سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 8

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 8

بے رنگ پیا

امجد جاوید

قسط نمبر 8

آیت کو آئی سی یو سے پرائیویٹ روم میں کچھ دیر پہلے ہی منتقل کر دیا گیاتھا۔ وہ کمبل اوڑھے آنکھیں بند کئے پڑی تھی۔ وہ پورے ہوش وحواس میں تھی۔ دائیں جانب میز پر پھول ہی پھول پڑے ہوئے تھے۔ وہ کمرے میں تنہا تھی۔ زیادہ وقت نہیںگزرا تھا کہ طاہر اندر آ گیا۔آہٹ پاکر آیت نے آ نکھیں کھول دیں۔وہ اس کے قریب جا کر بولا

” میں ابھی ڈاکٹرز سے ….“

” سرمد کو میرے بارے پتہ تو نہیںچلا؟“ اس نے طاہر کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے دھیمے لہجے میں تشویش سے پوچھا۔ اس پر وہ چند لمحے خاموش رہا ، پھر بولا

” نہیں، شاید پتہ نہیں چلا ، میڈیا پر تو یہ خبر آ ئی ہے ، اس سے رابعہ کو یقیناً پتہ چل گیاہوگا ، اب اسے سرمد کو نہ بتا دی ہو ۔“

” فوراً پتہ کرو ،اور اگر سرمد کو پتہ نہیں چلا تو رابعہ سے کہو ۔“ آ یت نے پریشانی میں کہا

” اوکے میں کرتا ہوں ، تمہارا سیل فون ہے میرے پاس ۔“ اس نے کہا اور اپنی جیب سے فون نکال کر رابعہ کانمبر دیکھنے لگا، اگلے چند ثا نئے میں اس نے کال ملا لی۔ بیل جاتے ہی اس نے فون آ یت کے کان سے لگا دیا ۔ تبھی دوسری طرف سے رابعہ رندھے ہوئے لہجے میں پوچھ رہی تھی

” ہیلو ، کیسی ہو تم ؟“

” میں ٹھیک ہوں ۔“ اس نے اپنی طرف سے پوری قوت سے کہا

” اور وہ جو ….“ رابعہ نے کہنا چاہاتو اس نے پوچھا

” سرمد کو پتہ ہے کہ نہیں؟“

” نہیں، میں نے اسے پتہ لگنے ہی نہیں دیا ۔“ وہ بولی تو آ یت نے سکون کا سانس لیا ۔پھر چند لمحوں بعد بولی ،” ساری تفصیل تمہیں طاہر بتا دیتا ہے ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے فون اسے تھما دیا۔ وہ آہستہ آ ہستہ اس واقعے کے بارے میںبتانے لگا۔چند منٹ بات کرنے کے بعد اس نے فون بند کرکے جیب میں رکھ لیا۔ تبھی آیت نے اپنے لبوں پر زبردستی مسکراہٹ لاتے ہوئے پوچھا،” کیسی جا رہی ہے الیکشن مہم ؟“

” سب ٹھیک ہے ، بس وہ ….“ وہ کہتے کہتے رُک گیا۔اس نے طاہر کے چہرے پر دیکھا، پھر منتشر لہجے میں پوچھا

” یہ کیاکہہ رہے ہو تم ؟“

” کہا نا،سب ٹھیک چل رہا ہے ، تم پریشان نہیں ہو ۔“ طاہر نے گڑبڑاتے ہوئے کہا

”تم کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے ہو ؟“ اس نے پھر پوچھا

”نہیں ، چاہوں بھی تو میں تم سے کچھ چھپا نہیں سکتا،میں تم سے جھوٹ نہیں بول سکتا۔“وہ بولا

” تو پھر سچ کیا ہے ؟“اس نے پوچھا

” میرا اب الیکشن سے جی ہی اچاٹ ہو گیا ہے ، مجھے یہ کھیل ہی نہیںکھیلنا۔“اس نے اکتاہٹ سے کہا تو آ یت چند لمحے خاموش رہی پھر سمجھاتے ہوئے بولی

” محض چند دن ہیں،تمہیں اپنی جیت کو اپنے بابا کی جھولی میں ڈالنا ہے ،پھر جو دل چاہے کرنا، یہ وقت ایسا نہیں، جس سے فرار لیا جا سکے ۔“

” تم ٹھیک کہتی ہو ۔“ اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا، پھر چند لمحے رک کر بولا،” دادا جی نے فون کیا تھا ۔ انہیں تمہارے بارے میں پتہ چل گیا ہے ۔میں نے انہیں تفصیل سے بتا دیا تھا۔“

”انہیں کہنا تھا کہ یہاں مت آ ئیں ۔“آیت نے کہا

” میں ہر گھنٹے، دو گھنٹے بعد انہیں تمہارے بارے میں بتا رہاہوں ۔میں نے تو بہت کہا، اب وہ کیا کرتے ہیں ، میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔“

ان دونوں میں خاموشی آ ن ٹھہری۔طاہر بہت ساری باتیں کرنا چاہتا تھا، لیکن کر نہیں پا رہا تھا۔ آ یت بھی چاہتی تھی کہ یہی وقت ہے جب پوری طرح حوصلہ مند رکھا جائے ۔وہ اپنے اندر ہی اندر قوت جمع کرتے ہوئے لفظوں کی بھی چھان پھٹک کر رہی تھی کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔ طاہر نے مڑ کر دیکھا پھر بے اختیار بولا

” بابا جی ۔! “

اس کے ساتھ ہی سردارسکندر حیات اندر آ گیا۔طاہر پیچھے ہٹ گیا ۔ وہ آ یت کے پاس چلا گیا۔اس نے آیت کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا

” اب کیسی طبعیت ہے بیٹی ۔“

” میں بالکل ٹھیک ہوں ۔“ یہ کہتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر دھیمی سی مسکان آ گئی ۔

”تمہارا بہت بڑا احسان ہے مجھ پر بیٹی،ساجد نے مجھے سارا واقعہ پوری تفصیل سے بتایا ۔دشمنوں نے تو پوری کوشش کی مگر رَبّ ہی ہے جو بچانے والا ہے ۔“

” جی ۔“ وہ اتنا ہی کہہ سکی ۔

”میں نے کل تمہیں صرف اسی لئے بلایا تھا کہ بتا سکوں ۔مجھے اطلاعات مل رہی تھیں کہ ایسا کچھ ہونے والا ہے ۔طاہر سے میںنے بات کی تھی لیکن میں تم سے بھی یہ بات کرنا چاہتا تھا ۔“

” آ پ بس طاہر کو بتا دیتے ۔“ آ یت نے کہا تو وہ تیزی سے بولا

” پہلے مجھے شک تھا، لیکن اس واقعہ کے بعد میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ اسی وقت تمہارے سامنے آ ﺅں گا جب تک ان حملہ آ وروں کو تلاش نہ کر لوں ۔“

” کون تھے وہ ؟“ آ یت نے پوچھا

” اس حملے کے پیچھے وہی لڑکی جویریہ ہے، جو طاہر کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی ۔اس نے ہمارے مخالفین کے ساتھ مل کر یہ سازش کی ،حملہ آ ور پکڑے گئے ہیں اور انہوں نے جویریہ کا نام لے دیا ہے ۔اب وہ لوگ اپنی بیٹی کا نام سامنے نہ لانے پر بہت سارے سمجھوتوں پر تیار ہیں ۔“ اس نے تفصیل بتائی ، آ یت نے خاموشی سے سن لیا۔ اس نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔تبھی سکندر حیات نے کہا،” بیٹی ، میں شرمندہ ہوں کہ میں بر وقت حفاظت….“

”آ پ ایسا نہ کہیں۔ یہ ہونا ہی تھا۔آپ الیکشن مہم کا خیال رکھیں ۔“ اس نے سکون سے کہا

”میں تمہارا احسان مند ہوں بیٹی ۔ بس تم جلدی سے ٹھیک ہو جاﺅ ، الیکشن بھی دیکھ لیتے ہیں ۔“ سکندر حیات نے کہا اور اس کے سر پر ہاتھ اٹھا کر واپس پلٹ گیا ۔ طاہر وہیں اس کے پاس رہا ۔کتنے ہی لمحے یونہی بیت گئے ۔ دونوں میں خاموشی آن ٹھہری تھی ۔آیت پر غنودگی طاری ہونے لگی تھی۔وہ طاہر سے بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہیں پا رہی تھی۔بڑی مشکل سے اس نے کہا

” طاہر، تمہیں جیتنا ہے ۔“

ایسا ہوتا ہے کہ بعض اوقات لفظ اتنی اہمیت نہیں رکھتے جتنااثر لہجہ کرتا ہے ۔ اس کے کہنے ہی میں کچھ اتناکچھ تھا کہ طاہر کھلی آ نکھوں سے اس کی طرف دیکھتا رہ گیا۔ آ یت نے آ نکھیں موند لیں۔

شام ڈھل گئی تھی جب اس نے آ نکھیں کھولیں۔ اس کے پاس دادا بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے پر افسردگی تھی ۔ اسے اپنی جانب دیکھتا پاکر لپکے۔ اس سے پہلے وہ کچھ کہتے آیت نے نیند بھرے لہجے میں کہا

” دادو، پلیز تھوڑا سا ڈانٹ دیں۔ کتنے دن ہو گئے آ پ کی ڈانٹ نہیںکھائی ۔“

” میری بچی ، میری جان ،کوئی بھی جان بوجھ کر موت کو گلے نہیںلگاتا۔ایسا قسمت میں تھا۔اب مجھے بتاﺅ کیسی ہو تم ؟“ انہوں نے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا

” دوادو میں بالکل ٹھیک ہو ۔ بس یہ ڈاکٹر ہی مجھے یہاں سے جانے نہیں دے رہے ۔آپ انہیں کہیں کہ مجھے گھر بھیج دیں ۔“ وہ لاڈ سے بولی

” میری بات ہوئی ہے ان سے بیٹا۔ابھی ایک دو دن مزید ادھر رہو گی ۔“انہوںنے سمجھایا

”نہیں مجھے جانا ہے ۔“ اس نے ضد کی

” یہاں تمہارا علاج ہو رہا ہے گھرکیوں جانا چاہتی ہو ؟“

” اس لئے کہ آ پ سارا دن ادھر رہیں گے ۔آپ تھک جائیں گے ۔آپ ….“ اس نے کہنا چاہا تو دادا نے مصنوعی خفگی سے کہا

” میں آ ج ہی واپس جانے والا ہوں ۔ یہاں نہیں ٹھہرنا مجھے سمجھی ۔“ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا پھر سنجیدگی سے بولے،” کرتا ہوں بات ڈاکٹر سے ۔سارا انتظام گھر پر ہو جائے گا ۔“

” یہ ٹھیک ہے ۔“ آ یت نے کہا اور سکون سے آ نکھیں موند لیں ۔ کیونکہ اسے پوری طرح یقین تھا کہ جب تک وہ لاہور واپس جانے کے قابل نہیں ہو جاتی، اس کے دادا وہیں رہیں گے۔

ز….ژ….ز

طاہر اپنی حویلی کے کاریڈور میں انتہائی مضطرب انداز سے ٹہل رہا تھا۔ یہ حویلی کا وہ حصہ تھا، جسے مردان خانہ کہتے تھے ۔ اس سے ذرا فاصلے پر زنان خانہ تھا، جو بالکل الگ تھلگ تھا۔یہاں جمنے والی محفلوں کی آواز بھی زنان خانے میں نہیںجاتی تھی ۔ انہوں نے جو ڈیرہ بنایا ہوا تھا، وہ کافی فاصلے پر تھا ۔شام ڈھل کر رات میں بدل چلی تھی۔پورے حلقے میں ووٹوں کی گنتی شروع ہو چکی تھی۔اسے بالکل نہیں معلوم تھا کہ کہاں سے جیت ہو رہی ہے اور کہاں سے شکست ملی ہے ۔اس کے لوگ الیکشن کیمپ میں بیٹھے یہ گنتی کر رہے ہوں گے۔مگر اُس وقت وہ ہار جیت سے بے نیاز مسلسل آ یت ہی کے بارے میں سوچے چلا جا رہا تھا۔

جس دن اس کے بابا سکندر حیات ہسپتال میں جا کر آیت سے ملے تھے ، اسی رات آیت نے طاہر سے وعدہ لیا تھا کہ جب تک الیکشن کے نتائج نہیںآ جاتے، وہ اس سے نہیں ملے گا۔ وہ پوری توجہ اپنے الیکشن پر لگائے گا ۔ غرض اس سے نہیں کہ وہ جیتے گا یا ہارے گا ، ایشو یہ ہے کہ وہ اپنی آیت کی وجہ سے الیکشن مہم پر توجہ نہیں دے رہا تھا ۔جبکہ یہی چند دن تھے جو اس کی جیت ہار کا فیصلہ کر دینے والے تھے ۔ آیت نے اسے سختی سے منع کر دیا تھا کہ وہ اس سے نہیںملے گا ۔پہلے تو وہ بالکل نہیں مانا۔ وہ اُسے کیسے چھوڑ کر جا سکتا تھا ۔ آیت نے اس کی زندگی بچائی تھی۔ اگر فائر اس کی زندگی چاٹ جاتا تو کیا اب وہ الیکشن لڑ رہا ہوتا؟مگر آیت نے اس سے وعدہ لیا تھا ۔جب تک الیکشن کا نتیجہ نہیں آ جاتا وہ اسے دیکھنے نہیں آ ئے گا ۔طاہر کو یہ سب پتہ چلتا رہا کہ وہ کب ہسپتال سے شفٹ ہو کر بہاول پور والے گھر میں چلی گئی ہے۔ کون سا ڈاکٹر اس کا علاج کر رہا ہے ۔ کون سی نرس کس وقت تک اس کے پاس رہتی ہے ۔ یہاں تک کہ اس کے کھانے پینے کے بارے میں ساری معلومات تھیں ۔ اس کی دیکھ بھال کرنے والے بہت سارے لوگ تھے۔ طاہر کی اماں اپنی دو ملازماﺅں کے ساتھ وہاں اس کے پاس چلی گئی تھی۔ وہ دن بدن ٹھیک ہو رہی تھی ۔دادا دو دن رہنے کے بعد واپس لاہور چلے گئے تھے۔ اسے سب پتہ تھا لیکن وعدے کے مطابق وہ اس کے پاس نہیںجا سکتا تھا ۔

الیکشن کا نتیجہ آ نے میں چند گھنٹے رہ گئے تھے۔طاہر بار ہا اپنے اندر کو ٹٹول چکا تھا۔ اس نے کئی بار خود سے سوال کیا تھا کہ اسے نتیجہ آ نے کی بے چینی ہے یا آ یت سے ملنے کی بے قراری ؟ ہر بار یہی جواب آ تا، بس جلد از جلد آ یت سے ملنا ہے ۔ وہ مضطرب انداز میں ٹہل رہا تھا۔اس کے دل و دماغ پر صرف اور صرف آ یت چھائی ہوئی تھی۔ ایسے میں اس کا فون بج اٹھا۔ اس نے اسکرین پر دیکھا، ساجد کا نمبر تھا۔

” ہاں بولو۔!“ اس نے پوچھا۔لہجے میں ارتعاش تھا، ساجد نے دبے دبے جوش سے کہا

” ہم اچھی خاصی لیڈ سے جیت رہے ہیں۔ دونوں سیٹوں پر ۔“

”پورا نتیجہ کب آ ئے گا ؟“ اس نے اکتاہٹ سے پوچھا تو وہ تیزی سے بولا

”دونوں حلقوں سے آ رہے ہیں ، کچھ رہ گئے ہیں ۔کچھ دیر میں وہ بھی آ جائیں گے ۔“

”یہ کسی طرح جلدی نہیں ہوسکتا؟“ اس نے مضطرب لہجے میں پوچھا

” یار تم پہلی بار الیکشن لڑ رہے ہو ، آ رہے ہیںنتائج ، اتنی بے صبری کیوں؟“ اس بار ساجد نے اپنی حیرت کا اظہار کر دیا تو اسے احساس ہوا کہ اس کا لہجہ عجیب سا ہو رہا ہے ، تبھی جلدی سے بولا

” یار یہ سمجھو پہلی بار ہی ہے ۔“

” ٹھیک ہے میں سمجھ رہا ہوں صورت حال کو ،بس کچھ دیر اور ۔“ اس نے دھیمے سے لہجے میں کہااور فون بند کر دیا۔تبھی طاہر اپنے سر کو جھٹکتے ہوئے بڑبڑایا

” خاک سمجھے گا تو میری صورت حال کو ۔“

 وہ کاریڈور سے نکل کر لان کی جانب چل پڑا۔ یہ حویلی کا وہ حصہ تھا، جہاں مکمل خاموشی تھی ۔اس کے بابا باہر ڈیرے پر موجود تھے ۔ اماں اس وقت آ یت کے پاس تھی ۔ملازم بھی مصروف تھے ۔ وہ لان میں تنہا بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ذہن پر صرف آ یت سوار تھی ۔

اگر آیت نہ ملتی تو وہ اب تک جویریہ سے شادی کر چکا ہوتا ۔یہ بھی کیسا اتفاق تھا، جس دن اس کے سامنے شادی کرنے کی خواہش آ ئی تھی، اسی دن آ یت سے سامنا ہوا تھا۔کہیں سے بھی اس نے متاثر نہیں کیا تھا ۔ نہ اس کا حسن دل فریب تھا، نہ شخصیت پرکشش تھی، نہ رویے میں خوشگوار جاذبیت تھی۔ مگر پھر بھی وہ ایک عام سی لڑکی، اس کے ذہن پر اپنا نقش یوں چھوڑ گئی کہ وہ بھولنا بھی چاہتا تو نہ بھول سکتا تھا۔ دوبارہ ملنے سے پہلے اس کے گمان میں بھی نہیں تھاکہ وہ آیت کے لئے اتنا بے خود ہو جائے گا ۔ اس نے بار ہا اپنا تجزیہ کیا تھا کہ اگر وہ ایک دولت مند بزنس وویمن نہ ہوتی تو کیا پھر بھی وہ اس سے اس قدر قربت محسوس کرتا؟ ہر بار یہی جواب ملتا کہ وہ دولت کی وجہ سے نہیں اپنے کردار کے باعث اس کے من میں بس گئی ہے ۔اس کے دل میں جگہ بنی ہی اس لئے کہ وہ کردار کے اس مقام پر ہے ،جہاں کسی کو اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ وہ ایسا کیوں نہیں دیکھ پایا تھا؟ اس کا ماحول ہی ایسا تھا ، جہاں ظاہری چمک ہی کوسب کچھ گردانا جاتا ہے ۔جہاں کسی بھی انسان کو اس کی دولت اور قوت کے مطابق عزت و احترام دیا جاتا تھا ۔ پھر زیادہ وقت نہیں گذرا تھا، آ یت کی شخصیت کا ایک دوسرا پہلواس کے سامنے وا ہو گیا۔ یہ پہلو بڑا ہی پر کشش تھا۔وہ ایک نئی دنیا میں آن پہنچا ۔اسے احساس ہوا کہ زندگی میں خلوص ، سچائی اور قربانی جیسے رویے نہ صرف اہمیت رکھتے ہیں بلکہ انسان کو انسان ہونے کے مقام پر بھی فائز کر دیتے ہیں۔یہ تبدیلی کب اور کیسے آ گئی؟ اسے پتہ ہی نہ چلا۔ اپنائیت کے احساس سے بات قربت کی خواہش تک آ ن پہنچی تھی۔ یہ کون سی قوت تھی جس نے طویل مسافت کو کم سفر راستے میں بدل دیا تھا؟

 خواہشیں ہی خواب کی بنیاد ہوا کرتی ہیں۔خواہش جیسے مرضی کر لی جائے اور خواب جیسا چاہے دیکھ لیا جائے ،اس پر پابندی نہیں ہے ۔اگر اس میں کہیں رکاوٹ پڑتی ہے تو انسان کی اپنی ہی سوچ ہوتی ہے ۔ورنہ یہی خواہشوں اور خوابوں کا تانا بانا ایک نیا جہان تخلیق کر دیتا ہے ۔انسان اپنی پسند کا جہان بنانا چاہتا ہے ، جبکہ قدرت نے جہان بنا کر اس کے سامنے رکھ دیا ۔اپنی پسند کا اور قدرت کا عطا کردہ جہان، یہیںکہیں کشمکش ہے ۔تسخیر اور مسخر کے اس کھیل میں نجانے کتنے انسانی رویوں کے رنگ اسی جہاں پر نقش ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ شاید اسی بارے کہا گیا ہے کہ تمہیں شعور نہیں۔

وہ اپنے طور پر بہت سارے فیصلے کر چکا تھا ۔یہ ارادہ تو اس نے کر لیا تھا کہ شادی اس نے آ یت ہی سے کرنی ہے۔اس کا اظہار اس نے آ یت سے کر دیا تھا۔اپنے عاشق ہونے کا دعوی بھی کر دیا۔ اس سب کے پیچھے پہلے پہل تو اپنے مرد ہونے، دولت مند ہونے، مقام و مرتبہ والے ہو نے کا بڑا زعم تھا۔مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسے یہ پتہ چلتا گیا کہ آ یت کے ہاں ان چیزوں کی نہ وقعت ہے اور نہ ہی کوئی اہمیت ۔ایسا کیوں ہے ؟ اسی سوال نے آ یت کی شخصیت کے دَر کھولے اور وہ نئی دنیا میں آ ن موجود ہوا ۔ زندگی کے جن رنگوں پر طاہر کو مان تھا ، وہ بے وقعت ہو گئے،اس نے ان رنگوں کو خود سے الگ کر کے پھینک دیا۔یہ وہ مقام تھا جہاں اس کے اندر آ یت کے رنگ میں رنگ جانے کی خواہش شدت سے پیدا ہو چکی تھی ۔

فون کی آ واز نے اسے خیالوں سے نکال باہر کیا۔اسکرین پر ساجد کے نمبر جگمگا رہے تھے۔ اس نے کال رسیو کرلی ۔

” ہاں بول ۔“ اس نے اختصار ہی سے کہا تاہم اس سے بھی پہلے وہ بول اٹھا تھا

” مبارک ہو ، دونوں سیٹٰں جیت گئے ہیں۔جلدی سے آ جا ڈیرے پر ۔“

” اچھا۔آتا ہوں ۔“ اس نے کہا تو ساجد نے حیرت سے پوچھا

” یہ تجھے ہوا کیا ہے ، اتنی بڑی خبر سن کر بھی تجھے خوشی نہیںہوئی ؟“

” او ہوئی ہے خوشی ، کیوں نہیںہوئی ۔“ اس نے تیزی سے کہا

” پر تمہارا لہجہ …. او خیر تو ہے نا ؟“ ساجد نے تشویش سے پوچھا

” خیر ہے ، آ رہاہوں ۔“ اس نے کہا اور کسی نئے سوال سے بچنے کے لئے اس نے کال بند کر دی ۔ وہ اٹھا اور تیز تیز قدموں سے پورچ کی سمت گیا ، جہاں اس کی گاڑی کھڑی تھی ۔وہ اس میں سوار ہوا اور تیزی سے نکل پڑا۔

تقریباً آدھے گھنٹے میں وہ آ یت کے گھر جا پہنچا ۔ گیٹ پر کھڑے گارڈ نے فوراً ہی گیٹ کھول دیا۔ وہ گاڑی سیدھا پورچ میں لے گیا۔چند لمحوں بعد وہ لاﺅنج میں تھا۔ وہاں کوئی بھی دکھائی نہیں دیا۔اس سے پہلے وہ اندر کسی کمرے کی طرف جانے کا فیصلہ کرتا۔ایک ملازم تیزی سے اندر سے نکلا اوراس کے سامنے آ گیا۔طاہر نے اس سے پوچھا

” یہ سب لوگ کہاں ہیں؟ آیت بی بی کدھر ہے؟“

” آیت بی بی چلی گئی ہیں نا لاہور، تو باقی بھی چلے گئے۔“ ملازم نے ادب سے کہا

” آ یت چلی گئی ؟“ اس نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا، پھر لمحہ بھر رُک کر بولا،”کیوں چلی گئی، کس کے ساتھ گئی ، اماں کہاں ہیں؟“ اس نے حیرت بھرے لہجے میں ایک ساتھ کئی سوال کر دئیے ۔اس پر ملازم ذرا سا گھبرا گیا،۔ لمحہ بھر کو رکا اور پھر دھیمے سے لہجے میں کہتا چلا گیا

”آیت بی بی چندگھنٹے پہلے شام کی فلائیٹ سے گئی ہیں۔ انہیں ڈرائیور ائیر پورٹ لے گیا تھا ۔ وہ لاہور پہنچ گئی تو وہاں سے فون کر کے انہوں نے آپ کی والدہ کو بتایا ، تب وہ بھی یہاں سے حویلی چلی گئی ہیں۔“

” اوہ ۔!“ اس کے منہ سے فقط اتنا ہی نکل سکا۔ وہ کچھ ثانئے اسی شاک میں رہا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آیت اچانک کیوں چلی گئی ۔پھر گئی بھی اس طرح کہ اسے پتہ بھی نہیںچلا ۔اس نے اپنا سیل فون نکالا، اس نے آیت کاسیل فون نمبر ملانا چاہا لیکن ’خاموشی ‘ پر لگے ہوئے فون پر کالیں آ رہی تھیں۔ جیسے ہی ایک کال خاموش ہوئی اس نے کال ملائی ۔ دوسری طرف سے آیت کا نمبر بند تھا، وہ جھنجلا گیا ۔ کچھ دیر تک اسے سمجھ ہی نہ آ سکا کہ وہ کیا کرے ۔ وہ قریب پڑے صوفے پر ڈھے سا گیا ۔

ز….ژ….ز

کھڑکی میں سے صبح کی روشنی جھانک رہی تھی ۔باہر نیلگوں روشنی پھیلی ہوئی تھی۔گھر میں مکمل خاموشی تھی۔ پرندوں کا شور ہوا کے جھونکے کی طرح اندر آ کر ایک نئے دن کی نوید دے رہا تھا۔ کمرے میں سفید بلب روشن تھا۔ جس کی دھیمی روشنی میں آیت جائے نماز پر بیٹھی تھی ۔ اس نے سفید چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ اس کی بند آ نکھیں اور ہلتے لب یہ احساس دے رہے تھے کہ وہ پورے جذب سے ذکر میں مشغول ہے۔کچھ دیر بعد وہ اٹھی اور جائے نماز تہہ کر کے سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔

 وہ اپنی عادت کے مطابق اس وقت واک پر نہیں جا سکتی تھی ۔اس لئے لان میں چہل قدمی کی خاطر وہ اپنے کمرے سے نکلی اور لاﺅنج پار کر کے پورچ میں آگئی۔ وہاں کاریڈرو میں اُسے دادا نظر نہیںآئے ۔ اس نے سوچا ممکن ہے وہ ابھی باہر ہی نہ آ ئے ہوں۔ یہی سوچتے ہوئے وہ کسی ملازم کو دیکھ رہی تھی۔ ایسے ہی وقت میں گیٹ پر ایک کار آ ن رُکی۔ اس کی توجہ گیٹ پر گئی ۔وہاں کھڑے گارڈ نے باہر دیکھا اور پھر گیٹ کھول دیا۔ اگلے چند لمحوں میں طاہر کی کار اسے اندر آ تے ہوئے دکھائی دی ۔ آیت نے ایک طویل سانس لیااور واپس پلٹ کر کاریڈور میں پڑی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گئی ۔ طاہر نے کار پورچ میں روک دی۔وہ کار سے نکل کراندر جانے کے لئے داخلی دروازے کی جانب بڑھا تو اس کی نگاہ آیت پر پڑی۔وہ رکا اور پھرتیزی سے سیدھا اس کی طرف آگیا ۔ وہ شاکی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ قریب آ کر اس نے سلام کیا۔ آیت نے جواب دیا تو مضطرب سا دائیں جانب پڑی کرسی پر بیٹھتے ہوئے غصے، پریشانی اور بے چارگی کے ملے جلے لہجے میں بولا

” کیوں آ گئی ہو وہاں سے؟“

وہ ہلکا سا مسکرائی،پھر اس کی طرف دیکھ کربڑے پرسکون لہجے میںبولی

” میں جس مقصد کے لئے وہاں گئی تھی وہ پورا ہوگیا تو پلٹ آ ئی ۔“

” یوں اچانک ، مجھے ملے بغیر ….“ اس نے پھر حیرت سے پوچھا تو وہ بات کاٹتے ہوئے بولی

” اس میں اتنا حیران کی کیا بات ہے ؟“

” تم نے رزلٹ کا بھی انتظار نہیںکیا،اور پھر اس حالت میں جب کہ تم سفر نہیں کر سکتی تھی ۔“ اس نے یوں پوچھا جیسے آیت نے بہت بڑی غلطی کر لی ہو ۔ اس پر وہ کچھ نہ بولی، پھرچند ثانئے بعد بولی

” کامیابی مبار ک ہو ۔“

 یہ میری کامیابی نہیں ہے ، میں نہیں مانتا اسے ۔“ اس نے پھٹتے ہوئے کہا

” ایسے نہ کہو ،پتہ نہیں کتنے لوگوں کی امیدیں تم سے وابستہ ہو گئی ہوں گی۔تمہیں رَبّ تعالیٰ نے خدمت خلق کاایک بہترین موقع دیا ہے۔ اب جتنا کسی کے کام آ سکتے ہو، آ ﺅ ۔“ وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی

” مجھے ایسی کسی کامیابی کی ضرورت نہیں جس سے میرے اپنے ہی مجھ سے دور ہو جائیں۔تمہارے اس رویے کو میں کیا سمجھوں ،میں تم سے ملنے کے لئے لمحہ لمحہ انتظار کر رہا تھا ، کچھ دیر میری خاطر ہی رک جاتیں ۔ آخر ایسی کیا جلدی تھی، تم نے ذرا سا بھی وقت نہیں ٹھہری اور فوراً واپس پلٹ آ ئی؟“ اس کی تان وہیں آ کر ٹوٹی تو وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر سکون سے بولی

”صرف یہ پیغام دینے کے لئے کہ میں نے جو وعدہ کیا ہے ، وہی نبھا رہی ہوں ، اس سے ہٹ کر مجھے کوئی دوسرا تعلق نہیں نبھانا اور نہ ہی مجھے اس کی ضرورت ہے۔“

” میں سمجھا نہیں۔“ اس نے حیرت اور تشویش سے پوچھا،پھر لمحے سوچتے رہنے کے بعد بولا،” تم جو بھی سمجھو، کسی بھی تعلق رشتے سے انکار کرو ، کوئی نام دو یا نہیں لیکن میں تم سے تعلق رکھنا چاہتا ہوں ۔“

” یہ تعلق بھی ….“ اس نے کچھ کہنا چاہا ، پھر رُک گئی اور بولی،” خیر ۔!چھوڑو ان باتوںکو۔جاﺅ فریش ہو جاﺅ ، پھر ناشتہ کرتے ہیں۔“

” یہ میری بات کا جواب نہیںہے۔“ اس نے ہٹ دھرمی سے کہا

” اچھا جاﺅ فریش ہو جاﺅ ، پھر باتیں بھی ہوجائیں گی ۔“ آیت نے دھیمے سے کہا

” جب تک مجھے مطمئن نہیں کرو گی تب تک میں یہاں سے ٹلنے والا نہیں۔“ وہ ضدی لہجے میں بولا

 ” تم چھوٹے بچے نہیں ہو جو میری بات کو نہیں سمجھ رہے ہو ۔ کہا نا جاﺅ ، فریش ہو جاﺅ پھر….“ اس نے کہنا چاہا تو وہ بات کاٹتے ہوئے شکوہ بھرے لہجے میں بولا

” کیا تم میری حالت کو سمجھ نہیں رہی ہو ۔میںنے جو ایک ایک پل کاٹا تمہارے بغیر ،تم نے کہا مجھے رزلٹ کے بعد ملنا، میں نے مان لیا، کم ازکم اسی بات پر پابند رہتی ۔“

” میں پھرکہوں گی ،مجھے ضرورت نہیں ۔“ اس بار آ یت نے کافی حد تک سختی سے کہا تو اس نے شاکی نگاہوں سے آیت کی طرف دیکھا اور کئی لمحوں تک بے یقینی کی سی کیفیت میں اس کی طرف دیکھتا رہا،جیسے اسکی بات وہ سمجھ ہی نہ پا رہا ہو ۔ اس سے پہلے وہ کوئی بات کہتا، اندر سے دادا آ گئے۔ وہ اسے یوں دیکھ کر حیرت اور خوشی کی ملے جلے لہجے میں بولے

” ارے طاہر تم ۔! اس وقت یہاں ، خیریت تو ہے نا ؟“

” جی خیریت ہے ۔“ اس نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا اور ہاتھ بڑھا کر ان کے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے سلام کہا، وہ سلام کا جواب دے کر بولے

” تمہیں تو اس وقت وہاں ہونا چاہئے تھا ، لگتا ہے رات بھر سفر کرتے رہے ہو ؟“ وہ اسے سر سے پاﺅں تک دیکھتے ہوئے پوچھا

” جی ،میں دراصل پریشان ہو گیا تھا، یہ آیت بنا بتائے یوں اچانک ….“طاہر نے کہنا چاہا تو دادا کھلکھلا کر ہنس دئیے ، پھر مسکراتے ہوئے بولے

” اس کا مطلب ہے تم ابھی آیت کو سمجھ نہیںپائے ہو ، خیر آﺅ ، فریش ہو جاﺅ، پھر باتیں کرتے ہیں۔“ انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا

طاہر اس کی طرف کن اکھیوںسے دیکھتا ہوا دادا کے ساتھ اندر کی طرف چلا گیا۔وہ پرسکون بیٹھی اس کی طرف دیکھتی چلی جا رہی تھی ۔وہ جانتی تھی کہ اس وقت طاہر کے من میں کیسے کیسے طوفان اور بگولے اٹھ رہے ہوں گے ۔اس کی الجھی ہوئی سوچوں میں کوئی بھی سرا اسے نہیں مل رہاہوگا ۔اس کے روئیے پر طاہر کس طرح مضطرب ہوگا۔وہ اس کی بے چینی کا اندازہ اسی وقت کر چکی تھی ، جب وہ تھوڑی دیر پہلے اس کے سامنے آن پہنچا تھا۔پریشان ، مضطرب ، الجھا ہوا بے چین،جسے اپنی کامیابی کا نشہ نہیںتھا، بلکہ اس کی بے رخی پر فکرمند تھا۔طاہر کی حالت سمندر میں موجود لہروں کی مانند تھی ۔جس میں جوش آتا تو وہ بپھر جاتیں۔ساحل سے سر پٹختیں اور پھر واپس پلٹ کر دوبارہ اسی جوش سے ساحل کی طرف لپکتیں۔ جبکہ اس کی اپنی حالت ایک پر سکون سمندر کی مانند تھی۔جو لہروں کی شوریدہ سری سے واقف تھی ۔

آیت ان کیفیات سے گذر چکی تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ عشق جب من میں سماتا ہے تو من میں ایک جنگ چھڑ جاتی ہے ۔خش و خاشاک جل اٹھتے ہیں ۔جس کا دھواں اور تپش بے چین کر دیتا ہے ۔من میں عشق کے نزول کے ساتھ ہی دیکھنے والی نگاہ ہی بدل جاتی ہے ۔مشاہدات کی ایک نئی دنیا سامنے ہوتی ہے ۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کوئی نئی چیز دیکھتا ہے تو حیرت میں گم ہو جاتا ہے ۔ وہ لاشعوری طور پر اسے سمجھ رہا ہوتا کہ سامنے کا منظر کیوں ہے اور کیسے ہے ؟ جب اسے سمجھ آ جاتی ہے تو وہ پر سکون ہو جاتا ہے ۔ یہی حال انسان کے اندر کی کیفیات کا ہے۔عشق کے در آ تے ہی ماحول ہی بد ل جاتا ہے ۔ کیفیات کی اٹھان میں اور سوچوں کے انداز میں تبدیلی سے نگاہ ہی بدل جاتی ہے ۔ انسان اسے سمجھنے میں کبھی الجھتا ہے ، کبھی سمجھتا ہے اور کبھی نتیجہ اخذ کرتا ہے، ایک نئی دنیا آ باد ہوتی ہے ۔ مشاہدات کا در کھلتا ہے تو جہانِ حیرت وَا ہوتا ہے ۔پھر جس طرح وہ شعوری اور لا شعوری طور پر سمجھتا ہے، منظر واضح ہو تے جاتے ہیں۔ تب عشق راز کھولتا جاتا ہے ۔

وہ طاہر کی جذباتی کیفیت کو سمجھ رہی تھی۔اگرچہ عشق نے اس کے من میں بسیرا کر لیا تھالیکن ابھی بڑے سارے خش و خاشاک تھے۔اَنا کا محل،چاہے جانے کی راستے ، خواہشوں کے باغ، تمناﺅں کی فصلیں ، اسٹیٹس کا موسم، خود غرضی کا ماحول ، امارت کے شجر ، لالچ کی چرا گاہیں ،نفرتوں کے پہاڑ،ابھی من کی وادی میں موجود تھے۔ عشق تو” ہو“ کا عالم چاہتا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود، کچھ بھی نہیں، بس ایک ہدف، جو عاشق کی نگاہوں کا مرکز ہوتا ہے ۔ وہی عالم جہاں عاشق خود معشوق ہو جاتا ہے ۔ یہیں سے انسانیت کے راز کھلتے ہیں۔ طاہر کے من میں عشق آ گیا تو اس کا وجود ہلچل میں تھا۔اب اسے کیسے سنبھالنا ہے ، یہ وہ خوب جانتی تھی ۔

ز….ژ….ز

ناشتے کی میز پر دادا بھی تھے۔ وہ طاہر سے اس کی کامیابی کے مختلف پہلوﺅں پر بات کرتے رہے ۔ سیاسی معاملات بھی زیر بحث آ ئے ۔ اسی دوران آیت اٹھ گئی تھی ۔یوں آیت سے طاہر کی کوئی بات نہیں ہوسکی ۔ ناشتہ ختم کر کے طاہر نے آیت سے ملنا چاہا۔وہ اسے نہ لاﺅنج میں دکھائی دی نہ باہر نظر آئی ۔ ایسے میں ایک ملازم اس کے پاس آ کر بولا

” صاحب ، آ پ کے لئے کمرہ تیار ہے ، آ پ آ رام کر لیں۔“

”میرے لئے کمرہ تیار کرنے کے بارے میں تمہیں کس نے کہا؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

” آیت بی بی نے ۔“ ملازم نے دھیمے لہجے میں جواب دیا

”کہاں ہیں وہ ؟“ اس نے پھر تیزی سے ہی پوچھا

” وہ تو ابھی کچھ دیر پہلے فارم ہاﺅس چلی گئی ہیں۔“ اس نے پھر اسی دھیمے لہجے میں بتایا

”فارم ہاﺅ س ۔!!!“ وہ جھنجھلاتے ہوئے بڑبڑایا

” جی ،“ ملازم نے کہا تو وہ خاموش ہو گیا،

” کچھ اور کہا انہوں نے ؟“ اس نے ایک موہوم سی امید سے پوچھا

” انہوں نے جاتے ہوئے آپ کے لئے پیغام دیا تھا۔“ ملازم بولا

” کیسا پیغام؟“اس نے تیزی سے پوچھا

 ” یہی کہ آپ آرام کرکے جائیں یا اگر فوراً واپس جانا چا ہتے ہیں تو ساتھ میں ڈرائیور کو لازماً لے کر جائیں ۔“ ملازم نے پیغام دیا تو وہ سن کر کچھ لمحات کے لئے ساکت ہو گیا۔

 اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آیت کا ایسا رویہ کیوں ہو گیا ہے ؟ نہ ہی اسے یہ سوجھ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ؟ اس کے پیچھے فارم ہاﺅس جائے ، اس کا انتظار کرے یا پھر یہاں سے واپس چلا جائے ؟ کیا کرے ؟ اسے یہ پختہ یقین ہو گیا تھا کہ آیت اس سے بات نہیںکرنا چاہتی، ورنہ وہ یہیں رہتی، فارم ہاﺅس نہ جاتی ۔ اگر وہ اُ س کے پیچھے بھی جاتا ہے تو اس نے بات نہیں کرنی۔ ممکن ہے وہ مزید ناراض ہو جائے ۔ ابھی اس کا ملنا محال تھا۔ اس کا دماغ اسے بار بار یہی سمجھائے چلا جا رہا تھا کہ ابھی وہ اس سے مل نہیں پائے گا ، لیکن دل اصرار کر رہا تھا اس کے پاس جائے ، اس طرح کے روئیے کے بارے میں آیت سے بات تو کرے ۔اسے معلوم تو ہو، وہ کیوں ایسا کر رہی ہے ؟ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اسے یہ بھی احساس نہیں رہا کہ ملازم اس کے جواب کے انتظار میں ہے ۔ کچھ دیر بعد اس نے ملازم کی طرف دیکھا، پھر ایک لمبی سانس لے کر بولا

” ڈرائیور کو بھیجو ،مجھے واپس جانا ہے ۔“

” جی اچھا۔“ملازم نے کہا اور پلٹ گیا۔

طاہر کے اندر مایوسیوں کے بادل اٹھنے لگے تھے۔

ز….ژ….ز

سردار سکندر حیات کی حویلی اور ڈیرے کی وہی رونق بحال ہو گئی تھی جو الیکشن سیٹ چھن جانے سے پہلے تھیں ۔الیکشن میں کامیابی کے جشن منائے جا چکے تھے۔یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ چھوٹی سیٹ چھوڑ کر بڑی سیٹ رکھنی ہے ۔ جس سے سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھ گیا تھا کہ چھوٹی نشست کے لئے کس کا انتخاب ہوتا ہے ۔ سردار سکندر حیات کس پر ہاتھ رکھتا ہے ؟ بلاشبہ اسی نے آنے والا ضمنی الیکشن جیت جانا تھا۔ اسی لئے سیاسی لوگ ان سے زیادہ قربت کا اظہار کرنے لگے تھے ۔سردار سکندر حیات کو وہ سب کچھ مل گیا تھا ، جس کی اسے تمنا تھی۔ وہ بہت خوش تھا۔اپنی ناک بچانے کے لئے اس نے کیا کرنا تھا ، یہ بھی اس نے سوچ لیا تھا۔لیکن اس سیاست کی دنیا سے ہٹ کر بھی اس نے بہت سوچا تھا۔

اس دو پہر سردار سکندر حیات اپنی بیگم، بلقیس کے ساتھ گول کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ دونوں کے درمیان خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ انہوں نے آج طاہر سے بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس لئے طاہر کو بھی بلوایا تھا لیکن اسلام آ باد سے اچانک آنے والے کچھ لوگوں کے ساتھ مصروف ہو گیا تھا ۔ اب جیسے ہی انہیں اطلاع ملی کہ وہ ڈیرے سے نکل پڑا ہے ، وہ اسی کے انتظار میں بیٹھ ہوئے تھے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ وہ گول کمرے میں آن موجود ہوا ۔ وہ سلام کرکے ایک طرف صوفے پر بیٹھ گیا تو سردار سکندر حیات نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

” بیٹا۔! میںمجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں تمہاری شادی انعام الحق کی بیٹی جویریہ سے کرنے کے معاملے میں غلطی پر تھا۔میںنے اسے محض سیاسی انداز میں دیکھا،تمہارے جذبات کو نہیں سمجھا۔“

” کوئی بات نہیںبابا ،وقت نے ثابت کر دیا ، اب اس کا ذکر کیا کرنا ۔“ طاہر نے پر سکون اور مودب لہجے میں کہا تو سکندر حیات بولا

” یہ ذکر اس لئے بیٹا کہ ہم تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں ۔میں نے اور تمہاری اماں نے اس سلسلے میں ایک دوسرے سے بات کی ہے ۔لیکن کسی بھی فیصلے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ تمہاری رائے ضرور لے لی جائے ۔ “ سکندر حیات نے ہلکے ہلکے مسکراتے ہوئے سکون سے کہا

” کیسی رائے بابا؟“

” یہی کہ اگر تمہاری کو ئی پسند ہے تو ہمیں بتا دو۔ یا پھر ہم کوئی فیصلہ کرلیں۔“سکندر حیات نے کہا تو اس نے اپنی اماں کی جانب دیکھا۔ تبھی وہ سنجیدہ انداز میں بولیں

” دیکھو،ہم تیرے والدین ہیں، تمہارا بھلا چاہیں گے ،میںنے محسوس کیا ہے کہ آیت النساءتم سے کتنی محبت کرتی ہے ۔ جو بندہ کسی کے لئے جان تک دینے کو تیار ہو جائے۔ اس کی محبت میں کوئی شک نہیں رہ جاتا، مجھے یہ بھی یقین ہے کہ تم بھی اسے پسند کرتے ہو ۔تو کیا ہم ان سے بات کریں؟“

” بلاشبہ آپ آیت کے دادا جی سے بات کر سکتے ہیں۔لیکن….“ اس نے کہنا چاہا تو سکندر حیات نے حیرت سے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا

” لیکن کیا ، کوئی مسئلہ ہے ؟“

” نہیں مسئلہ نہیں،میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ اگر وہ انکار کر دیں ،یا کوئی بھی صورت انکار والی ہو تو آپ نے اُسے اَنا کا مسئلہ نہیںبنانا ۔ جو ان کی مرضی ہوگی ، وہی کرنا ہوگا ۔“ طاہر نے مودب لہجے میں بتایا تو سکندر حیات سوچ میں پڑ گیا ۔لیکن اس کی اماں بولیں

” بیٹا ، کیا انکار کی بھی کوئی صورت ہو سکتی ہے ۔ جبکہ وہ تو ….“ وہ کہتے کہتے رُک گئیں ۔

” اصل بات کیا ہے ؟“ سکندر حیات نے پوچھا

” سچ بتاﺅں بابا، میں بھی نہیںجانتا ،بس آپ کسی بات کا برا نہیں مانیں گے ۔“ طاہر نے دھیمی سے آ واز میں کہا تو اس کی اماں بولیں

” بیٹا ، ان سے کوئی بات ہو گئی ہے ، میرا مطلب وہ تو ….“

” کوئی بات نہیںہوئی ۔آ پ پریشان مت ہوں۔ویسے کب جانا چاہ رہے ہیںآ پ ؟“ اس نے بات کو دوسرا رُخ دینے کی کوشش کی ۔اس پر سکندر حیات نے کہا

” بس ابھی تھوڑی دیر بعد ، شام کی فلائیٹ سے ۔“

” اوہ ، ٹھیک ہے ۔“ اس نے کہا تو اماں نے حتمی لہجے میںپوچھا

” تو پھر ہم کریں بات ؟“

” آ پ نے فیصلہ کرلیا ہے تو …. ٹھیک ہے ۔“ اس نے کہا تواس کے بابا اور اماں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، جیسے انہیں طاہر کے روئیے کی سمجھ نہ آ رہی ہو ۔ان کے درمیان خاموشی در آ ئی ۔ تبھی طاہر کا فون بج اٹھا۔اس نے اسکرین پر دیکھا اور بابا سے بولا،” مزید کوئی بات بابا، وہ ڈیرے پر ….“

” ہاں ہاں ٹھیک ہے تم جاﺅ ۔“ سکندر حیات نے اسے جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ اٹھ کر چلا گیا تو بلقیس بیگم نے تشویش زدہ لہجے میں کہا

” سردار صاحب ، ہو نہ ہو کوئی بات ضرور ہے،اس کا رویہ دیکھا آ پ نے ؟“

” بات تو ٹھیک ہے تمہاری ، لیکن حالات کچھ اور کہہ رہے ہیں۔“انہوں نے سوچتے ہوئے کہا

” تو پھر کیا کہتے ہیں آ پ ؟“ بلقیس بیگم نے پوچھا

” چلتے ہیں، بات کرتے ہیں، یوں خاموشی سے بیٹھنا بھی میرے خیال میں مناسب نہیں ۔اگر کوئی ایسی بات ہوئی تو سامنے آ جائے گی ۔“ انہوں نے سوچتے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے ، جیسا آ پ کہیں۔“ وہ اٹھتے ہوئے بولیں تو سکندر حیات سوچ میں پڑ گیا ۔

شام ڈھل کر رات میں بدل چکی تھی ، جب وہ آیت النساءکے ہاں پہنچے ۔دادا ان کے منتظر تھے ۔ وہ لاﺅنج میں بیٹھنے اور کافی دیر تک ادھر اُدھر کی باتیں کر لینے کے بعد بلقیس بیگم نے پوچھا

” آ یت کہاں ہے ؟“

”وہ ایک میٹنگ میں ہے ، کچھ دیر تک آ جائے گی ۔“ دادا نے مسکراتے ہوئے بتایا

” ویسے ہمت ہے آیت بیٹی کی، اتنا بڑا بزنس سنبھالتی ہے ۔“سکندر حیات نے تبصرہ کیا

”ہاں ، پہلے پہل میں نے اس پر اعتماد نہیں کیا، لیکن جب اس نے اپنا بزنس شروع کیا اور کامیابی سے چلا بھی لیا تو پھر میں نے سب کچھ اسے سونپ دیا۔“ انہوں نے بتایا

”یہ سب کیسے کر لیتی ہے وہ ؟“ بلقیس بیگم نے حیرت سے پوچھا

” یہ تو وہی جانتی ہے ۔نجانے کیسی قوت ہے اس کے پاس ۔“انہوں نے اسی مسکراہٹ سے جواب دیا ، پھر لمحہ بھر خاموشی کے بعد بولے ،” آئیں ، ڈنر لیتے ہیں ۔“

” ارے ، آ یت کو تو آ جانے دیں۔“ بلقیس بیگم نے حیرت سے کہاتو وہ بولے

”مجھے پتہ ہے وہ ابھی نہیں آ نے والی ، اسے دیر ہو جائے گی ۔“

” چلیں کچھ دیر انتظار کر لیتے ہیں ۔ممکن ہے وہ تب تک آ جائے ، ہم اتنی دیر میں آ پ سے بات کر لیتے ہیں۔“ سکندر حیات نے سنجیدگی سے کہا

” کیسی بات ؟“ دادا نے پوچھا

” وہی جس کے لئے ہم آ ج خاص طور پر آ ئے ہیں۔“ اس بار بلقیس بیگم بولیں

” جی فرمائیں ۔“ دادا نے ان دنوں کی طرف دیکھ کر کہا

”دیکھیں ، تمہید باندھنے میں اور پھر اس کے بعد جا کر بات کہنے میں خاصی دیر ہو جائے گی ، میں تو سیدھے سبھاﺅ آ پ سے یہی عرض کرنے آ ئے ہیں کہ آ یت کو ہمارے گھر کی عزت بنا دیں۔“

” مطلب طاہر کے لئے ۔“ بلقیس بیگم نے جلدی سے تصحیح کر دی

” جس دن طاہر کو بچاتے ہوئے فائر اسے لگا تھا ، میں اسی دن سمجھ گیا تھا کہ بہت جلد آ پ لوگ اسی سلسلے میں یہاں آ نے والے ہیں۔ میں اسی لئے بھی جلدی وہاں سے آ گیا تھا کہ بہن جی نے اسے سنبھال لیا تھا۔ لیکن….“

” لیکن کیا….؟“ سکندر حیات نے تیزی سے پوچھا

”ایسی کوئی بات نہیں، مطلب مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ لیکن بس ایک بار مجھے آ یت سے پوچھنا ہے ۔“ وہ سکون سے بولے

” بے شک ، زندگی بچوں نے گزارنی ہے ۔ان سے تو پوچھنا ہی ہوگا ۔یہ بھی انہوں نے ہی طے کرنا ہے کہ وہ زندگی کیسے گزاریں گے ۔“ سکندر حیات نے کہا

” بالکل ،وہی آ پس میں طے کر لیں۔“ دادا نے حتمی لہجے میں کہا

” ہمیں یہ حق انہیں دینا چاہئے۔“ سکندر حیات نے اس کی تائید کی تو بلقیس بیگم نے پہلو بدلتے ہوئے کہا

” آپ فون کریں نا آیت کو ،اسے بتائیں کہ ہم آ ئیں ہیں ۔“

” میں نے بتایا تھا اسے ، جیسے ہی وہ وہاں سے فری ہوئی ،آ جائے گی ۔“دادا نے کافی حد تک دھیمے لہجے میں کہا

” اچھا کچھ دیر مزید انتظار کرتے ہیں۔“ بلقیس بیگم نے کہا تو ان کے درمیان الیکشن اور اس کے بعد ہونے والی صورت حال کے بارے میں باتیں ہونے لگیں۔زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ آیت بھی آ گئی ۔وہ بڑے تپاک اور خوش دلی سے ملی ۔پھر بلقیس بیگم کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی

” سوری مجھے دیر ہوگئی ۔دراصل یا تو مجھے جانا پڑتا یا پھر دادو کو، وہ بڑی اہم میٹنگ تھی۔“

” تو بیٹا، حالات اور وقت تو ایک جیسے نہیں رہتے ،زندگی صرف بزنس تو نہیں ہے۔“ بلقیس بیگم نے پیار سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

” آ پ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔لیکن یہ تو کرنا ہے نا۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولی

”یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی،چلیں ڈنر کے لئے ۔“ دادا نے اٹھتے ہوئے کہا تو سبھی اٹھ گئے۔

ڈنر سے کچھ دیر بعد ہی سکندر حیات اور اس کی بلقیس بیگم چلے گئے۔آ یت تھکی ہوئی تھی، سو وہ اپنے کمرے میں جا پہنچی۔

اگلی صبح وہ چہل قدمی کے لئے لان میں گئی تو دادا پہلے ہی سے وہاں موجود تھے۔وہ چھوٹے چھوٹے قدموں سے لان میں پھر رہے تھے۔اس دیکھ کر بڑھ آ ئے ۔قریب پہنچ کر بولے

” آ ج موسم خاصا خوشگوار ہو رہا ہے ۔“

” جی دادو ، موسم بدل رہا ہے نا ، اس لئے یہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اچھی لگ رہی ہے ۔“ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا جہاں اودھے رنگ کے بادل ٹکڑیوں میں پھیلے ہوئے تھے جبکہ ابھرتے ہوئے سورج کی روشنی میں وہ کافی حد تک بسنتی رنگ کے ہو رہے تھے۔

” ہاں بیٹا۔! اب موسم بدل ہی جانا چاہئے ،جیسے زندگی میں ٹھہرا ہوا ایک ہی موسم اچھا نہیںہوتا۔“ دادا نے کہا تو اس نے سر جھکا لیا ۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ ہو کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔وہ خاموش رہی ۔تو چند لمحے انتظار کرنے کے بعد بولے ،”پتہ ہے رات سردار صاحب اور ان کی بیگم کیوں آ ئے تھے؟“

” کیوں آ ئے تھے؟“ اس نے انجان بنتے ہوئے پوچھا

” وہ تمہاری بات کرنے آ ئے تھے طاہر کے لئے۔“ انہوں نے دھیمے سے لہجے میں بتایا

” تو پھر ….؟“ اس نے پوچھا

” میں نے تو ہاں تب کرنی تھی ،جب تم سے پوچھ لیتا۔اب تم بتا دو۔“ اس بار دادا کا لہجہ کافی حد تک جذباتی ہو گیا تھا۔ان کے گمان میں یہی تھا کہ آیت ہاں کر دے گی۔ وہ ابھی سے اس کے وداع کر دینے کے احساس سے مغلوب ہو گئے تھے۔آیت کچھ دیر تک دادا کی طرف دیکھتی رہی ، پھر ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولی

” دادو ۔! آ پ کو یہ لوگ لالچی نہیںلگے؟“

” نہیں، بالکل بھی نہیں۔“ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا

” ایسا کیوں لگا آ پ کو ؟“وہ نرم لہجے میں بولی

”کیونکہ انہوں نے سب کچھ تم پر چھوڑ دیا کہ جیسا تم چاہو ،میرا خیال ہے وہ تم سے ذہنی طور پر مغلوب ہو گئے ہیں ۔“ دادا نے مسکراتے ہوئے کہا تو خود کلامی کے سے انداز میں بولی

” ہاں ، یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ جسے طاقتور سمجھتا ہے ، اس کے آ گے جھک جاتا ہے ۔“

”تم بتاﺅ ،کیا کہتی ہو ۔“دادانے جلدی سے پوچھا ، انہیں لگا کہ شاید وہ بات بدل دینا چاہتی ہے ۔

” میں نے کیا بتانا، وقت خود فیصلہ کر دے گا ۔“ وہ ہنستے ہوئے بولی

” میں سمجھا نہیں؟“ انہوں تشویش سے پوچھا

” دادو ، بس چند دن ، میں بتا دوں گی ۔ آ پ فکر مند نہ ہوں۔“ وہ عام سے انداز میں بولی تو دادا کے چہرے پر ایک رنگ آ کر گزر گیا۔وہ توقع نہیں کر رہے تھے کہ آیت کا رویہ ایسا ہو گا۔وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد سمجھانے والے انداز میں بولے

” بیٹا، کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں، جو بہت سنجیدگی میں کئے جاتے ہیں، ان میں مذاق کی بالکل گنجائش نہیںہوتی ۔“

” میں کب مذاق کر رہی ہوں ، میں بالکل سنجیدہ ہوں۔ بس چند دن ، میں بتا دوں گی آ پ کو ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو دادا ایک دم سے خاموش ہو گئے ۔وہ مزید کچھ نہ کہہ پائے ۔ انہوں نے آ یت کی طرف دیکھا اور چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اندر کی جانب چل دئیے ۔ وہ انہیں جاتا ہوا دیکھتی رہی ۔

ز….ژ….ز

وہ ایک روشن دن تھا۔آیت اپنے آ فس پہنچی تو استقبالیہ کے پاس دھرے صوفوں پر اسے طاہر بیٹھا ہوا دکھائی دیا۔ وہ آیت کو دیکھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ وہ اس کے قریب گئی اور بڑے پر سکون لہجے میں پوچھا

” تم ، یہاں؟“

” میں تمہارا انتظار کر رہا تھا۔“ اس نے خشمگیں لہجے میں کہا

”یہ کیا بات ہوئی بھلا ، تم گھر آ تے یا کم از کم آ نے سے پہلے مجھے فون کر لیتے ، یہ کیا اجنبیوں کی طرح یہاں بیٹھے ہوئے ہو؟“ اس نے دھیمی آ واز میں سختی سے پوچھا

”بس میں نے سوچا، خود ہی چلا جاﺅ ں، بس ذرا سی بات کرنا تھی تم سے تو ….“ اس نے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹ کربولی

” آﺅ ، آ فس میں بیٹھ کر سکون سے بات کرتے ہیں۔“ یہ کہتے ہوئے وہ لفٹ کی جانب مڑنے لگی تو وہ تیزی سے بولا

”اگر سکون سے بات کرنی ہے تو پھر یہاں نہیں۔“

” تو پھر اور کہاں؟“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا

” کہیں بھی جہاں ہم سکون سے بات کر سکیں۔“ اس نے آیت کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

” چلو پھر تمہارے گھر چلتے ہیں۔“ آ یت نے خوشدلی سے کہا تو ایک لمحہ کو طاہر کی آ نکھوں میں حیرت لہرائی ، پھر اس کے چہرے پر چھایا ہوا سارا تناﺅ یکسر ختم ہو گیا۔

” آ ﺅ ۔چلیں۔“ یہ کہہ کر کوئی مزید بات ہونے سے پہلے ہی وہ پلٹ گیا۔وہ اپنی گاڑی تک پہنچا اور پسنجر سیٹ والا دروازہ کھول کر آیت کی طرف دیکھنے لگا۔وہ خود کو سنبھالتی ہوئی آئی اور بیٹھ گئی ۔ طاہر گھوم کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ ن بیٹھا۔ ان کے درمیان کافی دیر تک خاموشی رہی ۔ تبھی آ یت ہی نے پوچھا

”الیکشن کے بعد کیسا ماحول ہے وہاں ؟“

” مجھے اس سے کوئی غرض نہیں، وہ سب بابا دیکھ رہے ہیں۔“اس نے لاپرواہی سے کہا

”تمہاری دو سیٹیں ہیں ۔ کون سی رکھ رہے ہو ؟“اس نے بات بڑھائی

”کہا نا بابا ڈیل کر رہے ہیں، جو کہہ دیں گے وہی رکھ لیں گے ۔“ اس نے عام سے لہجے میں کہا جیسے وہ اس موضوع پر بات ہی نہ کر نا چاہ رہا ہو لیکن وہ بات کرنا چاہتی تھی اس لئے پوچھا

” پھر بھی کوئی خیال تو ہوگا۔“

” ہاں ایک دن بابا کہہ رہے تھے کہ بڑی سیٹ رکھ لیں۔“ اس نے بے دلی سے جواب دیا۔ وہ سوچنے لگی ، طاہر کو سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔اگر ہوتی تو وہ ضرور اپنی کسی کامیابی کی بات کرتا۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ اس کا دھیان کس طرف سے ہے ۔ تب وہ بھی خاموش ہو گئی ۔

 طاہر کے گھرمیں پہنچ کر لاﺅنج میں اطمینان سے بیٹھنے کے بعد اس نے اپنے ملازمین سے چائے کا کہا اور اس کے پاس ساتھ والے صوفے پر بیٹھ گیا۔ تبھی آ یت نے طاہر کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہو ئے ہولے سے پوچھا

” یہ تمہارا کسی اجنبی کے جیسا رویہ ، میں پوچھ سکتی ہوں ایسا کیوں؟“

”مجھے خود سمجھ میں نہیں آ رہا مجھے کیا کرنا چاہئے۔میں اپنے اور تمہارے درمیان الجھ کر رہ گیا ہوں۔“

” میرے اور تمہارے درمیان ؟ یہ میں سمجھی نہیں۔“ وہ کافی حد تک تجسس سے بولی

” دیکھو ایک طرف تمہارا رویہ اتنا بڑا، کہ کوئی اس تک نہیںپہنچ پایا، مجھ پر جان تک وار دی ، اور دوسری طرف یوں جیسے مکمل اجنبی ہو ،مجھے بتاﺅ تو سہی آخر وجہ کیا ہے ؟“اس نے تھکے ہوئے لہجے میں پوچھا

” اصل میں تمہارا ایک مسئلہ ہے طاہر، نہ تم خود کو سمجھ رہے ہو اور نہ مجھے جان پائے ہو ۔اگر یہ مان بھی لیا جائے میرے بارے میں کچھ جانتے ہو توخود سمجھنا نہیں چاہتے ہو،تم صرف اپنی ذات سے آ گے نہیں سوچ رہے ہو ، تمہیں کسی دوسرے کی پروا نہیں۔“آیت نے دھیمی آ واز میں سمجھانے والے انداز سے کہا

” میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے۔ میں تمہیں پانا چاہتا ہوں بس۔“ اس نے اعتراف کرلیا

” وہی نا ، یہ سوچے بغیر کہ سامنے والا کیا سوچ رکھتا ہے ، کیسے جذبات ہیں ،اس کے حالات کیا ہیں اور خاص طور پر وہ محبت بھی کرتا ہے کہ نہیں؟“ اس نے سکون سے سوال کیا

”میں جانتا ہوں کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو ، کون کسی کے لئے جان دیتا ہے ۔ایسا تو وہی کر سکتا ہے جو کسی سے عشق کرتا ہے۔“طاہر نے انتہائی جذباتی لہجے میں کہا

”تم نے فرض کر لیا کہ مجھے تم سے عشق ہے ؟“ اس نے پوچھا

”تو اور کیا سمجھوں ؟“ اس نے جواب دینے کی بجائے سوال کر دیا

”میں نے تمہیں بتا دیاہے کہ میں عشق کے کس مقام پر کھڑی ہوں ۔پھر بھی تم ….“وہ کہنا چاہ رہی تھی وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے تیزی سے بولا

” تو میرا عشق ، اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے ؟“

اس پر آ یت دھیرے سے مسکرا دی ۔وہ چند لمحے سوچتی رہی پھر بولی

” عام طور پر یہی کہا جاتا ہے ، عورت جب حد سے زیادہ مہربان ہو تی ہے تو اپنا آ پ سونپ دیتی ہے ۔ہوتا ہوگا،مگر۔! یہ وہی عام سطحی سی بات ہے ، عورت پن کی عام سی بات ، میری سوچ اس سے کہیں اوپر انسان سے شروع ہوتی ہے ، جہاں نہ عورت ہوتی ہے اور نہ مرد ہوتا ہے، صرف انسان ہوتا ہے ۔“

” تم کہنا کیا چاہ رہی ہو ؟“اس نے پوچھا

” میں تمہیں کچھ سمجھانا چاہ رہی ہو اگر تم میر ی بات پر غور کرو۔“ وہ بولی

” بولو۔“ اس نے آ یت کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

”ایک وقت تھا ، جب میرا عشق بھی محدود تھا۔میں ایک ہی انسان کو اس کی حدود سمجھتی تھی ۔جیسے جیسے میں اپنے عشق میں آگے بڑھتی گئی ،مجھے اندازہ ہوا ایک انسان کی محبت اور پوری کائنات کی محبت ایک ہی شے ہے۔‘اس لئے میںنے بھی تمہارے لئے جان کی بازی لگا دی ۔“ آیت اتنا کہہ کر رک گئی

”مطلب میں ابھی محدود ہوں اپنے عشق میں ؟“ وہ سوچتے ہوئے لہجے میں بولا

”عشق کا یہ خاصہ ہے، جو لوگ یہاں سے گزرتے ہیں وہی عشق کی معراج پاتے ہیں،اگر تم میرے عشق کو سمجھنا چاہتے ہو یہاں سے گزرنا ہوگا۔اگر تم اس مسافت سے گزر گئے یا اسی پر قائم ہی رہ گئے تو تمہیں اس کی حقیقت سمجھ میں آ جائے گی ۔“اس نے لفظ لفظ سمجھاتے ہوئے کہا

” کیا یہ میرے لئے سبق ہے؟“اس نے پوچھا

”اگر تم عشق کا دعوی کرتے ہو ،اور خود کی تکمیل بھی چاہتے ہو تو یہ تمہاری تکمیل کے لئے ضروری ہے، نامکمل عشق کا کیا فائدہ جب تک جگر کا خون نہ ہو جائے ، نقش نامکمل رہتا ہے۔“آیت نے سمجھایا

” میں تم سے عشق کرتا ہوں ، یہ مجھے پتہ ہے،تم میرے سامنے ہو ۔منزل میرے سامنے ہے تو ….“ اس نے کہنا چاہا تو وہ بات قطع کرتے ہوئے تیزی سے بولی

” میں تمہاری منزل نہیں،تمہیں اپنی تکمیل کرنا ہے۔“

” تو اس کے لئے کیا کرنا ہوگا مجھے،کیا تم مجھے آ زمانا چاہتی ہو ؟“ اس نے ایک عزم سے کہا

”تمہارے خیال میں مجھے پا لینا ہی عشق کی تکمیل ہے؟“ اس نے پوچھا

” مجھے بس تمہیں پانا ہے ، چاہو تو آ زمالو ؟“اس نے حتمی لہجے میں کہا

” اگر تمہیں عشق کا دعوی ہے تو پھر میں جو کہوں گی مان لو گے ؟“آیت نے سکون سے پوچھا

” ہاں ، کہہ کر تو دیکھو۔“ اس نے صوفے سے ٹیک چھوڑتے ہوئے اشتیاق سے پوچھا

” تو پھر تم رابعہ سے شادی کر لو ۔“ اس نے نہایت سکون سے کہہ دیا۔ تو وہ اس کی طرف شدید حیرت سے دیکھنے لگا۔جیسے اس نے کوئی انہونی بات کہہ دی ہو ۔ایسی انہونی بات جس کا کوئی جواز ہی نہ ہو ۔پھر جیسے وہ کومے سے نکلا ہو ، اس نے چیختے ہوئے کہا

” یہ کیاکہہ رہی ہو تم ؟ ایسا مذاق مت کرو جو میری برداشت سے باہر ہو ۔“

” میں مذاق نہیں کررہی ۔“ اس بار وہ انتہائی سنجیدگی سے بولی

 ”نہیں ، یہ میرا مذاق اڑانے سوا دوسرا کچھ نہیںہے۔“ وہ رندھے ہوئے لہجے میںبولا

” میں پورے ہوش حواس سے انتہائی ذمہ داری سے یہ بات کہہ رہی ہوں طاہر۔“ اس بار جب اس نے قدرے دبدبے سے کہا تو وہ اس کی طرف حیرت سے دیکھنے لگا۔پھر سرسراتے ہوئے بولا

” یہ تم کیا کہہ رہی ہو ؟“

”میں وہی کہہ رہی ہو ، جس کے بارے میں ایک دن تم نے سوال کیا تھا؟“

” میرا سوال ، وہ کیا؟“ اس نے انتہائی تجسس سے پوچھا

” کیا تمہیں یاد ہے ایک بار تم نے کہا تھا کہ اگر میں یہ کہوں کہ دو عاشق ایک عشق پر جمع نہیںہو سکتے ؟ اس پر تم کیا کہو گی؟ یاد ہے طاہر؟“یہ پوچھتے ہوئے وہ ہلکے سے مسکرا دی ، پھر اسی سکون سے بولی،” اور میں نے کہا تھا کہ پہلے تم عاشق توبن جاﺅ ، پھر کسی دوسرے کے عشق پر جمع ہو نے کی سوچنا۔“

” آ ں ،ہاں، یاد ہے اور میںبولا تھا میں تیار ہوں ، مجھے آ زما سکتی ہو ۔“ اس نے دھیمے سے کہا

” اب تمہیں عشق کا دعوی بھی ہے ، تو آ ﺅ ایک عشق پر جمع ہوتے ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ ایک ثانئے کو رُکی پھر بولی،”سرمد میرا عشق ہے ، میرے عشق سے عشق کرکے دکھاﺅ ۔“ وہ یوں کہہ رہی تھی جیسے کہیں اندر سے بول رہی ہو ، اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا۔

” یہ …. امتحان ہے ؟“ وہ ہولے سے بولا

”نہیں ،عشق کی راہ دکھا رہی ہوں ، چل سکتے ہو تو چلو ، ورنہ یہیں سے مڑ جاﺅ اپنی دنیا میں۔“ اس نے سکون سے کہا تو وہ یوں بولا جیسے کسی بچے سے کوئی کھلونا چھن گیاہو ۔

” میرا انتظار کرو گی ؟“

” مجھے انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ۔ جہاں میں کھڑی ہوں،یہاں اس مقام تک آ نا اب تمہارا کام ہے ، میرا نہیں۔دیر یا وقفہ تمہاری طرف سے ہوگا۔ میری طرف سے نہیں۔جب بھی اس مقام کو پالو گے ، مجھے اپنا پاﺅ گے ۔“ وہ سکون سے بولی

” یہ کس مقام پر لا کھڑا کیا ہے تم نے ۔“ وہ سوچتے ہوئے بولا

” سوچ لو ، اچھی طرح سوچ لو ۔اس راہ میں بڑی دشواریاں ہیں،پلٹ سکتے ہو تو پلٹ جاﺅ ،ابھی وقت تمہارے ہاتھ میں ہے ۔“اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو خاموش رہا ۔

”ٹھیک ہے میں سوچتا ہوں ۔“ اس نے کہا تو آ یت اٹھ گئی ، پھر باہر کی جانب مڑتے ہوئے بولی

” جب اچھی طرح سوچ لو تو مجھے بتا دینا۔“ یہ کہہ کر وہ باہر کی جانب چل دی ۔اس نے ایک بڑا بوجھ خود پر سے ہٹتے ہوئے محسوس کیا تھا ۔

ز….ژ….ز

اس دن طاہر کو شدت سے یہ احساس ہو رہا تھا کہ اس نے اب تک سید ذیشان رسول شاہ صاحب سے براہ راست رابطہ کیوں نہیںکیا۔آیت اس کے لئے جو اک نیا امتحان بن گئی تھی۔ وہ اس کے بارے میںجاننے کے بے تاب تھا۔وہ فیصلہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ کیا کرے؟ وہ اس بات کو تو سمجھ رہا تھا کہ عشق کی روایات میں مشکل ہی مشکل ہے۔ لیکن اس قدرصبر آ زما کہ محبوب سامنے رہے اور وہ اس کا نہ ہو ؟وہ ساری الجھنوں کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ من میں چھڑی جنگ کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ ہار جیت کا فیصلہ چاہے کسی فریق کا ہو ،میدان جنگ میں تباہی ضرور آ تی ہے ۔وہ اپنے خلوص کے بارے میں پوری طرح جانتا تھا۔عصر کے وقت تک وہ جہاں اس بارے سوچتا رہا ، وہاں شاہ صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش میں بھی لگا رہا۔ عصر کے بعد اسے ملاقات کی اجازت مل گئی تو وہ وہاں جا پہنچا ۔

اس وقت شاہ صاحب کے کمرے کے باہر ٹہلتے ہوئے اسے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ اسے اندر سے بلاوا آ گیا۔خدمت گار نے اسے اندر بلا لیا۔شاہ صاحب صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے بڑے نودب انداز میں مصافحہ کیا اور سامنے دھرے صوفے پر بیٹھ گیا۔کچھ دیر یونہی الیکشن کی باتوں کے بعد انہوں نے کہا

” جی حکم ، کیسے آ نا ہوا ؟“

” حضور ، میں آ پ کا زیادہ وقت نہیںلوںگا، بس ایک دو باتیںہیں،جن کے جواب پر میں کوئی فیصلہ کرنا چاہتا ہوں۔“

” بولیں، بات کریں۔“ انہوں نے نہایت شفقت سے کہا

”حضور یہ عشق آ خر چاہتا کیا ہے ؟عشق ہی انسان کی ذات کا مرکز کیوں بن جاتا ہے ۔“ اس نے الجھتے ہوئے کہا تو شاہ صاحب مسکرا دئیے ۔

”میاں بات یہ ہے ، میں ہوں ، آ پ ہو ، ہم اپنی ذات میں انسان ہیں۔ہماری پہچان ہماری صفات سے ہو گی ۔ اس لئے انسان کہہ دینا ہی کافی ہوگا ۔ سو ذات نہیں ، افعال پر غور کرنا چاہئے ۔چونکہ پہچان صفت سے ہے ، اس کے لئے صفت کو سمجھنا ضروری ہے ۔ اب صفت کیا ہے ؟“ یہ کہہ کر وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے رُک گئے ۔

 ” یہی کہ کوئی بھی صلاحیت۔“اس نے الجھتے ہوئے کہا

” چلیں ہم اس کو یوں سمجھتے ہیں کہ صفت ایک مثبت لفظ ہے ، اور اس کا متضاد ہوگا خامی ایک منفی لفظ ہے ۔ہم کبھی بھی جھوٹ کو صلاحیت نہیں مانتے یا اسے خوبی نہیںکہیں گے ۔ جبکہ سچ کو خوبی یا صفت تصور کیا جاتا ہے۔اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ میں کس تناظر میں بات کر رہاہوں۔کیا آ پ سمجھ رہے ہیں؟“ شاہ صاحب نے سمجھاتے ہوئے پوچھا کیونکہ طاہر بہت بے چین سا ہو رہا تھا۔ اس لئے جلدی سے بولا

” جی ، جی شاہ صاحب میں سمجھ رہا ہوں۔“

” منفی شے صفت نہیں،صفت کا مطلب ہی مثبت ہے ۔ سو مثبت صفات کا مجموعہ عشق ہے۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئے پھر بولے۔” جو انسان ذات کی صفات کو مثبت لے رہا ہے ،دراصل وہ عام آ دمی سے اعلیٰ انسان بن رہا ہے ۔ عام آ دمی سے اعلیٰ انسان تک کا سفر صرف ایک ہی قوت سے ہوتا ہے اور وہ ہے عشق ۔“ شاہ صاحب نے سکون سے سمجھایا

”بندہ مخلص بھی ہو ، عاشق بھی ہو اور عشق کے سفر پر چل بھی پڑے تو پھر وصال کا خوف کیوں لاحق ہو جاتا ہے کہ میرا محبوب مجھے چھوڑ جائے گا ،میرا معشوق مجھ سے دور ہو جائے گا۔“طاہر نے الجھتے ہوئے پوچھا

”ایک ہوتی ہے محبت اور ایک ہوتی ہے شدید محبت۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ شدید محبت یعنی عشق جب آ جاتا ہے توپھر ہجر و وصال کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی ۔دیکھیں جیسے ہم رَبّ تعالیٰ کو چھو سکنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے لیکن پھر بھی شدید محبت کرتے ہیں۔محبت میں ڈرنا سمجھ میں آ تا ہے ، پیار میں اگر کوئی ڈرتا ہے کہ میرا محبوب مجھ سے ناراض ہی نہ ہو جائے تو اس محبت کو نبھاہے رکھنے کی پوری کوشش ہے ۔عشق میں ڈرنا مزید قربت کا باعث ہے ۔“ شاہ صاحب نے سمجھایا۔

”ہمیں عشق کا پتہ کیسے چلتا ہے ؟“اس نے پوچھا

”جس طرح صفات پر غور کرنے سے ذات کا علم ہو جاتا ہے ، اور جس طرح ساری صفات مثبت پہلو لئے ہوئے ہوں تو اس مجموعے کو عشق کہتے ہیں ، اسی طرح عشق کا ظہور صفت سے ہوتا ہے ۔جو عشق صفت سے ظاہر نہیں ہوتا ، وہ عشق نہیں کچھ دوسرا ہو سکتا ہے ۔“ شاہ صاحب نے جواب دیا

” ہم یہ کیسے جان پائیں گے کہ ہمارے اندر عشق کس حد تک ہے ، مطلب کس مقام پر کھڑے ہیں؟“ اس نے پوچھا

”ہمیں اپنا آ پ دیکھنے کے لئے آ ئینے کی ضرورت ہوتی ہے۔عشق کی شروعات ہمیں سے شروع ہوتی ہے اور ہم عشق کی لامحدود وسعتوں میں خود کو پا لیتے ہیں۔عشق وہاں سے شروع ہوتا ہے ، جب بندہ اپنی جان سے گزرتا ہے ۔ عشق کی حقیقت ایک حقیقی زندگی ہے ۔ اس کے لئے مصنوعی زندگی کو چھوڑنا پڑے گا ۔اگر نہیںچھوڑے گا تو حقیقت کو نہیں پا سکے گا ۔یہ سب اس کی صفات سے ظاہر ہوگا ، جسے کردار کہتے ہیں۔وہیں سے ہر بات سمجھ میں آ تی ہے ۔“ شاہ صاحب نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے سمجھایا

” آ خر آ ئینہ ہی کیوں؟کیا اس طرح انسان محدود ہو کر نہیں رہ جاتا؟“اس نے پوچھا

” عشق تو لامحدود ہے ۔مثال کے طور پر اگر اپنے آ پ سے محبت ایک صفت سمجھ لیں توانسان نہ صرف دوسرے انسان سے جڑتا ہے بلکہ کائنات تک سے خود کو جڑا ہو ا پاتا ہے ۔ جس طرح کائنات لامحدود ہے ،اسی طرح اپنے آ پ سے عشق لامحدود ہو جاتی ہے ۔ ہم خود کو دوسرے انسان کے آ ئینے میں دیکھتے ہیں، کائنات کے آ ئینے میں دیکھتے ہیں۔ اپنے ا ٓپ سے محبت نرگسیت بھی ہے اور یہ ایک بیماری ہے ۔ جو ظاہر ہے خامیوں کی طرف لے کر جائے گی ۔ “

” جی بہت مہربانی ،اب مجھے فیصلہ کرنے میں آ سانی ہوگی ۔“ طاہر نے سکون سے کہا

” رَبّ تعالیٰ آ پ کے لئے آ سانیاں پیدا فرمائے ۔“ شاہ صاحب نے فرمایا تو اس نے اجازت چاہی ، جو مل گئی ۔ وہ سلام کر کے وہاں سے نکل پڑا۔

ز….ژ….ز

اس دن تیز ہوا چل رہی تھی۔آسمان پر سفید بادل تیرتے ہوئے ایک طرف سے دوسری جانب جا رہے تھے۔دھوپ اور سائے کی آ نکھ مچولی چل رہی تھی۔آیت کے آ فس میں لنچ بریک ہو چکا تھا۔ وہ اپنے آفس کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔اس کے ذہن پر طاہر کا رویہ چھایا ہوا تھا۔وہ جانتی تھی کہ اس کا ردعمل کیا ہوگا ۔ یہ بڑا نازک مرحلہ تھا۔ بہت سارے سوال پیدا ہو جانے والے تھے۔ وہ اس سے بہت ساری باتیں کر سکتا تھا۔لیکن وہ پر سکون تھی۔وہ یہی سوچ رہی تھی اس مرحلے پر اسے سنبھالنا کیسے ہے ۔

آفس بوائے سائیڈٹیبل پر لنچ کے لئے برتن رکھ رہا تھا۔وہ اپنی کرسی سے اٹھنے ہی والی تھی کہ انٹرکام بج اٹھا۔اس نے ریسور اٹھایا تو استقبالیہ سے طاہر کی آ مد کی اطلا ع تھی ۔وہ وہاں پر رُکا نہیںتھا بلکہ سیدھا لفٹ میں چلا گیا تھا۔ کیونکہ آ یت نے اس کے بارے میں استقبالیہ کو ہدایت دے دی ہوئی تھی ۔جہاں سے اسے طاہر کے آ نے کے بارے میں اطلاع مل گئی ۔وہ چند منٹ میں اس کے پاس آ جانے والا تھا۔وہ کر سی سے اٹھی اور صوفے کی جانب بڑھ گئی ۔

طاہر اس کے سامنے تھا۔انتہائی ہشاش بشاش، تروتازہ اور چہرے پر ہلکی سے مسکان بکھری ہوئی تھی۔ وہ علیک سلیک کے بعد اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔آیت کو اس وقت وہ بہت اچھا لگا تھا۔ایک پیار بھری لہر اس کے اندر سے امڈ آئی تھی ۔وہ اس وقت تک خاموش رہا ، جب تک آفس بوائے نے کھانا نہیںچن دیا۔آیت جانتی تھی کہ وہ آ یا ہے تو کوئی نہ کوئی بات تو ضرور کرے گا مگراس نے کہا

”طاہر ، بسم اللہ کرو ۔“

اس پر وہ ایک لفظ بولے بغیر کھانے میں شامل ہو گیا۔اس دوران ان میں کوئی بات نہیں ہوئی ، جب وہ لنچ لے چکے تو چائے کا سپ لیتے ہوئے طاہر بولا

” آیت میں نے تمہاری بات پر بہت سوچا ، مجھے تمہاری بات مان لینے میں کوئی اعتراض نہیں ۔ لیکن ۔ ! کچھ باتیں ایسی ہیں جو بہر حال وضاحت طلب ہیں ،اور اس کی وضاحت صرف تم ہی کر سکتی ہو ۔“

” بولو، کیا کہنا چاہتے ہو۔“ وہ اطمینان سے بولی

”کیا ایسا نہیںہے کہ میں اپنے عشق پر ثابت قدم رہتا،کوئی سمجھوتہ نہ کرتا،تو ایک سچا عاشق ثابت ہوتا؟ دوسرے لفظوں میں اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ میںنے اگر تمہاری بات مان لی تو میرا یہ عمل خود بتا رہاہے کہ میں اپنے عشق میںجھوٹا ہوں۔تمہیںچھوڑ کر رابعہ کی طرف جھک گیا۔ممکن ہے کل تمہی کہو کہ میںنے تمہیںچھوڑا اور اس کی جانب راغب ہو گیا۔“ اس نے سمجھانے والے انداز میںکہا

 ”کیونکہ میں یہ کہہ ہی نہیں، بلکہ عشق میں تمہیں اگلے قدم کی جانب بڑھنے کا راستہ دے رہی ہوں۔“ وہ پھر اسی اطمینان ہی سے بولی

” میں نے مان لی تمہاری بات مگر، مجھے یہ تو سمجھا دو آ خر وہ کون سی ایسی چیز ہے جس کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوگا کہ رابعہ سے شادی کرنا عشق میں اگلا قدم ہے ۔“ اس کے لہجے میں کافی حد تک طنز تھا جس پر وہ مسکرانے والے انداز میں اس کی طرف دیکھتی رہی پھر بولی

”کوئی بھی محبت ہے اگر اس میں قربانی نہیںتو وہ نری نفسانیت ہے۔مجھے تمہارے عشق کے دعوی پر بھی کوئی اعتراض نہیں، لیکن تم اپنی قبول ترین شے قربان کرو ۔ میری محبت تمہیں سب سے زیادہ قبول ہے تو اسے قربان کر کے دکھاﺅ۔اگر تم اسے قربان کر سکتے ہو تو میںسمجھو گی کہ تم واقعی مجھ سے محبت کرتے ہو ۔قربانی کے بغیر ممکن ہی نہیںہے کہ عشق میں ارتقاءپیدا ہو سکے ۔“

”قربانی، میں سمجھا نہیں؟“ اس نے تیزی سے پوچھا

”عشق میں قربانی نہ ہو تو ثابت ہی نہیںہوتا۔بنا قربانی کے جو بھی، جتنا بھی عشق کا دعویدار ہے وہ غلط ہے۔اگر قربانی کے مراحل سے نہیںگزرا تو اس کا عشق باطل ہے۔“ اس نے سکون سے سمجھایا۔

” ایسی بھی کیا قربانی آ یت، جس میں تیرا اور میرا ملنا محال بلکہ ناممکن ہو جائے ۔“ اس نے جھنجھلاتے ہوئے کہا تو وہ خوشگوار لہجے میں بولی

” عشق کی وہی داستان امر ہوئی ہے جس میں قربانی تھی۔ اگر تمہارا عشق سچا ہے۔تو پھر قدرت ہمیں ملائے گی ۔قدرت اس عمل کو ، حالات کو ،خود بخود سچائی کی جانب لے کر جائے گی ۔نیچر خود بخود اس کا راستہ بنا دے گی ۔یہ ممکن نہیں کہ ہم پورے خلوص کے ساتھ زمین ہموار کریں، بیج پھینک دیں اور بارش نہ ہو اور پھر فصل نہ اُگے۔“ اس نے پورے جذب سے کہا پھر لمحہ بھر رُک کر بولی،”تم قربانی کو تو دیکھ رہے ہو ، اس کا اصل مقصد جاننے کی کوشش نہیںکر رہے ہو ۔“

” کیا ہے اصل مقصد ، جبکہ میں ….“ اس نے کہنا چاہا تو وہ بات کاٹتے ہوئے بولی

” یہاں تمہارے نفس کی قربانی ہے ، کیونکہ نفس کی قربانی دئیے بغیر عشق حقیقی کا حصول ممکن نہیں۔ ہمارے نزدیک عشق کی ضد شرک ہے ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ جذباتی ہو گئی ۔ اس کا چہرہ سرخ ہو گیا

” یہ کیا کہہ رہی ہو تم ؟“ اس نے چونکتے ہوئے پوچھا

”نفس سے مانگنا شرک ہے ۔عشق کی ضد شرک ہے ،نفرت تو بہت چھوٹا لفظ ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رکی پھر کہتی چلی گئی ،” سنو ، ایک آ یت مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اے محمدﷺ آپ نے اس شخص کو نہیںدیکھاکہ اس نے اپنی خواہش(نفس) کو اپنا حقیقی معبود بنا لیا۔ اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کر دیا۔اور اس کے کانوں پر مہر لگا دی ۔اور اس کے دل پر اور کر دیا پردہ اس کی بینائی پر ۔ پس کون ہے جو اللہ کے سوا اسے ہدایت دے۔کیا تم لوگ پند و نصیحت کو نہیںپکڑتے ۔یہ ہے بات ۔“

” یہ تم مذہبی بات کہہ رہی ہو۔“ اس نے تیزی سے کہا

” تو کیا ہم دین سے الگ ہیں؟ یہی دین ہے جو سکھاتا ہے کہ جینا کیسے ہے ؟“

 ”ٹھیک ہے ، میں تمہاری یہ بات بھی مان لیتا ہوں لیکن….“ وہ کہتے کہتے رُک گیا

” لیکن کیا ؟“ اس نے پوچھا

”جب تم رہو گی بھی میرے سامنے ، الگ بھی نہیں ہوگی، میرے برابر کھڑی ہو گی ،تمہارے ہی لفظوں میں ہم ایک ہی عشق پر جمع ہو جائیں گے تو پھر یہ قربانی دینے کا مقصد کیا ہے ؟“ اس نے پوچھا

”کیا شرک کر نے کے لئے یا توحید پر قائم رہنے کے لئے کسی دوسرے بندے کی ضرورت پڑتی ہے ؟“ اس نے سوال کر دیا تو وہ بولا

” میرا خیال ہے یقینا نہیں۔“

” ایک شخص چاہے وہ دنیا میں اکیلا ہے ، اس کے ساتھ کوئی دوسرا بندہ نہیںہے ،اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مشرک نہیں ہو سکتا ، یا توحید کا ماننے والا نہ ہو ۔سنو۔!نفس کی عبادت شرک ہے ،درحقیقت جس شے کو تم عشق کہہ رہے ہو ،وہ نفرت ہے،جب تک نفس کی گردن پر چھری نہیںچلے گی ، تب تک نفرت ختم نہیںہوگی۔یہ نفس قربان ہو گا تو عشق اپنی سچائی کے ساتھ حقیقی صورت میں سامنے آ ئے گا ۔“

” میں کہاں سے نفرت کر رہاہوں ۔“ وہ تیزی اور حیرت سے بولا

”جس طرح ریاکاری ،شرک ہے ،جھوٹی عبادت کرنے والے لوگ،وہ لوگ جو ریا کاری کا شکار ہیں،وہ خود شکار ہو تا ہے ،نفس سے محبت ،محبت نہیں،دراصل وہ بد ترین نفرت ہے ،جو وہ اپنے آ پ سے کر رہا ہے ۔اگر کوئی چھپ کر بھی اپنے نفس کی خاطر عبادت کررہا ہے تو دراصل وہ ریا کاری ہے ۔ کیونکہ محبت عین عبادت ہے ۔“وہ سمجھانے والے انداز میں بولی

” میںنے تم سے عشق کیا ہے ، اس میں میری ریا کاری کیا ہے ؟“

” میری نہیں اپنے عشق کی بات کرو ۔میں اگر کرتی تو کوئی اور بات کہتی ۔“آیت نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ سنجیدگی سے بولا

” میںبھی تو سنوں ، تم کیا کہہ سکتی ہو ؟“

وہ چند لمحے سوچتی رہی ، جیسے خیال جمع کر رہی ہو ، پھر بولی

”تم میری کسی بھی بات سے متا ثر ہو ئے ، اسے حسن کہو ، رویہ کہو یا جو بھی کہو ،یا کسی بھی شے سے متاثر ہو کر عشق کے دعویدار ہوئے ، مطلب کوئی نہ کوئی صلاحیت ، کوالٹی دیکھ کر ۔اگر مجھ سے بہت باصلاحیت یا کوالٹی والی لڑکی تمہیں مل جائے تو کیا تم اس کی طرف ملتفت ہو جاﺅ گے ؟“

” نہیں، ایسانہیں، یہ کیا بات کر رہی ہو ؟“ وہ ماتھے پر تیوریاں چڑھاتے ہوئے بولا

 ” فرض کرو ،مل جاتی ہے ،تو کیا تم اس کی محبت کا دم بھرنے لگو گے ۔خوب سے خوب تر کی تلاش میں بڑے بڑے پھسل جاتے ہیں۔میرے پاس کوئی تو ایسی کسوٹی ہو نی چاہئے مجھے یہ یقین ہو کہ تم مجھے نہیںچھوڑ سکتے ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” میں تمہاری بات بالکل نہیںسمجھ رہا ۔“ اس نے بے چارگی سے کہا

”تم مجھ سے عشق کرتے ہو یا میری صلاحیتوں سے۔ اگر تم مجھ سے عشق کرتے ہو تو پھر تمہارے سامنے جتنی مرضی حسین باصلاحیت لڑکی جلوہ گر ہو جائے تم میرے رہو گے ، اس بات کا یقین تمہارا عشق ثابت کرے گا ۔ عشق یہ ثابت کرے گا کہ تم حسن سے بھی بے نیاز ہو ۔“

یہ بات سن کر طاہر ٹھٹک گیا ، وہ سوچنے لگا، پھر دھیمے سے لہجے میں بولا

” یہ بات کہ تم حسن سے بھی بے نیاز ہو…. شاہ صاحب والی نہیں، مطلب تم کہنا چاہتی ہو کہ عشق بے رنگ ہے کہ نہیں؟“

” بالکل ، میں یہی کہنا چاہتی ہوں۔“ اس نے کہا تو طاہر دبے دبے جوش سے بولا

” آ یت میں کس شے سے متاثر ہوا تھا ، یہ وقت بتائے گا یا تم خود بتاﺅ گی ۔یہ بھی وقت بتائے گا کہ میں کسی سے متاثر ہوا یا نہیں،اور …. میرا عشق کیسا ہے ۔کون سا حسن میرے سامنے آ تا ہے اور کس حسن کو میں اپنے سامنے دیکھنا چاہوںگا ۔ڈن ہو گیا

کیا ڈن ہو گیا ؟“ اس نے خوشگوار لہجے میں پوچھا”

” تم جب چاہے ، میرا نکاح رابعہ سے پڑھوا دو۔مجھے منظور ہے۔“ یہ کہہ کر سامنے مگ میں پڑی ٹھنڈی چائے ایک ہی سانس میں پی گیا۔جبکہ آ یت کے چہرے پر ایک الوہی چمک در آ ئی تھی ۔چائے کا مگ رکھ کر اس نے آ یت کے چہرے پر دیکھا، چند لمحے مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا ، پھر ایک دم اٹھ کر بولا

” میں چلتا ہوں ۔ مجھے کال کر دینا۔ اللہ حافظ ۔“

” اللہ حافظ ۔“ آ یت نے دھیمے سے لہجے میں کہا تو وہ آ فس سے نکلتا چلا گیا

جاری ہے۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بے رنگ پیا۔۔۔امجد جاوید۔۔۔قسط نمبر 11

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 11 شہر سے باہر بنائی گئی جھیل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے