سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا میری کہانی   ضیاءشہزاد   قسط 6

ست رنگی دنیا میری کہانی   ضیاءشہزاد   قسط 6

                ست رنگی دنیا

                میری کہانی

                ضیاءشہزاد

                ٬٬آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گی،،

                ٭

                قسط 6

                میں تیزی سے اٹھا اور دادا کے کمرے کی طرف بھاگتا چلا گیا۔۔ ۔ ۔ ابا مجھے روکتے رہ گئے ۔ ۔ ۔

                دادا اپنی چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے آ گے کھانا رکھا ہو ا تھا ۔ جیسے ہی میں بھاگتا ہو ا دادا کے کمرے میں داخل ہوا تھا بھابی محمودن کمرے سے باہر نکل رہی تھیں ۔ میں دوڑ کر دادا کے پاس ان کی چارپائی پر جا بیٹھا اور ان سے لپٹ گیا۔ ٬٬ ارے ارے ۔ ۔ کیا ہوا میرے بیٹے کو ، کیا کسی نے ڈانٹا ہے یا مارا ہے ، مجھے بتاﺅں کھال ادھڑ دوں گا اس کی ۔ ۔ ۔

                ٬٬ دادا ۔ ۔ دادا مجھے ڈر لگ رہا ہے ، ٹھنڈ لگ رہی ہے ، مجھے چھپا لو دادا۔ ۔ ۔ میں نے دادا کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا ۔ میری آواز کپکپا رہی تھی۔ ۔ ۔ اور میں بری طرح کانپ رہا تھا۔

                ٬٬ارے کوئی ہے ۔،، دادا میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے چیخے ۔ ٬٬ارے بدر الدین ۔ ۔ ۔ کلو ۔ ۔ ۔ او فخرو ۔ ۔۔۔ ابے کہاں مرگئے سب کے سب ،،۔ دادا چیخے اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے کھانے کے برتن ایک طرف سرکا دئے۔ فاروق بھائی دوڑے دوڑے چلے آئے اور ہہکلاتے ہوئے ڈرتے ڈرتے بولے ۔ ۔ ۔ ٬٬ جی ۔ جی۔ ۔ دا ۔ دا دا۔،،

                ٬٬کہاں ہے ترا ابا کلو؟،،۔ دادا نے پوچھا

                وہ ۔وہ گھا ۔ گھا ۔۔ گھر گئے ہیں ۔ ۔ بن ۔ بندر کو کھانا دینے ۔ ۔ ۔فاروق بھائی نے ڈرتے ڈرتے کہا۔ ٬٬ فاروق بھائی خود بھی بندر کی طرح اچھل کود کر بولے ۔ ٬٬ وہ ابا کی بات سمجھتا ہے ، ابا اسے اٹھنے کے لئے کہتا ہے تو بندر اٹھتا ہے اور جو اسے ابا کہتا ہے وہ ایسا ہی کرتا ہے ۔ ۔

                ٬٬ بس بس ۔ ۔ ۔ بلا کے لا اس خبیث کو۔ ۔ سالا مداری ۔ ۔ ۔ دادا نے غصے سے کہا۔۔ ۔ ٬٬ابے کیا بندروں کی دعوت کی ہے اس نے ۔ ۔ ۔ بندر توخود ہی کچھ نہ کچھ اچک کر لے جاتے ہیں ، وہ تمہارے گھر کیوں آئیں گے،،۔ ۔ دادا نے فاروق بھائی کو گھورتے ہوئے کہا

                ٬٬ن۔ ۔ نا ۔ ہیں دا دا ۔ ۔ ابا نے بندر پال رکھا ہے ۔ ۔ فاروق بھائی نے ڈرتے ڈرتے کہا

                اسی وقت میرے ابا اور بدرو تایا بھی آگئے۔ ۔۔٬٬ جی ابا ، کیا ہوا ؟،،۔ میرے ابا نے پوچھا

                 ٬٬ یہ ضیاءالدین ڈر گیا ہے ۔ کانپ رہا ہے بری طرح ۔ مجھ سے آ کر دبک گیا ہے ،،۔ ۔ دادا نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

                ٬٬ہاں ابا ابھی اس نے کھانا بھی نہیں کھایا۔ اس کی ماں نے کہا تھا کھانے کے لئے تو یہ وہاں سے بھاگ کر آپ کے پاس آگیا۔ ۔ ۔ میں اسے روکتا ہی رہ گیا ۔ ۔۔ ۔ ۔ ،، ابا نے کہا

                ٬٬ وہ راجہ ٹھاکر کے آدمی آئے تھے نا ، ان سے ڈر گیا ہے یہ۔ ۔ بچہ ہے ،،۔ ۔ بدرو تایا بولے

                ٬٬ نہیں ۔ ۔ یہ ان سے نہیں ڈرا ہے ،، دادا نے کہا ٬٬ بھول گیا منظور کی بھی یہی حالت ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ وہ بھی جب کانپتا تھا اور اسے ڈر لگتا تھا تو کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ضرور ہوتی تھی ۔ وہ مجذوب تھا توسب اس کی بات کو دیوانے کی بڑ سمجھتے تھے لیکن میں جانتا تھا کہ اس کی اس حالت کا کیا مطلب ہو سکتا ہے ۔ ابے کیا بھول گئے تم لوگ،، دادا چیخے

                ٬٬ ہاں ابا آپ ٹھیک کہتے ہیں ،،۔ ۔ ۔ میرے ابا بولے ۔٬٬ اس کی بھی ایسی ہی حالت ہوتی تھی۔ ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب اس کی ایسی حالت ہوئی تھی تو دسہرے پر گاﺅں میں بڑی گڑ بڑ ہو گئی تھی ۔ ۔ ۔

                ٬٬ تو اس سے گھن کھاتا تھا نا ۔ ۔ ۔ ،، دادانے بدرو تایا کو گھورتے ہوئے کہا

                میں دادا کی گود میں منہ دئے سب سن رہا تھا ، میری حالت خراب ہوئی جا رہی تھی ۔ ۔ میں پھر کانپنے لگا اور روتے ہوئے چیخا ٬٬ دا دا بھاگو یہاں سے بھاگو ۔ ۔ ۔ اور پھر مجھے جیسے کچھ ہوش نہ رہا ،

                 مجھے جیسے نیندآگئی تھی ۔ ۔ ۔ میرے کانوں میں دادا کے چیخنے کی آواز پڑی تو جیسے مجھے ہوش آگیا اور دادا کی گود سے نکل کر ان کے برابر بیٹھ گیا۔ میں سب کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا ۔ ابا ورتایا بدرو بھی لپک کر میرے پاس آگئے اور پیار کرنے لگے۔ دادا بولے ۔ ٬٬ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے ۔ میں نے کلو کو بلوایا تھا ، میں راجہ ٹھاکر داس کے پاس ابھی جانا چاہتا ہوں ، مگر ۔ ۔ یہ فاروق کہہ رہا ہے کہ اس الو کے پٹھے نے بندر پال رکھا ہے ، ساری زندگی اس کی یوں ہی گزر گئی ، کیا کیا ہے اس خبیث نے اپنے بیوی بچے کے لئے ، ، مردود۔ ۔ ۔

                دادا کچھ دیر کے لئے رکے اور پھر چیخے۔٬٬بلاﺅ اس کمینے کو ، ۔ ۔ ۔

                 ابا اور تایا بدرو آگے بڑھے ۔ ۔ بدرو تایا بولے ۔٬٬ابھی ، تھوڑی دیر پہلے ہی تو ہم نے راجہ ٹھاکر کو کہلوایا ہے کہ ابا بعد میں ملیں گے ،۔ ۔ ۔ ابھی تم لوگ جاﺅ ، وہ ہماری بات سن کر چلے گئے ہیں ۔ آپ راجہ سے کل مل لینا اس وقت تک کچھ گاﺅں کا حال بھی سدھر جائے گا ،۔ ۔ ۔ ریواڑی سے پولیس آجائے گی تو سب ٹھیک ہو جائے گا،،

                ٬٬ نہیں ۔ ۔ ۔ تم لوگ نہیں سمجھو گے،۔ ۔ ۔ میرا بچہ ڈر رہا ہے ، اس کی حالت بتا رہی ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہونے والی ہے ، گاﺅں کے حالات اور بگڑنے والے ہیں ۔ میں اسی لئے فوراًً راجہ ٹھاکر سے ملنا چاہتا ہوں ۔ حالات بگڑنے نہیں چاہئیں ۔ ۔ دادا نے کہا ۔٬٬ میں نے اسی لئے کلو کو بلوایا تھا مگر اسے تو بندر پالنے سے ہی فرصت نہیں ہے۔ ۔ ۔

                بدرو تایا نے فاروق بھائی کی طرف دیکھا ۔ابھی وہ اس سے کچھ کہنے ہی والے تھے کہ کلو تایا بھی آگئے ۔ دادا کلو تایا کو دیکھتے ہی بری طرح چیخے ۔٬٬ ابے آگیا مداری ۔ ۔ اب یہ کسر رہ گئی تھی بندر پالنے کی ۔۔ کیا گاﺅں میں بندروں کی کمی تھی جو تجھے بندر پالنے کی سوجھی ۔ ۔ ابے ہم تو پہلے ہی بندروں سے تنگ تھے ، گاﺅں میں بندروں کے سوا اور رکھا ہی کیا ہے ۔ ۔ ۔

                ٬٬ ابا وہ بندر بہت ہی خاص بندر ہے ۔ میں نے اسے کچھ سوچ سمجھ کر ہی پالا ہے۔ وہ ہندوﺅں کا ہنومان ہے ۔ ۔ ۔کلو تایا نے کہا۔ ۔ ۔ ٬٬سارا گاﺅں بندروں سے بھرا پڑا ہے لیکن یہ ان سب سے الگ ہے ۔ کلو تایا نے کہا ۔ یہ مجھے شاہجہاں پور سے آتے ہوئے رستے میں ذخمی حالت میں ملا تھا،۔ ۔ ۔ اسے جنگلی کتوں نے بھنبھوڑ دیا تھا ، پڑا ہوا تھا زمین میں منہ دئے بھاگ بھی نہیں سکتا تھا ، کتے تو مجھے دیکھ کر بھاگ گئے تھے ، ۔ ۔ ۔ میں اسے اٹھا کر گھر لے آیا تھا ۔ اس کی ایک ٹانگ میں بہت گھاﺅ لگے تھے ۔جنگلی کتوں نے اس کی ٹانگ کچل دی تھی ۔ میں نے اس کا علاج کیا تو یہ ٹھیک ہوگیا ۔ اس کے بعد سے یہ میرے پاس ہی ہے۔ ۔ ۔ کہیں جاتا ہی نہیں۔۔ ۔ میں ایک بار اسے کٹارے والی حویلی چھوڑ کر بھی آیا تھا ۔ وہاں بہت سارے بندر ہیں مگر یہ مجھ سے پہلے ہی گھر آگیا ۔۔ ۔ بس ہمارے گھر کی دیوار پر بیٹھا رہتا ہے اسے دیکھ کر دوسرے بندر بھی اس کے پاس نہیں آتے سب اس سے ڈرتے ہیں ۔ ۔

                ٬٬ بس بس ، اپنی رام لیلا اور نہ سنا مجھے ۔ ۔ ۔ سالا مداری۔ ۔ ۔ ،،دادا نے کلو تایا کو ڈانٹ دیا ۔۔ ۔ ۔٬٬ یہ تو مجھے بعد میں کہانی سنانا ،۔ ۔ ۔ آرام سے سنوں گا تو تیری بات سمجھ میں آئے گی ، مجھے جلدی سے راجہ ٹھاکر سے ملوا دے۔ یہ بہت ضروری ہے۔،،

                ٬٬ ابا ، ابھی تو ہم نے اس کے آدمیوں کو واپس لوٹایا ہے، ۔ ۔ ۔ اس کا خاص خدمت گار تھا کٹم۔ ۔ ۔ وہ اپنے لونڈوں کو ساتھ لایا تھا سندیسہ لے کر۔ ،، کلو تایا نے کہا

                ٬٬ ہاں یہ بات تو مجھے بتا چکا ہے ،۔ ۔ ۔ مگر اب بات دوسری ہے ، یہ میرا بچہ ۔ ۔۔ ۔ ضیاءالدین ڈر گیا ہے ،۔ ۔ کانپ رہا تھا بری طرح ۔ ۔ ۔ کہہ رہا ہے کہ گاﺅں میں بڑی گڑ بڑ ہونے والی ہے ، بھاگنے کے لئے کہہ رہا ہے یہ ۔،، دادا کچھ دیر کے لئے رکے۔ ۔ اور پھر میری طرف پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کلو تایا سے بولے ۔٬٬ مجھے راجی ٹھاکر کے پاس لے کر چل ابھی اور اسی وقت۔،،

                کلو تایا نے ابا اور بدرو تایا کی طرف بے بسی سے دیکھا و ہ دونوں بھی خاموشی سے دادا کی بات سن رہے تھے۔ سب دادا ابا سے ڈرتے تھے اس لئے انکے سامنے کوئی کم ہی بولتا تھا۔۔ ۔ پھر بھی کلو تایا نے ذرا ہمت سے کام لیتے ہوئے کہا ٬٬ ابا یہ ضیاءالدین ابھی بچہ ہے راجہ کے آدمیوں کے ہمارے گھر پر آ نے کی وجہ سے ڈر گیا ہے ۔ ۔ ۔

                ٬٬ ابے یہ بات نہیں ہے۔ ۔ مداری ۔ ۔ دادا نے کلو تایا کو ڈانٹے ہوئے کہا ۔٬٬ یہ میں جانتا ہوں کہ یہ کیوں ڈرا ہے۔ ۔ ۔ اسی لئے تو میں راجہ ٹھاکر داس سے ملنا چاہتا ہوں۔۔ ۔ ۔ اگر نہیں ملا تو بہت برا ہو جائے گا ، ۔ ۔میں برائی ۔ ۔ اور بری گھڑی کو روکنے کے لئے اس سے بات کرنا چاہتا ہوں۔،،

                ٬٬ ابا آپ نے راجہ ٹھاکر داس کو مہاتما سمجھ لیا ہے ،۔ ۔ ۔آپ کو اس کے بارے میں بہت کچھ معلوم نہیں ہے ، ۔ ۔ آپ تو زیادہ گھر ہی میں رہتے ہیں نا۔ ۔ ۔ ،، بدرو تایا بولے

                ٬٬ اچھا ۔ ۔ تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اس ٹھاکر داس کو؟۔،، دادا کو غصہ آگیا۔ ۔ ۔ ابے میں نے اس کے اور اس کے بڑوں کے ساتھ اپنی عمر گزاری ہے ۔ ۔ ۔ میرا باپ بھی اس کے باپ کا دوست تھا ۔ ۔ سمجھے۔ ۔ اب زیادہ بات مت کرو ۔ ۔ اگر تم میں سے کوئی اس کے پاس نہیں گیا تو میں خود اس کے پاس اکیلا ہی چلا جاﺅں گا۔ ۔ مجھے پرواہ نہیں ہے کہ حالات خراب ہیں یا اچھے۔،،

                ٬٬ا با جب آپ بحث پر آ ہی گئے ہیں تو آج ہم سے بھی سن لیں۔ ،، بدرو تایا نے ہمت پکڑتے ہوئے کہا۔٬٬ وہ لوگوں کی دوکانوں اورمکانوں پر قبضے کرواتا ہے، ۔ ۔ ۔ دلی میں اس کا بھائی کانگریس پارٹی میں کام کرتا ہے اس لئے اس کو شہہ ملی ہوئی ہے ۔ ۔ راجہ ٹھاکر داس کے ڈر سے کئی مسلمان اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ وہ پنڈت سے بھی ملا ہوا ہے ، اسے پنڈت کی بھی آشیر باد ملی ہوئی ہے۔،،

                ٬٬ ہاں ابا ۔ ۔ بھائی بدر الدین ٹھیک کہتے ہیں۔ ،، میرے ابا نے کہا ۔ ۔ ۔ ٬٬ راجہ کا بھائی ہماری دوکانوں پر اور حویلی پر نظری گاڑے بیٹھا ہے۔،،

                ٬٬ ہوں۔ ۔ مجھے اس بات کا اندازہ تو بہت پہلے ہو چکا تھا، لیکن میرے باپ یٰعنی تمہارے دادا کا راجہ کے باپ پر بڑا احسان ہے جو میں جانتا ہوں یا یہ ٹھاکر جانتا ہے ، اسی لئے وہ ہمیشہ مجھ سے جھک کر ملتا ہے ۔ ۔ پرنام کرتا ہے۔،، دادا نے باری باری سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا لیکن ابھی کسی بحث میں پڑنے کا وقت نہیں ہے ، عصر کا وقت ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ شام اور رات ہونے سے پہلے پہلے یہ ملاقات بہت ضروری ہے بدر الدین،،

                ٬٬ ٹھیک ہے ابا، ہمیں آپ کی کسی بات سے انکار نہیں ہے،، کلو تایا نے کہا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولے ٬٬ میں بدر پرشاد تانگے والے کے پاس جاتا ہوں ۔ ۔ ۔ ہم اس کے تانگے میں بیٹھ کر جائیں گے راجہ ٹھاکر کے پاس،۔ ۔ ۔ آپ کے ساتھ بھائی فخرو اور بدر الدین بھائی بھی چلیں گے۔ ۔ ۔

                ٬٬ نہیں کسی کو ساتھ چلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ ۔،، دادا نے غصے سے کہا ۔٬٬ بس تو چلے گا میرے ساتھ۔ ۔ آخر گھر پر بھی تو رہنا ہے عورتیں اور بچے اکیلے رہ جائیں گے ،۔ ۔ گڑ بڑ چل رہی ہے۔۔،،

                ٬٬ ٹھیک ہے ابا ۔ ۔ میں تانگہ لے کر آتا ہوں۔،، کلو تایا نے کہا اور وہ چلے گئے۔ ابا نے بھی مجھے گود میں اٹھایا اور اماں کے پاس لے آئے۔،،

                ٬٬ ضیاءالدین کے ابا یہ کیا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ مجھے تو بڑی ہول اٹھ رہی ہے ۔،، اماں نے مجھے ابا کی گود سے لیتے ہوئے کہا

                ٬٬ کچھ نہیں۔ ۔ ابا نے ضد پکڑ لی ہے وہ ابھی راجی ٹھاکر داس سے ملنا چاہتے ہیں۔،، ابا نے کہا

                ٬٬ مگر حالات تو خراب ہو رہے ہیں ۔ ۔ ایسے وقت ملنا کیا ٹھیک رہے گا۔،، اماں نے فکر مندی سے کہا

                ٬٬ ہاں وہ حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے راجہ جی سے ملنا ضروری سمجھتے ہیں۔،، ابا بولے

                میرے دادا کے پاس بھاگ جانے کی وجہ سے کسی نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔ کھانا ویسے ہی رکھا ہوا تھا۔٬٬کیا کھانا کھاﺅ گے ۔،، اماں نے پوچھا

                ٬٬ نہیں اب کیا کھانا رات ہی کو کھائیں گے ، بس ضیاءالدین کو کھلا دو ۔ ۔ ۔ یہ بھوکا ہے صبح سے ۔،، ابا نے کہا تو چیخ پڑا ۔ ۔ ٬٬نہیں میں نہیں کھاﺅں گا ۔ ۔ ۔ نہیں کھاﺅں گا ۔ ۔ میری حالت پھر جیسے بگڑنے لگی اور اماں نے مجھے پھر اپنی گود میں

 بھر لیا اور ابا کی طرف دیکھنے لگیں ۔ ابا بھی میری طرف بڑھے اور سر پر ہاتھ پھیر کر پیار کیا۔

                اسی وقت کلو تایا کے چیخنے اور حویلی کا دروازہ بند کرنے کی آواز آئی ۔ ۔ کلو تایا چیخ رہے تھے ۔ ٬٬ بھائی بدرو بڑی گڑ بڑ ہو گئی کہاں ہو۔ ۔ کسی نے ایک اور مسلمان کو مار دیا ہے موہن چوک کی طرف ۔ ۔ ۔

                (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 53 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے