سر ورق / افسانہ / کٹوری…روما رضوی 

کٹوری…روما رضوی 

کٹوری

روما رضوی

"کہتے ہیں۔۔۔۔” آزادی سب کو ہی بہت عزیز ہوتی ہے”

۔۔۔۔۔بھلے روکھی سوکھی کھا کر چین کی نیند ہو ۔۔اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔۔۔۔۔ قید پرندے آزادی کے دن کبھی نہیں بھولتے”

۔۔۔قصہ کہنے والی نے انگڑائی لی اور آنکھوں کو افق پر جماتے ہوئے کہا۔۔۔۔

 دور افق پر آزادی سے اڑتی چڑیاں ۔۔۔۔

چہچہاتی بل کھاتی سب کو ہی اچھی نظر آتیں ۔۔۔۔ کبھی درختوں کی ایک سے دوسری شاخ پر ناچتی پھرتیں۔۔۔ہوا بھی ان کے پروں پر پیار سے تھپتھپاتی۔۔۔اور ان کو ذرا اور آگے دھکیل دیتی ۔۔۔پتے انکی شرارت پر کھل کھلا کر ہنس دیتے۔۔ پھر جب وہ ایک دوسرے کے سروں پر پھدکتیں۔۔ چڑھتیں۔۔ چونچ سے پانی بھر کر پھنکتیں تو دیکھنے والے بچوں کے ننھے ننھے باتھ ان تماشوں پر تالیاں بجانے لگتے۔۔ اور ایسے میں ۔۔۔پانی سے بھرے تالاب جوش مارتی لہروں سے موج میں آجاتے۔۔۔۔بہار کا موسم تو جیسے ان کے نغموں کے راگ ہی چھیڑ دیتا ۔۔۔چمکیلی صبح نمودار ہوتی ۔۔۔تو سورج کی پہلی کرن کے ساتھ گلے صاف کرتیں قطار در قطار چڑیاں سبز کونپلوں سے بھری شاخوں پر آ بیٹھتیں۔۔۔۔جھنڈ کے جھنڈ اپنے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے نمکین فضا میں نغمے بکھیر دیتے۔۔۔ روشن دن شام ڈھلنے تک گہما گہمی کا شکار رہتا ۔۔۔ کھڑکیوں سے جھانکتی کنواریاں مٹھی بھر بھر کے میدانوں میں دانے بکھیرتی نظر آتیں۔۔۔

پنکھ پکھیروں دانہ چگتے تو بوڑھے ہاتھ بھی دعاووں کے لئیے اٹھ جاتے ۔۔۔قدرت اپنی اس تخلیق پر ناز کرنے لگتی۔۔۔۔دن بھر روشن سورج کی گرم ہوا بھی انکے پروں کی چھاوں میں آگ برسانا بھول جاتی۔

پھر موسم بدلتے بہار سے گرمی اپنے روپ دکھاتی مگر ان کی آوازوں سے ۔۔۔۔بہار کا موسم نہ ھوتے ھوئے بھی ہر جانب بہار لگتی۔۔۔پتے سر اٹھا کر الاپتے۔۔ تو ٹہنیوں میں چھپی دبیز شبنم کی تہہ موتی برسانے لگتی۔۔

اس خوبصورت ماحول میں ہی کچھ فاصلے پر موجود گھر میں ایک زنگ آلود پنجرہ بہت ہی حسرت سے یہ سب رونقیں دیکھا کرتا ۔۔۔ چڑیوں کی چہچہاہٹ ان کے پھیلے پر ۔۔اس کی راتوں کی نیندیں حرام کر رکھتے تھے ۔۔ چڑیاں یوں بھی کسی کی پرواہ کہاں کرتی تھیں۔۔ایک ڈال سے دوسری۔۔ پھر تیسری پر پھدکنا ۔۔۔پھسلنا بات بے بات چہکنا جاری تھا ۔۔۔۔۔۔کچھ عرصہ اور یہ سب کچھ ویسے ھی رہتا کہ چڑیوں کے پسند کرنے والے بھی ان کی تاک میں رکنے لگے ۔۔۔وہ جال ڈالتے ۔۔۔ دانہ پھینکتے۔۔۔اور دو چار کو اپنے ڈبوں میں بند کر کے لے جاتے۔۔۔۔پروں کے رنگتے اور دیس بدیس ان کا سودا کرنے لگتے۔۔۔چڑیوں کے غول میں ایک دم کمی ھوگئی ۔۔۔ان کی چہچہاہٹ کبھی کبھی سنائی دیتی۔۔۔

پھر کچھ ہی دن میں سب نے دیکھا کہ بھورے گدلے سخت ٹھنڈی سلاخوں والے  پنجرے کی قسمت بھی بدلی ۔۔اس کی سیاہی مائل سلاخوں کو بھی رنگ دیا گیا۔۔۔دانے ڈنکے سے بھری کٹوریاں پنجرے میں رکھ دی گئیں ۔۔۔۔۔۔پھر۔۔۔ سنہری پنجرے میں قید پہلی ننھی منی پھدکتی ھوئی چڑیا زوروں سے پھڑپھڑائی۔۔۔۔پروں کو زور سے کھولتی اور پھر سمیٹ لیتی یا پھر جالیوں سے ٹکرا کر اپنی ننھی سی آواز میں چہچہاتی جو اس کی درد بھری چیخ معلوم ہوتی تھی۔۔۔

کچھ دن گزرے اس نے اب بولنا چھوڑ دیا تھا۔۔۔
اب وہ اپنے پر بھی نہ پھیلاتی۔۔۔۔ دن گزرتے گئے۔۔ اس نے دانہ چگنا چھوڑا۔۔۔۔
پھر۔۔۔ ایک دن۔۔۔صبح اس کو مردہ پاکر ۔۔گھر کے مالک  نے پنجرے سے باہر پھینک دیا۔۔۔اس کی روح آزاد تھی۔۔۔
پنجرے میں دوبارہ ایک نئی چڑیا قید کرلی گئی تھی۔۔۔
جو پھر اڑان بھرنے کو پر تول رہی تھی ۔۔
اور اور ۔۔۔
پھر وہ بھی اسی بھری کٹوری کے دھوکے میں سنہری جالیوں کی بھینٹ چڑھ گئ۔۔۔چند دن دانے کی سنہری کٹوریاں روز بھری جاتیں چڑیا کی آواز گونجتی پھر ۔۔۔ایک دن چڑیا نے بولنا چھوڑا دوسرے دن اس نے دانے پانی سے منہ پھیر لیا ۔۔کچھ دن بعد سڑک کے کنارے مردہ چڑیا کو کوے چونچ میں دبائے کھینچا تانی کرتے نظر آئے

اور دوسری طرف؟؟ ۔۔

دوسری طرف پنجرے پر روغن ہوتا نظر آیا نئی کٹوریاں دانے و پانی سے بھر دی گئیں۔۔پنجرہ پھر سے نئی چڑیا کی راہ تکنے لگا تھا۔۔

اور شاید آخری بار۔۔۔۔ وسیع آسمان پر ہوا کے دوش پر اپنے نرم پروں کو کھولے چہچہاتی پھدکتی کھیلتی۔۔۔۔آزادی سے اڑتی۔۔۔ بے پرواہ ۔۔۔

معصوم ننھی منی چڑیاں ہوا میں ہلکورے لیتی ایل دوسرے کے پیچھے چہچہاتی غول در غول اڑتی نظر آرہی تھیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

نا رسائی : محمد جاوید انور

نا رسائی افسانہ نگار: محمد جاوید انور میرے بھاری جوتے خزاں گزیدہ سوکھے پتوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے