سر ورق / کہانی / کانچ کی محبت۔۔۔ محمد عرفان رامے پہلا حصہ

کانچ کی محبت۔۔۔ محمد عرفان رامے پہلا حصہ

کانچ کی محبت

محمد عرفان رامے

قسط نمبر 1

دُھند کی دبےز چادر اُوڑھے وہ رات اس قدر سرد تھی کہ رگوں مےں گردش کرتا گرم لہو منجمد ہونے لگا تھا۔ اےسے مےں رےلوے اسٹےشن پر کھڑے گارڈکا اشارہ ملتے ہی بوڑھے انجن نے گہری سانس لی اور تھکے ہوئے گھوڑے کی مانند بوگےوں کی لمبی قطار کو کھےنچتا ہوا اگلی منزل کی جانب روانہ ہو گےا۔

ٹرےن کی آخری بوگی کا ہاتھ پلےٹ فارم سے چھوٹتے ہی تعاقب مےں دوڑتے خوانچہ فروش واپس پلٹ آئے اور سردی سے بچنے کے لےے ےوں رےلوے اسٹےشن کی اکلوتی انتظار گاہ مےں جا گھسے جےسے دشمن کے فضائی حملے کا اعلان ہو گےا ہو۔کچھ دےر بعد ہی پلےٹ فارم آسےب زدہ کھنڈر کی طرح وےران گیا۔

ماحول پر سکون ہوتے ہی پلےٹ فارم کی اکلوتی کےنٹےن کی روشنےاں بھی دھےرے دھےرے گُل ہونے لگےں کےنٹےن کے مالک شہاب خان نے اپنے دوست بہادر خان سے باتےں کرتے ہوئے دن بھر کی کمائی جےکٹ کی اندرونی جےب مےںمنتقل کی اور شٹر نےچے کر کے تالا لگانے ہی والا تھا کہ سردی سے کانپتی اےک سرگوشی سماعت سے ٹکرائی:

”اےکسکےوزمی مجھے سگرےٹ چاہےے تھا۔“

دونوں نے پلٹ کر دےکھا تووہ ایک درمےانے قد کی دُبلی پتلی انگرےز لڑکی تھی جس کے چہرے کی رنگت زرد اور بال الجھے ہوئے تھے۔ اس نے بوسےدہ جےنز کے ساتھ فر والا کوٹ پہن رکھا تھا ۔ سر پر اُونی ٹوپی اور بائیں ہاتھ مےں چمڑے کا دستانہ تھا ۔ وہ اپنے دائےں ہاتھ کو دستانے کے ساتھ رگڑ کر خود کو گرم رکھنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔

شہاب خان نے گہری نظر سے لڑکی کے خدو خال کا جائز لےتے ہوئے اثبات مےں سر ہلادےا جب کہ بہادر خان اب بھی کن اکھےوں سے لڑکی پر آنکھےں سےنک رہا تھا۔ شہاب خان نے جلدی سے شٹر اُٹھا کر بلب روشن کےا اور تےن چار برانڈ کے سگرےٹ نکال کر کاﺅنٹر پر رکھ دےے تاکہ لڑکی اپنی پسند کا سگرےٹ منتخب کر سکے ۔

”ےہ برانڈ مناسب رہے گا۔ “

 اس نے سب سے گھٹےا کوالٹی کا سگرےٹ اُٹھا کر جےنز کی جےبےں ٹٹولےں۔ پھراُس نے اپنے فاقہ زدہ پےٹ کو مزےد اندر کھےنچ کر فرنٹ پاکٹ مےں ہاتھ ڈالا اور اےک زنگ آلود سکہ نکال کر کاونٹر پر رکھ دےا۔

”تعاون کا شکرےہ اگر سگرےٹ نہ ملتا تو مجھے بہت پرےشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ “

جواباََ شہاب خان نے مسکرا کر اثبات مےں سر ہلا دےا ۔ دکان پر ےوںاچانک کسی غےر ملکی سےاح کی آمد شہاب خان کے لےے اچنبھے کی بات نہےں تھی ۔ ملک کے شمالی علاقے مےں واقعے اس چھوٹے سے قصبے کی ذاتی اہمےت تو کوئی خاص نہےں تھی البتہ آئے دن ےہاں سےاحوں کی ٹولےاں ٹرےن سے اُتر کر جےپوں کے ذرےعے اُن دُور دراز پُر خطر راستوں پر سفر ضرور کرتی تھےں جو ارد گرد سےنکڑوں کلومےٹر پر پھےلے ہوئے تھے۔

مگر آج آخری ٹرےن گزر جانے کہ بعد اس اکےلی لڑکی کی ےہاں موجود گی اُن دونوں کے لےے باعث تشوےش تھی۔

 ”کےا مےں پوچھ سکتا ہوں کے آخری ٹرےن رخصت ہو جانے کے بعد تم ےہاں کےا کر رہی ہو؟“

شہاب خان پڑھا لکھا نو جوان تھا ۔ وہ شہر مےں کچھ عرصہ اےک اخبار مےں رپورٹر کی ملازمت بھی کر چکا تھا ۔ ےہی وجہ تھی کہ اسٹےشن کے دوسرے لوگوں کی نسبت انگرےز سےاحوں کی گفتگو زےادہ بہتر طرےقے سے سمجھ لےا کرتاتھا۔

”تم مجھ سے پوچھنے کی اجازت مانگ رہے ہو ےا سوال کر رہے ہو؟“

 لڑکی نے خستہ حال اُردو مےں جواب دےا اور کوٹ کی جےب مےں کچھ تلاش کرنے لگی بہادر خان اس کا جواب سن کر مسکرا دےا مگر شہاب خان اتنی جلدی ہار ماننے والوں مےں سے نہےں تھا:

” وہی سمجھ لو جو تمھارے لےے باعث راحت ہو۔ “

اس کی نظرےں بدستور لڑکی کے چہرے پر مرکوز تھےں ۔ اُسے لڑکی کے اُردو بولنے پر قطعاََ حےرت نہےں ہو ئی تھی ۔ وہ سمجھ گےاتھا کہ یہ گوری طوےل عرصے سے سےاحت کے نام پر پاک و ہند مےں خجل ہو رہی ہے ۔

”جولےا نام ہے مےرا۔ تم مجھے جولی بھی کہہ سکتے ہو مےں اس ٹرےن مےں سفر کر رہی تھی جس نے کچھ دےر قبل اسٹےشن چھوڑا۔ اندر گھٹن محسوس ہوئی تو ہوا خوری کے لےے باہر نکل آئی۔کچھ دور چہل قدمی کر رہی تھی کہ وسل بج گئی اور گاڑی مےری پہنچ سے دور ہو گئی ۔ “

” تمھارے ساتھ کوئی تو ہو گا جو بوگی مےں اےمرجنسی زنجےر کھےنچ کر ٹرےن رکوا سکتا تھا ۔ “

”ےہاں کوئی کسی کا نہےں۔ کہنے کو ڈےوڈ پچھلے دو ماہ سے مےرا ہم سفر ہے مگر اس چڑےل مرےنا سے ملتے ہی مجھے بوجھ سمجھنے لگا ہے ۔ لہٰذا ان دونوں نے اس موقع کو غنےمت جانا البتہ اتنی مہربانی ضرور کر دی کہ چلتی ٹرےن سے مےرا بےگ پلےٹ فارم پر پھےنک دےا۔ “

 جولی نے مختصر الفاظ مےں اپنی روداد بےان کر کے دور پڑے سفری بےگ کی طرف اشارہ کےا۔

” ےہ آج کی آخری ٹرےن تھی ۔ اگلی ٹرےن کے لےے تمھیں کل دوپہر تک انتظارکرنا ہو گا۔ “ بہادر خان نے جولی کو اپنی موجودگی کا احساس دلاےا تو شہاب خان اسے گھور کر رہ گےا ۔

”ہاں بتاےا ہے اس عورت خور ٹکٹ کلرک نے ۔“

” عورت خورمطلب؟کےا اس نے تمھیں کاٹنے کی کوشش کی ؟“ بہادر خان نے قہقہہ لگاےا ۔

” کاٹا تو نہےں البتہ رال ضرور ٹپکا رہا تھا کمبخت کہنے لگاتم نازک سی لڑکی ہو، اس برفانی رات مےں تمھیں گرم بستر کی ضرورت پڑے گی اگرچاہو تو مےں تمھاری مدد کر سکتا ہوں مائی فٹ ؟“لڑکی نے زمےن پر پاﺅں مارا۔

باتوں کے دوران جولی نے اپنے کوٹ کی تلاشی بھی مکمل کر لی تھی ۔ اب اس کے ہاتھ مےں اےک چھوٹی سی پڑےا تھی جسے وہ بے صبری سے کھول رہی تھی۔ پڑےا کھلی تو اس مےں لپٹا چرس کا ٹکڑا دےکھ کر شہاب خان اور بہادر خان کے ہونٹوں پر ذومعنی مسکراہٹ کھےلنے لگی۔ دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں مےں مشاور ت کی اور بہادر خان انھیں تنہا چھوڑ کرمنظر سے غائب ہو گےا۔

 جولی اس سارے معاملے سے بے نےاز چرس کو سگرےٹ مےں بھر رہی تھی۔اس کے نازک ہاتھ ماہرانہ انداز مےں متحرک تھے۔ چند لمحوں بعد ہی اس نے سگرےٹ تےار کر کے سلگاےا لیا اورگہرا کش لے کرآنکھےں موند لےںجب اس کے نتھنوں سے دھوئےں کے مرغولے نمودار ہوئے تو آنکھوں مےں نئی چمک سی در آ ئی ۔ دو چار کش لےنے کے بعد وہ پہلے سے کہےں چست دکھائی دےنے لگی تھی۔

شہاب خان کاﺅنٹر کے پےچھے کھڑا اس کی جانب دےکھ رہا تھا ۔ وہ بہت خوب صورت تو نہےں تھی مگر چہرے مےں اےسی کشش ضرور تھی جو دےکھنے والے کو دےوانہ بنا دے۔

 ”کےا دےکھ رہے ہو ہےنڈ سم لگتا ہے نےت خراب ہو رہی ہے تمھاری ۔“ جولی نے بائےں آ نکھ کا کونہ دباےا تو شہاب خان چوری پکڑے جانے پر جھےنپ سا گےا تھا ۔

”سوچ رہا ہوں شاےد تم بھوکی ہو؟“ کچھ نہ بن پڑا تواس نے اندھےرے مےں تےر چلادےا۔

”ہاں! پےٹ مےں چوہے تو دوڑ رہے ہےں مگر فی الحال صبر کرنا پڑے گا۔ مےرے پاس پےسے کم ہےں، کل ٹرےن پکڑ کر اپنے ساتھےوں تک پہنچنا ہے ۔انھوںنے احسان کرتے ہوئے اپنے اگلے پڑاﺅ کی نشاندہی بھی کر دی تھی ۔

” پےسوںکی فکر مت کرو۔ مےں نے خودا بھی تک رات کا کھانا نہےںکھاےا۔ قرےب ہی اےک رےسٹورنٹ ہے وہاں چلتے ہےں۔ کھانے کے ساتھ گپ شپ بھی رہے گی۔ “

 پےش کش سن کر جولی نے کندھے اُچکادئےے جواظہار تھا کہ اسے دعوت پر کوئی اعتراض نہےں ۔

 دکان کا شٹر گرا کر شہاب خان اس کے ہمراہ رےلوے اسٹےشن کی عمارت سے باہر نکل آیا اور اپنی کھٹارا موٹر بائےک کا لاک کھول کر اسے پےچھے بےٹھنے کا اشارہ کےا ۔

 جولی نے انگلےوں مےں دم توڑتے سگرےٹ کا آخری کش لے کر فلٹر کو دور اُچھالا دےا اور بےگ سنبھال کر شہاب خان کے ساتھ موٹر بائےک پر بےٹھ گئی ۔

کچھ فاصلے پر اےک چھوٹا سا رےسٹورنٹ تھا۔جلد ہی دونوں وہاں پہنچ گئے۔ کچھ دےر بعد شہاب خان وےٹر کو کھانے کا آرڈر دے کر جولی کی طرف متوجہ ہوا:

”تمھارے کھانے کا بندوبست تو ہو گےا مگر موسم بہت سرد ہے، رات کہاں گزارو گی ؟“

” جہاں جگہ مل جائےوےسے ہم جےسی لڑکےوں کو اکثر جگہ مل جایا کرتی ہے ۔“ وہ ذومعنی انداز میں مسکرا۔

’ہوں“ شہاب خان نے اثبات مےں سرہلاےا ” تو پھر مےرے ساتھ چلو“

”تمھارے ساتھ؟“ وہ چونکی۔

”کوئی اعتراض ہے ؟“

”نہےں اعتراض کےسا ۔ بظاہر تم بھلے آدمی دکھائی دےتے ہو۔ کم از کم اس عورت خور بڈھے سے تو بہتر ہوجو پاﺅں قبر مےںلٹکائے بےٹھا ہے ۔“ شب بسری کا بندوبست ہوتے ہی جولی نے کرسی پر جسم ڈھےلا چھوڑ کر آنکھےں موند لےں۔

” تم وہاں سکون سے رات گزارنا۔ کل صبح جہاں تم کہوگی مےں چھوڑ آﺅں گا ۔ “

”ٹھےک ہے! مگر کھانے کے بعد مجھے مزےد اےک سگرےٹ کی طلب ہو گی۔ “ جولی نے کہا۔

”بے فکر رہو، تمھیں تےار سگرےٹ مل جائے گا۔ اکثر سےاح مجھ سے چرس کا مطالبہ کرتے ہےں ۔مےںچند تےار سگرےٹ اپنے پاس رکھتا ہوں۔ “

اس خوشخبری پر جولی نے اطمےنان کا اظہار کر دےا ۔ کھانے کے بعد دونوں بائےک پر گھر روانہ ہو گئے۔ جولی بائےک پر ےوں چپک کر بےٹھی تھی کہ شہاب خان کوعجےب سی راحت محسوس ہونے لگی۔نتےجہ ےہ نکلا کہ گھر پہنچنے سے قبل ہی وہ حسےن رات کے سپنے بننے لگا ۔

 -٭-

شہاب خان کے والد رےلوے اسٹال کے پرانے ٹھےکےدار تھے جن کی ناگہانی موت کے بعد اسٹےشن ماسٹر کی خصوصی مہربانی سے ےہ اسٹال شہاب خان کو مل گےا ۔ باپ کی زندگی مےں وہ شہر کے اےک اخبار مےں ملازم تھا اور کسی طور گھر واپس نہےں آنا چاہتا تھا مگر اب بوڑھی اور ذہنی طور پر بےمار ماں کو بے سہارا چھوڑنا ممکن نہےں تھا۔ لہٰذا دل پر پتھر رکھ کر قصبے مےں آ گےا ۔ وہ کافی حد تک انگرےزی سمجھ اور بول لےتا تھا۔اس قابلےت سے فائدہ اُٹھا کر اس نے غےر ملکی سےاحوں سے خوب پےسے بٹورے اور جب جب موقع ملا اپنے دوست بہادر خان کے ساتھ مل کر عےاشی بھی کرتا رہا ۔

 شہاب خان والدےن کی اکلوتی اُولاد تھا۔ باپ نے اچھے دورمےں دو منزلہ مکان بنا کر ان کے مستقبل کو محفوظ بنا دےا تھا ۔ وہ اپنی والدہ کے ساتھ بالائی منزل پر رہائش پذےر تھا جب کہ نےچے کا حصہ مہمان خانے اور دوستوں کے ساتھ محفل جمانے کے لےے مخصوص تھا۔

گھر پہنچ کر شہاب خان نے چابی سے دروازہ کھولا اور جولی کو مہمان خانے مےں چھوڑ کر اُوپر چلا گےا تاکہ ماں کو آمد کی اطلاع دے سکے ۔

اس نے جولی کو خبر دار کر دےا تھا کہ نہ تو وہ کمرے سے باہر قدم نکالے گی اور نہ ہی بلند آواز مےں بات کرے گی تاکہ اس کی بےمار ماں کے آرام مےں خلل نہ پڑے۔

شہاب خان نے ماں جی کو ےہی بتاےا تھا کہ اس کا اےک دوست آج رات مہمان خانے مےں قےام کرے گا۔ ماں جی سے باتےں کرنے کے بعد اس نے انھیں دوا دے کر بستر مےں لٹادےا۔ اس کام سے فارغ ہو کر شہاب خان نے قہوے کی دو پےالےاں بنائےں اور مہمان خانے مےں لوٹ آےا ۔ جولی اپنا کوٹ اتار کر آتش دان کے قرےب بےٹھی آگ سے کھےل رہی تھی ۔

شہاب نے قہوے کی پےالےاں سامنے رکھےںاور وہےں بےٹھ گےا ۔خاموشی سے قہوہ پی کر جولی نے سگرےٹ کی طلب ظاہر کی تو شہاب خان جےسے حکم کی تعمےل کے لےے تےار بےٹھا تھا۔

 اب جولی دےوار سے ٹےک لگائے گہری سوچ مےں گم سگرےٹ کے کش لے رہی تھی مگر شہاب خان کے دل کی دھڑکن بے قابو ہوتی چلی جا رہی تھی سگرےٹ کا آخری کش لے کر جولی نے پلکیں اُٹھائیں تو آنکھوں مےں گلابی ڈورے تےر رہے تھے۔

 کمرے مےں چرس کی بو پھےل چکی تھی۔ عام حالات مےں شہاب خان کو چرس کی بو سخت نا پسند تھی لیکن اس رات وہ جولی کے نتھنوں سے اُگلے ہوئے دھوئےں کو گہری سانسےں لے کر اپنے سےنے مےں اتار کر سکون محسوس کر رہاتھا۔

کافی دےر بعد جولی کو اپنی طرف متوجہ پا کر وہ دھےرے سے کھسک کر اس کے قرےب جا بےٹھا۔ جولی نے مسکر اکر اس کا ہاتھ تھام لےا اور سگرےٹ کا شکرےہ ادا کر کے بولی:

” تمھاری ماں اس وقت کہاں ہے شہاب ؟“

”ان کی طبےعت خرا ب ہے ماں جی بہت مذہبی ہےں اور عبادت کے بعد جلدی سو جاتی ہےں ؟“ اس نے وضاحت کی۔

”کےا وہ جانتی ہےں کہ اس وقت تم کےا گل کھلانے کا سوچ رہے ہو؟“ جولی کے لہجے مےں طنز تھا ۔

”مےں نے انھیں ےہی بتاےا ہے کہ مہمان خانے مےں اےک دوست ٹھہرا ہوا ہے۔“ چوری پکڑے جانے پروہ کھسےانی ہنسی ہنسا۔

”مگر ہم دوست تو نہےں ےہ تو محض اتفاقےہ ملاقات تھی ۔ کل مےں ےہاں سے چلی جاﺅں گی۔ پھر تم کہاں ، مےں کہاں شاےد زندگی بھر ہماری دوبارہ ملاقات نہ ہو سکے۔ اےسے مےں اےک رات کے لےے تم اپنی عبادت گزار ماں کو دھوکا کےوں دےنا چاہتے ہو؟“ جولی نشہ چڑھتے ہی سکالر بن گئی تھی۔

”ےہ وقت اس قسم کی باتےں سوچنے کا نہےں تم نے چرس بھرا سگرےٹ پےاہے عقل کا پےالہ خالی نہےں کےا جو افلاطون بن رہی ہو۔ “ شہاب خان کے لہجے مےں سختی در آئی تھی ۔

”اگر ےہ وقت ان باتوں کا نہےں تو پھر کےا کرنے کا ہے ؟“اس نے سر جھٹک کر غنودگی کو دور بھگانا چاہا۔

” اس سرد رات کو رنگےن بنانے کا “

 شہاب خان نے جولی کی الجھی ہوئی لٹوں کو چوم لےا ۔جولی کے بال آخری بار جانے کب دُھلے تھے ۔ جنھیں وہ دور سے رےشمی زلفےں سمجھ رہا تھاان مےں انگلےاں پھرتے ہی اس کا ہاتھ بالوں مےں الجھ کر رہ گےا تھا پھر بھی جولی اس لمحے شہاب خان کو پرستان کی شہزادی دکھائی دے رہی تھی ۔

” مےں اسی وقت تمھاری ماں سے ملنا چاہتی ہوں۔ “ وہ اس کا ہاتھ جھٹک کر بولی۔

”کےا؟“

 شہاب خان کے جسم مےں کرنٹ کی تےز لہر دوڑ گئی:

 ” تمھارا دماغ تو ٹھےک ہے معلو م ہے اگر کسی کو تمھاری ےہاں موجودگی کا علم ہو گےا تو قےامت برپا ہو جائے گی۔ “

” ےعنی تم چاہتے ہو کہ قےامت صرف تم برپا کرو اور کمرے سے باہر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ “ جولی نے قہقہہ لگاےا۔

جولی کا انداز دےکھ کر شہاب خان اندر ہی اندر کھول کر رہ گےا ۔مگر اس نے اپنا لہجہ دھےما رکھا:”بہتر ےہی ہے کہ تم اپنی اوقات مےں رہو ورنہ قتل کر کے اسی کمرے مےں دفن کر دوں گا۔ “

”اوقات کےا ہے مےری اوقات؟“ وہ بھی بپھر گئی ۔

”ےہ تم مجھ سے بہتر جانتی ہودو ٹکے کی عورت۔ “

” صحےح کہا تم نےبے فکر رہو ،مجھے اپنی اوقات کا اندازہ ہے اگر مےری حےثےت نہ ہوتی تو تم کبھی مجھے اپنے گھر مےں شب بسری کی دعوت نہ دےتے۔ “ جو لی نے بلند آواز مےں کہا تو شہاب خان کا دل تےزی سے دھڑکنے لگا۔جذبات کی رو مےں جسے وہ آسان شکار سمجھ بےٹھا تھا وہ لڑکی تو ماہر شکاری ثابت ہوئی تھی ۔

”چاہتی کےا ہو تم ؟“ اس نے سنبھل کر پوچھا۔

”مےں ابھی اور اسی وقت تمھاری ماں سے ملنا چاہتی ہوں۔“ وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔

” کےوں ملنا چاہتی ہو تم مےری ماں سے ؟“

” اس لےے کہ مےری ماں نہےں ہے اور مےں تمھاری ماں کو دےکھنا چاہتی ہوں۔ “

”مانتا ہوں تمھاری ماں نہےں ہے ۔لیکن مےری ماں کا جنازہ کےوں نکلوانا چاہتی ہو رات کے اس پہر۔ “ وہ منت بھرے لہجے مےں بولا۔

معلوم نہےںےہ چرس کا اثر تھا ےا جولی کے اندر کی خلش ۔ شہاب خان نے اپنا سر پکڑ لےا تھا ۔

چند لمحے خاموشی رہی ۔ پھر جولی نے بلند اور بھدی آواز مےں ”مدر “ نامی کوئی انگرےزی گےت گانا شروع کر دےا ۔ وہ ساتھ ساتھ رو ئے چلی جا رہی تھیشہاب خان کی حالت قابل دےد تھی۔ وہ جوں جوں اسے خاموش رہنے کی ہداےت کر رہا تھا جولی کے بےن اتنے ہی بلند ہو رہے تھے ۔

اےک با ر تو شہاب خان کا جی چاہا کہ ابھی اس کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر نکال دے پھر سوچا کہ اگر ےہ باہر نکل کر سڑک پر شورمچانے لگی تو ہمسائے جاگ جائےں گے اور جولی کے ساتھ ساتھ اس کی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔

ہر تدبےر ناکام ہونے پر شہاب خان نے جولی کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کےا تو جولی نے دےدہ دلےری سے اس کی ہتھےلی پر کاٹ لےا۔

”ہائے “

تکلےف سے چےختے شہاب خان نے اپنا ہاتھ اس کے دانتوں سے کھےچ لےااور دوسرے ہاتھ سے اےسا گھونسا رسےد کےا کہ جولی اچھل کر دُور جا گری۔

”نشے سے باولی ہو گئی ہے کیا دل چاہتا ہے تےرا گلا دبا کر درےا مےں پھےنک آﺅں ۔ “وہ غصے سے تلملا کر جولی کے چہرے پردوسرا تھپڑ رسےد کرنے والا تھا کہ خلاف توقع کمرے کا دروازہ جھٹکے سے کھلا اور سامنے کھڑی ماں کو دےکھتے ہی اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گئے۔

 صورت حال بہت گھمبےر ہو گئی تھیماں جی کا خلاف توقع مہمان خانے مےں پہنچ جانا شہاب خان کے لےے ڈوب مرنے کا مقام تھا ۔ مگر اس لمحے ڈرامائی تبدےلی بھی ضروری تھی۔ چنانچہ وہ ماں جی کے استفسارسے قبل ہی جولی کا چہرہ ان کی طرف گھما کر بولا:

”لو دےکھ لو! ماں جی بھی آ گئیں ۔ کتنی بار کہا تھا مت بے آرام کرو انھیں صبح تمھاری ملاقات کرا دوں گا مگر تم نے تو اُودھم مچا دےا ۔

ماں جی کو سامنے دےکھ کر جولی کے آنسوﺅں کو بھی برےک لگ گئے ۔ وہ حےرت اور محبت سے انھیں دےکھتی رہی اور پھر ےو ں بے تابی سے ان کی جانب بڑھی جےسے صدےوں سے بچھڑی بےٹی کو ماں مل گئی ہو وہ ماں کا نعرہ لگا کر ان سے لپٹ گئی اور زارو قطاررونے لگی۔

” ےہ لڑکی کون ہے شہاب خان؟“ ماں جی نے اسے سےنے سے لگاتے ہوئے پوچھا۔

”وہ وہےہ اےک بے سہارا ےتےم سےاح ہے ماں جی ۔ سردی سے پلےٹ فارم پر ٹھٹھر رہی تھی ۔ اسٹےشن ماسٹر صاحب بولے اسے اپنے ساتھ گھر لے جاﺅ ۔ ورنہ ٹھنڈ سے مر جائے گی اور صبح ہنستی ہوئی ملے گی مےں ہر گز اسے ےہاں نہےں لانا چاہتا تھا مگر انھوں نے اتنا مجبور کےا کہ انکار نہ کر سکا۔ “

 ماں جی کی ذہنی حالت بہت اچھی نہےں تھی مگر پھر بھی اس لمحے شہاب خان کو اپنا مدعا بےان کرنے مےں شدےد مشکل پےش آ رہی تھی۔ وہ سوچ بھی نہےں سکتا تھا کہ ماں جی ےوں دبے پاﺅں سےڑھےاں اُتر کر مہمان خانے مےں آ جائےں گی۔

” تم تو کہہ رہے تھے نےچے کوئی دوست ٹھہرا ہوا ہے۔ “ماں جی نے جولی کے سرپر دستِ شفقت رکھتے ہوئے کہا۔

”ہاںہاں وہ اےک دوست آےاتھا ساتھ۔اس فرنگی کی اولاد کو چھوڑنے ۔ کہتا تھا ےہےں رک جاتا ہوں ےہ لڑکی رات کو چوری کر کے نہ بھاگ جائے۔ مےںنے ڈانٹ کر واپس بھےج دےا کہ لڑکی اب ہماری مہمان ہے ۔ اس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ “

”ہوں “ماں جی نے کہا” بہت اچھا کےاکہ اسے ساتھ لے آئے ۔ جوان لڑکی ہے ۔جانے کن حالات کی ماری ہوئی ہے کسی درندہ صفت کے ہتھے چڑھ جاتی توساری بستی پر قہر نازل ہوتارب کا ۔ “

ماں جی کی آمد پر شہاب خان کے اندر کا درندہ بلی بن کر مےاﺅں مےاﺅں کرنے لگا تھا ۔ اس نے حاضر دماغی سے معاملے کو سنبھال تو لےا مگر جولی کو خونخوار نظروں سے دےکھتا رہا ،جو ا بھی تک ماں جی کے سےنے سے لگی ٹسوے بہا رہی تھی۔

” اب تم مہمان خانے مےں ہی سو جاﺅ مےں اپنی بےٹی کو لے کر اُوپر جا رہی ہوں۔ “

 ما ں جی نے فےصلہ سناےا اور جولی کو بچوںکی طرح پچکارتی ہوئی اپنے ساتھ لے گئیں ۔ شہاب خان بے بسی سے انھیں دیکھتا رہ گیا۔

 رات آدھی بےت چکی تھی ۔ بدمزگی کے باعث نےند اس سے کوسوں دور بھاگ گئی تھی ۔

”معلوم نہےں ماں جی مےرے بارے کےا سوچ رہی ہوں گی۔ “ ذہن مےںتلخ سوال نے سر اُٹھاےا تو وہ شرم سے پانی پانی ہو گےا۔

”بےماری سے ماں جی کی سوچنے سمجھنے کی صلاحےت متاثر ہو چکی ہے ۔ مےں خوامخواہ پرےشان ہو رہا ہوں۔صبح تک انھیں ےاد بھی نہےں ہو گا کہ جولی کون ہے ۔مےں صبح سوےرے اس فرنگی کی اولاد کو واپس اسٹےشن پر چھوڑ آﺅں گا۔ “

شہاب خان نے خود کو تسلی دی اور کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔

-٭-

اگلے روزصبح سوےرے شہاب خان کی آنکھ کھلی تو رات کے واقعات فلم کی مانند ذہن کے پردے پر منظر بدلنے لگے ۔ اسے اپنی ماں کے سامنے جاتے ہوئے شر م محسوس ہو رہی تھی ۔مہمان خانے میں بےٹھے رہنا بھی ممکن نہےں تھا ۔ لہٰذا وہ ہمت کر کے بستر سے نکلا اور سےڑھےاں چڑھتااُوپر جا پہنچا۔

 ماں جی کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور وہاں اےک نےا ڈرامہ چل رہا تھا۔ ماں جی اُردو ، پشتو اور اشاروں کی زبان مےں جولی سے گفتگو کر رہی تھیں جب کہ وہ بغور اُن کی باتوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے ٹوٹی پھوٹی اُردو مےں جواب دے رہی تھی ۔

جےسے ہی جولی اور شہاب خان کی نظرےں دو چار ہوئےں اس نے منہ موڑ لےا ۔ وہ کھسک کر ماں جی کے قرےب ہو گئی اور ان کے گلے مےں بانہےں ڈال دےں:

” مےںنے جولی کو اپنی بےٹی بنا لےا ہے شہاب خان ےہ بہت تہذےب والی لڑکی ہے۔ “

” ماں جی کے انکشاف پر شہاب خان چکرا کر رہ گےا ۔ ماں جی نے اےک آوارہ لڑکی کو اپنی بےٹی بنا لےا تھا ےہ جانے بغےر کہ وہ کون ہے کہاں سے آئی ہے اور کہاں جا رہی ہے ۔ان باتوں کو ماں جی نے ےکسر نظر انداز کر دےا تھا ۔

شہاب خان دروازے مےں کھڑا بے بسی کے عالم مےں ےہ نظارہ دےکھتا رہا اور پھر خود کو کوستا دوسرے کمرے مےں جا گھسا ۔اگر وہ جولی کو گھر نہ لاتا تو اسے ےہ وقت ہر گز نہ دےکھنا پڑتا۔ وہ پھر سے بستر مےں گھس گےا ۔ کچھ دےر بے چےنی سے کروٹےں بدلنے کے بعد شہاب خان نے معاملے پر غور کےا تو احساس ہوا کہ حالات اتنے برے نہےں ۔

”ممکن ہے جولی واقعی مظلوم ہو جانے کس کس ملک مےں دھکے کھا کر ہمارے پاس پہنچی ہے بے چاری ۔ےہاں بھی اسے کوئی نہےں جانتا ۔ اس کے پاس تو اتنے پےسے بھی نہےں کہ رہائش کا بندوبست کر سکے۔ مےں تو اسے بدےسی مےوہ سمجھ کر اپنے ساتھ لے آےا مگر قدرت کو شاےد کچھ اور ہی منظور تھا ۔ جولی نے کمال ذہانت سے مجھے اپنے ہی گھر مےں چور بنا دےا اور ماں جی کی توجہ حاصل کرنے مےں کامےاب ہو گئی ۔“

 ناشتے کے بعدشہاب خان نے اسٹال پر جانے کا ارادہ ملتوی کر دےا تھا۔ وہ ہر صورت جولی کا قصہ نبٹانا چاہتا تھا لہٰذا بستر مےں دبکا صورت حال پر غور کرتا رہا۔

اسی دوران ظہر کا وقت ہو گےا ۔ ماں جی اور جولی زبان سے زےادہ اشاروں کی مدد سے اےک دوسرے کو باتےں سمجھا رہی تھےں۔ مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوئی تو ماں جی اُٹھ کر وضو کرنے لگیں۔جولی دلچسپی سے انھیں وضو کرتے دےکھ رہی تھی۔

 ماں جی نے نمازکے لےے نےت باندھی تو جولی قرےب بےٹھی حےرت سے انھیں دےکھتی رہی ۔ جب انھوں نے آدھی نماز پڑھ لی تو جولی بھی انھیں دےکھ کر سجدہ اور رکوع کرنے لگی۔

شہاب خان ےہ منظر دےکھ رہا تھا۔ ماں جی نے دُ عاکے بعد بے خودی کے عالم مےں جولی کو سےنے سے لگا لےا۔وہ مسلسل اس کے چہرے اور بالوں پر بوسے لے رہی تھیں۔

”لو جی! جو کام مےں سوچ کر اس جل پری کو گھر لاےا تھا وہ ذمہ داری بھی ماں جی نے لے لی۔ “شہاب خان دانت پےس کر رہ گیا۔

ماں جی نے اسے اپنی بےٹی بنا لےا تھا ۔ وہ اسے سگی بےٹی کی طرح پےار کر رہی تھےں۔ ادھرشہاب خان سخت پرےشان تھا۔بے بسی نے اس کی زبان پر تالا لگا دےا تھا ۔ وہ فی الحال کوئی اےسی بات منہ سے نہےں نکالنا چاہتا تھا جس سے معاملہ بگڑ جائے اور جولی اس کے خلاف پھٹ پڑے ۔

دےر تک خوش گپےوں کے بعدماں جی کو خےال آ گےا کہ جولی کو نہائے پورا مہےنا گزر چکا ہے ۔انھوں نے جھٹ تےل کی بوتل اٹھائی اور اس کے گھونسلا نما بالوں مےں تےل لگانے لگےں۔جولی کی زندگی کا ےہ انوکھا تجربہ تھا ۔ سر کی مالش نے اسے مدہوش سا کر دےا تھا مالش کے بعد ماں جی اسے نہانے کے لےے غسل خانے مےں چھوڑ آئیں۔انھوں نے جولی کو پہننے کے لےے نےا جوڑا دےا تھا۔

ماں جی کی حالت اس وقت عجےب سی تھی۔ کبھی تو وہ مسکراتی دکھائی دےتیں تو کبھی آنکھوں مےں نمی کی چمک۔ غسل کے بعد ماں جی نے اسے سلےقے سے لباس پہناےا اور پھر کنگھی چوٹی کر کے کمرے سے باہر لے آئےں۔

 جولی کا نےا روپ دےکھ کر شہاب خان کا منہ حےرت سے کھلا رہ گےا۔ روائتی شلوار سوٹ مےں وہ کسی اور ہی دنےا کی مخلوق دکھائی دے رہی تھی ۔ شہاب خان جو کہ پہلے ہی اس کا دےوانہ تھا نئے حلےے مےں دےکھ کر مزےد بہک گےا ۔

اب وہ بہانے بہانے اس کے سامنے سے گزر رہا تھا مگر جولی کی ادا مےں تو نخرہ آ گےا تھا ۔ وہ اس کی موجودگی کو بالکل نظر انداز کر رہی تھی اور صرف ماں جی سے ہم کلام تھی۔ جب شہاب خان کو اپنی بے وقعتی کا احساس ہوا تو وہ تلملا کر رہ گےا ۔

”تم آج اسٹال پر نہےں گئے شہاب خان ؟“ ماں جی نے اسے ادھر اُدھر منڈلاتے دےکھ کر پوچھا۔

” طبےعت کچھ بوجھل سی ہے ماں جی شاید بخار ہو گےاہے ۔اس لےے آرام کروں گا۔ “

”ٹھےک ہے تم کمرے مےںجا کر لےٹو مےں کھانا بنا کر وہےں دے جاﺅں گی۔ “ماں جی جواب دے کر پلٹنے والی تھیں کہ شہاب خان نے کہا:

” اس لڑکی کو رات کی ٹرےن سے رخصت کرنا ہے ماں جی۔ اسے کہےں وقت پر تےار ہو جائے۔ “

”ےہ اب کہےں نہےں جائے گی شہاب خان۔“ماں جی نے ٹکا سا جواب دےا تو وہ بھونچکا سا گےا ۔

”کےا مطلب ؟“

” مےں نے اسے اپنی بےٹی بنا لےا ہے ۔“ ماں جی نے سکون سے جواب دےا۔

”ےہ کےسی باتےں کر رہی ہےں آپ۔ ہم کسی اجنبی لڑکی کو گھر مےں کےسے رکھ سکتے ہےں لوگ کےا کہےں گے اور اگر ےہ کوئی مجرمہ ہوئی تو ہو سکتا ہے پولےس آ پہنچے اور ہم سب دھر لےے جائیں۔ “

”اگر تم اس اجنبی لڑکی کو مےری اور پولےس کی اجازت کے بغےر گھر لا سکتے ہو تو کیا مےں اسے بےٹی نہیں بنا سکتی؟“

جواب اےسا تھا کہ شہاب خان کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔ وہ خاموشی سے کمرے مےں لوٹ آےا اور کمبل مےںمنہ چھپا کر لےٹ گےا ۔

 شام ڈھلی توماں جی کھانا بنانے کچن مےں پہنچ گئیں ۔ جولی بھی ان کے ساتھ تھی ۔ دونوں کے قہقہے سن کر شہاب خان کمرے سے باہر نکلا تو جولی ماں جی کے ساتھ روٹےاں بنا رہی تھی ۔

آگ کی نرم گرم روشنی مےں جولی اسے نکھری نکھری دکھائی دی۔نیا لباس اسے بہت جچ رہا تھا اور بال سلےقے سے گندھے ہوئے تھے ۔مگر شہاب خان اب اسے دےکھ کر آہےں بھرنے کے سوا کچھ نہےں کر سکتا تھا ۔

اسی طرح اےک ہفتہ گزر گےا ۔ شہاب خان نے اگلے روز سے اسٹال پر جانا شروع کر دےا لیکن دھےان ہر وقت گھر پر رہتا تھا ۔ اسے جولی پر قطعاََ بھروسہ نہےں تھا ۔ اگر وہ ماں جی کو حقےقت بتا دےتی تو شہاب خان بے موت مارا جاتا ۔

-٭-

 چند دن مزید گزرے تو شہاب خان کے صبر کا پےماہ لبریز ہو گیا۔ وہ جولی کو ہرصورت اپنی بانہوں میں دیکھنا چاہتا تھا ۔چنانچہ اس نے بہادر خان کے مشورے سے فےصلہ کےا کہ ماں جی کو نےند کی دوا دے کر جولی کو حاصل کر لیا جائے۔ انھیں ےقےن تھا کہ جولی کسی صورت ماں جی کو اس بارے نہےں بتائے گی ۔

اس رات شہاب خان وقت سے پہلے ہی گھر پہنچ گےا ۔ اس نے اپنے ہاتھ سے ماں جی کو دوا دی اور کھانا کھا کر مہمان خانے مےں چلا گےا ۔

منصوبے کے مطابق دو گھنٹے بعد وہ اپنے بستر سے نکلا اور دبے پاﺅں سےڑھےوں کی جانب بڑھا ۔ اس نے سوچا کہ اگر ماں جی جاگ رہی ہوئےں تو وہ قہوہ بنا کر واپس لوٹ آئے گا۔

 جےسے ہی اس نے پہلے زےنے پر قدم رکھا چرس کی مانوس بو نتھنوں سے ٹکرائی۔ اس نے چونک کر اُوپر دےکھا توآخری زےنے پرجولی ہونٹوں مےں سگرےٹ دبائے بےٹھی تھی۔ اس نے آنکھےں موند رکھی تھےں جےسے گہری سوچ مےں غرق ہو۔

 جولی کو قابو کرنے کا اس سے بہتر موقع کےا ہو سکتا تھا۔وہ دبے پاﺅں سےڑھےاں چڑھتا اس کے قرےب جا پہنچا۔ قدموںکی آہٹ سن کر جولی نے آنکھےں کھولےں تو شہاب خان کو دےکھتے ہی چہرے پر سختی نمودار ہوگئی اس سے قبل کہ وہ کچھ کہہ پاتی شہاب خان نے اےک ہاتھ اس کے منہ پر جماےا اور کسی گڑےا کی طرح اُٹھا کر مہمان خانے مےں لے آےا۔

شہاب کی گرفت سے آزاد ہو تے ہی جولی چند لمحے اس کی ہوس زدہ آنکھوں مےں دےکھتی رہی اور پھر بنا کچھ بولے دروازے کی طرف بڑھی ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ  مہتاب خان  محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے