سر ورق / سفر نامہ / چاند تم سے شکایتیں ہیں بہت سفرنامہ بھارت  حسن عباسی 

چاند تم سے شکایتیں ہیں بہت سفرنامہ بھارت  حسن عباسی 

            چاند تم سے شکایتیں ہیں بہت

سفرنامہ بھارت

حسن عباسی

کچھ شہر دوستوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اُن سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔ اُن کو دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں۔ بہت دن گذر جائیں تو اُن کی یاد بے چین کر دیتی ہے۔ اُن کو کچھ ہو جائے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اُن کی سلامتی کے لےے دِل سے دُعائیں نکلتی ہیں۔

کراچی بھی میرا بچپن کا دوست ہے۔ ہم نے سمندر کے کنارے اکٹھے بہت وقت گذارا ہے۔ مجھے اپنے اس دوست سے بہت محبت ہے۔ کچھ عرصہ اُس سے نہ ملوں تو میرا دِل بہت اُداس ہو جاتا ہے۔ میں سب کام چھوڑ کر اس سے ملنے چلا جاتا ہوں۔ کچھ دن ہم اکٹھے رہتے ہیں۔ وہ اپنا حال مجھے سُناتا ہے۔ میں اپنے دُکھ اُس سے بیان کرتا ہوں۔

اب کئی برسوں سے میرا دوست اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ مجھ سے اپنے دوست کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی۔ مجھے اُس کی بیماری سے ڈر لگنے لگا ہے۔

میں اُس کے لےے خواہش کے باوجود کچھ نہیں کر سکتا۔

رو سکتا ہوں۔

دعا کر سکتا ہوں۔

میں نے بس کی کھڑکی سے باہر جھانکا تو اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ میں نے جلدی سے کھڑکی بند کر کے پردہ کھینچ دیا۔

مجھے بچپن سے ہی اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔

اندھیرے میں خوفناک چہرے بنتے اور غائب ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے عرصہ ہوا اندھیرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ ایک بار بہت ڈر گیا تھا۔ اس ڈر کی وجہ سے کئی دن تک میں بخار اورنیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا رہا۔

اب اندھیرا دیکھتے ہی میں آنکھیں بند کر لیتا ہوں۔ سارا ڈر ختم ہو جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہر طرف کہکشاں بکھری ہو۔ میں خود کو خلا کی بے کراں وسعتوں میں محسوس کرتا ہوں۔ بہت سے ستارے مجھے اپنی طرف آتے دکھائی دیتے ہیں پھر قریب آکر غائب ہو جاتے ہیں۔

روشنی کے بلبلے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں۔ یہ بہت دلچسپ مشغلہ ہے کب نیند آجاتی ہے پتہ بھی نہیں چلتا۔

کچھ خاص لمحے ایسے بھی ہیں جن میں اندھیرے سے ڈر بالکل نہیں لگتا بلکہ اندھیرے میں گم ہو جانے اور کھو جانے کو جی چاہتا ہے۔ وہ لمحے بقول منیر نیازی:

شرماتے ہوئے بندِ قبا کھولے ہیں اُس نے

یہ شب کے اندھیروں کے مہکنے کی گھڑی ہے

ہم جب ڈھوڈیکے پہنچے تو صرف رات کے ہی نہیں ہمارے بھی بارہ بج چُکے تھے۔ اسپیکر میں ہماری آمد کا مسلسل اعلان ہو رہا تھا۔ کیمپ گاﺅں کے اسکول میں لگایا گیا تھا۔ ہم اسکول کے اندر داخل ہوئے تو فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اُٹھی۔ ہندوستان میں جب پاکستان زندہ باد کے نعرے لگتے ہیں تو یوں لگتا ہے دِل جوش، جذبے، ولولے اور خوشی سے ابھی پھٹ جائے گا۔

خود کو قابو میں رکھنا اور سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس کے نام پہ جذباتی ہو جاتا ہوں

پاکستان مرے ایمان میں رہتا ہے

ہم اس ایک ہفتہ کے کیمپ میں قدرے تاخیر کے ساتھ یعنی تین دن بعد پہنچے یہاں تمام وفود کے شرکاءموجود تھے۔ اسٹیج سے مُسلسل ہمیں ”خوش آمدید“ اور ”جی آیاں نوں“ کہا جا رہا تھا۔

کچھ شُرکاءپر پاکستان زندہ باد کے نعرے بجلی بن کر گِرے اور وہ بائیکاٹ کر کے چلے گئے۔ یہ سات افغانی لڑکے تھے ان کا تعلق شمالی اتحاد سے تھا۔ افغانستان پر اُن دنوں طالبان کی حکومت تھی۔

اُن کا بائیکاٹ سمجھ میں آگیا۔

یہ کائنات بھی لگتا ہے تیری محفل ہے

ہمارے آتے ہی کچھ لوگ اُٹھ کے جانے لگے

پاکستانی وفد کے ارکان باری باری اپنا تعارف کروا رہے تھے۔ بار بار کلیپنگ (Claping) ہو رہی تھی۔

جب فقیر حسین ساگا کا نام پُکارا گیا تو سب ہی اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔

فقیر حسین ساگا اپنی شخصیت اور مور ڈانس کی وجہ سے انڈیا میں مقبول تھا۔

اگرچہ فقیر حسین ساگا پہلی ملاقات میں اپنی عجیب و غریب شخصیت اور اداﺅں کے باعث ”تیسری دُنیا“ کا فرد لگا مگر یہ بھی حقیقت ہے جو کہ مجھ پر آہستہ آہستہ عیاں ہوئی کہ ان اداﺅں سے مِل کر ہی اُس کی شخصیت مکمل ہوتی تھی۔

اگر اُس کی شخصیت سے یہ عنصر غائب کر دیا جاتا تو فقیر حسین ساگا صرف ”فقیر“ رہ جاتا۔ اب وہ باغ و بہار شخصیت کا مالک تھا۔ جملے باز، چرب زبان، لطیفہ گو، ہنس مُکھ، دردِ دل رکھنے والا، محبت کرنے والا کبھی نہ ہارنے والا فقیر حسین ساگا چند برس قبل مور ڈانس کی پرفارمنس کے دوران اپنے ہی دِل کے ہاتھوں ہار گیا ڈاکٹرز نے ساگا کو مور ڈانس کرنے سے منع کر رکھا تھا مگر وہ دِل کے ہاتھوں مجبور تھا۔ اُس کے پیشِ نظر کوئی مالی منفعت بھی ہرگز نہ تھی۔ اُسے تو بس مور ڈانس سے محبت تھی اور اُس نے اپنے فن، اپنی محبت کی بانہوں میں آنکھیں بند کیں۔

ایک سچے فن کار کی اس سے بڑھ کر اور پہچان کیا ہو سکتی ہے۔ مجھے اُس کے بچھڑ جانے کا بہت دُکھ ہے۔

میں نے اتنی منفرد اور دلچسپ شخصیت کا کوئی اور آدمی اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔

فقیر حسین ساگا نے انگریزی اُردو، ہندی، بنگالی، پنجابی اورپتہ نہیں کن کن زبانوں کا ”تڑکہ“ لگا کر اپنا تعارف مکمل کیا۔ لطیفے سُنانے شروع کیے تو ہنسا ہنسا کر سب کا بُرا حال کر دیا۔ باڈی لینگوئج پر اُسے بلا کا عبور حاصل تھا۔

وہ جانتا تھا، محفل کو کب ہنسانا ہے

وہ جانتا تھا، محفل کو کب رُلانا ہے

میری اللہ میاں سے درخواست ہے کہ فقیر حسین ساگا کے لےے جنت میں، ہنسنے ہنسانے، لطیفے سُنانے اورمور ڈانس پر کبھی پابندی مت لگائیے گا، کیونکہ یہی اُس کی زندگی ہے۔ ورنہ وہ جنت میں بھی مر جائے گا۔

کیمپ کے شرکا کی تعداد تین سو کے لگ بھگ تھی۔ ان میں سو کے قریب خواتین تھیں زیادہ تر دو شیزائیں تھیں۔

کالی، گوری، نمکین، چٹ پٹی، پھیکی پھیکی، میٹھی میٹھی، تیکھے نین نقش والی پھینی پھینی، سرو قامت، پست قد، فربہ، سلم، کو آپریٹو، جھگڑالو گویا ہر طرح کا پھول اس بن میں کِھلا ہوا تھا۔ نئے آنے والے تمام شرکاءکا تعارفی سلسلہ مکمل ہو چُکا تھا۔

رات بھیگ چُکی تھی اور نیند بھی آئی ہوئی تھی۔

مگر وہ جاگتی آنکھوں والی لڑکی۔

وہ اتنی جاگتی آنکھوں سے مِل رہی تھی مجھے

کہ نیند آئی بھی ہوتی تو کس نے سونا تھا

چاند اُس رات بہت سُندر لگ رہا تھا۔

مگر اُس سے زیادہ سندر نہیں تھا۔

چاند کا حسن بھی جگہوں سے مشروط ہے۔

صحرا میں اس کی شان کُچھ اور ہوتی ہے دریا کے کنارے کُچھ اور، جنگل میں اس کی ضیاءکُچھ اور ہوتی ہے پہاڑوں میں ادا کُچھ اور، شہر میں اس کی ڈھب کُچھ اور ہوتی ہے اور گاﺅں میں چھب کچھ اور، سمندر میں اس کا رنگ کچھ اورہوتا ہے ساحل پہ ڈھنگ کچھ اور۔

گاﺅں کا چاند بہت معصوم اور سادہ ہوتا ہے۔ ہوبہو گاﺅں کے لوگوں کی طرح اُسے کوئی چالاکی کوئی ہوشیاری نہیں آتی۔ وہ گاﺅں کے بوڑھے درختوں، خوابیدہ جھونپڑوں پر یوں مُنہ لٹکائے ساری رات کھڑا رہتا ہے جیسے وہ اپنا سب کچھ شہر میں گنوا آیا ہو۔

اور ڈر رہا ہو کہ گھر کیسے جاﺅں؟

شہر کے چاند پر مجھے ترس آتا ہے۔ اُس کی چمک دمک، حُسن و خوبصورتی سب یہاں آکر ماند پڑ جاتی ہے۔ وہ کسی بے روزگار نوجوان کی طرح مختلف عمارتوں کے چکر لگاتا رہتا ہے۔ وہ گاﺅں کہ اُس بچے کی طرح ڈرا ڈرا اور حیران حیران سا لگتا ہے جو پہلی بار شہر آیا ہو۔

صحرا میں آکر چاند کی جوانی لوٹ آتی ہے جیسے کہانیوں میں جادوگر کا جادو ختم ہوتے ہی شہزادے کا جوبن لوٹ آتا ہے۔

صحرا میں پیغمبرانہ مسکراہٹ اُس کے چہرے پر پھیلی رہتی ہے۔

وہ محبت کا دیوتا لگتا ہے۔

رات کے وقت صحرا میں ریت کے ٹیلے پر بیٹھ کر چاند دیکھنے سے خوبصورت نظارہ زمین پر کوئی اورنہیں۔

پہاڑوں میں نکلا چاند اُداس کرنے والا ہوتا ہے۔ جس طرح کُچھ خوبصورت چہرے اُداس کرنے والے ہوتے ہیں۔ اُن کو دیکھ کر دِل وسوسوں اور اندیشوں سے بھر جاتا ہے۔ ڈر لگنے لگتا ہے۔

انوکھی چمک اُس کے چہرے پہ تھی

مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا

پہاڑوں کے چاند کا بھی یہی المیہ ہے۔

وہ اتنا دلکش ہوتا ہے کہ اُس کے کھو جانے کے ڈر سے دِل ایسے بھر جاتا جیسے جھیل ریت سے بھر جائے۔ پہاڑوں میں اُترنے والی رات کا سارا حُسن چاند کے دم سے قائم ہوتا ہے۔ جب تک چاند چمکتا رہے پہاڑوں سے ڈر نہیں لگتا۔ اُن سے خوف نہیں آتا بلکہ پہاڑ محافظ اور پاسبان لگتے ہیں۔

چاند ڈوبتے ہی رات بیوہ ہو جاتی ہے، ستارے یتیم ہو جاتے ہیں پہاڑ، ڈاکو اور لٹیرے لگنے لگتے ہیں ہر طرف خوف کے سائے پھیل جاتے ہیں۔

اللہ میاں! سب کے چاند سلامت رکھنا۔

سمندر پر چمکتا چاند لہروں کو مضطرب اوربے چین رکھتا ہے۔ یہ اُس بانکے اور سجیلے جوان کی طرح ہوتا ہے جس کو دیکھ کر لڑکیوں کی نیندیں اُڑ جاتی ہیں اور وہ ساری ساری رات تڑپتی رہتی ہیں جیسے چاند کی چاندنی میں ڈوب کر مضطرب اوربے چین لہریں ساحل سے اپنا سر ٹکراتی رہتی ہیں۔

سامنے جب وہ چاند سی صورت ہوتی ہے

میری سمندر جیسی حالت ہوتی ہے

جنگل میں چاند کسی سادھو کی طرح سفید کپڑے پہنے، ننگے پاﺅں پھرتا رہتا ہے۔ جب نیند آئے تو کسی پیڑ سے لگ کر سو جاتا ہے۔

جنگل کے چاند میں انتہا کی سپردگی ہوتی ہے۔

وہ پیڑ کی بانہوں میں محبوب کی طرح اپنا آپ گم کر دیتا ہے۔ دریا کے کنارے چاند مجھے زندگی سے مایوس دکھائی دیتا ہے جیسے خود کُشی کی نیت سے آیا ہو میں نے ہمیشہ اُسے مشکوک نگاہوں سے دیکھا ہے اور ہر بار میرا شک درست نکلا ہے۔

میں اُسے آوازیں دیتا رہتا ہوں، پکارتا رہتا ہوں مگر وہ ہر بار مکمل خاموشی سے دریا میں ڈوب جاتا ہے۔ میں ڈرتے ڈرتے پانی میں جھانکتا ہوں اچانک اُس کی نعش تیر نے لگتی ہے۔ میں ڈر جاتا ہوں مجھ سے یہ منظر دیکھا نہیں جاتا۔ میں گھر لوٹ آتا ہوں چاند سے میرا رشتہ بہت پُرانا ہے جب سے یہ کائنات بنی ہے تب سے۔ اس لےے مجھے ہر وقت اُس کی فکر لاحق رہتی ہے جیسے ہی رات ہوتی ہے میں اُسے ڈھونڈنے نکل پڑتا ہوں۔ جنگلوں، پہاڑوں، دریاﺅں اور صحراﺅں میں جا کر اُسے صدائیں دیتا ہوں۔ گاﺅں گاﺅں،شہروں شہروں اُسے ڈھونڈتا ہوں۔ مِل جائے تو اُس پر سے نظریں نہیں ہٹاتا اُس کے دوبارہ کھو جانے کا ڈر رہتا ہے۔

چاند تاروں کی نگہبانی کئے رکھتا ہوں

اپنے ہاتھوں سے بناتے ہوئے لگتے ہیں مجھے

چاند میرا بچپن کا دوست ہے ہم نے زندگی بھر ایک دوسرے سے باتیں کی ہیں ایک دوسرے کی تنہائی کو آباد کیا ہے۔ اتنی پُرانی دوستی میں گلے شکوے تو پیدا ہو ہی جاتے ہیں۔

مجھے چاند سے کُچھ شکائتیں پیدا ہو گئیں ہیں میں ان دنوں ان شکائتوں کو نظم کر رہا ہوں اس نظم کا عنوان بھی یہی ہے۔ آپ بھی پڑھیئے

چاند تم سے شکائتیں ہیں بہت

چاند تم ہو بہت ہی آوارہ

کتنی راتیں نظر نہیں آتے

پھرتے رہتے ہو جابجا یونہی

پر کبھی میرے گھر نہیں آتے

چاند تم دور دور رہتے ہو

چاند تم سے شکائتیں ہیں بہت

                        —-

کس محبت میں زخم کھائے ہیں

دل پہ اتنے جو داغ رکھتے ہو

یہ کہانی کبھی سُناتے نہیں

آسماں پر دماغ رکھتے ہو

چاند تم بولتے نہیں مجھ سے

چاند تم سے شکایتیں ہیں بہت

                        —-

چاند تم ایک سے نہیں رہتے

شکل اور راستے بدلتے ہو

چاند تم رات کو تن تنہا

ایسے ویسوں کے ساتھ چلتے ہو

اک نظر دیکھتے نہیں مجھ کو

چاند تم سے شکائتیں ہیں بہت

                        —-

چاند جب بھی ملے کوئی موقع

چھپتے رہتے ہو ایسے چپکے سے

پیڑ اور بادلوں کے پیچھے تم

حُسن گھٹتا ہو جیسے دیکھے سے

ہاتھ آتے نہیں کسی صورت

چاند تم سے شکائتیں ہیں بہت

                        —-

میری آنکھوں میں کیا کمی ہے جو

جھیل میں دیکھتے ہو عکس اپنا

آئینے میں اُتار کر تم کو

کوئی تعبیر کرنا ہے سپنا

خواب کیا ہیں یہ جانتے ہی نہیں

چاند تم سے شکائتیں ہیں بہت

                        —-

روشنی مستعار ہے پھر بھی

جانے کس بات کی بڑائی ہے

ہم سے ملتے ہو اجنبی کی طرح

جبکہ بچپن سے آشنائی ہے

چاند تم سے گلہ نہیں کوئی

چاند تم سے شکائتیں ہیں بہت

—–٭٭٭—–

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفر نامہ بھارت۔ حسن عباسی قسط نمبر 3

امرتسر امرتسر کے لغوی معنی ہیں ”آبِ حیات کا تالاب“ سکھوں کا یہ مقدس شہر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے