سر ورق / افسانہ / چنی( ناصر صدیقی

چنی( ناصر صدیقی

چنی(chani)
ناصر صدیقی
اصل نام کا ہمیں پتہ تھا نہ پوچھا گیا۔ہم سب اسے چنی چنی کہتے پکارتے تھے جس کے گھر والے دوماہ ہوئے ہمارے محلہ کے ایک کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھے۔چنی کی عمر یہ تھی کہ سینے پر ننھی منی کلیاں پھوٹنے لگی تھیں۔قد لمبا سا،چھریرا بدن اور یہ موٹی موٹی آنکھیں۔ ہمارے گھر کھیلنے آتی تھی۔ میں بہت جلد اس سے گھل مل گیا تھا۔یہ زمانہ وہ تھا جب لڑکے لڑکیاں کافی عمر میں ہوکر بھی ایک دوسرے کے ساتھ ، اپنے یا اپنے پڑوسیوں کے گھروں اور محلہ کی گلیوں ،میدانوں میں مقامی کھیل کھیلتے تھے اور کسی کو انکی عمروں کو لے کر یہ فکر نہیں رہتی تھی کہ کہیں۔۔
ہم زیادہ چھپن چھپائی کھیلتے تھے کہ ہماری وسیع حویلی میں چھپنے کی ہزار جگہیں تھیں۔اوپر سے ہمارے ماں باپ باہر کھیلنے بھی نہیں دیتے تھے یہ کہہ کر کہ، باہر کی مٹی جسم پر زیادہ چپکتی ہے،تم میلے ہو جاؤگے۔
چنی زیادہ مہکتی چہکتی نہیں تھی۔ہنسنے کی بات پر ہماری طرح قہقہہ لگانے کی بجائے صرف مسکراتی تھی۔۔اسکے والدین کبھی ہمارے گھر نہیں آئے تھے جس طرح میرے گھر والے کبھی بھی اس کے یہاں نہیں گئے تھے۔ایک دن جب چنی نے بتایا کہ اسکے گھر والے یہ محلہ چھوڑ کر کسی بڑے شہر میں جا رہے ہیں تو یہ سن کر میں کچھ اداس سا ہو اتھا۔چنی خود بھی ملول سی دکھائی دیتی تھی۔
اس دن بڑے دور سے میری ایک کزن اپنے والدین کے ساتھ ہمارے گھر آگئی تھی تو ہم بچے لوگ چھپن چھپائی کھیلنے لگے تھے۔ایک موقع پر جب چھپنے کے لئے مجھے کسی اندھیرے کونے پر ایک پرانی کرسی نظر آئی تو میں اس پر بیٹھنے کے لئے دوڑپڑا۔اتفاق سے چنی بھی میرے پیچھے چلتے ہوئے اسی کمرے میں آگئی تھی۔باہر کسی کی آہٹ سن کرمیں کرسی پر بیٹھ گیا۔چنی کسی اور کونے اور دروازے کی تلاش میں اپنی نظریں ادھر ادھر گھمانے لگی۔لیکن دروازہ ایک ہی تھا جس کے پاس آہٹ بھی پہنچ ہی گئی تھی۔کچھ اور نہ پا کر چنی اچانک دوڑ کر میرے پاس آئی اور میری گود میں بیٹھ گئی۔گرنے کو تھی کہ میرے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر کس دیئے کہ وہ گرنے سے بچ جائے یا میں اسے گرنے نہ دوں۔میں نے اسے گرنے نہیں دیا ،پوری طرح تھام لیا۔میں نے اپنی سانسیں روک لیں کہ تلاش کرنے والا کمرے میں بس آنے ہی والاتھا۔چنی نے بھی اپنی سانسیں دبا لی تھیں کہ اسے بھی پکڑا جانا پسند نہیں تھا کہ یہ کھیل ہی ایسا تھا۔میرے ہاتھ چنی کے سینے پر ہیں،اس بات پر میرے عجیب سے اور نامعلوم سے جذبات بیدار ہونے لگے تھے۔میری سانسیں جیسے اب آزاد ہونا چاہتی تھیںیاان میں آزاد ہونے اور کھلنے کی ایک بڑی بے قراری آئی ہوئی تھی لیکن میں نے سانسوں کو شکست دی تاکہ تلاش کرنے والے کو ہماری گن سن نہ ملے اور ہم پکڑے نہ جائیں کہ پھر کھیل کا کیا مزا ہونا تھا۔چنی کے دل کی کیفیت کا مجھے پتہ تو نہ تھا بس میرا اندازہ تھا کہ اس نے کبوتروں کی طرح اپنی آنکھیں بند کی ہوں گی کہ متلاشی شکاری بلا اسے دیکھ نہ پائے ۔آہٹ اب دروازے کے پاس آکر رک گئی تھی۔اندر آئے گی یا نہیں؟میری سوچ یہی تھی ۔یقیناً چنی بھی اسی خیال سے لپٹی ہوئی تھی۔ لیکن اندر کوئی نہیں آیا۔ہم نے سکون کا سانس لیا۔تب مجھے محسوس ہوا کہ میری گود بے حد گرم ہو رہی ہے۔یہ کیا ہے اسکی خبر مجھے نہ تھی صرف یہ پتہ تھا زندگی میں پہلی بار یہ کیفیت طاری ہو رہی ہے۔چنی اپنے سینے پر سے میرے ہاتھ ہٹا کر اٹھی اور میری طرف دیکھے بغیر باہر کی طرف چلنے لگی تو میں بھی اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ہمیں کوئی ڈھونڈ نہیں سکا ہے،اسکی خوشی بے شک تھی لیکن ایک الگ سی خوشی بھی محسوس ہونے لگی تھی۔وہ خوشی،جذبہ، احساس اور کیفیت کیا تھی اسکی مجھے صحیح صحیح پہچان اور علم نہیں تھا۔
دوسرے ہفتے چنی ہمیشہ کے لئے یہ محلہ اور شہر چھوڑ نہ جانے کہاں چلی گئی تھی۔میں صرف چند دن اداس رہاتھا کیونکہ زندگی کا تماشا بڑی جلدی سب کچھ بہا لے گیا تھا۔اب کبھی کبھی چنی کی یاد آتی تھی۔
جب میں جوان ہوا تو چنی سے وابستہ اس ماضی کی کیفیٹ اور خوشی کو جان گیا جب وہ میری گود میں بیٹھی تھی اور میرے ہاتھ اسکے سینے پر لپٹے ہوئے تھے۔میں صرف دل میں مسکراا کہ اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔
***
اب میں ایک بڑے سرکاری عہدے کے ساتھ مختلف شہروں میں ٹرانسفر ہو ہو کر ایک بڑے شہر میں آگیا تھا۔میرے بیٹے دس سالہ سلمان اور بیٹی سات سالہ نویدہ کو یہ شہر اور محلہ اچھا لگ رہا تھا۔البتہ میری بیگم صاحبہ کچھ ڈسٹرب سی لگتی تھیں لیکن ملازمت کی مجبوریوں کو لے کر خاموش تھیں۔بچوں کو ٹیوشن پڑھانے مہتاب نامی ایک اچھی ٹویٹر ملی تو ہم کچھ ریلیکس ہوگئے۔بچوں کووہاں ڈرائیور لے جاتاتھا ،غیر حاضر رہتا تو میں ڈراپ کرتا۔ایک دو بار گیٹ پر مہتاب سے سر سری ملاقات بھی ہو گئی۔میری بیگم صاحبہ کی ہم عمر لگتی تھیں،جاذب نظر،خاص کر انکا لمبا قد اور بڑی بڑی آنکھیں اپنی طرف ضرور کھینچتی تھیں۔
اس دن بھی ڈرائیور اپنے کسی کام کے سلسلے میں غیر حاضر تھا۔میں بچوں کو لینے جا رہا تھا کہ رستے میں اسکا فون آگیا کہ وہ کسی سے لفٹ لے کر ڈیوٹی پر آ رہا ہے۔میں نے اسے سیدھا مہتاب کے یہاں آنے کو کہا کہ مجھے کسی جگہ ڈراپ کر کے بچوں کو گھر لے جائے۔میں نے ڈور بیل بجائی تو مہتاب کی نوکرانی نکلی،بولی کہ آج مہتاب بچوں کو کچھ خاص پڑھا رہی ہیں،وقت لگے گا میں تب تک ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر بچوں کا انتظار کروں۔میں نے اثبات میں سر ہلایا تو وہ مجھے ڈرائینگ روم میں بٹھا کر خود باہر گئی۔جلد ہی ڈرائیور کا فون آیا کہ وہ مہتاب کے گیٹ پر کھڑا ہے۔میں نے اسے انتظار کرنے کو کہا۔ کچھ ہی دیر میں مہتاب بچوں کے ساتھ ڈڑائینگ روم میں آگئیں:’’معاف کیجئے گا آج ذرا۔ ۔۔ ‘ ‘ ’’کوئی بات نہیں۔‘‘میں نے مسکرا کر کہا۔اس پر وہ ایک دلکش لہجہ لئے بولیں:’’آپ پہلی بار میرے غریب خانہ پر تشریف لائے ہیں۔ خوشی ہوگی اگر آپ چائے ۔۔۔۔‘‘ اس پر میں ایک الجھن میں پڑا۔ مجھے کسی اور جگہ پر بھی جانا تھا۔ لیکن چائے کی دعوت ٹھکرانا بھی غیر مناسب لگتا تھا ۔’’ ٹھیک ہے،بچوں کو میرا ڈرئیور لے جائے گا،باہر کھڑا ہے۔‘‘یہ کہہ کر میں بچوں کے ساتھ باہر گیا۔ڈرائیور کو ہدایت کی کہ وہ پندرہ بیس منٹ کے بعد واپس یہاں آئے۔ ڈرائیور بچوں کو لے کر چلا گیا تو میں واپس ڈرائینگ روم میں آکر بیٹھ گیا۔کچھ ہی دیر میں مہتاب آئیں تو اسکا لباس بدل گیا تھا۔گلابی شلوار قمیص ان پر بہت اچھی لگ رہی تھی۔۔منہ ہاتھ دھونے سے وہ کافی فریش بھی دکھائی دیتی تھیں۔وہ میرے مدمقابل صوفے پر بیٹھ ہی گئیں کہ نوکرانی چائے اور بسکٹ وغیرہ سے سجی ٹرالی کے ساتھ حاضر ہوئی۔
’’معاف کیجئے میرے یہاں تیار چائے ملتی ہے۔شوگر کا مسلہ ہے تو۔۔۔‘‘ اور مسکان سے جیسے ان کے ہونٹ اور بھی سرخ سے ہو گئے ۔
’’اتفاق سے مجھے شوگر کی کوئی پرہیز نہیں۔‘‘ جواباً میں نے بھی ایک اچھی مسکراہٹ لانے کی کوشش کی۔نوکرانی،جو ابھی تک کھڑی تھی، جانے لگی تو مجھے نہ جانے کیوں ایک گھبراہٹ سی ہونے لگی۔میں نے اپنا کپ اٹھا یا تو میں نے دیکھا جیسے میں اب لرز بھی رہا ہوں۔میں نہیں بلکہ ساری فضا لر ز رہی تھی۔جی ہاں! زلزلہ ہونے لگا تھا۔میں فوراً کپ رکھ کر اٹھا۔مہتاب بھی صوفے پر سے اٹھ گئی تھیں۔زلزلہ سے بچنے ہم باہر جانے لگے۔بیچ رستے زلزلہ میں شدت آگئی تو میرے اوسان خطا ہو گئے،سمجھ میں کچھ نہیں آرہا۔ ادھر ادھر کوئی محفوظ جگہ ڈھونڈنے لگا۔کسی کونے پر جہاں چھت نہیں تھی ایک کرسی رکھی دیکھی تو اس پر بیٹھنے کو دوڑ پرا۔جونہی میں اس پر بیٹھ گیا تو دیکھا مہتاب بھی میرے پیچھے پیچھے چل کر آگئی تھیں جو زلزلہ کی گھبراہٹ کو لئے میری گود میں بیٹھ گئیں۔گرنے کو تھیں کہ میرے ہاتھ اپنے سینے پر کس گئیں کہ میں انھیں سنبھالوں ،گرنے نہ دوں ۔ زلزلہ اب جیسے اور بھی خوف لانے لگا تھا۔اچانک زلزلہ بند ہو گیا۔لیکن اب میری کیفیت،مہتاب کے سینے پر کسے اور کسائے گئے میرے ہاتھوں کی وجہ سے زلزلہ جیسا ہی تھی۔مہتاب کی اپنی حالت اور کیفیت کیا تھی اسکی مجھے خبر نہ تھی لیکن وہ ہڑ بڑاکر میری گود سے اٹھیں۔اب اپنی پلکیں جھکائے میرے رو برو خاموش کھڑی تھیں۔لمبے قد میں کتنا وقار تھا۔دوپٹہ گرا ہوا، بال بکھرے ہوئے کہ زلزلہ میں کسے اپنی کسی چیز کا ہوش رہتا ہے۔لیکن میں اب اپنے پورے ہوش میں تھا۔
’’آپ چنی ہیں نا؟‘‘میں نے سپاٹ لہجہ اپنا کر پوچھا۔
انھوں نے پلکیں اٹھائیں،پھر جھکائیں:’’جی،آپ کی بچپن، لڑکپن اور یادوں کی چنی۔‘‘اور انکی آنکھوں میں آنسو چھلک اٹھے۔میں اب خوشی سے نہال ہونے لگا تھا۔پھر میں نے دیکھا کہ انکے تھرتھراتے لب مسکرنے لگے تھے:’’آپ نے اس لئے پہچانا نا کہ میں نے آپ کے ہاتھ اپنے سینے پر رکھ دیئے جس طرح پہلے۔۔۔؟‘‘
’’نہیں!‘‘
اس پر انھوں نے حیران سی نظریں اٹھا کر پوچھا:’’پھر کیسے پہچانا؟‘‘
’’اپنی گود کی گرمی سے میں اپنی چنی کو پہچان گیا۔‘‘
اس پرپہلے وہ چند ثانیہ خاموشی سے مجھے تکتی رہیں پھر’’میرے ناصر!‘‘‘ کہہ کر مجھ سے لپٹ گئیں اور زارو قطارر رونے لگیں۔میں نے انکی پیٹھ پر تسلی اور پیار کی تھپکیاں دیں۔میں اب یہ بھول گیا تھا کہ میری بیوی اور بچے ہیں اور زلزلہ انھیں بھی پریشان کر گیا ہوگا۔(ختم شد)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

” روٹھی ہوئی محبوبہ ” .. خالد شیخ طاہری۔

” روٹھی ہوئی محبوبہ " از.. خالد شیخ طاہری۔ حسبِ معمول رات کا کھانا کھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے