سر ورق / کہانی / معزز گنجے نوشاد عادل حصہ اول

معزز گنجے نوشاد عادل حصہ اول

معزز گنجے

نوشاد عادل

حصہ اول

دنبے نائی کی عادت تھی کہ صبح ہی صبح دکان کھولنے کے بعد وہ ٹیپ ریکارڈ پر بلند آواز میں لشکارے دار گانے بجانا شروع کردیتا تھا، جنہیں وہ خود بھی سنتا تھا اور دوسرے دکان دار بھی اِن کریہہ وقبیح گانوں سے محظوظ ہوتے تھے۔ اس طرح دنبے نائی کی صبح کے ناشتے کے ساتھ دکان میں سارے دن کے لیے نحوستوں کا قیام ہوجاتا تھا،بلکہ دکان سے زیادہ خود دنبے نائی پر نحوست خانہ بدوشوں کی طرح ڈیرے ڈال لیتی تھی، اس لیے اس کی صورت بتدریج نیولے جیسی ہوتی جارہی تھی۔ وہ صبح ہی صبح دکان اس لیے بھی کھول کر بیٹھ جاتا تھا، تاکہ اسکول وکالج کے لیے جانے والی لڑکیوں کو دیکھ کر اپنی بدروح کو شاداب وسیراب کرسکے۔

آج دنبے نائی کا موڈ صبح سے ہی خراب ہوگیا تھا۔ اس کی اپنے چھوٹے بھائی سے گالی گفتار ہوگئی تھی۔ رات کو اس نے پاپوں کی تھیلی لاکر رکھی تھی۔ اس کا بھائی اس کے بیدار ہونے سے پہلے ہی سارے پاپے کھا گیا۔ تب دنبے نائی نے اپنے چھوٹے بھائی کو منہ بھر بھر کے گالیاں دیں۔ پاپوں پر دنبہ نائی اس طرح جان چھڑکتا تھا۔ جیسے گورکن قبروں پر پانی چھڑکتا ہے۔ اسے دنیا میں کھانے کی چیزوں میں سب سے زیادہ پاپے پسند تھے۔ اس کا دل کرتا تھا کہ یہ پوری دنیا پاپوں سے بھر جائے…. جہاں نگاہ اٹھے پاپے ہی پاپے نظر آئیں،لہٰذا اس کا موڈ آج چوپٹ پڑا تھا۔

دکان کھولنے کے فوراً بعد اس نے ٹیپ ریکارڈ میں نصیبولال کی کیسٹ لگا دی۔ وہ پھڑک دار گانے سن کر اپنا موڈ خوش گوار بنانا چاہتا تھا۔ گانے کی دھن پر وہ خود بھی چھوٹے چھوٹے ٹھمکے مارتے ہوئے جھاڑو دینے لگا، مگر ابھی آدھا گانا ہی چلا ہوگا کہ ٹیپ کے اسپیکروں سے ایسی آوازیں آنی شروع ہوگئیں جیسے کسی نے گلو گارہ کا ٹینٹواسنسی سے دبوچ لیا ہو۔ دنبے نائی نے جھاڑو پھینک کر تیزی سے کیسٹ نکالی۔ معلوم ہوا ٹیپ نے کیسٹ کی ریل چبالی تھی۔ دنبے نائی نے ٹیپ کی اس حرکت پر نہایت غصے کا اظہار کیا۔ اب اس کا غصہ راشی پولیس افسر کی توند کی طرح بڑھ گیا تھا۔ اس نے ٹیپ ریکارڈ کو بہت ہی اچھے اور مہکتے ہوئے لفظوں سے نوازا۔ اچانک دکان میں ایک نہایت مکروہ اور دل خراش آواز گونج اٹھی۔

”اے سیٹ…. اے سکھی…. دے دے پھکیر کو کوئی جکات کھرایت…. جمعرات بھری مراد…. اے سکھی سیٹ….“

ایک انتہا سے زیادہ دبلا پتلا بوڑھا فقیر اپنی لاٹھی ٹیکتے ہوئے دکان میں گھس آیا تھا۔ اس کا لباس تو ویسا ہی تھا جیسا عام طور پر فقیروں کا یونی فارم ہوتا ہے۔ البتہ وہ اتنا دبلا پتلا ہورہا تھا کہ اس سے دانتوں میں خلال بھی کیا جاسکتا تھا اور مانجے سے باندھ کر باآسانی پتنگ کی طرح اُڑایا جاسکتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں موجود سلور کے پیالے میں ریزگری چھن چھنا رہی تھی۔ غصے کے مارے دنبہ نائی پہلے ہی بدشکل ہورہاتھا اور جب اس نے فقیر کو ایسی دلیری کے ساتھ دکان میں دندناتے ہوئے داخل ہوتے دیکھا تو اس کا چہرہ بل ڈاگ جیسا ہوگیا۔ وہ انتہائی کڑوے کسیلے لہجے میں بولا۔

”آﺅ….آﺅ…. اندر آجاﺅ…. ادھر آرام سے لیٹ جاﺅ، مجھے بتادیا ہوتا پہلے ہی، میں خود چل کر تمہارے دولت کدے پر خیرات دے آتا۔ تم نے خواہ مخواہ زحمت کی۔ آﺅ ادھرمر جاﺅ۔ یہاں دفن ہوجاﺅ سکون کے ساتھ۔“ اس نے لمبی سی بینچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

فقیر بوکھلا گیا۔ ”کک…. کیا کیا ہوگیا سیٹ…. کھیر تو ہے نا؟“

”ابے جاچلا جا ادھر سے ….بھکاری کے بچے، تیرا بیڑہ غرق ہو، چلا جا یہاں سے چلا جا۔ ورنہ بے موت مارا جائے گا۔“ دنبہ نائی راشن پانی لے کر اس پر چڑھ دوڑا۔ ”ایک تو ایسی مکروہ اور پاپڑ جیسی کراری آواز نکال کر مجھے چونکا دیا اور اوپر سے پوچھ رہا ہے کیا ہوا۔ ہیں؟ ایسا بھولا بن رہا ہے۔ ابھی میرا ہارٹ فیل ہوجاتا تو۔ دکان کی جھاڑو لگی نہیں ہے۔ ایک گاہک بھی نہیں آیا ہے۔ فقیر پہلے چلے آرہے ہیں۔ کھیرات دے دو سیٹ بھیک دے دو۔“ دنبے نائی نے اپنی ٹانگیں اور ہاتھ ٹیڑھے کرکے فقیر کی نقل اُتاری کہ فقیر بھی حیران رہ گیا۔

”اے سیٹ منے بھیک ہی مانگی اے تیرے سے کوئی کار تھوڑی مانگی ہے۔“ فقیر کے تاثرات بھی تبدیل ہونے لگے۔

”ابے تو کار کا تو کیا کرے گا۔ تیرے کس کام کی کار، زیادہ سے زیادہ کار میں بیٹھ کر بھیک ہی مانگے گا اور تو کر بھی کیا جاسکتا ہے۔“

”سیٹ کھیرات دینا ہے تو دے، پرمنے بے عجت نہ کر، میں بھی عجب دار ہوں۔“ فقیر نے احتجاج کیا۔

”اوہو عجت دار کو تو دیکھو۔ ایسا پھٹا پرانا عجت دار، پہلے حالت تو دیکھ لے اپنی، آئینہ نہیں ہے تیرے گھر میں، اگر کبھی آئینے میں خود کو دیکھ لے تو گھر سے ہی نہ نکلے۔ ڈھانچے سے بھی بدتر ہورہا ہے، بلکہ ڈھانچے کا ایکسرے لگ رہا ہے۔ ابے اگر مانگنا ہے تو بھیک کے بجائے وٹامن کی گولیاں مانگ، طاقت کی دوا مانگ، پھل فروٹ مانگ، ایسالگ رہا ہے قبرستان سے نکل کر ڈائریکٹ میری دکان میں آرہا ہے۔“ دنبے نائی نے اپنی گوہر افشانی سے فقیر کو ہاف بوائل کر ڈالا تھا۔ اس کے چہرے پر بھی غصے کے آثار کیل مہاسوں کی طرح نکل آئے تھے۔ اس نے دنبے نائی کو پولیس والے کو نگاہ سے دیکھا۔

”رے تو میرا مجاخ اڑا دے، منے کوئی جناور سمجھے، اب تو دیک لیو، تیرے سات کا ہووے گا، جے پکھیر کی بددعا ہے۔“ فقیر پھٹ پڑا تھا، اس کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ ابھی اپنی لاٹھی لے کر دنبے نائی پر پل پڑتا اور اسے مار مار کر حقیقی دنبہ بنا دیتا۔

”اچھا اچھا چل۔ چچ، چچ، چل، ہٹ میری دکان سے یہ اپنی منحوس کالی کیچڑ جیسی صورت، دفع ہوجاایک سیکنڈ میں، ورنہ ابھی گنجا کردوں گا۔“ دنبے نائی نے ہاتھ جھلاتے ہوئے کہا اور فقیر اسے کوستا ہوا چلا گیا۔

اب یہ اتفاق ہی تھا کہ چند منٹ بعد ایک اور فقیر آدھمکا اور اس نے آتے ہی پاپڑ والے کی طرح کراری اور دل ہلا دینے والی آواز لگائی۔ ”اللہ کے نام پے بابا ….تیرے بچے جیویں…. تو سدا سکھی رہے۔“

 ابھی فقیر نے اپنا سپاس نامہ مکمل بھی نہیں کیا تھا کہ دنبے نائی نے آگے بڑھ کر انتہائی متانت اور بردباری کے ساتھ فقیر کی پشت ہا پشت پر جھاڑو کی ضربِ شدید رسید کی۔

 فقیر مینڈک کی طرح پھدک پڑا۔”بابا….بب…. بابا …. یہ کیا…. ہائیں….ابے ….اوئے….“

 فقیر نچلا دھڑ ہلا ہلا کر خود کو جھاڑو کے وار سے بچا رہا تھا اور نادانستگی یا مسکینیت میں گویا پشتو ڈانس کر رہا تھا، لیکن مہارت اور پھرتی سے کیا ہوا جھاڑو کاہر بے مثال وار تب بھی اس کی پشت پُرسی کرجاتا تھا۔

”آج جمعرات ہے…. میں بڑی دور سے آیا ہوں بابا۔“ فقیر نے لجاجت آمیز آواز میں کہا۔

”تو مجھ پر احسان کیا ہے دور سے آکے؟‘ دنبے نائی کا انجن دوبارہ گرم ہونے لگا۔ ”دور سے آیا ہے تو کیا میں تیرا ماتھا چوموں…. تجھے گلے لگا کر سگابھائی بنالوں…. تیرے آگے ٹھمکے لگاﺅں…. کس لیے آیا ہے تو دور سے، کیا شوق ہے تجھے خواری کا….مقصد بتا…. کیامقصد لے کر آیا ہے میرے پاس…. بول بک منہ سے۔“ غصے ہی غصے میں دنبے نائی نے دو تین دفعہ بھولے سے کولہے مٹکا بھی دیئے۔

”میں…. میں خیرات چاہتا ہوں۔“ فقیر نے ہکلاتے ہوئے بتایا۔ ویسے اسے دنبے نائی کے کولہے مٹکانے کا انداز دل ہی دل میں پسند آیا تھا۔

 دنبے نائی نے ایک زوردار جھاڑوگھمائی جو فقیر کی پشت پر لگی پھر وہ حیرت سے بڑبڑایا۔ ”ابے حیرت ہے ٹوٹی نہیں بڑی مضبوط ہے۔“

”اچھی والی جھاڑو ہے….یہ کھجور کی۔“ فقیر نے اسے بانس پر چڑھانا چاہا۔

”ابے میں جھاڑو کی بات کب کر رہا ہوں۔“ دنبے نائی نے ترچھی نظروں سے فقیر کی پشت کو دیکھا۔ ”اور یہ تو فری کس سے پوچھ کر ہورہا ہے…. اتنا فری ہوگیا ایک دم…. فوراً ہی پھیل گیا۔“

”بابا ایک روپے کا سوال ہے، ایک روپے کا۔“ فقیر بھی اپنے قبیلے کا سب سے ڈھیٹ انسان تھا۔

”ایک کروڑ کا سوال کر فقیر کی اولاد…. ایک روپے میں آج کل کیا ہوتا ہے، ایک روپے کی تو صرف تو ٹافی کھا سکتا ہے۔ ایک ایک روپے کے لیے خواری کرنے سے بہتر ہے کہ تو گھر جا اور لحاف میں گھس کر سوجا…. اب بہت دیر ہوگئی ہے…. شرافت سے نکل لے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے تیرے چاچو بھی آئے تھے۔ ان کو بھی کلٹی کردیا تھا میں نے،….چل شاباش….اگر کھجلی ہورہی ہے تو بتا دے ابھی سے…. اس کی دوا بھی ہے میرے پاس۔“ دنبے نائی نے اسے دکان سے باہر دھکیلتے ہوئے کہا۔

وہ غریب بھی بے عزت ہوکر چلا گیا۔ دنبے نائی نے صفائی سے فارغ ہوکر پرانے اخباروں کے ڈھیرے میں سے ایک پرانا اخبار نکال لیا۔ حالاں کہ یہ اخبار اس نے سیکڑوں مرتبہ پڑھ رکھا تھا ،لیکن اس کے باوجود وہی اخبار پڑھنے لگا۔ پھر ایک خبر قدرے بلند آواز میں پڑھی۔

”نواب شاہ سے حیدرآباد جانے والی ایک بس کھڈ میں جاگری، دو ہلاک گیارہ زخمی۔ ابے یہ سب ابھی تھوڑے دن پہلے تو گری تھی کھڈے میں۔ دوبارہ گرگئی۔ کیسا باﺅلا ڈرائیور ہے۔ بار بار اسی کھڈ میں گرا رہا ہے۔ کسی دوسرے کھڈے میں بھی گرا سکتا ہے۔“ دنبے نائی نے بس ڈرائیور کو ایک طاقت ور اور جان دار گالی دی ۔پھر اخبار کا صفحہ پلٹا ہی تھا کہ ایک آواز اُبھری۔

”السلام علیکم دنبے بھائی۔“ دکان میں انگریز انکل کا ملازم کالو داخل ہوا۔

”ابے تیرا باپ دنبہ، تیرا باپ اور پھر اس کا باپ دنبہ، تیرا خاندان دنبہ….الو کے چرخے…. کالے بندر۔“ دنبہ نائی ایک دم چراغ پا ہوگیا۔

”او بھائی کیا ہوگیا…. ایسا کیا کردیا میں نے؟“ کالو گھبرا گیا تھا۔

”ابھی کیا اپنے چچا کو دنبہ کہہ رہا تھا؟“

”میں نے کہہ دیا تو کون سا پہاڑ ٹوٹ پڑا….ساری کالونی جو کہتی ہے….وہ؟“ کالو نے عذر پیش کیا۔

”دنیا عزت دارہے اور تو ایک تیلی ذات کا معمولی انسان، ایک ہوٹل کا ملازم….تو بھی مجھے دنبہ کہے گا…. تیری یہ مجال ….سدا کے کنگال۔“ دنبہ نائی حقارت سے بولا۔

”ابے کیا ہے….کیا کھالیا صبح صبح…. خاماخائی میں غصے ہو رہے ہو؟“کالو نے حیرت سے اسے دیکھا۔

”تجھے اس سے کیا…. میں بھلے گوبر کھاﺅں…. تو روک سکتا ہے مجھے؟“ دنبہ نائی غرایا۔

”میں کیا پاگل ہوں جو تمہیں گوبر کھانے سے روکوں گا، بلکہ میں تو اور حوصلہ افزائی کروں گا۔“ کالو مکارانہ انداز میں مسکرایا۔

”چل اچھا بک مت زیادہ…. یہ بتا کس لیے آیا ہے یہاں؟“

”بال کٹوانے آیا ہوں اور بھلا کس لیے آﺅں گا….تم کیا یہاں مچھلی بیچ رہے ہو۔“ کالو یہ کہہ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔

 دنبہ نائی چند لمحے اسے گھورتا رہا ۔پھر کرسی کے عقب میں پہنچا اور بڑی بے دردی کے ساتھ کالو کی کھوپڑی پکڑ کر جھٹکے سے اِدھر اُدھر گھمائی۔

”کیسے کاٹوں…. کتا کٹ….کنجر کٹ….کٹورا رکھ کر کانوں یا پیالہ….بول کمین بول۔“ دنبے نائی کا غصہ اب تک برقرار تھا۔

”بس سیٹنگ کردو بالوں کی….پہلے تم نے برگر کٹ کاٹے تھے مانجے سے…. سب لوگ ٹوک رہے تھے کہ یہ کیسے بال کٹوا لیے ہیں…. اتنا برا منہ لگ رہا تھا میرا…. ہر کوئی مذاق اڑا رہا تھا۔“

”تو تیرا منہ ہی ایسا ہے۔ اسے کوئی الو کا پٹھا ہی اچھا کہہ سکتا ہے…. لوگ اندھے تھوڑی ہیں۔“

”بس تم بالوں کی سیٹنگ کردو۔ آج رات ایک رشتے دار کی شادی میں جانا ہے۔ ایسے ہیرو جیسے بال کاٹنا کہ لوگ دیکھیں تو دیکھتے ہی رہ جائیں اور سب ہیرو کہیں۔شاہ رخ خان جیسے بال کاٹ دو۔“

”شاہ رخ جیسا منہ تو لے کر آ…. اس کا پاجامہ تجھ سے زیادہ خوب صورت ہوگا۔ اب نچلا بیٹھ جا…. ابھی کاٹتا ہوں بال۔“ پھر دنبے نائی نے اپنے ہتھیار نکال لیے اور کالو کے سر کے بالوں سے مذاق کرنے لگا۔

 دونوں آپس میں بین الاقوامی امور پر بات چیت بھی کرتے جارہے تھے۔ دنبے نائی کو ہوش نہیں رہا کہ وہ کس اسٹائل میں بال کاٹ رہا ہے۔ بس وہ دھڑا دھڑ قینچی چلائے جارہا تھا۔ آدھے گھنٹے بعد جب اس کا ہاتھ اورمنہ رکا…. تب کالو نے پہلی مرتبہ آئینے میں اپنے سر پر نگاہ ڈالی۔ اگلے ہی لمحے اس کے منہ سے ایک دل فگار چیخ نکل گئی۔

 دنبے نائی نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا تھا اور دولت مند گنجوں کے جیسا بنا دیا تھا، یعنی سائیڈوں میں جھالریں لٹک رہی تھیں اور درمیان میں صفا چٹ میدان۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دائیں بائیں سرسوں کے کھیت ہیں اور بیچ میں ایک پگڈنڈی جارہی ہے۔ کالو کا دل چاہا کہ اس پگڈنڈی پر زور سے ایک ڈنڈی مار دے۔ وہ غریب موٹے موٹے آنسوﺅں سے رودیا۔

”آئے آئے…. ابے یہ کیا کردیا…. یہ مجھے کیسا بنادیا؟ اللہ میاں اب میں کیا کروں…. یہ میں کیا سے کیا ہوگیا ہوں…. ابے یہ کیسے بال کاٹ دیئے۔ اب میں شادی میں یہ آدھی گنجی کھوپڑی لے کر جاﺅں گا۔ تم نے مجھ سے دشمنی نکالی ہے۔ میں بھی تم کو نہیں چھوڑوں گا۔“ کالو ڈکراتا ہوا کرسی پر سے کھڑا ہوگیا اور بار بار اپنے سر کے گنجے اور چکنے حصے پر ہاتھ پھیر کر یقین کر رہا تھا کہ آیا یہ اسی کا سر ہے یا کسی اجنبی شخص کا۔

دنبہ نائی ہوائیوں بھرے چہرے کے ساتھ اسے پٹانے کی کوشش کرنے لگا۔ ”ابے اتنا اچھا تو لگ رہا ہے۔ بالکل نئے فیشن کے بال کاٹے ہیں۔ آئینے میں غور سے دیکھ ٹھنڈے دل کے ساتھ اور بتا اپنے حق ایمان کے ساتھ بتا…. اپنی عمر کے کسی لڑکے بالوں کا ایسا اسٹائل دیکھا ہے کبھی پہلے؟ نئیں نئیں تو بتا….بتا ناں؟ اب کیا ہوگیا…. میں سچ کہہ رہا ہوں یا جھوٹ؟“

”تم نے مجھ سے دشمنی نکالی ہے۔ مجھے بس میرے بال واپس کرو…. ورنہ میں تمہیں دیکھ لوں گا۔ مرد کا بچہ ہے تو آجائیو میدان میں، ہو جمالو….وہاں پتا لگ جائے گا تجھے۔“ کالو کی حالت دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ ”اب میں شادی میں کیسے جاﺅں، سب میرا مذاق اُڑائیں گے۔“

”ابے شادی میں جانے سے تجھے کس کتے کے بچے نے روکا ہے اور وہاں کون سا تو نے قوم سے خطاب کرنا ہے،جو سارے کیمرے تجھ پر فو کس ہوں گے…. چلا جائیو سر پر ٹوپی پہن کر تیرا چمکیلاعیب چھپ جائے گا۔“ دنبے نائی نے اسے مخلصانہ مشورہ دیا۔

”وہاں شادی ہو رہی ہے….کسی کا چالیسوں نہیں ہورہاہے۔“ کالو نے دانت کچکچائے۔ ”اچھا لگوں گا بارات میں ٹوپی لگاکے؟“

”ابے استاد….کیا بات کررہا ہے تو…. ایسا ہینڈسم لگے گا۔ تو پہن کر تو دیکھ ٹوپی…. نئیں لگے تو بولیو مجھ سے۔“ دنبہ نائی اسے بھرپور طریقے سے پٹانے کی کوشش کررہا تھا، مگر کالو پٹائی میں نہیں آیا وہ مسلسل اسے دھمکا رہا تھا۔ اسے میدان میں آکر لڑنے کا چیلنج دے رہا تھا۔

 غصے میں آکر دنبے نائی نے چمکتا ہو ا تیز دھار استرا اٹھالیا اور غراتا ہوا بولا۔

”چل اوئے گنجو پٹیل…. چل شاباش…. اب بہت ہوئی۔ بہت سن لی تیری بکواس…. ورنہ یہ دیکھ لے استرا۔ یہ جو تھوڑے بہت بال رہ گئے ہیں یہ بھی اُڑا دوں گا۔ دفع ہوجا ادھر سے…. کیسی مردود شکل لگ رہی ہے تیری…. چل۔“ اس نے استرالہرایا۔ کالو اسے دھمکیاں دیتا ہوا چلا گیا۔ ویسے دنبہ نائی اندر ہی اندر حیران بھی ہورہا تھا، کیوں کہ پہلی بار ایسا واقعہ ہوا تھا کہ اس نے کسی کو مرضی کے خلاف گنجا کردیاتھا۔ نا جانے اس کی کیا وجہ تھی۔

٭٭٭

شرفو کونسلر صاحب کے دفتر میں صرف للو تھا۔ آج پنجو کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وہ بے چارہ صرف دہی اور اسپغول کی بھوسی پر لگا ہوا تھا۔ صرف للو وہاں بیٹھا خوار ہورہا تھا۔ گلابی چھٹی پر گیا ہوا تھا۔ اتنے میں شرفو صاحب دفتر میں داخل ہوئے۔ اُن کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا اور چہرہ خوشی کے مارے آڑو جیسا لگ رہا تھا۔ دفتر میں آتے ہی وہ خوشی سے جھومنے لگے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ دو سومیل فی سیکنڈ کی رفتار سے ناچ رہے تھے۔

”کیا ہوا شرفو صاحب۔ خیر تو ہے….کسی نے لال مرچوں کا انجکشن لگا کر چھوڑ دیا ہے آپ کو۔“ للو سے رہا نہ گیا اور پوچھ بیٹھا۔                  شرفو صاحب نے خوشی کے مارے اس کی بات کو نظرانداز کردیا اور لفافہ لہراتے ہوئے بولے۔ ”ابے یہ دیکھ یہ…. یہ کیا ہے میرے ہاتھ میں۔ غور سے دیکھ جاہل۔“

 للو نے لفافہ دیکھا اور پوچھا۔ ”یہ تو کوئی لفافہ ہے اس میں کسی کے انتقال کا کارڈ ہے کیا؟“

”ابے انتقال کا کارڈ کہاں ہوتا ہے احمق انسان؟‘ شرفو صاحب نے منہ بنایا۔

”کیوں نہیں ہوسکتا۔ اب چالیسویں کے کارڈ تک تو نوبت آپہنچی ہے۔ بہت جلد وہ وقت بھی آجائے گا ،جب اس قسم کے کارڈ چھپیں گے کہ ہمارے پیارے دادا جان جو گزشتہ کئی سالوں سے کالی کھانسی کے مریض ہیں ،جن سے سارے گھر والے عاجز آچکے ہیں، اب وہ زندگی کے آخری منچ پر تشریف لاچکے ہیں۔ ڈاکٹروں نے ان کو تقریباً ایکسپائر قرار دے دیا ہے۔ مورخہ فلاں فلاں کو ان کا انتقال بغیر ملال متوقع ہے، بلکہ فل چانسز ہیں، لہٰذا آپ سے التماس ہے کہ دادا کے انتقال کے اس بغیر ملال موقع پر شرکت فرما کر دادا جان کو قبر تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔“ للو نے انتہائی تیزی سے کہا۔

”اس میں لوگوں کو زحمت دینے والی کون سی خاص بات ہے۔ دادا جان سے خود کہہ دیا جائے کہ وہ اکیلے ہی قبرستان چلے جائیں اور تمام امور بھی اکیلے ہی ادا کرلیں۔“ شرفو صاحب نے للو کے بیان میں ترمیم وتدوین کی۔ جسے للو نے بے حد پسند کیا۔

”شرفو صاحب! اس لفافے میں پھر اور کیا ہے ۔ کوئی دوسری پاگل بیوہ عورت آپ سے شادی پر رضامند ہوگئی ہے کیا؟“

”نئیں وہ تو ابھی نہیں ہوئی۔“ شرفو صاحب کے دل کاکھٹا سا درد جاگ اُٹھا۔ وہ کچھ مایوس سے ہوگئے تھے۔ ”لیکن کبھی نہ کبھی ہوہی جائے گی۔ خیر سن، یہ لفافہ اسلام آباد سے آیا ہے۔ ادھر ملک بھر کے کونسلروں کو بلوایا جارہا ہے۔ وہاں بڑے بڑے اہم فیصلے ہوں گے اور تمام کو نسلر اپنے اپنے علاقوں کے مسائل پیش کریں گے۔“شرفو صاحب نے فخریہ انداز میں بتایا۔ للو نے بھی اس پر خوشی کا اظہار کیا۔

”واقعی یہ تو بہت خوشی کی بات ہوگی۔ غالباً آپ دڑبہ کالونی کی پوری انسانی ہسٹری میں پہلے شخص ہوں گے۔ جو اسلام آباد جائیں گے۔ اب آپ کا نام بھی کتابوں میں نیل آرم اسٹرونگ کے ساتھ آیا کرے گا۔ جو سب سے پہلے چاند پر گیا تھااور آپ اسلام آباد جائیں گے۔“

”بالکل، بالکل یہ تو ہے اور تم میرے پیچھے دفتر کا خیال رکھنا کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نہ ہو۔“ شرفو صاحب نے اسے ہدایت دی۔

”تو یہاں کوئی چیز ہی کہاں ہے جو ادھر سے ادھر ہوگی۔ بس دو ہی چیزیں ہیں، ایک جھاڑو اور ایک گلابی۔“ للو نے منہ بناتے ہوئے بتایا۔

”بس تو پھر جھاڑوکا خیال رکھنا۔ جھاڑو زیادہ قیمتی ہے۔“ یہ کہہ کر شرفو صاحب باہر نکل گئے۔

شام تک پوری کالونی کو علم ہوگیا تھا کہ شرفو صاحب اسلام آباد کونسلروں کی کانفرنس میں شرکت کے لیے جارہے ہیں۔ کالونی کے معززین وخوارین کا ایک وفد جلوس کی شکل میں شرفو صاحب کے گھر کے سامنے پہنچ گیا۔ پہلے تو وہاں شرفو صاحب کے حق میں نعرے بازی ہوئی۔ کالے کالے ننگے پتنگے بچے بلاوجہ ناچے۔ پھر وہ لوگ شرفو صاحب کے گھر میں بھر گئے۔ شرفو صاحب نے چیدہ چیدہ لوگوں کو اپنے ایک بڑے کمرے میں بلوالیا اور ان کی اوقات سے انہیں بڑی عزت سے دری پر بٹھایا۔ کئی افراد پھولوں کے ہار بھی لائے تھے۔ سب سے پہلے خالو خلیفہ نے اٹھ کر کونسلر صاحب کے گلے میں ہار ڈالا۔

”مبارک ہو شرفو صاحب….بہت بہت مبارک ۔آخر کار آپ کو بھی عزت مل ہی گئی۔ یہ میری طرف سے آپ جیسے حقیر کے لیے ایک نذرانہ ہے…. قبول کریں۔“

”شکریہ شکریہ۔“ شرفو صاحب کی مت بھی ماری گئی تھی، بلکہ شاید انہوں نے اپنی مت کی مرمت کرکے خود مارا تھا، اس لیے انہوں نے خالو کے اس جملے پر غور نہ کیا۔

 اتنے میں چوہدری بشیر کو جلال آگیا اور وہ دونوں ہاتھ بلند کرکے آگے بڑھے۔”اوئے لاﺅ اوئے…. میں بھی شرفو صاحب پر پھولوں کی چادر چڑھا دوں۔“

سخن اکبر آبادی بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے ایک بڑا سا اخبار پکڑا ہوا تھا۔ جس میں پھولوں کی چادر تھی۔ سخن اور مجو قصائی نے مل کر چادر نکالی اور اسے پھیلا کر کونے پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ چوہدری بشیر نے بڑی نخوت سے کہا۔ ”کونسلر صاحب! یہ میری جانب سے آپ کے لیے پھولوں کی چادر ہے۔ آپ فرش پر لیٹ جائیں….یہ دونوں آپ پر چادر ڈال دیں گے۔ چلو بھئی…. ڈال دو چادر۔“

حکم ملتے ہی سخن اور مجو قصائی چادر پھیلاکر شرفو صاحب کی طرف اس انداز میں بڑھے، جیسے جال پھیلا کر کسی پرندے کا شکار کرنے بڑھ رہے ہوں۔

شرفو صاحب نے ڈپٹ کر کہا۔ ”ابے ہٹاﺅ یہ….یہاں میرا کوئی مزار بنا ہوا ہے….میری قبر ہے۔ بس ٹھیک ہے ایک طرف رکھ دو اسے۔“

”شرفو صاحب! آپ اسلام آباد جاکر ہم غریبوں کو بھول تو نہیں جائیں گے…. ہمیں یاد تو رکھیں گے ناں؟“ سخن نے بھولپن سے پوچھا۔

”کیوںمیرے لاڈلے، وہاں جاکر میں پاگل ہوجاﺅں گا۔ ادھر میری کوئی برین واشنگ ہوگی۔ میرے دماغ کا آپریشن ہو گا….ہیں؟ بات کررہا ہے خماخائی کی۔“ شرفو صاحب نے سخن کی منحوس صورت پر زبردستی کی نگاہ ڈالی ۔

”شرفو صاحب! آپ ذرا وَٹ شٹ میں جانا…. اچھے کپڑے پہن کر….ایسے ہی مت چلے جانا ….پرانے کپڑوں میں فقیروں کی طرح۔“

”بھئی ظاہر سی بات ہے…. اچھے کپڑوں میں ہی جاﺅں گا …. ننگا تھوڑی چلا جاﺅں گا۔“ شرفو صاحب کی پڈی پر جھنجلاہٹ سوار ہوگئی تھی۔

”وہ جو ہے ناآپ کے پاس ….کھوتنی کلر کا سوٹ، جس کے ساتھ آپ کتئی کلر کا کوٹ پہنتے ہیں۔ وہ آپ پر بہت جچے گا۔“ مجو قصائی نے کہا۔

”ابے تو وہ پہن کر شرفو صاحب کیا لگیں گے؟“ خالو نے بات کے خانے سے ایک اور نئی بات نکالی۔

”یہ تم لوگ مجھے مبارک باد دینے آئے ہو یا میری بے عزتی کرنے آئے ہو؟“ شرفو صاحب چلائے۔

”ارے ارے آپ کی بے عزتی کون سور کا بچہ کررہا ہے۔ کیوں سخن تو نے بے عزتی کی ہے شرفو صاحب کی؟“ خالو سخن کی طرف مڑے۔

”مم…. میں بھلا کیوں کروں گا۔کہاں میں راجا بھوج اور کہاں شرفو تیلی۔“ سخن بوکھلا کر اُلٹا محاورہ بول گیا۔

”ابے کیا بول رہا ہے بن مانس کی شکل کے…. تو نے شرفو صاحب کو تیلی بنادیا، جب کہ وہ ذات کے گھوسی ہیں۔“ انگریز انکل گرجے۔

”اچھا اچھا بس….بس کرو…. جو بول دیا…. وہ بول دیا۔“ چوہدری بشیر نے انہیں خاموش کرایا۔ ”سب جانتے ہیں شرفو صاحب ذات کے گھوسی ہیں۔ ہاں تو محترم شرفو صاحب! آپ کب روانہ ہو رہے ہیں اسلام آباد؟“

”کل صبح ہوتے ہی نکل جاﺅں گا۔“ شرفو صاحب نے غصہ دباتے ہوئے بتایا۔

”صبح ہوتے ہی نکل جاﺅ گے…. نہ منہ ہاتھ دھوﺅ گے…. نہ کلی کرو گے ….نہ کپڑے پہنو گے…. ایسے ہی بستر سے اُٹھ کر پاجامہ بنیان میں پھٹکار بھرے منہ کے ساتھ اسلام آباد چل پڑو گے؟ایسا تو نہیں کریں شرفو صاحب۔“ خالو نے سخت تعجب کے ساتھ پوچھا۔

شرفو صاحب نے جواب دینے کے بجائے بے بسی سے اپنے سر کے بال نوچنا اور ہاتھوں کی کلائیوں پر کاٹنا شروع کردیا۔ پھر وہ بولے۔ ”مجھے لگتا ہے تم لوگ مجھے پاگل کرکے چھوڑو گے۔ یہی چاہتے ہو تم سب لوگ…. مجھے پتا ہے۔ سب لوگ منصوبہ بنا کر آئے ہو۔“

”اللہ نہ کرے شرفو صاحب….کیسی باتیں نکال رہے ہیں۔“ سخن نے گال پیٹے۔ ”ہم پاگل کرکے کیوں چھوڑیں گے؟ پاگل کو بھی کبھی چھوڑا جاتا ہے؟“

”تم…. تم سب…. سب کے سب….“ شرفو صاحب کی آنکھوں کی پتلیاں چڑھنے لگیں۔

”کیا ہم…. سب کے سب…. چلیں اسلام آباد۔“ سخن خوشی سے اچھل پڑا۔

”ہاں چلو…. “ شرفو صاحب بھٹے کے دانوںکی طرح چٹ پٹانے لگے۔ ”بینڈباجے بھی ساتھ لے لو۔ بارات بنا کر چلو کانفرنس میں۔ وہاں سارے کونسلروں کے ابٹن لگانا۔ جوتا چھپائی کی رسم ادا کرنا ۔ مہندی لگانا۔ میرے سہرے کے گیت گانا۔“

شرفو صاحب غصے میں بولتے چلے گئے کہ کمرے کے اندرونی دروازے کی جانب سے ایک ہتھنی جیسی چنگھاڑ اُبھری۔ ”ہاں ہاں سب سن رہی ہوں تمہارے منصوبے…. تم کر کے تو دیکھو دوسری شادی…. ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر چیر دوں گی…. تم نے کیا سمجھ رکھا ہے مجھے؟“

”بھینس۔“ چوہدری بشیر کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا۔ انہوں نے جلدی سے اپنے منہ پر” ہپ“ کرکے ہاتھ جمادیا۔

”ہیں…. میں…. میں بھینس ہوں۔ تم نے مجھے بھینس کہا۔“ شرفو صاحب کی بیگم صاحبہ سمجھیں کہ شرفو نے انہیں بھینس کہا ہے۔ غصے میں وہ آواز نہیں پہچان سکیں اور شرفو صاحب خوف کے مارے انگوٹھا چوس رہے تھے۔ دوسرے ہاتھ سے نزدیک کھڑے دنبہ نائی کے سر کے بالوں کاپف بنا رہے تھے۔ یہ خوشی اور خوف کا انوکھا سنگم تھا۔

”بھینس نئیں پابی جی….بحث۔“ چوہدری بشیر نے بات برابر کرنے کی کوشش کی۔ ”آپ فضول بحث میں کیوں پڑ رہی ہیں۔ دفع کریں شرفو صاحب کو…. لعنت بھیجیں…. ادھر ہمارے سامنے ذلیل کرنے سے کیا فائدہ۔ اندر لے جاکر جتنا مرضی چاہے بے عزتی کرلینا…. یا پھر ادھر ماموں چوک پر ساری کالونی کے سامنے ایک دفعہ کھل کھلا کر ذلیل کر ڈالو۔ جان ہی چھوٹ جائے گی ایک مرتبہ میں۔“

اچانک کمرے میں موجود ہر شخص نے دیکھا کہ اندرونی دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا۔ پھر سب نے گٹر کے پائپ جتنے موٹے اور کالے پلپلے سے ہاتھ کو اژدھے کی طرح شرفو صاحب کی طرف لپکتے دیکھا تھا۔ پلک جھپکنے سے بھی کم عرصے میں شرفو صاحب کمرے سے غائب ہوچکے تھے۔ پھر چند ہی سیکنڈ بعد ان سب کے گناہ گار کانوں نے شرفو صاحب کی ایک موت گرفتہ چیخ سنی تھی۔ اصل میں پاپی جی نے شرفو صاحب کا ایک ہاتھ مروڑ کر انہیں فرش پر گراد یاتھا اور ان پر بیٹھ گئی تھیں۔ شرفو صاحب کا تو جوس ہی نکل گیا تھا۔ تمام معززین اور خوارین کے انڈی کیٹرز جلنے بجھنے لگے تھے۔ انہوں نے بغلولوں کی طرح جوتیاں بغلوں میں دبا ئیں،یعنی،نعلین در بغلین…. اور افراتفری میں وہاں سے فرار ہوگئے۔

٭٭٭

چاچا چراندی اپنے گھر کی چھت پر چڑھے ہوئے تھے اور ایک جگہ چھپ کر گردوپیش کے مکانات کی کھڑکیوں اور چھتوں کو دور بین سے تاڑ رہے تھے۔ اصل میں انہیں اپنی بیٹی چمکی کی طرف سے فکر لاحق تھی۔ انہیں شک تھا کہ چمکی کے چکر میں کالونی کے بہت سے افراد خواریاں کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ انہیں سخن کی طرف سے خطرہ تھا۔ اس کا گھر بھی نزدیک تھا اور وہ اپنے گھر کے صحن میں لگے آم کے درخت پر چڑھ کر چمکی کو لائن کراتا تھا۔ یہ قدرت کا ایک عمل ہے،جسے عملِ مکافات کہتے ہیں۔ برسوں پہلے جب چاچا جوان تھے۔ اُن کی خرمستیاں عروج پر تھیں۔ اس وقت دڑبہ کالونی نئی نئی دنیا کے نقشے پر اُبھری تھی۔ تب چاچا چراندی کے نین کالونی کی سب سے خرانٹ لڑکی کے نینوں سے لڑگئے تھے۔ چاچا تہمد دھو کر اس کے پیچھے پڑگئے تھے۔ اس لڑکی کے چکر میں ایک جوان اور تھا۔ اس کڑیل جوان کا نام شبن تھا۔ وہ خرانٹ لڑکی شبن پر فدا تھی۔ چاچا میں اتنی جرا ¿ت نہ تھی کہ وہ شبن سے اَڑسکیں، کیوں کہ شبن اس دور میں بھی کنگ فو اور مارشل آرٹ کا ماہر تھا، جب یہ فن اتنے عام بھی نہیں ہوئے تھے۔ بالخصوص مارشل آرٹ میں وہ بہت خطرناک سمجھا جاتا تھا۔ دشمن کو مار لگاتے لگاتے خود شبن کے ہاتھ پاﺅں شل ہوجاتے تھے۔ ان وقتوں میں مارشل آرٹ کواردو میں” آپا دھاپی“ کہا جاتا تھا۔ شبن نے یہ فن اپنی بڑی آپا سے سیکھا تھا۔

چاچا لڑنا تو نہیں جانتے تھے ,لیکن وہ شبن کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ وہ شبن کو بے عزت کرنے کے لیے نت نئے منصوبے بناتے رہتے تھے, حتیٰ کہ ایک مرتبہ انہوں نے شبن کو پوری کالونی میں چرسی مشہور کردیا تھا۔ ان دنوں شبن نے اپنا رشتہ محبوبہ کے گھر بھجوایا ہوا تھا,مگر شومئی قسمت سے اس سازش کا الٹا اثر ہوا اور محبوبہ کے ابا نے یہ سنتے ہی کہ لڑکا چرس پیتا ہے; فوراً اس کا رشتہ منظورکرلیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ لڑکی کا باپ پرانا چرسی ہے۔ اب اسے چرس کے حصول کے لیے بہت دشواری ہوتی ہے, اس لیے اس نے سوچا کہ لڑکا چرس پیتا ہے۔ یقینا وہ کہیں سے آسانی کے ساتھ چرس لے آتا ہوگا۔ اس شادی کے بعد انہیں چرس باآسانی داما د کے گھر سے مل جایا کرے گی اور دونوں کسی زینے کے نیچے بیٹھ کر پراٹھے کے ساتھ چرس کے دَم لگائےں گے۔

پھر بڑی دھوم دھام کے ساتھ شبن کی شادی اپنی محبوبہ کے ساتھ ہوگئی۔ شبن نے اپنے سسر کی خوشی کی خاطر اسے ایک کنستر میں چرس بھر کے دی تھی۔ سسر خوش ہوگیا تھا کہ چلو کم ازکم دو سال کا کوٹا پورا ہوگیا، مگر قدرت کو اس کی خوشیاں منظور نہ تھیں۔ ابھی وہ چرس کا کنستر آدھا ہی ہوا تھا کہ وہ ایک روز چھت پر سے نیچے صحن میں ٹپک گئے اور نیچے گر کر اوپر پہنچ گئے۔ پھر شبن کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا۔ شبن نے اس کا نام سخن رکھا۔ چاچا کے پچکے ہوئے سینے پر سانپ، بچھو، لال بیگ اور دیگر کیڑے مکوڑے رینگ گئے تھے۔ ان کی اب بھی دلی آرزو تھی کہ شبن مرجائے تو وہ اپنی محبوبہ گل بہار کو حاصل کرلیں اور ایک روز چاچا چراندی کی یہ تمنا پوری ہوگئی۔ شبن نے چار کلوتربوز کھاکے اوپرسے ڈھیر سارا پانی پی لیا اور ہیضے کی وجہ سے مرگیا۔ پوری کالونی میں واحد چاچا تھے، جو خوش ہو رہے تھے۔ قبرستان جاکر قبر کا آرڈر انھوں نے ہی دیاتھا۔ گورکن کو اپنی جیب سے پیسے دے کر بیس فٹ گہری قبر کھدوائی تھی۔ گورکن قبر کھودتے کھودتے زمین کی اتنی گہرائی میں چلا گیا تھا کہ پاتال چند ہی فٹ کے فاصلے پر رہ گئی تھی۔ چاچا نے رسی کی مدد سے گورکن کو باہر نکالا تھا۔ اس غریب کا کالا چہرہ خوف سے پیلا پڑ گیا تھا۔چاچا نے جلدی سے اسے سگریٹ کا کش لگوایا ،تب کہیں جا کر اس کا ڈر ختم ہوا۔ اصل میں چاچا کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں شبن زندہ نہ ہو اور اگر ایسا ہوا تو وہ اتنی گہری قبر سے باہر ہی نہیں نکل سکے گا۔

مگر ان کی امیدوں پر اس وقت مایوسی کا اسپرے ہوگیا جب گل بہار نے چاچا سے شادی کرنے سے صاف انکار کردیا۔ چاچا غم کے مارے تقریباً چریا ہی ہوگئے تھے۔ بس گھاس کھانے کی کسر رہ گئی تھی اور پھر گل بہار نے پوری جوانی ایسے ہی اپنے بیٹے سخن کے ساتھ گزاردی۔ بیٹا ایک تھا…. وہ بھی کریک تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

معزز گنجے نوشاد عادل حصہ دوم

معزز گنجے نوشاد عادل حصہ دوم  چاچا نے گل بہار سے مایوس ہونے کے بعد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے