سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 0 4 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 0 4 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 0 4
سید انور فراز

بارہا ہم اس حقیقت کا اظہار کرچکے ہیں کہ ایک تخلیق کار بہت ہی نازک مزاج اور حساس طبیعت کا مالک ہوتا ہے، اس کی حساسیت کو ٹھیس پہنچاکر اس سے کام نہیں لیا جاسکتا، یقیناً بہت سے معاملات میں وہ غلط ہوسکتا ہے لیکن اس کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے، ہمارا مشاہدہ کہ دنیا بھر کے انٹی لیکچوئلز کسی نہ کسی حد تک ایبنارمل ہوتے ہیں، وہ اپنی زندگی اپنے ہی رنگ ڈھنگ میں، اپنی مرضی کے مطابق گزارنا چاہتے ہیں، عام لوگ ان کی فطرت اور کردار کی ان پیچیدگیوں سے واقف نہیں ہوتے، چناں چہ انھیں پاگل، خبطی ، بدمزاج، اناگزیدہ وغیرہ سمجھتے ہیں، اردو شعرا میں میر تقی میر اس کی نمایاں مثال تھے، خود ان کا ایک شعر دیکھیے ؂
ایسی بھی بد دماغی ہر لحظہ میر کیسی
الجھاؤ ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے
اردو زبان کے تقریباً ہر غیر معمولی شاعر کی زندگی میں ہم ایسے ہی معاملات دیکھتے ہیں، مرزا غالب اپنی شدید مفلسی کے باوجود ایک ذرا سے بات پر بہترین ملازمت پر لات مار کر آگئے تھے اور فرماتے ہیں ؂
بندگی میں بھی وہ خود بین و خود آرا ہیں کہ ہم
الٹے پھر آئے ، درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
آئن اسٹائن کو پہلی بیوی برداشت نہ کرسکی اور طلاق لی، دوسری ساری زندگی سمجھوتا کرتی رہی،دنیا بھر میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ جب کسی تخلیق کار کی انانیت مجروح ہوئی تو تخلیقی کام بری طرح متاثر ہوا، اس موقع پر عظیم شاعر فردوسی کا واقعہ یاد آرہا ہے۔
فردوسی ، فاتح سومنات محمود غزنوی کے دربار سے وابستہ تھا، محمود نے اس سے ’’شاہنامہ ایران‘‘ لکھنے کی فرمائش کی تھی اور یہ طے ہوا کہ ایک شعر کے بدلے ایک اشرفی (سونے کا سکہ) انعام میں دی جائے گی، جب یہ کام مکمل ہوا اور معاوضے کی ادائی کا وقت آیا تو بعض دیگر درباری وزرا جو پہلے ہی سے فردوسی کے خلاف تھے اور سازشیں کرتے رہتے تھے، انھوں نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ فردوسی ایک غریب آدمی ہے، اتنی بڑی رقم دیکھ کر ایسا نہ ہو کہ اس کا دماغ الٹ جائے اور ذہنی توازن کھو بیٹھے لہٰذا پہلے چاندی کے سکّے بھجوادیے جائیں، محمود نے وزرا کے مشورے سے اتفاق کیا اور چاندی کے سکّے بھجوادیے، محمود کا غلام ایاز جب یہ سکّے ایک گدھے پر لاد کر فردوسی کے پاس پہنچا اور فردوسی نے انھیں دیکھا تو وہ آگ بگولا ہوگیا، اس نے محمود سے کہا ’’تمھارا بادشاہ جھوٹا اور وعدہ خلاف ہے، اس نے مجھ سے فی شعر سونے کا ایک سکہ دینے کا وعدہ کیا تھا اور اب چاندی کے سکے بھیجے ہیں‘‘
ایاز نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس کی برہمی بڑھتی چلی جارہی تھی اور اس کے منہ میں جو کچھ بھی آرہا تھا وہ بادشاہ کے خلاف برملا کہہ رہا تھا، اسی دوران میں ایک شربت والا ادھر سے گزرا تو فردوسی نے اسے آواز دی اور کہا ’’ذرا ایک گلاس شربت تو پلا، میرا گلا خشک ہوگیا ہے‘‘
شربت پینے کے بعد فردوسی نے چاندی کے سکوں سے لدا ہوا خچر شربت والے کو دیتے ہوئے کہا ’’جا، یہ لے جا اور ایاز سے مخاطب ہوا کہ اپنے بادشاہ سے کہنا کہ اس کے بھیجے ہوئے سکے تو میرا حلق بھی تر نہ کرسکے‘‘
بعد ازاں اس نے محمود کی ہجو لکھی اور دنیا بھر کی برائیاں محمود کے نامہ ء اعمال میں ڈال دیں، اپنا سامان اٹھایا اور غزنی سے نکل گیا، اس نے اس بات کی بالکل پروا نہیں کی کہ وہ ایک طاقت ور بادشاہ سے جھگڑا مول لے رہا ہے جس کے نتیجے میں اس کی جان بھی جاسکتی ہے۔
جب یہ ہجو محمود کے سامنے آئی تو وہ غضب ناک ہوا اور احکام جاری کیے کہ فردوسی کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا جائے گا، الغرض فردوسی کے فرار کا سلسلہ خاصہ طویل ہوا، محمود ایک طاقت ور حکمران تھا، فردوسی جس ریاست میں بھی پناہ لیتا، محمود کے ہرکارے وہاں پہنچ جاتے اور فردوسی کو کسی اور طرف بھاگنا پڑتا، یہاں تک کہ وہ بغداد پہنچ گیا، بغداد پر اس وقت خلافت عباسیہ کا راج تھا لیکن عباسی خلفاء اس قدر کمزور ہوچکے تھے کہ وہ بھی محمود کے مقابلے میں فردوسی کو پناہ نہیں دے سکتے تھے، محمود کا حکم نامہ عباسی خلیفہ کے نام بھی پہنچ چکا تھا کہ اسے ہمارے حوالے کیا جائے، نتیجے کے طور پر فردوسی بغداد سے بھی رخصت ہوا اور اپنے آبائی شہر پہنچ گیا۔
ہر دربار میں ایسے دانا لوگ بھی ہوتے ہیں جو موقع محل دیکھ کر بادشاہ کو نیک و بد سمجھاتے رہتے ہیں، ایسے ہی کسی شخص نے محمود کو سمجھایا کہ وہ ایک شاعر آدمی ہے اس کی بات کو دل پر نہ لیں، یقیناً اس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے، محمود کی سمجھ میں بھی یہ بات آگئی اور اس نے وعدے کے مطابق سونے کے سکے روانہ کردیے اور حکم دیا کہ فردوسی کو پورے عزت و احترام کے ساتھ واپس غزنی لایا جائے۔
جب سپاہی اشرفیاں لے کر فردوسی کے شہر میں داخل ہورہے تھے تو اسی وقت سامنے سے ایک جنازہ آرہا تھا، سپاہیوں نے پوچھا کہ فردوسی کا مکان کہاں ہے، ہمیں اس سے ملنا ہے تو انھیں جواب ملا ، یہ جو جنازہ جارہا ہے ، فردوسی کا ہے، اب وہ اس دنیا میں نہیں رہا۔
فردوسی کا نام فارسی ادب میں ایک درخشاں ستارے کے مانند آج بھی چمک رہا ہے لیکن زمانے کی ناقدری کا رونا ہم آج بھی رو رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد علیم الحق حقی سے ہماری ملاقات یا رابطہ بالکل منقطع ہوگیا تھا، اس کی وجہ ادارے سے وابستگی اور معراج صاحب سے ان کی ناراضی بھی تھی لیکن یہ ادارے کا ایسا نقصان تھا جس کی تلافی ممکن نہیں تھی، اس کااحساس کچھ عرصہ بعد معراج صاحب کو بھی ہونے لگا، ایسے ہی ایک موقع پر جب سسپنس کے آخری صفحات کی کہانی کا مسئلہ زیر بحث تھا، حقی کا نام ان کی زبان پر آیا، ہم نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور حقی کو واپس لانے کی ذمے داری قبول کی کیوں کہ ہمیں دیگر ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ وہ بہت پریشان ہیں اور گزارا مشکل سے ہورہا ہے۔
یہ شاید 2003 ء کا ذکر ہے، رمضان کا مہینہ قریب تھا، ہم نے انھیں پیغام بھیجا اور وہ بھی فوراً ہی آگئے، معراج صاحب کو ہم سمجھا چکے تھے کہ پرانی باتیں نہ دہرائی جائیں اور فی الحال پرانے قرض کا مسئلہ بھی نہ اٹھایا جائے، حقی صاحب کو بھی یہی کچھ سمجھایا کہ فی الحال آپ کام شروع کریں اور بعد میں آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہوجائے گا، اس کے بعد انھیں معراج صاحب کے کمرے میں بھیج دیا، ہم بڑے پرامید تھے اور حقی سے جاسوسی کی پہلی کہانی کے بارے میں بھی بات کرچکے تھے، انھوں نے وعدہ کرلیا تھا کہ ایک کہانی فوری طور پر تیار ہے جو وہ فوراً بھیج سکتے ہیں لیکن ہوا، اس کے برعکس۔
حقی واپس آئے تو ان کے چہرے پر تناؤ تھا لیکن حسب معمول لبوں پر مسکراہٹ تھی، ہم نے پوچھا ’’کیا ہوا؟ سب ٹھیک ہے؟‘‘
ان کا جواب عجیب تھا، وہ بولے ’’مجھے معراج صاحب کی شرائط منظور نہیں ہیں‘‘
ہم نے پوچھا ’’ایسی کون سی شرائط انھوں نے عائد کردیں جو آپ کو قبول نہیں ہیں؟‘‘
خاصی بے پروائی کے ساتھ جواب دیا ’’یہ تم ان سے ہی پوچھ لینا‘‘
ہم خاموش ہوگئے، اندازہ ہوگیا تھا کہ بات کچھ زیادہ ہی بگڑ گئی ہے، حقی رخصت ہوئے تو ہم معراج صاحب کے پاس گئے، ان کے تیور بھی بدلے ہوئے تھے اور وہ بہت دل گرفتہ بھی تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ حقی بہت زیادہ معاوضے کا مطالبہ کر رہے تھے جو ان کے لیے قابل قبول نہ تھا، اس طرح آخری کوشش بھی ناکامی کا شکار ہوئی، اس ناکامی کی وجوہات بظاہر سمجھ سے باہر تھیں کیوں کہ دو شدید ضرورت مند عام طور پر جب مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھتے ہیں تو کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر فیصلہ ہوجاتا ہے مگر ایسا نہیں ہوا، معراج صاحب کو بلاشبہ حقی کی کمی محسوس ہورہی تھی، سسپنس کے آخری صفحات کی کہانی اور جاسوسی کے ابتدائی صفحات کی کہانی ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہی ہے، دوسری طرف حقی بھی شدید مالی مشکلات کا شکار تھے، رمضان اور پھر عید سر پر تھی، ایسی صورت میں دونوں کو کسی نہ کسی نکتے پر متفق ہوجانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا تو اس کی وجہ وہ ماحول تھا جو معراج صاحب اور علیم الحق حقی کے درمیان تخلیق ہوچکا تھا یعنی دونوں ضرورت مند دلی طور پر ایک دوسرے سے خوش نہیں تھے، دل میں کدورتیں تھیں اور یہ کدورتیں اسی خط و کتابت کا نتیجہ تھیں جو کچھ عرصہ پہلے دونوں کے درمیان ایک تیسرے فریق کے ذریعے ہوئی تھی۔
فروری 2004 ء میں ہم نے ادارہ چھوڑ دیا اور اپنے ذاتی کاموں میں مصروف ہوگئے، شاید 2005 ء کے آخر میں جب ہماری ایک کتاب ’’مسیحا ‘‘شائع ہوئی تو اس کے ایجنٹ کے ذریعے حقی صاحب کی کچھ خیر خبر ملی ، انھوں نے بتایا کہ وہ خاصے بیمار ہیں، ہم انھیں دیکھنے گئے ، وہ بہت خوش ہوئے اور بتایا کہ وہ روزنامہ امت میں کہانی لکھ رہے ہیں ، اس کے علاوہ ناول وغیرہ بھی لکھ کر پبلشرز کو دے رہے ہیں جس سے معقول گزر اوقات ہورہی ہے لیکن اسی ملاقات میں انھوں نے بتایا کہ جب ادارہ جاسوسی چھوڑا تو بہت برے معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا، کہیں سے آمدن نہ تھی، آخر مجبور ہوکر ایک مذہبی ادارے کے لیے ٹرانسلیشن کا کام شروع کردیا تھا، انھیں اپنے بعض پبلشرز سے بھی شکایات تھیں، کسی پبلشر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی بات بھی کررہے تھے، ہم یہاں ان پریشانیوں اور مجبوریوں کا ذکر نہیں کرنا چاہتے جو خاصے طویل عرصے تک انھیں اٹھانا پڑیں، اس کے بعد بھی ان کے گھر ہم کبھی کبھار چکر لگالیا کرتے تھے، وہ دل کے مریض ہوچکے تھے اس کے علاوہ جگر کے مسائل بھی تھے جو ان کی خوش خوراکی کا نتیجہ تھے، اپنے انتقال سے کچھ پہلے ان کا فون آیا ، ہم سے پوچھنے لگے کہ کینسر کے لیے ہومیو پیتھی میں کون سی دوائیں آپ کے تجربے میں ہیں؟
ہم نے پوچھا ’’مریض کون ہے؟‘‘
بولے’’ڈاکٹری رپورٹس کے مطابق میں ہوں‘‘
ہم سناٹے میں آگئے اور سوچ میں پڑگئے، ان سے کہا ’’ ایسے تو بہت سی دوائیں ہیں لیکن کینسر کی نوعیت اور مریض کی حالت دیکھ کر ہی کوئی دوا تجویز کی جاسکتی ہے، تم فکر نہ کرو، میں گھر آتا ہوں، پھر دیکھیں گے، کیا ہوسکتا ہے‘‘
قدرت کے کھیل نرالے ہیں، جس کا آخری وقت آگیا ہے ، اسے کوئی نہیں بچاسکتا، فوری طور پر ہم ان کے گھر نہ جاسکے اور بالآخر ایک روز ان کے صاحب زادے نے میسج کے ذریعے ان کے انتقال کی خبر دی، اللہ مغفرت فرمائے، افسوس کہ اس کے بعد ان کی بیگم شگفتہ نے بھی کوئی رابطہ نہیں رکھا، شاید فون نمبر بھی تبدیل ہوگئے اور رہائش بھی، ہمیں نہیں معلوم شگفتہ اور ان کے بچے اب کہاں ہیں۔
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
علیم الحق حقی کے سب سے قریبی دوست عزیز الحسن قدسی تھے لیکن آخری دنوں میں خدا معلوم کیوں دونوں کے درمیان کچھ کشیدگی ہوگئی تھی، ہم نے کئی بار حقی سے پوچھا کہ قدسی کہاں ہیں؟ ان کا جواب یہی تھا کہ معلوم نہیں، ہم نے کشیدگی کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی مگر انھوں نے گول مول بات کرکے ہمیں ٹال دیا، قدسی کو تلاش کرنے کے لیے ہم نے بہت کوشش کی لیکن اب تک ہمیں بھی ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا، شکیل عدنان حقی کے کزن بھی تھے اور شاگرد بھی وہ طویل عرصہ جے ڈی پی سے وابستہ رہے، ان کا کرئر ہمارے سامنے ہی شروع ہوا، پھر وہ ادارہ چھوڑ گئے لیکن بعد میں (ہمارے ادارے سے علیحدہ ہونے کے بعد ) دوبارہ سسپنس کی ذمے داریاں انھوں نے سنبھالیں، بالآخر اقلیم علیم صاحب سے اختلافات کی وجہ سے ادارہ چھوڑ گئے، پہلے بھی انھوں نے جب ادارہ چھوڑا تھا تو معراج صاحب کے نام استعفے میں خصوصی طور پر لکھا تھا کہ میں اقلیم علیم کی وجہ سے ادارہ چھوڑ رہا ہوں، آج کل سنا ہے کینیڈا میں ہیں۔
عجیب بات
ایک طویل عرصہ جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز میں گزارنے کے بعد بعض عجیب تجربات ہوئے، ہم نے دیکھا کہ اس قدر طویل رفاقت، دوستی، محبت، ایک ساتھ کھانا پینا، ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشیوں میں شریک رہنا بس اسی وقت تک برقرار رہتا ہے جب تک آپ ادارے سے وابستہ ہیں، جیسے ہی یہ سلسلہ ٹوٹتا ہے پھر سب بکھر کر رہ جاتے ہیں، کسی کو کسی کی خبر نہیں رہتی گویا برسوں سے قائم یہ رشتے ناتے، تعلقات، محبتیں عارضی اور دکھاوے کی ہوتی ہیں؟اصل میں ان کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی؟
بقول پروین شاکر ؂ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ ہمارا مزاج ہمیشہ سے یہ رہا کہ جن لوگوں سے ہمارے قریبی مراسم قائم ہوئے، ہم نے انھیں آخر وقت تک برقرار رکھنے کی کوشش کی اور یہ کوشش ہمیشہ یک طرفہ رہی، ایسے لوگ کم تھے جو ہمارے ادارہ چھوڑنے کے بعد بھی ہم سے خود رابطہ کرتے، یا ملاقات کے لیے آتے ورنہ عموماً ہم ہی رابطہ کرتے یا ملنے چلے جاتے، آج بھی ہمارا یہ معمول ہے کہ اتوار کا دن اپنے پرانے دوست احباب سے ملاقات کے لیے مقرر ہے، ہر اتوار کو اگر کوئی بہت ضروری کام نہ ہو ، طبیعت خراب نہ ہو تو ہم پرانے دوستوں سے ملاقات کو اولیت دیتے ہیں، اگر لاہور، پنڈی، اسلام آباد وغیرہ جانا ہوتا ہے تو اس میں بھی سرفہرست احباب سے ملاقات کا ایجنڈا ہوتا ہے، پرانے احباب میں صرف ایک شخص ایسا ہے جس سے ہم دور رہنا پسند کرتے ہیں، اس سے ملنے یا اس سے بات کرنے کی کوئی خواہش دل میں پیدا نہیں ہوتی، اس کا نام لکھنا ہم ضروری نہیں سمجھتے۔
یہ صورت حال عام ہے، ہم صرف اپنے حوالے سے یہ بات نہیں کہہ رہے، شاید تمام اداروں کا کچھ ایسا ہی حال ہے، لوگ سالوں ایک ساتھ کام کرتے ہیں اور ان کے درمیان گہرے تعلقات بھی قائم ہوتے ہیں مگر بعد میں کسی کو کسی کی خبر نہیں رہتی، اگر اتفاقاً راہ میں مل بھی جائیں تو ایک دوسرے سے کسی تیسرے کا حال احوال اور پتا پوچھ رہے ہوتے ہیں، شاید اس کی ایک وجہ موجودہ معاشرتی ڈھانچہ ہے جس میں غم روزگار ، غم جاناں پہ غالب آگیا ہے، ہمارے ابتدائی زمانے کا ایک شعر دیکھیے ،شاید معاشرتی اور معاشی جبر کوئی آج کی بات نہیں، یہ سلسلہ برسوں سے جاری ہے ؂
جائے کسی کے پاس سنانے کو حال دل
اتنی کہاں کسی کو بھی فرصت ہے شہر میں

جاری ہے۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد . قسط نمبر 14

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    4 ہفتوں سے غیر حاضری کی وجہ علالت یا دیگر مصروفیات ہیں یا خارجی دباؤ ۔۔۔؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے