سر ورق / کہانی / کانچ کی محبت محمد عرفان رامے آخری حصہ 2

کانچ کی محبت محمد عرفان رامے آخری حصہ 2

کانچ کی محبت

محمد عرفان رامے

قسط نمبر 2

جولی نے چند قدم ہی اُٹھائے تھے کہ شہاب نے اس کی کلائی پکڑ لی وہ بھی شاےد کوئی حتمی فےصلہ کر چکی تھی ۔ جےسے ہی شہاب خان نے کلائی کو چھوا۔ جولی کا نازک ہاتھ حرکت مےں آےا اور شہاب خان کے سرخ و سپےد چہرے پر نشان چھوڑ گےا ۔

”مےں تمھیں اپنی حد مےں رہنے کے لےے آخری وارننگ دے رہی ہوں شہاب خان ۔ “ جولی نے سخت لہجے میں کہا اور دروازے کی طرف بڑھی۔

 تھپڑ کھا کر شہاب خان کی آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگے ۔ اُسے قطعاََ اُمےد نہےں تھی کہ جولی اس پر ہاتھ اُٹھائے گی۔

 اگلے ہی لمحے خون اس کی رگوں مےں لاوا بن کر دوڑنے لگا۔وہ تےزی سے آگے بڑھا اور پھر چند لمحوں بعد جولی کا نازک سا وجود شہاب خان کے آہنی حصار مےں پھڑپھڑا رہا تھا ۔

 -٭-

صبح سوےرے شہاب خان کی آنکھ کھلی تو جولی کمرے مےں نہےں تھی۔ وہ سمجھ گےا کہ رات اپنی بے بسی پر ماتم کرنے کے بعد وہ اُوپر چلی گئی ہو گی تاکہ ماں جی کو کسی سوال کا جواب نہ دےنا پڑے۔

ےہ سوچ کر اس نے کروٹ بدلی اور رات کے حسےن مناظر کو ےاد کرتے ہوئے دوبارہ خوابوں کی دنےا مےں کھو گےاجانے کتنی دےر بعد کمرے کا دروازہ جھٹکے سے کھلا اور ماں جی اندر داخل ہوتے ہی چےخ کر بولےں:

”مےری بےٹی کہا ں ہے شہاب خان ؟“

”کک کےا مطلب؟“وہ ہڑبڑا کر بستر سے گرتے گرتے بچا۔

”مےںنے پوچھا ہے مےری بےٹی کہا ں ہے؟“ ماں جی نے دےوانوں کی طرح خالی کمرے مےں ادھر اُدھر دےکھتے ہوئے سوال دہراےا۔

” مےں تو آپ کے سامنے مہمان خانے مےںہوں ۔ وہ تو آپ کے پاس تھی۔ “ شہاب کافی حد تک سنبھل گےا تھا۔ وہ خود بھی سمجھ نہےں پاےا تھا کہ جولی کہاں گئی اور ماں جی اسے کےوں تلا ش کر رہی ہےں۔

”وہ اُوپر نہےں ہے اور گھر کا صدر دروازہ کھلا ہے ۔ “ ماں جی قرےب پڑی کرسی پر ڈھے سی گئےں۔

”آپ فکر مت کرےں مےں دےکھتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کسی کام سے باہر گئی ہو۔“ شہاب خان نے جلدی سے جےکٹ پہن کر باہر کا رخ کےا۔

”نہیں وہ کسی کام سے نہےں گئی مجھے لگتا ہے وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے ۔ اس کا بےگ بھی گھر مےں موجود نہےں ۔ “

ماں جی کا انکشاف سن کرشہاب خان کو ےوں محسوس ہوا جےسے اس کے پاﺅں زمےن نے جکڑ لےے ہوں:

”حوصلہ رکھےں ماں جی! مےں ابھی اُسے ڈھونڈ کر لاتا ہوں۔“ وہ آگے بڑھا اور گھر سے نکل گےا ۔

سورج طلوع ہو چکا تھا مگر دُھند نے شرارت سے اس کی کرنوں کو زمےن تک پہنچنے سے روک دیا تھا۔ باہر نکل کر اس نے دےوانہ وار مختلف راستوں پر بائےک دوڑائی لیکن جولی کا کہےں سراغ نہ ملا۔ دوپہر تک کوئی ٹرےن آنے کی اُمےد بھی نہےں تھی کہ جولی اس مےں سوار ہو کر چلی گئی ہو۔

شہاب خان کا دل تےزی سے دھڑک رہا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ جولی کے گھر چھوڑ جانے کی اصل وجہ کیا تھی۔ گذشتہ رات جس طرح اس نے جولی کے اعتماد کو تار تار کےا وہ سارا غرور شرمندگی بن گیا تھا۔

بہت دےر بھاگ دوڑ کے بعد اس نے بہادر خان کو بھی مدد کے لےے بلا لےا۔ بہادر خان نے اسے پر سکون رہنے اور شکر ادا کرنے کا مشورہ دےا کہ جولی اس کی خواہش پوری کر کے خاموش سے گھر چھوڑ گئی ۔ اگر وہ ضد پر اُتر آتی تو ماں جی کے سامنے اس کا پول کھول سکتی تھی۔ شہاب خان نے اس کی بات سے مکمل اتفاق کےا تھا ۔

 دونوں نے اےک ہوٹل سے چائے پی اور پھر اپنے اپنے گھروںکو لوٹ گئے۔ جب شہاب خان والدہ کی عدالت مےں پےش ہوا تو اس کے پاس وہی گھڑی ہوئی کہانی تھی جو بہادر خان نے سمجھائی تھی ۔

ماںجی نے اس کی آنکھوں مےں جھانکتے ہوئے ساری بات توجہ سے سنی اور خاموشی اپنے آنسوﺅ ں کو روح کی گہرائےوں مےں اتارنے لگےں۔ لےکن پھر اچانک کوئی خےال ذہن مےں آتے ہی انھوں نے گہری نظر سے شہاب خان کے چہرے کا جائزہ لےا۔ اب ان کی آنکھوں مےں شک اور وسوسہ تھا۔ مگر انھوں نے شہاب خان کے سامنے کسی شک کا اظہار نہ کےا ۔

شہاب نے انھیں ےقےن دلاےا کہ وہ جولی کو ڈھونڈ لائے گا لیکن ماں جی نے اس کے دعوے کا کوئی جواب نہ دےا ۔

ماں جی کو اُن کے کمرے مےں پہنچا کر شہاب خان جلدی جلدی تےار ہوا اور اسٹےشن روانہ ہو گےا ۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت پلےٹ فارم بالکل سنسان ہو گا پھر بھی وہ دل کی تسلی کے لےے رےلوے اسٹےشن پہنچ گےا۔آخری اُمےد باقی تھی کہ شاےد جولی رات بسر کرنے کے لےے انتظار گاہ مےں موجود ہو۔

 شہاب خان کا اندازہ غلط ثابت تھا ۔اسٹےشن کا کونہ کونہ چھان لےنے کے باوجود جولی اسے کہےں نہ ملی تھیسر شام شہاب خان ناکام گھر واپس لوٹا تو ماں جی اپنی بےٹی کے انتظار مےں دہلےز پر بےٹھی تھیں ۔ بےٹے کو ناکام دیکھ کر انھوں نے منہ دوسری جانب موڑ لےا۔

اس کے بعد ماں جی نے شہاب خان سے کوئی بات نہ کی۔ جولی کے گھر چھوڑ جانے پر وہ اتنی دل برداشتہ ہوئےں کہ کھانا پےنا ترک کر دےا ۔ اب وہ سوکھ کر کانٹا ہو چکی تھےںاور لاغر جسم بخارسے جلتا رہتا تھا۔

اسی طرح اےک ماہ گزر گےا اور پھر اےک چمکےلی صبح شہاب خان اپنی ماں جی کو ہمےشہ کے لےے کھو بےٹھا مرتے وقت بھی ماں جی کے ہونٹوں پر جولی کے لےے محبت اور آنکھوں مےں اپنے سگے بےٹے کے لےے شدےد نفرت تھی جسے صرف وہی محسوس کر سکتا تھا ۔

-٭-

                ماں جی کو رخصت ہوئے کئی ہفتے گزر چکے تھے لیکن شہاب خان کی حالت سنبھل نہےں پا رہی تھی۔ وہ اپنی بربادی کا ذمہ دار خود کو ٹھہرا رہاتھا اور ہاتھ جوڑ کر جولی سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔

 اس نے بہادر خان کے مجبور کرنے پر دکان پھر سے کھول لی تھی ۔ مصروفےت کے باعث اب اس کی حالت سنبھلنے لگی تھی۔

اےک دوپہر پلےٹ فارم پر گاڑی رکی تو بہادر خان اس مےں سے اتر کر بھاگتا ہوا شہاب خان کے پاس پہنچا اور ہانپتا ہوا بولا۔

”تےرے لےے بہت خاص خبر لاےا ہوں شہاب۔ “

”کےسی خبر ؟“ وہ چونکا۔

”آج مےں نے شہر مےں ہپی سےاحوں کے اےک اےسے ٹولے کو دےکھا جس مےں تمھاری مہمان لڑکی بھی شامل تھی ۔ “ وہ اےک ہی سانس مےں بول گےا۔

”کےا کہہ رہے ہو تم ؟“ شہاب خان کا منہ حےرت سے کھلا رہ گےا ۔

”مےں بالکل ٹھےک کہہ رہا ہوں ۔ ےقےن کرو وہ جولی ہی تھی۔ مےں بازار مےں سودا سلف خرےد رہا تھا جب مےں نے اسے ہپےوںکے ٹولے کے ساتھ دےکھا۔ “

”کےا تم نے اس سے پوچھا کہ وہ کہاں ٹھہری ہے ؟“

”پاگل ہو گئے ہو اس نے مجھے صرف اےک بار رات کے وقت دےکھا تھا ،اگر وہ مجھے پہچان لےتی تو جانے کےا سلوک کرتی مےرے ساتھمجھے پہچان کر وہ اپنا ٹھکانہ بھی بدل سکتی تھی ۔ “

” کہہ تو ٹھےک رہے ہو۔ “شہاب خان نے کہا ” اب ہم اس تک پہنچےں گے کےسے ؟“

” مےں نے وہاں بہت احتیاط سے کام لےا اوران کاتعاقب کرتااس تھرڈ کلاس گےسٹ ہاﺅس تک پہنچ گےا جہاں وہ لوگ ٹھہرے ہوئے تھے ۔ چوکےدار سے پوچھنے پر معلوم ہو گےا کہ وہ اےک ہفتے سے وہاں مقیم ہیں پھرمےں نے اےک انگریز نوجوان سے جس کے گرد جولی منڈلا رہی تھی چوکےدار کے ذرےعے رابطہ کےا۔ مےں نے اسے بتاےا کہ مےرا دوست اےک صحافی ہے اور ہپےوں کے رہن سہن پر کتاب لکھ رہا ہے ۔ وہ تم لوگوں سے ملنا چاہتا ہے اور مطلوبہ معلومات کے عوض تمھیں انعام بھی دے گاےہ سن کر ا س بھوکے ننگے ہپی کی رال ٹپک پڑی اور اس نے آج شام ملاقات کا وعدہ کر لےا ۔ “ بہادر خان نے گردن اکڑا کر کالر سے گرد جھاڑی۔

” تم نے واقعی مجھ پر زندگی کا سب سے بڑا احسان کےا ہے دوست ۔ مےں شاےد اس کا بدلہ کبھی نہ دے سکوں ۔ “ شہاب خان کی آنکھوں مےں آنسو تھے۔

” بدلے کو چھوڑو، اپنے بارے سوچو۔ “ بہادر خان نے اس کندھے پر ہاتھ رکھا ۔

 ” تم بتاﺅ اب کےا کےاجائے؟“ شہاب خان نے بھےگی پلکےں صاف کےں۔

”تم کےا چاہتے ہو؟“ بہادر خان نے سوال کےا۔

”مےں ہر صورت اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ “

”تو پھرالٹے سےدھے سوالات کےوں رہے ہو۔ تےاری کرو ہم نے دو گھنٹے بعد والی ٹرےن سے شہر پہنچنا ہے ۔ “

ےہ سن کر شہاب خان کا سےروں خون بڑھ گےا تھا۔ اس جلدی جلدی کنٹےن بند کی اور بائےک اُڑاتا ہوا گھر پہنچ گےا ۔ ٹرےن کی آمد سے پہلے ہی وہ تےار ہو کر پلےٹ فارم پر موجود تھا ۔ اس دوران بہادر خان نے بھی ضروری کام نمٹا لےے تھے۔

-٭-

جب وہ شہر کے رےلوے اسٹےشن پر اترے تو شام ڈھل چکی تھی ۔ بہادر خان نے اےک رکشہ ڈرائیور کو گےسٹ ہاﺅس کا اےڈرےس سمجھاےا اور دونوں اس مےں سوار ہو گئے ۔

گےسٹ ہاﺅس کانا م سن کر رکشہ ڈرائےور نے سر تا پا دونوں کو گھورا تو شہاب خان سمجھ گےا کہ اس جگہ کی شہرت اچھی نہےں ۔ لیکن انھیں تو صرف جولی سے دلچسپی تھی ۔

 گےسٹ ہاﺅس شہر کی اےک خستہ حال وےران سڑک پر واقع تھا ۔منزل پر پہنچ کر بہادر خان نے شہاب خان کو نےچے اترنے کا اشارہ کےا۔

 شہاب خان ذہنی طور پر بہت پرےشان اور جولی سے شرمندہ تھا ۔پھر بھی وہ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔ سڑک ناہموار تھی ۔کوڑا کرکٹ خالی بوتلےں اورجانے کےا کچھ ان کی ٹھوکروں پر تھا ۔

 اب وہ اےک بھدی سی عمارت کے سامنے موجود تھے۔ بہادر خان نے اسے پےچھے آنے کا اشارہ کےا او ر عمارت کے اندر داخل ہو گےا ۔ چھوٹا سا لان عبور کرنے کے بعد وہ عمارت کے اندرونی حصے مےں پہنچ گئے ۔ ےہ اےک ہال کمرے تھا جہاں استقبالےہ کاﺅنٹر موجود تھا۔

”مجھے مسٹر ڈےوڈ سے ملنا ہے ۔ہماری ان سے ملاقات طے ہے۔ “

بہادر خان کی بات سن کر کاﺅنٹر پر موجود ادھےڑ عمر آدمی نے چونک کر ان دونوں کے چہرے دےکھے اور حےرت سے بولا:

”لگتا ہے ڈےوڈ نے دونوں لڑکےوں کاسودا کر لےا ہے آپ سے ۔ دو ہفتے سے ےہاں رکا ہوا ہے ۔ کہتا تھا پےسے نہےں ہےں ۔ بندوبست کر کے کراےہ دوں گا۔ “

” اےسی بات نہےں ےہ مےرے دوست شہاب خان ہےں جوہپی ازم پر اےک کتاب لکھ رہے ہےں۔ انھیں انٹروےو کرنا ہے ڈےوڈ کے گروپ کا ۔ “

”اوہ اچھا “ وہ ذو معنی انداز میں مسکرایا” آپ تشرےف رکھےں مےں ڈےوڈ کو ےہےں بلوا لےتا ہوں۔پھر آپ خود ہی مشورہ کر لےنا کہ پہلے انٹروےو کون لے گا۔ “

جلد ہی اس نے اےک وےٹر کو بےسمنٹ مےں بھےج دےا کہ ڈےوڈ کو بلا لائے۔

زےادہ دےر نہےں گزری تھی کہ چوبےس پچےس سالہ نوجوان سےڑھےوں کے راستے اُوپر آتا دکھائی دےا۔ اس کے بکھرے ہوئے بال، بوسےدہ جےنز اور مےلی شرٹ ہپی ہونے کا واوےلا مچا رہی تھی ۔ وہ قرےب پہنچا تو بہادر خان نے گرمجوشی سے مصافحہ کےا اور چند رسمی جملوں کے بعد شہاب خان سے اس کا تعارف کرانے لگا:

”ےہ شہاب خان ہےں ۔ مےرے صحافی دوست، جو آپ لوگو ں پر کتاب لکھ رہے ہےںاور آپ کے گروپ سے کچھ سوالات کرنا چاہتے ہےں۔ “ےہ کہتے ہی بہادر خان نے مٹھی مےں بند چند نوٹ اس کی جےب مےں ٹھونس دےے ۔

جواباََ ڈےوڈ نے اپنے پےلے پےلے دانت دکھائے اور انھیں ساتھ لےے آگے بڑھا۔ان تےنوں کو سےڑھےاں اترتا دےکھ کر استقبالےہ کلرک اور وےٹر کے چہروں پر معنی خےز مسکراہٹ پھےل گئی تھی۔

 سےڑھےوں مےں مدہم روشنی تھی۔وہ تےنوں احتےاط سے اترتے اےک راہداری مےں پہنچ گئے جہاں اکثرےت غےر ملکی سےاحوںکی تھی ۔ ان لوگوںکو ٹورسٹ گائےڈ کمےشن کے چکر مےں گھےر کر ےہاں لاتے تھے اور سستے داموں کمرے دلوا کر گےسٹ ہاﺅ س انتظامےہ سے کمےشن وصول کرتے تھے۔

راہداری مےں آگے بڑھتے ڈےوڈ کے قدم اےک دروازے کے سامنے پہنچ کر رُک گئے۔ اس نے دروازے کوہاتھ سے دھکےلا تو وہ چرچراہٹ کے ساتھ کھل گےا ۔

شہاب خان نے اندر جھانکا توکمرے مےں دھواں تھا ۔ چند عورتےں اور مرد فرش پر بچھے بوسےدہ قالےن پر بےٹھے چرس پی رہے تھے۔ کمرے مےںکوئی روشن دان نہےں تھا ۔ دھوےں میں سانس لےنا بھی محال ہو رہا تھا۔

 شہاب خان کا تو دم گھٹنے لگا تھا مگروہاں بےٹھے کسی فرد نے ان پر توجہ نہےں دی تھی۔ سب لوگ بے نےازی سے بےٹھے تھے ان کے ہاتھوں مےں پائپ اور سگرےٹ تھے ۔ جب کہ اےک ادھےڑ عمر آدمی عجےب سا ساز بجاتے ہوئے گےت گا رہا تھا ۔

ےہ دنےا جس مےں ہم رہتے ہےں

نہ ےہ ہمارے لےے ہے

نہ ہم اس کے لےے

ہم تو وہ آوارہ گرد ہےں

جو نئی دنےاﺅں کی تلاش مےں

سرگرداں رہتے ہےں۔

 ڈےوڈ نے سب کو اپنی جانب متوجہ کرکے باہر نکل جانے کا حکم دےا تو وہ بنا ناراضگی کا اظہار کےے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اب وہاں صرف اےک لڑکی بےٹھی تھی جو دےوار سے ٹےک لگائے سکون سے چرس پی رہی تھی ۔

ڈےوڈ نے انھیں اشارہ کےا تو وہ خاموشی سے اس کے قرےب زمےن پر بےٹھ گئے۔ شہاب خان کو جولی کہےں دکھائی نہےں دے رہی تھی ۔ ماحول مےں اس قدر کثافت تھی کہ دل چاہتا تھا اُٹھ کر ےہاںسے بھاگ جائے۔

 ”ےہ مرےنا ہے مےری جان،میری دوست۔“

ڈےوڈ نے تعارف کرواےا تو مرےنا نے خوش دلی سے دونوں کی طرف ہاتھ بڑھا دےا جسے بہادر خان نے اس وقت تک تھامے رکھا جب تک کہ مرےنا نے خود واپس نہ کھےنچ لےا۔

 جولی کو نہ پاکر شہاب نے سوالےہ نظروں سے بہادر خان کی طرف دےکھا تو وہ بھی سٹپٹا سا گےا ۔ صورت حال اےسی نہےں تھی کہ وہ براہ راست اس کے بارے پوچھ سکتے۔ لہٰذا شہاب خان نے طریقے سے گفتگو کا آغاز کیا:

”کمرے خاصا کشادہ ہے ۔ تم دونوں اسی کمرے مےں رہتے ہو؟“

” دو نہےں تےن؟“ مرےنا نے منہ بناےا۔

”تےسرا کون ؟“شہاب خان کی آنکھوں مےں چمک پےدا ہوئی۔

”ہے اےک چڑےل جو برے وقت کی طرح ہم پر مسلط ہے۔ “ وہ منہ بنا کر بولی ۔

”مرےنا! بری بات ۔ “ ڈےوڈ نے اسے گھرکااور وضاحت کی:” ”ہماری تےسری دوست جولی بھی ہمارے ساتھ رہتی ہے ۔جولی اور مرےنا کے درمےان مےرے حصول کی جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔ ےہی وجہ ہے کہ دونوں اےک دوسرے کو پسند نہےں کرتےں۔ “

پھر اس نے ان دونوں کے قرےپ منہ کر کے سرگوشی کی:

 ” راز کی بات یہ ہے اس حسد سے مےں خوب فائدہ اُٹھارہا ہوں۔ “

 اپنا جملہ مکمل کر کے ڈےوڈ نے قہقہہ لگاےا تو انھیں بھی جبراََ اس کا ساتھ دےنا پڑا۔ جولی کا نام سن کر شہاب خان کے چہرے کی رونق لوٹ آئی تھی۔

 گفتگو جاری تھی کہ دروازہ کھلا اور اندر داخل ہونے والی جولی ،شہاب خان پر نظر پڑتے ہی ٹھٹک کر رک گئی اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پراجنبےت لوٹ آئی جےسے وہ اسے جانتی تک نہ ہو۔

جولی نے اس وقت بھی وہی لباس پہن رکھا تھا جو ما ں جی نے اسے دےا تھا ۔

” ہماری دوسری دوست جولی بھی آ گئی ۔ “ ڈےوڈ نے تعارف کرواےا۔

”خوشی ہوئی ان سے مل کر “ شہاب خان نے مسکرا کر اس کی طرف دےکھا ۔

 ” جولی ےہ مسٹر شہاب اور یہ مسٹر بہادر ہےں ۔ ےہ خصوصی طور پر ہمارا انٹروےولینے آئے ہیںتاکہ ہمارے تاثرات کو اپنی کتا ب مےں جگہ دے سکےں۔ “

 جولی نے ڈےوڈ کی بات کو ےکسر نظر انداز کر دےا تھا اُدھر انٹروےو کا نام سن کر مرےنا کے کان کھڑے ہو گئے :

”کےسے سوالات کرنا چاہتے ہےں آپ؟“

اس کی بات پر شہاب خان ےوں چونکا جےسے چوری پکڑی گئی ہو۔ اسے اپنا ذہن خالی محسوس ہو رہا تھا۔ وہ ظاہر نہےںکرنا چاہتا تھا کہ جولی کو براہ راست جانتا ہے ۔

”کچھ خاص نہےں تم لوگ چونکہ دنےا کے بےشتر ممالک گھوم چکے ہوئے لہٰذا ہم آپس مےں دنےا کی باتےں کرےں گے۔ “

یہ سن کر مرےنا نے قہقہہ لگاےا اور کش لےتے ہوئے بولی:” اُس چےز بارے بات کرنے کا کےا فائدہ جو عنقرےب فنا ہونے والی ہے۔ “

” دنےا کےوں ختم ہونے والی ہے۔ “ بہادر خان مسکراےا۔

” کےونکہ دنےا کے لوگوں مےں برائی کے سوا کچھ نہےں بچا “ مرےنا نے نفرت سے جولی کی طرف دےکھا۔اس کی آنکھےں سرخ اور ہونٹ خشک تھے۔جولےا نے اس کے طنز کا جواب نہ دےا، البتہ دےوار سے ٹےک لگا کر دھےرے سے مسکرا دی تھی ۔

”مرےنا کی باتوں کا برا نہ منانا دوستو ۔جب ےہ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوتی ہے تو اےسی ہی باتےں کرتی ہے “ ڈےوڈ نے مرےنا کے سگرےٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ اس پر بھی چڑھ دوڑی:

” کےا سازش کر رہے ہو مےرے خلاف۔ مےں ہوش مےں ہوں اور اسی زمےن پر بےٹھی ہوں جو تباہ ہونے والی ہے۔ “

”تم اس پر توجہ مت دو۔ ےہ بتاﺅ کےا پوچھنا چاہتے ہو۔ “ ڈےوڈ نے شہاب خان سے پوچھااسے شاید جیب میں آئے نوٹ کھو دینے کا خوف تھا۔

’ تم اتنی کم عمری مےں سےاحت کے شوقےن کےسے بن گئے؟ “

شہاب براہ راست جولی کو مخاطب نہےں کرنا چاہتا تھا ،اس لےے ماحول کو اپنے لےے ساز گار بنا رہا تھا۔ سوال سن کر ڈےوڈ کے ہونٹوں پر اداسی بھری مسکرہٹ ابھری۔ وہ دھےمے لہجے مےں بولا:

” مجھے سکون کی تلاش تھی ۔ “

”تمھاری عمر کا نوجوان تو اپنے مستقبل کے بارے سوچتا ہے ۔ ےوں نگری نگری گھومنے سے تمھارا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ “

” کوئی بتائے گا ےہ مستقبل کس چڑےا کا نام ہے ۔ “ مرےنا نے مدہوشی کے عالم مےں ہانک لگائی۔

”انسان زندہ رہنے کے لےے کوئی کام کرتاہے ، گھر بساتا ہے ، اپنی ذمہ دارےوں کو پورا کرتا ہے ۔ ساری دنےا اسی طرح چل رہی ہے۔ “ بہادر خان نے لقمہ دےا۔

” تم سب لوگ احمق ہو جو گھروں مےں بےٹھ کرمستقبل کے بارے میں سوچتے ہو مستقبل تو موت کا دوسرا نام ہے ۔ ہمےں صرف حال مےں جےنا چاہےے،آج کی بات کرنی چاہےے۔ “مرےنا نے اپنا فلسفہ بےان کےا۔

”اس پر توجہ مت دو۔نشہ چڑھتے ہی ےہ پاگل ہو جاتی ہے۔ مےں تمھیں اپنے بارے بتاتا ہوں مےرا باپ اےک حادثے مےں اپاہج ہو گےا تھا ۔ اس کی اےک ٹانگ کٹ گئی تھی۔ جب مےں پےدا ہوا تو اسے اپاہج ہوئے کئی برس بےت چکے تھے۔ مےں نے ہوش سنبھالا تو اس کی زبان سے ےہی سنا کہ مےں اس کی اُولاد نہےںہوں۔ اس بات پر ہمارے گھر مےں خوب لڑائی ہوتی تھی۔ مجھے بچپن مےں ہی اپنے والدےن سے نفرت ہو گئی ۔وہ بہت جھگڑالو تھے۔کچھ عرصہ بعد مجھے اپنی ماں کی بد کاری کا علم ہو گےا ۔ باپ سے مجھے پہلے ہی نفرت تھی۔چنانچہ مےں نے گھر چھوڑ دےاذہن مےںےہی تھا کہ اچانک غائب ہو جانے پر والدےن مےری جدائی برداشت نہےں کر پائےں گے اور ڈھونڈنے کی کوشش کرےں گے۔کچھ دن آوارہ گردی کے بعد جب مےں واپس گھر پہنچا تو باپ نے سخت برا بھلا کہا ۔ اسے مےرے جانے پر نہےں ، لوٹ آنے پر غصہ تھا ۔ ماں نے بھی مجھے سےنے سے نہےں لگاےا تھا۔ اس کا دل پتھر ہو چکا تھا ۔چنانچہ مےں نے ہمیشہ کے لیے گھر چھوڑ دےا اورسےلز مےن بن کر پےسے کمانے لگا۔ اسی دوران مجھے نشے کی لت پڑ گئی ۔اب دنےا مےرے لےے بے رنگ ہو چکی تھی۔ پھر اےک ہپی سےاح نے بتاےا کہ مشرقی ممالک نشے کے لحاظ سے جنت ہےں ۔ ےوں ہم چند دوستوں نے مشرق کا ارادہ کےا اور گرتے پڑتے تمھارے ملک مےں پہنچ گئے۔

”کےا تم خدا پر ےقےن رکھتے ہو؟ “

 شہاب خان نے پوچھا۔اس سے پہلے کہ ڈےوڈ کوئی جواب دےتا کونے مےں بےٹھی جولی نے آنکھےں کھول کر اس کی طرف دےکھا :

” کےا تمھیں اپنے خدا پر ےقےن ہے؟“

” ہاں بالکل۔ “

شہاب خان کے اعتراف پر جولی نے قہقہہ لگاےا ۔ مگر آواز مےں اتنا درد تھا جےسے اندر بہت کچھ ٹوٹ گےا ہو۔

”کےا تم اپنے بارے مےں نہےں بتاﺅ گی؟“ شہاب خان نے خفت مٹانے کے لےے گفتگو کا رُخ اس کی جانب موڑ دےا۔

”مےرے پاس بتانے کے لےے کچھ نہےں ہے۔ “ اس نے بے زاری سے کہا ۔

”چلو ےہی بتا دو ڈےوڈ سے تمھاری ملاقات کب اور کےسے ہوئی ۔ “ شہاب خان نے پوچھا۔

” ہم کابل مےں ملے تھے ۔“جولی نے جواب دیا۔

”تم وہاں کےسے پہنچےں؟“

 ”ایسے“جولی نے اپنے بازو پھےلا کر یوںہلائے جےسے پرندے اُڑتے وقت پھڑپھڑاتے ہےں۔

” تمھارے والدےن ہےں ؟“ سوال پوچھا گےا ۔

” کےوں نہےں ؟“

” کےا وہ تمھیں ےاد نہےں آتے؟“

مےں سکون کی تلاش مےںہوں، والدےن مجھے سکون نہےں دے پائے۔ان کی تو ےاد بھی مجھے دکھ دےتی ہے ۔ “

”ممکن ہے وہ سخت مزاج ہوں۔ مگر والدےن تو اولاد کی تربےت کرتے ہےں۔ اسے اچھے برے کی تمےز سکھاتے ہےں۔ اُن کی قدر کرنی چاہےے۔“ شہاب خان نے لےکچر دےا ۔

”کےا تمھارے والدےن نے تربےت کی تھی تمھاری“

شہاب خان سٹپٹا گیا ، جولی نے اس پر توجہ نہ دی اور اپنی بات جاری رکھی:

 وےسے بتا دوں کہ مےں کوئی لڑکی نہےں عورت ہوں۔مےں خود مختار ہوں اورجہاںچاہوںجا سکتی ہوں۔ مےرا کسی کے ساتھ کوئی رشتہ نہےں ہے ، مےری کسی سے کوئی دشمنی نہےں ہے۔جو چاہتا ہے مجھے اےک رات کی چھت مہےا کر کے ، اےک وقت کا کھانا دے کر اپنی جاگےر سمجھ لےتا ہے ۔ مجھے کسی سے کوئی اُمےد نہےں اور نہ مےں رکھنا چاہتی ہوں۔ “

” یعنی تمھاری زندگی کا کوئی اصول نہےں ؟ “

شہاب خان کے لہجے مےں شرمندگی تھی۔ جولی اس کا سوال سن کرہنس پڑی:

”مےراصرف اےک ہی اصول ہے کہ اپنی مرضی سے زندگی گزارو۔سب زنجےرےں توڑ دو۔ سب رشتے بھول جاﺅمےں نے صرف نشے مےں پناہ اور تحفظ پاےا ہے ۔نشہ بری چےز ہے مگر ےہ مجھے مےرے حال مےں مست رکھتا ہے۔ مےرے ساتھ دغا نہےں کرتامےری ماں کو بھی نشے کی لت تھی ۔ مےں نے ہر برائی کو پاتے ہوئے بھی اسے ہمےشہ پر سکون دےکھا۔ شاےد ےہ اس کی واحد عادت تھی جسے مےں نے زندگی مےں اپناےا ۔ “ جولی چھت کو گھورتے ہوئے خاموش ہو گئی ۔

”کےاتمہارے ذہن مےں شادی کرنے کا خےال نہےں آےا ؟“ شہاب خان کے لہجے مےں آس تھی۔

” بالکل نہےں مےں مردکا جبر برداشت نہےں کر سکتی اور مےرا روےہ کسی مرد کو پسند نہےں آتا بہت دوغلا پن ہے مشرقی لوگوں مےں۔ ان مےں وہ تمام خامےاں موجود ہےں جو مغربی اقوام مےں ہےں مگر ےہ اپنے گناہوں کوپارسائی کی چادر اُوڑھ کر چھپا لےنا چاہتے ہےں جب کہ مغرب والے گناہ کر کے بھی اپنے عمل سے منکر نہےں ہوتے۔ تم لوگ ذہنی طور پر پسماندہ ہو۔“ جولی کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔ اس کے ہونٹوں پر لرزا طاری تھا ۔

”ڈےوڈ بھوک لگ رہی ہے ۔ “ جولی نے اُکتا کر ڈےوڈکو اپنی جانب متوجہ کےا۔

”تھوڑا صبر کوڈےر۔ پےسے کم ہےں ہم فی الحال دن مےں اےک وقت کا کھانا کھا سکےں گے۔ “ وہ اس رقم کو گول کر گےا تھا جو بہادر خان نے دےے تھے۔

 شہاب خان نے جےب سے دو بڑے نوٹ نکال کر بہادر خان کو دےے اور کہا کہ ڈےوڈ کے ساتھ جا کر کھانا لے آئےبہادر خان سمجھ گےا تھا کہ وہ تنہائی مےں جولی سے بات کرنا چاہتا ہے چنانچہ وہ ڈےوڈ کو ساتھ لے کر باہر نکل گےا ۔ اب شہاب خان، جولی اور مرےناکے ساتھ بےٹھا تھا ۔

”ہر عورت اےک چاہنے والے کا خواب دےکھتی ہے ۔ محبت کرنے والے شوہر کی تمنا کرتی ہے۔ اےک گھر بسانا چاہتی ہے ۔ اپنے بچوں کی خوشےوں کے لےے زندہ رہتی ہے تم دونوںبھی تو عورتےں ہو۔ کےا تم نے کبھی اےسے خواب نہےں دےکھے۔ “

 ” سب جھوٹ! ساری دنےا سکون کی تلاش مےں بھٹک رہی ہے۔ جب تک امن کا زمانہ نہےں آ جاتا بچوں اور گھروں کی باتےں سوچنا حماقت ہے ۔ مجھے تو صرف اےک چےز سکون دےتی ہے اور وہ نشہ ہے ۔ “

 مرےناکے خیالات سن کر شہاب خان نے جولی کی طرف دےکھا جس کی تھکی تھکی آنکھوں مےں نمی نے بسےرا کر لیا تھا ۔ پھر وہ خود پر زےادہ دےر ضبط نہ رکھ سکی اور گھٹی گھٹی سسکےاں سنائی دےنے لگےں۔

اسے کرب مےں دےکھ کر مرےنا دھےرے سے مسکرادی تھی۔ اسے جولی کے آنسوﺅں اور سسکےوں سے کوئی دلچسپی نہےں تھی۔

”ےہ کےوں رو رہی ہے؟“ شہاب نے مرےنا سے پوچھا ۔

”عشق کا روگ لگ گےا ہے اسے کسی مشرقی عاشق کے ساتھ چند دن گزار نے کے بعد اُمید سے ہے۔ “

 اس انکشاف پر شہاب خان کو دل کی دھڑکن رکتی محسوس ہوئی ۔ کمرے مےں چرس کا دھواں بادلوں کی صورت مےں منجمد ہو گےا تھا اور دےوار گےر گھڑی کی ٹک ٹک کہےں دور سے آتی سنائی دے رہی تھی ۔

جانے کتنے لمحے سکوت طاری رہا۔ پھر شہاب نے ہمت کر کے جولی سے پوچھا:

”کےا تم اپنے بارے مےں کچھ بتانا پسندکرو گی۔“

” صرف اتنا کہ مےں ماں بننے والی ہوں۔ “

”احمق ہے ےہ مےں نے اور ڈےوڈ نے بہت سمجھا ہے کہ اس بدبخت سے نجات حاصل کر لو جو تمھیں اندر ہی اندر کھائے چلا جا رہا ہے مگر ےہ کسی کی سنے تب ناں ےہ تو اپنے مشرقی عاشق کی نشانی کو انمول تحفہ سمجھ کر زندگی کی حقےقتوں سے منہ موڑ بےٹھی ہے۔خون کھولتا ہے میرا اسے محبت کے نام پر اذیت سہتے دےکھ کر جب کہ وہ بے غیرت کب سے اسے بھول چکا ہو گا جس کے گناہوں کی سزا یہ انعام سمجھ کر بھگت رہی ہے۔ “

”تمھیں مرےنا کی بات مان لےنی چاہےے بعض رشتے انسان کے لےے بوجھ بن جاتے ہےں۔ ممکن ہے تمھارے ساتھ زےادتی ہوئی ہو۔ لیکن کسی کی غلطی کو سےنے سے لگا لےنا اس بھی بڑی غلطی ہو گی۔“

شہاب خان ےہاں جولی سے اپنی خطاﺅں کی معافی مانگنے آےا تھا۔یہ اعتراف کرنے آیا تھا کہ وہ اس کے بنا ادھورا ہے ،اس سے محبت کرتا ہے اور شادی کر کے اپنی عزت بنانا چاہتا ہے لیکن اب وہ سب کچھ بھول کر مرےنا کی تائےد کرتے ہوئے بچے سے نجات حاصل کرنے کا مشورہ دے رہاتھا۔یہ سوچ کر ہی اس کے ہوش اُڑ گئے تھے کہ جولی اُمید سے ہے اور اسی کے گناہ کی پرورش کر رہی ہے۔

اس پر خلوص مشورے پر جولی نے پر نم آنکھوں سے شہاب خان کی طرف دےکھا گہری سانس لےتے ہوئے دھےمے لہجے میں بولی:

”اگر محبت اسی کا نام ہے اور تم بھی ےہی چاہتے ہو تو مےںبے وقوف عورت ےقےنا غلطی پر ہوںمےں واقعی حقےقت کو جھٹلا کر مستقبل کے خواب بننے لگی تھی بھول گئی تھی کہ مےں اےک ہپی عورت ہوں۔ مےرا خاندان ، مےرا قبےلہ ،مےری قوم سب ےہی لوگ ہےں۔ہماری کوئی سکونت نہےں ، کوئی پہچان نہےں ۔ ہم مہذب معاشرے کے مردوں کے لیے ایک رات کی راحت تو ہو سکتے ہیں مگر ان کی زندگی نہیں بن سکتے۔ “

جولی کے ماں بننے کی خبر سن کر شہاب خان کے ذہن مےں جن خدشات نے سر اٹھاےا تھا وہ اس کا نےا فےصلہ سن کر دم توڑ گئے تھےوہ مرےنا کے ساتھ مل کر جولی کو قائل کرنے مےں کامےاب ہو چکا تھا کہ ےہ بچہ زندگی مےں آتے ہی اس کے لےے بوجھ بن جائے گااور بچے کا باپ ہر گز اسے قبول نہےں کرے گا۔

ےوں علاج معالجے کے لےے چند ہزار روپے مالی مدد کے نام پر معاملہ طے ہوتے ہی شہاب خان کو اس کمرے اور جولی کے وجود سے گھن آنے لگی محبت دم توڑ چکی تھی، اس کے دل مےں جولی کی اہمےت ختم ہو گئی تھی ۔وہ شکر کر رہا تھا کہ اظہار محبت سے قبل ہی معاملہ کھل گےا ورنہ جولی کو بچے سمےت قبول کر کے اپنے لوگوں کو بہت سے سوالوں کے جواب دےنے پڑتے۔

اسی وقت ڈےوڈ کھانا لے آیاتو بھوک سے نڈھال ہپی پیٹ کی آگ بجھانے لگے

کانچ کی محبت کرچی کرچی ہو چکی تھی۔ دلوں میں پیدا ہونے والے جذبات سودے بازی کی نذر ہو گئے تھے اب وہاں رکنا وقت کا ضیاع تھا لہٰذا شہاب خان مطمئن انداز میں کمرے سے باہر آگےا جہاںبہادر خان ےہ معاملہ ذہانت سے نبٹانے پر اسے داد دےنے کے لےے تیار کھڑا تھا۔

-٭-٭-٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

: "آخری جلسہ” … آندرے گروشینکو (روس… ستار طاہر

: "آخری جلسہ” آندرے گروشینکو (روس ستار طاہر بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے