوست

آنکھ کُھلتے ہی میں نے اِدھر اُدھر ہڑبڑا کر دیکھا تو ایسے لگا جیسے میں انڈیا یاترا کا محض سپنا دیکھ رہا تھا جو اب چکنا چور ہو گیا ہے اور میں دوبارہ لاہور پہنچ گیا ہوں۔

شام کی دھند میں لپٹا ہوا امرتسر، ہوبہو لاہور لگ رہا تھا

سڑکوں پر ٹریفک تو تھی مگر بے ہنگم نہ تھی۔

ڈرائیور یا تو ہمیں شہر دکھا رہا تھا یا پھر راستہ بھول گیا تھا۔ جو بھی تھا اُس ظالم نے مختلف سڑکوں پر اتنی بار بس کو دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گھمایا تھا کہ دماغ گھوم گیا تھا۔

سونے پہ سہاگا یہ کہ جس روڈ پر بریک لگائی وہ بھی لارنس روڈ تھا۔ دماغ گھومنے میں جو تھوڑی بہت کسر رہ گئی تھی وہ بھی پوری ہو گئی۔ صاف ستھری، خوبصورت اور بڑی بڑی دُکانیں دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا کہ یہ سکھوں کی ہیں۔ کُچھ فوٹو شاپس نظر آئیں میں نے موقع غنیمت جانا اور اک دُکان سے کیمرے میں فلم ڈلوائی۔

دُکاندار بھی اتنا سلیقہ شعار تھا کہ ”سکھ“ نہ لگتا تھا۔

ہوا میں خنکی حسبِ ذائقہ تھی۔ یہاں تھوڑی دیر میں جتنے چہرے نظر آئے وہ بھی بے ذائقہ نہ تھے۔

لڑکیاں سڑکوں پر بے جھجھک موٹر بائیک چلا رہیں تھیں۔ اُن کی زلفیں ہوا میں لہرا رہیں تھیں مگر کوئی اسیر ہونے کو تیار نہیں تھا۔ کوئی اُن کو چھیڑنے والا کوئی تنگ کرنے والا نہیں تھا۔

”بیچاری انڈین لڑکیاں“۔

مگر پاکستانی بیچارے ہرگز نہیں تھے۔

دوسرے ہی لمحے جب وہ تیکھے نقش، ترچھے نین اور کُھلے سیاہ بالوں والی پنجابن پاس سے گذری تو رہا نہ گیا۔ کسی ہوئی جینز میں جب وہ خراماں خراماں جا رہی تھی تو یہ عالم شوق کا دیکھا نہ گیا اور اپنی ”فطرت“ سے مجبور ہو کر کچھ پاکستانی گھبرو اُس کے پیچھے چل پڑے مگر کچھ دیر بعد ہی خراماں خراماں لوٹ آئے:

لوٹ آتا ہوں کہ اب کون اُسے جاتا دیکھے

شہر کے اندر بس رُک رُک کر چلتی رہی اور چلتے چلتے رُک گئی، نیچے اُترے تو بہت سے لوگ گلے لگانے کو بے چین تھے۔

پتہ نہیں کیوں؟

لڑکیاں بھی بہت تھیں۔

مگر کسی نے گلے نہیں لگایا۔

وہ سب سیانی نکلیں۔

صرف سواگت کیا۔

جی آیاں نوں کہا۔

اور بس….

حالانکہ گلے لگانے سے بہت سے گِلے کم ہو سکتے تھے۔

کُچھ دیر بعد ہمیں ایک انتہائی پُراسرار ہوٹل کے انتہائی خوبصورت ہال میں لے جایا گیا۔ ہال کے اندر نائٹ کلب جیسا ماحول تھا۔ روشنی اتنی مدّہم کہ صرف چہرے دکھائی دیتے تھے۔ میوزک اتنا دھیما اور پُر لطف کے شام بھی سُننے کے لےے ٹھہر گئی تھی۔

مردو زن تھے یا پیر و جواں کِسی کے پاﺅں میں زنجیر نہ تھی۔

سب آزاد تھے۔

وہ ہاتھوں میں مشروب لیے اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے۔

مشروب کڑوا بھی تھا اور میٹھا بھی۔

ماحول ایسا تھا کہ بِن پئے بہکنے کو جی چاہتا تھا۔

اُس شام میخانے کی لاج لڑکیوں کے ہاتھوں میں تھی۔ اگر وہ نظروں سے پِلا دیتیں تو پیمانے رسوا ہو جاتے۔

میں نے سُنا تھا کہ انڈیا میں شراب اتنی خوبصورت اور دیدہ زیب بوتلوں میں بند ہوتی ہے کہ ”اُم الخبائث“ نہیں لگتی۔ واقعی نہیں لگ رہی تھی۔

اتنی مدھم روشنی میں صرف بوتلیں ہوا میں اُڑتی دکھائی دیتی تھیں۔ اُن کو اُڑانے والے ہاتھ نہیں البتہ ”شرکا“ کی ہوا میں اُڑنے کی باری قدرے توقف سے آئی۔

پاکستان، ہندوستان کی دوستی اورمحبت کی پینگیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ محبت کی باتیں تو بہت ہوئیں مگر ایسا لگتا تھا جیسے سب کو ہی لمحہ ¿ موجود سے غرض ہے۔

کل کیا ہو اس سے کسی کو علاقہ نہ تھا۔

تقریب کی کہکشاں بکھری تو چھوٹی چھوٹی کہکشاﺅں کے روپ میں ڈھل گئی سمیرا شہزاد، بشری حزیں، یوسف بلوچ، ”دو سکھ منڈے“ اور میں ایک ساتھ بیٹھے تھے۔ سمیرا شہزاد اُن دنوں بھی گاتی تھیں مگر کم لوگ جانتے تھے۔

بشریٰ حزیں کو میں بطور شاعرہ جانتا تھا۔ لاہور کے ایک مشاعرے میں اُس سے ملاقات ہو چکی تھی۔

یوسف بلوچ کا پہلا اور آخری حوالہ ”مزدور جدُّ و جہد“ تھا وہ صحیح معنوں میں ورکر آدمی ہے۔ ہنس مُکھ اور ملنسار پہلی ملاقات میں دوست بن جانے والا۔

ہم بہت دیر تک باتیں کرتے رہے۔ باتوں باتوں میں بات کسی کی جوانی تک تو نہ پُہنچ سکی البتہ شاعری تک ضرور پہنچ گئی اور سب سے پہلے مجھ سے غزل کی فرمائش ہوئی۔

میں نے موقع غنیمت جانا اور یہ غزل سُنائی:

خموش رہ کر پُکارتی ہے

وہ آنکھ کتنی شرارتی ہے

میں بادلوں میں گِھرا جزیرہ

وہ مجھ میں ساون گذارتی ہے

ہے چاندنی سا مزاج اُس کا

سمندروں کو اُبھارتی ہے

کہ جیسے میں اُس کو چاہتا ہوں

کچھ ایسے خود کو سنوارتی ہے

خفا ہو مجھ سے تو اپنے اندر

وہ بارشوں کو اُتارتی ہے

غزل کو سمیرا، بشری اور سرداروں کے ”منڈوں“ نے بہت دلچسپی سے سُنا البتہ یوسف بلوچ کو مایوسی ہوئی کیونکہ ایک شعر بھی انقلابی نہ تھا، آپس کی بات ہے یوسف بلوچ کو غزل سُنائی کس نے تھی۔

صرف ایک رومینٹک غزل سے بات کیا بنتی اتنا ہوا کہ اب مجھے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔

ہم ساری زندگی اسی خوف سے پیچھا چُھڑانے کے لےے تو سب کچھ کرتے ہیں۔

نظر انداز ہو جانا بہت بڑا المیہ ہے۔

جب جون ایلیا کہتا ہے:

مجھ کو تو کوئی ٹوکتا بھی نہیں

یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا

تو نظر انداز ہونے کا دُکھ اپنی انتہا پر نظر آتا ہے۔ میرا دُکھ جون ایلیا کے دُکھ سے بہت چھوٹا ہے۔ مجھے اپنے والد کے بے مُہار غصے نے نظر انداز ہونے سے بچائے رکھا۔ وہ بات بے بات ٹوکتے، ڈانٹتے، بچپن میں یہ سب بہت اذّیت ناک تھا۔ میں سمجھتا تھا شاید اس سے بڑا دُکھ اورکوئی نہیں۔

جب دُکھ بانٹنے والے، دُکھ دینے لگیں۔

جب آنسو پونچھنے والے، رُلانے لگیں۔

مجھے وہ ایرانی کہانی یاد آرہی ہے جس میں ایک باپ اپنے بیٹے کو ساحلِ سمندر پر لے جاتا ہے۔ جب وہ واپس گھر آنے لگتا ہے تو اُس کا بیٹا ضد کرتا ہے، رونے لگتا ہے کہ وہ سمندر کو بھی ساتھ لے کر جائے گا۔ باپ اُس کی ضد کے آگے ہار جاتا ہے اور سمندر کو گھر لے آتا ہے وہ بچے جو بچپن میں نظر انداز ہوتے ہیں بڑے ہو کر اُن کو اپنے بچوں کی ضد کے سامنے ہارنا پڑتا ہے۔

سمندر کو گھر لے کر آنا پڑتا ہے۔

اُس کا دِل اُس مچھیرے کی طرح ہو جاتا ہے جو ہر وقت سمندر میں رہتا ہے مگر اپنے بچوں کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔

میرے بعد قرعہ ¿ فال بشریٰ حزیں کے نام نکلا۔ اُن دِنوں وہ ڈسٹرکٹ کونسل لاہور کی ممبر تھی۔ ”تعلق“ مسلم لیگ (ق) سے۔ بعد میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر ایم این اے منتخب ہوئی۔

بشریٰ حزیں نے بھی ایک غزل سُنائی اور ہماری داد کی مستحق ٹھہری۔ اس کے بعد سمیرا شہزاد سے گانے کی فرمائش ہوئی جو اُس نے ہنسی خوشی قبول کر لی۔

ساری اجنبیت گانے سے پہلے تک تھی۔

اُس کی خوبصورت آواز نے سماں باندھ دیا۔ اب اُس کو نظر انداز کرنا مشکل تھا اُس کی آواز میں کُچھ الگ سے تھا۔ وہ محبت کے جذبے کو مہمیز دینے والی آواز تھی۔

یہ جو دِل ہے کُچھ بھی کر جائے گا۔

جیسا مقبولِ عام گانا گانے والی سمیرا شہزاد کی خوبصورت آواز نے ہماری شام، شام بنا دی۔

ڈنر کے بعد پروگرام یہ طے ہوا کہ اب ڈیرے منزل پر ہی چل کر ڈالیں جائیں گے۔

منزل تھی ڈھوڈیکے ضلع موگا۔

لالہ لاجپت رائے کی جنم بھومی۔

وہاں ساﺅتھ ایشین فریٹرنٹی نے کیمپ لگا رکھا تھا جس میں نہ صرف سارک ممالک بلکہ ہندوستان کے ہر صوبے سے بھی وفود شرکت کر رہے تھے۔

میں امرتسر کے لےے اجنبی ضرور تھا مگر امرتسر میرے لےے اجنبی نہ تھا۔ میں نے امرتسر کا بہت ذکر سُنا تھا۔ لاہور کے شاعر ادیب جن کی جنم بھومی امرتسر تھا چائے کی ہر سپ کے ساتھ اس کا ذکر کرتے تھے۔

ممتاز مفتی، اے حمید، علی سُفیان آفاقی اور عطاءالحق قاسمی نے اپنی تحریروں میں امرتسر کا نقشہ اس طرح کھینچا تھا کہ یہ میرے لےے ایک طلسماتی شہر بن گیا تھا۔ میرا اس شہر میں آوارہ گردی کرنے کو جی چاہتا تھا۔ اس کی گلیوں، سڑکوں اور بازاروں میں بھٹک جانے کی تمنا تھی۔

بھٹک جانا، گم ہو جانا کتنا دلفریب ہوتا ہے۔

ایسے کسی شہر کی گلیوں، بازاروں میں کھو جانا۔

کسی سے راستہ پوچھے بغیر چلتے رہنا۔

جس طرح کوئی چھوٹا سا بچہ ماں سے نظریں بچا کر گھر کی دہلیز پار کر کے گلی میں آجاتا ہے۔ وہ ننھے ننھے قدم اُٹھاتے ہوئے آگے بھی بڑھتا ہے اور مُڑ مُڑ کر پیچھے بھی دیکھتا ہے۔

اُس بچے کی طرح ڈر اور تجسّس کے حِصّار میں آگے بڑھتے جانا مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔

اجنبی شہر کے اجنبی راستوں پر یونہی چل پڑنا میری پُرانی عادت ہے۔

کسی کی نا آشنا خوبصورت آنکھیں ہوں یا کِسی شہر کی اجنبی گلیاں، مجھے گم ہونے اور کھو جانے کا چسکا ہے۔ اچانک حُکم ہوا بس میں سوار ہو جائیں۔

اور ہم بس میں سوار ہو گئے۔

بس فوراً چل پڑی۔

امرتسر کو ہم ”چُھو“ کر جا رہے تھے ہاتھ ملانے اور ”جپھی“ ڈالنے کا پروگرام واپسی پر تھا۔

ڈرائیور کو پتہ نہیں ہم سے کیا خطرہ تھا اُس نے ایک بار پھر رفیع کا گانا…. پردیسیوں سے نہ اکھیاں ملانا…. لگا دیا۔

جب بس شہر سے باہر نکل گئی تو میں نے آخری بار گم ہوتی روشنیوں کو محبت بھری نظروں سے دیکھا اور یہ کہہ کر آنکھیں بند کر لیں:

”پھر ملتے ہیں دوست“۔

—–٭٭٭—–

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفرنامہ بھارت حسن عباسی

  سفرنامہ بھارت حسن عباسی سکندر لودھی نے جب سولہویں صدی کی ابتدا میں دریائے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے