سر ورق / افسانہ / ڈبکیاں..شمائلہ عزیز

ڈبکیاں..شمائلہ عزیز

ڈبکیاں

شمائلہ عزیز

بڑے مان سے وہ نخرے کرتی اور جھٹ سے مان لیے جاتے۔بظاہر پرسکون دیکھائی دینے والی عاشی اپنے اندر ایک طوفان رکھتی تھی۔بیٹھے بیٹھے ضد کر لینا اور اسے زبردستی منوا لینے کا ہنر رکھتی تھی۔اگر کبھی ضد پوری نہ ہوتی تو رو رو کہ راوی ،چناب ایک ساتھ بہا دیتی اور اسکے آنسو میں گھر والوں کی نہیں  نہیں  نجانے کب بہہ جاتی۔اور بدلے میں اسکے جان لیوا قہقہے پورے گھر میں  گونجنے لگتے۔چند لمحے قبل جہاں اداسی کے کالے بادل منڈلا رہے ہوتے یکدم وہاں قوس قزاح کے رنگ بکھر جاتے۔پڑھنے میں  اچھی تھی تو سکول، کالج کے زمانے میں  بھی اساتذہ کی منظور نظر رہی۔عاشی اساتذہ کے معیار پہ پوری اترتی رہی اور استاد بھی اس پہ ہمیشہ ہمدرد و شفیق رہے۔بلکہ وہ اپنی پیار بھری ضد سے اکثر اپنے اساتذہ کے رویے بھی بدل دیتی۔جھٹ سے دوست بنا لیتی سبھی کو۔سب کے معیار پہ پورا اترنا تو شاید اسکی فطرت ثانیہ تھی

سب کا خیال ہوتا، گھر، خاندان، دوست احباب اور سبھی جاننے والوں کی خیر خبر ہوتی اسے۔لیکن خود کبھی نہیں  سوچا کے بدلے میں  اسے کیا ملتا۔اس کی سبھی آس اللہ سے ہوتی اور ناامیدی تو کبھی اس کے پاس سے بھی نہیں  گزری تھی۔عاشی کا ایمان تھا کہ محنت سے انسان ہر چیز پا لیتا ہے۔اسے برے وقت سے لڑنے میں  عجیب لذت ملتی تھی۔اور اکثر اس کے بلند حوصلے وقت کو ہرا دیتے ۔یوں وہ کبھی ہاری نہیں  اسے ہار سے نفرت تھی۔

ایک طرف مردانہ حوصلے رکھنے والی عاشی اپنے اندر ایک شوخ و چنچل لڑکی کے خواب چھپائے ہوئے تھی۔جنوں پریوں کی کہانیاں میں کھوئی ہوئی، کوہ قاف کے شہزادے کی راہ دیکھتی، روز کھلی آنکھوں سے ایک سپنا دیکھتی اس میں  اپنی من مرضی کے رنگ بھرتی اور یونہی سو جاتی۔ہر صبح دلکش ہر رات دلفریب تھی اس کے حسین خوابوں کی۔

لیکن حیرت ہے اس کے خوابوں میں  حقیقت کا رنگ نہ بھرا تھا۔کوئی دلکش اس کے خوابوں کا ہمسفر نہ بنا تھا۔سہلیاں منہ چڑاتی پھرتی کہ تم محبت  نہیں  کر سکتی۔یہ تمھارے بس کا روگ نہیں ۔تمھاری مردانہ سوچ حائل ہے۔لفظ محبت  تو شاید اسکی انا کا مسلہ ہو۔اپنے اردگرد موجود ہزار چہرے پرکھ ڈالے پر اسکے معیار پر نہ اترا کوئی  بھی ۔

خدا جانے اس کے من میں  کیا آئی  ایک رات دیر تک جاگتے جاگتے اسے بے وقت کی نماز پڑھنے کا جی چاہا۔ایسی نمازیں وہ اکثر پریشانی میں  پڑھا کرتی تھی۔لیکن آج وہ کسی معصوم ضدی بچے کی طرف رو رو کے رات کے پچھلے پہر اللہ سے محبت  مانگ رہی تھی۔ایسے جیسے اسے ہر حال میں  محبت  چاہیے ہو۔یونہی روتے مانگتے صبح ہو گئی ۔ضد منوانے کی پرانی عادت نہ گئی  تھی یا وہ قبولیت کا وقت  تھا۔اسکی دعا قبول ہو چکی تھی۔

نہ جانے وہ شخص کہاں سے آیا کون تھا، آندھی کی طرح آیا اور طوفان کی طرح سب کچھ بہا کے لے گیا۔برسوں کا ضبط ٹوٹا تھا محبت  تھی کہ کسی پیمانے سے ناپی نہ جا سکتی تھی۔وہ انا کا خوگر تھی پر محبت  کی حدت سے یوں پگھلی  جیسے موم بتی کو آگ لگے۔اپنے فیصلوں پہ اڑ جانے والی اسکی ہر بات پہ آمین کہتی ۔وہ آج بھی اپنے سب ضروری کام اسی ترتیب سے کرتی لیکن محبت  کے فرض کو کسی لمحے نہ بھولتی۔وہ ضد کرنا تو جیسے بھول ہی گئی  ہو۔لیکن وقت صدا ایک سا نہیں  رہتا قدرت کے فیصلوں پہ کس کا اختیار ہے منتوں مرادوں سے مانگی ہوئی محبت  بھی آخر جدائی کی دہلیز پہ آن کھڑی ہو گئی ۔سب پہلے سے طے ہو جیسے کہ جہاں وقت جدائی ہو ہنستے کھیلتے بچھڑ جائیں گے۔لیکن یہ اتنا آسان تھا۔آج برسوں بعد پھر عاشی ضد پہ اتر آئی تھی۔اپنے محبوب سے ضد۔اس محبوب ست جسے اس نے نمازوں دعاوں میں رو رو کے مانگا تھا۔اور ضد بھی تو عجیب سی تھی۔بچھڑنے سے قبل ایک بار ملنا چاہتی تھی۔جب بھی بات ہوتی ایک ہی بات کرتی۔اکثر پیار سے ٹال دی جاتی لیکن ایک دن پھر پورے مان سے ضد کرنے لگی۔رونے لگی، سسکنے لگی۔لیکن ایک جملہ کافی تھا اسکی ضد اور محبت  کو توڑنے کے لیے۔۔عاشی میں  روز تمھیں نہ کہوں اچھا نہیں  لگتا۔دوبارہ کبھی یہ بات نہیں  کرو گی۔۔۔بظاہر ایک جملہ تھا لیکن ضدی لڑکی کی کرچیاں ٹوٹ کے خود میں  ہی پیوست ہو گئیں۔ایک سیکنڈ میں  ایک ساتھ سینکڑوں آنسو سیلاب کی طرح اس کے گال جلاتے ہوئے بہہ گئے۔محبت کا مان ضد اور اعتماد ایک چھناکے سے ٹوٹ گیا بے آواز سے خاموش وحشت ناک شور سے۔اندر تک سائیں سائیں کرتی تنہائی اتر رہی تھی۔عاشی کسی بت کی مانند ساکت و جامد تھی۔خواب اسکے گرد رقصاں تھے۔

اس قدر شدید خاموشی میں  خوابوں کے ٹوٹنے کی ہیبت ناک آوازیں  تھیں جیسے بلند و بالا منارے منہ کے بل گرتے ہوں جیسے بلند و بالا محل زمین بوس ہو رہے ہو۔گرد سے دم گھٹنے لگے جائے۔جیسے شیشے کا سائبان پتھر لگنے سے پاش پاش ہو جائے۔ہر طرف خوابوں کی ان گنت لاشیں بکھری ہوں ۔اور قاتل خود ان خوابوں کا مالک ہو۔۔

عاشی ایک خواب دیکھتی تھی کہ وہ ٹائی ٹینک فلم کی ہیروئن ہےطوفان سے جہاز ڈوب جاتا ہے لیکن وہ اور اسکا ہیرو جہاز کے کسی ٹوٹے عرشے پہ تیرتے ہوئے محبت  کے انجان جزیرے پہ جا پہنچتے ہیں۔۔لیکن حقیقت کچھ اور تھی خوابوں سے لدا ٹائی ٹینک کسی شدید طوفان سے ٹکرا کر ڈوب گیا، اسکے پر خچے اڑ گئے، سبھی مردہ خواب یہاں وہاں تیر رہے۔عاشی ایک عرشے پہ تنہا اوندھے منہ پڑی  ڈبکیاں کھا رہی ہے ۔اسے بچانے ہیرو نہیں  آیا، دور تک نہ ساحل ہے نہ جزیرہ۔بیچ سمندر میں  سونامی لہریں اسے یہاں سے وہاں پٹخ رہی ہیں۔وہ نڈھال ہے اور دعا کرتی ہے کہ اے خدا مجھے ڈبو دے کہ اس اذیت سے چھوٹ کر سرد سمندر میں  بے جان ہو کر تہہ میں  اتر جاوں ۔لیکن یہ شاید قبولیت کا وقت نہیں ۔ڈبکیاں ہیں بس جان لیوا، سانس روکتی، اچھالتی ڈبوتی ڈبکیاں ۔۔نہ ہیرو آیا نہ ساحل نہ جزیرہ۔۔۔۔۔بس خوابوں کی بے کفن لاشیں۔۔۔ڈوبے  ہوئے ٹائی ٹینک کے ٹکڑے۔بے آس عاشی  اور ڈبکیاں۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

نا رسائی : محمد جاوید انور

نا رسائی افسانہ نگار: محمد جاوید انور میرے بھاری جوتے خزاں گزیدہ سوکھے پتوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے