سر ورق / ناول / ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر11

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر11

ڈھل گیا ہجر کا دن

نادیہ احمد

قسط نمبر11

ابھی پہلی محبت کے …

بہت سے قرض باقی ہیں …

ابھی پہلی مسافت کی …

تھکن سے چور ہیں پاوں …

ابھی پہلی رفاقت کا …

ہر ایک گھاوسلامت ھے …

ابھی مقتول خوابوں کو بھی دفنایا نہیں ھم نے …

ابھی آنکھیں ہیں عدت میں …

ابھی یہ سوگ کہ دن ہیں …

ابھی اس کرب کی کیفیت سے باہر کیسے آ جائیں …

ابھی اس زخم کو بھرنے دو …

ابھی کچھ دن گزرنے دو …

یہ غم کہ نیلگوں دریا …

اتر جائیں تو سوچیں گے …

ابھی یہ درد تازہ ھے …

سنبھل جائیں تو سوچیں گے …

ابھی یہ زخم رِستے ہیں …

یہ بھر جائیں تو سوچیں گے …

دوبارہ کب اجڑنا ھے "—!!!

٭….٭….٭

”جانتی ہوں تمہارا دل دکھا ہوا ہے۔ سانحہ بھی تو کچھ کم نہیں پر یہ سب تو زندگی کا حصہ ہے۔ خوشی اس بات کی ہے برسوں بعد تمہارا بھائی تمہیں مل گیا۔ عمیر کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں۔ میں بس یہ چاہ رہی تھی کوئی رسم ہوجاتی۔بہت دھوم دھڑکا نہیں کریں گے پر سب اپنوں کو جمع کرکے چھوٹی سی تقریب ، بچوں کی خوشی ہوجائے گی“۔نگہت آپا نے بہت سوچ سمجھ کر اور طریقے سے نور فاطمہ سے بات کی تھی۔ یہ بھی خدشہ تھا کہیں وہ دکھی نا ہوجائیں لیکن ان کی بھی مجبوری تھی۔ رشتے کی بات تو چند روز پہلے ہی ان کی دونوں بہنیں باقاعدہ طور پہ بھائی بھابھی سے کر چکی تھیں ، اسی دن سے عمیر بھی اپنی خالہ کے ساتھ جا چکا تھا۔ گھر کے سب افراد کی رضامندی سے ہی رشتہ طے پایا تھا لیکن رسم کے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تھا ۔ نگہت نے دونوں چھوٹی بہنوں اور بیٹے کی صلاح کے بعد ان کی مرضی جاننا چاہی تھی۔

”جیسے آپ کی خوشی آپا، ویسے بھی کچھ غم تو رہتی سانس تک ساتھ چلتے ہیں۔ یہ ہمارے گھر کی پہلی خوشی ہوگی ان شاءاللہ اچھے انداز میں منگنی کی رسم ادا کریں گے۔ بس آپ تاریخ بتا دیں اللہ نے چاہا تو سب انتظام ہوجائے گا“۔ شہباز کے انتقال کو ابھی بس دو ہفتے ہی ہوئے تھے ایسے میں دھوم دھڑکے کا سوچنا ہی دل کو اچھا نہیں لگ رہا تھا پر دنیا کا اصول ہے اس کے ساتھ ہی چلنا پڑتا ہے۔ اس پہ سسرال کے معاملات، انہوں نے دل بڑا کرکے نگہت آپا کو ہاں کہہ دی تھی۔ ابھی عمیر کے پاکستان میں رہتے منگنی ہوجائے تو اچھا تھا ورنہ پھر اس کی جلد واپسی کے امکانات کم تھے۔ دونوں طرف صلاح مشورے کے بعد منگنی کی تاریخ طے کردی گئی تھی اور اس کے ساتھ ہی زور و شور سے تیاریوں کا آغاز ہوگیا تھا۔ نور نے خاور کو بھی کال کرکے کہہ دیا تھا ساتھ ہی اپنی مجبوری بھی بتادی تھی ۔ اس نے بھی اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ پروگرام کی پلاننگ کے ساتھ ہی جیسے گھر کا ماحول تبدیل ہوگیا تھا۔ بیچ میں بس ایک ہی ہفتہ تھا ایسے میں نور فاطمہ کی مصروفیت بھی بڑھ گئی تھی۔ کم سے کم کرتے کرتے بھی اچھا خاصا بڑا فنکشن ہونے والا تھا ۔ جہاں وہ اور ڈاکٹر انصاری خوشی سے بے حال تھے وہیں فریحہ دن با دن خاموش ہوتی جارہی تھی۔ اس کا بجھا بجھا سا انداز اور خود کو حد درجہ اسپتال کے معمولات میں مصروف کرلینا نور انصاری کی نگاہوں سے اوجھل نہیں تھا ۔ پتا نہیں کیوں لیکن انہیں فریحہ کی اچانک خاموشی کوئی پیغام دے رہی تھی۔ رشتہ طے ہونے سے پہلے جب انہوں نے فریحہ سے اس کی رائے معلوم کی تھی تو اس نے عمیر کی طرح انہیں بھی انکار بھی نہیں کیا تھا لیکن اس دن کے بعد سے فریحہ میں انہیں وہ پہلی سی بے ساختگی، زندہ دلی اور گرمجوشی نظر نہیں آرہی تھی۔ کچھ پہ در پہ ہورہے انکشافات اور سانحات تھے جن کی وجہ سے وہ سب ہی ابھی تک نارمل نہیں ہوپائے تھے ایسے میں زندگی معمول پہ آتے آتے بھی وقت لگا تھا ۔

”تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں فری؟“وہ شاپنگ سے واپس آئی تھیں جب فریحہ کو کپڑے دکھاتے انہوں نے بے ساختہ اس سے پوچھا تھا۔ پستئی رنگ کے پیور شیفون پہ بنے نفیس کامدار دوپٹے پہ انگلیاں پھیرتا فریحہ کا ہاتھ تھم گیا تھا۔ نور انصاری اس کی طرف متوجہ تھیں پر اس نے ماں کی طرف دیکھنے سے اجتناب برتتے فقط سر کو نفی میں ہلاتے ان کی بات کا جواب دیا تھا۔ وہ ایک بار پھر اسی ارتکاز کے ساتھ اپنے سامنے پھیلے کپڑے کی طرف متوجہ تھی جیسے اس وقت اس سے اہم اور اس سے بڑھ کر کچھ اور نہیں۔

”مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے تم خوش نہیں ہو۔ میرے لئے تمہاری خوشی سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے میری جان۔ عمیر بے شک بہترین انسان ہے اور یہ ہماری بھی دل و جان سے خواہش تھی وہ ہمارا داماد بنے لیکن اگر ۔۔۔۔۔۔“نور انصاری کے اندر پل رہے خدشات جانے کیوں سر اٹھانے لگے تھے۔ فریحہ نے اس بار سر اٹھایا تھا ۔ آنکھوں میں زندگی تھی نا چہرے پہ خوشی۔ ایک بے نام سی اداسی تھی جس نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ نور انصاری کہتے کہتے خاموش ہوکر ایک ٹک بیٹی کا چہرہ دیکھنے لگیں۔

”میں آپا کو منع کرسکتی ہوں“۔جانے کیسے ان کی زبان سے نکلا تھا۔ گو اس کے مابعد الاثرات خوش آئند ہرگز نہیں تھے پر اس وقت ان کا ذہن فریحہ کی خوشی سے بڑھ کر سوچنا بھی کچھ نہیں چاہتا تھا۔ فریحہ نے ان کے تفکر بھرے چہرے کو دیکھا جہاں ابھی کچھ دیر پہلے آنے والے لمحوں کی خوشی جھلملا رہی تھی اب وہاں سنجیدگی کا راج تھا۔ لب کاٹتے اس نے سر جھکالیا۔ چند لمحے اذیتناک خاموشی کے گزرے اور پھر فریحہ کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔

”میری خوشی آپ کی خوشی میں ہے ممی۔ آپ نے اور ڈیڈی نے ہمیشہ ہمارا اچھا سوچا ہے ۔ اس میں بھی میری بھلائی ہی ہوگی۔ ماں باپ اپنے بچوں کے لئے کوئی بھی غلط فیصلہ نہیں کرتے“۔ماں کا ہاتھ تھامے فریحہ نے اپنی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ کرنے کا اختیار ان کو سونپ کر انہیں مطمعن کر دیا تھا۔

٭٭٭

وہ لاو ¿نج میں رکھا سامان سمیٹ کر ملازمہ کے ہاتھ فریحہ کے کمرے میں بھجوا رہی تھیں جب سمیر گھر میں داخل ہوا۔ کچھ دن سے وہ اس معمول کا عادی ہوچکا تھا۔ منگنی کی تقریب میں بس اب چند روز ہی باقی تھے اسی لئے نور انصاری ان دنوں اسپتال بہت کم جارہی تھیں۔ مہمانوں کی لسٹ، پھر ان کے دعوت نامے تیار کرنے کے ساتھ ساتھ ساری شاپنگ وہی تو کر رہی تھیں۔ اب بھی اس کی آمد پہ دعا سلام کے بعد موضوعِ گفتگو یہی تھا۔

”پھوپھو کب آرہی ہیں؟“باتوں باتوں میں اس نے سوال کیا۔

”سترہ کو“۔نور فاطمہ نے آخری لفافہ بھی ملازمہ کو تھمایا۔

”ہمم تین دن بعد“۔ وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔

”یعنی فنکشن سے بس دو دن پہلے ہی پہنچیں گیں۔ وہ تو مہمانوں سے بھی لیٹ ہورہی ہیں“۔اس بار لہجے میں حیرانی بھی شامل تھی۔

”بتا رہی تھیں سیٹ کا ایشو ہورہا۔ یہ بھی بڑی مشکل سے ملی ہے“۔ نور فاطمہ نے تفصیل بتائی تو اس نے سمجھنے کے سے انداز میں سرہلایا۔

”علینہ کے جانے کے بعد تو گھر خالی خالی سا لگتا ہے۔ اس کی بھی اپنی ہی رونق تھی۔ سوچتی ہوں فری چلی جائے گی تو بالکل ہی اکیلی ہوجاو ¿ں گی میں“۔اس کے چہرے کو دیکھتے نور فاطمہ نے سنجیدگی سے کہا۔ وہ جو ٹانگ پہ ٹانگ جمائے اپنے ہی خیال میں مگن تھا ماں کے اس عجیب و غریب انکشاف پہ قدرے حیرانی سے ان کو دیکھنے لگا۔

”فری کہاں جارہی ہے؟“اس نے ابرو چڑھائے سوال کیا۔

”شادی کے بعد تو چلی ہی جائے گی نا“۔بیگم انصاری زچ ہوئیں۔

”اس سے پہلے تو ابھی ہمارے سر پہ مسلط ہے۔ آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے کل چلی جائے گی“۔اس نے سر ہلاتے اپنے مخصوص انداز میں ایک غیر سنجیدہ بات کو انتہائی سنجیدگی سے کہا تھا ۔ فریحہ ہوتی تو ابھی کے ابھی چوتھی جنگِ عظیم شروع ہوجاتی ۔نور انصاری نے سر تھام لیا۔ ان کی تمہید کا پوسٹ مارٹم انتہائی بے دردی سے جو کیا گیا تھا۔

”اور وہ آپ کی بھتیجی صاحبہ ، جن کو آپ مِس کر رہی ہیں۔ خاصی بے مروت خاتون نکلیں وہ تو۔ پلٹ کر اپنی حسین پھوپھو کی خبر بھی نہ لی“۔ان کے تاثرات کو نظر انداز کرتے وہ مزید بولا۔

”اس کی ماں اتنے سالوں بعد آئی ہے۔ خود سوچو ماں سے بڑھ کر بھی کوئی ہوتا ہے بھلا۔ خیر مہینے دو مہینے میں وہ بھی چلی جائے گی اور یہ معصوم پھر اکیلی کی اکیلی۔ شاکرہ آنٹی ہیں تو سہی پر ماں باپ کی بات کچھ اور ہوتی ہے“۔انہوں نے فوراََ اس کی حمایت کرتے علینہ کا دفاع کیا تھا اور آخر میں ٹکڑا جوڑتے گذشتہ بات کو ایک بار پھر نئے سرے سے شروع کیا۔ سمیر کے فون پہ کوئی میسیج آیا تھا ، وہ انگلیوں سے اسکرین اسکرول کرتا میسیج پڑھنے میں مصروف تھا لیکن کان البتہ ماں کی طرف ہی لگے تھے۔ وہ ایک پل کو رکیں اور پھر کچھ جھجکتے ہوئے کہنا شروع کیا۔

”میں سوچ رہی تھی۔۔۔“بات ابھی ان کے منہ میں ہی تھی جب فون واپس جیب میں ڈالتے سمیر نے ایک دم مداخلت کی تھی۔

”ممی پلیز ہم اسے اڈاپٹ نہیں کرسکتے۔ اچھی خاصی ہیڈک ہوجاتی ہے ایسے پرابلم چائلڈ کے ساتھ“۔ نور چند لمحے حیرانی سے اسے دیکھتی رہیں اور پھر پاس پڑا کشن اٹھا کر سمیر کے دے مارا۔

”اپنی ہی ہانکتے رہنا میری زبان سے فقرہ چھین کر اپنی بے تکی ٹانک دی اس میں“۔وہ باقاعدہ جل کر بولیں۔

”میں تو سوچ رہی تھی منگنی سے پہلے اسے یہاں بلالوں۔ آسیہ سے ریکوئسٹ کروں دو تین پہلے اسے میرے پاس چھوڑ دے۔ فری کے ساتھ تو ویسے بھی اس کی اتنی دوستی ہے۔ ایک اور بات، اس کے لئے بھی تو فنکشن کا ڈریس لینا ہے۔ اسے ساتھ لے جاکر ہی خریدوں گی اب سلوانے کا تو کوئی وقت نہیں۔ “اس سے پہلے کے وہ کوئی مزید نیا شوشا چھوڑتا انہوں نے جلدی جلدی ساری بات اس کے گوش گزار کی۔

”تم ایسا کرنا کل آفس سے واپسی پہ اسے ساتھ لیتے آنا۔ میں شاکرہ آنٹی سے خود بات کرلوں گیں“۔ساتھ ہی ساتھ حکم نامہ بھی جاری کردیا تھا جس پہ وہ محض سر ہلاتا رہا۔

”ایک تو آپ لیڈیز کو شاپنگ کا بہانہ چاہیئے ہوتا ہے۔ موقع بے موقع لاتعداد کپڑے بنا بنا کر رکھتی رہتی ہیں لیکن جہاں کوئی موقع آیا آپ کے وارڈروب کو چوہے کتر جاتے ہیں“۔ جب تسلی ہوچکی کہ ماں اپنی بات مکمل کرچکی ہیں تو اس نے بھی زبان پہ لگ رہی الی اتارنے کا قصد کیا۔

”یہ جس طرح کی باتیں تم مجھ سے کر رہے ہو نا ، ایسی اپنی بیوی سے کرنا پھر چکھائے گی تمہیں مزا وہ“۔اس تمسخرانہ انداز پہ نور انصاری نے بھی اسے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

”چلیں جب تک اس بلا سے آزاد ہیں ہم بھی جھک مارنے کا لائسنس رکھتے ہیں“۔وہ ہنستے ہوئے بولا ۔

”اچھا سنو! تمہیں علینہ کیسی لگتی ہے“؟یہ انتہائی ظالمانہ اور جارحانہ اٹیک تھا ۔ بالآخر اس تمام تر تمہید کا لبِ لباب جو اتنی دیر سے بیگم انصاری اس کے سامنے کر رہی تھیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ ان کی بات پہ کسی بھی قسم کا کوئی ری ایکشن شو کرتا ڈاکٹر انصاری وہاں آگئے تھے۔

”کیا باتیں چل رہی ہیں بھئی ماں بیٹے میں، ذرا ہمیں بھی تو پتا چلے“۔ڈاکٹر انصاری نے صوفے پہ بیٹھتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں ان دونوں کو مخاطب کیا تھا۔

”وہ میں ممی سے پوچھ رہا تھا جب ان کا انٹرسٹ اتنا زیادہ میچ میکنگ کی طرف تھا تو آپ نے ان کا ایڈمیشن میڈیکل کالج میں کیوں کروایا۔ خوامخواہ اتنا وقت اور پیسہ ضائع ہوا۔ ایک میرج بیورو کھول دیتے ۔ اچھی خاصی آمدنی ہوجاتی ۔ اب تک تو ہم کڑوڑوں میں کھیل رہے ہوتے“۔نور کے کچھ بھی کہنے سے پہلے سمیر نے اپنے دل کا بوجھ خوش اسلوبی سے ہلکا کیا تھا۔

”سارے جہان کی شادیاں ہوجائیں گیں بس میں اس کا سہرا دیکھنے کی حسرت لئے بیٹھی رہوں گی“۔ اس جواب نے ان کے ارمانوں پہ ٹھنڈا پانی ڈال دیا تھا۔

”چیک ہاو ¿ ٹیپیکل شی از یار“۔سمیر نے ہاتھ کے اشارے سے انصاری صاحب کی توجہ اس غور طلب امر کی طرف دلائی۔

”ایموشنلی بلیک میلنگ اسٹارٹ کردی“۔بناوٹی رنجیدہ انداز میں وہ ناقابلِ یقین حیرت سے کہہ رہا تھا ۔

”ہاں تو کوئی غلط بات تو نہیں کہی، جب میں تمہاری عمر کا تھا تو تم آچکے تھے مجھے جیلس کرنے“۔ زبیر انصاری نے بیگم کی طرفدرای کرتے اچھا شوہر ہونے کا فرض ایک بار پھر پورا کیا تھا۔

”آپ ہی بتائیں کیا برائی ہے علینہ میں۔ اتنی پیاری ہے۔ پڑھنے لکھنے والی سادی سی بچی۔ کشمالہ کو تو ویسے بھی یہ دو ٹوک انکار کر چکا ہے“۔ میاں کی اسپورٹ ملتے ہی انہوں نے سنجیدگی سے بات کو آگے بڑھایا۔

”میں نے کب کہا اس میں کوئی برائی ہے لیکن یہ بھی خوب ہوئی جس میں کوئی برائی نہ ہو اس سے فٹا فٹ شادی کرلو۔ اس طرح تو میری کئی شادیاں ہوجائیں گیں کیونکہ ایک سے ایک اچھی لڑکیاں بھری ہوئی ہیں“۔نور انصاری کے برعکس وہ اس وقت بے انتہا غیر سنجیدہ تھا۔

”تم بس ایک ہی کرلو تو بہت ہے۔ میری جان پہ یہ بھی احسانِ عظیم ہوگا۔“انہوں نے باقاعدہ دونوں ہاتھ جوڑے۔

”بھئی سچ کہوں تو مجھے تو خود علینہ بہت پیاری لگتی ہے۔ بھولی بھالی، اپنائیت اور چاہت رکھنے والی۔ پھر اپنے گھر کی بچی ہے۔ “زبیر انصاری کے دل کو نور فاطمہ کی بات لگی تھی۔ پھر یہاں وہاں دیکھنے کی بجائے جب گھر میں ہی مناسب رشتہ موجود ہو تو دیر کس بات کی۔

”مجھے اب کوچ کرنا چاہیئے۔ دونوں ہی پارٹیاں میری آزادی کی دشمن ہوچکی ہیں“۔سمیر نے ڈاکٹر انصاری کو بھی ماں کی تائید میں بولتا پاکر وہاں سے کھسکنے کا منصوبہ بنایا اور اپنی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے وہ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔

”جتنا بھاگنا ہو بھاگ لو لیکن میں اب تمہاری ایک نہیں سنوں گی۔ فری کو بھیجوں گی تو ساتھ ہی بہو لاو ¿ں گی ۔ بہت سن چکی ہوں میں تمہارے بہانے“۔اعلانیہ انداز میں کہتے انہوں نے اس بار سمیر کو کھلی دھمکی دے دی تھی۔ وہ کان لپیٹے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ جانتا تھا ابھی اس کی دال گلنے کی نہیں ہے کیونکہ اس بار نور نے انصاری صاحب کو بھی ساتھ ملا لیا تھا۔

٭….٭….٭

وقت کو ان دنوں پر لگ گئے تھے یا شائد اچھے دنوں کی یہی خاصیت ہوتی ہے کہ بناءمحسوس ہوئے گزرتے چلے جاتے ہیں۔ مشکل اور کڑا وقت، بوجھ کی طرح محسوس ہوتا ہے شائد اسی لئے اس بوجھ کو ڈھوتے ہونے والی تھکان اس وقت کو طویل اور ناقابلِ برداشت کر دیتی ہے۔ وہ جب سے گھر لوٹ کر آئی تھی، صبح سے رات ہوتے پتا ہی نہیں چلتی تھی۔ آسیہ کے ساتھ دونوں بچوں کی بدولت گھر میں ویسے ہی رونق لگ گئی تھی۔ ان دونوں کی لگی بندھی زندگی میں آئی اس تبدیلی کا خوشگوار اثر ان دنوں مزاج پہ بھی حاوی تھا ۔ ملنے جلنے والوں کا الگ تانتا بندھا رہتا کیونکہ آسیہ اس بار بڑے طویل وقفے سے پاکستان آئی تھی تو آدھا دن مہمان نوازی کی نظر ہورہا تھا۔ ایسے میں علینہ کو دوبارہ نور انصاری سے رابطہ کرنے کا ہوش ہی نہیں رہا تھا۔ وہ خود تو آسیہ اور شاکرہ سے مل کر جاچکی تھیں اور گاہے بگاہے دو تین بار کال کرچکی تھیں۔ ان دنوں انصاری ہاو ¿س میں کیا چل رہا تھا علینہ کو اس کی بالکل کوئی خبر نہیں تھی۔ آسیہ کی وجہ سے خاور بھی اس سے ملنے نہیں آیا تھا نا ہی اتفاق سے فون پہ بات ہوئی تھی۔ وہ ناشتے کے بعد برتن سمیٹ رہی تھی جب اس کے فون کی بیل بجی۔ اسکرین پہ چمکتے نمبر کو دیکھ کر کچھ حیرت اور نامعلوم سی خوشی نے دل پہ دستک دی تھی۔ بناءسوچے سمجھے ایک پل کی بھی تاخیر کئے علینہ نے کال اٹینڈ کی تھی۔

”کیسی ہو خوبصورت لڑکی؟“اس کی بے ساختہ سی ہیلو کے جواب میں سمیر کا شرارت بھرا جملہ سنائی دیا تھا۔ علینہ سے بہتر اس فقرے کا پس منظر اور کون سمجھ سکتا تھا یہی وجہ تھا کہ اس کی ساری خوشی ایک لمحے میں غارت ہوگئی تھی۔ اتنے دن میں وہ سمیر کی اسے اور فریحہ کو تنگ کرنے والی عادت بخوبی سمجھ چکی تھی اور ہر بار کی طرح آسانی سے چڑ بھی گئی تھی۔

”فون کیوں کیا ہے؟“اس نے نروٹھے پن سے سوال کیا۔ دوسری طرف سمیر کو اندازہ ہوگیا تھا وہ منہ پھلائے ہے ۔

”سوال گندم ، جواب چنا۔ اصولاََ تمہیں پہلے اپنی خیریت بتانی چاہیئے تھی پھر مدعا پوچھتی“۔اس نے بے ساختہ چوٹ کرتے مزے سے کہا۔

”ٹھیک ہوں میں۔ اب بتائیں فون کس لئے کیا“۔علینہ دل ہی دل میں اپنی بدتمیزی پہ شرمندہ ہوئی لیکن غلطی ماننے والوں میں سے تو خیر وہ بھی نہیں تھی لہذا بڑے پتھر مار انداز میں کہتے اس نے سمیر سے فون کرنے کی وجہ دریافت کی تھی۔

”اصولاََ تو ہمارے ہاں کزنز ایک دوسرے کو کال کرتے رہتے ہیں اور اس پہ اتفاق سے ٹیکس بھی نہیں لگتا۔ خیر تمہارا مسئلہ تھوڑا سا ٹیڑھا ہے۔

تم سے ملتے ہوئے تو احتیاطاََ ہیلمٹ پہنا ہوا ہونا چاہیئے“۔۔سمیر نے ریاضی کے مشکل ترین مسئلے کی طرح اپنی بات کو انتہائی آسان بنا کر پیش کرتے ہوئے بڑے مدبرانہ انداز میں کہا۔ علینہ مزید تپ گئی ۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی باقاعدہ فون کرکے بھی کسی کو اس طرح تنگ کرسکتا ہے۔

”کتنے باتونی ہیں آپ؟“ اس نے بے اختیار سر پہ ہاتھ مارا ۔ وہ اگر سامنے ہوتا تو یقینناََ ہاتھ میں پکڑا فون ہی دے مارتی۔

”آپ کے عمیر بھائی سے تو کم ہی بولتا ہوں میں۔ ان کی باتیں تو بہت قہقہے لگا کر سنی جاتی ہیں۔ خیر ہمیں کیا۔ “ سچی بات ہے یہ طنز علینہ کے سر کے اوپر ہی سے گزر گیا تھا۔ اسے کہاں اندازہ تھا در پردہ اس کی عمیر سے ہلکی پھلکی دوستی ڈی سی صاحب کے اعصاب پہ کتنی بھاری پڑ رہی تھی۔ اس کے جتاتے سے انداز پہ ناک چڑھاتے علینہ نے اس کی بات کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کی تھی شائد اسی لئے وہ خاموش رہی تھی۔

”دراصل آپ کی پھوپھو آپ کو یاد کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ان کی ”خوبصورت بھتیجی“ کو فوراََ ان سے ملوانے لایا جائے۔“اس کے کچھ بھی کہنے سے پہلے سمیر نے اسے اپنا کال کرنے کا مقصد بتا دیا تھا۔ یہ بھی خدشہ تھا وہ کہیں غصے میں کال ہی نا کاٹ دے اسی لئے جلدی سے بولا۔

”ٹھیک ہے میں شام تک چکر لگالوں گی“۔علینہ کو تھوڑی سی مایوسی ہوئی تھی۔ وہ جو سمجھ رہی تھی کہ سمیر نے خود اسے کال کی ہے اپنی سوچ کے غلط ہونے پر دل فسردہ ہوا تھا ۔ خود پہ قابو پاتے اس نے اپنے موڈ کو نارمل رکھنے کی کوشش کی۔

”میں آفس سے پانچ بجے نکلوں گا، ساڑھے پانچ تک تمہیں پک کرسکتا ہوں“۔سمیر نے مزید کہا۔

”سڑک سے رکشہ ملتا ہے۔ میں خود چلی جاو ¿ں گی“۔اپنے اندر کی بھڑاس علینہ نے اس کی بات کو فوری رد کرتے ہوئے نکالی تھی۔

”سوچ لو پچھلی بار اسی سڑک پہ رکشے کی طرح تمہارا فلمی ہیرو مل گیا تھا۔ اس کے چکر میں دو بار تم میری کلاس کراچکی ہو میں مزید چانس نہیں۔

لینا چاہتا“۔مونس سے ہوئی بدمزگی تو پہلے ہی اچھی خاصی پریشانی پیدا کرچکی تھی اور جانے انجانے سمیر بھی اس مشکل کا حصہ بن چکا تھا۔ اس کا تو غائبانہ ذکر ہی علینہ کے حلق میں کڑواہٹ انڈیل گیا تھا۔ سمیر نے اس کا حوالہ دے کر گویا اسے باقاعدہ دھمکی دی تھی۔

”ساڑھے پانچ تک تیار رہوں گی میں“۔ اس کا منہ لٹک گیا تھا پھر بھی اس نے سمیر کی بات مان لی تھی۔

”اپنا کچھ سامان بھی رکھ لینا، ان کا پلان ہے فری کی منگنی تک تم وہاں رکو“۔سمیر نے مزید کہا تو علینہ پچھلی ساری باتیں بھول کر ایکدم ہی پرجوش ہوگئی۔

”کیا فریحہ باجی کی منگنی ہو رہی ہے؟ کس سے ہورہی ہے ان کی منگنی؟ انہوں تو بتایا بھی نہیں مجھے۔ ابھی فون کرکے پوچھتی ہوں ان سے“۔ ایک سانس میں اس نے سوال پہ سوال کر ڈالے۔ اس کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں تھا۔ فریحہ سے دلی وابستگی اپنی جگہ، سچ تو یہ ہے اس نے اپنی ساری زندگی میں ایسا کوئی موقع نہیں دیکھا تھا۔ کئی سال سے وہ ملک سے باہر تھی پھر پاکستان آکر بھی اس کی زندگی بہت محدود تھی ، شاکرہ اپنی جگہ سوشل خاتون تھیںمگر علینہ اپنی عادت اور مزاج کی وجہ سے بہت الگ تھلگ رہتی تھی۔ اپنے حالات پہ کڑھنے کے علاوہ اس کا باقی دھیان اپنی پڑھائی پہ تھا جسے وہ صحیح معنوں میں بہت سنجیدہ لیتی تھی۔ اس کے لئے تو یہ کسی فیری ٹیل سا سماں تھا کہ اس کی کزن اور قریبی دوست کی منگنی یا شادی ہونے والی تھی۔

”حوصلہ لڑکی حوصلہ۔۔۔۔مشین گن کی طرح سوالوں کی بوچھاڑ شروع کر دی ہے غریب انسان پہ“۔ اس حیرانی و بے صبرے پن کے ساتھ وہ اس پل سمیر کو بے حد معصوم لگ رہی تھی۔ وہ اس کی ایکسائٹمنٹ کو انجوائے کر رہا تھا۔ اس کے ٹوکنے کے باوجود علینہ نے اس سے ایک ایک تفصیل معلوم کی تھی۔ اگلے چند منٹ وہ اسے رشتے کی تمام تر صورتحال اور منگنی کی تاریخ وغیرہ سے متعلق اپ ڈیٹ کرتا رہا۔ کال بند کرتے ہی علینہ نے شاکرہ اور آسیہ کو ایک ساتھ سمیر کی کال اور فریحہ کی منگنی کی اطلاع دیتے اپنے انصاری ہاو ¿س جانے کے متعلق آگاہ کیا تھا۔

٭….٭….٭

علینہ تو اسی وقت کمرے میں گھس کر اپنا سامان پیک کرنے لگ گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد نور انصاری نے بھی شاکرہ کو کال کرکے فنکشن کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ چند دن علینہ کو ان کے ہاں رہنے کی اجازت طلب کی تھی۔ شاکرہ کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا، انہوں نے بناءتامل اجازت دے دی تھی، ساتھ ہی فریحہ کے لئے بہت سی دعائیں بھی اور اب علینہ اپنے کمرے میں بند تیار ہورہی تھی۔ البتہ جب سے علینہ کے انصاری ہاو ¿س جانے کی بات چھڑی تھی آسیہ کچھ چپ چپ تھی۔ شاکرہ باہر تخت پہ بیٹھیں تھیں اور دونوں بچے بیٹھک میں کھیل رہے تھے جب آسیہ ٹرے میں دو کپ چائے کے رکھے ان کے پاس آکر بیٹھی۔

”علینہ کا وہاں جانا ضروری ہے کیا؟“کچھ سوچتے ہوئے اس نے سوال کیا تھا۔ آواز قصداََ مدہم تھی کہیں علینہ نا سن لے۔

”نہیں ضروری تو بالکل نہیں۔ بس تمہاری بیٹی ہی منہ بسورے پڑ جائے گی جو گھنٹہ بھر سے سامان باندھے بیٹھی ہوا میں اڑ رہی ہے“۔شاکرہ نے بھاپ اڑاتی چائے کی پیالی میں پھونک مارتے بے ساختہ جوا ب دیا۔ انہیں بیٹی کی بات نے حیران تو کیا تھا پر انہوں نے اپنے کسی انداز سے وہ حیرت آسیہ پہ ظاہر نہیں ہونے دی تھی۔

”میں اسے سمجھا دیتی ہوں“۔ماں کو معترض نا پاکر آسیہ نے مزید کہا۔

”کوشش کرلو، ہے تو تمہاری ہی اولاد ضد پہ اڑ جائیں تو اماں باوا کی کب سنی ہے“۔ شاکرہ نے پلیٹ سے بسکٹ اٹھا کر گرما گرم چائے میں ڈبویا اور جھٹ منہ میں ڈال لیا۔

”یہ آپ ہر بات میں مجھے کیوں گھسیٹ لیتی ہیں“۔آسیہ ماں کے طنز پہ جھنجھلا کر بولی۔وہ شاکی نظروں سے ماں کی طرف دیکھ رہی تھی جو مزے سے دوسرا بسکٹ چائے میں ڈبو کر منہ میں ڈال رہی تھی۔

”کیوں نا گھسیٹوں، تین بچوں کی ماں بن گئی ہو۔ خیر سے بیٹی بیاہنے لائق ہوگئی پر مجال ہے جو عقل چھو کر بھی گزری ہو“۔وہ باقاعدہ ہاتھ نچاتے بولیں ۔

”اب میں نے ایسا کیا کہہ دیا امی“۔آسیہ نے شکایت بھرے لہجے میں سوال کیا۔

”یہ تو تم خود سوچو۔ کیا حرج ہے بھلا علینہ کے وہاں جانے میں۔ “وہ کچھ خوار ہوئی تھی۔ شاکرہ عینک کے شیشوں کے اوپر سے بغور آسیہ کا ضرورت سے زیادہ سنجیدہ چہرہ دیکھ رہی تھیں۔

”نہیں میں تو بس یہ کہہ رہی تھی ابھی تو منگنی میں کچھ دن ہیں۔ دن کے دن آپ ہی کے ساتھ فنکشن اٹینڈ کرآتی۔ میں اس کی خاطر یہاں آئی ہوں اور وہ تین دن کے لئے اپنی پھوپھی کے گھر رہنے جارہی ہے“۔اس نے بات بنائی۔ شاکرہ کے لبوں پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔

”آسیہ رانی! یہ بال تمہاری ماں نے دھوپ میں سفید نہیں کئے ہیں۔ اگر تو اتنی سی بات ہوتی تو تم علینہ کو خود ہی پیار سے ٹوک دیتی۔ چہرے پہ تشویش لئے میرے آگے رونا نا روتی“۔تمسخرانہ لہجے میں کہتے انہوں نے بھنویں چڑھائے آسیہ کی طرف دیکھا۔

”میرے چہرے کی تشویش نظر آگئی ہے تو اس کی وجہ بھی تو سمجھ آچکی ہوگی۔ خود ہی سمجھ لیں کیوں نہیں بھیجنا چاہتی میں علینہ کو وہاں“۔ وہ چڑ کر بولی۔

”اب اتنا دماغ نہیں میرا خالی جو تمہاری خوامخواہ کی پریشانی پہ سوچتی پھروں۔ خود ہی پھوٹو منہ سے کون سا غم کھائے جارہا ہے تمہیں“۔ شاکرہ نے ایک ہی گھونٹ میں آدھی چائے کی پیالی خالی کرتے مزے سے جواب دیا تھا۔

”آپ کو علینہ میں بدلاو ¿ نظر نہیں آرہا؟“آسیہ پرتشویش لہجے میں بولی۔

”ظاہر ہے حالات بھی تو بدل گئے ہیں“۔شاکرہ اب بھی پرسکون تھیں۔

”میں ان بدلے ہوئے حالات کی بات نہیں کر رہی ہوں امی۔ مجھے لگتا ہے اس کے باپ کا اندازہ درست تھا۔ شائد علینہ۔۔۔“وہ کہتے کہتے خاموش ہوگئی پر شاکرہ کو تو مانو جیسے پتنگے ہی لگ گئے تھے۔

”اس سے آگے ایک لفظ مت کہنا آسیہ۔ وہ نگوڑ مارا خاور پہلے ہی خرافات کہہ چکا ۔ اس کا باپ نہ مرا ہوتا تو وہ سناتی رکھتا ساری عمر یاد۔ باقی نور فاطمہ نے ساری بات بتا کر میرا غصہ ٹھنڈا کردیا لیکن اب تمہاری نہیں سنوں گی۔ بوڑھی ہوئی ہوں پر ہوش عقل قائم ہیں میرے۔ علینہ ہو یا سمیر دونوں ہی مجھے عزیز ہیں ان کے کردار پہ ایک حرف نہیں سننے والی“۔آواز اندر علینہ تک نا جائے اس مجبوری کو شاکرہ نے بمشکل خود پہ قابو رکھا تھا پر اپنی ناپسندیدگی کا واضح اظہار کرتے اس نے بے حد سختی سے بیٹی کو جواب دیا تھا۔ آسیہ نے بایاں ہاتھ ماتھے پہ دے مارا۔ ہمیشہ کی عجلت پسند شاکرہ کو اپنی بات کا مفہوم سمجھانا کون سا آسان کام تھا جو آسیہ اپنے ادھورے لفظوں سے کر جاتی۔

”اوہو امی ۔۔۔آپ میری بات کا مطلب نہیں سمجھیں۔ مجھے شک ہے علینہ ، سمیر کو پسند کرتی ہے“۔اس نے کھل کر بتایا۔

”شائد وہ لوگ بھی علینہ کو اسی لئے اتنی اہمیت دے رہے ہیں“۔اس کے اندر پل رہے بد ترین خدشات اسے سچ ہوتے نظر آرہے تھے۔

”نور فاطمہ بڑی رکھ رکھاو ¿ والی عورت ہے۔ اوپر سے علینہ اس کی اکلوتی بھتیجی۔ خون کی کشش مارتی ہے انسان کو۔ یہ کھنچاو ¿ تو بڑی فطری چیز ہے باقی اگر ایسا کچھ ہوبھی جاتا ہے تو تمہیں تو خوش ہونا چاہیئے۔ بیٹی اپنوں میں جائے گی۔ ایسا اونچا خاندان اور سب سے بڑھ کر لائق فائق داماد۔ یہ تشویش کس بات کی بھئی“۔البتہ شاکرہ کو اس بات میں سرے سے کوئی برائی نظر نہیں آرہی تھی اس کی وجہ شائد وہ اسے آسیہ کی نظروں سے نہیں دیکھ رہی تھیں۔ جو تعلق ان کا انصاری خاندان سے تھا اس کے مطابق اگر واقعی آسیہ کی سوچ درست نکلی تو یہ علینہ کی خوش بختی تھی مگر آسیہ کے لئے اب نور فاطمہ فقط خاور کی بہن تھی۔ وہ خاور جس سے اسے کانٹے ملے تھے۔ جس نے اس کی امیدوں بھری زندگی کو بنجر و بیابان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جس کی وجہ سے علینہ سالوں سے دربدر ہورہی تھی۔ اور اس رشتے کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بار پھر اسی خاندان میں بیٹی بیاہنا اس کے نزدیک ہرگز عاقلانہ فیصلہ نہیں تھا۔

”لیکن میں یہ سب نہیں چاہتی ہوں“۔وہ دو ٹوک لہجے میں بولی۔

”کیوں بھئی، بھلا اس رشتے میں کیا برائی ہے“۔شاکرہ نے حیرت سے دایاں ہاتھ منہ پہ رکھا۔

”دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے امی۔ برائی اس خاندان میں ہے۔ ان لوگوں کی تربیت میں ہے۔ جس شخص سے مجھے کوئی سکھ نہیں ملا اس کے خاندان سے میری بیٹی کو کیا فیض مل پائے گا۔ اپنا دکھ تو انسان پھر برداشت کرلیتا ہے اولاد کی تکلیف نہیں دیکھی جاتی۔ “اس نے کھل کر اپنے جذبات ماں کے گوش گزار کر دئیے تھے۔

”بہت سہا ہے علینہ نے، بڑی آزمائش دیکھی ہے ہم نے اب آگے کی زندگی اس کی آسودگی اور سکون دیکھنا چاہتی ہوں میں“۔اپنی بیٹی کے لئے درست فیصلہ کرنے کا وہ پورا اختیار رکھتی تھی اسی لئے اپنے خدشات کے زیرِ اثر اس نے وقت پہ نتیجہ نکال لیا تھا۔

”سب کچھ جانتے ہوئے بھی تم انجان بنو تو میں کیا کہوں اب۔ سچ تمہارے سامنے اس دن نور فاطمہ ہی کہہ چکی۔ حالات انسان کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔ یہ تو تقدیر کا لکھا تھا بندہ کیا کرسکتا ہے لیکن اگر میری مانو تو یہ رشتہ ہماری بچی کی خوش قسمتی ثابت ہوگا۔ تم خاور سے خوفزدہ ہو لیکن خاور اور سمیر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ “شاکرہ اس کے درد سے واقف تھیں اور کچھ عرصہ پہلے تک وہ بھی اسی کی طرح سوچتی تھیں بلکہ خاور کو کئی بار جتا بھی چکی تھیں لیکن جب سے حقیقت ان کے سامنے آئی تھی، انہیں خاور پہ ترس آتا تھا جو فطری انسانی ہمدردی کا تقاضہ تھا۔ سب کو زندگی ایک ہی معیار اور پیمانے پہ نہیں ملا کرتی، یہاں کسی کے مقدر میں پھول تو کسی کے دامن میں کانٹے ہوتے ہیں۔ ان کانٹوں کی چبھن اور ان سے رستا خون بڑے بڑوں کی آنکھوں میں آنسو لے آتا ہے۔ یہ مقدر تھا کہ خاور کی زندگی کا خالی پن اور الجھاو ¿ آسیہ اور علینہ کے حصے میں آیا۔ ایک ٹوٹے ہوئے خاندان کا ٹکڑا خاور ان دونوں کو بھی اپنے نوکیلے کناروں سے زخمی کرگیا پر اس میں اس ٹوٹے ہوئے تارے کا کیا قصور تھا جس کے حالات نے اس کے اندر یہ تلخی بھر دی تھی۔

”شائد آپ ٹھیک کہہ رہی ہوں لیکن میں بس اتنا جانتی ہوں خاور سے میرا تعلق مدت ہوئی ختم ہوچکا ہے اور اب اس سے یا اس کے خاندان سے مجھے یا میری بیٹی کو کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیئے“۔وہ بیٹی کی ماں تھی اور مائیں بہرحال اپنی اولاد کی خوشیوں کی خاطر خود غرض ہوجایا کرتی ہیں۔ اس وقت وہ بھی یہی خودغرضی دکھا رہی تھی پھر بھلے اس میں خود علینہ کا ہی دل کیوں نا ٹوٹ جائے۔

”تمہارا تعلق تو واقعی نہیں رہا پر علینہ کے تو سارے رشتے اللہ رکھے قائم ہیں۔ بہرحال جو تم مناسب سمجھو اب میں کیا کہہ سکتی ہوں۔ تم جانو تمہاری اولاد جانے۔ میرا کیا ہے میں تو بھیا چپ ہی بھلی۔“شاکرہ نے آسیہ کے فیصلہ کن جواب پہ ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے اپنی غیر جانبداری ظاہر کی تھی۔ انہیں افسوس ہوا تھا آسیہ کی سوچ پہ لیکن یہ بھی سچ تھا کہ وہ خود ماں تھیں اور جب خود کو اس کی جگہ رکھ کر دیکھا تو اسے درست پایا تھا۔ شائد ان حالات میں وہ بھی کچھ ایسا ہی فیصلہ کرتیں۔ دوسرے ابھی تو یہ سب یک طرفہ سوچ تھی، کیا پتا سمیر یا نور فاطمہ کے دل میں واقعی ایسی کوئی بات ہے بھی یا نہیں۔ اب کہاں ان کا گھر، کہاں انصاری خاندان۔۔۔۔۔شاکرہ نے بحث سے اجتناب کرتے بات ختم کی ۔

”تم اپنی بیٹی کو سمجھا لو فاطمہ کو فون کرکے میں منع کردیتی ہوں۔ خوامخواہ لڑکے کا پھیرا لگے گا۔“ان کا ذہن اب اس نقطے پہ اٹکا تھا کہ انہیں نور فاطمہ سے کیا بہانہ کرنا ہوگا۔

٭….٭….٭

 آسیہ نے کچھ سوچتے ہوئے علینہ کے کمرے میں قدم رکھا، وہ سیاہ شیفون پہ ہم رنگ کڑھائی والے کرتے میں تقریباََ تیار کھڑی تھی۔ اس کا میچنگ دوپٹہ بیڈ کی پائینتی پہ سلیقے سے سجا ہوا تھا۔ کانوں میں اس نے پہلی بار سونے کی چھوٹی چھوٹی جھمکیاں پہن رکھی تھیں۔ یہ جھمکیاں آسیہ دوہا سے اس کے لئے لائی تھی۔ اور بس یہی اس کا واحد سنگھار تھا۔ کلائی میں بندھی اپنی اکلوتی رسٹ واچ کے ساتھ وہ اس پل مکمل لگ رہی لیکن آسیہ کو اس کے چہرے کا سکون اور آنکھوں سے چھلکتی خوشی کے سبب وہ اس دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی۔ کہیں اسے خود آسیہ کی نظر نا لگ جائے اس ڈر سے اس نے نظریں جھکا لیں تھیں۔ یہ پہلی بار تھا کہ علینہ کہیں جانے کے لئے اتنا دل سے تیار ہوئی تھی۔ یہ سوٹ اس نے آسیہ اور شاکرہ سے باقاعدہ مشورہ کرنے کے بعد منتخب کیا تھا ۔ ویسے بھی وہ کالج جانے کے سوا گھر سے باہر کہیں نہیں جاتی تھی اور بس جو ہاتھ لگا وہ پہن لیا کے فلسفے پہ یقین رکھتی تھی۔ اسے عام لڑکیوں کی طرح بننے سنورنے میں کوئی دلچپسی نہیں تھی پر آج اس کا یہ روپ شاکرہ کے ساتھ ساتھ آسیہ کے لئے بھی نیا تھا۔ کچھ بھی تھا آسیہ کے خدشات غلط نہیں ۔ علینہ میں یہ بہت نئی اور حیران کن تبدیلی تھی۔ آسیہ کی اپنے کمرے میں موجودگی سے باخبر علینہ نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا تھا پر اس وقت وہ خود اتنی افراتفری اور ایکسائٹمنٹ میں تھی کہ اس کے چہرے کی سنجیدگی پہ توجہ ہی نہیں دی تھی۔ سیاہ سینڈل کے اسٹریپ بند کرنے کے بعد اس نے اپنا فون چیک کیا تھا اور آسیہ کو یہ ماننے میں کوئی عار نہیں تھی کہ یہ سب بے چینی سمیر کے انتظار میں تھی۔ آسیہ کو اس کی خوشی، اس کا جوش پریشان کر رہا تھا۔ شاکرہ درست کہتی تھیں اس وقت علینہ کو روکنا آسان نہیں ۔ اس کا دل توڑنے کے لئے اسے واقعی بہت ہمت درکار تھی جو بہرحال ایک ماں کا حوصلہ نہیں تھا پھر چاہے وہ کتنا ہی اس رجحان کے خلاف کیوں ہو پر اس وقت کچھ بھی کہنا اس کے ساتھ زیادتی ہوتا۔ آسیہ بمشکل خود کو روکتے ہوئے بس اس کی تیاری اور سامان کا پوچھ کر کمرے سے نکل آئی تھی۔ اس کا چھوٹا سا بیگ تو بیڈ پہ پیک پڑا تھا ۔ علینہ نے اس سے منگنی کا فنکشن اٹینڈ کرنے کا اصرار کیا تھا لیکن آسیہ نے مسکرا کر منع کردیا حالانکہ یہ نور فاطمہ بھی درخواست کرچکی تھیں لیکن سب کو ہی اندازہ تھا وہ خاور کی وجہ سے نہیں جانا چاہتی۔ شاکرہ باہر بیٹھیں نور فاطمہ کو کال ملانے ہی والی تھیں کہ آسیہ نے اسی وقت انہیں روک دیا ۔شاکرہ بیٹی کے چہرے سے جھلکتی بے بسی کو محسوس کرتے یوں مسکرائیں تھیں جیسے کہتی ہوں ۔۔۔”کہا تھا نا میں نے یہ سب اتنا آسان نہیں“۔

٭….٭….٭

انصاری ہاو ¿س بالکل ویسا ہی تھا جیسا وہ چند روز پہلے چھوڑ کر گئی تھی۔ وہی والہانہ پن، وہی مسکراتے چہرے، اپنائیت اور خلوص البتہ اب اس محبت و خلوص پہ علینہ کا دل بے اعتبار نہیں تھا۔ یہ گھر اور یہاں بستے لوگوں نے اپنے رویے سے اس کے اندر چھپے احساسِ کمتری کی جڑیں کمزور کر دیں تھیں باقی کی کمی اس رشتے کے سبب پوری ہوئی تھی جس کا انکشاف اگرچہ نیا تھا پر خون کی صورت رگوں میں برسوں سے دوڑ رہا تھا۔ وہ اس بار نا تو یہاں اجنبی تھی نا پرائی اسی لئے پورے حق سے سب سے ملی تھی۔

”افف مجھے تو یقین نہیں آرہا فریحہ باجی“۔سب سے مل کر آخر کچھ دیر بعد اسے فریحہ کے ساتھ کچھ دیر کی تنہائی میسر آہی گئی تھی۔ وہ دونوں فریحہ ہی کے کمرے میں بیٹھی تھیں۔ فریحہ اسے نور انصاری کے کہنے پہ وہ ساری شاپنگ دکھا رہی تھی جو وہ منگنی کے لئے کر چکی تھیں۔

”یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا“۔علینہ کے جوش کے مقابل فریحہ کا لہجہ بجھا بجھا سا تھا۔ سب کی موجودگی میں تو وہ پھر بھی تھوڑا بہت مسکرا رہی تھی لیکن اب پھر وہی خاموشی کا حصار تھا۔

”عمیر بھائی تو چھپے رستم نکلے۔ کتنی باتیں کرتے تھے میرے ساتھ اور اتنا بڑا راز چھپا لیا۔ ویسے آپ خوش تو ہیں نا“۔علینہ نے فی الفور اس کی سنجیدگی پہ توجہ نہیں دی تھی۔ وہ اس کے کپڑے دیکھ رہی تھی ساتھ ساتھ تبصرہ کرتے اپنی فیلنگز بھی شئیر کر رہی تھی۔ اس نے شرارت سے فریھہ کو چھیڑا لیکن فریحہ میں وہ روائیتی سا جذبہ مفقود تھا۔

”پتا نہیں“۔اس کے دو ٹوک غیر متوقع جواب نے علینہ کو مایوس کیا تھا۔ اسے ایکدم کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔ فریحہ تو بات بے بات ہنسنے مسکرانے والی زندگی سے بھرپور لڑکی تھی اسے ان دنوں پھول سا کھل جانا چاہیئے تھا کہ یہ موقع زندگی میں ایک نیا اور خوبصورت احساس جگاتا ہے پھر وہ کیوں اس وقت اتنی بدلی ہوئی لگ رہی۔

”فریحہ باجی۔۔۔۔“وہ شاک ہوئی تھی۔

”کیا آپ اس رشتے سے خوش نہیں ہیں۔ عمیر بھائی پسند نہیں ہیں آپ کو۔ وہ تو بہت اچھے انسان ہیں“۔اسے ساری صورتحال سمجھنے میں بہرحال زیادہ وقت نہیں لگا تھا ۔

”کیا ضروری ہے صرف اچھے انسانوں کو ہی پسند کیا جائے۔ دل جسے چاہے وہ تو سب سے اچھا ہوتا ہے نا علینہ“۔فریحہ بھی جیسے اس پل دل کا بوجھ کم کرنا چاہتی تھی۔ وہ سب جو وہ اپنے والدین سے نہیں کہہ پائی تھی ایک دوست اور کزن کو کہہ کر خود کو ہلکا کرنا چاہتی تھی اسی لئے اس نے علینہ کے سامنے اپنی ذات کھول کے رکھ دی تھی۔

”مطلب آپ کسی اور کو چاہتی ہیں۔ لیکن یہ بات آپ نے پھوپھو سے کہی کیوں نہیں یا وہ آپ کی شادی زبردستی۔۔۔۔“علینہ کا ذہن الجھ گیا تھا۔ وہ فریحہ کے ساتھ کوئی زیادتی ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور یہ بھی یقین نہیں تھا کہ نور اور انصاری صاحب جیسے سلجھے ہوئے باشعور اور اولاد کو بہترین طرزِ زندگی و تربیت دینے والے والدین اس سے شادی کے سلسلے میں زور زبردستی کر سکتے ہیں۔

”کوئی کچھ نہیں جانتا۔ انفیکٹ عمیر نے بھی اس رشتے سے پہلے مجھ سے پوچھا تھا“۔اس نے فوراََ ہی علینہ کی غلط فہمی ختم کردی تھی۔

”تو آپ منع کردیتیں“۔علینہ کے پاس اس کا آسان اور سادہ حل تھا۔

”اس سے کیا ہوتا۔ سمجھ نہیں آتا جب تعلق بننا ہی نہیں ہوتا تو مقدر کیوں اسے روگ بنا کر ہمارے گلے میں ڈال دیتا ہے“۔بے اختیار چند آنسو فریحہ کی پلکوں پہ سمٹ آئے تھے ۔ علینہ اس سے عمر ، تجربے اور تعلیم میں کم تھی، اس کے شعور کی سطح بھی ظاہر سی بات ہے فریحہ سے مختلف تھی پھر بھی اس وقت وہ اس کی ذہنی اور قلبی کیفیت کو سمجھ رہی تھی، فریحہ کو اس کا ساتھ غنیمت محسوس ہورہا تھا کیونکہ یہاں کوئی ایسا قابلِ عتبار تھا جو بناءکسی ردِ عمل اس کی باتیں سن رہا تھا، سمجھ رہا تھا۔ وہ بس اتنا ہی چاہتی تھی۔ اس سے زیادہ کی خواہش کا نہ وقت تھا نہ ہی دل کو تمنا کیونکہ بات اب وہاں تک جا پہنچی تھی جس سے پلٹ کر آنا دشوار تھا۔

”اوہ میرے اللہ! یہ سب ٹھیک نہیں ہورہا ۔ آپ کی خوشی کے بغیر اس رشتے کا تصور ہی غلط ہے فریحہ باجی۔ آپ اپنے علاوہ عمیر بھائی کے ساتھ بھی زیادتی کر رہی ہیں“۔علینہ نے اسے تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھایا تھا۔ وہ اگر سچے دل سے فریحہ کی خیر خواہ تھی ، اس سے بے لوث محبت کرتی تھی تو عمیر کے لئے بھی اس کے دل میں اچھے جذبات تھے۔ عمیر ایک سچا، دوست طبیعت اور خیال رکھنے والا شخص تھا جس نے بہت کم وقت میں علینہ کو بھی اپنائیت اور عزت دی تو یہ ایک فطری بات تھی اسے عمیر کے ساتھ ہورہی زیادتی پہ افسوس ہوا تھا۔ فریحہ کو اگر من پسند انسان نہیں مل رہا تھا تو عمیر لاعلمی میں دھوکا کھا رہا تھا۔ ایک ایسا بندھن جس میں فقط کمپرومائز اور مصلحتیں جڑی ہوں، زندگی کی خوبصورتی اور بہت سا قیمتی وقت کھا جاتا ہے۔ سچے جذبات کی سب سے بڑھ کر ناقدری کچھ ایسے ہی تعلق میں ہوتی ہے جہاں محبت کا بہاو ¿ یک طرفہ ہو۔

”اس وقت تو بس اتنا جانتی ہوں خود کو وقت و حالات کے دھارے پہ چھوڑ دیا ہے میں نے۔ یہ بہاو ¿ جس طرف بھی لے جائے میں بناءکسی مزاحمت اس سمت چلنے کو تیار ہوں“۔فریحہ بے بسی کی انتہا پہ تھی، اس کے لہجے سے چھلکتی مایوسی علینہ کو تکلیف دے رہی تھی۔ ایک وہ بھی وقت تھا جب علینہ پہ طاری ڈپریشن اور فرسٹریشن کو فریحہ اپنی ہلکی پھلکی باتوں اور دوستانہ مشوروں سے کم کرتی تھی۔ وہ بہت کم وقت میں اس کی بہت بڑی اسپورٹ بن چکی تھی اور آج ایک دل ٹوٹنے پہ علینہ کو اس کا اپنی جگہ کھڑے ہونا حیران کر رہا تھا ۔ تو کیا دل ٹوٹنا اتنا ہی کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے جو انسان سے اس کا سارا اعتماد، اس کی شخصیت کا غرور اور انا چھین لیتا ہے۔

”اپنے ساتھ اتنا ظلم مت کریں ۔ آپ تو بڑی مضبوط اور ہمت والی ہیں۔ “علینہ نے اسے دلاسہ دیا پر ایسے دلاسے فقط لفاظی ہوا کرتے ہیں اس شخص کے لئے جس پہ کوئی افتاد بیتی ہو۔

”بہت مضبوط دکھائی دینے والے لوگ اندر سے بہت حساس اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں علینہ۔ انسان کتنا ہی بہادر کیوں نا ہو وقت و حالات کے سامنے بکھر جاتا ہے اور پھر کیا پتا اسی میں میری بہتری پوشیدہ ہو“۔وہ تلخی سے مسکرائی تھی اور بالآخر اس نے اپنے ساتھ ساتھ علینہ کو بھی قائل کر نے کی کوشش کی۔ وقت و حالات سے سمجھوتہ تو وہ پہلے ہی کرچکی تھی کہ اس کے سوا کوئی دوسرا چارہ بھی نہیں تھا لیکن دل کو سکون تو آتے آتے ہی آتا ہے۔

”جب دل پہ پتھر رکھ کے اتنا بڑا فیصلہ کرچکی ہیں تو پھر چہرے پہ یہ اداسی کیوںہے۔ آنکھوں سے درد کیوں چھلک رہا ہے۔ ہار کی تھکاوٹ ، کارواں لٹنے کا ملال کیوں ہے۔ “علینہ نے اس کا ہاتھ تھام کر سوال کیا۔

”شائد ابھی زخم نیا ہے“۔اس نے اپنی لاجک پیش کی لیکن علینہ نے نفی کے انداز میں سر ہلاتے اس کی منطق کو رد کردیا۔

”نہیں۔۔ اس لئے کہ دل مطمئن نہیں۔ آپ کے اندر اب تک خود سے جنگ چل رہی ہے۔ آپ نے ہار نہیں مانی فریحہ باجی بلکہ اب بھی امید کی ڈوری تھامے آپ اس کی منتظر ہیں“۔بڑی سفاکی سے اس نے فریحہ کو آئینہ دکھایا تھا۔ وہ سچ کہہ ڈالا تھا جس سے وہ خود آنکھیں چرا رہی تھی۔ سینے میں دھڑکتے دل کی بغاوت پہ بند باندھنے کی سعی کر رہی تھی۔

”اور میں یہ بھی جانتی ہوں وہ نہیں آئے گا۔ اسے مجھ سے زیادہ اپنا کرئیر عزیز ہے۔ انسان دو ضروری چیزوں میں سے ایک بہتر اور کارآمد شے کا انتخاب کرتا ہے۔ اس نے میری محبت کو چھوڑ کر اپنے لئے اس سے بہتر چیز کو چن لیا ہے“۔اپنی آنکھوں کو ہتھیلی سے مسلتے اس نے تلخ لہجے میں جواب دیا اور پھر سامنے پڑا سب سامان اٹھا کر الماری میں رکھنے لگی۔ علینہ لب کاٹتی چپ چاپ اس کے بیڈ پہ بیٹھی اس کی پشت کو دیکھتی رہی وہ جانتی تھی ان حالات میں آنکھیں پونچھ لینے سے دل پہ دھرا بوجھ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔

٭….٭….٭

رنگ و نور میں ڈوبی ایک خوشگوار شام انصاری ہاو ¿س میں اتر چکی تھی۔ پوری کوٹھی کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا یوں کہ بیرونی عمارت سنہری روشنی میں نہائی دکھائی دے رہی تھی۔ لان اتنا ویسع تھا کہ آرام سے بڑی گیدرنگ اکٹھی ہوسکتی تھی پھر یہاں بس قریبی لوگ ، دوست و رشتے دار تھے۔ فنکشن کا انتظام انصاری فیملی کے شایانِ شان تھا۔ نگہت آپا، ان کے شوہر اور دونوں بیٹیاں چند روز پہلے ہی پہنچے تھے۔ ابھی عمیر سمیت ان سب کی آمد انصاری صاحب کے فارم ہاو ¿س سے ہوئی تھی جو یہاں سے گھنٹے بھر کے فاصلے پہ تھا اور جہاں اس وقت عمیر ، اس کی فیملی اور انصاری صاحب کی دونوں بہنیں رہائش پذیر تھیں ۔ خوشی سے دمکتے سبھی چہرے اچھے اور خوشگوار لمحوں کو انجوائے کر رہے تھے ۔ لان کے ایک طرف اسٹیج بنایا گیا تھا جہاں عمیر اپنے والدین اور مسٹر و مسز انصاری کے ساتھ بیٹھا تھا۔ علینہ سے اس کی ملاقات آتے ہی ہوچکی تھی اور مبارکباد کے ساتھ وہ اپنی شکایت بھی کہہ چکی تھی۔ نور فاطمہ کے لائے سفید اور سنہری کاٹن نیٹ کے کرتے کے ساتھ سفید غرارے پہ بڑا سا نیٹ کا دوپٹہ سنبھالے وہ نور فاطمہ کے ساتھ ساتھ سب انتظام دیکھتی پھر رہی تھی۔ نور فاطمہ کی فرمائش تھی کہ فریحہ کی بیوٹیشن اس کا بھی میک اپ کرے حالانکہ وہ نہ نہ کررہی تھی لیکن ان کی خوشی کی خاطر اس نے بھی آج ہلکا سا میک اپ کر رکھا تھا اور یہ تبدیلی اس کی شخصیت کو نکھار رہی تھی۔ بڑا نفیس سفید موتیوں کا چوکر (گلوبند) اور دونوں کلائیوں میں سفید اور سنہری ڈھیر ساری چوڑیاں پہنے وہ اپنی مکمل تیاری کے ساتھ وہاں موجود تھی جو بہرحال نظر انداز نہیں کی جاسکتی تھی۔ سب مہمانوں کی آمد کے بعد نور فاطمہ نے اسے فریحہ کو لانے بھیجا تھا جو اس وقت اپنے کمرے میں موجود تھی۔ وہ بھاگم بھاگ گھر کے اندر داخل ہوئی جب سامنے سے آتے سمیر سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔

”آپ کون ہیں محترمہ؟“دیکھ تو وہ اسے بہت پہلے چکا تھا پر بات کرنے کا موقع اتفاق سے اب ہاتھ آیا تھا ۔

”میں وارننگ دیتی ہوں آج میرا مذاق بالکل مت اڑائیے گا۔ ویسے بھی میرا موڈ کچھ ٹھیک نہیں ہے“۔اس کی شرارت کو محسوس کرتے علینہ نے انگلی اٹھا کر بگڑے تیوروں کے ساتھ اسے تنبیہہ کی تھی۔ حالانکہ سب ہی اس کی تعریف کر رہے تھے لیکن سمیر سے بہرحال اسے کسی سیدھی بات کی توقع نہیں تھی اسی لئے حفظِ ماتقدم کے طور پہ پہلے ہی محتاط ہوگئی۔ کچھ اسے فریحہ کو لانے کی جلدی تھی اسی لئے سائیڈ سے نکل کر آگے بڑھی پر سمیر نے ایکدم اس کا بازو پکڑ کر روک لیا۔

”آپ کا موڈ تو بہرحال کچھ لے دے کر ہی ٹھیک ہوگا۔ ویسے یہ اسٹائل کے ساتھ بدلے ہوئے تیور خاصے سوٹ کر رہے ہیں تم پر“۔علینہ نے حیرت سے پہلے اسے اور پھر اپنی چوڑیوں بھری کلائی کو دیکھا جو سمیر کے ہاتھ میں تھی۔ مسکراتے ہوئے اس نے علینہ کا ہاتھ چھوڑ دیا۔

”آپ کو پتا ہے آپ کا پرابلم کیا ہے؟“اس نے لب بھینچے۔

”وہ تو یقینناََ آپ کو معلوم ہوگا“۔دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے وہ بے نیازی سے بولا۔ خود اس نے سیاہ رنگ کا کرتا شلوار پہن رکھا تھا ۔ کرتے کے گلے پہ ہم رنگ نہایت سادہ کڑھائی تھی جو اس کی شخصیت کو چار چاند لگا رہی تھی۔

”آپ کسی کو بھی انتہا کی حد تک اریٹیٹ (عاجز)کر سکتے ہیں“۔علینہ نے منہ پھلائے جواب دیا۔

”ہر کسی کو نہیں بہرحال تمہارا کیس تو ایکسیپشنل(انفرادی) ہے“۔وہ ہنسا۔

”مجھے فریحہ باجی کو لانا ہے، پھوپھو انہیں بلا رہی ہیں اور آپ یہاں بلاوجہ میرے پیچھے پڑ گئے ہیں“۔اسے یقین تھا اس شخص سے کبھی اپنے مطلب کی بات بہرحال وہ نہیں سن پائے گی۔ وہ سنانا بھی چاہے گا تو خود علینہ کا ٹیمپرامینٹ ایسا ہے کہ اسے خوامخواہ غصہ آجاتا ہے۔

”یہ خواہش بھی تمہاری پھوپھو کی ہے یقین نا آئے تو ان سے پوچھ لو“۔تھوڑا سا آگے بڑھ کر سمیر نے علینہ کے کان میں سر گوشی کی تھی۔ اس پل سچ میں اسے اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی محسوس ہوئی تھی۔

”آپ واقعی ایک نمبر کے فضول آدمی ہیں اور شائد اسی لئے اب تک آپ کی شادی نہیں ہوئی“۔چہرے کی اڑی ہوئی رنگت اور اپنی غیر ہوتی حالت پہ قابو پاتے اس نے جھنجلا کر کہا اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔

”اچھا۔۔۔۔یعنی آپ کے خیال میں یہ جو شادی شدہ لوگوں کا مجمع ہے یہ سب عقل والے ہیں“۔سمیر نے اس کی بات کو انجوائے کرتے تعجب کا اظہار کیا تھا۔

”بالکل!“وہ حتمی انداز میں بولی یہ اور بات سب کچھ سر پہ سے گزر گیا تھا اسی لئے تو بات کو کہاں سے کہاں لے گئی تھی۔

”ظاہر ہے انہیں خواتین کو خوش رکھنے کا سلیقہ ہے اسی لئے ہیپیلی میریڈ ہیں“۔اپنی طرف سے اس نے بڑی جاندار دلیل پیش کی تھی جس پہ سمیر کا دل قہقہہ لگانے کو چاہا تھا۔

”اوہ ۔ اس کا مطلب میں کسی لڑکی کو خوش کردوں تو میری بھی شادی کا امکان قوی ہے۔ کیوں؟“اس مشورے پہ علینہ کا دل اپنا سر پیٹنے کو چاہا تھا۔

”اب یہ تو وہ لڑکی بہتر بتا سکتی ہے “۔اس نے کندھے اچکائے اپنی جان چھڑائی۔

”اینی ہاو ¿۔ راستہ چھوڑیں میرا ۔ پہلے ہی اتنا وقت ضائع ہوگیا ہے“۔سمیر سامنے سے ہٹ گیا تھا ۔ علینہ سائیڈ سے نکل کر فریحہ کے کمرے کی طرف جانے لگی جب پہلی بار اینٹرنس میں کھڑی کشمالہ پہ سمیر کی نگاہ پڑی تھی۔

”اوہ ہائے۔ اٹس رئیلی گڈ ٹو سی یو(تمہیں دیکھ کر خوشی ہوئی)۔ مجھے پورا یقین تھا تم ضرور آو ¿ گی“۔ سمیر نے خوش اخلاقی سے اسے ویلکم کرتے ہوئے کہا۔ علینہ نے اس کی آواز پہ پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا اور پھر وہ وہیں رک گئی۔ سامنے کشمالہ اپنے جلوہ آفریں حسن کے ساتھ اس دن کی طرح قیمتی لباس میں پورے اعتماد سے کھڑی تھی۔

”نا آتی تو آج یقینناََ بہت کچھ مِس کر دیتی“۔اس کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ تھی۔ اپنی بات کہتے اس نے ایک نگاہ پیچھے کھڑی علینہ کو دیکھا جو عجیب خجالت کا شکار ہوئی تھی۔ سمیر نے بھی اس کی نگاہوں کی پیروی میں پیچھے مڑ کر علینہ کو دیکھا تھا جو اس وقت اپنے سرخ لبوں کو دانتوں سے بڑی بے دردی سے کاٹ رہی تھی۔ یقینناََ اسے کشمالہ کو دیکھ کر اس دن والا واقعہ یاد آیا تھا اور اب جس طرح اس نے اینٹری ماری تھی ، علینہ کو اس کا وہاں موجود ہونا ڈسٹرب کرگیا تھا۔

”ہم یہاں کیوں کھڑے ہیں، فنکشن تو باہر ہے۔ وہیں چلتے ہیں“۔سمیر نے اس کی بات کو صریحاََ نظر انداز کرتے عام سے لہجے میں کہا اور چند قدم آگے بڑھا۔

”آنٹی نے کہا تم اندر ہو تو اسی لئے تم سے ملنے چلی آئی پر یہاں آکر پتا چلا تم اکیلے نہیں ہو“۔ وہ دونوں اب ساتھ ساتھ لاو ¿نج سے باہر نکل رہے تھے جب علینہ کے کانوں میں کشمالہ کی آواز پہنچی ۔ کچھ دیر پہلے کا سارا فسوں غارت ہوچکا تھا۔ سر جھٹکتی خود پہ قابو پاکر وہ فریحہ کے کمرے میں گھس گئی۔ یوں بھی صبح سے فریحہ کی اداسی اسے پریشان کئے ہوئے تھی۔ وہ آج سارا دن اس کا موڈ ٹھیک کرنے میں لگی رہی اب یہ کہاں سوچا تھا عین موقع پہ اپنا ہی موڈ برباد ہوجائے گا۔

٭….٭….٭

پیور شیفون کی ٹی پنک اور وائٹ خوبصورت کامدار میکسی ، اسٹائلش دوپٹے اور میچنگ جیولری کے ساتھ فنکشن کی مناسبت سے ہوئے میک اپ میں فریحہ اپنی مثال آپ لگ رہی تھی۔ آنکھوں کی اداسی ، کاجل اور گہرے آئی شیڈ و سے چھلکتی انہیں اور بھی دلکش بنا رہی تھی۔ عمیر سیاہ ڈنر سوٹ میں شاندار لگ رہا تھا۔ اسٹیج پہ جب علینہ نے اس کے ساتھ فریحہ کو بٹھایا تو وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھے لگ رہے تھے۔ منگنی کی رسم نہایت خوشگوار انداز میں انجام پذیر ہوئی تھی اور اس کے بعد کھانے کا دور چلا۔ کھانے کے بعد نور انصاری خاور کے ساتھ شاکرہ کی میز پہ چلی آئی تھیں۔ افراتفری میں اب تک نور فاطمہ انہیں وقت ہی نہیں دے پائیں تھیں۔ خاور بھی سب سے الگ تھلگ وہاں بیٹھا تھا۔ حالانکہ نور فاطمہ نے رخشندہ کو بھی دعوت دی تھی پر خاور نے اسے وہاں لانے سے منع کردیا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا اس کی کسی حرکت سے ماحول خراب ہو۔

”ماشاءاللہ علینہ تو آج بہت ہی پیاری لگ رہی ہے“۔اسٹیج سے اتر کر اپنی میز کی طرف جاتی علینہ کو دیکھ کر نور انصاری نے بیک وقت خاور اور شاکرہ کو مخاطب کیا تھا۔

”اور خوش بھی۔ اسے آج سے پہلے تو میں نے ہنستے ہوئے کبھی دیکھا ہی نہیں“۔خاور نے تائیدی انداز میں کہا۔ اتنے سالوں بعد تو آج علینہ پہلی بار اس سے خود ملی تھی۔ اس کا حال احوال پوچھا تھا۔ یوں جیسے برسوں بعد اس نے اسے معاف کردیا تھا اور اس سوچ نے خاور کو بہت ہلکا پھلکا کر دیا تھا۔

”اللہ میری بچی کی خوشیاں سلامت رکھے“۔شاکرہ نے دعا دی۔ وہ خود اسے کھِلا کھِلا یہاں سے وہاں بھاگتا دوڑتا دیکھ کر دل ہی دل میں اس کی بلائیں لے رہی تھیں اور ساتھ ہی آسیہ کے لئے عقل کی دعا بھی مانگ رہی تھیں ۔

”آمین“۔ان دونوں نے ایک ساتھ دہرایا۔

”ٹیپو میں سوچ رہی تھی اگر علینہ اور سمیر کا۔۔۔۔میرا مطلب علینہ کی شادی اگر سمیر سے ہوجائے۔“ نور فاطمہ نے بالآخر اپنے دل کی بات کہہ دی تھی۔ اتفاق سے موقع تھا کہ خاور اور شاکرہ دونوں یہاں موجود تھے اور وہ چاہتی تھیں ان دونوں کے سامنے ہی بات شروع کردیں۔ پچھلی میز پہ بیٹھی سلاد کترتی علینہ نے نور فاطمہ کی آواز سنی تھی۔

”آپا!“علینہ کی طرح خاور کو بھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا۔ خاور نے شکرگزار نظروں سے بہن کی طرف دیکھا تھا۔

”آنٹی آپ کا کیا خیال ہے۔ علینہ جب سے گئی ہے گھر میں سب ہی کو اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ سمیر کو تو آپ جانتی ہی ہیں اگر آپ کو کوئی اعتراض نا ہو تو۔۔۔“شاکرہ کے چہرے پہ بے تحاشہ سنجیدگی تھی۔ انہیں خاموش پاکر نور فاطمہ نے ان کو مخاطب کیا ۔ وہ بڑی امید بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔

”میں تمہارے جذبات سمجھ سکتی ہوں بہو اور ان کی قدر بھی کرتی ہوں۔ تم اس کی پھوپھی ہو تم سے بڑھ کر کون اسے عزت و مان دے گا پھر سمیر تو سب سے بڑھ کر ہے ماشاءاللہ لیکن میں یہ فیصلہ نہیں لے سکتی۔ اس بات کا اختیار تو بس اس کی ماں ہی کو ہے۔ “شاکرہ نے کن انکھیوں سے خاور کو دیکھا جو لب بھینچے وہاں ہر حق سے دستبردار کر دیا گیا تھا۔ ظاہر ہے وہ کیسے بھول سکتا تھا علینہ کے متعلق فیصلہ لینے کا حق بھی اسی کے پاس ہے جس نے اس کی پرورش کی ہے۔

”ظاہر سی بات ہے ماں باپ ہی کو اولاد کی شادی بیاہ کا فیصلہ کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اور علینہ کے معاملے میں تو کل اختیار آسیہ کے پاس ہی ہے۔ میں تو بس آپ دونوں سے اپنے دل کی خواہش بیان کر رہی تھی۔ اگر آپ دونوں کو کوئی اعتراض نہیں تو میں کچھ دن تک باقاعدہ رشتہ لے کر آجاو ¿ں گی۔ میری خواہش ہے فریحہ کی رخصتی کے ساتھ ہی سمیر کی شادی بھی کردوں“۔ نور فاطمہ اس وقت خاور کے دل کا حال سمجھ سکتی تھیں۔ انہوں نے بناءاحساس دلائے اپنا ہاتھ میز پہ دھرے خاور کے ہاتھ کی پشت پہ رکھ دیا تھا جیسے اسے تسلی دے رہی ہوں۔ خاور نے بہن کی طرف دیکھا تھا۔ نور نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے سمجھایا تھا ۔ وہ بہت دھیمے انداز میں مسکراتے ہوئے شاکرہ سے مخاطب تھیں۔

”میں آسیہ سے گھر جاکر بات کروں گی نور فاطمہ پھر تمہیں بتاو ¿ں گی“۔علینہ کی ہر حس حسِ سماعت میں بدل چکی تھی۔ نوالہ اس کے حلق میں اٹک گیا تھا۔ ابھی تو دل نے خواہش کی اڑان بھرنا سیکھی بھی نہیں تھی کہ سب کچھ بناءمانگے جھولی میں ڈالا جانے لگا تھا۔ ابھی تو وہ اپنی اس بے قراری کو کوئی نام بھی نہیں دے پائی تھی۔ اپنے ارادوں سے خود ہی بغاوت کرتے دل سے الجھتی وہ تو ابھی ناں سے ہاں کے درمیان کھڑی تھی اور یہاں ایک ہی جست میں صحرا پار ہوگیا تھا۔ اسے نانی پہ شدید حیرت ہوئی تھی کہ انہوں نے کچھ بھی کہے بغیر ساری بات ماں پہ کیوں ڈال دی ہے۔ اب بھلا نانی کے سامنے اس کی ماں کو بھی کیا اختیار حاصل تھا لیکن وہ آسیہ کی سوچ سے غافل تھی شاکرہ نہیں اسی لئے انہوں نے مصلحت کے تحت بات کو سمیٹ لیا تھا۔

٭….٭….٭

تین دن کس گہما گہمی میں گزرے اور آج صبح سے فنکشن کی تیاری سے لے کر فنکشن ختم ہونے تک ، کوئی ایک لمحہ جو سکون سے بیٹھنے کا ملا ہو۔ اب جو گھر لوٹی تو اونچی ہیل والے سینڈل پہن کر دوڑ بھاگ کرنے سے اس کی ایڑھیاں دکھ رہی تھیں۔ انہیں واپسی پہ دیر ہوگئی تھی اسی لئے خاور نے ان دونوں کو گھر ڈراپ کیا۔ ویسے تو نور فاطمہ بھی ڈرائیور کو بھیج رہی تھیں کیونکہ سمیر مہمانوں میں بزی تھا لیکن خاور نے انہیں روک دیا۔ گھر پہنچ کر وہ ماں اور بھائیوں سے مل کر سیدھی اپنے کمرے میں گھس گئی تھی۔ دوپٹہ بیڈ پہ پھینک کر اس نے سب سے پہلے اپنے تکلیف دیتے پیروں سے ان اونچی کھڑاوں کو الگ کیا تھا اور اب دونوں ہاتھوں سے پاو ¿ں مسلتے انہیں کچھ راحت دینے کی ناکام کوشش کر رہی تھی جب بیگ میں رکھے اس کے فون پہ میسیج کی بیپ سنائی دی تھی۔

”میں سوچ رہا تھا تم پہ بلیک کلر بہت سوٹ کرتا ہے لیکن ابھی کچھ دیر پہلے تم نے میرے خیال کو غلط ثابت کردیا۔ تم سفید رنگ میں بھی خاصی حسین لگتی ہو” خوبصورت لڑکی“۔اس کے واٹس ایپ پہ بلنک کرتا سمیر کا میسیج دیکھ کر اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی۔

”کیا ہوا، تم خوش نہیں ہوئی؟“اس کے میسیج ریسیو کرکے بھی جواب نہ دینے پہ سمیر نے اسے ایک دوسرا میسیج بھیجا تھا۔ ظاہر ہے یہ بھی اسی وقت پڑھا جاچکا تھا جس کی خبر سمیر کو بروقت مل چکی تھی۔ وہ اب بھی شاک میں تھی

”میں سوچ رہا تھا تھوڑی پریکٹیس کرلوں ، کیا پتا میں تمہیں اچھا لگنے لگوں اور شائد اس طرح میری شادی جلدی ہوجائے“۔ اس بار اس نے آنکھ مارتا ایموجی بھی ساتھ ارسال کیا تھا۔

”اتنی گہری خاموشی سے عموماََ ”اعتراف“ مراد لیا جاتا ہے لیکن تمہارے کیس میں اس کا الٹ بھی ہوسکتا ہے“۔اس بار علینہ کا قفل ٹوٹا تھا۔

”نہیں“۔بے اختیار اس نے ریپلائی کیا تھا۔

”کیا نہیں ؟ ”ہاں“ کے ”نا“۔وہ اب اسے گھیرنے کے موڈ میں تھا۔

”گڈ نائٹ“۔علینہ نے نچلا لب دباتے اپنی ہنسی کو روکا اور واٹس ایپ بند کرکے موبائل سائیڈ پہ رکھ دیا۔ ایک ہی دن میں اتنے بہت سے انکشافات اس کی جانِ ناتواں پہ بھاری ہورہے تھے۔

”کیا یہ سب آج کے آج میری جان لے کے چھوڑیں گے“۔ اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے سوچا تھا۔ فنکشن میں کشمالہ کو دیکھ کر اور سمیر کے ساتھ اس کی نارمل بول چال کے علاوہ اس کے علینہ پہ اچھالے گئے طنزیہ جملے گھر آنے تک اس کے منہ کا مزہ کرکرا کرتے رہے تھے۔ بظاہر اس نے ان دونوں پہ کوئی توجہ دی تھی نا ہی اپنے موڈ پہ اس کا اثر آنے دیا تھا پر دل کچھ اداس ہوگیا تھا۔ بے اختیار پہلی بار اس نے اپنا موازانہ کشمالہ سے کیا تھا اور بڑی مایوس ہوئی تھی۔ لیکن اس وقت نور فاطمہ کی باتوں سے دل کو کچھ حوصلہ ہوا تھا۔ اگر سمیر کا رجحان کشمالہ کی طرف ہوتا تو وہ کبھی علینہ کے لئے سوال نا اٹھاتیں اور اب اس طرح اچانک سمیر کے میسیج۔ اس کی طرح اس کا تعریف کرنے کا انداز بھی غیر معمولی تھا۔ دو لفظوں میں اسی وقت کہہ دیتا کہ علینہ تم اچھی لگ رہی ہو تو بیتے لمحے کس قدر حسین بن جاتے پر اسے تو فقط علینہ کو چڑانے میں مزا آتا تھا۔ اس کا جلتا کڑھتا، سرخ ہوتا چہرہ اور ماتھے کی تیوریاں دیکھ کر وہ حِظ اٹھاتا تھا۔ ان سب باتوں کے بعد آج رات کم سے کم نیند تو اس کی آنکھوں سے بغاوت کرچکی تھی۔ اور پھر کچھ وہ اس خوف سے بھی سونا نہیں چاہتی تھی مبادا وہ خوابوں میں ہی نا چلا آئے۔ ایک میسیج کا جواب تو ڈھنگ سے دے نہیں پائی اس کا سامنا کیسے کرے گی۔

٭….٭….٭

اس نے نیند سے بوجھل ہورہیں سرخ آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے وارڈ بوائے کو دیکھا تھا۔ وہ اسے کچھ بتا رہا تھا لیکن اپنی ہی سوچوں میں گم اس کا شل ہوتا دماغ کچھ بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔

”وہاں ایمرجنسی سے کال آرہی ہے آپ کی سر“۔ ا س نے ایک بار پھر اپنی بات کو دہرایا تھا۔ اس بار الفاظ اس کی سمجھ میں آئے تھے ۔ اسی لئے اس نے سر کے اشارے سے اسے جواب دیتے رخصت کیا تھا لیکن وہ اب بھی اپنی سیٹ پہ ہی بیٹھا ہوا تھا۔ پچھلے ایک ماہ سے اس کی ڈبل ڈیوٹیاں چل رہی تھیں۔ ایک ڈاکٹر کے اچانک چھٹی جانے کے بعد سے کام کا دباو ¿ بڑھ چکا تھا اس کے ساتھ اس کی ذمہ داری بھی۔ کچھ ان دنوں وہ ویسے بھی یو ایس ایم ایل ای کی تیاری میں مصروف تھا تو جاب سے ملنے والا باقی کا وقت اس کا پڑھائی میں گزر جاتا تھا لیکن جس دن سے اسے فریحہ کی کال آئی تھی اس کا اطمینان غارت ہوگیا تھا۔ فریحہ نے کئی بار کی کوشش کے باوجود اس کی کال اٹینڈ کی تھی نا ہی اس کے کسی میسیج کا جواب دیا تھا۔ اس درجہ بے اعتنائی پر وہ پاگل نہ ہوتا تو اور کیا کرتا۔ کس سے کہتا، کسے سناتا کہ دل پہ اس وقت کیا گزر رہی تھی۔ فریحہ کی تلخ آنسوو ¿ں میں بھیگی آواز اسے ایک پل سونے نہیں دیتی تھی۔ زندگی کی ہر کیلکولیشن، ہر ضابطہ ، وہ لگی بندھی سوچ فریحہ کی اس ایک کال کی بدولت ریت کے ڈھیر کی طرح بکھر گئی تھی۔

 فارس زندگی کی بساط پہ دل کی بازی اپنے ہی ہاتھوں ہار چکا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بلاوا … خورشید پیر زادہ … قسط نمبر 3

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر 3 ”جی-“ بڑی مشکل سے گھٹی ہوئی آواز شروتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے