سر ورق / ناول / تھیا تھیا…شہباز اکبر الفت…قسط نمبر 1

تھیا تھیا…شہباز اکبر الفت…قسط نمبر 1

تھیا تھیا

شہباز اکبر الفت

قسط نمبر 1

”چھیتی بوہڑیں وے طبیبا، نیئں تاں میں مر گئی آ“

 ملنگنی نے تان اٹھائی تو رات کے پرفسوں سناٹے کا سحر ٹوٹ گیا، پتہ نہیں یہ درد میں ڈوبی، دل کو چیرتی ہوئی اس پرسوز نسوانی آواز کا سحر تھا یا بابا بلھے شاہ ؒ کی شہرہ آفاق کافی کے مصرعے کا گداز، وہ سر سے پاﺅں تک لرز گیا،تن مردہ میں جان سی آگئی، دل کسی ماہی بے آب، مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگا۔

تیرے عشق نے ڈیرا میرے اندر کیتا

بھر کے زہر پیالہ میں تاں آپے پیتا

چھیتی بوہڑیں وے طبیبا، نہیں تاں میں مر گئی آ

تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا

 آوازرفتہ رفتہ بلند ہوتی جا رہی تھی ، اسے اچانک ہی اپنے سینے پر بوجھ بڑھتا ہوا محسوس ہوا ، گھبرا کر پسینے سے شرابور بدن سے کمبل ہٹایا ،ملگجے اندھیرے میں آنکھیں مل مل کر دیکھا، گانے والی نظر نہیں آ رہی تھی لیکن جلد ہی آواز کے مرکز کا اندازہ ہوگیا،وہ دربار کے احاطہ سے منسلک، ایک نیم تاریک گوشہ میں سکڑی سمٹی، گھٹھڑی بنی ہوئی تھی، لال گھاگھرے کی ایک جھلک دیکھتے ہی اس کے جسم پر رعشہ طاری ہوگیا،ہاتھ بے اختیار ہی گھنگھرﺅں کی طرف سرک گئے ۔

چھپ گیا وے سورج باہر رہ گئی آ لالی

وے میں صدقے ہوواں دیویں مڑ جے دکھالی

پیرا! میں بھل گئی آں، تیرے نال نہ گئی آ

تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا

ایک ایک مصرعہ اس کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہا تھا، گھنگھرو باندھتے ہی دیوانہ وار دونوں ہاتھ فضا میں بلند کیے اور تھرکتے قدموںکے ساتھ اندھیرے سے نکل کر روشنی میں آگیا

ایس عشق دے کولوں مینوں ہٹک نہ مائے

لاہور جانڈرے بیڑے کیہڑا موڑ لیائے

میری عقل جو بھلی نال مہانیاں دے گئی آ

تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا

ماحول اچانک ہی بدل گیا تھا، کئی اور ملنگ بھی رقص جنوں میں اس کا ساتھ دینے کے لیے آگے بڑھے لیکن اسے کوئی ہوش نہ تھی،وہ گرد و پیش سے بے نیاز، دنیا و مافہیا سے بے خبر، سر جھکائے، کانپتے ہوئے وجود کے ساتھ دیوانہ وار تھرکتا رہا۔

ایس عشقے دی جھنگی وچ مور بولینڈ ا

سانوں قبلہ تے کعبہ سوہنا یار ڈسیند ا

سانوں گھائل کر کے فیر خبر نہ لئی آ

تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا

اب وہ آواز اسے پہلے سے زیادہ تیز اور اپنے قریب آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی

بلھے شاہ نے آندا مینوں شاہ عنایت دے بوہے

جس نے مینوں پوائے چولے ساوے تے سوہے

جاں میں ماری ہے اڈی مڑ پِیا ہے رہیا

تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا

بابا بلھے شاہ ؒ کی کافی مکمل ہوچکی تھی، درد میں ڈوبی ہوئی اس دلگداز تان نے بھی دم توڑ دیا تھا لیکن اسے قرار نہ مل سکا، وہ اسی طرح لرزتے ہوئے وجود کے ساتھ ”تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا“ گاتے ہوئے اپنے رقص جنوں میں مگن رہا، ملنگ اس کی حالت کو بہت دل چسپی سے دیکھ رہے تھے، اچانک ملنگنی نے آگے بڑھ کر اسے بازو سے پکڑا اور جھنجھوڑنے کی کوشش کی، اس نے غصہ سے ہاتھ جھٹک کر لال بھبھوکا نظروں سے پلٹ کر دیکھا، دونوں کی آنکھیں ملیں، ملنگنی کی آنکھوں میں بھی شرارے بھڑک اٹھے،دونوںنے غصہ سے ایک دوسرے کو گھورا، کتنی ہی دیرآنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک دوسرے کو گھورتے رہے، کتنی ہی دیر دم سادھے ، ایک ٹک ایک دوسرے کو دیکھتے رہے پھر آہستہ آہستہ چہروں کی کرختگی نرمی میں بدلنے لگی، پلکوں کے گوشے بھیگنے لگے۔

٭٭٭

                ” تابی، کیا سوچ رہے ہو؟“ تانیہ نے گہری سوچ میں گم تابش رحمان علوی کو ٹہوکا دیا تو وہ ہڑبڑا سا گیا

” کک ۔۔۔۔ کچھ نہیں “ اس نے جھینپتے ہوئے اپنے آپ کو نارمل رکھنے کی ناکام سی کوشش کی لیکن اس کی آنکھوں میں تیرتی نمی تانیہ عبدالغفار کی تیزنظروں سے چھپی نہ رہ سکی

” تابی ۔۔۔ سچ بتاﺅ کیا ہوا ؟“ وہ تڑپ سی گئی

” کچھ نہیں یار، ریلیکس“ تانیہ کی تڑپ دیکھ کر تابش اپنی تمام تر سنجیدگی کے باوجود بھی ہنس پڑا

”کچھ تو ہے تابی جو تم مجھ سے چھپا رہے ہو؟ “ تانیہ نے اصرار کیا

” واقعی کچھ نہیں یار“ تابش نے بے فکری سے کندھے اچکائے

”او ہیلو،ادھر دیکھو‘، میری طرف “ تانیہ نے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کا چہرہ اپنی طرف کیا اوراس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔

”اب تم مجھ سے بھی کچھ چھپاﺅ گے؟“

” نہیں“ تابش نے صاف گوئی سے کہا

” اوکے تو پھر جو بھی مسئلہ ہے، کھل کر بیان کرو، صاف صاف بولتے جاﺅ کہ موصوف کا تھوبڑا کیوں سجا ہوا ہے؟ “

اور پھر جب تابش نے اپنا مسئلہ بتایا تو تانیہ بھی پریشان ہو گئی

” اب بتاﺅ کہ میں کیا کروں، مجھے تو اپنے سارے خواب ٹوٹتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں “

” پریشان نہ ہو، اللہ بہتر کرے گا“ تانیہ نے کہہ تو دیا لیکن اس کے اپنے چہرے پر بھی تفکرات کے سائے پھیل گئے۔

٭٭٭

                دونوں پہلی بار گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں ملے تھے،ماس کمیونی کیشن کے پہلے سال ، پہلے دن ہی دونوں کی ایسی نظریں ملیں کہ دل بھی ملے بغیر نہ رہ سکے، دونوں کو خود بھی اندازہ نہ ہوسکا کہ کب اور کس طرح ایک دوسرے کے لیے ناگزیر، دو قالب، یکجان ہوچکے اور پھر آنے والے چار سال ان دونوں کی دوستی یونیورسٹی بھر میں ایک مثال بن گئی، تابش اور تانیہ میں سے کسی ایک کو بھی ڈھونڈنا ہوتا تودونوں میں سے کسی ایک کا پتہ کرلیا جانا ہی کافی ہوتا،کلاس،اسٹوڈیو، کیفے ٹیریا، لائبریری، لان ہر جگہ ، ہر وقت اکٹھے ہی پائے جاتے، دونوں کے درمیان دلچسپی کے اتنے موضوعات تھے کہ گھنٹوں بلاتکان بولتے رہتے،حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اتنی زیادہ گہری ہم آہنگی ہونے کے باوجود بھی دونوں نے کبھی ایک دوسرے کے بارے میں زیادہ جاننے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی تھی، گذشتہ چار سالوں میں صرف ایک بار تانیہ کو اس کے گھر جانے اور اس کے گھر والوں سے ملاقات کا موقع ملا تھا، تابش نے اپنی پچیسویں سالگرہ پر بطور خاص اسے مدعو کیا تھا، تانیہ نے پہلے تو صاف انکار کر دیا لیکن تابش کے سامنے اس کی ایک نہ چلتی تھی، نہ نہ کرتے بھی اسے جانا پڑا،تابش کا گھر گلشن راوی کے علاقہ میں تھا، پانچ مرلہ کے اس مکان کا نقشہ اس کے والد نے خود بنایا تھا اور بڑی محنت اور مہارت سے ایک چھوٹے موٹے بنگلے میں تبدیل کر دیا تھا، عبدالرحمان علوی آٹو پارٹس کے شعبہ سے وابستہ ایک چھوٹے سے صنعت کار تھے اور محدود پیمانے پر فلٹر آئل بنا کر دوسرے شہروں میں فروخت کیا کرتے تھے، چھوٹا سا کاروبار ہونے کے باوجود ان کی محنت اور دیانت داری کو بہت سراہا جاتا تھا اور بادامی باغ کی آٹو مارکیٹ میںان کی دکان ” علوی آٹوز“ پر سارا دن گاہکوں کا تانتا بندھا رہتا، اپنے شعبہ میں ان کاہی نام اعتماد اور بھروسہ کی علامت سمجھا جاتا تھا

                تابش کے گھر والوں نے بھی پہلی ملاقات میں ہی محبت کا حق ادا کردیا، خوب آﺅ بھگت کی، عبدالرحمان علوی ایک شفیق اور ملنسار انسان تھے، انہوں نے ایک مہربان سی مسکراہٹ کے ساتھ سر پر پیار دیا تواچانک ہی کسی انجانے سے جذبہ سے اس کی آنکھیں بھر آئیں،بڑی مشکل سے آنسوﺅں کو چھپا کر مسز علوی کی طرف دیکھا تو انہوں نے بھی جھٹ گلے سے لگا لیا،تابش کے بڑے بھائی باسط علوی، بھابھی علینہ اور ان کے بچوں اقراءاور ولیدتاجور کے پرتپاک استقبال سے بھی اس کے اندر کا خوف جاتا رہا، اجنبیت کی دیوار گرتے ہی وہ ان میں گھل مل سی گئی اور پھر سب نے مل کر خوب ہلہ گلہ کیا، علینہ بھابھی کی معنی خیز مسکراہٹ البتہ کئی دنوں تک اس کا پیچھا کرتی اور اس کے دل کو گدگداتی رہی ۔

٭٭٭

” کیا بات ہے تانی، اتنی پریشان کیوں ہے؟“ ماں نے روٹی کھاتے وقت لقمہ سے کھیلتی ، گہری سوچ میں گم تانیہ سے پوچھا تو وہ اسی طرح ہڑبڑا گئی جس طرح تانیہ کے سوال پر تابش ہڑبڑایا تھا

” تابش کی وجہ سے پریشان ہوں امی“ تانیہ نے صاف گوئی سے جواب دیا، تانیہ نے اپنی ماں سے کبھی کچھ نہیں چھپایا تھا ،تہمینہ بیگم صرف اس کی ماں ہی نہیں بلکہ اس کی سب سے بہترین اور قابل بھروسہ دوست بھی تھی، وہ اپنی ہر بات ، ہر فیلنگ اپنی ماں سے شیئر کرلیتی تھی، حتیٰ کہ اس نے اپنی ماں کو یہ بھی بتا رکھا تھا کہ اس کے دل میں تابش کے لیے کیا ہے اور کسی اظہار، کسی عہد و پیمان کے باوجود بھی اس کے ساتھ اتنا پیار کرتی ہے کہ اس کے بغیر ایک پل بھی رہنا دشوار لگتا ہے ، وہ یونیورسٹی کی ہر بات گھر آتے ہی اپنی ماں کو بتانا اپنا فرض سمجھتی تھی، سارا دن کیا ہوا، کہاں کہاں گئے، کیا کھایا پیا، کیا باتیں ہوئیں ، تہمینہ بیگم تابش کے لیے اس کی تڑپ اور بے قراری کو دیکھ کر اکثر ڈر جایا کرتیں

” تانی ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے نا کہ تم کیا چاہ رہی ہو؟ بہت بڑا خواب دیکھ رہی ہو، اپنی سوچ اور حیثیت سے بھی زیادہ بڑا خواب ، رک جاﺅ تانی، زمین پر رہ کر آسمان کو مت چاہو، اوندھے منہ گر جاﺅ گی“

” مجھے خودپر قابو نہیں ہے ماں، اس کی آنکھوں، اس کی باتوں کے سحر میں کھو جاتی ہوں، وہ پاس ہوتا ہے تو میرا وجود مٹ کر اس کے وجود میں تحلیل ہو جاتا ہے“

” میں تمہارا دکھ سمجھ سکتی ہوں تانی لیکن یہ محض جوانی کا جوش ہے، ہوش سے کام لو،جوانی ایسی ہی منہ زور ہوا کرتی ہے، خواب دکھاتی ہے اور بدلے میں آنکھیں ہی چھین لیتی ہے “

” جانتی ہوں ماں“

 ” میں تمہاری دشمن نہیں ہوں بیٹا، مجھے بھی تمہاری خوشی سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں لیکن ۔۔۔۔“

” لیکن ویکن چھوڑیں امی، میں پہلے ہی تابش کی وجہ سے بہت پریشان ہوں“

” کیوں، کیا ہوا اسے؟“

” امی ، وہ فلم ڈائریکشن کا کورس کرنے کے لیے انگلینڈ جانا چاہتا ہے، ایک کامیاب فلم ڈائریکٹر بننا اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے لیکن اس کے وسائل اتنی بڑی عیاشی کی اجازت نہیں دیتے، اس کے ابو کو پہلے ہی کاروبار میں بہت نقصان ہو رہا ہے اور اگر وہ نہ جاسکا تو اس کے سارے خواب ٹوٹ جائیں گے “

” لیکن تم کیا کر سکتی ہو؟“

” کچھ تو کرنا پڑے گا ماں“

” تم کر بھی کیا سکتی ہو ؟“

” یہی سوچ رہی ہوںماں کہ آخر میں اس کے لیے کیا کرسکتی ہوں“

” کچھ غلط مت سوچنا تانی“ ماں اس کے لہجے کی قطعیت دیکھ کر سناٹے میں آگئی

(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے