سر ورق / ثقافت / دسویں عالمی اردو کانفرنس کرن صدیقی                            

دسویں عالمی اردو کانفرنس کرن صدیقی                            

دسویں عالمی اردو کانفرنس

کرن صدیقی

                                  **********************

       10دسویں اردو عالمی کانفرنس کے آخری دن تو صبح سے ماحول پر اداسی چھائی ہوئی تھی یہ اجتماع جو دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگوں پہ مشتمل تھا اب بکھر جانے کو تھا آج کے سیشنز میں تھیٹر کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے بات چیت، پھر ایک بہت سنجیدہ گفتگو جو کہ سیاسی نوعیت کی تھی موضوع تھا قائداعظم کا تصور پاکستان، رضا ربانی اور حاصل بزنجو وغیرہ شریک گفتگو تھے اختتامی اجلاس میں صدر احمد شاہ نے ان تمام کاوشوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اور ان کے ساتھ آرٹس کونسل کی پوری ٹیم  نے پانچ دن اس انجمن کو سجانے کے لیے کی تھیں اپنی محنتوں کی داد تو انہوں نے نہ چاہی لیکن چھوٹی موٹی کوتاہیوں کی معذرت ضرور کی آج کی خاصے کی چیز انور مقصود کی گفتگو تھی جو انہوں نے پاکستان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں کی تھی اپنے مخصوص اور شگفتہ طنزیہ انداز میں انہوں نے وہ سب کہہ دیا جو جو عام طور پر کہنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچناپڑتا ہے ۔

ہم وقتا فوقتا لوگوں سے اس کانفرنس کے بارے میں بات کرتے رہے اداکار قومی خان نے کہا کہ انہیں یہاں آکر اچھا لگا اور ان کی کوشش ہوگی کہ وہ آئندہ بھی اس میں شریک ہوں ٹی وی اداکارہ ارسہ غزل نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ اب تک کیوں اس کانفرنس میں نہیں آئیں یہاں آکے انہیں بہت کچھ جاننے اور سیکھنے کو ملا اور یہ کہ آئندہ وہ اس میں شمولیت کے موقعے کو ہاتھ سے نہیں جانے  دیں گی،  مصر سے آئے ہوئے ڈاکٹر ابراہیم عربی لہجے میں بہت رواں اردو میں بات کررہے تھے انہوں نے شوقیہ اردو پڑھی انہوں نے اسے ایک بے مثال اور شاندار اجتماع قراردیا ان کا کہنا بھی یہی تھا کہ ایسے اجتماع ہوتے رہنا چاہیئں تاکہ ان لوگوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع میسر ہوں جو باصلاحیت تو ہیں لیکن ان کے پاس اسکے اظہار کے مواقع نہیں

سب سے مختصر اور خوبصورت تبصرہ جاپان سے آئے ہوئے عاشقِ اردو پروفیسر ہیروجی کتاؤ نے کیا ۔

ان نے جب کانفرنس کے بارے میں بات کی تو انہوں نے کہا کہ کانفرنس بہت اچھی ہے اور اسکے بارے میں میں بس یہ ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ کانفرنس سویٹ ڈش سے بھی زیادہ میٹھی ہے مشہور شاعر ناقد اور اردو ڈکشنری بورڈ کے مدیر عقیل عباس جعفری نے بہت مفصل بات کی،  انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس بہت اچھی ہے لیکن اس کے باوجود اس میں بہتری کی گنجائش ہے ایسی ادبی محافل صرف کراچی  ہی میں نہیں ملک کے ہر شہر میں ہونا چاہیئں کیونکہ لوگ بم دھماکوں ،قتل و غارتگری اور دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں اور ایسی محفلوں میں شریک ہونا چاہتے ہیں جہاں انہیں ذہنی تسکین اور آسودگی میسر آئے وہ مذہب کے نام پے جبر اور پابندیوں سے نفرت کرتے ہیں، ڈائجسٹ کی دنیا کا بڑا نام احمد اقبال نے بھی اس کانفرنس کی تعریف کی اور عقیل عباس جعفری صاحب کی بات کی نہ صرف تائید کی بلکہ اسے  آگے بھی بڑھایا انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانفرس میں اپنے اپنے شعبے کے وہ ماہر لوگ بلائے گئے ہیں جنہوں نے اپنے فن کی نمو میں زندگیاں گزاردی ہیں ان کے نام اور کام سے تو ساری دنیا واقف ہے کوئی پہلو زیادہ جاننے کے لیے رہا نہیں ہے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے نوجوانوں اور ہنرمندوں کو عوام سے متعارف کروایا جائے جو اب اپنے میدانِ فن میں قدم جما رہے ہیں ۔

صاحب کتاب شاعرہ براڈکاسٹر صدف مرزا نے بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بیروں ملک رہنے والے ادیب اور شاعر ایسی تقریبات کے لیے ترستے ہیں خوشی ہے کہ کسی نے تو یہ بیڑہ اٹھایا کہ ہرسال اتنے بڑے پیمانے پر اتنا اچھا پروگرام ترتیب دیتے ہیں بیرون ملک ایسی پررونق اور بھرپور تقریب کا انعقاد ناممکن ہے ۔

کوئٹہ سے آئے ہوئے رائٹر علی تاج بابا نے کہا کہ ہرچیز کا بہترین انتظام ہے اتنے لوگوں کو اچھے انداز میں لے چلنا بہت کمال کی بات ہے ان پانچ دنوں میں باقی تو سب لوگوں سے بات ہوئی لیکن عابدی صاحب یعنی رضاعلی عابدی وہ واحد شخصیت تھے کہ جب بھی ان سے رائے لینے کی کوشش کی انہیں ان کے مداحوں نے گھیر لیا لہذا ان سے گفتگو نہ کی جاسکی حالانکہ دن بھر میں دن بھر میں کئی دفعہ ان سے سامنا ہوا آرٹ کونسل کے انچارج نظرحسین نے اس ایونٹ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایشیا کا سب سے بڑا ادبی میلہ ہے اور اس حوالے سے آرٹس کونسل کے تمام عملے پہ بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے جسے ہم سب لوگ اپنی بساط بھر نھبانے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ۔

عجیب بوجھل سے دل کے ساتھ اس دن کی تقاریب کے اختتام پر وہاں سے رخصت ہوئے ہم ذاتی طور پر اس اردو کانفرنس اور کتب میلے سے بہت متاثر ہوئے کہ احمدشاہ کی انتھک محنت نے ایسی خوبصورت تقریب جو ترتیب دیا یہ محفل عوام کے لیے ہی ہے۔

یہ بے مثال تقریب تھی ایسی شاندار محفلیں ایک دفعہ نہیں سال میں بہت دفعہ ہونا چاہیئں لوگوں خصوصا نوجوان نسل کی سماجی،اخلاقی اور ذہنی تربیت کے اعتبار سے ایسی سماجی تقریبات بہت اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ یہ لوگوں میں مثبت سوچ پیداکرتی ہیں اور مثبت سوچ ہمیشہ ملکی ترقی میں اہم کردارادا کرتی ہیں اور یہ صرف آرٹس کونسل کی ہی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ایسے اجتماعات کا انعقاد کرے دیگر سماجی تنظیموں اور اصلاحی اداروں کو اس سلسلے میں آگے آکے آرٹس کونسل کا ہاتھ بٹانا چاہیے کہ ان کا بوجھ کم ہو ابھی تک تو کراچی کا روشن چہرہ نمایاں کرنے کی ذمہ داری آرٹس کونسل نے اپنے شانوں پر اٹھارکھی ہے اللہ انہیں ہمت دے کہ وہ آئندہ بھی ایسی ہی خوبصورت تقریبات سجاتے رہیں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ینگ ویمن رائٹرز فوراسلام آباد ، اولین ادبی بزمِ نسواں ابصار فاطمہ, عروج احمد

ینگ ویمن رائٹرز فوراسلام آباد کے زیرِ اہتمام اولین ادبی بزمِ نسواں ابصار فاطمہ, عروج …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے