سر ورق / افسانہ / میرے ساقیا…شہباز اکبر الفت

میرے ساقیا…شہباز اکبر الفت

میرے ساقیا

شہباز اکبر الفت

میرے دشمن ہیں زمانے کے غم
بعد پینے کے یہ ہوں گے کم
آج پیمانے ہٹا دو یارو
سارا میخانہ پلا دو یارو
آگ سے آگ بجھے گی دل کی
آج یہ آگ بھی پی لینے دو
ابھی زندہ ہوں تو جی لینے دو
جی لینے دو
بھری برسات میں پی لینے دو
ساقی کے انتظار میں، وقت گزاری کے لیے گنگناتے ہوئے اس نے فریج سے سوڈے کی بوتل نکالی، برف کے ٹکڑوں کو پلیٹ میں ڈالا اور نمکو کا پیکٹ اٹھا کر واپس اپنی رائٹنگ ٹیبل پر آگیا، ٹیبل لیمپ کے نیچے اس کے ایک ادھورے افسانے کا پہلا صفحہ ، پیڈسٹل فین کی دھیمی دھیمی سی ہوا میں کچھ اس طرح سے پھڑپھڑا رہا تھا، جیسے مرغی ذبح ہونے کے بعد پھڑپھڑاتی ہے، اس نے پیپر ویٹ اٹھا کر کاغذوں پر رکھنا چاہا تو نظرجگہ جگہ آنسوؤں سے مٹے، دھندلے دھندلے لفظوں پرجاکر رک گئی
’’ محبت ۔۔۔ صرف دل کی تسلی کا نام ہے، یہ محض ایک مغالطے اور خوش فہمی کے سوا کچھ بھی نہیں‘‘ اس نے اٹک اٹک کر پڑھا
’’ ہونہہ ۔۔۔۔ ‘‘ اس نے سر جھٹک کر کچھ اس انداز سے پیپر ویٹ پھینکا، جیسے کسی کا سر پھوڑنے کی کوشش کی
’’ یارساقی، ابھی کتنی دیر ہے؟‘‘ اس نے جھنجھلا کر پیٹر کو کال ملائی
***
پیٹر اسی دیوان مینشن کا خاکروب تھا جس کے تیسرے فلور پر پچھلے کئی سالوں سے شمسی کی رہائش تھی اورجس کے فلیٹ پر اس کے کسی دوست کو دم مارنے کی بھی جرات نہ تھی، اگر کوئی آتا بھی تو کچھ کھا پی کر فوراً رفوچکر ہوجاتا کیونکہ اسے لکھنے کے لیے جس یکسوئی اور ارتکاز کی ضرورت ہوتی تھی، اس کے لیے اس تاریک سے کمرہ سے اچھی کوئی جگہ نہیں تھی اور جہاں وہ اور اس کی تنہائی مل کر باتیں کیا کرتے تھے، پیٹر کو ساقی کہہ کر مخاطب کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ شراب کا لائسنس ہولڈر ہونے کے باوجود بھی عادی مے نوش نہیں تھا اور جزوقتی کاروبار کے طور پر فائیوسٹار ہوٹل سے بوتلیں لاکر دیوان مینشن کے خاص خاص مکینوں کو بیچ دیا کرتا تھا، اس کے مستقل گاہکوں میں ایک تو نذیر صاحب تھے جو میونسپلٹی میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے تھے اور بیوی کی وفات اور بچوں کی شادیوں کے بعد ان کے الگ الگ ہوجانے کے غم کو غلط کرنے اور رت جگوں کی ازیت سے بچنے کے لیے سرشام ہی بوتل کا منہ کھول کر بیٹھ جاتے تھے، فہیم چٹھہ جو محکمہ آبپاشی میں سب انجینئر تھا اور اوپر کی کمائی سے روپے پیسے کی ریل پیل نے اسے شراب اور شباب کا اس قدر عادی بنا دیا تھا کہ اسے ہمسائیوں کے حقوق کی بھی پرواہ نہیں رہی تھی، دولت کی چمک نے اسے اندھا کر دیا تھا اور اکثر شراب پی کر وہ غل غپارہ کرتے نظر آتا، اسے حرام کی کمائی سے بنائے گئے تعلقات پر اتنا مان تھا کہ وہ اپنے اعلیٰ افسران کو بھی خاطر میں نہ لاتا اور اشراب کے نشہ میں دھت، منہ سے بدبو کے بھبھکے اڑانا اور اپنے سینئرز کے نام پر مغلظات بکتے رہنا اس کی عادت ثانیہ بن چکی تھی، شمسی کے احباب کو بھی پیٹر کے کاروبار کا پتہ تھا اور کسی کو ضرورت ہوتی تو شمسی سے کہہ کر منگوا لیتا لیکن آج پہلی بار شمسی نے اپنے لیے بوتل کا آرڈر کیا تھا
’’ یارساقی ، ایک بوتل چاہیے، ابھی اور اسی وقت‘‘
’’ کس کے لیے ‘‘ اس نے سر اٹھائے بغیرلاپرواہی سے پوچھا، اسے شمسی کے سارے دوستوں کا پتہ تھا اور سب کے الگ الگ فلیورز کا بھی
’’ اپنے لیے‘‘ اس نے آہستگی سے سرگوشی کے سے انداز میں کہا اور فوراً ہی اپنا منہ دوسری طرف کرلیا تاکہ اس کی آنکھوں میں تیرتی ہوئی نمی کا راز فاش نہ ہو جائے
’’ خیر تو ہے صاحب جی‘‘ اس نے چونکتے ہوئے سراٹھا یا اور گھوم کر اس کے سامنے آگیا
’’ سکون چاہیے یار، کچھ مستی، کچھ سرور، کوئی آگ سی سینے میں دہک رہی ہے، اسے اسی سیال آتش سے سرد کرنا ہے‘‘ اندر کی تڑپ نے لفظوں کا روپ دھارنے میں ایک لمھہ کی بھی تاخیر نہ کی، اس کے اندر کا افسانہ نگار بھی انگڑائی لے کر بیدار ہو گیا
’’ آپ کی آنکھوں میں آنسو ہیں صاحب ‘‘ پیٹر نے توجہ دلائی تو اس نے فوراً آستین سے اپنے آنسو پونچھ لیے، پلکوں کی اوٹ میں چھپا راز ، زمانہ ساز پیٹر سے چھپا نہ رہ سکا تھا، وہ بچپن سے ہی دیوان مینشن میں کام کر رہا تھا اور ایک ایک مکین کے مزاج سے اچھی طرح آشنا تھا
’’ چھوڑو یار، بوتل لاکر دو جلدی جلدی ‘‘ اس نے اپنی خفت مٹانے کے لیے چہرے پر مسکرہٹ سجانے کی ناکام سی کوشش کی ’’ آج میں بھی تو دیکھوں کہ یہ شراب خانہ خراب کس طرح اپنے پینے والوں کو ہوش وحواس سے بے گانہ کر دیتی ہے
’’ ہونہہ‘‘ پیٹر نے ہنکارا بھرا‘‘ کون سی بوتل لاؤں، چھوٹی یا بڑی‘‘
’’ کیا فرق پڑتا ہے، جو بھی ملے لے آؤ‘‘ اس نے بے فکری سے کندھے اچکائے
’’ کوئی خاص فلیور؟ ‘‘ پیٹر نے تصدیقی نظروں سے اس کی طرف دیکھا’’ واڈکا، رم، جن، بلیک لیبل، شیمپین‘‘
’’ اب مجھے کیا پتہ ساقیا کہ کس کے اندر کتنا زہر ہے، بس جو سب سے تیز ہو، جو پہلے گھونٹ میں ہی ہر غم سے بے گانہ کر دے، وہی لے آؤ‘‘
’’میں واڈکا کے دو تین الگ الگ فلیورزلے آتا ہوں، انہیں مکس کرکے کاک ٹیل بنا لیں، سستی بھی پڑے گی اور تیز بھی ‘‘ وہ پیٹر کی مستعدی اور تجربے کاری پر خالی خالی نظروں سے اسے دیکھتا رہا
***
شمسی محض ایک افسانہ نگار ہی نہیں بلکہ لفظوں کا جادوگر بھی تھا، وہ لفظ لکھتا تھا اور لوگ اسے احساس سمجھتے تھے ، محبت کے موضوع پر اس کے افسانوں کی جذبات نگاری سے پتھروں کے دل بھی پگھل جاتے تھے، محبت کے فلسفے بیان کرتے، الجھی ہوئی گتھیاں سلجھاتے ہوئے بھی وہ ہمیشہ پرسکون رہتا ، اس کی تنہا اور سپاٹ زندگی میں کسی ایسے جذبہ کی کوئی جگہ نہیں تھی جواس کے لگے بندھے معمولات کی راہ میں رکاوٹ بنتا،اسے محبت میں ہجر و وصال کی باتیں لکھتے ہوئے خود پر ہنسی آجاتی تھی، اس کے پڑھنے والوں نے تو شاید کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ صرف اپنے مشاہدہ کی طاقت اور مطالعہ کی عادت کو بروئے کار لاتے ہوئے انہی کی کہانیاں انہیں کو لاٹا کر پیسے اینٹھ رہا ہے، اس نے تو خود بھی کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک دن خود اسے بھی محبت ہو جائے گی اور محبت بھی وہ جو سچے عاشقوں کو خون کے آنسو رلا دیتی ہے
***
تتلی کی طرح خوش رنگ اور کوئل کے جیسی خوش گلو شاہانہ کا ہر انداز بھی شاہانہ تھا، وہ بھی رائٹر تھی لیکن لکھتی کم اور بولتی زیادہ، اسے باتیں بنانے میں ملکہ حاصل تھا، دنیا کے ہر موضوع پر بے تکان بولتی اور ہر ملاقات میں اسے پہلے سے زیادہ حیران کر جاتی، ایک ادبی نشست میں پہلی ملاقات کے دران ہی اس نے شمسی کے ایک افسانہ کے بخیے ادھیڑ کر اپنی دھاک بٹھا دی تھی، دوسری ملاقات ایک ایوراڈ تقریب میں ہوئی اور پھر ملاقاتوں کے بڑھتے ہوئے سلسلہ نے محبت جتنی وسعت اختیار کرلی ، محبت اور وہ بھی یکطرفہ محبت کا مزا شمسی جیسے حساس بندے نے پہلی بار چکھا تھا، شاہانہ نے پہلے پہل تو اس کی آنکھوں میں چمکتے ہوئے امید کے جگنوؤں کو دیکھ کر ، نظرانداز کرتے ہوئے آگے بڑھ جانا چاہا لیکن اس کی بڑھتی ہوئی بے چینی، طلب اور تڑپ سے اکتا کر ایک دن اسے کھری کھری سنا ہی دیں
’’ مسڑ شمسی ،میں آپ کے اس مبہم رویہ سے تنگ آ گئی ہوں ،آپ کھل کر بتائیے کہ آخر آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’ میں تم سے محبت کرتا ہوں‘‘ دل کی بات ہونٹوں پر آتے ہی وہ سہم گیا، شہانہ نے اسے پہلی بار اتنی سخت نظروں سے گھورا تھا
’’ ہمم اور اس کے بعد؟‘‘ شاہانہ سردمہری سے پوچھا
’’ کک ۔۔ کچھ بھی نہیں ‘‘ اس نے ہکلاتے ہوئے جواب دینے کی کوشش کی لیکن زندگی کی تلخ ترین حقیقت کا سامنا کرتے ہی اس کے سدھائے ہوئے سارے لفظ ، قفس میں قید کسی پنچھی کی طرح آزادی ملتے ہی ہوا میں اڑ گئے
’’ کیوں ، کچھ نہیں،کچھ تو ہے، آخر تم نے اتنی شدت سے محبت کی ہے ، کھل کر بتاؤ کہ شادی کرنی ہے یا ؟ ‘‘ اس نے جان بوجھ کر معنی خیز انداز میں بات ادھوری چھوڑ دی
’’ مطلب؟ ‘‘ وہ اس کے لہجے کی بے باکی سے ٹپٹا گیا
’’ مطلب صاف ظاہر ہے مسٹر شمسی کہ اپنی محبت کے عوض تم کیا چاہتے ہو، شادی کرنا چاہتے ہو یا اوروں کی طرح تمہارا مقصد بھی محض ناجائز مراسم استوار کرنے کی خواہش کا اظہار ہے ؟ ‘‘ شاہانہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دوٹوک لہجے میں کہا
’’ محبت میں طلب کی خواہش بھی توغیرفطری نہیں لیکن ’’ وہ لمحہ بھر کو رکا ’’ لیکن میں شادی ہی کرنا چاہتا ہوں‘‘ اس نے جی کڑا کر کہہ دیا لیکن جوابی ردعمل شاہانہ کے بے ساختہ قہقہے کی صورت میں ملا
’’ میں تمہاری بہت عزت کرتی ہو مسٹر شمسی، تم بہت اچھے لکھاری ہو، بہت اچھے انسان ہو، میں کچھ الٹا سیدھا بول کر تمہارا دل نہیں توڑنا چاہتی لیکن معذرت کہ میں تمہارے بارے میں ایسا کچھ نہیں سوچتی اور نہ ہی سوچ سکتی ہوں ، تمہاری شخصیت، تمہارا طرز زندگی، تمہارا رہن سہن، کچھ بھی میرے معیار سے میل نہیں کھاتا ، میں عورت ہوں،عورت مرد کی آنکھ سے اس کے دل کا احوال جان لیتی ہے، تمہاری آنکھوں میں محبت کے پیغام کو میں نے بھی بہت پہلے ہی پڑھ لیا تھا، کئی بار تمہارے بارے سنجیدگی سے سوچا بھی لیکن سچی بتاؤں، تمہارے قرب کے تصور سے ہی مجھے الجھن ہونے لگتی ہے‘‘
شاہانہ اپنی بات ختم کرکے کب کی جا چکی تھی، وہ کتنی ہی دیر میز پر پڑے چائے کے دونوں کپوں کو خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا جن میں پڑی چائے بھی اس کے جذبات کی طرح ٹھنڈی ہو چکی تھی
***
پیٹر کو شراب لانے کا کہہ کر ا س نے بازار کا رخ کیا تھا، کچن کا کچھ سامان لانا تھا، سپر اسٹور سے خریداری کرتے ہوئے اس نے سوڈے کی بوتل اور نمکو کے دو تین پیکٹ بھی اٹھا لیے، آج تک شراب کو ہاتھ نہ لگانے کے باوجود اسے مے نوشی کے سارے لوازمات کا پتہ تھا
’’ یار، تم نے اتنی دیر کر دی ساقیا‘‘ پیٹر نے جونہی اندر جھانکا ، وہ اس پر برس پڑا
’’ ہوٹل سے لایا ہوں صاحب، گھر میں جو اسٹاک پڑا ہوا تھا، وہ کل چٹھہ صاحب نے خرید لیا‘‘ اس نے جلدی سے وضاحت کی اور اخبار میں لپٹے ہوئے واڈکا کے تین کوارٹر ٹیبل پر رکھ دیئے، شمسی نے بٹوا نکال کر کچھ کرنسی نوٹ نکالے
’’ کتنے پیسے؟‘‘
’’ ویسے تو بارہ سو بنتے ہیں لیکن آپ صرف سات سو دے دیں، یہ اصل قیمت ہے ان کی، آپ سے منافع نہیں لوں گا‘‘
’’ کیوں بھئی، میرے ساتھ اتنی رعایت کیوں، گاہک پکا کرنے کے موڈ میں ہو؟‘‘ وہ ہنس پڑا اور مطلوبہ رقم اس کی طرف بڑھا دی
’’ نہیں صاحب، ایسی کوئی بات نہیں، سچ پوچھیں تو آپ کو شراب دیتے ہوئے مجھے اچھا نہیں لگ رہا‘‘ اس نے پیسے پکڑے بغیر سرجھکائے ہوئے جواب دیا
’’ ارے وہ کیوں بھئی، تمہارا تو یہ کام ہے‘‘ شمسی کے لہجے میں حیرت عود آئی
’’ کام تو ہے لیکن میں خود بھی تو نہیں پیتا‘‘
’’ کیوں نہیں پیتے، کیا تمہیں کوئی دکھ نہیں ہے ؟‘‘
’’ دکھ ‘‘ اس نے تڑپ کر شمسی کی طرف دیکھا’’ دکھ کسے نہیں ہے صاحب، دکھ اور زندگی کا تو چولی دامن کا ساتھ ہے صاحب‘‘
’’ اچھا! کیا دکھ ہے تمہیں‘‘
’’ محبت، محبت کے دکھ سے بڑھ کر دکھ بھلا اور کیا ہو سکتا ہے ‘‘ اس نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا ’’ ریٹا میری کزن ہے، میری بچپن کی محبت، ماموں کی بیٹی ہے، بہت گوری چٹی، لمبا قد، ہسپتال میں نرس ہے‘‘
’’ ہونہہ۔ پھر؟‘‘
’’ پھر کیا صاحب، گھر میں شادی کی بات چلی تو اس نے مجھ سے اکیلے میں ملنے کو کہا، ملنے گیا تو اس نے صاف کہہ دیا کہ وہ میرے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی کیونکہ وہ نرس ہے اور میں خاکروب، وہ بہت خوب صورت ہے اور میں محض واجبی شکل کا، اس کا رنگ بھی بہت گورا ہے اور میرا کالا کلوٹا‘‘ پیٹرکے لہجے کی نمی نے شمسی کے دل کو اپنی مٹھی میں لے لیا تھا ’’ وہ کہتی ہے کہ تمہارے قریب آنے کے تصور سے ہی مجھے الجھن ہونے لگتی ہے‘‘ اب وہ باقاعدہ سسکیاں بھر کر رونے لگا تھا، شمسی کو اپنا دکھ بھول گیا
’’ اوہ یار ساقی، کیا ہو گیا ہے تمہیں، اکثر لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، آئیڈیل ازم کی ماری ‘‘ اس نے شانے پر ہاتھ رکھ کر پیٹر کو دلاسہ دیا ’’آؤ، اپنی زندگی کا پہلا پہلا جام دونوں مل کر پیتے ہیں، تمہارا جام تمہاری ریٹا کے نام اور میرا جام میری شاہانہ کے نام ‘‘
’’ نہیں صاحب، میں اپنی محبت کا غم بھلانے کے لیے شراب نہیں پی سکتا، شراب تو مجھے ہوش و حواس سے بے گانہ کر دے گی، مجھے میری محبت کے احساس سے کہیں دور لے جائے گی، میں شراب پی کر اس لطف اور سرور سے محروم نہیں ہوسکتا جو کسی کو کھو دینے کی ازیت کو محسوس کرنے میں ہے، جو دل سے اٹھتی ہوئی ٹیسوں کو دبانے اور آنسوؤں کو زمین پر گرنے سے پہلے اندر ہی اندر پی جانے میں ہے، جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر تارے گننے اور کسی ہمدرد کے گلے لگ کر رونے میں ہے‘‘
پیٹر نے آنسو پونچھتے ہوئے شراب کی بوتل اٹھائی اور اس کے لیے جام بنانے کی غرض سے ڈھکن کھولنے لگا
’’ رہنے دو یار‘‘ شمسی نے کچھ سوچ کر ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا اور پیسے زبردستی اس کی جیب میں اڑس دیئے ’’ یہ بوتلیں بھی چٹھہ صاحب کو بیچ دینا، میں بھی زرا اپنے محبوب کے دیئے ہوئے درد کا ایک جام اپنے اندر انڈیل لوں‘‘ یہ کہہ کر اس نے پیٹر کو گلے لگا لیا اور پھر دونوں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گرد، گرمی، دهوپ ناصر خان ناصر۔

گرد، گرمی، دهوپ ناصر خان ناصر۔ امریکہ دهول، مٹی اڑاتی خاک آلود گاڑیاں صحرا کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے