سر ورق / افسانہ / "ٹرررن جی صاب” … ابصار فاطمہ

"ٹرررن جی صاب” … ابصار فاطمہ

"ٹرررن جی صاب”

تحریر ابصار فاطمہ
آپ کو پتا ہے میں کون ہوں؟ میں گھنٹی پہ ناچنے والا روبوٹ ہوں۔ حیران ہوگئے کیا کہ آپ کو پتا بھی نہیں چلا اور سائنس دانوں نے گھنٹی پہ ناچنے والا روبوٹ بھی ایجاد کرلیا۔ تو چلیں ایک اور بات پہ حیران کروں؟ مجھے ایجاد ہوئے تو صدیاں گزر گئی ہیں۔ جب جاگیرداری نظام ختم ہوا اور سرمایہ داری نظام آیا تو مجھے ایجاد کیا گیا تھا۔ یا شاید پچھلے روبوٹ میں کچھ تکنیکی بہتریاں لا کر مجھے تخلیق کیا گیا ہو۔ یہ مجھے نہیں معلوم کیوں کہ میں روبوٹ ہوں میرا کام صرف گھنٹی کی دُھن پہ دَھنا دَھن ناچنا ہے۔ مجھے عموما دفاتر کے دروازے پہ نصب کیا جاتا ہے اورجب جب ایک ہاتھ میز پہ پڑی گھنٹی بجائے تو مجھے ناچنا ہوتا ہے۔ جی صاحب کا ٹھمکا لگا کے۔ دھوپ ہو بارش ہو یا سردی میں دروازے پہ نصب رہتا ہوں۔ کیوں کہ میں روبوٹ ہوں۔ میرے گھر پہ کچھ چھوٹے چھوٹے روبوٹ اور بھی ہیں انہیں بھی میں گھنٹی کی دھن پہ ناچنا سکھا رہا ہوں۔ اچھا سنیں مغالطہ مت کیجیے گا میں مداری نہیں ہوں، بندر بھی نہیں ہوں۔ پتا ہے کیوں؟ کیوں کہ مداری تو انسان ہوتا ہے مگر بندر بھی جاندار ہوتے ہے ان کے احساسات ہوتے ہیں۔ دیکھا نہیں ان کے ٹولے میں کوئی بندر مر جائے تو کیسا واویلا مچاتے ہیں۔ مجھ میں واویلا مچانے کا نظام نہیں رکھا گیا۔ میرے گھر پہ کسی روبوٹ میں کوئی تکنیکی خرابی ہوجائے یا وہ کام کرنا چھوڑ دے تو مجھے اپنا گھنٹی ناچ ختم کر کے ہی گھر جانے کا موقع ملتا ہے۔ مجھے خرچہ بھی صرف فیول کا ملتا ہے۔ باقی کسی چیز کی مجھے ضرورت نہیں۔ وہ سب ضرورتیں گھنٹی بجانے والے ہاتھ سے جڑے جسم کو ہوتی ہیں۔ کیوں کہ صرف وہی انسان ہے میں تو گھنٹی پہ ناچنے والا روبوٹ ہوں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

میرے ساقیا…شہباز اکبر الفت

میرے ساقیا شہباز اکبر الفت میرے دشمن ہیں زمانے کے غم بعد پینے کے یہ …

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے