سر ورق / افسانہ /  ” ہوس کے بیوپاری :طلحہ کھرل 

 ” ہوس کے بیوپاری :طلحہ کھرل 

         ” ہوس کے بیوپاری”

:طلحہ کھرل

بھلے ہی وہ جھگی کے ایک اَن پڑھ, بے بس, لاچار اور غریب بوڑھے ماں باپ کی بیٹی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ قدرت کے انمول رتن اس پر مکمل طور پر واضح ہونے لگے تھے _____

جمیلہ ایک قد آور ——نہایت حسین و جمیل کسی برگ و گل کی نرم و نازک ڈالی کی مانند پھلتی پھولتی اور ایک دوشیزہ لڑکی تھی ————-عمر قریباً بایئس برس,چہرے کی رنگت ایسے کے معصوم کلیاں تھرتھراتی ہوں —————–گہری بھنووں کے ساے میں دبے بھورے نین اس قدر نشیلے کے جس سے ہزاروں افسانے وابسطہ ہوں ——————گال اس قدر گلابی اور کومل کے گلاب کی معصوم پتیاں بھی پھیکی پڑ جاتیں ————-لچکدار بل کھاتی کمر کے جیسے ناگن مچل رہی ہو ———غرض ہر لحاظ سے وہ بے پناہ شباب کی حامل ایک الہڑ اور مدہوش جسامت والی لڑکی تھی ———

جمیلہ کو دیکھ دیکھ کر باقی جھگیوں میں مقیم مرد حضرات لمبی لمبی سانسیں بھرتے رہتے جیسے کے ان کی جان لبوں پہ آ ٹہری ہو——–اگرچہ اور بھی بہت سی جھگیاں تھیں جن میں ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی پائ جاتی تھی لیکن جمیلہ ان میں قدرت کے تخلیق کیے انمول مجسمے کی مانند ابھر ابھر کر سامنے آنے لگی تھی————–

جمیلہ کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اب اس کے بوڑھے ماں باپ کو اس کے بیاہ کا خیال ستانے لگا ———

باقی جھگیوں سے بہت سے رشتے آے لیکن شامو کاکا نے اس کی شادی اپنے مرحوم لنگوٹیا یار رحیم کمیار کے بیٹے بابر کمیار سے کر ڈالی——-

قدرت نے اس کے اندر ایک ہی خامی رکھی تھی بس پڑھنا لکھنا نہیں جانتی تھی—–باقی ہر کام جیسا کے بھانڈے مانجنا—–جھاڑو پوچا کرنا ——-سب ڈھنگ سے کر لیتی ——–!!!!

بے چاری کی قسمت ہی پھوٹی کوڑی کی سی تھی……. اگر بیاہی بھی گئ تو ایک بابر نامی آدمی کے ساتھ جو کے خود جھگی میں مقیم تھا——-باپ مرحوم تھا اور ماں دربدر کی ٹھوکریں کھاتی دوسرے شہروں میں بھیگ مانگتی اور اپنا گزارہ لر لیتی—————–جمیلہ کی ڈولی ضرور اٹھی لیکن ایک جھگی سے سفر طے کرتی کسی رانجھا پور گاوں کی ایک جھگی تک جا ٹہری  بس ——–

یہ جھگی اس کے مایکےوالی جھگی کی نسبتن کافی زیادہ تھرڈ کلاس معلوم ہوتی تھی —–

بابر کی عمر تقریباً تینتس برس کے قریب ایک ہٹا کٹا بد نما شکل رکھنے والا سادہ مزاج کا آدمی تھا ———–جو ہمہ وقت اپنے منہ میں پان دباے رکھتا…..

چابی والا بڈاوا بھی کہہ دیا جاے تو بجا ہے…. جس طرف ایک مرتبہ چابی گھما دی جاے بس اسی طرف لگ جانا ___

کام دھندا تو کوئ کرتا نہ تھا—-جھگی میں بیھٹا سارا دن ہڈھ حرامی کرتا ——–سگرٹوں, حقوں کے جم جم کے سوٹے بھرتا ————زندگی اب اس کے نزدیک صرف عیش و عیاشی کا نام بن کر رہ گئ تھی——-

جمیلہ کے ساتھ بیاہے جانے سے مانو اس کے تو ٹھاٹ بھاٹ ہی بدل گئے ————-

ٹھاٹ بھاٹ کیوں نہ بدلتے !!!

آخر جمیلہ سیٹھ صاحب کے کوٹھی میں جا کر پرتن مانجا کرتی اور اس کے عوض روکھڑا کماتی ————-اس قدر کما لیتی کے گھر میں دو ڈھنگ کا کھانا تو ہو ہی جاتا————

ایک دن سیٹھ صاحب نے پی رکھی تھی ویسے بھی وہ جمیلہ پر بری نظروں سے ڈورے ڈالتا رہتا اس نے سمجھا کے کیوں نا آج فاعدہ اٹھا ہی لیا جاے ——-

"ارے او——جمیلہ "

سیٹھ صاحب نے مدہوشی سے لبریز ایک  صدا بلند کی——-

"جی آئ مالک "!!!جمیلہ نے اظتراری طور پر جوابَا کہا…….

سیٹھ صاحب کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا ——

"ٹھک ——-ٹھک” ——-

"مالک میں جمیلہ "———–

"ارے آ جا نا "—–

"اندر آ” ———

"آ بھی جا” ——نا —-

جمیلہ بل کھاتی لچکدار کمر کو موڑے کسی ناگن کی مانند مچلتی ہوی سیٹھ صاحب کے قریب جا بیٹھی

"جی مالک "؟؟؟؟؟

سیٹھ صاحب اسے  وحشیانہ نظروں سے گھورنے لگا———–

” تو نے بیاہ کر لیا اپنا "؟؟؟

سیٹھ صاحب نے جمیلہ کے کاندھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوے کہا ———

"جی مالک "!!!

"میں بدلا پور کی رہنے والی ہوں اور یہاں رانجھا پور میں بابر کمیار کے ساتھ بیاہی گئ ہوں——دو برس ہو گئے ہیں بیاہی ہوئ کو ————

"کون بابر کمیار؟؟؟؟؟

       کہیں تو اس جھگی والے رحیم کمیار کے بیٹے کی بات تو نہیں کر رہی "؟؟؟

"جی مالک وہی "؟؟؟؟

"کوئ اولاد وغیرہ نہ ہوئ تجھے”________

"جی میں کچھ سمجھی نہیں مالک "

جمیلہ نے بات کو گول مول کرتے ہوے جواب دیا

"ارے کملی عورت —-تیری شادی کو دو برس بیت گئے تو کوئ اولاد ہے کے نا ہۓ "————

سیٹھ صاحب نے اس کے ماتھے پر بکھری زلفوں کو ہٹاتے ہوے کہا

جمیلہ ناگواری محسوس کرنے لگی اور اور سیٹھ صاحب سے ذرا ہٹ کے پرےبیٹھ گئ ______

سیٹھ صاحب نے فلحال وقت کی نزاکت کو سمجھتےہوے اسے جانے کی اجازت تو دے دی لیکن اس کی گندی ہوس شدت اختیار کرنےلگی ——————

جمیلہ چلی گئ ———جمیلہ کے جانے کے بعد سیٹھ صاحب کے من ہی من میں لڈو پھوٹنے لگے ——–!!!

اس نے سوچا کیوں نا کے ایسی بین بجای جاے کے سانپ تماشہ دیکھتا رہ جاے اور ناگن کو وش میں کر لیا جاے _________

سیٹھ صاحب نے سوچا کیوں نہ بابر کمیار کو بھاری رقم دے کر اپنے سارے چاہ آج کی رات پورے کر لیے جائیں _______

"سخت سردیوں کا موسم تھا _____رات کا پچھلا پہر____ ہر طرف سناٹا ہی سناٹا چھایا ہوا تھا البتہ گلی محلوں میں بھونکنے والے کتوں کی آوازیں اور گشت کرتے کچھ قدموں کی چاپ محوس کی جا سکتی تھی _______فضا بھی خاموشی کا لبادہ اوڑے مست جھوم رہی تھی ________چاند اپنی مدھم مدھم سی کرنیں زمین پر بکھیر رہا تھا _______________غرض ایک دیوانہ وار شام منڈلا رہی تھی !!!!!

دونوں میاں بیوی جھگی کے ایک کونے میں اگ کے آلاو کے قریب بیٹھے آگ سیک رہے تھے ——-

اس سے پہلے کہ جمیلہ صبح ہونے والے تمام واقع سے اپنے میاں کو خبردار کرتی کے جھگی کے بہت ہی پھٹیچر سے جالی دار گرِ ل والے دروازے پر بڑے زور و شور سے دستک ہوی ________

دروازے کی پشت پر صرف دو تین اینٹیں رکھی گئ تھیں جس سے دروازہ بند رہتا ______اینٹوں کو دروازے کے سہارے کے طور پر استعمال کیا گیا تھا _______

"ارے کون ہے "؟؟؟؟؟

بابر نے دروازے کی طرف ایک سرسری نظر ڈالتے ہوے کہا

"جی میں  سیٹھ صاحب کی حویلی سے آیا ہوں "

ایک لڑکے کی منحوس آواز میں جواب آیا _____

"سیٹھ صاحب نے باجی جمیلہ اور بابر کمیار کو یاد کیا ہے فوری طور پر چلنے کو کہا ہے "

یہ کہہ کر لڑکا ہوا میں گھوڑے بھرتا چلا گیا _______

سیٹھ صاحب نے مجھے یاد کیا ہے _____-آخر ضرور کوی نہ کوی وجہ ہو گی ——————بابر منہ ناک سوارنتے ہوے سوچنے لگا ————————

بابر  سوالیہ نظروں سے جمیلہ کی طرف دیھکنے لگا ————-بہت ہی جلد دونوں سیٹھ صاحب کی کوٹھی میں جا پہنچے ———-

جمیلہ کا برگ کی کسی نرم و نازک ڈآلی کی مانند چہرہ سوچ کے گہرے پیراے میں ڈوبا زرد پڑنے لگا———-

"ہاہاہاہا ——–ہاہاہا——–"

"آیئے —–آیئے ————"

سیٹھ صاحب نے ایک بلند قہقہ بھرتے ہوے کہا ——-

"ارے سیٹھ جی آپ یاد کریں اور ہم نہ آیں یہ تو ہو ہی نہیں سکتا "—————

بابر نے بلا سوچے سمجھے جھٹ سے جوابا کہا ……………

"اچھا "!!!

"اپنی لبھای کو اندر بیجھ دے مجھے تم سے علیحدگی میں بات کرنی ہے”———–

سیٹھ صاحب نے اپنی پیٹھ پھیرتے ہوے کہا ——

بابر نے جمیلہ کو اندر جانے کے لیے کہا تو وہ زہن میں ہزاروں سوالات کو جنم دیتے اندر کمرے کی طرف چل دی —————

جانے باہر  کیا کیا معاہدہ طے پایا گیا —–وہ بلکل بے خبر تھی —-

وہ کمرے کے ایک کونے میں لگی سہمی ہوئ بیٹھی کافی نئے سوالات کو جنم دے رہی تھی کے اچانک سیٹھ صاحب کمرے میں داخل ہوا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا گیا ——————————————جمیلہ اب اس حوس کے بیوپاری کے غلیظ شکنجے میں پوری طرح سے دھنس چکی تھی —————–

آخر کار کمرے سے آہ بھری صدایں بلند ہونے لگیں——–

"آہ”——-

"آہ”———

"چھوڑیے مالک” —–

"آہ”———

"بابو "——–"بابو”——-مجھے بچاو ——–بابو ———–

آوزیں بلند ہوتی رہیں لیکن کمرے کا دروازہ اب نہ کھلا ————–

(جمیلہ جس بابر کو پیار سے بابو کہا کرتی تھی——وہ باہر کمرے  کی دہلیز پے پڑا اپنے ہوس کی آگ میں لپٹا  پیسے گننے میں مصروف ہو گیا)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سیلانی پاکستانی…شکیل احمد چو ہان

سیلانی پاکستانی شکیل احمد چو ہان ”ارے وہ دیکھو ”سیلانی پاکستانی“ آج پھر آگیا۔“ پا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے