سر ورق / کالم / زبان کا بھی خیال کریں:خرم شہزاد

زبان کا بھی خیال کریں:خرم شہزاد

زبان کا بھی خیال کریں

خرم شہزاد

                محترم جناب امجد جاوید صاحب نے نئے سال کی مناسب سے اردو لکھنے والوں سے ایک جملے کی فرمائش کی تو ذہن میں بے شمار باتیں چکرانے لگیں اور ان میں سے کسی ایک کا انتخاب مشکل ہو گیا تو سوچا کہ یہ باتیں آپ سب کے ساتھ کر لی جائیں کہ نئے سال کی مناسبت سے شائد اردو لکھانے والوں کے لیے کوئی نیک شگون ہی ہو جائے۔

                ویسے اردو کی زبوں حالی کا رونا تو بہت سے لوگ روتے ہیں لیکن اس زبان کی ترقی کے لیے کوئی بھی آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ آج ترقی اور بین الاقوامی دنیا میں مقام کو صرف اور صرف انگریزی سے جوڑ لیا گیا ہے اور ہمارے کالے انگریز دانشور ہمیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ انگریزی ایک بین الاقوامی اور رابطے کی زبان ہے۔ ساری سائنس بھی انگریزی میں ہے اور ساری دنیا بھی صرف اور صرف انگریزی ہی بولتی ہے، لیکن ایسے کالے انگریز دانشوروں نے شائد چین ، جرمنی اور فرانس کانام بھی نہیں سنا ہو گا جہاں تعلیم ان کی قومی اور مادری زبانوں میں دی جاتی ہے اور یہ لوگ انگریزی جانتے ہوئے بھی کوشش کرتے ہیں کہ اپنی زبان میں ہی بات کی جائے۔ چیئرمین ماو کے بارے تو یہ مشہور بات ہے کہ وہ اپنے مترجم کی انگریزی ٹھیک کروایا کرتے تھے لیکن خود انگریزی بولنے سے معذرت ہی کرتے تھے۔ اپنی زبان سے عشق کی داستان میں مجھے رسول حمزہ توف کا وہ مشہور قصہ یاد آتا ہے جب وہ فرانس میں ایک مصور سے ملے تو پتہ چلا کہ وہ ان کا ہم وطن ہے اور نوجوانی میں ہی فرانس چلا آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ رسول حمزہ توف واپس آئے اور اس کے گھر والوں کو ڈھونڈتے ہوئے ملنے کو جا پہنچے۔ گھر والوں کو جب اس مصور کی خیر خیریت پتہ چلی تو ایک خوشی سب کے چہروں پر تھی کہ ایسے میں اس مصور کی والدہ نے رسول حمزہ توف سے سوال کیا کہ تم دونوں نے اپنی زبان میں ہی گفتگو کی تھی ناں۔۔۔؟؟ رسول حمزہ توف نے معذرت کی کہ چونکہ آپکا بیٹا ایک زمانے سے وہاں رہ رہا ہے اور اب وہ اپنی زبان بھول گیا ہے اس لیے ہم نے فرانسیسی میں ہی بات چیت کی ۔اس مصور کی والدہ نے سر پر باندھا ہوا سکارف چہرے پر کھینچ لیا(اور ایسا کسی کی وفات کی خبر پر خواتین کرتی تھیں) اور رسول حمزہ توف سے معذرت کر لی کہ آپ کسی غلط گھر میں آ گئے ہیں، ہمارا بیٹا تو کئی سال پہلے مر گیا تھا۔ رسول حمزہ توف لکھتے ہیں کہ اپنی زبان کے بارے ہمارے لوگ ایسے ہی ہیں اور جب مصور کے بارے پتہ چلا کہ وہ اپنی زبان بھول گیا ہے تو اس کی والدہ نے اسے بیٹا ماننے سے انکار کر دیا۔

                آج پاکستان میں اس طرح کے واقعات کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہاں ایک باپ دن رات حلال حرام کی پرواہ کئے بنا کمانے اور جوڑنے میں لگا ہوا ہے کہ اس کے بچے اچھے انگریزی اسکولوں میں پڑھتے ہوئے فر فر انگریزی بول سکیں۔ خواتین جو خود شائد ڈھنگ سے میٹرک بھی نہ کر سکی ہوں لیکن اب انہیں اپنے بچے کے انگریزی میں اچھے نمبر اور کلاس میں پوزیشن چاہیے ہوتی ہے۔۔۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی والد یا والدہ اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ملتے ہیں لیکن انہی والدین سے اردو زبان کی ترویج کے لیے بات کی جائے تو ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ تو حکومت کی ذمہ داری ہے اور ایسا کہتے ہوئے یہ والدین بھول جاتے ہیں کہ ایک بچے کے لیے ماں باپ کا نام جہاں ایک شناخت ہے وہیں اس کی زبان بھی اس کی شناخت کا درجہ رکھتی ہے ۔ کسی بھی اور زبان میں وہ جتنا بڑا عالم بھلے ہو جائے لیکن اگر وہ اپنی زبان نہیں جانتا تو وہ کچھ نہیں جانتا۔ اس لیے سب سے گزارش ہے کہ آپ اپنے بچے کی تعلیم کے لیے حکومت پر قناعت کر کے نہیں بیٹھ جاتے کہ جی تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے۔۔۔ بلکہ اپنی ہر طرح کی کوشش کرتے ہیں۔ محلے میں قائم سرکاری سکول کو چھوڑ کر بائیس کلو میٹر دور کے سکول میں خود روز چھوڑنے کے لیے جانے کو تیار ہو جاتے ہیں لیکن اسی بچے کی قومی زبان کی جب بات آتی ہے ، اس کی اقوام عالم میں شناخت کی بات آتی ہے تو آپ ہاتھ جھاڑ کر اسی حکومتی ذمہ داری قرار دے دیتے ہیں۔ خدارا آپ سب سے گزارش ہے کہ اردو کی ترقی اور تحفظ کے لیے کوشش کریں کیونکہ چاروں صوبوں میں آج بھی ہم لاشعوری طور پر اسی زبان کو رابطے کی زبان کے طور پر جانتے ، مانتے اور استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں ہم بھلے کسی بھی جگہ سے تعلق رکھتے ہوں، دوسری زبان کے شخص سے بات کرتے ہوئے ہم اردو بولنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر یہ ہماری زبان نہیں بھی جانتا تو اردو میں بہر حال مدعا بیان کیا جا سکتا ہے اور ایسا ہم اکثر لاشعوری طور پر کرتے ہیں ۔

                اس لیے اس نئے سال کے آغاز پر سب سے گزارش ہے کہ اردو لکھنے اور بولنے کو معیوب نہ سمجھیں ، احساس کمتری سے نکلیں ۔ دنیا میں جہاں بھی آپ اپنا تعارف کروائیں گے وہ پاکستان کا نام سنتے ہیں آپ کی زبان اردو، پنجابی سندھی پشتو براہوی سمجھے گا۔ بیرون دنیا میں کوئی بھی نہیں جس سے آپ اپنا تعارف کروائیں کہ میں پاکستان سے ہوں اور وہ آپ کی مادری اور قومی زبان انگلش قرار دے۔ اپنی اصل اور حقیقت کا ادراک کریں، جھوٹ اور فریب میں رہنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ اپنی زبان ،اپنی حقیقت پر فخر کرنا سیکھیں اور اسے یہ سوچ کر اہمیت دیں کہ یہ آپ اور آپ کے بچوں کی شناخت کا ذریعہ ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شکریہ ملتان! …نوخیزیاں/گل نوخیزاختر

شکریہ ملتان! نوخیزیاں/گل نوخیزاختر آج سے ستائیس سال پہلے میں بے سروسامانی کے عالم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے