سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ رضالحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ رضالحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ

رضالحق صدیقی

ٹائمز سکوئر کی جھلمل روشنیاں

نیویارک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ The City which never sleepsٹائمز سکوئر پر دن سے رات کرتے ہوئے اس بات کا احساس کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔کھوے سے کھوا چھلتا دیکھنا اور محسوس کرنا ہو تو اس علاقے میں سیر کیجئے۔

ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میں کافی وقت لگ گیا تھا شام کے جھٹ پٹے میں ہم باہر آئے۔عدیل کہنے لگا دوپہر کا کھانا تو ایمپائر اسٹیٹ کی نظر ہو گیااب کہیں کھانا کھاتے ہیں،یہاں ہلٹن ہوٹل کی ناک کے نیچے حلال برادرز کی ریڑھی ہے،وہاں سے پلیٹر کھاتے ہیں۔کہنے کو تو یہ ریڑھی ہے لیکن خریداروں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں۔ہلٹن ہوٹل والوں نے انہیں وہاں سے ہٹانے کی بڑی کوشش کی لیکن یہ وہیں کے وہیں ہیں بلکہ ان پر رش اور بڑھ گیا ہے۔وہاں کھانا کھانے کے بعد آج ہی ٹائمز سکوئر بھی گھوم لیتے ہیں۔آپ یہ نہ کہیں کہ عدیل نے نیویارک کی بتیاں نہیں دکھائیں۔

حلال برادرز کی ریڑھی پر واقعی اتنا ہی رش تھا جتنا کہ عدیل نے بتایاتھا۔ہم نے چار پلیٹر لئے جن میں دو رول کی شکل میں اور دو پیالے کی شکل میں تھے۔یہ عجیب سا ملغوبی تھا ،کچھ چاول تھے،کچھ چکن کی باریک باریک بوٹیاں تھیں،کچھ سلاد تھا،کچھ ابلے ہوئے مسلے ہوئے چنے تھے اور مختلف قسم کی ساسز تھیں۔وہیں سڑک کے کنارے ایک بینک کے باہر اڑتے ہوئے باز کی شکل کے مجسمے کے اردگرد بنی ہوئی پتھر کی منڈیر پر بیٹھ کر اس کھانے نے بڑا مزا دیا۔

ٹائمز سکوئر کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ انٹرٹینمنٹ کی دنیا ہے یہاں روشنیوں کی چکاچوند ہے۔متحرک نیون سائن آنکھوں میں منعکس ہو کر ایک تھری ڈی تصویر بنائے چلے جاتے ہیں۔میں ایسے دیس سے آیا تھا جہاں بجلی کی کفائت شعاری پر زور دیا جاتا ہے جہاں نیون سائن لگے تو ہوئے ہیں لیکن انہیں جلنے کی اجازت نہیں،ایسے میںمیری مثال اس شخص کی سی تھی جسے اندھیرے کمرے سے ایکدم روشنیوں کے سیلاب میں چھوڑ دیا گیا ہو۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ روشنیوں کی بھی کوئی زبان ہوتی ہے،میوزک اور روشنی کے باہم اتصال سے جو تھرل پیدا ہوتی ہے وہ کتنی ہیجان خیز ہوتی ہے۔

میں اپنے دیس میں جوہر ٹاﺅن میں سے گذر کر ڈاکٹرز ہسپتال کے سگنل پر رکتا تھا تو سامنے سڑک کی دوسرے جانب ایک بل بورڈ نظر آتا تھا جس پر نیا نیا ڈٹرجنٹ پوڈر کے ڈبے کی تصویر کے ساتھ اسی پر کپڑے لٹکاتی عورت کے سائڈ پوز کی تصویر کا اشتہار نظر آیا،اشتہار قابلِ توجہ تھا،دو تین دن تو بورڈ سلامت رہا تیسرے دن واپڈا ہاﺅس جاتے ہوئے دیکھا تو اس بورڈ پر سیاہی پھینک کر لکھ دیا گیا تھا کہ عریانی فحاشی بند کرو کہ نسوانی چہرہ خواہ ماں کا ہی کیوں نا ہو فحاشی قرار پاتا ہے۔

اپنے دیس کی ایسی زندگی سے ٹائمز سکوئر کی ان روشنیوں میں جہاں رات کو بھی سب کچھ صاف صاف نظر آتا ہے کچھ ایسے مقامات بھی آئے کہ میں جھینپ کر رہ گیاخاص طور پر بچہ لوگ کے ساتھ چلتے ہوئے لیکن بچہ لوگ ایسے مناظر پر توجہ دئیے بغیر چلے جا رہے تھے عیسے بھی ان کی عینکوں میں جھانکنے سے بھی کوئی تاثر نظر نا آ پاتا کہ ان کی آنکھوں کو کچھ شیشوں اور کچھ عینک کے شیشوں پر پڑنے والے اشتہاروں کے عکس نے چھپا رکھا تھا۔ایک میں ہی تھا جو عینک کے بغیر تھا اور میرے لئے اپنے تاثرات چھپانا خاصا دشوار ہو رہا تھا۔یہ درست ہے کہ عمر خواہ کتنی ہی کیوں نا ہو گئی ہو ۔مرد کا دل راکھ میں دبی اس سلگتی چنگاری کی مانند ہوتا ہے جو کسی بھی وقت بھڑک سکتی ہے،ایک دوسری بات کا بھی تجربہ ہوا کہ شوبز کے لوگ اور ہماری نئی نسل ہر وقت عینک کیوں پہنے پھرتی ہے کہ دل کی زباں آنکھ ہوتی ہے جس سے اندر کے جذبات جھلک سکتے ہیں۔بچہ لوگ نے اگر کچھ محسوس کیا بھی ہو گا تو کسی کو نظر نہیں آیا،ویسے بھی وہاں یہ باتیں اتنی عام ہیں کہ کوئی کسی کی طرف آنکھ اٹھا نہیں دیکھتا،یہ شاید میرا ہی احساس تھا ۔مجھے البتہ اپنی بزرگی اور سنجیدگی کا احساس دلائے رکھنا تھا کیونکہ میری آنکھ کی پتلیوں میں منجمد عکس تو ہر وقت منعکس ہونے کو تیار رہتا تھا۔

ٹائمز سکوئر ،ایک زمانہ تھا کہ معززین کے جانے کی جگہ نہ تھا،فحاشی اور عریانی کا مرکز تھا۔مختلف مافیا یہاں دنداناتے پھرتے تھے۔پھر یوں ہوا کہ سن1904کے لگ بھگ نیویارک کے دبنگ گورنر کی کاروائیوں اور نیویارک ٹائمز کے ہیڈ کوارٹرز کی یہاں منتقلی نے ایک تبدیلی تو یہ کی کہ اس جگہ کا نام ،،لونگ ایکر سکوئر،، سے ٹائمز سکوائر ہو گیا،دوسرے یہاں سے مافیا کا خاتمہ ہوا،اور شرفاءکی یہاں آمد و رفت شروع ہوئی۔

نیو ایئر کی آمد پر دنیا میں سب سے بڑا جشن ٹائمز سکوئر میں برپا ہوتا ہے جس میں لاکھوں لوگ شریک ہوتے ہیں۔اس جشن کا اہم ترین جزو ،،بال ڈراپِِ ہے جوسن1907سے جاری ہے۔31 دسمبر کو رات گیارہ بج کر 59منٹ ٹائمز ٹاور یا ون ٹائمز سکوئر پر نصب 141فٹ بلند فلیگ پول سے ایک بہت بڑا گیند روشنیوں میں نہایا ہوا 60سیکنڈ میں نیچے کی طرف آتا ہے یہ نئے سال کو خوش آمدید کہنے کا سگنل ہوتا ہے۔اس گیند کے نیچے پہنچتے ہی رنگ و نور کی بارش کرتا ہوا فائیر ورکس شروع ہوجاتا ہے۔

یہ تو تھا ایک سرسری سا تعارف ٹائمز سکوئر کا۔

خیر۔۔ٹائمز سکوئر میں اس وقت ایک خوبصورت جوڑا میرے آگے آگے چل رہا تھا اور ہمیں ان کو فالو کرنا تھا کیونکہ اجنبی جگہ پر جہاں کھوے سے کھوا چھل رہا ہو،وہاں گم ہو جانے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔کچھ ہی دور چلے ہوں گے کہ سڑک کے کنارے مجسمہِ آزادی کھڑا نظر آیا اور مزے کی بات یہ تھی کہ یہ مجسمہ ہل بھی رہا تھا اور دائیں بائیں جھک بھی رہا تھا اور لوگ اسے گھیرے ہوئے تھے۔اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصاویر کھنچوا رہے تھے۔

میرا حسین جوڑا،رابعہ اور عدیل اس کے پاس جا کر رک گیا تھا،بس پھر کیا تھا بچہ لوگ کے پرزور اصرار پر ہم نے اس ہلتے جھلتے مجسمہِ آزادی کے ساتھ تصاویر بنوائیں لیکن یہ بلا معاوضہ نہ تھیں اس کے لئے مجسمے کو معاوضہ دیا گیا۔ کیونکہ وہ اس کے بغیر تصویر کھنچوانے پر تیار ہی نا تھا جبکہ بچہ لوگ ماما پاپا کی ایک فنی سی تصویر بنانے پر مصر تھے۔

جس جگہ وہ مجسمہ کھڑا تھا اس کے دائیں جانب ڈزنی سٹور تھا،عنایہ ساتھ ہو اور ایسے سٹور میں نہ جایا جائے یہ ممکن ہی نہیں تھا اس لئے سٹولر کا رخ اس سٹور کی جانب تھا یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں ہے کہ ہم بھی ساتھ تھے۔

یہ سٹور کئی منزلہ ہے جو کھلونوں اور لباسوں سے بھرا ہوا تھا،اوپری منزل بھی اسی طرح بھری ہوئی تھی فرق یہ تھا کہ وہاں بچوں کے کھیلنے کی بھی قابلِ توجہ کئی چیزیں تھیں۔اب مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس سٹولر تھا جو دوسری منزل پر نہیں جا سکتا تھا اور کسی نہ کسی کو وہاں ٹھہرنا تھا۔عنایہ کی دادی کا خیال تھا کہ وہ سٹولر کے پاس کھڑی ہوتی ہیں جبکہ میرا خیال تھا کہ دادی کو بچوں کے ساتھ اوپر کا چکر لگا لینا چاہئیے۔

میں دروازے کے بائیں جانب سٹولر کو دیوار سے لگا کر وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا،وہاں کئی دوسرے افراد بھی کھڑے تھے،ابھی مجھے وہاں کھڑے اور بچہ لوگ کو اوپر گئے چند ہی لمحے گذرے ہوں گے کہ میرے کندھے پرکسی نے بے تکلفی سے ہاتھ رکھ دیا ۔میں نے چونک کر ادھر دیکھا ایک نوخیز سا، خوبصورت سا گورا چٹا سفید فام لڑکا میرے ساتھ چپک کر کھڑا تھا اور اس نے ہاتھ بی میرے کندھے پر ٹکا دیا تھا وہاں اور بھی لوگ کھڑے تھے لیکن کسی کی توجہ ہماری جانب نہیں تھی،اب اس لڑکے نے بڑی بے تکلفی سے پوچھا

،،ایشین،،

،،یس،ایشین ،،

اس نے پھر پوچھا

,,where you from,,

میں نے جواب دیا ،،پاکستان سے،،

,,wow,do you want company of a young chap like me?i will entartain you better than a girl,,

میں نے ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی دیکھ یا سن تو نہیں رہالیکن وہاں ہر کوئی اپنی دھن میں مگن تھا۔میں نے اپنے پسینے بھری پیشانی کے ساتھ اس کی جانب دیکھا ،اس کے معصوم سے چہرے پر خوبصور ت آنکھوں میں بے حیا سی چمک تھی، میں نے کندھے پر آئے اس کے ہاتھ کو جھٹک کر پرے کیا اور اپنے اور اس کے درمیان سٹولر کھڑا کر لیا۔

امریکی قانون کے مطابق ہر شخص کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہے،جس طرح چاہے زندگی بسر کرے۔مرد عورت میں آزادانہ میل جول یا لڑکی لڑکے میں جنسی آزادی ہمارے معاشرے میں بری بات ہے لیکن امریکن معاشرے میں اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔کوئی جوڑا شادی کر کے گھر بسائے ،بچے پیدا کرے یا شادی کے بغیر شوہر و زن کی طرح رہیں،بچے بھی پیدا کر لیں،تعلقات بھی نبھائیں یا توڑ دیں،حکومت کی طرف سے اس بات پر کوئی پابندی نہیں،چودہ،پندرہ سال کی عمر میں بچے ماﺅں یا والدین سے الگ ہو جاتے ہیں۔ خود کماتے ہیں،خود زندگی کا بوجھ اٹھاتے ہیں،لڑکے لڑکیاں جنسی بے راہ روی کااسی عمر میں شکار ہوجاتے ہیں ابھی حال ہی میں امریکی صدر نے ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کے بل ہر سائن کرکے اس شخصی آزادی کو اور بڑھاوا دیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ خوب رو لڑکا اپنی اسی شخصی آزادی کا اظہار کر رہا تھا۔

میں دعا کر رہا تھا کہ بچہ لوگ اوپری منزل سے جلدی نیچے آ جائیں لیکن عنایہ اوپر شاید کسی کھیل میں اٹک گئی تھی کہ وہ نیچے نہیں آ رہے تھے۔میں نے کن انکھیوں سے اس لڑکے کی جانب دیکھا لیکن وہ اب اوپر جاتی سیڑھیوں کے پاس جا کر ایک ادھیڑ عمر اپنی نسل کے پاس کھڑا ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا پھر دونوں میرے سامنے سے ہوتے ہوئے سٹور سے باہر نکل گئے،شاید ان کے مابین سودا پٹ گیا تھا۔

سچی بات تو یہ ہے کہ جب امریکہ میں ہم جنس پرستی کو ایک لعنت اور غیر اخلاقی رویہ سمجھا جاتا تھا تو ہمارے مشرق میں اسی عطار کے لونڈے سے دوا لی جاتی تھی۔اردو شاعری لڑکوں کے گیتوں سے بھری پڑی ہے اور ہم اسے ،،علتِ مشائخ،،کا نام دیتے تھے۔میں تو عطار کے انگریز لونڈے کے کندھے پر ہاتھ رکھنے سے ہی گھبرا گیا تھا لیکن پاکستان کے شمال مشرقی حصوں میں یہ سرگرمی تہذیب کا ایک حصہ ہے وہاں کے شرفا اس دھج کے ساتھ نکلتے ہیں کہ ان کے ساتھ ان کا محبوب بہت بنا ٹھنا ساتھ ہوتا ہے۔بندوق اور ،،نڈا،، ان کی شان اور پہچان ہے،

بچہ لوگ کے نیچے آتے ہی ہم ڈزنی سٹور سے باہر آ گئے۔

ہماری بیگم کہا کرتی ہیں کہ آپ جھوٹ نہیں بول سکتے،آپ کا چہرہ آپ کا ساتھ نہیں دیتا۔ڈزنی سٹور سے تھوڑا آگے آ کر دائیں مڑتی سڑک کو پار کرنے کے لئے ہم رک گئے کہ پیدل چلنے کا اشارہ بند تھا۔میرے چہرے پر دھنک رنگ تھے اور بچہ لوگ میرے چہرے کو دیکھ رہے تھے جس پر سامنے لگے کوکا کولا کی بوتل کے نیون سائن کی سرخ روشنی دیارِ غیر میں اس غیر متوقع واقعہ کی بنا پر میرے پہلے سے سرخ ہوتے چہرے کے راز کو افشا کرتی محسوس ہو رہی تھی۔ایسا راز جو بن چکھی مے کی مانند تھا۔

پانی کے نیچے سفر

رات کا سماں ہو،سمندر کا کنارہ ہو،لکڑی کا فرش ہو،جس کے باہم جڑے ہوئے تختوں کی باریک باریک درزوں سے سمندر کا پانی اپنی جھلک دکھا رہا ہوسمندر کے پانی کے اس پار آسمان سے باتیں کرتی عمارتوں کی کھڑکیوں سے باہر جھانکتی روشنیاں سمندر کے ہلورے کھاتے پانیوں میں اٹکھیلیاں کر رہی ہوں اور اس بورڈواک پر بنے سٹیج پر سیر کے لئے آنے والے فنکار سازوآواز کی محفل سجائے ہوئے ہوں تو اس سحر انگیز ماحول میں کھو جانے کو دل کرتا ہے۔

نیو جرسی اور نیویارک ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ریاستیں ہیںبالکل اسی طرح جیسے میری لینڈ،واشنگٹن اور ورجینیا ہیں،وہاں فاصلوں کو چونکہ وقت کے پیمانے پر ماپا جاتا ہے اس لئے نیویارک سے نیوجرسی پون سے ایک گھنٹہ کی دوری پر ہیں۔

نیو جرسی میں رابعہ کے بھائی سلمان کے دوست کی رہائش ہے۔عدیل اور رابعہ اس سے فون پر رابطے میں رہتے ہیں۔نیویارک میں آنے کے بعد عدیل نے عمر سے کئی بار بات کی اور مختلف قابلِ دید مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کیں، وہ چونکہ یہاں کافی عرصے سے ہے اس لئے اس کی معلومات بڑی وسیع ہیں۔ٹائمز سکوئر کی بتیاں اور پرشور ہجوم سے دل گھبرایا تو عدیل کے پوچھنے پر عمر نے نیو جرسی میں سمندر کے کنارے اس پر سکون جگہ پر کچھ وقت گذارنے کا مشورہ دیا۔

اب ہم نیویارک سے نیو جرسی جا رہے تھے،عنایہ کو دلچسپی یہ تھی کہ رستے میں ہم ٹنل سے گذریں گے۔وہ ہر دو منٹ کے بعد پوچھ لیتی تھی ،،ویئر از ٹنل،،۔عدیل ہر بار اسے کہتا تھا بس ابھی آتی ہے ایک بگ بگ ٹنل اور عنایہ گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگتی تھی۔ہم اسی طرح باتیں کرتے ہنستے ہنساتے چلے جا رہے تھے کی سامنے لنکن ٹنل آ گئی۔عدیل نے عنایہ سے کہا ،، لک عنایہ،وی آر انٹرنگ ان آ بگ بگ ٹنل،،۔عنایہ آنکھیں پھاڑ کر سامنے دیکھنے لگی کیونکہ ٹنل میں سے گذرنے کا اس کا تو پہلا تجربہ تھا۔

عدیل نے بتانا شروع کیا کہ اس ٹنل کے اوپر سے دریا گزرتا ہے اب ہم پانی کے نیچے سے گذر رہے ہیں۔ٹنل مکمل روشن تھی،یہ ٹنل تین راستوں پر مشتمل ہے۔ہر سڑک کی چوڑائی 21.6فٹ ہے۔بیرونی ڈایا میٹر31فٹ اور سڑک سے دریا کی اونچائی97فٹ ہے۔یہ تقریباََ ڈیڑھ میل لمبی تین سرنگیں ہیں۔ان تینوں کی لمبائی کچھ مختلف ہے کیونکہ یہ اونچے نیچے پہاڑی علاقوں سے گذرتی ہیں ۔سنٹرل ٹیوب جس میں سے ہم اسوقت گذر رہے ہیں8,216فٹ لمبی ہے اور اسے سن 1937میں تعمیر کیا گیا۔اس کے بعد نارتھ ٹنل ہے جس کی لمبائی7,482فٹ ہے اور اسے سن1945میں تعمیر کیا گیا۔اور تیسری ہے ساﺅتھ ٹیوب جسے سن1957مین ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔اس کی لمبائی8,006فٹ ہے۔

دریائے ہڈسن کے نیچے سے اس لنکن ٹنل کے علاﺅہ ایک اور ٹنل بھی نکالی گئی ہے جسے ہولینڈ ٹنل کہتے ہیں۔

عدیل ذرا چپ ہوا تو میں نے ہنستے ہوئے اسے کہا کہ تم نیویارک پہلے تو کبھی آئے نہیںلیکن بتا ایسے رہے ہو جیسے نیویارک میں ہی رہتے ہو اور روز یہیں سے گذرتے ہو۔

عدیل شوخ سے لہجے میں بولا ،،گوگل بابا زندہ باد،جو پوچھو سب بتاتا ہے،راستہ بتانے کے لئے ،،ماسیاں،، رکھی ہوئی ہیںجو گٹ پٹ کرتے ہوئے راستہ بتاتی رہتی ہیں اور پھر میرا تو فیلڈ ہی یہ ہے،،

،،تو اگر تیرا یہ گوگل بابا سب کچھ بتاتا ہے تو عمر سے کیوں پوچھ رہے تھے،،میں نے بھی پوچھ لیا۔

،،وہ۔۔وہ تو جگہ کا نام پتہ پوچھا تھا،اب میں نے جگہ کا نام پتہ گوگل بابا کو دے کر معلومات مانگیں تو گوگل بابا نے سب کچھ اگل دیا میرے سامنے،ایک سٹروک کی مار ہے گوگل بابا،سب کچھ اگل دیا،،عدیل بولا

،، اچھا ٹھیک ہے،بڑا گنی ہے تمہارا یہ گوگل بابا۔اور کیا بتایا اس نے میں نے پوچھا

،،اس کا کہنا ہے کہ نیویارک کی آبادی بڑھتی جا رہی تھی اسی رفتار سے ٹریفک بھی بڑھ کر مسئلہ بن رہی تھی اس لئے کروڑوں ڈالر خرچ کر کے یہ ٹنل بنائی گئی۔اس ٹنل کے ذریعے نیویارک اور نیو جرسی کی ٹریفک کو کنٹرول کیا گیا۔یہ ٹنل ،مین ہاٹن اور نیو جرسی کے درمیان بڑا اہم رابطہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس ٹنل سے روزانہ ایک لاکھ گاڑیاں گذرتی ہیں،، عدیل نے جواب دیا

میں سوچ میں پڑ گیا کہ ان سرنگوں کو بنے ستر اسی سال ہو گئے ہیں اور یہ ویسی کی ویسی ہیں،ایک ہمارے ہاں بنائے جانے والے پل اور سڑکیں ہیں جو اتنی جلدی ختم ہوتی ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا،ابھی یہی کوئی تیس سال پہلے کی بات ہے پتوکی کا برج بن رہا تھا اور دس بارہ سال بعد ہی اس میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی تھی اور گذشتہ تین سالوں میںیہ پل آثارِ قدیمہ کا نقشہ پیش کرنے لگا اور اس کی جگہ نیا پل بنایا گیا جو پہلے سی سال ایک جانب سے بیٹھ گیا،خیر۔۔باتوں ہی باتوں میں ہم لنکن ٹنل سے نکل کر نیو جرسی میں پہنچ گئے،وہاں جا کر عمر کے بتائے ہوئے پاکستانی ہوٹل میںکھانا کھانے جانے کے لئے ہوٹل کے سامنے پبلک پارکنگ میں گاڑی کھڑی کر کے سڑک کراس کی اور دوسری جانب واقع ہوٹل میں جا کر بیٹھ گئے،شاید کھانا ہی بہت لذیز تھا یا ہمیں بہت بھوک لگی تھی اس لئے سیر ہو کر کھانا کھایا۔

ٹائمز سکوئر کی روشنیوں اور وہاں کے اودھم سے نکل کر یہاں ایک سکون کا احساس ہو رہا تھا،اب کھانا بھی کھا لیا تھا اس لئے اس مقام کی طرف چلے جہاں سے مین ہاٹن رات کی تاریکی میں کچھ زیادہ ہی خوبصورت نظر آتا ہے۔اس جگہ پہنچنے سے پہلے ہمیں رکنا پڑا کہ وہاں ٹرین ٹریک تھا اور دور سے ٹرین سیٹی بجاتی آ رہی تھی۔ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی گذر کر پلیٹ فارم پر جا کر کھڑی ہو گئی۔اور ہم نے بھی ریلوے لائن کراس کر کے سامنے نظر آنے والے بورڈ واک کی جانب قدم بڑھا دئیے۔وہاں بالکل ویسا ہی سماں تھا جیسا عمر نے فون پر بتایا۔

رات کا سماں تھا،سمندر کا کنارہ تھا،لکڑی کے باہم جڑے ہوئے تختوں کا بورڈ وال تھا جس کی باریک باریک درزوں سے سمندر کا پانی اپنی جھلک دکھا رہا تھاچلتے چلتے عدیل نے اپنی ماں کو درزوں سے جھلکتے پانی سے ڈرایا کہ ہم سمندر پر چل رہے ہیں۔وہاں ایک جانب سٹیج پر پہلے سے آئے ہوئے لوگوں کا قبضہ تھا جو موسیقی کے مختلف آلات کے ساتھ دھیمی دھیمی موسیقی بکھیرنے کی کوشش کر رہے تھے جو گٹار کی تاروں پر زوردار انگلی لگنے سے بے سری ہو جاتی تھی۔ان فنکاروںکے سامنے لکڑی کے وسیع میدآن میں بچے کھیل رہے تھے۔عنایہ بھی دادی کا ہاتھ چھڑا کر ان میں شامل ہو گئی،دادی بھی پیچھے بھاگنا چاہ رہی تھیںکہ عدیل نے روک دیا۔ہم سامنے سمندر کے کنارے جا بیٹھے کہ زیادہ سے زیادہ عنایہ یہیں آئے گی تو ہم پکڑ لیں گے۔

سامنے مین ہاٹن کی عمارتوں کی کھڑکیوں سے باہر جھانکتی روشنیاں سمندر کے ہلورے کھاتے پانیوں میں اٹکھیلیاں کر رہی تھیں،یہ بڑا دلکش نظارہ تھا۔دائیں جانب دور بہت دور مجسمہِ آزادی کی دھندلی سی جھلک نظر آ رہی تھی۔ کیا سحر انگیز منظر تھا۔کوئی کوئی جگہ ایسی ہوتی ہے جس کا سحر انسان کو جکڑ لیتا ہے اور یہ بھی کچھ ایسی ہی جگہ تھی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفر نامہ بھارت۔۔۔حسن عباسی

سفر نامہ بھارت حسن عباسی             آپ آئے بہار آئی امرتسر پہنچے تو امرتسر کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے