سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا میری کہانی ضیاء شہزاد

ست رنگی دنیا میری کہانی ضیاء شہزاد

                ست رنگی دنیا

میری کہانی

ضیاء شہزاد

                ٬٬آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا،،

                ٭ قسط 5

                 ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ لوگ ہماری حویلی کے دروازے پر آگئے ہیں۔ ۔ ۔

                ایک مرتبہ پھر زوردار نعرہ گونجا ۔ ۔ ۔ جے بج رنگ بلی ۔ ۔ ۔

                دادا زور سے چیخے ۔٬٬ دیکھو ذرا ان حرام زادوں کو ، سالے ہمارے گھر پر بھی جے بج رنگ بلی کا ہلہ بول رہے ہیں ، دیکھو ان کو ، ابے کلو ، بدرو کھڑے کھڑے کیا دیکھ رہے ہو ،،

                کچھ دیر کے لئے تو سب سٹ پٹا گئے تھے ۔ اور ایک دوسرے کی شکل دیکھ رہے تھے، کسی کی بھی سمجھ میں کچھ نہیں آیا تھا کہ یہ اچانک ایسا کیوں ہو گیاہے ۔ داداپھر چیخے۔٬٬ابے کیا میں باہر نکلوں ۔ ۔ بولو ۔ ۔ کیا مجھے باہر نکلنا پڑے گا ؟،، ِِ ´ِ

                ٬٬ نہیں بابا ،میں باہر جا کر دیکھتا ہوں ،کلو تایا نے کہا اور آگے بڑھے لیکن بدرو تایا نے انہیں بازو سے پکڑ لیا اور بولے ۔٬٬نہیں بھائی میں جا کر دیکھتا ہوں۔،، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے بھائی اسلام سے کہا ۔٬٬ اندر سے ہتھیارنکال کر لاﺅ ، میں آتا ہوں ان لوگوں سے نمٹ کر ۔،،بھائی السلام دوڑے اور ایک کمرے میں گھس گئے۔

                کلو تایا اور بدرو تایا حویلی کے دروازے کی طرف بڑھے، اور دادا میرے ابا سے بولے، ٬٬ جلدی سے عورتوں کو اوپر کے کمروں کی طرف بھیج دو ان حرامیوں کا کوئی بھروسہ نہیں ۔، ، یہ سن کر اماں نے مجھے گود میں بھرااور بڑی اماں اور تائی خیرن اور بھائی اسلام کی بیوی بھابی محمودن کو ساتھ لے کر اوپر کی منزل کی طرف دوڑیں۔ سب عورتیں جلدی جلدی ڈگ بھرتے ہوئے چھت پر پہنچ گئیں ، سب کا سانس پھولنے لگا ، اماں نے مجھے گود میں اٹھایا ہوا تھا اس لئے ان کا سانس زیادہ پھول رہا تھا ۔ چھت پر پہنچ کر انہوں نے مجھے گود سے اتار دیا اور لمبے لمبے سانس بھر کر اپنا دم بھرنے لگیں۔ چھت کی منڈیروں پر بہت سے بندر بیٹھے ہوئے تھے جو ہمیں دیکھ کر دانت نکالنے اور کوں کھوں کھوں کی آوازیں نکالنے لگے ، وہ بار بار اچھلتے ہوئے ہماری طرف دیکھ کر جیسے یہ بتا رہے تھے کہ ہ ابھی کچا کھا جائیں گے۔ میں نے آنکھ کھولتے ہی گھر کی دیواروں پر بندر دیکھے تھے اس لئے ان سے نہیں ڈرا۔بڑی تائی ، تائی اور اماں نے ان بندروں کو ہاتھ کے اشاروں سے دھتکارا تو وہ چیختے ہوئے منڈیر سے ہٹ کر دور چلے گئے۔ سب عورتیں منڈیر سے نیچے جھانکنے لگیں۔ ایک طرف دو اینٹیں اوپر تلے رکھی تھیں میں بھی ان پر چڑھ کر باہر دیکھنے لگا ۔نیچے ہمارے گھر کے دروازے پر بہت سے لوگ کھڑے ہوئے تھے ۔ ان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے جن پر چاقو لگے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کئی بار اوپر منہ اٹھا کر ہماری طرف دیکھا۔ پھر اسی وقت ہماری حویلی کا دروازہ کھلا اور کلو تایا اور بدرو ابا باہر نکلے ۔ ان لوگوں میں جو آگے کھڑے ہوئے تھے اپنے ہاتھ جوڑ کر کہا۔٬٬راجہ ٹھاکر داس جی نے دادا سرجو کو بلوایا ہے ، ہمیں بھیجا ہے سیندیسہ دے کر۔،،

                جو لوگ پیچھے کی طرف کھڑے ہوئے تھے ان میں سے دو تین نے پھر نعرہ مارا۔ جے بج رنگ بلی ۔ ۔۔

                ٬٬ اللہ اکبر ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ تایا بدرو نے بھی جواب میں فلک شگاف نعرہ مارا لیکن آنے والے لوگوں میں سے جو آگے تھے انہوں نے پیچھے والوں کو ہاتھ کے اشارے سے نعرے لگانے سے منع کر دیا اور بدرو تایا سے بولے ٬٬شما کرنا ، نادان بالک ہیں ۔،،

                کلو تایا بولے ٬٬ ہماری حویلی پر اس سے پہلے آج تک کسی نے بج رنگ بلی کو نہیں پکارا ۔ نا ہی ہم نے آپ لوگوں کے کسی گھر پر اللہ اکبر کی آواز لگائی ۔ آپ شانت ہوں گے تو ہم بھی شانت رہیں گے۔ ،،

                ٬٬ جی مہاراج ہم شانت ہی ہیں ، میرانام کٹم ہے ، میں راجی جی کا خدمت گار ہوں۔ ہم تو راجہ جی کا سندیسہ لائے ہیں ، یہ ساتھ میں کچھ بالک تھے جنہوں نے یہ حرکت کی ، شما کر دو، ،

                ٬٬ کیا سندیسہ ایسے لایا جاتا ہے کہ ہاتھوں میں کرپان اور ترشول پکڑے ہوئے ہیں اور بج رنگ بلی کی جے کر رہے ہو،،۔ کلو تایا غصے سے بولے۔ہم اس کا کیا مطلب سمجھیں گے کہ آپ لوگ کیوں آئے ہیں۔،،

                ٬٬ یہ تو کلو بھائی ، حالات ایک دم خراب ہوگئے ہیں نا، برائی آتے دیر نہیںلگتی اس لئے کرپا ن اور ترشول ساتھ میں رکھ لئے تھے۔،،

                ٬٬ ہاں حالات تو خراب ہوں گے ہی۔ ہمارے ایک مسلمان کو جو مار دیا ہے کسی نے ،،۔ بدرو ابا نے کہا

                ٬٬ہاں رحمان حلوائی کے بھائی کو چھرا گھونپ کر کسی نے مار دیا ہے،،۔ کٹم نے کہا ۔٬٬ پورے گاﺅں میں بڑی ٹیسن لگی ہوئی ہے ۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا ۔ہمارے گاﺅں میں توکوئی پرندہ بھی نہیں مارا گیا۔،،

                رحمان اچھا ٓدمی ہے وہ کبھی کسی کی برائی میں نہیںرہا ، نہ ہی اس کی کسی سے دشمنی تھی وہ تو بے چارہ سب کا منہ میٹھا کرتا تھا ، ہندو اور مسلمان سب اس کی مٹھائی کھاتے تھے۔،، کلو تایا نے دکھ کے ساتھ کہا

                ٬٬ ہم رحمان بھائی کے بھائی کے قتل ہونے کا سن کر اس کے پاس جانا چاہ رہے تھے وہ ہمارے بھائیوں کی طرح تھا مگر سرائے کے دروازے پر جب بہت سے لوگوں کو اکٹھا دیکھا تو ہم واپس آگئے ۔ ان لوگوں کے ہاتھیوں میں لاٹھیاں تھیں اورمیں اور بدرو بھائی اکیلے تھے۔۔،، کلو تایا نے کہا

                کٹم بولا۔٬٬ مہاراج آپ نے ٹھیک کیا ، بہت ٹینسن تھی۔ ریواڑی سے پولیس بلوائی ہے کہ حالات اور خراب نہ ہو جائیں،راجی جی نے دادا سرجو کو اسی لئے بلوایا تھا کہ ان سے مل بیٹھ کر حالات ٹھیک کر سکیں۔،،

                نیچے آنے والوں اور کلو تایا اور بدرو ابا کی باتیں کرنے آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔٬٬ ہم ابا سے بات کریں گے اورراجہ جی کا سندیسہ ان کو پہنچا دیں گے۔ جیسا وہ حکم دیں گے ہم ویسا ہی کریں گے۔ ،،کلو تایا نے ان سے کہا

                ٬٬ جی کلو بھائی۔ جو آپ کی اچھّا۔ تو ہم اب جائیں۔،، ان میں سے سب سے آگے راجہ ٹھاکر داس کا خدمت گار کٹم تھا ، اس نے پوچھا۔٬٬تو اب ہم جا کر راجی جی سے کیا کہیں؟،،

                ٬٬ ہاں اب آپ لوگ جاﺅ اور راجہ جی کو بھی ہمارا پرنام کہنا، ویسے بھی حالات ٹھیک نہیں ہیں، ایسے میں ابا کا جانا ٹھیک نہ ہوگا۔،، بدرو ابا نے کہا۔٬٬ اگر ریواڑی سے پولیس آ رہی ہے تو حالات ٹھیک ہو جائیں گے ۔ ابا راجہ جی سے ضرور ملیں گا ۔ ان دونوں کا آپس میں مل بیٹھنا ضروری ہے۔،،

                وہ سب لوگ خاموشی سے سر جھکائے واپس چلے گئے۔ان کے جاتے ہی کلو تایا اور بدرو ابا بھی حویلی کے اندر آگئے۔اماں نے بھی مجھے گود میں بھرا اور بڑی اماں، تائی خیرن اور بھابی محمودن کے ساتھ نیچے اتر آئیں۔کلو تایا اور بدرو ابا داداکے کمرے کے باہر بنے ورانڈے میں آگئے تھے ۔ دادا ، میرے ابا اور فاروق بھائی اور بھائی اسلام وہاں مونڈھوں اور پلنگ پر بیٹھے ہوئے تھے۔عورتیں بھی برابر والے کمرے میں پہنچ گئی تھیں ۔ سب کو یہ جاننے کا بڑاشوق تھا کہ اب کیا ہوگا۔

                 کلو تایا اوربدرو ابا نے راجہ جی کے آدمیوں سے جو بات ہوئی تھی اور جو وہ سندیسہ لے کر آئے تھے وہ دادا کو بتا دیا،۔ دادا اور سب نے بڑے غور سے سنا ، دادا اپنی گردن ہلاتے رہے لیکن ان کی نظریں زمین پر لگی ہوئی تھیں جیسے وہ کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔

                ٬٬ میں نے تم لوگوں سے کہا تھا نا کہ میں راجہ ٹھاکر داس سے مل کر سارا معاملہ ٹھیک کر لوں گا ، راجہ نے بھی حالات کو بگڑتے دیکھ کر مجھ سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا ، اسی لئے مجھے بلوا بھیجا ۔ مجھے اس کے پاس جانا ہوگا ، وہ میرے ساتھ اچھا رہا ہے ، میری ہمیشہ عزت کی ہے ، مجھے جھک کر پرنام کرتا رہا ہے وہ۔،، دادا نے سب کی طرف باری باری دیکھتے ہوئے کہا۔

                ٬٬ نہیں بابا ہم آپ کو جانے نہیں دیں گے ،کٹم بتا رہا تھا کہ بڑی ٹیسن ہے ، حالات بہت خراب ہیں ۔ ریواڑی سے پولیس بلوائی گئی ہے ۔ جب سب ٹھیک ہو جائے گا تو راجہ ٹھاکر داس سے ملنا ٹھیک رہے گا ۔ ،، میرے ابا بولے

                ٬٬ ہاں ابا فخرو ٹھیک کہہ رہا ہے، بنئے کا کوئی بھروسہ نہیں ہے وہ منہ میں رام رام رکھتا ہے اور ویسے اس کی بغل میں چھری ہو تی ہے۔،، کلو تایا نے کہا

                ٬٬ابے چپ کر ، کیا مجھ میں سمجھ نہیں ہے ، میں بھی جانتا ہوں ہندوﺅں کو، ساری زندگی ان ہی کے ساتھ گزری ہے۔،، دادا نے جھلا کر کلو تایا کو ڈانٹا

                ٬٬ نہیں با بامیں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ ہندوﺅں کو نہیں جانتے۔ لیکن میں نے بھی اپنی جوانی ان کے ساتھ گزاری ہے ، اٹھا بیٹھا ہوں ان لوگوں میں، بہت سے ہندومیرے دوست ہیں ، میں ان کو اچھی طرح جانتاہوںکہ وہ اپنے مطلب کے یار ہیں ۔ دل میں مسلمانوں کے لئے زہر اور کینہ رکھتے ہیں۔،، کلو تایا بوے

                بدرو ابا نے بھی کلوتایا کی ہاں میں ہاں ملائی۔٬٬ابا کلو بھائی ٹھیک کہہ رہا ہے ، ابھی آپ راجہ جی سے ملنے کی بات رہنے دیں ۔ ایک دو دن میں دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔،،

                ٬٬ تم لوگ سمجھتے کیوں نہیں کہ حالات تیزی کے ساتھ بگاڑ کی طرف جا رہے ہیں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو راجہ ٹھاکر داس اپنے آدمیوں کو مجھے بلوانے کے لئے نہیں بھیجتا۔،،

                ٬٬ ہاں ابا حالات بڑی تیزی سی بگاڑ کی طرف چلے گئے ۔ہم نے کہاں سوچا تھا کہ گاﺅں میں کوئی مسلمان مارا جائے گا۔،، کلو تایا نے کہا۔٬٬ یہ تو اچھا ہوا کہ کوئی ہندو نہیں مارا گیا ورنہ گاﺅں میں آگ لگ جاتی ، لاشیں پڑی نظرآتیں۔،،

                ٬٬اچھاا چھا ، اب چلو کھانا کھاﺅ اور ظہر کی نماز سے فارغ ہو جاﺅ اور اللہ سے سب دعا کرو۔،،دادا نے کہا پھر اپنے پیچھے کھڑے ہوئے بھائی اسلام سے جو اندر کمرے سے لاٹھیاںاور ڈنڈے اٹھا کر لے آئے تھے، بولے۔٬٬ ان کو سنبھال کر رکھنا ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تجھے بنّوٹ چلانا خوب آتا ہے ، تو جب لاٹھی گھمائے گا تو دس بیس تو ویسے ہی کام میں آجائیں گے ۔ مجھے گھمنڈ ہے تجھ پر ۔ اللہ تیری حفاظت کرے۔،،

                میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ میں عام بچوں سے ذرا ہٹ کر تھا۔کبھی کبھی مجھے لگتا تھا کہ کوئی میرے اندر سے بول رہا ہے اور مجھے کچھ بتاتا رہتا ہے ۔ دادا ابا تو یہ سب سے کہتے تھے کہ میرے اس بچے کے اندر کوئی بڑا آدمی چھپا ہوا ہے اس کی بات پر دھیان دیا کرو۔ منظور اللہ میاں کے پاس جانے سے پہلے کہہ کر گیا تھا کہ میں اچھا ہو کر آﺅں گا ، مجھے لگتا ہے کہ اس کے اندر دوسرا منظور چھپا بیٹھا ہے ۔ میری میری آنکھوں کا تارا ہے۔،،

                 جو ہندو ہمارے دروازے پر آئے تھے وہ چلے گئے تھے ۔دادا نے بھی سب کو کھانا کھانے کے لئے کہہ دیا تھا لیکن میری جیسے بھوک اڑ گئی تھی کوئی مجھے اندر سے خبر دار کر رہا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔ ۔ کچھ ہونے والا ہے ۔ ۔ میں حد سے زیادہ بے چین ہونے لگا ۔ میری یہ حالت اماں سے بھی چھپی نہ رہ سکی۔انہوں نے مجھے سینے سے چمٹا لیا اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔ ٬٬ کیا بات ہے بیٹا، ڈر لگ رہا ہے۔،،

                ٬٬ہاں اماں، مجھے ڈرلگ رہا ہے ، سردی سی لگ رہی ہے ۔ ابا کہاں ہے۔؟،، میں نے اپنا منہ اماں کی گود میں بھرتے ہوئے کہا۔

                ٬٬ ارے وہ دادا کے پاس ہیں ابھی آجائیں گے۔ میں ہوں نا تیرے پاس،اماں نے مجھے پیار کیا ، اسی وقت ابا بھی آگئے ۔ اماں نے انہیں بتایا کہ میں ڈر رہا ہوں۔ ابا کا منہ ستا ہوا تھا۔ وہ بھی پریشان سے تھے۔ ،،

                ٬٬ یہ آپ کو کیا ہوا، آپ اب کیوں پریشان ہیں ، اللہ پہ بھروسہ رکھیں ، سب ٹھیک ہو جائے گا۔،، اماں بولیں

                ٬٬ نہیں سعیدن۔ پریشانی کی تو بات ہے ہی ۔ہمیں حالات بگڑ نے کا اندازہ نہیں تھا ، اب ایک دم سے سر پر پڑی ہے تو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا کریں۔،،ابا نے اماںسے کہا ٬٬۔چلو تھوڑا بہت کھانا کھا لیں ، ضیاءالدین کو بھی بھوک لگی ہو گی۔،،

                ٬٬ ہاں ہاں میں لگاتی ہوں کھانا ، چلو ہاتھ منہ دھو لو ۔،، اماں نے کہا اور اس کے ساتھ ہی میںتیزی کے ساتھ اٹھا اور داداکی طرف بھاگ کر چلا گیا ، ابا مجھے آواز دیتے ہی رہ گئے۔۔ ۔ ۔(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دُنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد قسط نمبر 8

                ست رنگی دُنیا                 ٭                 میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد                 آندھیاں غم کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے