سر ورق / تصویر کہانی / خوں ریز… امجد جاوید…قسط نمبر 1

خوں ریز… امجد جاوید…قسط نمبر 1

خوں ریز

امجد جاوید

قسط نمبر 1

انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ طاقت کا حصول چاہتا ہے ۔انسانی تہذیب کے عروج و زوال کی داستانوں میں طاقت کا حصول ہی سب سے بڑی خواہش رہی ہے ۔طاقت اس وقت قوت بنتی چلی جاتی ہے ، جب اس میں انسانیت کی فلاح مقصد ہو لیکن جونہی طاقت حاکمیت میں بدلتی ہے تو ظلم بڑھنے لگتا ہے ۔انصاف کی جگہ جبر لے لیتا ہے ۔ خون ارزاں ہوجاتا ہے اور زندگی سسکنے لگتی ہے ۔خون ریز کہانی ہے اس نوجوان علی احسن کی جو طاقت کے خونی کھیل میں دھکیل دیا گیا تھا ۔موت اس کا تعاقب کر نے لگی تو زندگی نے اسے نرم و نازک نسوانی جذبوں سے لے کر آتش و آہن سے کھیلنا سکھا دیا ۔ریشمی محبتوں ، معاشرتی جبر،انسانی رویوں، دیدہ نادیدہ خطروں اور سازشوں کی خوں ریز داستان

صبح کی نیلگوں روشنی میں ہلکی ہلکی کہر پھیلی ہوئی تھی ۔ میں اپنی حویلی سے باہر کاریڈور میں آیا تو سامنے کا منظر کافی دھندلا تھا۔باہر والے گیٹ کے پار کھیت بھی صاف دکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ میں نے جیکٹ کے ٹاپ سے سر کو ڈھکا اور جاگنگ کے لئے نکل کھڑا ہوا ۔ حویلی کاگیٹ پار کرتے ہی سامنے ایک کچا راستہ تھا جو دور کھیتوں تک جاتا تھا ۔میں اسی کچے راستے پر چل نکلا ۔لاہور میں بھی میرا ڈیڑھ دو برس سے یہی معمول تھا۔اب جبکہ میں گاﺅں واپس آ گیا تھا ، یہاں بھی میری یہ عادت ختم نہیں ہوئی تھی ۔صبح کی جاگنگ مجھے سارا دن تروتازہ رکھتی تھی۔

اس وقت میں کافی فاصلہ طے کر گیا تھا ۔ چاروں طرف کھیت تھے ۔کہیں پر چارہ اُگا ہوا تھا ، کسی طرف کپاس کھلی ہوئی تھی ، کسی جانب سبز اور پیلے رنگوں سمیت سرسوں کی فصل نگاہ کو بھلی لگ رہی تھی ۔ میں موسم اور ماحول سے لطف اندوز ہوتا ہوا بھاگتا جا رہا تھا ۔ اچانک ایک تیز بلبلاتی ہوئی انسانی چیخ سنائی دی ۔میں بھاگتے ہوئے لاشعوری طور پر ساکت ہو گیا۔جب تک میں رکا ، وہ چیخ ،اس طرح کی ہذیانی آ وازوں میں بدل گئی جیسے کوئی موت کے منہ میں جا رہا ہو ۔ بلاشبہ کوئی انسان ایسی ہی کسی مصیبت میں مبتلا تھا ۔وہ بلبلاہٹ میرے دائیں جانب سے آرہی تھی ۔میں نے کہر میں اس جانب دیکھا، مجھے کچھ واضح دکھائی نہیں دیا ۔ میرے سامنے کا منظر دھندلا تھا ۔ میں نے لمحہ سے بھی کم وقت میں فیصلہ کیا اور آواز کے سہارے اس جانب بھاگنے لگا۔چند کھیت پار کرنے کے بعد میرے سامنے جو منظر واضح ہوا، وہ بڑا بھیانک تھا ۔

 ہمارے ہی گاﺅں کا رہنے والا ایک ادھیڑ عمر رُوشن مسلّی کھیت کے کنارے خون میں لت پت تڑپ رہا تھا ۔اس کا سر کھیت کی منڈھیر پر اور باقی جسم کھال میں تھا ۔ غور سے دیکھا تو یہی سمجھ میں آ یا ،کسی نے خنجر سے وار کر کے اسے مارنے کی کوشش کی تھی ۔ پھٹی ہوئی قمیص سے اُدھڑا ہوا پیٹ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ایک خنجر اس کی پسلیوں کے درمیان پیوست تھا ۔وہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھا ۔ لیکن اس کی سسکاریاں ابھی تک منہ سے نکل رہی تھیں ۔ اس کے منہ سے خون بلبلوں کی صورت نکل رہا تھا ۔ مجھے پہلا خیال یہی آ یا کہ یہ ابھی زندہ ہے ۔ اسے بچایا جانا چاہئے ۔میں نے اس پیوست خنجر کے اُبھرے ہوئے دستے کو پکڑا اور پوری وقت سے باہر نکال دیا ۔ وہاں سے خون ابل پڑا لیکن اس کے ساتھ ہی روشن کی چیخ بلند ہوئی ۔ روشن کے سر والا پَرنا زمین پر پڑا تھا ۔ میں نے وہ اٹھایااور اس کا سینہ باندھ کر خون روکنے کی کو شش کی ۔میں نے انتہائی تیزی سے اس جگہ کو باندھ دیا تھا ۔ روشن مسلّی شاید بے ہوش ہو چکا تھا ۔ اس کے منہ سے نکلنے والی آ وازیں بند ہو گئی تھیں ۔میں نے اس طرف دھیان نہیں دیا کیونکہ اس کا پھٹا ہوا پیٹ میرے لئے مسئلہ تھا ۔میں نے اس کی قمیص پھاڑی اورپیٹ باندھنے کی کوشش کر نے لگا ۔ اس کے خون سے میری جیکٹ بھر چکی تھی ۔ میں نے کوئی پروا نہیں اور اس کا پیٹ باندھنے لگا ۔میں اسی کوشش میں تھا کہ میرے سامنے ایک نوجوان فیروز نمودار ہوا ۔ اس وقت ہم اسی کے کھیتوں میں تھے ۔یہ واقعہ اسی کے کھیتوں میں ہوا تھا ۔

” یہ کیا ہوا ؟“ اس نے دیکھتے ہوئے انتہائی خوفزدہ لہجے میں پوچھا

” مجھے خود نہیں پتہ ، چیخ سن کر یہاں آیا تو یہ اس حالت میں تھا ، آﺅ میری مدد کرو ، یہ ابھی زندہ ہے ۔ “ میںنے تیزی اسے باندھتے ہوئے کہا

”یہ زندہ نہیں بچے گا ۔“ وہ سہمے ہوئے لہجے میں بولا

” مگر ہمیں کوشش تو کرنی چاہئے ، اسے اٹھاﺅ ، میں جیپ منگواتا ہوں۔“ میں نے اس کا پیٹ باندھا اور اٹھ کراپنی جیب سے سیل فون نکالا ۔ میں اپنے ملازم کا نمبر پش کر چکا تھا ۔ ایسے میں کہر سے دو چار مزید بندے نمودار ہوئے ۔ وہ سب قریبی کھیتوں میں کام کرنے والے تھے ۔ان میں ایک روشن مسلّی کا رشتے دار پھتّو مسلّی بھی تھا ۔وہ چیخنے چلا نے لگا تھا ۔میرا ڈرائیور نجانے کہاں کیا کر رہا تھا ، میرا فون ہی نہیں اٹھا رہا تھا ۔ میں نے دوسری بار کال کی تو وہ اس نے کال رسیو کر کے ہڑبڑاہٹ میں کہا

” جی ….جی ، مجھے وہ ….“

” میری بات غور سے سن ، حویلی سے بالکل سیدھے راستے پر فیروز کے کھیت میں فوری جیپ لے کر پہنچ ، روشن مسلّی شدید زخمی ہے ، اسے ہسپتال لے کر جانا ہے ، جلدی کرنا۔“

” جی بالکل ۔“ ڈرائیور نے کہا تو میں نے کال بند کر دی ۔وہ سبھی اسے اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ایک شخص اس کے منہ میں پانی ڈال رہا تھا ۔تبھی وہاں موجود ایک بندے نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا

” اب کسی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ، یہ مر چکا ہے ۔“

” کیا ، تم یہ ….“ میں نے تیزی سے کہا تو اس نے روشن مسلّی کی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا

”ہاں ، یہ اب اس جہان میں نہیں رہا ۔“

” اُوہ ، لیکن پھر بھی ہم اسے ہسپتال لے جائیں ،پولیس کو اطلاع دیں ۔“ میں نے اپنے حواس قابو میں کرتے ہوئے کہا ۔ یہ پہلا موقعہ تھا ، جب کوئی انسان میرے سامنے یوں دم توڑ گیا ہو ۔میرے ہاتھوں پر خون کی چپچپاہٹ ، سامنے پڑی لاش اور بے دردی سے کئے گئے قتل پر طبیعت مکدر ہو گئی تھی ۔مجھے بہت غصہ آ رہا تھا ۔ میں نے کوئی اظہار نہیں کیا ۔ پھتّو مسلّی نے ایک شخص کی مدد سے اسے سیدھا کیا ۔ تب تک فیروز کا بھائی ایک چار پائی لے آ یا ۔اس سے پہلے کہ میری جیپ آ تی وہ اسے اٹھا کر چل دئیے ۔میں نے سوچا کہ اگر وہ میری مدد نہیں لینا چاہتے تو میں زبردستی نہیں کر سکتا تھا ۔میں وہیں کھڑا تھا ۔وہ لمحہ بہ لمحہ مجھ سے دور ہوتے چلے جا رہے تھے ۔ کچھ دیر بعد وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہوگئے ۔ ایسے میں ڈرائیور جیپ لے کر آ گیا ۔ میں اس کے ساتھ واپس حویلی آ گیا ۔میرا من بہت بوجھل ہو چکا تھا ۔ کسی انسان کو یوں کیسے قتل کیا جا سکتا تھا ۔ میں جلدی سے فریش ہو جانا چاہتا تھا ۔میں لاﺅنج میں گیا ہی تھا کہ اماں کی نگاہ مجھ پر پڑی ۔وہ حواس باختہ ہوتے ہوئے بے ساختہ بولیں

” یہ کیا ہوا؟ تم ٹھیک تو….“

” اُو کچھ نہیں ہوا، میں ٹھیک ہوں ۔“میں نے بجھے دل سے کہا اور پھر ساری روداد سنا دی ۔

” اچھا جاﺅ ، جلدی سے نہا کر کپڑے بدل لو ۔“ اماں نے دکھ سے کہا تو میں اپنے کمرے کی جانب چل دیا ۔

٭….٭….٭

میں دوپہرکے کھانے کے بعد لاﺅنج میں بیٹھا چائے پی رہا تھا ۔ میرے ذہن میں صبح ہونے واقعہ کا بہت اثر تھا جو بہر حال کافی حد تک ختم ہو گیا تھا ۔ باہر دھوپ پھیلی ہوئی تھی ۔ حسب معمول لان میں میرے بابا چوہدری بشیر احمد بیٹھے ہوئے تھے ۔ دوپہر ہو جانے کے بعد گاﺅں کے یا علاقے سے لوگ آتے جاتے ۔ گپ شپ ہوتی، مسئلے مسائل نپٹائے جاتے ،علاقے کی سیاست اور حالات پر باتیں چلتی رہتی تھیں ۔ میرے بابا نے کبھی الیکشن نہیں لڑا تھا لیکن کسی بھی امیدوار کو جتوانے کے لئے ان کا ساتھ ضروری سمجھا جاتا تھا ۔ ان کا علاقے میںاثر رسوخ تھا ۔انہوں نے اپنی زندگی دیانت داری ، شرافت اور ایمانداری سے گزاری تھی ۔ ان کے فیصلے بھی انہی اصولوں پر ہوتے تھے ۔میرے بابا نہ تو کوئی جاگیر دار تھے اور نہ ہی کوئی زمیندار ۔ہماری اس گاﺅں میں تقریباً سو ایکڑ زمین تھی ۔ زمین اچھی تھی سو فصل بھی اچھی ہوتی ۔چونکہ بابا نے ساری زندگی شرافت سے گزاری تھی ، اس لئے ان میں وہ ایسا کچھ نہیں تھا کہ وہ اپنی کمائی ہوئی دولت کسی ناجائز راستے پر ضائع کرتے ۔بلکہ گاﺅں اور علاقے میں بہت سارے لوگ ایسے تھے جن کی وہ خاموشی کے ساتھ مستقل مدد کرتے تھے ۔

 اس وقت بھی بابا کے پاس کافی سارے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ جو ڈھلتی ہوئی دوپہر کے ساتھ بڑھتے چلے جا رہے تھے ۔ مجھے پورا یقین تھا کہ لوگ میری آ مد کا انتظار کر رہے ہوں گے تاکہ مجھ سے اس واقعہ کی تفصیل سن سکیں ۔مجھے یہ احساس ہو گیا تھا کہ گاﺅں ہی میں نہیں پورے علاقے میں یہ خبر پھیل گئی ہوئی تھی۔ ظاہر ہے جب بات پھیلتی ہے تو لوگ اس میں اپنی طرف سے بھی بہت کچھ ڈال کر بات کو آ گے بڑھاتے ہیں ۔ اس طرح ہی سے بات کا بتنگڑ بن جاتا ہے ۔ بلاشبہ میرے بابا کے احباب پوری تفصیل مجھ سے ضرور سننا چاہتے ہوں گے تاکہ درست صورت حال جان سکیں ۔ میں نے چائے ختم کی اور باہر چلا گیا ۔

میرے وہاں بیٹھتے ہی سب میری جانب متوجہ ہو گئے ۔میں نے تمام تر تفصیل سے انہیں آگاہ کیا۔میں سب کہہ چکا تو وہ سب اپنے اپنے طور پر تبصرہ کرنے لگے ۔ انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ واقعہ کیوں ہو گیا ۔روشن مسلّی چھوٹی موٹی چوری چکاری تو کر لیتا تھا لیکن یوں کوئی اس کے قتل کے درپے ہو جائے ، یہ بات سمجھ میں آ نے والی نہیں تھی ۔یہ تبصرے ابھی جاری تھے۔اسی دوران کھلے ہوئے گیٹ سے ایک پولیس جیپ اندر داخل ہوئی ۔ میں کھلے ہوئے گیٹ سے دیکھ رہا تھا کہ اس کے علاوہ بھی پولیس وین وہاں رُکی ہیں۔ جیپ تھوڑے فاصلے پر رکی ۔ اس کے ساتھ ہی علاقے کا انسپکٹر راﺅ ظفر اُترا۔ اس کے ساتھ دو تین دوسرے پولیس والے تھے ۔ وہ علیک سلیک کے بعد میرے بابا کے پاس ہی بیٹھ گیا ۔کچھ دیر بعد بابا نے اس سے پوچھا

” راﺅ صاحب کس طرح آ نا ہوا ؟“

”دیکھیں ہمیں بھی ڈیوٹی کرنی ہے ۔ صبح جو واقعہ ہوا،وہیں پر آپ کا بیٹا بھی تھا ۔ وہاں دوسرے چشم دید بھی تھے ۔ انہوں نے آپ کے بیٹے علی احسن پر قتل کا الزام لگایا ہے ۔ ہم اسے گرفتار کرنے آ ئے ہیں ۔“

اس کے یوں سیدھے سیدھے کہہ دینے پر ایک دم سے سناٹا چھا گیا ۔ میرے بابا نے اس کی بات بڑے تحمل سے سنی تھی ۔ پھر چند لمحے سوچتے رہنے بعد گویا ہوئے

”کس نے لگایا ہے یہ الزام ؟“

” پھتّو مسلّی نے ۔وہ چشم دید گواہ ہے ۔ اس نے ایف آئی آر میں لکھوایا ہے کہ اس نے اپنی آ نکھوں سے رُوشن مسلّی پرعلی احسن کو خنجر سے وار کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔“راﺅ ظفر نے سکون سے کہا

”مطلب ایف آ ئی آر بھی درج ہو چکی ہے ۔“ بابا نے یوںحیرت سے پوچھا جیسے انہونی ہو گئی ہو ۔

” جی ہاں ، درج ہو چکی ہے، تبھی تو میں آ یا ہوں ۔“وہ آہستگی سے بولا

” اوہ …. “ میرے بابا کے منہ سے بے ساختہ نکلا ، پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولے ،” دیکھو ، میرا بیٹا علی بے گنا ہ ہے ۔ اس نے تو صرف اس کی مدد کرنے ….“

” گستاخی معاف چوہدری صاحب ،آلہ قتل برآمد ہو چکا ہے، چشم دید گواہ اپنے بیان دے چکے ہیں ،مدعی ایف آئی آردرج کروا چکے ہیں ۔ قانونی طور پر اب علی کو گرفتار کرنا میری مجبوری ہے ۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ علی کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہو گی ۔“

” لیکن جب اس نے یہ قتل کیا ہی نہیں تو ….“ پاس بیٹھے ہوئے ایک بزرگ نے کافی سخت لہجے میں کہنا چاہا تو راﺅ ظفر جلدی سے بولا

” دیکھیں جی ، جس طرح آپ موقعہ پر موجود نہیں تھے ، اس طرح میں بھی نہیں تھا ۔ اب ایف آئی آ ر میں جو لکھوایا گیا ہے اور مدعی اس پر اصرار کر رہے ہیں تو علی کو ایک بار تھانے جانا ہوگا ۔ یہ عدالت میںثابت ہو نا ہے کہ علی نے قتل کیا ہے یا یہ کوئی سازش ہے ۔“ راﺅ ظفر نے دھیمے لہجے میں بات کرتے ہوئے آخر میں ایسا اشارہ کر دیا ، جس نے مجھے ہی نہیں میرے بابا کو بھی چونکا دیا تھا ۔کیا وہ جانتا تھا کہ یہ سازش تھی یا یونہی اپنی رُو میں کہہ گیا تھا ؟ کیا وہ سمجھ گیا تھا کہ اس واقعے کے پیچھے کیا محرکات تھے ؟

” یہ کیا مذاق ہے۔ اس طرح تم کیسے لے جا سکتے ہو علی کو ؟“بابا کے پاس بیٹھے گاﺅں کے ایک سرکردہ بزرگ نے غصے میں کہا

” دیکھیں جی میں ایک معمولی سا ملازم ہوں ، مجھے اوپر سے حکم ملا کہ علی کو فوراً گرفتار کر کے پیش کیا جائے ۔ذرا سی بھی مزاحمت ہو تو سختی سے پیش آ یا جائے ۔ اب آپ ہی بتائیں جی میں کیا کروں ؟“ راﺅ ظفر نے انتہائی مسکین سے انداز میں کہا

” بتاﺅ کون ہے وہ آ فیسر ، میں کرتا ہوں اس سے بات ۔“ اسی بزرگ نے کہا تو راﺅ ظفر بولا

” جناب کیوں معطل کروانا چاہتے ہیں مجھے۔میں تو سرکاری حکم کی تعمیل کرنے آیا ہوں ۔“ راﺅ ظفرنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ، پھر اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل کھولی ۔ اس میں سے ایک کاغذ نکال کر میرے بابا کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا،” یہ ایف آئی آ ر کی فوٹو سٹیٹ کاپی ہے ، آپ دیکھ سکتے ہیں ۔“

بابا نے وہ کاپی پکڑی اور پڑھنے لگے ۔ جوں جوں وہ پڑھتے جا رہے تھے ، ان کا چہرہ غصے میں سرخ ہوتا چلا جا رہا تھا ۔ وہ پڑھ چکے تو چند لمحے خاموش رہنے کے بعدانہوں نے راﺅظفر سے کہا

” ٹھیک ہے تم علی کو لے جاﺅ ۔میں اس کی ضمانت کا بندو بست کرتا ہوں ۔لیکن اپنا وعدہ یاد رکھنا ،اسے کچھ ہونا نہیں چاہئے ۔“ بابا نے کہا اور پھر میری طرف دیکھ کر جانے کا اشارہ کیا ۔میں کوئی بات کئے بنا اٹھا اور ان کے ساتھ چل دیا ۔ایک پولیس والا ہتھ کڑی لیکر کر بڑھا تو راﺅ ظفر نے اسے روکتے ہوئے کہا

” نہیں اس کی ضرورت نہیں ۔“

میں اس کے ساتھ جیپ میں بیٹھ گیا ۔ اگلے ہی لمحے حویلی میری نگاہوں سے دور ہو تی چلی گئی ۔

ہمارے گاﺅں سے شہر کا فاصلہ کوئی چھ کلو میٹر تھا ۔ ہم جیسے ہی شہر کے قریب پہنچے تو راﺅ ظفرنے بڑے رسان سے کہا

” علی یار یہ ہتھکڑی پہن لو ، تھانے میں یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم تمہیں فیور دے رہے ہیں ۔“

اس سے پہلے کہ میں کوئی ہاں یا ناں میں جواب دیتا ، اس کے ماتحت نے فوراً ہتھکڑی میرے سامنے کر دی ۔ میں اسے کہنا چاہتا تھا کہ جب میں تم سے تعاون کر رہا ہوں تو پھر اس ہتھکڑی کی کیا ضرورت ہے ؟ مجھے ہتھکڑی پہنا دی گئی ۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ہم شہر کے صدر تھانے میں آ گئے ۔ جیسے ہی میں گاڑی سے نکلا ، میری نگاہ سامنے کھڑے لوگوں پر پڑی ۔ میں انہیں پہچان گیا تھا ۔ وہ مقامی میڈیا کے لوگ تھے ۔کوئی میری تصویریں بنانے لگا اور کوئی ویڈیو ۔ ایک لڑکی آ گے بڑھی اور اس نے بڑے تلخ لہجے میں سوال کیا

” کیا تم زمیندار لوگ ،غریب کمی کمین کو انسان نہیں سمجھتے ہو، آخر تم نے اس غریب روشن مسلّی کو کیوں قتل کیا ؟ ایسا کیا جرم کیا تھا اس نے ؟“

میں اس کی بات کا جواب نہیں دینا چاہتا تھا ۔ وہ کوئی سوال بنتا ہی نہیں تھا ، دراصل اس وقت مجھے غصہ اس بات پر آ رہا تھا کہ میں کس طرح کی سازش کا شکار ہو رہا ہوں ۔وہ کون لوگ ہیں ، جو میرے گرد سازش کا یہ جال بُن رہے ہیں ؟ اس قدر میڈیا کو لانے کا اہتمام راﺅ ظفر نے کیا ہے یا کسی اور نے ؟اس لڑکی کے سوال کی باز گشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک مرد نے آ گے بڑھ کر اسی طرح تلخ لہجے میں پوچھا

” روشن مسلّی نے ایسا کیا کیا تھا کہ تم نے اسے قتل کر دیا ؟“

میں وہاں رُکنا نہیں چاہتا تھا لیکن راﺅ ظفر میڈیا کے سامنے سینہ پھیلائے ہوئے تصویریں بنوا رہا تھا ۔ میڈیا والوں نے مجھے گھیر لیا تھا ۔ ہر کوئی یہی پوچھنا چاہتا تھا کہ میں نے روشن مسلّی قتل کیوں کیا ؟ میں اس کے جواب میں خاموش تھا۔ راﺅ ظفر تاڑ گیا کہ میں میڈیا سے کوئی سوال جواب نہیں کرنا چاہتا ۔ اُس کا فوٹو سیشن والا مقصد بھی پورا ہوگیا تھا ۔ اس لئے وہ مجھے لیکر اندر کی طرف چل دیا ۔ تھانے کے اندر ایک طرف حوالات تھی ۔ وہ مجھے سیدھا اس طرف لے گیا ۔ ایک ماتحت تیزی سے دروازہ کھول چکا تھا ۔ اس نے کوئی بات کئے بنا مجھے اندر دھکیل دیا ۔ اس کے ساتھ ہی دروازہ مقفل کر دیا گیا ۔ راﺅ ظفر نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تھا ۔اس کی نیت میرے سامنے کھل گئی تھی ۔وہ مجھے تھانے تک لے آ یا تھا ۔آگے کیا ہونا تھا ، اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا ۔

٭….٭….٭

 میں حوالات کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا۔حوالات میں موجود کچھ لوگوں نے میری طرف دیکھا، میں ان کے لئے اجنبی تھا۔وہ کچھ دیر تک مجھے دیکھتے رہے پھرمجھ سے کوئی بات کئے بنا اپنی دنیا میں مگن ہو گئے تھے ۔میں اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ یہ سازش ہو ئی ہے ۔ لیکن ایسا کون کر رہا ہوگا ؟ روشن مسلّی کو کس نے مارا ؟ مجھ پر ہی یہ” مدعا“ کیوں ڈالا جا رہا ہے ؟مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔میرے دماغ میں کھلبلی مچی ہوئی تھی ۔میں خود کو پر سکون رکھتے ہوئے تحمل سے سوچنے لگا۔

میں دو ہفتے قبل یونیورسٹی سے فائنل امتحان دے کر واپس اپنے گاﺅں آگیا تھا ۔میں ہر ماہ چند دن کے لئے گاﺅں آتا اور پھر واپس لاہور چلا جاتا تھا ۔مجھے گاﺅں یا علاقے کے حالات بارے اتنی خبر نہیں ہوتی تھی ۔ میںنے ایک برس کے لگ بھگ اپنے قریبی شہر کے کالج میں پڑھا ، پھر چھوڑ کر پچھلے چھ برس سے لاہور میں رہ رہا تھا ۔ چار برس کالج میں تعلیم پائی اور پھر اگلے دو برس یونیورسٹی میں گزر گئے تھے ۔اس لئے اپنے علاقے کے بارے میں اتنا نہیں جانتا تھا ۔

میں نے بہت غور کیا،کالج اور یونیورسٹی میں میری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں تھی ۔بلکہ چند دوستوں کا حلقہ تھا ، جن کے ساتھ بہت مزے کا وقت گزرا تھا ۔ کالج کے دوست بہت پیچھے رہ گئے تھے ۔ ان کے ساتھ میں کسی بھی منفی قسم کی سرگرمی میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا تھا ۔ پھر یونیورسٹی میں آ گیا۔ یہاں نئی دوستیاں بن گئیں ۔لاہور میں میرا یہی معمول تھا کہ میں صبح جلدی اٹھتا اور جاگنگ کے لئے نکل جاتا۔ سحر خیزی کی عادت مجھے بچپن ہی سے تھی ۔ اس عادت کا تحفہ مجھے میرے دادا جی نے دیا تھا ۔ صبح صبح نہر کنارے جاگنگ کا جو لطف ہوتا تھا ، وہ صرف میں ہی جانتا تھا ۔موسم جیسا بھی ہوتا میرے معمول میں فرق نہیں آ یا تھا ۔بھرپور جاگنگ کے بعد واپس آ کر کلاس لینے کے لئے تیاری کرتا اور ڈیپارٹمنٹ چلا جاتا۔ وہیں سارے دوست جمع ہو جاتے۔کھانا پینا ہلا گلا چلتا رہتا تھا ۔ چونکہ میں سیاسیات کا طالب علم تھا، اس لئے بڑی زوروں کا بحث و مباحثہ چلتا رہتا ۔کبھی اپنے اساتذہ کے ساتھ اور کبھی ساتھیوں کے ساتھ ۔ دوپہر کے بعد میں تھوڑا آ رام کرتا اور پھر کلب نکل جاتا۔جہاں میری دلچسپیاں تھیں جم ،شوٹنگ اور فائٹ ۔ میں نے انہی تین دلچسپیوں کو پوری طرح اپنا ئے رکھا تھا ۔ میں نے جم میں اپنا بدن بنانے کی طرف بھر پور توجہ دی تھی ۔دراصل میرے اس شوق کے پیچھے بھی میرے دادا جی کی خواہش تھی ۔ وہ بچپن میں مجھے پہلوان بنانا چاہتے تھے ۔ وہ مجھے بدنی طور پر بہت مضبوط بنانا چاہتے تھے ۔لیکن میرے بابا ان کے اس شوق کے آ ڑے آ گئے ۔وہ مجھے ذہنی طور پر مضبوط دیکھنا چاہتے تھے ۔تاکہ میں پڑھ لکھ کر کوئی سی ایس پی آ فیسر بنوں ۔میں دادا کی محبت اور بابا کی نگرانی میں پروان چڑھتا گیا ۔ میں شروع ہی سے کھانے پینے کا شوقین تھا ۔ میرا قد کاٹھ اچھا نکلا تھا ۔ میں موٹا نہیں ہونا چاہتا تھا ۔ یہاں لاہور میں جم کی سہولت میسر آ ئی تو میں نے فوراً جم جوائین کر لیا ۔ وہاں میں خوب محنت کرتا۔ جیسے جیسے میرا جسم بنتا گیا میں زیادہ شوق سے محنت کرنے لگا ۔دوسرا شوٹنگ کلب میں بہت محنت کے بعد میں اچھا نشانے باز بن گیا تھا ۔ وہاں ہر طرح کا ہتھیار چلانے کی تربیت دی گئی، تاہم میں پسٹل کے معاملے میں کا فی مہارت لے چکا تھا ۔ اس پر میں نے کئی انعام بھی جیتے تھے ۔تیسرا میں نے لڑنے اور اپنا دفاع کرنے کی تربیت بھی لیتا رہا تھا ۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود میرا کبھی کسی کے ساتھ جھگڑا نہیں ہوا تھا۔ بلکہ ہمیشہ مجھے ایک اچھا ساتھی ہی تصور کیا جاتا تھا ۔میری ان سرگرمیوں کے پیچھے میرے دادا جی کی خواہش تھی، جس سے میں بھی لطف اندوز ہوتا تھا ۔ میری یہ دلچسپیاں یونیورسٹی دوستوں سے ہٹ کر تھیں۔ کلاس فیلوز سے چھوٹی موٹی ناراضگیاں، ہلکے پھلکے جھگڑے یا تھوڑا بہت غصہ تو چلتا ہی رہتا تھا ۔ میرا نہیں خیال کہ یونیورسٹی کے ان دو برسوں میں کسی بھی شخص سے میرا کوئی معاملہ اس حد تک بڑھ گیا ہو کہ وہ دشمنی تک جا پہنچا ہو ۔بلکہ وہ میرا بہت خوبصورت دور رہا تھا ۔

کہتے ہیں کہ دشمنی کے لئے تین بنیادیں ہو تی ہیں ، زر ،زن اور زمین ۔ زر کی مجھے کوئی ہوس نہیں تھی ۔ میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ۔میرے اخراجات سے زیادہ زر میرے اکاﺅنٹ میں ہر وقت رہتا تھا ۔ کوئی زن ابھی تک میری زندگی میں نہیں آ ئی تھی جو وجہ تنازعہ بنتی ۔نہ یونیورسٹی جانے سے پہلے اور نہ یونیورسٹی میں ۔ہاں زمین کا معاملہ ایسا تھا جس پر سوچا جا سکتا تھا ۔

میرے بابا دو بھائی تھے ۔ان کا ایک چھوٹا بھائی چوہدری نذیر احمد تھا ۔ جب تک وہ زندہ رہے، انہوں نے اپنے بڑے بھائی کی تابعداری کی ۔ جو فیصلہ بھی بابا کر دیتے وہ اس پر عمل کرتے تھے ۔دونوں میں بڑی محبت تھی ۔ایک دوسرے کا مان رکھتے تھے ۔ دادا نے اپنی زندگی ہی میں اپنی جائداد بڑے احسن انداز میں انہیں بانٹ دی تھی ۔ جس پر دونوں ہی خوش تھے ۔ ایک برس قبل ان کا انتقال ہو گیا تھا ۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ۔بہت پہلے ہی بابا نے انہیں گاﺅں ہی میں ایک الگ حویلی بنا کر دے دی تھی ۔ وہ وہیں رہتے تھے ۔ جس طرح دو خاندانوں میں تعلق ہوتا ہے ویسا ہی چلتا رہا تھا ۔ چاچا نذیر احمد کے انتقال کے بعد نجانے کیوں وہ پہلے والی بات نہیں رہی تھی ۔مجھے کبھی کبھی محسوس ہوتا تھا کہ میرا چاچا زاد اکبر علی ، میرے بابا سے ناراض اور نالاں رہتا ہے ۔چونکہ کسی نے مجھ سے کبھی بات نہیں کی تھی اس لئے میں نے بھی کوئی توجہ نہیں دی تھی ۔ہماری چاچا زاد بہن حلیمہ سب سے بڑی تھیں ، وہ اپنی سسرال میں خوش تھی ۔اکبر اور اصغر کی بھی شادیاں چاچا نذیر کی زندگی ہی میں ہو چکی تھیں ۔ہمارے دونوں خاندانوں میں زمین کا بھی کوئی تنازعہ نہیں تھا ۔ اس لئے وہ میرے خلاف سازش کیوں کریں گے ۔

سوال یہ تھا کہ اگر یہ دونو ں آپشن نہیں تھے تو پھر تیسرا کون تھا جو مجھے پھنسانے کے لئے اس حد تک چلا گیا تھا کہ مجھ پر قتل ڈال کر مجھے قاتل ثابت کر دے ؟ میں چکر اکر رہ گیا تھا ۔مجھے حوالات میں بیٹھے ہوئے دو گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہو گیا تھا ۔میںیہی سوچتے ہوئے پریشان ہو گیا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔ تبھی میرے سامنے ایک ادھیڑ عمر بندے نے مجھ سے پوچھا

” اُو بابو، کس جرم میں آ یا ہے ؟“

” میں نے کوئی جرم نہیں کیا۔کسی نے الزام لگا دیا ہے ۔“میں نے اکتائے ہوئے انداز میں کہا

”تو پھر پریشان کیوں ہو رہا ہے ؟“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” میں تو پر یشان نہیں ہوں ۔“ میں نے تیزی سے کہا

”تیرے چہرے پر بارہ کیا، پندرہ سولہ بج رہے ہیں ۔تم حواس باختہ لگ رہے ہو ۔اتنا سوہنا گھبرو جوان اور یوں چڑی جتنا دل ، میں تو یہی دیکھ رہا ہوں ۔“ اس نے استہزایہ انداز میں کہا تو میںنے پہلی بار اسے غور سے دیکھا۔ وہ مدقوق سا ادھیڑ عمر تھا ۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی ۔پیلی سی آ نکھیں اندر دھنسی ہوئی تھیں اور موٹے لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔تب مجھے بھی احساس ہو اکہ شاید میں ایسا ہی ہو رہا ہوں ۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا

” یار یہ جو اچانک افتاد پڑی ہے میں اس پر سوچ ….“

”افتاد اچانک ہی پڑتی ہے میرا سوہنا ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوا پھر بولا ،”اس کے بعد دو راستے ہوتے ہیں ، ایک تو یہ کہ ظلم سہہ جاﺅ ، برداشت کرویا پھر کسی بھی طرح اس کا مقابلہ کرو ۔اب مجھے نہیں پتہ تم کیا کرو گے ۔“اس نے میری آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا فلسفہ جھاڑا جو مجھے ذرا بھی پسند نہیں آ یا تھا ۔تاہم اس کی پہلی بات ٹھیک تھی ۔اس سے پہلے کہ میں کوئی بات کہتا ، ایک پولیس والا حوالات کا دروازہ کھولنے لگا۔وہ کھول چکا تو اس نے مجھے باہر آ نے کو کہا ۔ میں اٹھ کر باہر چل دیا۔ باہر چند پولیس والے کھڑے تھے ۔ انہوں نے مجھے اپنے نرغے میں لیا اور تھانے کے اندر ہی ایک جانب چل پڑے ۔

وہ مجھے ایک کمرے میں لے گئے ۔جو کافی حد تک نیم تاریک تھا ۔ وہ پولیس والے میرے پیچھے کھڑے تھے ۔جس سے روشنی مزید کم ہو گئی ۔ کمرے کے بالکل درمیان میں ایک میز کے پیچھے کرسی پڑی ہوئی تھی ، جس پر ایک موٹا سا اے ایس آئی بیٹھا ہوا تھا ۔اس نے مجھے سر سے پاﺅں تک دیکھا، پھر اپنی موٹی سی بھدی آ واز مین پوچھا

” کیوں کیا تم نے روشن مسلّی کا قتل ؟“

” میں کیوں کروں گا اس کا قتل ، میں نے تو اسے بچانے ….“ میں نے کہنا چاہا کہ اچانک مجھے اپنے گردن پر زور دار دھماکہ محسوس ہوا ، اس کے ساتھ میری آ نکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے ۔اگر میںنے تر بیت نہ لی ہوتی تو شاید میں اس ضرب سے بے ہو ش ہو چکا ہوتا ۔مجھے سنبھلنے کے لئے چند لمحے لگے تھے ۔ میں نے انتہائی غصے میں گھوم کر دیکھنا چاہا۔ اسی لمحے کئی سارے تھپڑ وں کی بارش ہو گئی ۔ میرے حواس مختل ہوگئے ۔ مجھے کچھ بھی سدھ بدھ نہیں رہی ۔اسی دوران اس موٹے اے ایس آئی نے پوچھا

” اب بولو کہ تم نے قتل کیوں کیا۔“

” یہ کیا بے غیرتی کر رہے ہو تم لوگ ، مجھے بات …. “میںنے شدید غصے میں کہنا چاہنا تھا کہ پھر سے تھپڑوں اور گھونسوں کی بارش شروع ہو گئی ۔میں اسی لمحے سمجھ گیا کہ وہ تفتیش کم اور مجھے ذلیل زیادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے چیخ کر کہا ،”باز آ جاﺅ تم سب ۔“

” قتل کی وجہ بتا دو ، کچھ نہیں کہیں گے ۔“ موٹے اے ایس آئی نے طنزیہ لہجے میں کہاتو میں نے کہا

”راﺅ ظفر کہاں ہے ، اسے بلاﺅ ۔“

” وہ اب نہیں آ نے والا، اس کا کام ختم ہو گیا ہے۔“ وہ سکون سے بولا

” کیا مطلب ؟“ میں نے حیرت سے پوچھا تو بجائے جواب دینے کے پھر سے وہی تھپڑ اورگھونسے پڑنے لگے ۔ میرے دماغ کی نسیں پھٹنے لگی تھیں ۔مجھے دکھ ہونے کے ساتھ اپنی بے بسی کا بھی احساس ہو رہا تھا ۔میرا سر ، گردن اور چہرہ تکلیف ، درد اور جلن سے جلنے لگا تھا ۔ کچھ دیر بعد وہ رک گئے ۔میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا چاہ رہے ہیں ۔

” دیکھو اگر قتل کا اقرار نہیں کرو گے تو ہمارے پاس تشدد کے بڑے طریقے ہیں ، ابھی تمہیں” منجی“ لگا سکتے ہیں ، رول بھی پھیر سکتے ہیں ، اسی لئے بہتری اسی میں ہے کہ مان جاﺅ ۔“ وہ موٹا اے ایس آئی مان ہی نہیں رہا تھا ۔ اس کے سینے پر اس کے نام کی تختی لگی ہوئی تھی ، جس پر اس کا نام اسلم لکھا ہوا تھا ۔ میں نے اسی لمحے کوئی بھی جواب نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ۔ وہ چند لمحے مجھے دیکھتا رہا ، پھر دھاڑتے ہوئے بولا ،” لگتا ہے تم یو ں نہیں مانو گے ۔“

” سر جی پھر لگا دیں منجی ؟“ایک ماتحت نے پوچھا

” اس کے ساتھ یہ سارا کچھ ہی کرنا پڑے گا ۔ بس مجھے ریمانڈ لے آ نے دے اس کا ۔“ موٹے اسلم نے حقارت سے کہا پھر لمحہ بھر سوچ کر بولا ،” لے جاﺅ اسے اور ڈال دو حوالات میں ، ریمانڈ کے بعدتو یہ طوطے کی طرح بولے گا ۔“

جیسے ہی اس نے کہا، دو ماتحتوں نے انتہائی حقارت سے مجھے دھکے دینے شروع کر دئیے ۔میں گرتے گرتے بچا تھا ۔ اس دوران ایک نے میری گدّی پر ہاتھ مارا۔ میری آ نکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے ۔یہ وہ لمحات تھے جب میرا دل چاہا کہ بعد میں جو ہوگا دیکھا جائے گا ، پہلے انہیں تو سبق سکھا دوں ۔لیکن اگلے ہی لمحے نجانے کیسے میرے تپے ہوئے دماغ میں یہ بات آ گئی کہ وہ تو چاہتے ہی یہی ہیں ۔میں بھڑک کر ان کے گلے پڑوں تو بات کا بتنگڑ بنا دیں ۔ میں نے بڑی مشکل سے خود پر قابو پایا ۔ میرا دماغ بہت تپ گیا تھا ۔ اگر وہ تھوڑی دیر مزید یونہی ہتک آمیز رویہ رکھتے تو شاید میں خود پر قابو نہ رکھ سکتا ۔مجھے کمرے سے باہر لا کر دوبارہ حوالات میں ڈال دیا گیا ۔ میں وہاں دیوار کے ساتھ جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اسی ادھیڑ عمر شخص نے بہت غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا

”لگتا ہے وہ تجھے ذلیل کرنا کرنا چاہتے ہیں ۔“

اس کی اس بات نے اگرچہ جلتی پر تیل ڈالا تھا ، ایک دم سے میرا دماغ بھک سے اُڑ گیا ۔ شدید غصے کی لہر سے میں اپنے اعصاب پر قابو چھوڑ دیتا لیکن میں یہ بھی سمجھ رہا تھا کہ وہ سچ کہہ رہا ہے ۔ اس کا جو اندازہ تھا، اس کی داد دینا چاہئے تھی ۔اس لئے میںنے پوچھا

” یہ تمہیں کیسے پتہ چلا ؟“

” تجربہ …. یہ میرا تجربہ ہے جوان ۔یہ پولیس ، حوالات ، عدالتیں ، کچہریاں ، جیل یہ سب دیکھی بھالی ہیں ۔ یہاں جو کچھ ہوتا ہے ، یہ سب پتہ ہے ۔ یہ جو قانون کا شکنجہ ڈالا جاتاہے نا ، یہ بڑا ظالم ہوتا ہے ۔“

” مطلب اب تم خود کو مظلوم ثابت کرو گے ؟“ میں نے طنزیہ پوچھا

” نہیں ، میں مظلوم نہیں ہوں مگر ظالم بھی نہیں ، حالات مجھے یہاں تک لے آ ئیں ہیں ۔ مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں ۔خیر تم ایک بات یاد رکھنا ، خود پر قابو رکھنا۔یہ جو قانون کا شکنجہ ہے نا ، اسے توڑنا بہت مشکل ہے ۔“ اس نے یوں کہا جیسے خودکلامی کر رہا ہو۔میں اس کی بات پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا تھا ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کس بنیاد پر یہ سب کہہ رہا تھا ۔ میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا تھا ۔ دوسرے لوگ ہماری باتوں سے بے نیاز لیٹے ہوئے تھے ۔ جیسے انہیں ہم سے کوئی غرض نہ ہو ۔وہ ادھیڑ عمر بھانپ گیا تھا کہ میں اب اس سے بات نہیں کرنا چاہتا ، سو وہ بھی منہ پھیر کر لیٹ گیا ۔

مجھے حوالات میں آ ئے چار پانچ گھنٹے ہوئے گئے تھے ۔ لیکن ابھی تک بابا یا ان کی طرف سے کوئی بندہ تھانے نہیں آ یا تھا ۔مجھے اس پر تھوڑی تشویش بھی ہونے لگی تھی ۔ معاملہ اگر سمجھ میں آ جا تا تو اس کا حل نکالا جا سکتا تھا لیکن ایک بات ہی سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی ، اس کے بارے میں کیا کہا جاسکتا تھا ۔میری الجھن مزید بڑھنے لگی تھی ۔

شام ہونے کے بعد حوالات کی سلاخوں کے پار مجھے اپنے گھریلو ملازم اللہ بخش کا چہرہ دکھائی دیا ۔اس کے ہاتھ میں ٹفن اور کمبل پکڑا ہوا تھا ۔ میں اٹھ کر اس کے پاس گیا ۔اس نے سلام کرتے ہی کہا

” میاں صاحب بڑے پریشان ہیں ۔ انہوں نے آپ کے لئے یہی پیغام دیا ہے کہ بہت صبر اور تحمل سے یہ وقت گزارنا ہے ۔دشمنوں نے بڑا کاری وار کیا ہے ۔“

” وہ دشمن کون ہے ؟“ میں نے دانت پیستے ہوئے تیزی سے پوچھا تو وہ بے چارہ دبے ہوئے لہجے میں بولا

”ابھی سارے اندازے ہیں ۔میاں صاحب کے پاس حویلی میں بہت سارے لوگ پہنچ گئے ہیں ۔سبھی کوشش کر رہے ہیں ۔ بہت سارے لوگوں سے رابطہ بھی ہو گیا ہے ۔سبھی کا خیال ہے کہ یہ سیاسی دشمنی ہے ۔“

” سیاسی دشمنی ، تو ظاہر ہے یہ ….“ میں نے کہا تو اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا

” معاملہ اس سے بھی آ گے کا ہے ۔وکیل سے بات ہو گئی ہے ۔ وہ سب مل کر کوشش کر رہے ہیں ۔آپ یہ کھانا کھا لیں اور میاں صاحب کی بات کو اچھی سمجھ لیں ۔“

” میں سمجھ گیا ۔ بابا سے کہنا کہ آپ پریشان نہ ہوں ۔ “ میں نے اسے تسلی دی تو وہ سر ہلانے لگا ۔اتنے میں ایک پولیس والے نے حوالات کا دروازہ کھولا اور ٹفن مجھے دے دیا ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے پانی کی دو بوتلیں بھی دے دیں ۔اس نے ساتھ لایا ہوا کمبل بھی دے دیا۔ ظاہر ہے اب مجھے یہ رات یہاں گزارنی تھی ۔

اللہ بخش واپس چلا گیا تو میںنے ٹفن کھولا ، میرے سامنے وہ ادھیڑ عمر لیٹا ہوا تھا میںنے اسے کھانے کی دعوت دی ۔ وہ بنا ہاتھ دھوئے میرے سامنے آبیٹھا۔میں نے پہلا لقمہ منہ میں ڈالا تو دل بھر آیا ۔ میں اپنی ماں کے ہاتھ کا ذائقہ کیسے بھول سکتا تھا ۔پتہ نہیں ان کا کیا حال ہوگا ۔

” اوئے کھا کھانا ، اتنا نہیں سوچتے۔رزق سامنے ہو تو اس کی قدر کرتے ہیں بعد میں سوچ لینا ۔“ اس ادھیڑ عمر نے کہا تو میں کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا ۔

رات کا اندھیرا ہر جانب پھیل چکا تھا مگر کوئی وکیل ابھی تک مجھے ملنے نہیں آ یا تھا ۔ اس کے علاوہ نہ کوئی شہر سے مجھے ملنے آیا تھا اور نہ کوئی گاﺅں سے ۔ لیکن مجھے اب تشویش نہیں تھی ۔ مجھ تک بابا کا پیغام پہنچ گیا تھا ۔یہ تو ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہوں ۔ ان کا ہر لمحہ اسی کوشش میں ہوگا کہ میں جلد از جلد اس مشکل سے نکل آ ﺅں ۔پر یشانی والی بات یہ تھی کہ ایسا ہو کیوں رہا تھا اور اب تک یہ معاملہ حل کیوں نہیں ہو پارہا تھا ۔

میں کمبل لے کر دیوار کے ساتھ لیٹ گیا تھا ۔آدھا کمبل میں نے نیچے بچھایا اور آ دھا اوپر لے لیا ۔مجھے نیند تو نہیں آ رہی تھی۔ یہ دکھ تو بہت پیچھے رہ گیا تھا کہ مجھ پر قتل کیوں ڈالا جا رہا ہے ، مجھے اپنی بے عزتی اور ہتک پر بہت غصہ آ رہا تھا ۔میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ اٹھوں اور ان سب کو چیر پھاڑ کر رکھ دوں ۔ لیکن میں صرف سوچ ہی سکا تھا ، عملی طور پر کچھ نہیں کر سکا ۔میں سونے کی کوشش میں تھا مگر نیند نہیں آ رہی تھی ۔ میرا دماغ ہتک کے احساس سے شل ہو چکا تھا ۔اسی کیفیت میںنجانے کتنا وقت گزرا تھا ۔ایسے میںحوالات کا گیٹ چرچرایا ، اس کے ساتھ ہی کسی نے پکا را

” اُو علی احسن اٹھ ۔“

میں نے کمبل منہ سے ہٹایا تو حوالات کے باہر ایک پولیس والا کھڑا میری طرف دیکھ رہا تھا ۔میں نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا

” ہاں کیا بات ہے ؟“

” اٹھ کر باہر آ، صاحب بلا رہے ہیں ۔“ اس نے حقارت آ میز لہجے میں کہاتو مجھے لگا یہ بلاوا کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔بہر حال مجھے جانا تھا ۔ میں نے کمبل ایک طرف ہٹایا اور اٹھ کر حوالات سے باہر آ گیا ۔

میں پھر سے اسی کمرے میں تھا ۔ اسی طرح کئی پولیس والے وہاں موجود تھے ۔سامنے کرسی پر وہی موٹا اسلم اے ایس آ ئی موجود تھا ۔اس بار اگر تھوڑی تبدیلی تھی تو صرف یہ کہ ایک کرسی مزید رکھی ہوئی تھی ۔ مجھے اس پر بیٹھ جانے کا اشارہ کیا ۔میں بیٹھا ہی تھا کہ ایک میلا سا پیالہ میرے سامنے رکھ دیا ۔

” یہ دودھ جلیبیاں تیرے لئے ہیں ، سردی زیادہ ہے نا ، پی لو ۔“ اسلم اے ایس آ ئی نے طنزیہ لہجے میں کہا

” مجھے نہیں پینا ۔“ میں نے انکار کرتے ہوئے کہا

” پی لو یار ، ابھی تجھے کافی ٹھنڈ میں رہنا ہے ، تمہارا جسم گرم رہے گا ۔“ اس نے کہا اور قہقہ لگا کر ہنس دیا ۔تبھی میں نے سنجیدگی سے کہا

”دیکھو اسلم ، میں نہیں جانتا کہ تم یہ سب کیوں کر رہے ہو ، لیکن جو بھی کر رہے ہو ، بہت غلط کر رہے ہو ۔“

” تم بھی سنو ، تمہیں ذلیل کرنے کے ، تم پر ہر طرح کا تشدد کرنے کے مجھے نوٹ ملے ہیں ۔کافی سارے نوٹ ۔جتنی میری ایک برس کی تنخواہ بھی نہیں ہوگی ۔اسی لئے مجھے اس قتل کیس کا تفتیشی بھی لگایا گیا ہے ۔میں نے کل اس کیس کی مسل جج صاحب کو پیش کر نی ہے کہ سو فیصد قاتل تم ہی ہو ۔“

” کس نے دی ہے تمہیں یہ رشوت ؟“ میں نے سختی سے پوچھا

”انہوںنے جن کا تم نے قتل کیا ہے ۔“ اس نے حقارت سے کہا پھر لمحہ بھر ٹھہر کر بولا،” تمہارا باپ یوں تو بڑا امیر بنتا ہے ، لیکن اپنے بیٹے کے لئے ایک دھیلا بھی نہیں خرچ نہیں کر رہا ۔اوپر تک لوگوں سے رابطے کر رہا ہے ۔ کیا اسے نہیں پتہ پانی انہی پلوں کے نیچے سے گزرنا ہے ۔ وہ ایم پی اے ، جسے تیرے باپ نے اس بار جتوایا ، اس نے کیا کیا ہے ، تھانے کا رخ نہیں کیا اس نے ۔ تیرا باپ کروا لے سفارش جتنی کروانی ہے ۔میں دیکھتا ہوں کیا کر لیتا ہے وہ سالا۔“ اس نے اپنی رو میں میرے باپ کو گالی دے دی تھی ۔ مجھے سے برداشت نہیں ہو سکا۔ میںنے سامنے دھرا پیالہ اٹھایا اور اس کے منہ پر مار دیا ۔شاید وہ میرے اس رد عمل کی توقع نہیں کر رہا تھا ۔ وہ اپنا منہ صاف کر کے پیچھے ہٹا اور ہنستے ہوئے بولا

” یہ ہو ئی نا بات ۔“ یہ کہہ کر اس نے اپنے ماتحتوں سے کہا ،” لو بھئی میںکپڑے تبدیل کر آ ﺅں ، تم ذرا اسے باہر ٹھنڈ میں کھڑا کر کے گرم کرو ۔“

 یہ کہتے ہی وہ باہر نکل گیا ۔ تبھی وہ سارے مجھ پر پل پڑے ۔مجھے یہ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کون میرے تھپڑ مار رہا ہے ، کون مکے رسید کر رہا ہے ، کون دھکے دے رہا ہے ۔ تھوڑی دیر بعد میں بے بس ہو گیا ۔انہوں نے مجھے ٹھنڈے فرش پر لٹا لیا۔ پہلے میری جرسی اتاری ، پھر میری قمیص اتارنے لگے ، آخر میں میری پتلون بھی اتار دی ۔ میرے بدن پر ایک انڈر وئیر اور بنیان رہ گئی ۔میرے پیروں سے جرابوں سمیت جوتے بھی اتار لئے تھے۔ انہوں نے مجھے فرش سے اٹھا کر باہر کی جانب دھکیلا اور باہر کھلے میں لے گئے ۔

” یہیں کھڑا رہ ۔“ ان میں سے ایک نے کہا ۔ اتنی دیر میںایک پولیس والے نے پانی کا بھرا ہوا جگ مجھ پر انڈیل دیا ۔سردی کی لہر یوں میرے بدن میں پھیلی جیسے کوئی مجھے چھری سے کاٹ رہا ہو ۔ میں کپکپا کر رہ گیا ۔ چند منٹ بعد ہی میرے اعصاب اینٹھنا شروع ہو گئے ۔میں خود پر جتنا قابو پاتا ، میرا بدن اتنا ہی بے قابو ہو رہا تھا ، مجھے لگا جیسے میں چند منٹ مزید یونہی رہا تو میں اپنے حواس کھو بیٹھوں گا ۔

میں باہر کھلے میں کھڑا تھا ۔ وہ پولیس والے اندر کمرے میں بیٹھے تھے ۔ ان کے سامنے ہیٹر دھرا ہوا تھا ۔ان سب کی نگاہیں مجھ پر تھیں اور میں دھیرے دھیرے توانائی کھو رہا تھا ۔میں اپنے آ پ سے لڑ رہا تھا لیکن وہ پولیس والے جو میرے بارے میں غلیظ زبان استعمال کر رہے تھے وہ میری برداشت سے باہر ہو رہی تھی ۔گالی تو جیسے معمولی بات تھی ، وہ نجانے کیسی کیسی باتیں کرتے چلے جا رہے تھے ۔میں دوہری اذیت سے دو چار تھا ۔میں اندر سے تپ رہا تھا ۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ بعد میں جومرضی ہو جائے ، ان سب کو تو ٹھکانے لگا دوں ۔میں سوچ رہا تھا ، کڑھ رہا تھا اور خود پر قابو پا رہا تھا ۔مگر میں کر کچھ نہیں پا رہا تھا ۔تقریباً ایک گھنٹہ میں ایسے ہی کھڑا رہا تھا ۔تبھی ایک پولیس والا اٹھا اور اس نے مجھ پر مزید پانی پھینک دیا ۔ یہ تھوڑا سا پانی مجھے یوں لگا جیسے کسی نے برف کی سل سے مجھے مارا ہو ۔ اس قدر اذیت ہوئی کہ میرا بدن سُن ہو گیا ۔ مجھے احساس ہونے ہوا جیسے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو رہی ہے۔شاید میرے اندر برداشت تھی جو ابھی تک یوں کھڑا تھا ۔ورنہ میرا بدن برف ہو رہا تھا ۔کچھ دیر تک وہ مجھے دیکھتے رہے ۔میں نے کچھ ماتحتوں کی آ نکھوں میں حیرت بھی دیکھی تھی ۔شاید انہیں یقین نہیں تھا کہ میں اتنا سخت جاں بھی ہو سکتا ہوں ۔تھوڑی دیر مزید گزری تھی کہ ایک اٹھا اور اس نے پھر سے پانی سے بھرا ہو ا جگ مجھ پر انڈیل دیا۔میری قوت مدافعت جواب دینے لگی ۔میں خود کو سنبھالنے کی بہت کوشش لیکن کچھ ہی دیر بعد میں اپنے حواس کھو بیٹھا ۔میری آ نکھوں کے سامنے اندھیر چھا گیا۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا میں کب فرش پر گر گیا ۔

میری آ نکھ کھلی تو میں حوالات میں پڑا ہوا تھا ۔میرے اوپر کمبل تھا ۔میرا بدن اسی طرح اکڑا ہوا کانپ رہا تھا ۔ میری حالت بری ہو رہی تھی ۔میں نے پہلو بدلنا چاہا تومجھے آ واز سنائی دی ۔

” شکر ہے تم ہو ش میں آ ئے ۔“

میں آ واز پہچان گیا تھا ۔ یہ وہی مدقوق ادھیڑ عمر تھا ۔ میرے منہ سے کمبل ہٹایا تو مجھے اس کا چہرہ مجھے دکھائی دیا ۔

” میں ٹھیک ہوں ۔“ میں نے کہا تو میری آ واز لرز رہی تھی ۔

”اللہ کرے تم ٹھیک رہو ۔تمہاری کانپتی ہوئی آ واز مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ۔ خیر اس وقت میں کچھ اور تو نہیں کر سکتا، ایک گولی دے سکتا ہوں ۔ یہ لو ۔“ اس نے جیب سے پین کلر گولیاں نکال کر کہا۔ میں نے اس کی ہتھیلی پر سے وہ ٹیبلٹ لیں اور پانی کی جانب ہاتھ بڑھایا ۔ تب مجھے پتہ چلا کہ میرا بدن اکڑ گیا ہے ۔ درد کی شدید لہر اٹھی تھی ۔ بہت مشکل سے میں نے پانی لیا اور دو گولیاں پھانک گیا ۔میں پھر سے لیٹ گیا تو میری آ نکھ لگ گئی ۔

دوبارہ جب آ نکھ کھلی تو مجھ معمولی سا پسینہ آ یا ہوا تھا ۔ شاید یہ ان پین کلر کا نتیجہ تھا ۔ میں نے دل ہی دل میں اس ادھیڑ عمر کا شکریہ ادا کیا ۔مگر میرے اندر دھیمی دھیمی آ گ سلگنے لگی تھی ۔ اسلم اے ایس آ ئی نے اچھا نہیں کیا تھا اور نہ ہی اس سے کچھ اچھا کی توقع تھی ۔اس کا خیال آتے ہی میرا دماغ سلگنے لگا تھا ۔مجھے اپنی جسمانی اذیت کا اتنا دکھ نہیں تھا ، جتنا ذہنی اذیت مجھے پاگل کر رہی تھی ۔یہ ایسی اذیت تھی جس نے میری سوچوں کو توڑ کر رکھ دیا تھا ۔

 ”لو بھئی جوان، یہ چائے پیو ۔“ ادھیڑعمر نے چائے کا ایک مگ میری جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔ عام حالات میں ایسا کپ میں دیکھنا بھی گورا نہ کرتا ، لیکن اس وقت چائے کی شدت سے طلب ہو رہی تھی ۔ میں نے وہ کپ پکڑتے ہوئے پوچھا

” اتنی صبح صبح یہ چائے کہاں سے آ گئی ؟“

”باہر ہوٹل سے ایک چھوٹا آ تا ہے ، وہ دے جاتا ہے ۔“اس نے سکون سے کہتے ہوئے زور سے چسکی لی ۔میں نے بھی سپ لیا تو مجھے یوں لگا جیسے جوشاندہ حلق میں اتار لیا ہو ۔ اس وقت وہ جوشاندہ بھی غنیمت تھا ۔ میں نے چند گھونٹ میں کپ ختم کرلیا ۔میں کمبل میں لپٹا رہنا چاہتا تھا ۔ سخت سردی کی اذیت نے میرا دماغ ماﺅف کر دیا ہوا تھا ۔ میرا ناک بند ہو رہا تھا اور مجھے لگ رہا تھا جیسے بخار ہو جائے گا ۔ شاید میرے اندر کی قوت مدافعت مجھے بچائے ہوئے تھی ۔میں یہی سوچوں میں تھا کہ حوالات کے دروازے پر فہیم انکل نموادر ہوئے ۔ ان کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی، جو اُن کی شخصیت کا ایک حصہ تھی ۔ وہ ہمیشہ ایسے ہی دکھائی دیتے تھے ۔میں نے اٹھنا چاہا تو درد کی لہریں بدن میں پھیل گئیں ۔میںبڑی مشکل سے اٹھا اور ان کے پاس پہنچ گیا ۔ وہ مجھے بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔ علیک سلیک کے بعد انہوں نے کہا

” علی بیٹا، ایک گھنٹہ پہلے تک ہم نے بھر پور کوشش کی لیکن معاملہ حل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ۔وہ پھتّو مسلّی اور اس کے گھر والے ہی غائب ہیں ، اس کے ساتھ فیروز کا بھی پتہ نہیں۔ انہوں نے ایف آ ئی آ ر درج کروائی ہے ۔اب بات کس سے کریں ۔کوئی بات کرنے والا ہی نہیں ہے ۔“

”یہ پولیس والے بھی اس بات کو نہیں سمجھ رہے ؟“ میں نے پوچھاتو وہ چند لمحے سوچتے رہے پھر افسردہ سے لہجے میں بولے

” دیکھو علی بیٹا، تمہیں بڑے طریقے سے ، بہت سوچ سمجھ کر اور بڑے پلان کے ساتھ پھنسایا گیا ہے ۔یہ بات میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں رات سے حویلی ہی میں تھا ، ابھی یہاں پہنچا ہوں۔ بہت سارے رابطے ہوئے ہیں ۔اوپرتک بہت سارے لوگوں سے بات ہوئی ہے ۔اس سے معاملہ تو حل نہیں ہوا لیکن یہ بات بہرحال سامنے آ گئی ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جو تمہیں ان حالات میں لے آ ئی ہے ۔یہ کنفرم ہے کہ سازش ہوئی لیکن کن لوگوں نے کی، کون لوگ اس میں شامل ہیں ، اس کا پتہ لگانا ہے ۔“

” انکل اگر یہ سیاسی معاملہ ہے تو ….“ میں کہتے کہتے رک گیا

” بالکل ایسا ممکن ہے ۔ سیاسی مخالفین بھی ایسا کر سکتے ہیں لیکن اس قدر منظم انداز میں سازش کرنے والا عقل سوچ تو رکھتاہے نا ۔“انہوںنے سمجھانے والے انداز میں کہاپھر سانس لے کر بولے ،” یہ بھی ضروری نہیں کہ کوئی سیاسی مخالف ہو ، تم کون سیاست میں ہو ۔“

” وہ ایم پی اے چوہدری سردار وہ بھی کوئی مدد نہیں کر رہا ؟“ میںنے کسی خیال کے تحت انکل فہیم سے پوچھا

”تمہیں تو پتہ ہے وہ اس بار اپوزیشن میں ہے ، تھانے میں کیا اس کی کہیں بھی نہیں چلتی ۔اس کی مدد لی تو ممکن ہے یہ معاملہ سیاسی ہو جائے ۔ اسی لئے یہاں مقامی طور پرکسی کو کہا نہیں ۔کہیں یہ معاملہ سیاسی مخالفین کے ہتھے نہ چڑھ جائے اور معاملہ کچھ کا کچھ ہو جائے ۔“انہوں نے بے بسی سے کہا

” تو پھر یہ معاملہ کیسے حل ہوگا ؟“ میںنے پوچھا

” ظاہر ہے جب تک مدعی پارٹی سامنے نہیں آ جاتی ، ان سے بات نہیں ہوتی ، پولیس بھی قانونی طور پر کچھ نہیں کر سکتی ۔“ انہوں نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا

” اب کیا ہوگا ؟“ میںنے پوچھا

”دیکھو ، یہ رات تم نے یہاں حوالات میں گزار لی ۔انہوں نے تمہاری گرفتاری ڈال دی ہے ۔ اب وہ تمہیں جج صاحب کے سامنے پیش کر کے ریمانڈ لینے کی کوشش کریں گے ، اگر صورت حال یہی رہی تو وہ ریمانڈ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔“ یہی کہتے ہوئے وہ پھر سے افسردہ ہوگئے۔

” یہ ایسی بے بسی کیوں ہے ؟“میں نے اکتاتے ہوئے پوچھا

 ” اصل میں یہ ایک قانونی پر اسس ہے ۔ مدعی مل جائیں تو یہاں بیٹھ کر کچھ بھی طے ہو جائے ۔اب تمہیں جج صاحب کے سامنے پیش کرنا ہوگا ۔ وہیں پر ان مدعی لوگوں سے ملاقات ہو گی ۔اب تو ریمانڈ ہی ہوگا ۔“انہیں نے افسردگی سے کہا

” اس طرح تو میری ضمانت ….“ میں نے پوچھنا چاہا

”ریمانڈ ختم ہونے کے بعد ہو گی ضمانت۔کیونکہ جج نے تو وہی دیکھنا ہے نا جو پولیس نے پیش کیا ہوگا۔“انکل فہیم نے سمجھاتے ہوئے کہا

” سرکار میں ایک بات کہوں اگر اجازت ہو تو ؟“ میرے ساتھ وہی ادھیڑ عمر حوالاتی نے اونچی آواز میں کہا تو انکل فہیم نے اس کی طرف دیکھا ، پھر اشارے سے اسے پاس بلا یا ۔ وہ اٹھ کر سلاخوں کے پاس آ گیا۔

” بولو کیا کہنا چاہتے ہو ؟“ انہوں نے پوچھا

”آپ وکیل ہیں ، ریمانڈ کی دو صورتیں ہی ہیں ، جسمانی ریمانڈ اور جو ڈیشل ریمانڈ، ایسا ہی ہے نا ۔ “اس نے دھیمے لہجے میں پوچھا تو انکل فہیم نے سوچتے ہوئے کہا

” ہاں ایسا ہی ہے ۔لیکن میرا نہیں خیال کہ اب وہ جسمانی ریمانڈ لے سکیں گے کیونکہ جو صورت حال ہے اس میں جو ڈیشل ہی ہوگا ۔“

”میرے خیال میں وہ اس نوجوان کو ہر حال میں ریمانڈ لینے کے بعد جیل بھیجنا چاہتے ہیں ۔جیسا کہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے ۔“ اس ادھیڑ عمر نے کہا تو انکل فہیم اس کی طرف غور سے دیکھنے لگے پھر سرسراتی ہوئی آ واز میں پوچھا

” مطلب تم کہنا کیا چاہتے ہو ؟“

”آپ یہ کیوں نہیں سوچ رہے ہو کہ وہ اس نوجوان کو جیل ہی بھجوانا چاہتے ہیں ؟ سوال یہ ہے کہ جیل میں ہی کیوں بھیجنا چاہتے ہیں ؟“

” ہاں یہ بات سوچنے کی ہے ۔“ انکل نے سر ہلاتے ہوئے کہا وہ اس ادھیڑ عمر کی بات کو پوری طرح سمجھ گئے تھے

” جس طرح شکار کو گھیر کر اپنے پسند کے میدان میں لایا جاتا ہے نا ، وہ اسے بھی اپنے پسند کے میدان میں لے جانا چاہتے ہیں ۔“ ادھیڑ عمر نے بتایا تو انکل فہیم نے تشویش سے پوچھا

” یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو ؟“

” کیونکہ جو رات گزر گئی ہے اور کل شام اس کے ساتھ جو ہوااسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو اس کے ساتھ ہوگا ، و ہ….“ وہ کہہ رہا تھا کہ انکل فہیم ایک دم سے بے قرار ہو گئے ۔ انہوںنے انتہائی تشویش سے پوچھا

” کیا انہوںنے تشدد کیا ہے تم پر ؟“

”میں اسے جسمانی تشدد کم اور ذہنی تشدد زیادہ کہوں گا ۔“ میںنے انتہائی غصے میں ان کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا تو ان کا رنگ بدل گیا ۔ وہ ایک لمحہ کو ساکت ہو گئے ۔پھر دھیمے سے بولے

” وہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کہا بلکہ …. خیر تم فکر مت کرو ، میں کرتا ہوں کچھ ۔“ وہ غصے میں آ گئے تھے ۔ وہ چند لمحے وہاں کھڑے رہے پھر مزید کوئی بات کئے بنا وہاں سے ہٹ گئے ۔میں نے انہیں ایک دم سے بہت ہی پریشان ہوتے دیکھا تھا ۔

٭….٭….٭

اس وقت د وپہر ہو رہی تھی ، جب مجھے پولیس وین سے اتار کر عدالت کی طرف لے جایا گیا تھا ۔ عدالت کے باہر ہی بابا کھڑے تھے ۔ان کے ساتھ گاﺅں کے لوگ بھی تھے ۔ بالکل سامنے انکل فہیم کھڑے تھے ۔ انہوں نے ہی میری وکالت کرنا تھی ۔میںنے بابا کے چہرے پر دیکھا، وہ بہت زیادہ افسردہ دکھائی دے رہے تھے ۔شاید ان کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو یوں ہتھکڑیوں میں دیکھیں گے ۔میرے ساتھ اسلم اے ایس آ ئی تھا۔میں بابا کے پاس جا کر رک گیا ۔وہ میری طرف دیکھ کرلرزتی ہوئی آ واز میں بولے

” علی ، میں نے رات بہت کوشش کی تھی کہ ….“

” بابا ، کوئی بات نہیں یہ بھی ایک تجربہ سہی ، مجھے پتہ ہے کہ میں بے گنا ہ ہوں ۔ابھی انکل ضمانت کروا لیں گے ۔“ میںنے انہیں تسلی دی جس پر ان کے چہرے پر ذرا سی بھی بشاشت نہیں آ ئی ۔ وہ دھیمی آ واز میں بولے

” نہیں بیٹا ذہنی طور پر تیار رہو ، اندر فیصلہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔“

”میں سمجھتا ہوں بابا۔“ یہ کہہ کر میں نے بابا کی آنکھوں میں دیکھا، پھر نرمی سے بولا،” ایک بات کہوں بابا ؟“

” ہاں بولو ۔“وہ افسردگی سے بولے

” آ پ میرا حوصلہ ہو ۔آپ مجھے یہ یقین دلا دیں کہ آ پ کو کچھ نہیں ہوگا ، باقی میں سب دیکھ لوں گا ۔“میں نے بھر پور لہجے میں کہا تو ان کی آ نکھیں چمک اٹھیں ۔ اس بار وہ تھوڑا سا مسکرائے ، پھر بولے

” مجھے خوشی ہوئی بیٹا ، مجھے ایسا ہی با ہمت بیٹا چاہئے ۔اب مجھے کچھ نہیں ہو نے والا۔“

” اپنا خیال رکھئے گا بابا ۔“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا اور عدالت کی طرف چل دیا ۔میں نے دیکھا عدالت کے اندر ایک طرف پھتّو مسلّی اور فیروز کھڑے تھے ۔ پھتّو مسلی مدعی تھا اور فیروز اس کا چشم دید گواہ ۔عدالتی کاروائی میں پولیس کو میرے بارے میں چودہ دن کا جو ڈیشل ریمانڈ مل گیا ۔ یہ بھی ایک طرح سے اچھا ہوا تھا ،ورنہ چودہ دن کا جسمانی ریمانڈ اگر دے دیا جاتا تو میرے ساتھ کیا ہوتا ؟وہ تشدد کرکے میرا جسم ادھیڑ دیتے ۔

مجھے اپنے شہر سے سو کلومیٹر دور بہاول پور کی جیل جانا تھا ۔عدالت سے باہر آ کر میں بابا سے ملا ، انہیں حوصلہ دیا ۔ جب تک مجھے پولیس گاڑی میں بٹھایا گیا ، اس وقت تک مجھے کچھ میڈیسن لا کر دے دی گئی ۔شام ہو نے سے کچھ دیر پہلے میں جیل پہنچ گیا ۔ضروری کاروائی مکمل کرنے کے بعد جب مجھے بیرک میں لے جایا گیا تو شام ہو چکی تھی ۔ اس وقت مجھے ہلکا ہلکا بخار ہو رہا تھا ۔ میں نے راستے میں ایک بار میڈیسن لے لیں تھیں ۔اب سکون سے کہیں بیٹھ کر مزید میڈیسن لیناتھی تاکہ ٹوٹتے ہوئے بدن کو سکون پہنچے ۔

مجھے بیرک میں دھکیل کر سلاخوں والا گیٹ بند کر کے مقفل کر دیا گیا۔ میںنے لاشعوری طور پربیرک میں موجود ہر بندے کو دیکھا۔ وہاں بیس سے پچیس بندے ضرور تھے ۔ سبھی میری طرف یوں دیکھ رہے تھے جیسے میں کوئی دوسری دنیا سے آیا ہوں۔مجھے وہاں کھڑے ابھی چند لمحے ہی ہوئے تھے کہ ایک طرف سے اونچی آ واز میں کہا گیا

” یار بڑا سوہنا منڈا اے بھئی ۔“

” اُو ئے یہ تو اس جیسا ہے جسے ہم قیدیوں کی انٹر ٹیمنٹ کہتے تھے ۔“ دوسرے کونے سے ہتک آ میزآ واز آ ئی ۔

” اُوئے آ ، میرے کھڈے پر آ ، جی خوش کر دے میرا ۔“ تیسرے کونے سے آ واز آ ئی تو ایک دم سے قہقہ بلند ہو گیا ۔میں سمجھ رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے ۔ ان کی انہی باتوں سے انداز ہو رہا تھا کہ وہ کس قماش کے لوگ تھے ۔میں نے ہر طرف دیکھا ، کہیں خالی جگہ مل جائے اور وہاں جا کر بیٹھ جاﺅ ں۔ ایک طرف تھوڑی خالی جگہ تھی ۔ میں اس جانب بڑھا ہی تھا کہ ایک بندے نے اپنا پاﺅں آ گے کر دیا ۔ میں گرتے گرتے بچا ۔ میںنے اس طرف توجہ نہیں دی ، بلکہ اس کونے کی طرف چلا گیا ۔ جیسے ہی میں بیٹھنے لگا تو ایک بندے نے زور دار آ واز میں کہا

”اُوئے ادھر نہیں بیٹھنا ۔“

” یار جگہ خالی ہے ۔ بیٹھ جانے …. “ میں نے کہناچاہاتھا کہ وہ بولا

” ہر کھڈے کی قیمت ہو تی ہے جانی ، نوٹ لگا اور بیٹھ جا ۔“

” اس وقت تو میرے پاس نہیں ہیں ، دو چار دن میں بندوبست ہو جائے گا تو دے دوں گا ۔“ میں نے سنجیدگی سے کہا تو وہ ہنستے ہوئے بولا

” تو دو چار دن بعد بیٹھ جانا ۔تب تک یونہی کھڑا رہ ۔“

” اُوئے ادھر آ مجھے چُمّے دے ، میرے پاس آ کر بیٹھ جا ۔“ایک طرف سے حریصانہ آواز ابھری تو ہر جانب قہقہ لگ گیا ۔ میرا دماغ بھناّ کر رہ گیا ۔ یہ اس نے کس قسم کی واہیات بات کی تھی ۔میںنے خود پر قابو رکھا اور اس کونے کی جانب بڑھ گیا جو اس وقت خالی تھا ۔جیسے ہی میں بیٹھنے لگا ، وہ بندہ اسپرنگ کی مانند اچھلا اور مجھے ایک جانب دھکا دے دیا ۔پھر ایک غلیظ گالی دیتے ہوئے بولا

” تجھے میری بات سمجھ میں نہیں آ ئی ۔“

” کہا نا دےدوں گا پیسے ۔“ میں نے کہا اور پھر وہیں بیٹھنے لگا تو اس نے ایک تھپڑ میرے مار دیا ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ مجھ سے لڑنا چاہتا ہے ۔نجانے میرے اندر کہاں سے اتنی قوت آ گئی تھی ۔ شاید جو مجھے حوالات میں ذلیل کیا گیا تھا ، اب تک جو میری ہتک ہو چکی تھی ، اس کا سارا غصہ ایک دم اکھٹا ہو گیا تھا ۔میرے اندر ایک طوفان اٹھا ۔ میں نے اس کا ادھار نہیں رکھا ´۔ اگلے ہی لمحے اس کی ٹھوڑی کے نیچے پنچ مارا، اس کے ساتھ ہی ایک کک اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان مار دی ۔ وہ چیختا ہوا پیچھے ہٹا تو دو تین بندے فوراً ہی اٹھ کر مجھ پر پل پڑے ۔ اس کا مجھے اندازہ تھا کہ وہ مجھے بہت ماریں گے ۔لیکن مجھے اپنے دفاع میں کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا ۔ میںنے دو پر اپنا فوکس ختم کردیا اورسامنے سے وار کرنے والے پر تو جہ مرکوز کر دی ۔ وہ مجھے مکہ مارنے کے لئے اپنا ہاتھ بلند کر چکا تھا ، اس سے پہلے کہ اس کا ہاتھ نیچے آ تا ، میں نے اس کی بغل میں اپنی گردن دیتے ہوئے اسے اوپر اٹھایا ، کوشش کر کے اس کی ایک ٹانگ اپنے ہاتھ میں لی ۔ جیسے ہی اس کی ٹانگ میرے ہاتھ میں آ ئی ،میں نے پوری قوت لگا کر اسے اوپر اٹھا لیا ، پھر ذرا سا گھما کر اسے سلاخوں میں دے مارا ۔وہ وہیں ڈھیر ہو گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور میرے سامنے تھا۔ وہ دونوں ہاتھ بڑھا کر میری جانب لپکا تھا ، شاید وہ مجھے اپنے حصار میں لے کر گرانا چاہتا تھا ۔ میں سرعت سے نیچے بیٹھ گیا ۔وہ اپنی جونک میں مجھ پر آ گر ا ، میںنے اسے اٹھایا ، سر کے اوپر گھمایا اور اسے بھی سلاخوں میں دے مارا ۔اب میرے سامنے تیسرا تھا ۔وہ پوری طرح سنبھل چکا تھا ۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ میں کوئی نرم و نازک لڑکا نہیں، لڑنا بھڑنا جانتا ہوں ۔ وہ میرے گھونسہ مارنے کے لئے آ گے بڑھا تھا ۔ میں اسے جھکائی دے گیا ۔ وہ ذرا سا سنبھلا تھا کہ میں ایک دم سے فرش پر بیٹھ گیا ۔اسے یہ امید نہیں تھی جبکہ میں اس کی ایک ٹانگ پکڑ کر اسے گرا چکا تھا ۔اس نے بہت مزاحمت کی لیکن تب تک میں اسے گھما دیا تھا ، دو تین چکر دینے کے بعد جیسے ہی وہ فرش سے ذرا بلند ہوا، میں نے اسے سلاخوں میں دے مارا۔ تب تک پہلے والا ہوش میں آ چکا تھا ۔میں اس کے سر پر جا پہنچا ۔اس سے پہلے کہ میں اسے کچھ کہتا ، وہیں بیرک سے چند بندے اٹھے اور مجھ پر حملہ آ وار ہوگئے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کتنے بندے تھے ۔ لیکن میں ان کے حملے سے سمجھ گیا کہ اب مجھے اپنے آپ کو بچانا ہے ۔ ایک بندے نے کوشش کی کہ وہ بھی مجھے اسی طرح سلاخوں میں مار سکے لیکن ایسا نہ کر سکا ۔ وہ سب مجھ پر تابڑ توڑ حملے کر رہے تھے ۔مجھے یہ پتہ ہی نہیں چل رہا تھا کہ کہاں کہاں ضرب لگ رہی ہے ۔میں اپنے آپ کو بچانے کی فکر میں تھا ۔میں تقریبا دو منٹ اپنا آپ بچانے کی کوشش کرتا رہا تھا ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں ان کے قابو میں نہیں آرہا ہوں تو اسی کشمکش میں چند لوگوں نے مجھے ایک دم سے قابو کر لیا ۔ انہوں نے مجھے اٹھایا اور دیوار پر دے مارا ۔ میرے سر میں شدید درد اٹھا تھا ۔اس کے بعد میرے سامنے ہر شے دھندلا گئی ۔خون میری آ نکھوں میں آ گیا تھا یا ضرب ہی اتنی شدید تھی کہ میں ہوش و حواس کھو بیٹھا ۔ خون کی چپچپاہٹ میرے بدن پر رینگتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔میں نے خود کو سنبھالنا چاہا مگر میرے ہاتھ پاﺅں میں جان ہی نہیں اور مجھے اپنا پتہ ہی نہیں رہا ۔میں اپنے ہوش کھو بیٹھا۔

٭….٭….٭

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6 میری اذیت بڑھتی جارہی تھی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے