سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر8

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر8

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر8

الحان بہت خوش تھا…. نک سک سا تیار ہوا، گنگناتا وہ اپنے کیبن سے باہر نکلا…. کیبن سے باہر قدم جماتے ہی، سامنے نظر اٹھاتا وہ ایک دم ساکت سا ہو کھڑا ہوا…. مانہ ازحد خوشگوار موڈ میں عاشرزمان کے ساتھ ساحل پر بیٹھی دکھائی دی تھی…. الحان تیوری چڑھائے لب بھینچے قدم بہ قدم ان دونوں کی جانب بڑھنے لگا….

”سو!…. تمہیں الحان پسند ہے؟“

”افکورس نوٹ…. ہرگز نہیں….“

عاشر بغور اس کے مسکراتے چہرے کا جائزہ لینے لگا تھا….

”تمہیں معلوم ہے…. کہ کریو (Crew) تم دونوں کے بارے میں کیا کیا باتیں کر رہا ہے؟“

عاشر اثبات میں سر ہلاتے ہی متانت سے گویا ہوا تھا…. مانہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. وہ بول رہا تھا….

”الحان جس طرح کی اٹینشن تمہیں دیتا آیا ہے اور دے رہا ہے…. میں اچھے سے سمجھ سکتا ہوں….“

”ہوں…. مجھے نہیں معلوم الحان کا کیا مسئلہ ہے…. لیکن میری طرف سے ایسا کچھ بھی نہیں ہے عاشر!“

عاشر اثبات میں سر ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا….

”اوکے…. مجھے بس کنفرم کرنا تھا…. انجوائے یور ڈے!“

”ہوں….“

عاشر واپسی کی جانب مڑ چکا تھا جبکہ مانہ کچھ سوچتی سمندر کی لہروں پر نظریں جما بیٹھی تھی…. اگلے ہی پل بلا ارادہ وہ سر گھما کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی تھی کہ اس کی نظر الحان اور عاشر دونوں پر جا رُکی…. وہ دونوں اسی کی جانب دیکھتے نجانے کیا باتیں کر رہے تھے…. وہ حیران ہوئی پھر عاشر کے آگے بڑھتے ہی الحان کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ وہ ایک بار پھر سے سمندر پر نظریں جما بیٹھی….

”گڈ مارننگ لیڈی!“

وہ اس کے نزدیک پہنچتے ہی اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوا…. جواباً مانہ بمشکل مسکراتے ہوئے گویا ہوئی….

”گڈ مارننگ!“

جینز اوپر کی جانب کھینچتا وہ وہیں اس کے ساتھ ہی برابر میں بیٹھ گیا….

”عاشر کے ساتھ کیا باتیں چل رہی تھیں؟….“

سمندر کی لہروں کو محور بنائے وہ متانت سے گویا ہوا….

”کچھ خاص نہیں…. بس ویسے ہی ادھر اُدھر کی بات….“

اس نے کندھے اُچکائے….

”پھر بھی…. کیا باتیں؟“

وہ براہ راست اس کی جانب دیکھتا گہری سنجیدگی سے گویا تھا….

”کچھ بھی نہیں….“

”تم…. عاشر کو پرسنلی جانتی ہو؟“

”کیا مطلب ہوا اس سوال کا…. افکورس میں جانتی ہوں عاشر کو…. میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ہم دونوں کے بیچ ایک کانٹریکٹ ہوا ہے اس سٹوپڈ شو کو لے کر…. آپ بھول گئے؟“

وہ بے ساختہ بولی….

”لیکن میں پوچھ رہا ہوں کہ کیا تم عاشر کو پرسنلی جانتی ہو….؟ اس شو سے ہٹ کر؟“

مانہ تیوری چڑھائے اس کی جانب دیکھنے لگی…. وہ ازحد سنجیدہ دکھائی دے رہا تھا….

”الحان! میں اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی…. آپ کے ان تمام اسٹوپڈ سوالوں کے جواب دے کر…. اس لیے پلیز….“

وہ کہتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی….

”اور پلیز…. ڈونٹ ٹچ می!“

الحان کا اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش پر وہ بھڑک اٹھی…. الحان گہری سانس کھینچتا اٹھ کھڑا ہوا….

”اوکے…. آئی ایم سوری…. لیکن میں خوش ہو ںکہ مجھے میری پرانی والی مانو واپس مل گئی….“

”پتا نہیں کیا بولتے رہتے ہیں…. میری سمجھ سے تو باہر ہیں آپ….“

وہ قدم بہ قدم آگے کی جانب بڑھنے لگی…. الحان اس کے تعاقب میں تھا….

”مطلب یہ کہ تمہیں کچھ بھی یاد نہیں؟…. کہ کل رات تم مجھے اپنے پلان کے بارے میں سب کچھ صاف صاف بتا چکی ہو…. کہ یہ سب کچھ تم نے کیوں کیا…. اور تو اور، تم اتنے نشے میں تھیں کہ….“

”نشہ…. میں نے زندگی میں کبھی نشہ نہیں کیا…. لاحول ولا قوة…. حد ہوتی ہے جھوٹ بولنے کی الحان!“

وہ اس کے مقابل کھڑی غصہ سے پھنکارنے لگی…. الحان اپنی مخصوص مسکراہٹ لبوںپر بکھیرے براہ راست اس کی جانب دیکھنے لگا….

”بہت اچھا لگتا ہے…. تمہارے منہ سے میرا نام سننا….“

وہ آنکھیں نکالے اسے گھورنے لگی….

”اور یہ تمہارا غصہ…. بات بات پر روٹھنا…. قسم سے بہت مِس کیا میں نے تمہیں مانو!“

وہ نظروں کا زاویہ گھماتی ایک بار پھر سے آگے کی جانب بڑھنے لگی….

”اور بائے دی وے…. میں جھوٹ نہیں بول رہا…. تم کل رات نشہ میں تھیں اور تمہی نے مجھے بتایا کہ تم ایکٹنگ کر رہی تھیں صرف اس لیے تاکہ میں تم سے دور رہوں…. اور سنو میری بات! تم اپنی ایکٹنگ میں فیل ہو گئیں…. تم نے مجھ سے اپنی میرے لیے پسندیدگی کا اظہار بھی کیا….اور تو اور، تم نے مجھے کِس (Kiss) بھی کیا….

وہ اس کے تعاقب میں چلتا کل رات کی سچائی بیان کرتے کرتے ساتھ میں ایک جھوٹ بھی گاڑھ گیا…. تیزی سے اٹھتے آگے کی جانب بڑھتے قدم ایک جھٹکے سے رُکے…. وہ حواس باختہ آنکھیں پھیلائے الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”کیا….؟“

”یس….!“

وہ معنی خیز مسکراہٹ سجا کھڑا ہوا….مانہ رونے کو آئی تھی، اس کے ہاتھ پیر پھولنے لگے تھے

”اوکے اوکے …. تم نے مجھے کِس نہیں کیا…. پلیز رونا نہیں…. لیکن میں جھوٹ نہیں بول رہا…. کل رات تم نے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور مجھے صاف لفظوں میں بتایا کہ تم مجھے خود سے دور کرنے کے لیے ایکٹنگ کر رہی تھیں…. بولو…. یہ سب سچ ہے یا نہیں؟“

وہ براہ راست اس کی آنکھوںمیں جھانکنے لگا…. مانہ کو کچھ یاد نہ آ رہا تھا…. لیکن وہ سچ بول رہا تھا…. کچھ تو ہوا تھا کل رات جس کا لمحہ بھر اس کے اوسان سے ٹکراتا دکھائی نے دے رہا تھا…. وہ نادم دکھائی دینے لگی…. الحان مسکراتا ہوا الٹے قدموں واپس جاتے راستے کی جانب بڑھنے لگا….

”ویلکم بیک مانو!“

اپنے اندازمیں بولتا وہ واپس پلٹ گیا…. جبکہ مانہ وہیں کھڑی پیچ و تاپ کھاتی لب بھینچ کر رہ گئی….

ض……..ض……..ض

”Hi الحان!“

سحر نے الحان کو چوب محل کے دروازے سے اندر داخل ہوتے دیکھ، میگزین فولڈ کرتے ہی شیریں لہجے میں مخاطب کیا…. الحان اس کی جانب دیکھتے ہی بے ساختہ اثبات میں سر ہلانے لگا…. اسے یاد آ گیا تھا کہ کل رات، سحر کس قدر حقات بھری نگاہوں سے مانہ کی جانب دیکھ رہی تھی اور اس کا لہجہ بھی اس کے ساتھ کس قدر تلخ تھا…. اسے اگنور کرتا وہ کاﺅچ پر سے کشن اٹھاتا دھڑام سے کاﺅچ پر براجمان ہو گیا۔

"I have a news, ladies!”

الحان کی مسحور کن بارعب آواز سماعت سے ٹکراتے ہی وہاں پر موجود تمام لڑکیاں ایک ساتھ سر اٹھائے اور موڑے، چہرے پر خوشگوار مسکراہٹ سجائے الحان کی جانب متوجہ ہوئی تھیں….

ض……..ض……..ض

”فائنلی!…. آشلے کو الحان کے ساتھ پرسنل ڈیٹ کا موقع مل ہی گیا….“

تیکھے نین نقش کی مالکہ صاحبہ (برٹش مسلم) اپنی بڑی بڑی آنکھیں جھپکاتی، لمبے سلکی تراشیدہ بالوں کو جھٹکا دیتی ایک انداز سے گویا ہوئی تھی….

اس کا نام تشہیر ہونے کے بعد وہ پھولے نہیں سما رہی تھی…. خوشی کے مارے پاگل ہوئی چلی جا رہی تھی….

اس بار مسکان نے لقمہ دیا…. مانہ دلچسپی سے ان دونوں کی باتیں سنتی، اپنا لنچ بنانے میں مصروف رہی….

”تم نے اس کا ڈریس دیکھا تھا؟…. یار!…. کس قدر شاندار ڈریس تھا…. اتنی تیاری کے ساتھ ڈیٹ پر گئی ہیں میڈم کہ بس….!“

مسکان بات مکمل کرتے ہی لمبی ٹھنڈی سانس کھینچ کر رہ گئی….

”اچھا….! کہاں پر ہے ڈیٹ؟“

غیردلچسپی کا مظاہرہ کرتی مانہ متانت بھرے انداز میں پوچھنے لگی….

”سمندر کے بیچ و بیچ،یاٹ پر ڈیٹ ہے ان دونوں کی…. اور جس طرح سے وہ میڈم تیار ہو کر گئی ہیں…. آئی بیٹ…. الحان آج فل فدا ہونے والا ہے آشلے پر….“

بسکٹ کا مزہ لیتی (برٹش مسلم) فارا بھی اب کے میدان میں کود پڑی تھی۔ مانہ خاموشی سے اثبات میں سر ہلانے لگی…. اسے ان سب کی پرواہ نہ تھی کہ الحان کس کے ساتھ ڈیٹ پر جاتا ہے اور کس پر فدا ہوتا ہے…. وہ ان سب کی باتیں اگنورکرتی اپنے کام میں مصروف رہی….

ض……..ض……..ض

”اس دن پارٹی کے بعد میں نے تمہیں کانٹیکٹ کرنے کی بہت کوشش کی الحان!…. لیکن تم تک پہنچنا، تم سے رابطہ کر پانا کوئی آسان کام تو نہ تھا…. میری بیڈ لک چلتی رہی…. پھر جب مجھے معلوم ہوا کہ تم اس رئیلٹی شو کے Bachelor ہو تو یقین جانو…. میںایک دم خوشی سے اُچھل پڑی…. اور پہلی فرصت میں عاشرزمان کے آفس پہنچ گئی…. مجھے اس شو میں آنا تھا…. صرف تمہارے لیے…. قسمت نے میرا ساتھ دیا…. اور آج دیکھو…. ہم تم دونوں ایک ساتھ ہیں….“

یاٹ پر آمنے سامنے رکھی گئی کرسیوں پر وہ دونوں براجمان تھے…. آشلے اپنے کرل کیے گئے بالوں کی لٹوں سے کھیلتی مسحور کن انداز میں محو گفتگو تھی…. الحان لبوں پر ہاتھ رکھے بغور اس کی جانب دیکھتا اس کی گفتگو پر دھیمے سے مسکرا دیا تھا….

موسم بہت خوشگوار تھا…. ابر کا سا سامان تھا…. بادل اُمڈ اُمڈ کر گھرے چلے آ رہے تھے…. خنک ہوا بھی ادھر سے اُدھر کھیلتی پھر رہی تھی…. یاٹ فل سپیڈ سے سمندر کا سینہ چیرتی نجانے کون سی منزل کی طرف رواں دواں تھی…. آشلے میرون سلک میکسی میں ملبوس، لائٹ سا میک اَپ اور بالوں کو کرل کیے بے انتہا خوبصورت لگ رہی تھی…. الحان بغور دلچسپی سے اس کا جائزہ لیتا دکھائی دیا تھا….

آشلے واقعی بے انتہا خوبصورت تھی لیکن اس کے پاس مانہ جیسی آنکھیں نہ تھیں، مانہ جیسی خوبصورت مسکراہٹ نہ تھی…. مانہ جیسی پرسنیلٹی نہ تھی اور نہ ہی وہ مانہ جیسی سوچ کی مالکہ تھی…. الحان نے ہر انداز سے آشلے کو مانہ کے ساتھ تشبیہہ دینے کی کوشش کی تھی…. نتیجتاً مانہ اسے ہر انداز ہر زاویہ سے بالکل مختلف، بالکل الگ اور بارعب دکھائی دی تھی….

”لڑکی کمال کی ہے…. لیکن مانو سے بڑھ کر نہیں…. اس کی آنکھیں بھی خوبصورت ہیں…. مگر مانو کی آنکھوں کی بات ہی الگ ہے…. اس کی آنکھوں میں ڈوب جانے کو دل چاہتا ہے….“

وہ اپنی ہی سوچ پر دھیمے سے مسکرا دیا…. اگلے ہی پل وہ اپنے ذہن میں اُبھرتی تمام سوچوں کو جھٹکتا، مکمل طور پر آشلے کی جانب متوجہ ہو بیٹھا تھا…. وہ دونوں تقریبا ایک آدھ گھنٹے تک یونہی بیٹھے باتیں کرتے رہے….

”میں شو کے پہلے دن سے انتظار میں تھی…. اور میری خواہش تھی کہ ہم تم کسی ایسی ہی ڈیٹ پر جائیں…. سہانا موسم ہو، میرے اور تمہارے سوا دور دور تک اور کوئی نہ ہو….“

وہ مسحورکن انداز میں بولتی اٹھ کھڑی ہوئی…. اور دھیرے دھیرے چلتی یاٹ کی گرل تھامے موجوں پر نظر دوڑاتی وسیع خوبصورت آسمان کی جانب دیکھنے لگی…. الحان بھی اس کے تعاقب میں چلتا، اس کے برابر میںجا کھڑاہوا…. الحان کی نظروں کا محور وسیع خوبصورت آسمان تھا…. آشلے نظریں گھما کر دلکش نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھتی، اپنے بازو الحان کے بازوﺅں میں پھنساتی اس کے شولڈر پر اپنا سر ٹکا کھڑی ہوئی…. الحان اس کی اس اچانک حرکت پر یکایک چونک اٹھا….

”کیمرے لگے ہیں میڈم!…. بے کیئر فل!“

وہ اسے محتاط کرنے لگا….

”جانتی ہوں…. لیکن مجھے کسی کی پرواہ نہیں….“

وہ اپنے انگلش لہجہ میں مسحور انداز میںبولتی آنکھیں موندے اس کے لمس کو محسوس کرنے لگی….

”دیکھو آشلے! میں تمہاری فیلنگز سمجھ سکتا ہوں…. لیکن پلیز ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ…. فی الحال ہم دونوں کا اتنا بے تکلف ہونا ٹھیک بات نہیں…. پوری دنیا دیکھے گی یہ شو…. آئی ہوپ یو انڈرسٹینڈ!“

وہ تحمل بھرے اندازمیں، بڑی مہارت سے اسے خود سے جدا کرتے ہوئے بولا…. آشلے اب براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگی….

”تمہیں واقعی پوری دنیا کی پرواہ ہے…. یا مانہ کی؟“

”مطلب؟“

مانہ کے نام پر وہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”تمہیں معلوم ہے؟…. جزیرہ پر موجود تمام لوگ ایک ہی افواہ پھیلائے چلے جا رہے ہیں….“

وہ دونوں متانت بھرے اندازمیں اک دوجے کی جانب دیکھ رہے تھے….

”کیسی افواہ؟“

الحان نے پوچھا….

”یہی…. کہ تم ہم سب لڑکیوں میں مانہ کو زیادہ اہمیت دیتے ہو….“

وہ جیلسی کا مظاہرہ کرتی اپنی آنکھیں گھما کر رہ گئی…. الحان کو اس کا انداز پسند نہ آیا تھا…. تبھی وہ تیوری چڑھائے اس کی جانب دیکھتا زیرلب بڑبڑایا….

”مانو؟“

”اوہ…. تو اس کے لیے سپیشل نام بھی منتخب کیا ہوا ہے آپ جناب نے….“

وہ جل بھُن کر رہ گئی…. الحان جواباً کچھ نہ بولا….

”تم اسے پسند کرتے ہو؟“

جیلسی اس کے لہجے اور چہرے سے ٹپکتی دکھائی دی تھی….

”مجھے تمہارے سمیت جزیرے پر موجود تمام لڑکیاں پسند ہیں….“

وہ برجستہ بولا….

”تمہیں مانو پسند نہیں؟“

وہ بغور اس کی آنکھوں میں جھانکتا پوچھ رہا تھا…. آشلے نخوت سے ناک چڑھا کر رہ گئی….

”وہ بہت عجیب لڑکی ہے….“

”ہاں…. عجیب تو ہے وہ….“

وہ سوچتے ہوئے دھیمے سے مسکرا دیا….

”اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ اس شو میں رہنا بھی نہیں چاہتی….“

”ہوں….“

وہ اس سے زیادہ کچھ کہہ بھی نہ پایا….

”مجھے لگتا ہے…. یہ سب اس کا پلان ہے….“

وہ اپنے نیلز کا جائزہ لیتی متانت سے گویا ہوئی….

”پلان؟“

وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”تمہاری مکمل توجہ حاصل کرنے کے لیے اس نے خود کو ہم سب سے الگ اور مختلف ظاہر کیا…. تاکہ تم اسے نوٹس کر سکو….“

”میری توجہ تم سب پر ہے…. میں تم سب کو نوٹس کرتاہوں….“

وہ چلتا ہواواپس ٹیبل کے پاس آ کھڑاہوا….

”خیر….! چھوڑو ان سب باتوں کو…. یہ ہماری ڈیٹ ہے اور ہمیں صرف اپنے ہی بارے میںبات کرنا چاہیے….“

گلاس میں جوس انڈیلتا وہ خوشگوارلہجے میں گویا ہوا…. آشلے مسکرا دی…. اور ایک بارپھر سے اپنے بارے میں باتیں کرنے لگی…. الحان چہرے پر مسکراہٹ سجائے اس کی گفتگو سنتا رہا…. لیکن اندر ہی اندر وہ مانہ کے لیے خاصہ پریشان ہونے لگا تھا….

”مانو صرف مجھے ہی نہیں…. بلکہ اس جزیرہ پر موجود ان تمام لڑکیوں کے تلخ رویوں کو بھی برداشت کر رہی ہے۔“

من ہی من میں سوچتا وہ لب بھینچ کر رہ گیا….

ض……..ض……..ض

”ہم عجب لوگ ہیں…. موقع ضائع کر دیتے ہیں…. پھر ان کی تلاش شروع کر دیتے ہیں…. جانے کے بعد کون واپس آتا ہے؟…. موقع تو کبھی واپس نہیں آیا…. جو گیا…. وہ واپس نہیں آیا…. اور جو واپس آیا…. وہ، وہ نہیں تھا جو گیا تھا…. وہ کچھ اور ہی تھا…. دھاگہ ٹوٹ جائے تو اسے جوڑا جا سکتا ہے…. لیکن! گرہ ضرور لگ جاتی ہے…. ہم ہمیشہ حسرت میں رہتے ہیں…. کیونکہ! وقت سے پیچھے رہتے ہیں…. اور کبھی کبھی ہم خوابوں میں رہتے ہیں…. کیونکہ وقت سے آگے نکل جاتے ہیں…. ہم وقت کے ساتھ کیوں نہیں چلتے؟…. ہم کیا کرتے ہیں؟….“

مانہ تمام لڑکیوں سے دور…. اپنے من پسند درخت کے سائے تلے بیٹھی، ڈائری تھامے، خوبصورت پین کی سیاہی کے ذریعہ لفظوں کی برسات کیے چلی جا رہی تھی…. کہ یکایک پیچھے سے آتی یاٹ کے پمپ کی آواز پر چونکتی پلٹ کر یاٹ کی جانب دیکھنے لگی….

الحان اور آشلے کسی بات پر کھلکھلا کر مسکراتے، یاٹ سے نیچے اُترتے دکھائی دئیے تھے…. ایک اُچٹتی سی نگاہ ان دونوں پر دوڑاتی وہ ایک بار پھر سے اپنے کام میں جت سی گئی…. قدم بہ قدم آگے بڑھتی آشلے کے قہقہے بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے…. جس کی بدولت مانہ کی، اپنے ناول کی طرف مبذول توجہ، کرکری ہو کر رہ گئی تھی…. وہ تحمل کا مظاہرہ کرتی، لمبی سانس کھینچتی، ان دونوں کے نزدیک پہنچنے سے پہلے ہی ایک جھٹکے سے اٹھی اور آناً فاناً چوب محل کی جانب بڑھنے لگی…. مین دروازے پر پہنچتے ہی، خرم سمیت تمام لڑکیوں کو لاﺅنج میں اکٹھا دیکھ، وہ سٹپٹا کر رہ گئی…. ان سب کو نظروں کا محور بنائے وہ دھیرے دھیرے چلتی مسکان کے قریب جا کھڑی ہوئی….

”کیا چل رہا ہے؟“

اس نے سرگوشی کی….

”تم کہاں تھیں؟…. میں کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی تھی…. خرم نے کچھ ضروری اناﺅنسمنٹ کرنا تھی…. اب معلوم نہیں کہ یہ کون سا ضروری اعلان ہے….“

مسکان کی ڈیٹیل پر وہ خاموش ہو رہی…. اتنے میں چوب محل کا دروازہ ایک بار پھر سے کھلا…. آشلے قہقہہ لگاتی اندر داخل ہوئی…. الحان اس کے تعاقب میںتھا….

”کیسی رہی تم دونوں کی ڈیٹ؟“

خرم نے چھوٹتے ہی پوچھا….

”گریٹ!“

آشلے خاصی شاداں دکھائی دے رہی تھی….

”اچھی رہی…. یہاں پر کیا چل رہا ہے؟“

الحان سب کی جانب اچنبھے سے دیکھتا، خرم سے پوچھنے لگا….

”ایک اہم اعلان کرنا ہے….“

خرم آشلے کی جانب دیکھتا شیریں لہجے میں گویا تھا…. آشلے اس کی آنکھوں کا اشارہ سمجھتی ایک بار پھر سے قہقہہ لگاتی تمام لڑکیوں کے نزدیک جا کھڑی ہوئی…. جاتے جاتے وہ الحان کو فلائنگ کِس دیتی گئی تھی مانہ اس کی بے باکی پر تیوری چڑھا کر رہ گئی…. الحان مکمل طورپر خرم کی جانب متوجہ ہو کھڑا ہوا تھا….

”سو…. لیڈیز! اپنے اپنے دل تھام لیجیے…. کیونکہ سرپرائز ایلیمنیشن کی گھڑی آن پہنچی ہے….“

خرم کا اعلان سنتے ہی مانہ کے سوا تمام لڑکیوں کے چہروں پر اک خوف کی لہر دوڑتی دکھائی دی تھی…. وہ تمام کی تمام ہکابکا کھڑی اک دوجے کو دیکھنے کے بعد عالم مضطرب میں اب خرم کی جانب دیکھتی چلی جا رہی تھیں…. الحان بھی اس اچانک کی ایلیمنیشن پر خاصا حیران ہوا تھا….

”سرپرائز؟“

خرم معنی خیز نگاہوں سے مسکراتا ہاتھ کے اشارے سے روز ٹیبل منگوانے لگا…. مِس فاطمہ روز ٹیبل سمیت الحان کے پاس آ کھڑی ہوئی تھیں…. ہر طرف گہری خاموشی چھائی تھی…. ٹیبل الحان کے قریب ٹھہراتیں مس فاطمہ واپسی کے لیے مڑ چکی تھیں….

”الحان! ایک خوشگوار ڈیٹ کے بعد تمہیں اب اس مشکل ٹاسک کو پورا کرنا ہے…. پچھلی ایلیمنیشن سے لے کر اب تک…. تم تمام لڑکیوں کو کافی اچھی طرح سے جان چکے ہو…. رائٹ؟“

خرم کے پوچھنے پر الحان اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا….

”اگر الحان کو میرے پلان کی کان و کان خبر نہیں ہوتی…. تو آج میں واپس گھر جا سکتی تھی…. آہ…. میری بیڈ لک….“

مانہ اپنا چشمہ اُتارے اسے اپنی شرگ کے دامن سے صاف کرتی دل ہی دل میں کڑھ کر رہ گئی تھی….

”اور کل رات کی گروپ ڈیٹ ہم نے اسی لیے ارینج کی تھی تاکہ الحان آپ تمام لیڈیز کو مزید جان سکے….“

خرم لیڈیز سے مخاطب ہوتااب اپنے برابر میں کھڑا الحان کی جانب دیکھنے لگا جو سپاٹ نگاہوں سے ٹیبل پر رکھے گلابوں کی جانب دیکھ رہا تھا….

”الحان! مجھے معلوم ہے کہ تمہیں ان تمام لیڈیز کو مزیدجاننے کی ضرورت باقی ہے…. لیکن…. یہ اس شو کا حصہ ہے…. تمہیں آج دس لیڈیز کو یہ گلاب دے کر سلیکٹ کرنا ہے…. اور سلیکٹ نہ کی جانے والی پانچ لیڈیز کو ابی اسی وقت گھر واپسی کے لیے ایلیمنیٹ کرنا ہے…. سو…. آر یو ریڈی؟“

”آئی گیس سو!“

الحان دھیمے لہجے میں بولتا اپنی مخصوص مسکراہٹ مسکرا دیا تھا….

”آل دی بیسٹ!“

خرم واپس جا چکا تھا…. خوفزدہ کھڑی تمام لیڈیز پر نظر دوڑاتا الحان، ایک لمبی سانس کھینچتا، ٹیبل پر سے گلاب اٹھا کھڑا ہوا….

”مانہ!“

وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہوا…. مانہ کو مانو کہہ کر پکارنے کا فیصلہ کرنے کے بعد آج اس نے پہلی بار اسے اس کے پورے نام سے پکارا تھا…. سب سے پہلے اپنا نام سماعت سے ٹکراتے ہی وہ آنکھیں میچتی، عجلت سے چلتی، گلاب تھامے الحان کے سامنے جا کھڑی ہوئی…. ہکابکاکھڑی تمام لیڈیز، مانہ کا نام سب سے پہلے پکارے جانے پر نفرت بھری نگاہوں سے اسے گھورتی دکھائی دی تھیں…. آشلے زہرخند انداز میں مانہ کی جانب گھورتی پھنکار کر رہ گئی….

”کیا آپ مزید ایک ہفتہ یہاں رہ کرمجھے برداشت کرنا پسند کریں گی؟“

وہ سرگوشی کرنے لگا…. چہرے پر شریر مسکراہٹ کھیل رہی تھی…. مانہ اسے گھورتی، گلاب پکڑتی، لڑکیوں کی قطارکے بالکل سامنے جا کھڑی ہوئی….

دوسراپکارا جانے والا نام آشلے کا تھا…. وہ خوشگوار انداز میں گلاب تھامتی، مانہ سے کچھ فاصلے پر آ کھڑی ہوئی…. تیسرا نام مسکان کا تھا…. گلاب اسے تھماتے ہی وہ شریر مسکراہٹ لبوںپر سجائے ایک بار پھر سے سرگوشی کرنے لگا….

”اس ہفتے کہیں کھونا نہیں….؟“

مسکان خوشگوار مسکراہٹ لبوں پر سجاتی اثبات میںسر ہلاتی آشلے کے برابر میں جا کھڑی ہوئی…. ایک کے بعد ایک گلاب کا سلسلہ چلتا رہا…. منتخب کی جانے والی دس لڑکیاں مکمل ہوتے ہی ایلیمنیٹ کی گئی پانچ لڑکیاں افسردگی سے منہ لٹکائے منتخب کی گئی لڑکیوں سے گلے مل کر، اپنا اپنا سامان پیک کرنے کی غرض سے اپنے اپنے رومز کی جانب بڑھنے لگیں…. ایلیمنیٹ کی جانے والی پانچ لڑکیوں میں سرفہرست سحر تھی،جو بے یقینی کے عالم میں اپنی جگہ کھڑی آنسو بہاتی الحان کو گھور رہی تھی…. آشلے ، سحر کے ایلیمنیٹ ہونے پر خاصی افسردہ دکھائی دی تھی…. سحر کے ساتھ ساتھ ایلیمنیٹ کی جانے والی لڑکیوں میں ایک بیوقوف کورئین جوڑی، غیوری، میراں…. برٹش مسلم فارا اور ایک انڈین لڑکی پوجاشامل تھیں….

تمام ایلیمنیٹ کی جانے والی لڑکیوں سے بغلگیر ہونے کے بعد مانہ کی نگاہ اچانک الحان پر جا کی…. جو سب کی موجودگی کے باوجود ٹکٹکی باندھے شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے اسی کی جانب دیکھتا دکھائی دیا تھا…. مانہ جلدی سے نظروں کا زاویہ بدلتی، لب بھینچتی، لمبی سانس کھینچ کر رہ گئی….

”سارا پلان چوپٹ ہو کر رہ گیا…. اب پھر سے وہی سب برداشت کرنا ہو گا….“

ض……..ض……..ض

پل لمحوں میں، لمحے منٹوں میں، منٹ گھنٹوں میں، گھنٹے دن رات میں، دن رات، چوبیس گھنٹوں میں اور چوبیس گھنٹے دنوں میںبدلتے چلے گئے….

مانہ، الحان کو اپنے قریب بھٹکنے کا موقع تک نہ دے رہی تھی…. الحان مکمل طور پر بیزار ہو کر رہ گیا تھا….

”میں نے سوچا تھاکہ اپنے اس Island پر ڈھیروں خوبصورت لڑکیوں کی موجودگی میں بے انتہا مز کرنے والا ہوں میں…. لیکن …. آئی واز رونگ!“

وہ بن پانی مچھلی کی طرح اپنے کمرے میں ایک کونے سے دوسرے کونے تک چکر کاٹتا پھر رہا تھا….

”نہیں چاہیے ان سب کی موجودگی مجھے…. اور جس کی موجودگی کا میںطلبگار ہوں…. وہ محترمہ گھاس تک نہیں ڈالتیں مجھے…. اپنے دل کا دروازہ ہی نہیں کھول رہی میڈم!…. چلو دروازہ نہ سہی…. کھڑکی ہی کھول دے…. لیکن نہیں…. اَناپرست لڑکی…. ہونہہ….!“

وہ اپنے بالوں کومٹھیوں میں دبوچے لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا….

”سوچ سوچ کر پاگل ہو جاﺅں گا میں….“

وہ پھر سے اردگرد گرداننے لگا….

”اوکے!“

فیصلہ کن انداز میں آئینہ میں اپنا عکس دیکھتا وہ کمرے سے باہر کی جانب بڑھ گیا…. تیز تیزقدم سمندر کی جانب بڑھاتا وہ غصے کے عالم میں اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا، قدم بہ قدم سمندر کی لہروں کی جانب بڑھتا رہا….موسم ہمیشہ کی طرح بے حد خوشگوار تھا…. نیلے وسیع آسمان پر کالے کالے بادل گھر گھر کر بھاگے چلے آ رہے تھے…. اس وقت چوب محل کے باہر کوئی بھی نہ تھا…. شاید تمام لڑکیاں ابھی تک اپنی اپنی خواب گاہ سے باہر نہ نکلی تھیں…. یا پھر شاید ناشتہ کا دور اپنے عروج پر تھا…. الحان چوب محل پر نظر دوڑاتا، اپنی شرٹ کھینچ اُتار ریتلی زمین پر اُچھالتا، اٹھلاتی، کھلکھلاتی لہروں کے بیچ و بیچ غوطہ لگا بیٹھا….

ض……..ض……..ض

”گڈ مارننگ!“

اپنے من پسند درخت کے سائے تلے بیٹھی، ڈائری کے اوراق پر قلم کی سیاہی کے ذریعے لفظوں کی برسات کرتی مانہ اس وقت یکایک چونک اٹھی، جب عاشر نے اس کے دو قدم کے فاصلے پر رک کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا….

”گڈ مارننگ!“

وہ اپنی ڈائری بند کرتے ہی شیریں لہجہ میں گویا ہوئی….

”کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟“

وہ پوچھ رہا تھا….

”ہاں…. بالکل!“

وہ برجستہ بولی…. عاشر لب بھینچتا، مانہ کے برابر میںبیٹھ گیا….

”شو کا فیڈبیک کیسا ہے؟“

وہ متانت سے پوچھنے لگی….

”بہت اچھا…. لوگ بہت پسند کر رہے ہیں….“

وہ دھیمے سے مسکرا دیا….

”ہوں…. گڈ!“

وہ اپنی ڈائری پرنظریں جما بیٹھی….

”ڈیٹ کے انتظامات اور ایلیمنیشن کی گھڑیاں تھکا کر رکھ دیتی ہیں…. اور پھرایڈیٹنگ از آ رئیلی ٹف جاب!“

وہ دور کہیں غیرمرئی نقطہ پر نظریں ٹکاتا سنجیدگی سے گویا تھا….

مانہ اثبات میں اپنا سر ہلا کر رہ گئی….

”تم کیا کر رہی تھیں؟“

اس نے مانہ کی ڈائری پرنظر دوڑائی….

”آں…. اپنے نیو ناول کے لیے…. یہاں پر بیتائے گئے کچھ پوائنٹس نوٹ کر رہی تھی….‘

وہ دھیمے لہجے میں جواباً بولی….

”اوکے…. گڈ!“

”کبھی کبھی مجھے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ کاش…. آپ نے مجھے وہ کانٹریکٹ نہیں دیا ہوتا….“

وہ نظریں جھکائے افسردگی سے گویا ہوئی…. عاشر اس کی جانب دیکھتا ایک دم سیدھا ہو بیٹھا….

”اوہ آئی ایم رئیلی ویری سوری مانہ!مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ الحان تمہیں ایلیمنیٹ نہیں کرے گا….“

”الحان میری سمجھ سے باہر ہیں….“

”پہلے دن سے لے کر اب تک…. میں نے بھی تمہیں کافی Observe کیا ہے مانہ!…. اور مجھے لگتا ہے…. بلکہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ الحان تم میں اس قدر دلچسپی کیوں لے رہا ہے…. وہ تمہیں ایلیمنیٹ کیوں نہیں کر رہا….“

چند ثانیے کی خاموشی کے بعد عاشر گہری متانت سے گویا ہوا تھا….

مانہ آنکھوں میں بے پناہ حیرت سموئے براہ راست عاشر کی جانب دیکھنے لگی تھی….

”شاید الحان سے یہ بات برداشت نہیںہو رہی کہ یہاں پر موجود ہر لڑکی کی طرح میں ان میں کسی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں رکھتی….“

”نہیں…. بلکہ اس لیے کہ تم واقعی ایک دلچسپ پرسنالٹی کی مالکہ ہو….“

وہ ایمانداری سے بولا…. مانہ مسکرا کر رہ گئی….

”تھینک یُو!“

”ویلکم!….“

وہ کندھے اُچکا کر بولا….

”یہاں پرموجود سبھی لوگوں نے محسوس کیا ہے، بلکہ دیکھا ہے کہ الحان باقی تمام لیڈیز کی بہ نسبت، تمہیں زیادہ اہمیت دیتا ہے…. تمہارے ساتھ زیادہ ٹائم گزارنا چاہتا ہے….“

عاشر کی باتوں کو سنتی وہ چند ثانیے خاموش رہی…. پھر بولی….

”الحان صرف مجھے تنگ کرنے کے نت نئے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں بس…. اور کوئی بات نہیں….“

”کوئی بات ہے یا نہیں…. اس سے میں مکمل طور پر واقف نہیں…. ہاں البتہ تمہارا خیرخواہ ہونے کے ناطے میں تمہیں خبردار ضرور کرنا چاہوں گا…. کہ الحان کی کسی بھی بات پر ٹرسٹ ہرگز مت کرنا…. وہ ایک پلے بوائے ہے…. یونیورسٹی کے زمانے سے جانتا ہوں اسے…. اس کی رگ رگ سے واقف ہوں…. نہ وہ تمہارے ساتھ سنجیدہ ہے…. نہ کبھی ہو گا…. بہت چالاک انسان ہے الحان ابراہیم…. سو، بی کیئرفُل!“

”آئی نو!…. مجھے تو پہلے ہی معلوم تھا…. عاشر! میں واپس جانا چاہتی ہوں…. مجھے یہاں نہیں رہنا…. پلیز!“

وہ خاصی خوفزدہ دکھائی دے رہی تھی….

”آئی ایم سوری مانہ! شو کی کئی اقساط آن ایئر جا چکی ہیں…. اور پھر الحان کی خاص توجہ کے باعث تم اس شو میں خاصی واضح دکھائی دے رہی ہو…. کانٹریکٹ والی بات بہت دور رہ گئی ہے…. اب سب الحان کے ہاتھ میں ہے…. وہ تمہیں ایلیمنیٹ کرے…. تبھی تم واپس جا سکتی ہو….“

”اور وہ ایسا نہیں کرے گا…. وہ بہت ضدی انسان ہے….“

”دیکھو میرا مقصد تمہیں ڈرانے کا نہیں تھا…. میں صرف تمہیں خبردارکرنا چاہتا تھا…. باقی تم خود خاصی میچور اور سمجھدار لڑکی ہو…. بہادری سے اس کا سامنا کرو اور اسے شکست دو…. اور پلیز ڈونٹ وری…. ریلیکس!“

مانہ اثبات میں سر ہلاتی پُرسوچ انداز میں منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر رہ گئی….

”ہوں….“

ض……..ض……..ض

تیس منٹ کی سوئمنگ کے بعد، ساحل کی جانب بڑھتے الحان کی نظر یکایک درخت کے سائے تلے بیٹھے عاشر اور مانہ پر جا ٹکی….

”ان دونوں کے بیچ آخر چل کیا رہا ہے؟….“

وہ من ہی من میں سوچتا مشکوک انداز میں ان دونوں کی جانب دیکھتا رہا….

”اور یہ محترمہ!…. مانو نے آج تک مجھے تو ایسی نگاہوں سے کبھی نہیں دیکھا….“

وہ اب کے غصہ میں پھنکارنے لگا…. تیوری چڑھائے آگ بگولہ نگاہوں سے ان دونوں کی جانب دیکھتا وہ دھیرے دھیرے قدم بہ قدم ساحل کی جانب بڑھنے لگا….

”عاشر کو کوئی کام نہیں؟…. مانو کے ساتھ ایسے وقت گزارہ جا رہا ہے…. جیسے محترم جناب مانو کے ساتھ کسی رومانٹک ڈیٹ پر تشریف لائے ہوں….“

ان دونوں کو نظروں کا محور بنائے وہ اندر ہی اندر جل بھن سا گیا….

”الحان!“

مس فاطمہ ہاتھوں میں سفید لفافہ تھامے الحان کی جانب بڑھتی دکھائی دی تھیں…. ان دونوں پر سے نظر ہٹاتا وہ نظریں گھما کر مس فاطمہ کی جانب دیکھنے لگا….

”یہ آج کا ڈیٹ شیڈول ہے….“

انہوں نے وہ لفافہ الحان کی جانب بڑھا دیا….

”کہاں؟“

وہ لفافہ ہاتھ میں تھامتا، متانت سے گویا ہوا….

”یہیں جزیرے پر…. پچھلی جانب ڈیٹ کے ڈیکوریشن کے انتظامات کیے جا رہے ہیں…. آپ اگر دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہو…. سب ٹھیک ہے، یا کچھ چینج کرنا ہے….“

مس فاطمہ ڈیٹیل بتاتیں اپنے گلے میں پہنے اپنے نام کے کلپ بورڈ کی جانب دیکھنے لگیں…. الحان نے جھک کر اپنی شرٹ اٹھائی تھی….

”ڈیٹ کس کے ساتھ ہے؟“

”گروپ ڈیٹ ہے…. برینڈااور نیہا کے ساتھ….“

”گروپ ڈیٹ ہے تو مانہ کو بھی ایڈکر دیں گروپ میں….“

”اوکے….“

”اور کون کون جانے والا ہے ساتھ؟“

”دو کیمرہ مین ہیں اور کچھ کریو کے لوگ ہیں…. آپ دیکھ لو یہ لسٹ ایک بار….“

مس فاطمہ نے لفافہ کی جانب اشارہ کیا….

”میںیہ ڈیٹ یہاں پر نہیں کرنا چاہتا…. تھک گیا ہوں یہاں پر رہ رہ کر…. مجھے تھوڑے چینج کی ضرورت ہے…. اس لیے آپ پلیز عاشر سے کہہ دیجیے کہ میں یہ ڈیٹ اس جزیرہ سے کہیں باہر جا کر کرنا چاہتا ہوں….“

وہ بیزاریت سے گویا ہوا تھا…. مس فاطمہ آئی برو اُچکا کر رہ گئیں….

”مثلاً کہاں؟“

”لندن!“

”لندن؟…. پھر تو پوری رات لگ سکتی ہے اس ڈیٹ میں…. اور پھر کل صبح سے پہلے کی واپسی ممکن نہیں….“ وہ اچنبھے سے گویا ہوئیں….

”ہوں….“

”پھر کریو کے زیادہ لوگوں کو ساتھ لے کر جانا پڑے گا…. اور شاید عاشر بھی….“

”عاشر ہمارے ساتھ نہیں جائے گا…. ہے ناں؟“

نجانے وہ پوچھ رہا تھا یا باور کرا رہا تھا…. مس فاطمہ سمجھ نہ پائیں….

”معلوم نہیں…. یہاں ایڈیٹنگ کا کافی کام ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوا ہے….“

”گڈ…. میں ان تینوں کو لندن لے کر جاﺅں گا…. یہاں کی ڈیٹ کے انتظامات رُکوا دیں….“

وہ متانت بھرے انداز میں بولتا،اپنے ایک انداز میں شرٹ پہنتا، آگ بگولہ نگاہوںسے ان دونوں کی جانب دیکھتاانہی کی جانب بڑھنے لگا تھا….

”اپنی ایڈیٹنگ کا کام ادھورا چھوڑ کر…. میری مانو کے ساتھ گپیں ہانکنے کی اس کی ہمت کیسے ہوئی….“

وہ من ہی من میں کڑھتا ان دونوں کے قریب جا رُکا…. عاشر جو ابھی ابھی مانہ کی کسی بات پر مسکراتا واپسی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تھا، الحان کے اچانک وارد ہونے پریکایک چونک اٹھا….الحان بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کرتا، چہرے پر مسکراہٹ سجائے اسی کی جانب دیکھتا تحمل سے گویا ہوا تھا….

”Hi….“

”الحان! تمہیں ڈیٹ شیڈول مل گیا؟“

”ہاں…. مل گیا…. لیکن میں نے کچھ چینجنگ کی ہے۔“

”چینجنگ؟“

عاشر اب کے سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”گروپ ڈیٹ دو لڑکیوں کے بجائے تین لڑکیوں کے ساتھ ہو گی…. اور یہ گروپ ڈیٹ لندن میںہو گی….“

”لندن میں؟…. اچانک سے؟…. کوئی انتظامات نہیں…. آﺅٹ آف بجٹ ہو جائے گا یار!“

عاشر خاصا حیران دکھائی دےنے لگا تھا….

”ان سب کی تم فکر نہیں کرو…. بجٹ اور انتظامات سب میں اچھے سے سنبھال لوں گا…. میں کچھ دیر کے لیے یہاں سے نکلنا چاہتا ہوں یار!….“

اس کے لہجے میں بیزاریت واضح طور پر عیاں تھی…. اس کی نظریں عاشر سے پھسلتی پیچھے درخت کے سائے تلے پریشان بیٹھی مانہ پر جا رُکیں….

”یہ اتنی پریشان کیوں ہے؟“

وہ من ہی من میںہمکلام ہوا….

”ہمیں جلدی نکلنا ہو گا….“

عاشر سے کہتا وہ اپنے برابر آ رُکی مس فاطمہ کی جانب دیکھنے لگا….

”مس فاطمہ! آپ نیہا اور برینڈا کو تیار رہنے کبول کا بول…. اور یاٹ بھی ریڈی کروا دیں….“

مس فاطمہ اثبات میں سر ہلاتیں چوب محل کی جانب بڑھنے لگیں،جبکہ عاشر سراسیمہ حیران کھڑا الحان کی جانب تکتا رہا….

"What?”

الحان اپنی مخصوص مسکراہٹ لبوں پر سجائے عاشر کی جانب مخاطب ہوا، جواباً عاشر بنا کچھ بولے ہاتھ کے اشارے سے گڈ لک بولتا چوب محل کی جانب بڑھنے لگا….

”مانو! ہماری ڈیٹ کے لیے تم خوش ہو؟“

وہ دور جاتے عاشر کی جانب دیکھتا اونچی آوازمیں گویا ہوا، تاکہ عاشر اس کا کہا گیا جملہ اچھے سے سن سکے…. عاشر نے کوئی ری ایکشن نہیں دیا تھا…. وہ خاموشی سے چلتا چوب محل میں داخل ہو گیا….

”ڈیٹ؟“

غالباً مانہ کے سر پر ایک بلاسٹ سا ہوا…. وہ حیران کن نگاہوں سے الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”London Baby!…. ہم لوگ لندن جا رہے ہیں….“

وہ گرمجوشی کا مظاہرہ کرتا براہ راست مانہ کی آنکھوں میں جھانکنے لگا….

”لندن؟“

اسے اچنبھہ ہوا….

الحان مسکراتے ہوئے ایک آنکھ دباتا، ہاتھ بڑھا کر، مانہ کا ہاتھ تھامتے ہی اسے کھینچ کر اٹھانے لگا….

”کم آن مانو! تمہارے پاس زیادہ وقت نہیں…. جلدی سے جا کر اپنا کچھ سامان پیک کر لو….“

”سامان؟“

مانہ کی کچھ سمجھ میں نہ آ رہا تھا…. وہ الحان کے آناً فانا برساتی حملوں کو سمجھنے سے قاصر تھی….

”ہم آج کی رات لندن میںہی رکیں گے…. کل صبح ہماری واپسی ہو گی…. اس لیے جاﺅ….اور اپنا کچھ ضروری سامان پیک کر لو….“

الحان نے ڈیٹیل بتاتے ہی اسے اپنی جانب کھینچا…. الحان کے کھینچنے پر وہ ایک جھٹکے سے اٹھتی اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی….

”اور کون کون جا رہا ہے؟“

وہ حواس باختہ حیران کھڑی الحان کی جانب دیکھنے لگی تھی….

”برینڈا اور نیہا…. اب جاﺅ اور جا کر تیار ہو جاﺅ…. چلو شاباش!…. اچھی بچی!….“

وہ ہاتھ کے اشارے سے چوب محل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے گویا ہوا…. مانہ تاسف بھرے انداز میں سر ہلاتی، نڈھال قدموں سے چلتی چوب محل کی جانب بڑھنے لگی…. الحان شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے مانہ کو چوب محل کی جانب بڑھتا دیکھتا رہا…. اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہی الحان لمبی سانس کھینچتا اپنے کیبن کی جانب بڑھتا چلا گیا….

ض……..ض……..ض

جاری ہے ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے