سر ورق / افسانہ /  ” صرف بیٹیوں کو ہی نہیں ” … خالد شیخ طاہری

 ” صرف بیٹیوں کو ہی نہیں ” … خالد شیخ طاہری

 ” صرف بیٹیوں کو ہی نہیں "

از۔ خالد شیخ طاہری

جون کی ایک تپتی ہوئی دوپہر تھی،  آگ برساتے سورج نے ہر شے کو اپنی لیپٹ میں لے رکھا تھا۔ گرم ہواؤں نے ہر ذی نفس کو اپنے اپنے  ٹھکانوں میں محدود سا کر دیا تھا۔ ایسے میں بھلا کون گھر سے نکلتا ہے مگر اچانک  ایک عورت کی چیخ و پکار نے لوگوں کو  گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

لوگوں نے جب وہ منظر دیکھا تو پہلے تو کچھ سمجھ نہیں پائے۔ بھاگے دوڑے جب عورت کے گھر کے نزدیک پہنچے تو عورت محلے کے ایک چودہ سالہ لڑکے کو جو اسکول کے یونیفارم میں ملبوس تھا، ٹائی سے پکڑے چپل سے مار رہی تھی اور ساتھ ساتھ صلواتیں بھی سنا رہی تھی۔

” کہاں ہے تیرا گھر..! چل مجھے بتا..  کیسے ماں باپ ہیں جنہوں نے تجھے عورت کی عزت کرنا نہیں سیکھائی۔ ابھی بتاتی ہوں سب کو تیری حرکت۔ بےغیرت۔ "

” آنٹی معاف کر دیں، مجھے سے غلطی ہوگئی۔” لڑکا ہاتھ جوڑے منمنا رہا تھا۔ محلے کے رہائشی اب عورت کے گھر کے پاس جمع ہو چکے تھے۔

” کیا ہوا بہن؟ ” ایک آواز آئی۔

کیوں مار رہی ہو بچے کو؟ ” دوسری آواز نے عورت کے ہاتھ روک دیئے۔

” اپنی ماں جتنی عورت کی عزت پر ہاتھ ڈالتا ہے۔ شرم نہیں آتی۔ عمر دیکھو.. اور کرتوت دیکھو، بیٹے جیسا سمجھ کر ایک کام کیا بول دیا زبردستی بدتمیزی کرنے لگا.” عورت کے ہاتھ تو رک گئے مگر آنسو جاری ہو گئے۔ سب ہکا بکا رہ گئے محلے کے سب سے معزز شخصیت کا بیٹا ایسا بھی کر سکتا ہے۔ مگر لڑکے کے اقرار نے ساری حقیقت عیاں کر دی تھی۔

محلے کے ایک مرد نے لڑکے کی جانب غصے سے دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کے ایک تھپڑ رسید کیا۔ دوسرے نے اس کا ساتھ دیا۔ اسی اثناء میں محلے کا ایک دروازہ اور کھولتا ہے، اس سے برآمد ہونے والی ایک کمزور سی عورت نے جب لڑکے کو لوگوں سے پٹتے ہوئے دیکھا تو چیختی ہوئی  مجمع میں پہنچ گئی اور لڑکے کو اپنے سینے لگا لیا۔

"کیوں مار رہے ہو میرے بیٹے کو؟” لڑکے کو اپنی آغوش میں چھپاتے ہوئے ممتا سے لبریز لہجے میں سوال کیا۔

” سکینہ بہن..  تمہارے بیٹے نے محلے میں نئی آنے والی اس خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔”

کسی نے بتایا۔

"نہیں..  نہیں میرا بیٹا ایسا نہیں کر سکتا.. ” کمزور سی عورت کی بیٹے پر مضبوط گرفت اور مضبوط ہو گئی۔ ماں تھی کیسے یقین کر لیتی. مگر سامنے روتی ہوئی عورت کو دیکھ کر بیٹے کو الگ کر کے کندھوں سے پکڑ لیا۔

” کیا کیا ہے تو نے .؟ کیا کہہ رہے ہیں یہ لوگ..؟ بول یہ جھوٹ ہے..! بول تو ایسا نہیں کر سکتا..! ” سکینہ ہیجانی کیفیت میں اب لڑکے کو جھنجھوڑتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

مگر بیٹے کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر دھک سی رہ گئی۔ بیٹے کو وہیں چھوڑ کر زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔ تماشہ دیکھنے والے کچھ منچلوں نے سارے واقعے کو موبائل میں فلم بند کر لیا تھا۔ لڑکے نے اپنی ماں کو زمین پر بیٹھے روتے ہوئے دیکھا تو ایک دھچکا سا اس کے دل پر لگا سامنے باپ کا باریش نورانی چہرہ گھوم گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، اپنی ماں کو اس حال میں کہ وہ ننگے سر گلی کی زمین پر اپنا سر پکڑے رو رہی ہے یہ سب دیکھ کر اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ چاروں طرف سے آنے والی آوازیں اس کا دل چیرے دی رہی تھیں۔ ناجانے اس نے کیا سوچا اور ایک جانب دوڑ لگا دی۔ پیچھے سے آوازیں آ رہی تھیں۔ ” پکڑو..  پکڑو۔” مگر لڑکا بھاگے جا رہا تھا۔  اب اس کے پیچھے نا آوازیں تھیں نا کوئی انسان۔ بھاگتے بھاگتے اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا ۔آنکھوں سے رواں آنسوؤں کو بار بار آستین سے صاف کر رہا تھا۔ بھاگتے بھاگتے وہ اس نہج پر پہنچ گیا آگے جگہ ختم ہو چکی تھی کیونکہ سامنے موڑ کاٹتی نہر کا پانی کناروں سے ٹکرا کر اس کے قدموں کو چھو رہا تھا۔ اس کے دماغ میں چاروں طرف سے آوازیں اور خیالات حملہ کر رہے تھے۔ جن سے بچنے کے لیے اس نے اپنے کانوں پر سختی سے ہاتھ رکھ لیے۔ وہ آگے بڑھا اور پھر سب آوازیں سارے خیالات یکدم ختم ہوگئے ہر طرف خاموشی سی چھا گئی اور نہر کا پانی دوبارہ اپنی راونی سے چلنا لگا۔

                                            ***

دھی دیتے ہوئے تیمور کی نظریں ریحانہ آنٹی کے کھلے گلے کا طواف کر رہی تھیں۔ جو اس حد تک کھولا ہوا تھا کہ کوئی بھی اپنے حواس قائم  نہیں رکھ سکتا تھا تیمور کی نظروں کی تپش ریحانہ آنٹی خود بھی

محسوس کر رہی تھیں۔ وہ چاہتی بھی یہ ہی تھیں کہ یہ پیارا سا کبوتر آہستہ آہستہ جال میں اس طرح پھنسے کہ آزاد ہونے کا سوچ بھی نا سکے۔

آنٹی نے تیمور سے دھی لیا اور مسکرا کر دیکھا۔ تیمور نے فوراً اپنی نظریں جھکا لیں۔

تم بہت اچھے ہو۔” آنٹی کے ہاتھ کی ہتھیلی تیمور کے گال سے ٹکرائی۔ تمیور کا دل یکدم دھڑک اٹھا۔ اس کی اپنی ہتھیلی پسینے میں بھیگ گئی۔

” آنٹی اب میں جاؤں؟” تمیور کی نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھیں۔ اسے گھبراہٹ ہو رہی تھی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہاتھا۔

آنٹی نے غور سے اس کی بدلتی حالت کو دیکھا اور مسکرانے لگیں پھر آگے بڑھ کر تیمور کے سر کو اپنے سینے سے لگا لیا اور اس کے سر پر پیار کر کے بولیں۔

” ہاں..  اب تم جاؤ..  ” تیمور جیسے ہی گرفت سے نکلا تیزی سے موڑا اور دروازے سے نکل گیا۔

                                   *****

یہ کیسا احساس تھا جس نے تیمور کی نیند ہی اڑا دی تھی۔ رات کا ایک بج چکا تھا مگر نیند اس کے آنکھوں سے کوسوں دور تھی بس ایک گداز سا احساس اپنے چہرے پر محسوس کر رہا تھا۔ جو اسے بے سکون کیے ہوئے تھا۔ سوچتے سوچتے ناجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔

صبح اپنے والد ماسٹر تمیز الدین کے ساتھ اسکول جاتے ہوئے جب تیمور آنٹی کے گھر کے پاس سے گزرا تو کل والا سارا منظر اس کی نگاہوں میں کسی فلم کی طرح گھوم گیا۔ ایک نظر باپ کو دیکھا اور جلدی سے گزر گیا۔ اسکول سے واپس تیمور اکثر اکیلے ہی آتا تھا۔ چھٹی کے بعد وہ جلدی جلدی گھر کی جانب بڑھنے لگا۔ ایک خواہش تھی کہ کاش آج پھر آنٹی اس سے کچھ منگوانے کے لیے دروازے پر کھڑی ہوں۔ مگر دروازہ بند دیکھ کر اس کے سارے ارمانوں پر پانی پھیر گیا۔ وہ دروازے کو حسرت سے دیکھتا آگے نکل آیا۔ گھر آکر کھانا کھا کر مدرسے چلا گیا۔ چار بجے جب وہ مدرسے سے گھر پہنچا تو اس کی ماں سکینہ پیالیوں میں کھیر نکال رہی تھی۔ ” اچھا ہوا تو آگیا..  چل اب جلدی جلدی سب گھروں میں دے آ۔” سکینہ نے چار پانچ پیالیاں ایک طشتری میں رکھتے ہوئے کہا اور طشتری تیمور کو تھاما دی۔

تیمور کی جیسے مراد بر آئی۔ تیمور نے جلدی جلدی آس پڑوس کے گھروں میں پیالیاں دیں اور آخری  پیالی کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔ اب اس کے قدم جلدی جلدی آنٹی کے گھر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے اپنی سانسس درست کیں اور دروازہ بجا دیا۔

” کون ہے؟ ” اندر سے  مردانہ آواز نے تیمور کے خواب چکنا چور کر دیے۔ اس کو یاد ہی نہیں رہا تھاکہ اس وقت صابر انکل گھر ہوتے ہیں۔

” جی انکل میں تیمور ہوں..  نیاز کی کھیر دینے آیا ہوں۔” تیمور کو جواب تو دینا تھا۔

صابر انکل نے دروازہ کھولا اور کھیر کی پیالی لے کر اندر چلے گئے۔ تیمور کھولے ہوئے دروازے سے اندر جھانکنے لگا۔

” سنیئے..!  تیمور کو روکنا..  سکینہ کو ایک چیز دینی ہے۔” آنٹی شاید غسل خانے میں تھیں وہیں سے آواز آئی تو تیمور کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔

” بیٹا اندر آجاؤ۔” صابر انکل نے پیالی اسے تھاما کر دروازے میں جگہ بنا دی۔

تیمور اندر آ کر صحن میں کھڑا ہو گیا۔

آنٹی غسل خانے سے بالوں میں تولیہ لپیٹے نکلی دوپٹے سے بے نیاز سراپے نے تیمور کے اندر وہی احساس جاگا دیا جس نے کل سے اس پاگل بنا رکھا تھا۔ آنٹی نے اجنبی نظروں سے اسے دیکھا اور کمرے میں جا کر ایک دوپٹہ لے آٰئیں۔

” اپنی ماں سے کہنا.  اس کے گرد گوٹہ کناری لگا دے..  لیکن یہ مجھے کل دوپہر تک چائیے شام کو میں ایک دعوت میں جاؤں گی۔” آنٹی نے اب دوپٹہ اوڑھ کر سینے پر پھیلا لیا تھا۔

” جی آنٹی.. ” تیمور کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا۔

” یاد سے کل مل جانا چاہیے۔ بلکہ تم ایسا کرنا کل اسکول سے آ کر فوراً مجھے یہ دے جانا..” آنٹی یہ کہہ کر موڑی اور کمرے میں جا کر اندر سے دروازہ بند کر دیا۔

تیمور جلدی سے پلٹا اور نکل آیا۔ تیمور کے دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں اور دل میں باپ کا خوف بھی تھا۔ تمیز الدین اس معاملے میں بہت تیز تھے۔ پانچ وقت کے نمازی ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی مسجد کے خزانچی بھی تھے۔ پورے محلے میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ وہ تو اسے جان سے ہی مار دیتے اور تو اور اس کے نانا  اپنے محلے کی مسجد کے پیش امام تھے۔ اس کی ماں سکینہ روزے نماز کی پابند تھی اور تیمور خود بھی با اخلاق اور شریف لڑکا تھا جو قران پاک ناظرہ پڑھنے کے بعد حفظ کرنے کا سوچ رہا تھا مگر اب اس کے حواس پر آنٹی اور ایک احساس اس طرح مسلط ہو چکے تھے کہ وہ سب کچھ بھول چکا تھا بس اس کے دل و دماغ میں ایک جذبہ بیدار ہو چکا تھا جس کی وہ تکمیل چاہتا تھا۔

                                          ***

گوٹہ کناری والا دوپٹہ تو ایک طرف پڑا تھا، لیکن اس کے ساتھ ایک اور بھی دوپٹہ پڑا تھا۔ اور کمرے کے بیڈ پر لیٹا تیمور لمبی لمبی سانس لے رہا تھا۔ آنٹی پاس لیٹے مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھیں ان کی خود کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں آنکھوں میں گلابی ڈورے تیر رہے تھے۔ انہوں نے خود کو سنبھالا اور بیڈ سے اتر آئیں۔ اپنا دوپٹہ اور کپڑے اُٹھائے اور پہن لیے۔ بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے شوخ لہجے میں بولیں۔

"اب اُٹھ جاؤ راجہ..  اب کیا ایسے ہی لیٹے رہو گئے۔” آنٹی کے لہجے میں بے پناہ محبت سمائی ہوئی تھی۔

تیمور اُٹھا اور کپڑے پہن کر باہر جانے کے لیے تیار ہونے لگا۔

دروازے پر پہنچ کر آنٹی نے تیمور کو سر سے پکڑا ایک مہر ہوس اس کے ہونٹوں پر ثبت کر دی اور دوپٹے کے پیسے دے کر دورازہ کھول دیا۔

تیمور گھر پہنچا تو مدرسے کا وقت نکل چکا تھا۔ اس نے ماں کو پیسے دئیے اور غسل خانے میں گھس گیا۔

                                     ***

لذت و سرور کا یہ احساس اتنا لطیف تھا کہ تمیور کے قدم نا چاہتے ہوئے بھی آنٹی کے گھر کی جانب بڑھ جاتے تھے۔ ہر دوسرے تیسرے دن کسی نا کسی بہانے سے وہ آنٹی کی بے رنگ زندگی میں رنگ بھرنے آ جاتا تھا۔ شروع شروع میں تیمور بہت گھبراتا تھا مگر جب آنٹی اپنی پیش قدمی جاری رکھتیں تو سب کچھ انہیں پر چھوڑ دیتا مگر ایک سال میں ہی آنٹی نے تیمور کو اتنا ہوشیار کر دیا کہ اب آنٹی کو محنت ہی نہیں کرنی پڑتی تھی۔ تیمور وہ وارفتگی دیکھاتا کہ آنٹی نہال سی ہو جاتیں۔ اب تو تیمور کی جیب میں پیسے بھی رہنے لگے تھے جو آنٹی اپنی خوشی سے دیتی تھیں اور ایک موبائل بھی مل گیا تھا۔ اتنے مزے کے سامنے تیمور کے دل سے باپ کا خوف ماں کی عزت سب نکل چکی تھی۔ اب تیمور کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ ایک ہفتہ بھی گزارنا مشکل ہو جاتا تھا۔ ادھر آنٹی کا بھی یہ ہی حال تھا۔ جب بھی موقع ملتا۔ ہوس کی پیاسی اپنی پیاس بجھانے تیمور کو ایک میسج کر کے بلا لیتی۔ صابر انکل پانچ بجے تک آتے تھے۔ چار بجے سے پہلے پہلے یہ کھیل ختم بھی ہوجاتا تھا۔ اکثر تیمور اسکول سے سیدھا آنٹی کے درشن کرتا پھر گھر آتا۔ ایک سال میں ہی تیمور کی آواز میں بھی بدلاؤ آ چکا تھا۔ وہ اپنی عمر سے بڑا بڑا لگنے لگا تھا۔ آخر کب تک یہ سب چلتا..  ایک دن تو اس کا بھی اختتام ہونا تھا مگر اتنا دلسوز اختتام کا دونوں نے نہیں سوچا تھا۔

تیمور کچھ دنوں سے اداس اداس سا تھا۔ کیونکہ آنٹی پندرہ دن قبل کسی قریبی رشتے دار کی میت میں دوسرے شہر گئی ہوئی تھیں۔ انہیں آج واپس آنا تھا۔ لیکن ابھی تک ان کا میسج نہیں آیا تھا۔ تیمور اسکول سے واپس گھر آ رہا تھا جیسے ہی گلی میں موڑا یکدم چونک گیا۔ آنٹی کے گھر کے سامنے ایمبولینس کھڑی تھی لوگوں نے ایمبولینس کو چاروں طرف سے گھیرا رکھا تھا۔ تیمور جلدی جلدی قدم اٹھاتا جب ایمبولینس کے پاس پہنچا اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا..  آنٹی اور انکل الگ الگ اسٹریچر پر سفید چادر میں لپٹے ہوئے ابدی نیند سو رہے تھے۔ تیمور کیسے گھر پہنچا اسے کچھ پتا نہیں چلا۔

رات تک دونوں میاں بیوی کی تدفین ہو گئی۔ ہر کوئی افسوس ناک حادثے پر غم کا اظہار کر رہا تھا۔

                           ****

دو ماہ گزر گئے تیمور جب بھی اسکول سے واپس آتا آنٹی کے گھر پر تالا دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھرتا اور بوجھل قدموں آگے نکل جاتا۔ یہ دو ماہ اس نے کس طرح گزارے تھے وہ ہی جانتا تھا۔ کبھی اپنی ٹیچر کو دیکھ کر اسے آنٹی کا گمان ہوتا تو کبھی محلے کی کسی عورت کو دیکھ کر آنٹی کی یاد میں آہئیں بھرتا،  محلے کی لڑکیوں کو جنہیں وہ آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتا تھا اب اس کی آنکھوں میں ہوس کی وہ تپش ہوتی کہ لڑکیاں اس سے کترا کر گزر جاتیں۔

پھر ایک دن تیمور اسکول سے گھر آ رہا تھا کہ گلی کے کونے پر ہی ٹھٹھک کر رکا اور پھر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا آنٹی کے گھر کے سامنے آ کر رک گیا۔

ایک مزدا گاڑی آنٹی کے گھر کے سامنے کھڑی تھی۔ ایک دس سالہ بچا مزدوروں کو پانی پلا رہا تھا۔ تیمور کھڑا سارا سین دیکھ رہا تھا۔

اتنے میں دروازہ کھولا ایک خوبصورت سی خاتون باہر نکلیں بچے کو کچھ کہہ کر ادھر اُدھر دیکھنے لگیں۔ اُن کی نظر جب تمیور پر پڑھی تو مسکرا کر اس کی جانب دیکھا۔

” ادھر آو بیٹا۔” آواز بھی خوبصورت تھی۔

” جی آنٹی..  ” تمیور نےفوراً بڑھ کر جواب دیا۔

” بیٹا…!  یہ میرا بیٹا ایاز ہے.. اسے پرچون کی دوکان دیکھا دو۔  سامان یہ خود لے آئے گا۔” نئی آنٹی نے پیار سے تمیور کو کہا۔

” جی آنٹی ضرور..  اگر آپ کہیں تو سامان بھی میں ایاز کے ساتھ ہی لیتا آؤں…؟  تمیور سوالیہ نظروں سے نئی آنٹی کو دیکھنے لگا۔

” جیتے رہو بیٹا۔” نئی آنٹی نے تیمور کے سر پر ہاتھ پھیرا تو تیمور کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی۔ اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے ایاز کے ساتھ دکان پر پہنچ گیا اور سامان لے کر نئی انٹی کے گھر پہنچ گیا۔ ” انٹی ہمارا گھر وہ سامنے نیلے رنگ کا گیٹ والا ہے۔ اگر کسی چیز کی ضروت ہو تو ایاز کو بیھج دیجیے گا” تیمور کے لہجے میں سعادت مندی نمایاں تھی۔ گھر پہنچ کر مدرسے جانے کی تیاری کرنے لگا ساتھ ساتھ

اس کا دل آنے والے لمحات کا سوچ کر خوش ہو رہا تھا۔

رات جب وہ اپنے بستر پر پہنچا مختلف خیالات اس کے ذہن میں پنجے گاڑنے لگے۔ رات دیر تک کر آنے والے طوفان سے بے خبر آئیندہ کی پلاننگ بنانے لگا۔

                                  ****

اسکول کی چھٹیاں ہو چکی تھیں۔ تیمور بہانے بہانے سے نئی آنٹی کے گھر کے سامنے چکر لگاتا رہتا۔ اس نے ایاز کو بھی دوست بنالیا تھا۔ شام کو کھیلنے کے بہانے سے وہ آنٹی کے گھر پہنچ جاتا۔ آنٹی اسے اندر بلا لیتی اور ایاز کو تیار کر کے اس کے ساتھ روانہ کر دیتیں۔

نئی آنٹی کی شفقت تیمور پر بڑھتی جارہی تھی۔ جو تیمور حوصلہ افزائی سمجھ رہا تھا۔ دودن سے ایاز مدرسے نہیں آیا تو تیمور نے ظہر کی نماز سے پہلے ایاز کا پتہ کرنے آنٹی کے گھر جا پہنچا۔ آنٹی نے دروازہ کھولا تو تیمور کی نظر اُن کے سراپے پر پڑی تو اپنی سانس روکتی ہوئی محسوس ہوئی کیونکہ آنٹی بغیر دوپٹے کے گھبرائی سے لگ رہی تھیں۔

” اچھا ہوا بیٹا تم آگئے ورنہ مجھے خود میڈیکل اسٹور پر جانا پڑتا ایاز کو کل سے بخار ہے اور دوائی ختم ہو گئی تھی۔ ” یہ کہہ کر آنٹی نے اپنے گلے میں ہاتھ ڈالا اور چھوٹا پرس نکال کر پیسے نکالنے لگی۔ اسی وقت تیمور کے صبر و ضبط نے ساتھ چھوڑ دیا اور پھر وہ سب کچھ ہوا جو نہیں ہونا چاہئے تھا۔

                                      ****

تیمور کو گم ہوئے آج تیسرا دن تھا۔ ماسٹر تمیز الدین ہر جگہ تلاش کر چکے تھے۔ پہلے دن تو ان کا غصے سے برا حال تھا۔ مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا غصہ فکر اور پھر پریشانی میں بدلتاجا رہا تھا ۔ آج تیسرے دن اندیشوں اور وسوسوں کے درمیان نہر کے کناروں پر تیمور کو ڈھونڈا جا رہا تھا۔ کیونکہ وہ آخری بار نہر کے کنارے پر ہی دیکھا گیا تھا۔ پھر شام تک تیمور کی لاش چار کلو میٹر دور  نہر کے  کنارے پر لگی جھاڑیوں میں پھنسی مل گئی جو پھول کر اوپر آ گئی تھی جو ہر ایک سے چیخ چیخ کر ایک خاموش پیغام دی رہی تھی ” خدارا صرف بیٹیوں کو ہی نہیں بلکہ اپنے بیٹوں کو بھی ان ہوس کے بچاریوں سے بچاؤ۔”

                                         ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے