سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا…  میری کہانی ٭  ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر 7

ست رنگی دنیا…  میری کہانی ٭  ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر 7

                ست رنگی دنیا

                ٭

                میری کہانی            ٭             ضیاءشہزاد

                ٬٬آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا،،

                ٭

                قسط نمبر 7

                اسی وقت حویلی کا دروازہ بند ہونے اور کلو تایا کے چیخنے کی آوازآئی ۔ ٬٬بھائی بدرو بڑی گڑ بڑ ہو گئی ۔ ۔ ۔ کسی نے ایک اور مسلمان کو مار دیا ہے، موہن چوک کی طرف۔ ۔ ۔

                اماں کی گود میں مجھے نیند سی آنے لگی تھی لیکن جیسے ہی میرے کانوں میں کلو تایا کے چیخنے کی آواز آئی، میں اٹھ کے بیٹھ گیا۔۔ ۔ ابا بھی ان کی آواز سن کر تیزی سے باہر کی طرف دوڑے ۔ ۔۔ ۔ میں پھر رونے لگا ، اماں نے مجھے گود میں بھرا اور خود بھی باہر کی طرف دوڑیں۔

                بدرا لدین ابا بھی اپنے کمرے سے نکل کر دادا کے کمرے کی طرف جارہے تھے ۔ اماں مجھے لئے تائی خیرن کے کمرے میں چلی گئیں ۔ یہ کمرہ دادا کے کمرے کے برابر میں تھا اور یہاں بیٹھ کر دادا کے کمرے میں ہونے والی باتیں سنائی دیتی تھیں۔ کمروں کے باہر بنی ہوئی راہداری میں کبھی کبھی جب لوگ جمع ہوتے تھے یا سب مل کر بیٹھتے تھے تو عورتیں تائی خیرن کے کمرے میں جمع ہو جاتی تھیں ۔ دادا عورتوں کے جمع ہونے پر برا نہیں مانتے تھے ۔ ایک دو بار بدرالدین تایا نے اس بات پر برا بھی مانا تھا کہ عورتوں کا یہاں کیا کام ہے ۔ وہ مردوں کی باتیں کیوں سنتی ہیں تو دادا نے انہیں منع کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ وہ کہتے تھے کہ عورتوں کو بھی گھر کے معاملات میں شریک رہنا چاہئے ۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ جب راہداری میں بیٹھک لگتی تھی تو دادا تائی خیرن کے کمرے کی طرف منہ کر کے عورتوں سے مخاطب ہوتے تھے ۔ ۔ ۔ وہ پوچھتے تھے کہ بھئی خیرن ، سعیدن تمہاری کیا صلاح ہے۔ ۔ ۔ اماں یا تائی اندر سے ہی چلا کر جواب دیتیں ۔٬٬ ابا جو آپ فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہے ۔ ۔ ۔

                میں چونکہ ہر بار اس موقع پر موجود رہتا تھا اس لئے گھر میں ہونے والی باتوں کی خبر رہتی تھی بلکہ بڑوں کی باتیں سن کر میرا دماغ بڑی تیزی سے کام کرتا تھا اور پھر مجھے طرح طرح کے خیالات آتے تھے ۔ میں دادا سے کبھی کبھی اپنے دماغ میں آئی ہوئی کوئی نہ کوئی بات کہہ دیتا تھا ۔ وہ میری باتیں سن کر سوچ میں پڑ جاتے تھے ۔ اپنے کمرے میں رکھے ہوئے مرتبان سے ریوڑی یا میٹھی گولی نکال کر مجھے دیتے ۔ ۔ ۔ پھر سر پر ہاتھ پھیر کے کہہ دیتے کہ جا اپنی ماں کے پاس ۔ ۔ جا مجھے کام کرنا ہے ۔ ۔ ۔

                میں دادا کے کمرے سے باہر آجاتا اور منہ میں ریوڑی یا میٹھی گولی چوسنے میں گم ہو جاتا تھا۔ ہمارا گاﺅں کچھ ایسا بنا ہوا تھا کہ میرا گھر سے آنا جانا ذرا کم ہی رہتا تھا ۔ گھر سے باہر نکلو تو سرائے کا میدان تھا ۔ ۔ اس کے ایک طرف ہماری حویلی سے ذرا دور جا کر کٹارے والی حویلی تھی ۔ ۔۔ وہاں بندر بہت تھے اور جگہ سنسان رہتی تھی اس لئے دن میں بھی سناٹا رہتا تھا ۔۔ سرائے میں ایک طرف گاﺅں کی چھوٹی سی مسجد تھی ۔ اس کے ساتھ ہی ایک بڑا سا پیپل کا درخت تھا ، جہاں سرائے میں آنے والے اپنے جانور باندھ دیتے تھے ، اس لئے نہ تو میں وہاں جاتا تھا اور نہ ہی گاﺅں کا کوئی اور بچہ اس طرف کا رخ کرتا تھا ۔ سرائے کا میدان پار کر کے بازار شروع ہوتا تھا ۔ یہاں سرائے اور بازار کے ایک طرف بڑا سا دروازہ بنا ہوا تھا جو سرائے میں آنے کے لئے بنا ہوا تھا۔ اسی دروازے کو پار کرتے ہوئے ابا ، تایا اور بھائی اسلام سرائے کا میدان پار کرتے ہوئے آتے جاتے تھے۔

                 جب سردی پڑتی تھی تو میں بھائی اسلام کے ساتھ یا اکیلا ہی گھر کے باہر چلا جاتا تھا اور ٹیلے پر بیٹھ کر دھوپ سینکتا تھا ۔ وہاں کبھی کبھار میرا دوست گلو آجاتا تھا ۔ جب گرمیاں ہوتی تھیں تو گھر سے صبح اور دوپہر کے وقت نکلنا منع تھا ۔ میں سارا دن گھر میں اکیلا ہی کھیلتا تھا یا حویلی کی دیواروں پر بیٹھے ہوئے بندروں کو اچھلتا کودتا دیکھتا تھا ۔ جب ابا کا جی چاہتا تھا تو وہ مجھے کچھ دیر کے لئے دوکان پر لے جاتے تھے ۔ بس یہ تھی میری کل زندگی اور پھر میری عمر بھی کیا تھا اس وقت پانچ سال کا تو تھا میں ۔ ۔ ۔

                (آج میں اپنی زندگی کے 76 ویں سال کے نشیب و فراز دیکھ رہا ہوں۔ میں نے اپنی آپ بیتی کی ابتدا میں اس بات پر روشنی ڈالی تھی کہ میں عام بچوں سے قدرے مختلف واقع ہوا ہوں۔ میرے بڑے بھائی منظور پیدائشی مجذوب تھے ۔ ۔ ۔ وہ جو کچھ بھی کہہ دیتے تھے وہ اٹل اور پتھر کی لکیر ہوتا تھا ۔ ان کی کہی ہوئی ہر بات پوری ہو جاتی تھی ۔ ۔ ۔ وہ جب اللہ میاں کے پاس جارہے تھے تو یہ کہہ کر گئے تھے کہ اب میں اچھا ہو کر آﺅں گا ۔ ۔ ۔ اور گھر میں سب یہی کہتے تھے کہ میں ان کی وفات کے ڈیڑھ سال بعد میں پیدا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ دادا یہی کہتے تھے کہ مجھ میں بہت سی باتیں بھائی منظور کی آگئی ہیں ۔ اسی لئے وہ مجھے بہت پیار کرتے تھے۔۔ ۔ ۔

                 لوگ اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ ایک پانچ سالہ بچہ اتنی گہری یاد داشت اور حافظہ کیسے رکھ سکتا ہے ، وہ ایسا سوچنے میں حق بجانب اور بجا ہیں لیکن انہیں یہ ذہن نشین رکھنا چاہئے زیر نظر سطور ایک پانچ سالہ بچہ نہیں بلکہ 76 سالہ ادیب و شاعر لکھ رہا ہے اور اس کی معاونت نہ صرف اس کا حافظہ اور یاد داشتیں ہیں بلکہ ہجرت کے بعد جب وہ شعوری دنیا میں قدم رکھ چکا تھا اور قلم سنبھال کر لکھنے کی ابتدا کی تھی تو ڈائری نے اس کا بڑا ساتھ دیا ۔ اسکول کے زمانے میں جب ادبی شعور کا ادراک ہوا تو وہ زمانہ یوں سمجھئے کہ ڈائری لکھنے کا زمانہ تھا ۔ دوسرے دوستوں کی طرح مجھے بھی ڈائری لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور میں اپنی روزمرہ کی یاد داشتیں قلمبند کرتا چلا گیا۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری و ساری ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ میرے پاس آج بھی درجنوں ڈائریاں محفوظ ہیں جن میں میری زندگی کے نشیب و فراز قید ہیں اور ایسے ایسے واقعات قلمبند ہیں جن کی بنیاد پر مختلف زمانوں کی آپ بیتیاں قلمبند کی جا سکیں گی ۔ جہاں تک طرز بیان کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ میں فکشن کا آدمی ہوں ۔ کئی ڈائجسٹ شائع کئے ہیں نہ صرف ان میں فکشن لکھا ہے بلکہ دوسرے ڈائجسٹوں میں بھی لکھتا رہا ہوں ۔ اگر میں اپنی آپ بیتی کو ایک سپاٹ اور روایتی انداز میں لکھتا تو دلچسپی کا وہ عنصر پیدا نہ ہوتا جو میں اپنے پڑھنے والوں کو گرفت میں لینے کے لئے چاہتا تھا ۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ بہت سے لوگوں کو میری آپ بیتی پڑھتے ہوئے شدید قسم کی بدہضمی بھی ہو گئی ہوگی ۔ ایسے دوستوں کے لئے عرض کروں گا کہ وہ فکشن پڑھنے کا لطف لیں اور بدہضمی کی کیفیت کو دور کرنے کے لئے کسی اچھے سے حکیم سے بھی رجوع کریں ۔ اگر عطائی لوگوں کے ہتھے چڑھے تو پھر مرض بڑھتا چلا جائے گا جوں جوں دوا کی جائے گی ۔ )

                دادا کے کمرے کے باہر راہداری میں سب پھر اکٹھے ہو گئے تھے۔ دادا اپنے پلنگ پر تھے اور جو آس پاس مونڈھے رکھے تھے ان پر بدرا لدین ابا، اور کلو تایا بیٹھے ہوئے تھے ۔بھائی اسلام اور فاروق بھائی ایک طرف کھڑے تھے۔ میرے ابا بھی وہاں آ کر بیٹھ گئے تھے ۔ ۔ ۔ میں اگرچہ اماں کے ساتھ تائی خیرن کے کمرے میں تھا جہاں بھابی محمودن، بڑی تائی فاروق بھائی کی اماں تائی خیرن جنہیں دادا اندھی خیرن کہہ کر چڑاتے تھے اور جب وہ غصہ ہوتی تھی تو وہ ہنستے ہوئے کہتے تھے ٬٬ ارے پگلی ، میں تو پیار سے کہہ رہا تھا ۔ ۔ ۔ اماں کے منع کرنے پر بھی میں کمرے کے دروازے سے منہ باہر نکالے راہداری میں ہونے والی بیٹھک کو دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ دادا نے کچھ دیر کھانسنے کے بعد ایک گہری سی سانس بھری اور کلو تایا سے پوچھا۔ ٬٬ کیا خبر لایا ہے مداری ۔ ۔ کوئی اچھی بات بھی سنایا کر ۔ ۔ میں تو بہت ہی پریشان ہو کر رہ گیا ہوں ۔ ۔ ۔ یہ دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گیا ہے ہمارے گاﺅں کو۔ ۔ ۔ کیا کسی نے کوئی سفلی یا جادو کر دیا ہے ۔۔ ۔ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو گئے ہیں لوگ ۔ ۔ ۔

                ٬٬نہیں ابا۔ ۔ ۔ ایک دوسرے کے نہیں بلکہ صرف ہندو ہی مسلمانوں کے دشمن ہو گئے ہیں ۔ گاﺅں میں ایک ہی دن میں دو مسلمان مار دئے گئے ہیں۔ ہمارا کوئی رکھوالا نہیں ۔ ۔ ۔

                ٬٬کیوں نہیں ہے ہمارا رکھوالا۔ ۔ ۔،، دادا نے کلو تایا کی بات کاٹ دی اور اپنی انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔٬٬ ابے کیا خدا کو بھول گئے تم لوگ ۔ ۔ ۔ ہم مسلمان ہیں ۔ ۔ ۔ اور خدا کے بندے کسی سے نہیں ڈرتے۔ ۔

                ٬٬ ابا آپ نے ٹھیک کہا۔ ۔ ہمارا ایمان ہے کہ خدا ہمارا حامی اور ناصر ہے ۔ ۔ ۔ ،، بدرو تایا بولے ٬٬ ۔ ۔ ۔ ہمیں حالات کو بھی دیکھنا چاہئے ۔ ۔ ۔۔ اس وقت ہمارے گاﺅں میں آگ لگی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ایک طرف گاﺅں ہندوﺅں سے بھرا ہوا ہے ۔۔۔ ۔ بلکہ یہ گاﺅں ان ہی کا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مسلمان تو تھوڑے سے ہیں ۔ ۔ اب جو حالات ہو گئے ہیں ان میں ہمیں ہی کچھ سوچ بچار کرنا پڑے گی۔ ۔ ۔ اللہ میاں اوپر سے اتر کر تو نہیں آئیں گے نا ۔ ۔ ۔

                ٬٬ ابے کیا بکواس اور کفر کی بات کر رہا ہے بد رالدین ۔ ۔ ۔ ،، دادا غصے سے چیخے ۔ ٬٬اللہ ہمیشہ مسلمانوں کی مدد کے لئے فرشتوں کو بھیجتا ہے ۔ ۔ ۔ کیا بھول گئے غزوہ ¾ بدر۔۔ ۔ ۔ ہمارے حضور کے ساتھ تو چند سو مسلمان تھے انہوں نے ہزاروں کافروں کو مار بھگایا تھا ۔

 ۔ ۔ اللہ ہماری بھی مدد کرے گا ۔ انشاءاللہ۔ ۔ ۔

                ٬٬ ابا ۔ ۔۔ میں کفر کی بات نہیں کر رہا ۔ صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ تھوڑا سا دماغ سے سوچ سمجھنے سے بھی کام لینا ہوگا ۔ ۔ وقت اورحالات کی نزاکت کو دیکھنا پڑے گا ۔،، بدر الدین ابا جوش میں آ کر بول رہے تھے ۔ ۔ ۔ ٬٬اگر عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو دیکھتے سسرے ہندوﺅں کو۔ ۔ ۔ دس ، بیس کو مار کر مروں گا اگر کبھی ایسا وقت آیا تو۔ ۔ ۔

                ٬٬ شاباش بدر الدین شاباش ۔ ۔ ۔ ،،دادا خوش ہو کر بولے اور پھر کلو تایا سے مخاطب ہو گئے ۔٬٬ ہاں اب بتاﺅں موہن چوک پر ہندوﺅں کے ہاتھوں کون مارا گیا ہے ؟۔ ۔ ۔

                ٬٬ ابا ۔ میں تانگہ لینے کے لئے بدری پرشاد کے گھر گیا تھا ۔ اس کا تانگہ کھلا ہوا تھا اور وہ اپنے گھوڑے کو باندھ کر کہیں نکلا ہوا تھا ۔ ۔ ۔۔ اس کے گھر کے باہرکچھ لوگ کھڑے ہوئے تھے ، ان میں ایک میرا جاننے والا تھا دھونو نام ہے اس کا ۔ ۔ وہ بدری پرشاد کو اس کے گھوڑے کے لئے چارہ لا کر دیتا ہے ۔۔ ۔ ۔ اسی نے مجھے بتایا کہ موہن چوک پر پنڈت کے ایک گنڈے کشن لال نے گلابی دھوبی کو چھرا گھونپ دیا ہے ، وہ بے چارہ وہیں دم توڑ گیا ۔ ۔ ۔ قلعے کی پولیس اسے بھی اٹھا کر لے گئی ۔ ۔ ۔ ۔ دھونو رو رہا تھا مجھ سے گلے لگ گیا اور کہنے لگا ٬٬۔ ۔ ۔ اس بے چارے نے کشن لال سے یہی کہا تھا کہ بھائی کشن ہمارا تو پاکستان بن گیا ہے ۔ اب ہم وہیں چلے جائیں گے ۔ آپ لوگ خوش رہیں ٬٬ باول ،، میں ۔ ۔ ۔ اس بات پر کشن لال اپنے آپے سے باہر ہوگیا اور دھونو کو گالیاں بکنے لگا ۔ گلابی دھوبی کے ساتھ اس کا سالا تاجو ، تھا اس نے بیچ بچاﺅ کرایا تو کشن لال نے اسے تھپڑ ماردیا ۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی دھوتی میں چھپایا ہوا چھرا نکالا اور دھونو کے پیٹ میں کس کس کے دو بار مارا اور بولا کہ لے میں ابھی تجھے تیرے پاکستان میں پہنچادوں گا ۔ ۔ ۔ جا سالے اپنے پاکستان ۔ ۔ ۔ پلیت کہیں کا باول کا کھا کے پاکستان کی بات کرتا ہے ۔ ۔ ۔

                کلو تایا دادا کو بتا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ٬٬ ابا، دھونو بہت بلک بلک کر رو رہا تھا ۔ ۔ اس نے بتایا کہ تاجو وہاں سے اپنی جان بچا کر بھاگ گیا اور اپنی گلی میں ایک جاننے والے لالو کو یہ بات بتا کر کہیں بھاگ گیا ۔۔ ۔ لالو میرا جاننے والا ہے اسی نے مجھے گلابی کے مرنے کا بتایا ہے ۔،، ۔ کلو تایا نے اپنی باتختمکی تو میرے ابا نے پوچھا٬٬ کلو بھائی یہ گاﺅں میں کس نے آگ لگا دی ہے ۔ ۔ ۔،،

                ٬٬ یہ سارا اسی پاکستان کے چکر میں ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ،،۔ دادا نے کہا۔ ۔ ۔ ٬٬ نہ یہ پاکستان بنتا اور نہ یہ ہندو مسلمان کا ٹنٹا کھڑا ہوتا۔ ۔

                ٬٬ ابا ، دو مسلمان مارے جا چکے ہیں ۔ آپ اب بھی ہندو مسلمان کے ٹنٹے کی بات کر رہے ہو۔ ۔ ۔کلو تایا نے کہا۔٬٬ سرائے میں سارے لوگ پریشان ہیں ۔ سارے لوگوں کے دلوں میں ڈر بیٹھ گیا ہے ۔ ۔ آج تک گاﺅں میں کوئی مارا نہیں گیا تھا ۔ ۔ آپس کے جھڑے بھی ہوئے تھے ۔ ۔ جب صبح رحمان حلوائی کا بھائی مارا گیا تھا تو حکیم چاچا بھی اپنی بیوی اور دو بچوں کو لے کر ٬٬سونا،، کی طرف چلا گیا ۔ وہاں اس کے بہت سے رشتے دار رہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اب یہ دھونو دھوبی مارا گیا ہے تو سرائے سے دو گھر اپنے بچوں کو لے کر رات کی پسنجر سے ریواڑی کی طرف چلے جائیں گے۔ مسلمان یہاں اکیلے ہیں ۔ پنڈت نے جو آگ لگائی ہے وہ اب بجھنے والی نہیں ہے ۔ ۔ ہمیں بھی ابا کچھ نہ کچھ سوچنا پڑے گا ۔ ۔ ۔ ہمارے بھی بال بچے ہیں ان کی فکر کرنی پڑے گی۔ ۔ رات برات اگر پنڈت کے گنڈوں نے ہماری حویلی پر چڑھائی کر دی تو ہم کیا کریں گے۔ ۔ ۔ ۔ابھی کلو تایا نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ حویلی کے باہر سے٬٬اللہ اکبر ۔ ۔ اللہ اکبر،، کی آواز آئی اور سب لوگ حیرت سے دیکھتے رہ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 0 4 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

ایک تبصرہ

  1. سید عارف مصطفیٰ

    مضمون نگار اپنے دعوے کی رو سے معمولی بچہ نہیں ، لیکن مضمون پڑھنے سے احساس ہوا کہ وہ معمولی تو کیا کبھی بچہ ہی نہیں تھا ۔۔۔ بہر طور دروغ بر گردن ڈائری ۔۔۔
    پھر وہی گزشتہ تبصرہ دہراؤں گا
    ؀ ” ایک چھوٹے سے بچے کی اتنی گہری و تفصیلی یادیں اور اس قدر بقراطی طرز احساس ۔۔!! ایسے منفرد حافظے اور رچے بسے طرز بیاں سے میرے شعور کو شدید بدہضمی لاحق ہوچکی ہے اور وہ تحت الشعور کے چھپڑ سے پھلستے ہوئے لاشعور کے نالے میں جاگرا ہے ۔۔۔“

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے