سر ورق / کہانی / معزز گنجے نوشاد عادل حصہ دوم

معزز گنجے نوشاد عادل حصہ دوم

معزز گنجے

نوشاد عادل

حصہ دوم

 چاچا نے گل بہار سے مایوس ہونے کے بعد دوسری جگہ شادی کرلی۔ تب ان کی ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ چاچا نے اس کا نام چمکی رکھا تھا۔ چمکی نے جوان ہونے پر ایسا رنگ روپ نکالا کہ سب حیران رہ گئے۔ کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ چاچا ہی اس کے باپ ہیں، لیکن کوئی بھی یہ بات چاچا کے منہ پر کہنے کا رسک نہیں لیتا تھا۔

پوری طرح مطمئن ہوجانے کے بعد چاچا دوربین گلے میں لٹکا ئے چھت سے نیچے اُتر آئے۔ صبح صبح کا وقت تھا ،اس لیے زیادہ لوگ دکھائی بھی نہیں دیے تھے۔ چاچا کو سودا لینے کے لیے بازار جانا تھا۔ انہوں نے ٹوکری اٹھائی اور دروازہ کھول کر گھر سے باہر نکلے، مگر دوسرے ہی قدم پر ان کا پیر مٹی کے ڈھیر سے ٹکرایا اور وہ سنبھلنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ٹوکری سمیت منہ کے بل ٹیاﺅں کرکے گر پڑے۔ چاچا کا منہ خاک آلود ہوگیا اور پھر وہ جلدی سے مٹی تھوکتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے تب انہوں نے مٹی کے ڈھیر کی طرف دیکھا تو گویا ان کے پیروں تلے سے چپلیں ہی نکل گئیں۔ وہ منہ کھولے بے حس وحرکت کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ چاچا نہیں، بلکہ ان کا مجسمہ کھڑا ہے۔ ان کی چیپڑ بھری آنکھوں کے سامنے وہ منظر ہی ایسا دہشت ناک تھا جس کی ہول ناکی نے ان کے ہوش وحواس بندر کی طرح جھپٹا مار کر چھین لیے تھے۔

چاچا کے گھر کے دروازے کے عین سامنے ایک قبر بنی ہوئی تھی۔

قبر خاصی اونچی اور خاصی بڑی تھی۔ جس کے سرہانے کی طرف ایک لکڑی کا تختہ کتبے کی طرح لگا ہوا تھا اور کتبے پر کچھ لکھا بھی تھا۔ چاچا نے غلطی سے تھوڑا بہت پڑھ رکھا تھا،لہٰذا انہوں نے اٹک اٹک کر پڑھا۔

”یہ چاچا چراندی کی قبر ہے جو زندگی میں پہلی مرتبہ اتنے سکون سے لیٹے ہیں۔ یہ اب نہیں مرتے تو بھلا کب مرتے۔ چاچا اس دنیا میں اپنا جتنا راشن لکھو ا کر آئے تھے، اس سے ڈبل کھا کر مرے ہیں۔“

یہ پڑھتے ہی چاچا ٹڈے کی طرح اُچھل پڑے۔ غصے کے مارے چاچا کی ناک کے نتھنے پھولنے لگے تھے، البتہ وہ حیران بھی تھے۔ رات جب وہ گھر میں داخل ہوئے تھے تو دروازے کے سامنے قبر تو کیا ایک پتھر بھی نہیں پڑا تھااور اب یہ صبح ہی صبح قبر….؟ بھلا رات میں یہ قبر کہاں سے آگئی۔ اوپر سے قبر اتنی عظیم الشان تھی کہ چاچا کو یہ گمان گزرا کہ شاید کسی نے ہاتھی مار کر یہاں دفن کردیا ہے۔ چاچا مختل دماغ کے ساتھ احمقانہ زاویوں پر اپنی سوچ کی کھٹارا سائیکل چلا رہے تھے۔

 معاً ایک جانب سے تقدیر کا مارا ہوا سخن نمودار ہوا۔ اس نے چاچا کو ہکا بکا کھڑے دیکھا تو ٹھٹک کر رک گیا اور پھر اپنی اسپیڈ بڑھا کر چاچا کے نزدیک آکر بریک لگائے۔

”کیا ہوگیا چاچا، یہ کیسے کھڑے ہوجام ہوکر…. فوٹو کھنچا رہے ہوکیا اور یہ منہ پر مٹی کیسے لگ گئی ہے۔ مٹی میں لوٹ لگائی تھی کیا؟“ سخن نے تشویش زدہ لہجے میں پوچھا۔ اس احمق نے ابھی وہ قبر نہیں دیکھی تھی۔

”ابے میں کوئی گدھا ہوں ،جو مٹی میں لوٹ لگاﺅں گا؟“ چاچا نے غراتی ہوئی آواز میں کہا۔ ”بات کر رہا ہے فالتو فنڈ میں۔“

”چاچا تمہارے منہ میں خاک…. میرا مطلب ہے کہ تمہارے منہ پر خاک کیسے لگ گئی اور یہ کہنی سے خون بھی نکل رہا ہے ۔ کیا نسیم حجازی کاناول ”خاک اور خون“ پڑھ کر آرہے ہو؟“ سخن، چاچا کی ذلت کی کہانی خود چاچا کی زبانی سننے کے لیے بے قرار تھا۔

”یہ دیکھ….یہ کیا ہے؟“ چاچا نے قبر کی طرف اشارہ کیا۔

سخن نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر قبر کو دیکھا ،مگر شناخت نہ کرسکا۔ ”یہ کیا چبوترہ بنایا ہے؟“

”ابے چبوترہ ایسا ہوتا ہے احمق۔“ چاچا نے سخن کو گدی سے پکڑ کر قبر کی طرف جھکایا۔ ”دیکھ غور سے دیکھ اور پہچان اسے؟“

”چھو…. چھوڑو چاچا۔“ سخن منمنایا۔ ”میرے کالرمیںدرد ہورہا ہے آئے۔“

”نہیں تو دیکھ ….غور سے دیکھ۔“ چاچا کی پوری طاقت ہاتھوں میں سمٹ آئی تھی۔

”ابے…. ابلے…. چاچا ایمان سے ، اب میں پہچان گیا۔ میری گردن چھوڑو….میں بتاﺅں یہ کیا ہے۔“ چاچا نے اس کی گردن چھوڑ دی۔ تب وہ بولا۔ ”چاچا یہ اسپیڈ بریکر بنا ہوا ہے۔“

یہ سن کر چاچا کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ روئیں دل کو یا پیٹیں سخن کو۔“ یہ اسپیڈ بریکر ہے، کریکر؟“چاچا نے سلگتے دل کے ساتھ پوچھا۔

”ہاں…. میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں یہ اسپیڈ بریکر ہی ہے۔“ سخن کے کندھے پراعتماد کا لنگور چڑھا بیٹھاتھا۔

”تو یہ میرے گھر کے سامنے کیوں بنا ہوا ہے۔ ادھر سے کوئی ہیوی ٹریفک گزرتا ہے۔“ چاچا نے خون آشام کی طرح دانت نکالے اور سخن کی ٹھنڈی ہوتی ہوئی گدی دوبارہ گرم کردی۔ ”ابے یہ قبر ہے قبر۔“

سخن زور سے اُچھلا ۔اس کی شکل پر خوف ودہشت کی پھٹکار برسنے لگی۔ ”کک….کیا ….قق….قق….“

”ابے کیا قق قق کررہا ہے بطخ کے بچے۔“ چاچا کو یاد آگیا کہ جب گل بہار چلتی تھی تو بالکل بطخ ہی لگتی تھی۔ ”بول قبر …. بول۔“

”قااااااابررررر۔“ سخن نے بہ مشکل منہ سے قبر اگل دی۔ ”مگر یہ کس کی قبر ہے؟“

”مجھے کیا معلوم ، میں نے تو خود ابھی ابھی دیکھی ہے۔“

”چاچا یہ مجھے تمہاری ہی کوئی شرارت لگ رہی ہے۔ ہوسکتا ہے تم نے اپنی قبر ایڈوانس میں بنالی ہو۔ اوئے…. ابے ….یہ کتبے پرکیا لکھا ہے۔“ سخن چونک کر کتبہ پڑھنے لگا۔ پھر زور سے ہنس پڑا۔ ”دیکھا چاچا…. میرا اندازہ درست ہی نکلا۔“

”ابھی اور بھی کچھ نکلے گا…. دو منٹ صبر کر۔“ چاچا نے اسے خبردار کیا۔ ”پتا نہیں کس کم بخت نے قبرستان سے اکھاڑ کر یہاں فٹ کردی۔“

ابھی چاچا اور سخن اس پراسرار قبر پر اپنی ماہرانہ رائے دے رہے تھے کہ وہاں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔ یہ وہ لوگ تھے جو شرفو کونسلر صاحب کو رخصت کرنے کے لیے ان کے گھر جارہے تھے۔ سب لوگ رک گئے۔ چاچا اور سخن کو ایک ساتھ کھڑے دیکھ کر ان لوگوں کو انتہائی تشویش اور حیرت کے ادھے لگے۔ یعنی شیر اور کتا ساتھ کھڑے تھے۔

”کیا ہوا چاچا۔ سخن نے کچھ کہاہے کیا؟“ نجمو سبزی فروش اتنی عجلت میں آگے بڑھتا چلا آیا کہ چاچا سے ٹکرا ہی گیا۔ چاچا پہلے ہی اندر ہی اندر کھول رہے تھے۔ اُن سے ضبط نہ ہوسکا اور وہ اچھل کر بندر کی طرح نجمو سبزی والے کی پڈی پر سوار ہوگئے۔ نجمو کے حلق سے مارے خوف سے چیخیں نکل گئیں۔

”اچھا اچھا چاچا…. اب نئیں کروں گا….تمہیں چاچی چراندن کی قسم، آئے مرگیا…. ابو۔“مگر چاچا تو پوری تیاریوں سے چڑھے تھے۔ صرف زین کسنا باقی رہ گیاتھا۔

 بابو باﺅلا بھی وہاں خاکِ محفل بنا کھڑا تھا۔ وہ گانے کے انداز میں بولا۔ ”اوچاچا میرا کھوتا چڑھیا۔ چاچا…. کھوتے کی پشت پر ہاتھ مارو۔ یہ دوڑے گا۔“

بہ مشکل لوگوں نے چاچا کو نجمو کی پڈی پر سے اُتارا۔ نجمو کا منہ واقعی کھوتے جیسا ہوگیا تھا۔

”چاچا ….دفع کرو اسے….یہ بتاﺅ…. یہ تم نے مٹی کا ڈھیر کیوں لگا رکھا ہے اپنے گھر کے آگے؟“ خالو خلیفہ بڑی بدتمیزی سے لوگوں کو دھکیلتے ہوئے آگے آئے۔

”یہ مٹی کا ڈھیرنہیں قبر ہے۔ یہ دیکھو…. کتبہ بھی لگا ہوا ہے۔“ سخن نے ان سب کی توجہ کتبے کی جانب مبذول کرائی اور پھر کتبہ پڑھ کر سنایا۔

”اوہ اس کا مطلب ہے کہ چاچا تمہارا انتقال ہوچکا ہے۔“ چوہدری بشیر نے مغموم لہجے میں کہتے ہوئے بغیر دیکھے ایک طرف ناک سنکی اور بابو باﺅلا نشانے پر آگیا۔ ”چلو میرے سجنو! چاچا کی قبر پر فاتحہ پڑھ لیں۔“ یہ کہہ کر انہوں نے ہاتھ اُٹھا لیے۔

”ابے میں زندہ ہوں۔“ چاچا پھدکے۔ ”فالتو فنڈ میں فاتحہ پڑھ لیں۔“

”چاچا! میرا تو یہ خیال ہے کہ یہ تمہارے جیسے کسی نیک آدمی کی قبر ہے ،جو کسی دوسری جگہ سے ٹرانسفر ہوکر یہاں نکل آئی ہے۔“ خالو نے خیال ظاہر کیا۔

”ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے۔ پھر اب میں کیا کروں؟“ پریشانی چاچا کے چہرے سے گر رہی تھی۔

”تم روزانہ صبح سویرے اٹھ کر قبر کو پانی دیا کرو۔“

”اور اگر قبر میں سے ڈھانچے کا پودا نکل آیا، تو پھر؟“ للو نے نقطہ اٹھایا۔

”پودا کیسے نکلے گا پودنے۔“ چوہدری بشیر نے یہ کہہ کر کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی دیکھ کر کہا۔ ”اُف جلدی کرو۔ شرفو صاحب نکلنے والے ہوں گے۔ ہمیں کافی ٹائم ہوگیا ہے۔‘

”ہاں ہاں بھئی چلو، اچھا چاچا ہم چلے….دنیا جلے۔“ خالو نے عجلت کا مظاہرہ کیا۔

اور پھر یہ جلوس ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر شرفو صاحب کے گھر چل پڑا۔ شرفو صاحب کے گھر کا دروازہ بند تھا۔ شاید اب وہ اختتامی تیاریوں میں مصروف ہوں گے۔ سب لوگ لائن بنا کر ان کا انتظار کرنے لگے۔ خالو خلیفہ اور انگریز انکل تو اتنے بے چین ہو رہے تھے کہ وہ دونوں ہاتھ پشت پر باندھ کر اِدھر سے اُدھر بے چین ریچھوں کی طرح ٹہلنے لگے۔ اُن کی دیکھا دیکھی باقی تمام افراد بھی دونوں کے پیچھے اسی انداز میں ٹہلنے لگے۔ ایک بے چینی کی طویل قطار بن گئی۔ ان لوگوں کو انتظار کرتے کرتے بہت دیر ہوگئی، لیکن شرفو صاحب اب تک گھر سے برآمد نہیں ہوئے تھے۔

”ابے یہ شرفو صاحب کہاں بیٹھ گئے جاکر۔“ انگریز انکل بڑبڑائے۔ ”اگر وہ دیر سے پہنچیں گے تو کانفرنس والے بھگا دیں گے ان کو۔“

”اندر ہی ہوں گے اور بھلا کہاں جائیں گے۔ پچھلی دیوار ٹاپ کرگندی گلی سے تھوڑی جائیں گے۔“ مجو قصائی نے دانش ورانہ انداز میں کہا۔

 چوہدری بشیر نے کئی مرتبہ کی دیکھی ہوئی اپنی گھڑی دیکھتے ہوئے پھر کہا۔ ”بس اب وہ آنے ہی والے ہوں گے۔“

للو سے رہا نہ گیا۔ اس نے کہہ دیا۔ ”اوہو…. نئی گھڑی باندھی ہے۔ اس لیے بار بار شو مار رہے ہو۔ لاٹری سے نکلی ہوگی۔“

”ابے یہ لاٹری سے نکلی ہوئی نظر آرہی ہے تجھے پاگل کے بچے۔“ چوہدری بشیر نے للو کے والد، یعنی خالو خلیفہ کی موجودی کو بھی نظرانداز کردیا۔

”دکھانا چوہدری صاحب…. مجھے دکھانا۔“ سخن نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ ”مجھے گھڑیوں کا بڑا وسیع تجربہ ہے۔میں دیکھ کر بتاتا ہوں کہ یہ کہاں کی گھڑی ہے۔“

”ہاں ہاں تو دیکھ اور بتااسے…. اس کو یہ لاٹری کی گھڑی نظر آرہی ہے۔ دیکھ کر بتا اسے۔“ چوہدری صاحب نے سخن کو گھڑی دکھائی۔

 سخن چند منٹ بہ غور گھڑی کو دیکھتا رہا اور پھر نفی میں سرہلا کر بولا۔”نہیں بھئی چوہدری صاحب ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ یہ لاٹری والی گھڑی نہیں ہے۔“ سخن نے گویا اعلان کیا۔

چوہدری بشیر نے بڑے پرغرور انداز میں للو کی طرف دیکھا۔ ”بول….اب بول…. کیا کہہ رہا تھا تو…. لاٹری سے نکلی ہوئی گھڑی، اب کیا بولتاہے؟“

”میری بات تو پوری ہونے دیں چوہدری صاحب۔“ سخن نے دوبارہ مداخلت کی۔ ”یہ بات سو فیصد ٹھیک ہے کہ یہ لاٹری والی گھڑی نہیں ہے، بلکہ یہ تو مجھے ہر مال دس روپیہ والے سے خریدی ہوئی لگ رہی ہے۔“

اس کے ساتھ ہی چوہدری صاحب کا اُلٹا ہاتھ گھوما۔ انہوں نے سخن کے تھوبڑے کا نشانہ لیا تھا، لیکن عین آخری لمحے میں سخن کا تھوبڑا راستے سے ہٹ گیا اور چوہدری بشیر کا ہتھوڑے جیسا ہاتھ انگریز انکل کی گدی پر پڑا تھا۔ انگریز انکل اوپر دیکھتے ہوئے اس کوے کو انگلش میںگالیاں دے رہے تھے، جواُن کے سر پر جان بوجھ کر بیٹ کر گیا تھا۔ گدی پر ہاتھ لگتے ہی انگریز انکل ہوا میں ماہر جمناسٹک کی طرح اُلٹی قلابازی کھا گئے۔ ان کے منہ سے حیرت انگیز طور پر کوئی آواز نہیں نکلی تھی۔ تمام لوگ ان کی طرف بوکھلا کر بڑھے۔ یامین بھوسی ٹکڑے والے نے انگریزانکل کے سینے سے کان لگا کر دھڑکنیں چیک کیں اور پھر اعلان کیا۔

”انکل ابھی زندہ ہیں۔“ اس کے لہجے میں مایوسی تھی۔

سخن نے بیٹھ کر انگریز انکل کی گدی کا طبی معائنہ کیا۔

 ”سنسناہٹ تو ہو رہی ہے ۔زوں زوں کی آواز آ رہی ہے۔“

ہاتھ خاصی طاقت کے ساتھ پڑاتھا،اس لیے ان کی گدی تافتان کی طرح پھول گئی تھی۔ انگریز انکل کی یادداشت پر اثر پڑا تھا، مگر گدی پر مالش ہونے کے بعد ان کے دماغ کی فریکوئنسی درست ہوگئی اور یادداشت کی نشریات بالکل صاف ہونے لگی۔ خالو خلیفہ اس ڈرامے سے بے زار ہوکر شرفو صاحب کے دروازے کی طرف بڑھے اور سودخور کی طرح دروازہ پیٹا۔

”ارے بھئی شرفو صاحب، شرفو جی۔“ دروازہ نہ کھلا تو خالو کا دماغ گرم ہوگیا۔ ”ابے او شرفو کے بچے باہر نکل۔ یا آﺅں اندر؟“

جب چند منٹ مزید گزر گئے تو چوہدری بشیر سرفروشانہ جذبے کے ساتھ آگے آئے اور دروازہ ایک خاص دھن میں بجایا۔ یہ خاص دھن کسی افریقی قبیلے کی تھی۔ اچانک دروازہ کھلا اور بس چوہدری بشیر ایک بالٹی کی جھلک دیکھ سکے۔ شرفو صاحب کی بیگم، یعنی پابی جی نے چوہدری بشیر پر بالٹی بھر کر پانی پھینک دیا تھا۔ وہ پورے بھیگ گئے اور بھی کئی لوگوں پر پانی کی چھینٹےں آئی تھیں۔

”دروازہ بجانے کی تمیز نہیں ہے جنگلی کے بچے…. ایسے بجاتے ہیں دروازہ؟“ پابی جی جوالہ مکھی بنی کھڑی تھیں۔

 چوہدری صاحب نے گیلے بال قوالوں کے انداز میں جھٹکے۔ ”وہ پابی جی! ہم شرفو صاحب سے ملنے آئے ہیں۔ انہیں رخصت کرنے کے لیے۔“

”ارے پتا نہیں اُن کو کیا ہوگیا ہے۔اسٹور میں گھس کر اندر سے دروازہ بند کرلیا ہے۔ صبح سے ہی گھسے ہوئے ہیں۔ باہر ہی نہیں آرہے۔ میں تو چلا چلا کر تھک گئی ہوں۔ تم لوگ کوشش کرلو باہر نکالنے کی۔“ پابی جی نے سخت بیزاری کے عالم میں کہا اور دروازے کے آگے سے ہٹ گئیں۔

 سب لوگ چیونٹیوں کی طرح لائن بنا کر اندر آگئے۔

 پابی جی ان کو اسٹور تک لائیں اور بولیں۔”یہ ہے اسٹور، اندر بند ہیں وہ کھلوا لو دروازہ۔“

خالو نے آگے بڑھ کر اسٹور کے دروازے پر دستک دی اور کہا۔ ”جناب شرف الدین صاحب…. شرف الدین صاحب….شرفو صاحب….نہیں سنا؟….ابے او شرفو، باہر نکل۔“

چوہدری بشیر بولے۔ ”شرفو صاحب، دروازہ کھولو، دیکھو ہم سب آئے ہیں اور ہم آپ کے لیے ربڑی لائے ہیں۔ آپ شو ق سے کھاتے ہونا، بلکہ شوق سے نہیں ندیدے پن سے کھاتے ہو۔ ہمیں سب پتا ہے۔ اب آجاﺅ جلدی سے…. ورنہ ہم ساری ربڑی کھالیں گے ۔ آتے ہو یا ہم کھالیں۔“

لیکن اسٹور کے اندر چھپے بیٹھے شرفو صاحب کے پایہ استقلال کو ربڑی کا جھانسا بھی نہ ہلا سکا۔ باری باری سب نے کوشش کرکے دیکھ لی ،مگر شرفو صاحب باہر نہ نکلے۔ باہر نکلنا تو دور کی بات ان کے منہ سے ایک لفظ بھی نہ نکلا تھا۔ سب لوگوں کو تجسس کا زکام ہوگیا کہ آخر ایسی کون سی بات ہوگئی تھی کہ شرفو صاحب اسٹور میں جا چھپے تھے، جب کہ آج تو ان کو اسلام آباد کونسلروں کی کانفرنس میں شرکت کے لیے جانا تھا۔ آخر وہ لوگ مایوس ہوگئے۔

تھک ہار کر خالو خلیفہ بولے۔ ”اچھا بھئی ٹھیک ہے۔ ہم سب جارہے ہیں۔ چلو بھئی چلو اپنے اپنے گھروں کو جاﺅ۔“

صحن میں آکر خالو خلیفہ نے سب لوگوں کو روک لیا اور دبی آواز میں اپنے ماسٹر پلان سے آگاہ کیا۔ ”ہم لوگ واپس نہیں جائیں گے۔ وہ تو میں نے شرفو صاحب کو پٹانے کے لیے ایسے ہی کہا تھا۔ ہم اسٹور کے آس پاس پوشیدہ جگہوں میں چھپ کر بیٹھ جائیں گے اور اسٹور کے سامنے پابی جی سے کہہ کر کھانا رکھوا دیں گے۔ آخر شرفو صاحب کو بھوک تو لگے گی۔ تو وہ کھانے کی خوشبو پر بے تاب ہوکر باہر نکلیں گے۔ بس اسی وقت ہم کمانڈو ایکشن کرکے اُن کو پکڑلیں گے۔“

سب نے ان کی اس خبیثانہ تجویز کو پسند کیا۔ پابی جی کو بھی منصوبے سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور کھانے کی ٹرے خوشبودار کھانوں سے بھر کر اسٹور کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی اور پھر وہ سب لوگ اسٹور کے گردوپیش چھپ کر بیٹھ گئے۔ ان سب کومورچہ بندی کی ہدایات کمانڈر خالو نے دی تھی۔

”چوہدری جی تم صوفے کے پائے کے پیچھے چھپ جاﺅ۔ انگریز انکل تم پنکھے سے لٹک جاﺅ، یامین تم ڈسٹ بن کے اندر ہوشیار بیٹھو اور سخن تم جھاڑو کے پیچھے دبک جاﺅ بالکل الرٹ ہوکر، جیسے ہی شرفو صاحب باہر نکلیں ان پر اٹیک کردینا۔ ٹھیک ہے؟“ خالو جذباتی ہوکر چریاہٹ پکڑ گئے تھے۔

”یس سر۔“ سارے سپاہیوں نے کہا اور انہوں نے اپنی پوزیشنیں سنبھال لی تھیں۔

 وقت مرمر کر گزر رہا تھا۔ وہ لوگ سانس اور پیشاب وغیرہ روکے بیٹھے تھے۔ آخرکار ڈیڑھ گھنٹے کے بعد شرفو صاحب کو بھوک نے با ¶لا کردیا۔ انہوں نے صبح ناشتا بھی نہیں کیا تھا۔ انہےں کھانے کی خوشبو آرہی تھی۔ باہر چھپے بیٹھے لوگوں نے دھیرے دھیرے اسٹور کا دروازہ کھلتے دیکھا، لیکن اس کی چرچراہٹ گلی کے کونے تک جارہی تھی۔ سب ہوشیار ہوگئے۔ چوہا بل سے باہر آرہا تھا۔ وہ سب ریڈی ہوگئے۔ سب نے پوشیدہ جگہوں سے ایک حیران کن منظر دیکھا کہ شرفو صاحب انتہائی محتاط انداز میں اسٹور سے باہر آئے اور اِدھر اُدھر دیکھ کر قدم بڑھایا۔سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اُنھوں نے اپنے سر پر تولیا لپیٹا ہوا تھا۔اس کی وجہ وہ لوگ جان نہ سکے۔ جیسے ہی شرفو صاحب کھانے کی ٹرے تک پہنچے اور اس پر اپنا منہ آوارہ بلے کی طرح مارا ہی تھا کہ سخن نے جذبات سے مغلوب ہوکر اپنا مورچہ چھوڑا اور شرفو صاحب کے ایک بازو سے تعویذ بن کر لپٹ گیا۔

”انڈا….انڈا…. انڈاہوگیا…. چور پکڑا گیا۔“ سخن نے فوراً شور مچانا شروع کردیا۔

شرفو صاحب کا تو مارے گھبراہٹ کے برا حال ہوگیا۔ وہ گھگھیا کر زمین پر لیٹ گئے۔ اتنے میں باقی فوجی بھی وہاں آپہنچے۔ بچاﺅ کا کوئی راستہ نہ تھا۔ شرفو صاحب چاروں اطراف سے گھیرے میں آچکے تھے۔ انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے تولیا مضبوطی سے پکڑلیا تھا اور جلدی سے اٹھ بیٹھے۔

”چھوڑو مجھے…. ہٹو…. ابے سخن ….میری شلوار چھوڑ…. ہٹ جاﺅ میرے سامنے سے، ورنہ بہت برا ہوگا۔“ شرفو صاحب کا اندازہ جارحیت سے بھرپور تھا۔

”ایسے کیسے چھوڑ دیں۔ اتنی دیر سے گھات لگائے بیٹھے اب تو قابو میں آئے ہو اور یہ تولیا کس خوشی میں سر پے لپیٹا ہوا ہے۔ سر پر پھوڑے نکل آئے ہیں کیا؟“ چوہدری صاحب نے تولیا کھینچنا چاہا، مگر شرفو صاحب نے مضبوطی سے اسے پکڑ رکھا تھا۔

”نہیں میں تولیا اُترنے نہیں دوں گا۔ چاہے خون کے ڈرم اُلٹ جائیں۔ تولیا اتارنے کے لیے میری لاش پر سے گزرنا پڑے گا۔“

”اب تو یہ تولیا اُتر کر ہی رہے گا شرفو جی۔“ خالو نے تیور بگاڑ لیے۔ ”چلو میرے جاں بازوں، اٹیک۔ کھینچ لو تولیا…. اس کی تو میں ایسی کی تیسی….“

ان کے جاں نثار سپاہیوں نے شرفو صاحب کو قربانی کے دنبے کی طرح دوبارہ زمین پر لٹا دیا۔ وہ چیختے چلاتے رہ گئے، مگر اتنے سارے لوگوں کے سامنے بھلا اُن کی کیا چلتی۔ کسی نے ان کی ٹانگیں پکڑیں، کسی نے سر قابو میں کیا، کسی نے دونوں ہاتھ پکڑے۔ سخن نے دونوں کان پکڑلیے اور ”چیاﺅں میاﺅں“ کرنے لگا۔ چوہدری بشیر نے بڑی بے رحمانہ کارروائی کرتے ہوئے قہقہہ لگا کر تولیا ایک جھٹکے سے کھینچ کر اتار لیا۔ انہوں نے اس منظر کا تصور کچھ اور ہی کیا تھا، بالکل فلمی انداز میں۔ ایک لمحے کے لیے انہوں نے خود کو ولن اور نیچے لیٹے ہوئے شرفو صاحب کو بے بس ہیروئن سمجھ لیا تھا اور تولیے کو ہیروئن کی قمیص سمجھا تھا۔

اگلے ہی لمحے وہاں موجود تمام لوگ بھونچکے رہ گئے۔ اُف…. یہ شرفو صاحب کا سر تھا یا شیشے کا بڑا سا گولا۔ ان لوگوں کو شرفو صاحب کی چمچماتی ہوئی کھوپڑی میں انرجی سیور واضح دکھائی دے رہا تھا۔ وہ اپنی صورتیں بھی واضح دیکھ سکتے تھے۔ نجمو تو شرفو صاحب کی کھوپڑی میں دیکھ کر اپنے بال سنوارنے لگا۔ کھوپڑی کا راز منکشف ہوا تو شرفو صاحب کے صبر وضبط کا مٹکا پھوٹ گیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

”ہائیں…. ابے …. ابے یہ کیا؟“ سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ ان کی نگاہیں کرسٹل بال پر مرکوز تھیں۔

”ابے یہ کیا کرلیا تم نے اپنی کھوپڑی کا…. یہ گنجے کیوں ہوگئے؟“ خالو کے چہرے پر حیرت کی کیچڑ ملی ہوئی تھی۔

”تم نے تو آج اسلام آباد جانا تھا، پھر اچانک گنجے کیوں ہوگئے؟“ انگریز انکل بھی حیرت کے جوہڑ میں چھپاکے مار رہے تھے۔

”شرفو صاحب! آپ نے کانفرنس میں جانا ہے یا اکھاڑے میں جاکر لوگوں کو بھینٹیاں مارنی ہیں؟“ چوہدری بشیر نے دریافت کیا۔ سخن نے اس وقت تک شرفو صاحب کے بہتے آنسو اور منہ گندے پونچے سے پونچھ ڈالے تھے۔

”یہ ایک بڑی درد ناک کہانی ہے۔“اُ ن کے منہ سے نکلا۔

”مجھے درد تو نظر نہیں آرہا…. البتہ ناک نظر آرہی ہے۔“ مجو نے غور سے شرفو صاحب کے تھوبڑے کو دیکھا۔

”ابے ان کو بولنے دے…. خاماخائی بیچ میں بکواس مت کر….“ چوہدری بشیر نے شرفو صاحب کی کھوپڑی پر محبت سے ہاتھ پھیرا۔

”اچھا خاصا میں رات کے وقت سویا تھا…. بڑا خوش تھا کہ صبح اُٹھتے ہی…. میرا مطلب ہے اُٹھنے کے بعد منہ ہاتھ دھو کر کلی کرکے کپڑے پہن کر جلدی سے روانہ ہوجاﺅں گا …. مگر جب میں نے آئینے میں اپنا سر دیکھا تو معلوم ہوا ….میں گنجا ہوچکا ہوں….“ شرفو صاحب کی آنکھوں کی ٹونٹی پھر لیک ہوگئی۔

”یہ کسی دشمن کی سازش لگ رہی ہے۔“ بلو نے جاسوسوں کے انداز میں کہا۔ ”تاکہ شرفو صاحب کانفرنس میں شریک نہ ہوسکیں۔“

”شرفو صاحب…. ہم اس سازش کا سراغ لگالیں گے۔ فی الحال آپ کانفرنس میں شرکت کے لیے جاﺅ…. وہ بھی بہت ضروری ہے۔“ خالو نے ان کا حوصلہ بڑھایا۔

”نئیں نئیں….“ شرفو صاحب بدک گئے۔ ”میں یہ گنجی کھوپڑی لے کر کانفرنس میں نہیں جاﺅں گا…. کانفرنس بھی جمعرات والے روز ہے…. وہاں سب لوگ میرے سر پر چپت ماریں گے۔“

”اس کی ترکیب بھی ہے میرے پاس۔“ اچانک سخن بول پڑا۔ ”ہم آپ کی ٹنڈ پہ کالی بوٹ پالش کردیں گے یا پھر ڈامر چپکا دیں گے…. دور سے ایسا لگے گا جیسے آپ کے سر پر بال ہیں۔“

”ابے تو کیا میں کانفرنس ہال سے دور کسی ٹیلے کے اوپر بیٹھوں گا؟“ شرفو صاحب دھاڑے۔

”کچھ بھی ہوجائے آپ کو ضرور جانا ہے شرفو صاحب…. آخر آپ ہمارے نمائندگی کریں گے وہاں۔“ انگریز انکل نے سنجیدگی سے کہا۔

”نئیں نئیں…. میں ہرگز ہرگز نہیں جاﺅں گا۔“ شرفو صاحب نے لپک کر پلنگ کا پایہ زور سے کس کر پکڑلیا اور دیمک کی طرح اس سے چمٹ گئے۔

”پابی جی…. او پابی جی….“ چوہدری صاحب نے بڑی تہذیب سے آواز لگائی۔

”اب کیا موت آرہی ہے؟“ پابی جی دوسرے کمرے سے دہاڑیں۔ اصل میں وہ کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتی تھیں۔ یہ ان کا خاندانی اسٹائل تھا۔

”پابی جی! شرفو صاحب کا سامان کدھر ہے؟“

”اے ادھر ہی پڑا ہوگا پلنگ کے نیچے…. کل ہی شاپنگ کرکے آئے تھے طارق روڈ سے۔“ پابی جی دوسرے کمرے میں کیبل پر گانے دیکھ رہی تھیں۔

”اوہو…. طارق روڈ سے شاپنگ…. پھر تو خوب سوٹ بوٹ لائے ہوگے؟“ انگریز انکل نے شرفو صاحب کی بغل میں گدگدی کی۔ ”بڑے مزے آرہے ہیں تیرے…. گنجے…. پینٹےں شرٹےں پہنے گا….ہیں۔“

”میں پینٹیں شرٹیں نہیں لایا تھا۔“ شرفو صاحب نے انکاریہ انداز میں شیشے جیسی فٹ بال ہلائی۔

”ابھی پتا چل جاتا ہے….“ پھر خالو خلیفہ کے اشارے پر للو اور یامین نے پلنگ کے نیچے سے شرفو صاحب کا سامان نکالا، جسے لے کر وہ اسلام آباد جانے والے تھے۔ انہوں نے دیکھا، سامان میں ایک ٹین کی مڑی تڑی پیٹی، جس میں پیٹی سے بڑا تالا لگا ہوا تھا۔ ایک صراحی اور پلاسٹک کا میلا چیکٹ گلاس، ایک تیل میں چپڑا ہوا تکیہ اور ایک بدبودار چادر تھی۔

 چوہدری بشیر نے سامان دیکھا اور مشکوک لہجے میں شرفو صاحب سے پوچھا۔ ”شرفو صاحب…. یہ تم اسلام آباد جارہے تھے یا ٹنڈو محمد خان؟“

”چلو شرفو صاحب!…. اب سیدھی شرافت سے اُٹھ جاﺅ….“ خالو خلیفہ اس لمبے ڈرامے سے تنگ آگئے۔ ”ورنہ ہم آٹے کی بوری کی طرح گھسیٹتے ہوئے باہر لے جائیں گے۔“

”نئیں نئیں….“ شرفو صاحب کی آنکھوں میں خوف کی اگربتیاں سلگ اٹھیں۔

”شرفو صاحب….“ مجو قسائی فلمی ولن کی طرح آگے آیا۔ اس نے جھاڑو کا تنکا ہونٹوں میں دبا رکھا تھا، تاکہ شرفو صاحب رعب میں آجائیں۔ ”اگر عزت پیاری ہے تو خود چلے جاﺅ…. ورنہ ….آخ تھو….“ مجو نے تنکے کا سرا دانتوں سے توڑ کر تھوکا۔

”تم…. تم لوگ پاگل ہوگئے ہو سب کے سب…. ابے میں کونسلر ہوں اس کالونی کا…. تم میری بے عزتی کر رہے ہو…. تم سب کو ایک منٹ میں اندر کرادوں گا میں…. تم لوگوں نے مجھ کو سمجھ کیا رکھا ہے۔“ شرفو صاحب ہذیانی انداز میں چلائے۔

”فی الحال تو ہم نے گنجا سمجھ رکھا ہے…. تم ہمیں اندر کیا کراﺅ گے…. ہم ابھی تمہیں باہر کرتے ہیں…. ابے کھڑے کھڑے کیا کھجلی مچائے جارہے ہو تم لوگ…. لے چلو اس چپڑ گنجو کو گھسیٹ کر….“ خالو نے چلاتے ہوئے حکم دیا۔

اگلے ہی لمحے سب لوگ شرفو صاحب پر ٹوٹ پڑے اور انہیں ڈنڈا ڈولی کرکے اٹھالیا ،مگر شرفو صاحب کی ڈھٹائی پر آفرین ہے اتنے لوگوں کو اکیلے منہ دے رہے تھے اور اسپائڈر مین کی طرح پلنگ کے پائے سے چپکے ہوئے تھے، مگرکب تک…. وہ لوگ انہیں گلی میں لے ہی آئے۔ اچانک شرفو صاحب نے ان لوگوں کے درمیان سے لمبی جمپ لگائی اور ایک انجانی راہ پر بھاگ نکلے۔ جب تک وہ لوگ سنبھلتے…. کونسلر صاحب کی کھوپڑی نظروں سے اوجھل ہوچکی تھی۔

٭٭٭

قصہ ادھر ہی ختم نہیں ہوا تھا۔ اگلے روز پھر ایسا ہی ایک ماجرا ہوگیا، یعنی کالونی کی ایک اور معزز شخصیت اپنے گھر میں گنجی پائی گئی۔ یہ شخصیت جناب چوہدری بشیر کی تھی۔ ان کا بھی کم وبیش شرفو صاحب جیسا ہی بیان تھا کہ وہ ٹھیک ٹھاک بالوں کے ساتھ رات کو سوئے تھے۔ صبح دیکھا تو بستر پر گنجے پڑے تھے اور پورے بستر پر بال ہی بال بکھرے ہوئے تھے۔ شروع میں تو وہ بھی گھر سے باہر نکلنے پر تیار نہیں ہور ہے تھے۔ ان کے چاہنے والے خیرخواہوں نے انہیں سمجھایا کہ آخر کب تک…. کب تک یہ گنجی کھوپڑی زمانے سے چھپائے گھر میں پڑے رہو گے۔ باہر نکلو، تاکہ تمہاری شرم اور جھجک ختم ہوجائے۔ لوگوں کو اتنی مرتبہ اپنی کھوپڑی دکھاﺅ کہ وہ اس کے عادی ہوجائیں اور وہ ان لوگوں کے لیے عام سی چیز بن کر رہ جائے۔

تب چوہدری بشیر کی سمجھ میں بات آگئی۔ وہ کالونی کے ہر گھر میں ایویں علیک سلیک کرنے جانے لگے۔ ہر راہ گیر سے بڑی خوش اخلاقی اور جوشیلے انداز میں گلے ملے۔ اپنے چہرے سے زیادہ انہوں نے کھوپڑی کو آگے آگے رکھا، تاکہ دیکھنے والے عمیق نظری سے کھوپڑی کے نشیب وفراز اور چکناہٹ دیکھ لیں۔ انہوں نے ہر دکان پر جاکر ایک ایک دکان دار سے فضول کی گپیں لگائیں، مقصد صرف یہ تھا کہ ایک ہی دن میں پوری کالونی ان کی گنجی ٹنڈ سے روشناس اور آشنا ہوجائے۔

ہر کسی شخص نے چوہدری صاحب کی جھماکا مارتی کھوپڑی کی فراخ دلی کے ساتھ تعریف کی۔ چوہدری صاحب انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کرنے لگے کہ انہوں نے ان کی کھوپڑی کو تعریف کے قابل سمجھا۔ شرفو صاحب بھی واپس آگئے تھے۔ وہ اپنے گنجے سر کی وجہ سے کانفرنس میں تو نہ جاسکے تھے، البتہ انہوں نے ٹیلی فون کردیا تھا کہ اُن کا ایک اور بھائی پیدا ہوا ہے، لہٰذا اس خوشی کے موقع پر وہ کانفرنس میں آنے سے قاصر ہیں۔

تیسری صبح ڈربہ کالونی میں ایک بار پھر تشویش کے کتے لوٹنے لگے۔ اس مرتبہ یک مشت دو افراد اپنے گھروں میں گنجے پائے گئے۔ یہ خالو خلیفہ اور انگریز انکل تھے۔ ایک عجیب وغریب اور پراسرار صورت حال ہوگئی تھی۔ اب شرفو کونسلر صاحب، چوہدری بشیر، خالوخلیفہ اور انگریز انکل کا زیادہ تر وقت ایک ساتھ ہی گزر رہا تھا۔ وہ جس جگہ ایک ساتھ جاتے، وہاں چار چاند لگ جاتے تھے۔ چوہدری بشیر تو اپنی کھوپڑی کی نشوونما اور پرورش بڑی محبت اور چاہ سے کر رہے تھے۔ صبح سویرے دہی کے کونڈے سے دہی کی بالائی نکال کر سر پر جمالیتے تھے۔ ایک گھنٹے بعد اسے استرے سے کھرچ کھرچ کر اُتار لیتے۔ پھر رزلٹ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔

اس سے اگلے کئی روز بعد ایک دھماکا خیز صبح ہوئی۔ ایک ہی رات میں کئی افراد گنجے ہوگئے تھے۔ ان میں مجو قسائی، یامین، نجمو اور سخن اکبر آبادی شامل تھے ،مگر اب بھی کئی افراد ایسے تھے ،جو گنجا ہونے سے بچے ہوئے تھے ۔ان میں سرفہرست چاچا چراندی، گلابی، ملا پنجو، بابو باﺅلہ، استاد دلارے، دنبہ نائی اور چپٹا تھے۔ آج شام چوہدری بشیر کے گھر بیٹھک میں ہنگامی بنیادوں پر ایک اجلاس ہوا، جس میں گنجے اور بغیر گنجے شریک ہوئے تھے۔

”آخروہ کون لوگ ہیں ،جو راتوں کو ہمیں گنجا کرکے چلے گئے اور ہم الو کے پٹھوں کو خبر بھی نہ ہوئی۔“ انگریز انکل نے جوش خطابت میں اپنی کھوپڑی پر ایک کراری چپت ماری۔ ”پچاک“ کی آواز سن کر بیٹھک میں بیٹھے کئی افراد اٹھ کر دوبارہ بیٹھ گئے۔

”ہمیں ان گنج پسندوں کو پکڑنا ہوگا۔“ چوہدری بشیر نے لوگوں کو اُکسایا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

: "آخری جلسہ” … آندرے گروشینکو (روس… ستار طاہر

: "آخری جلسہ” آندرے گروشینکو (روس ستار طاہر بڈھے باشکوف نے اپنی بہو سے کہا: …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے