سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 8

ساڈا چڑیا دا چنبا نفیسہ سعید قسط نمبر 8

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 8

”تم ابوذر کو لے کر یہاں سے نہیں جا سکتیں۔“

اس کے بالکل سامنے سکندر کسی پتھر کی مانند اکڑا کھڑا تھا وہ گھبرا کر واپس پلٹی پیچھے پولیس کی موبائل تھی۔ اس نے اپنے بچاﺅ کیلئے یہاں وہاں نظر دوڑائی مگر اسے کوئی راستہ دکھائی نہ دیا وہ بری طرح پھنس چکی تھی ابوذر سے دوری کے خوف نے اسے اپنے پاﺅں پر کھڑا رہنا مشکل کر دیا وہ لڑکھڑا کر گرنے ہی لگی تھی۔ جب اسے کسی نے تھام لیا اور ساتھ ہی سہتی کی آواز اس کے کان سے ٹکرائی۔

”نبیرہ اٹھو تمہاری وکیل سوزان آئی ہے اور تم سے فوراً ملنا چاہتی ہے۔“

اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں، شکر ہے وہ کوئی خواب دیکھ رہی تھی مگر اس قدر ڈراﺅنا خواب وہ ایک بار پھر سوچ کر دہل اٹھی، سکندر کو پتا چل گیا تھا کہ وہ WAO میں رہائش پذیر ہے اسی سلسلے میں پچھلے دو دن سے اس کا وکیل آنٹی نوما کو فون کرکے ابوذر کی تحویل کا مطالبہ کر رہا تھا یہاں کے قانون کے مطابق سکندر یا اس کا وکیل WAO کی عمارت میں داخل نہ ہو سکتے تھے یہ ہی وجہ تھی کہ وہ جب بھی آتے گیٹ سے باہر ہی کھڑے ہو کر آنٹی نوما سے بات کرتے جو کسی بھی طور ابوذر کو حوالے کرنے کے حق میں نہ تھیں، ان دو دنوں میں نبیرہ نے بارہا فردوس خان کو فون کئے جس نے خود بھی اس کے پاسپورٹ کے حصول کیلئے ایمبیسی رابطہ کیا تھا مگر ابھی بھی اس کام کیلئے کچھ وقت درکار تھا۔

عام حالات میں تو اسے کوئی مسئلہ نہ تھا مگر اب سکندر اوراس کے وکیل نے اسے ہراساں کر دیا تھا اسے محسوس ہو رہا تھا کہ WAO میں اس کا مزید قیام مشکل ہوتا جا رہا ہے سہتی اسے جگا کر سوزان کی آمد کی اطلاع دے کر واپس چلی گئی وہ خاموشی سے اٹھی ہاتھ منہ دھویا ابوذر ابھی سو ہی رہا تھا اس پر چادرٹھیک کرکے وہ آنٹی نوما کے آفس کی جانب چل دی جہاں اس کے انتظار میں سوزان بیٹھی تھی۔

”تم ذرا جلدی سے تیار ہو کر آﺅ تمہیں ابھی میرے ساتھ پولیس اسٹیشن چلنا ہو گا۔“

”پولیس اسٹیشن مگر کیوں….“ وہ از حذ گھبرا ٹھی۔

”تمہیں اپنے بچے کا پروٹیکشن آرڈر لینا ہو گا جس کے بعد تمہارا ہزبینڈ اور اس کا وکیل تمہیں کبھی بھی تنگ نہ کر سکیں گے۔“ سوزان اسے قانونی تقاضے سمجھاتے ہوئے بولی۔

”مگر آنٹی آپ اچھی طرح جانتی ہیں میں پولیس اسٹیشن نہیں جا سکتی۔“ وہ بے بسی سے بولتی ہوئی آنٹی نوما کی طرف پلٹی۔

”دیکھو نبیرہ تمہارا پروٹیکشن آرڈر کیلئے جانا خود تمہاری اپنی فلاح کیلئے بہت ضروری ہے تم جانتی نہیں ہو صبح سے سکندر کا وکیل ہمیں دو دفعہ فون کر چکا ہے وہ مسلسل ہمیں دھمکا رہا ہے کہ ابوذر اس کے کلائنٹ کے حوالے کیا جائے، اب یہ ازحد ضروری ہے کہ تم اپنے بچے کیلئے آئی پی آڈر حاصل کرو ویسے تو وہ وکیل یہاں اندر داخل نہیں ہوسکتا مگر ان کے ساتھ اگر پولیس آگئی تو تمہارے لئے مشکل کھڑی ہو جائے گی کیونکہ اس صورت میں ہمیں لازمی طور پر ابوذر ان کے حوالے کرنا ہو گا۔“ آنٹی نوما نے اسے تمام تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے سمجھایا۔

”ٹھیک ہے میں تھانے چلنے کو تیار ہوں مگر ایسا نہ ہو وہاں میرے ساتھ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے۔“ ساری تفصیل جاننے کے باوجود وہ اندر ہی اندر گھبرا رہی تھی۔

”کوئی مسئلہ نہیں ہو گا سوزان تمہاری قانونی وکیل ہے اور یہ تمہارے ساتھ ہی جائے گی تم بالکل بھی گھبرانا مت، یہ پروٹیکشن آرڈر تمہارے بیٹے کی کسٹڈی کےلئے بہت ضروری ہے اس آڈر کے مل جانے سے تم دونوں ماں بیٹا بالکل محفوظ ہو جاﺅ گے اور سکندر تم دونوں کو کبھی ہاتھ بھی نہ لگا سکے گا اور یہاں سے نکلنے سے قبل تم اپنے ایجنٹ کو بھی تمام تفصیل سے آگاہ کر دینا کیونکہ اس کیلئے بھی ہر بات کا جاننا بے حد ضروری ہے۔“

فردوس خان کی ہدایت کے عین مطابق اس نے فردوس خان کا کانٹیکٹ نمبر آنٹی نوما کو ے دیا تھا تاکہ اس کے یہاں سے جانے کے بعد اگر کسی دوسری لڑکی کو ایسی سفارتی مدد دکار ہو تو فردوس خان اس کی مدد کر سکے۔

”تم ایک دفعہ میرے ساتھ تھانے چلو پھر میں سکندر کے وکیل سے خود ہی نبٹ لوں گی۔“ سوزان ٹیبل سے اپنی گاڑی کی چابیاں اٹھا کر کھڑی ہو گئی۔

”تم ابوذر کو یہیں چھوڑ جاﺅ سہتی اسے سنبھال لے گی ان حالات میں تمہارے ساتھ ابوذر کا تھانے جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔“

آنٹی نوما کی بروقت تاکید اس کے کتنا کام آئی اس کا احساس اسے تھانہ جا کر ہوا، جب سوزان کی ہمراہی میں پولیس اسٹیشن داخل ہوئی تو خاصی گھبرائی ہوئی تھی سوزان اسے اپنے ساتھ لئے ایک بڑے سے کمرے میں داخل ہوئی۔

”تم یہاں بیٹھو میں پہلے کسی پولیس آفیسر سے بات کر لوں پھر تمہیں بلاتی ہوں۔“ سوزان کی ہدایت کے مطابق وہ دروازے کے پاس ہی رکھی کرسی پر بیٹھ گئی تھوڑی ہی دیر میں سوزان واپس آگئی۔

”میرے ساتھ آﺅ تمہیں لیڈی پولیس آفیسر کو اپنا بیان ریکارڈ کروانا ہے اور دیکھو بالکل بھی ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔“

وہ اسے سمجھاتے ہوئے ایک دوسرے کمرے کی جانب چل دی۔

”تم اندر جاﺅ میں باہر تمہارا انتظار کر رہی ہوں۔“ دروازے کے پاس پہنچ کر وہ رک گئی۔

”میں اکیلی کیسے اندر جاﺅں آپ بھی چلیں میرے ساتھ۔“ اس کا خوف زدہ دل کسی پتے کی مانند لرز رہا تھا، باوجود کوشش کے وہ اپنی لہجے کی لڑکھڑاہٹ پر قابو نہ پا سکی۔

”کم آن نبیرہ تم تو ایک بہادر لڑکی ہو جہاں اب تک اتنا سب کچھ فیس کیا وہاں تھوڑی سی ہمت اور کر لو تمہاری آج کی یہ ہمت ساری زندگی تمہارے کام آئے گی اور ویسے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروانے تمہیں اکیلے ہی اندر جانا ہے قانون کے مطابق میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی اور ہاں اپنا اور اپنے بچے کا پروٹیکشن آڈر لے کر ہی باہر آنا۔“

”اوکے….“ وہ آہستہ سے کہتی ہوئی کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی سامنے ٹیبل کے پیچھے کرسی پر ایک لمبی تڑنگی پولیس آفیسر موجود تھی جس نے دروازہ کھلنے کی آواز پر سر اٹھایا، نبیرہ کا مکمل طور پر ایک طائرانہ جائزہ لیا، اس کے دیکھنے کے انداز میں جانے ایسا کیا تھا جس نے نبیرہ کو بوکھلا دیا اس کا دل چاہا وہ یہیں سے واپس پلٹ جائے۔

”نبیرہ احتشام الدین….“ اپنے سامنے رکھے پیپر پر نظر ڈال کر اس نے زور دار آواز سے اس کا نام پکارا یقینا نبیرہ کی آمد کی اطلاع اسے دے دی گئی تھی، جس کی بنا پر وہ اس کے نام سے بخوبی واقف تھی۔

”جی….“ نبیرہ نے اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بمشکل آواز نکالی۔

”تمہارا بچہ کہاں ہے؟“ لیڈی پولیس آفیسر نے کسی قدر کر ختگی سے سوال کیا اس کا یہ سوال اس قدر اچانک تھا کہ نبیرہ ایک دم ڈر سی گئی۔

”بچہ میرے پاس ہی ہے اور مجھے اس کا پروٹیکشن آرڈر چاہئے تاکہ میرا ہزبینڈ مجھے مزید تنگ نہ کر سکے۔“ غالباً سوزان اس کے بچے کے حوالے سے تمام تفصیلات تھانے میں دے چکی تھی اسی بناءپر اس نے تھوڑا سا ریلیکس ہو کر جواب دیا ویسے بھی یہ سب تفصیل یہاں بتانا ازحد ضروری تھا۔

”یہ جانتے ہوئے بھی کہ بچہ ملائی نیشنیلٹی کا حامل ہے تم اسے یہاں سے لے جانا چاہتی ہو۔“ پولیس آفیسر کرسی کھینچ کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور نبیرہ کے مدمقابل آکر اس کے کندھے پر زور سے دباﺅ ڈالتے ہوئے بولی۔

”تم بچ انجنگ (کیتا) ایک ملائی بچے کو پاکستان لے جانا چاہتی ہو؟ جانتی ہو اس بچے کو اپنے پاس رکھ کر تم نے کتنا بڑا قانونی جرم کیا ہے تمہاری بھلائی اسی میں ہے بچہ فوراً سے پیشتر مسٹر سکندر کے حوالے کرو۔“ سکندر کا نام سنتے ہی وہ ساری کہانی سمجھ گئی یقینا سکندر اس کی آمد سے قبل ہی یہاں رابطہ کر چکا تھا اور ظاہر ہے وہاں کا قانون اپنے شہری کے دفاع کو زیادہ اہمیت دیتا تھا، اسے یکدم اپنا ملک یاد آیا جہاں کسی غیر ملکی عورت سے ہونے والی ذرا سی زیادتی پر تمام میڈیا سڑکوں پر آجاتا تھا اور یہاں کسی دوسرے ملک کے شہری کو کوئی اہمیت حاصل نہ تھی چاہے وہ ایک عورت ہی کیوں نہ ہو۔

”ہم سب جانتے ہیں تم ایک بدچلن اور آناک (آوارہ) عورت ہو غیر مردوں سے تعلق رکھتی ہو اپنی چانتے (خوبصورتی) کو استعمال کرکے مردوں کو الو بناتی ہو۔“ اس کے منہ سے نکلنے والے الفاظ نبیرہ کے کانوں میں آگ لگاتے ہوئے اتر رہے تھے پولیس کسی بھی ملک کی ہو ایک جیسی زبان استعمال کرتی ہے جس میں تہذیب اور اخلاق کا گزر کہیں نہیں ہوتا، اس لیڈی آفیسر کی زبان سن کر نبیرہ کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ پاکستان کے کسی پولیس اسٹیشن میں موجود ہو۔

”اب تم جو چاہو کر لو مگر تم ایک ملائی بچہ یہاں سے لے کر نہیں جا سکتیں اب بتاﺅ تم یہاں کیا لینے آئی ہو۔“

اسے ذہنی ٹارچر کرنے کے بعد وہ پولیس آفیسر اپنی کرسی پر واپس جا کر بیٹھ گئی۔ اس کے دیکھنے کا انداز ابھی بھی اس قدر ہتک آمیز تھا کہ نبیرہ کے منہ سے کچھ نکل ہی نہ پایا اور وہ بے اختیار رونے لگی۔

”اب اپنا رونے دھونے والا ڈرامہ بند کرو ہم پر تمہارے یہ آنسو کوئی اثر نہیں کرتے کیونکہ ہمیں دن رات تمہارے جیسی بدمعاش عورتوں سے سابقہ پڑتا ہے۔“ وہ ٹھنڈے ٹھار لہجہ میں اسے لفظوں کی مار مارتے ہوئی بولی۔

”اب بتاﺅ تمہیں کس کا پروٹیکشن آرڈر چاہئے ویسے مسٹر سکندر کو علم ہے کہ تم یہاں اس وقت موجود ہو۔“ اس نے اپنے سامنے رکھی فائل کو کھولتے ہوئے پوچھا۔

”کسی کا بھی نہیں….“ بمشکل اپنی ہچکیاں روکتے ہوئے نبیرہ نے جواب دیا۔

”گڈ اس کا مطلب ہے تم خاصی سمجھدار ہو، تمہارے لئے بہتر یہ ہی ہو گا کہ سکندر کا بچہ جلد از جلد اس کے حوالے کرکے وطن واپس لوٹ جاﺅ ورنہ تمہارے لئے اچھا نہ ہو گا۔“ وہ ٹیبل پر دونوں کہنیاں ٹکا کر آگے آتے ہوئے راز داری سے بولی۔

نبیرہ کو ایسا محسوس ہوا کہ اگر اس نے آفیسر کی بات نہ مانی تو اسے اس تھانے میں ہی دھر لیا جائے گا، اسے خدشہ تھا کہیں اسے گرفتار نہ کر لیا جائے اور اگر اس وقت یہاں سکندر آگیا تو…. اس سے آگے سوچتے ہی وہ خوفزدہ سی ہو گئی اس کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئیں

”بس آپ مجھے یہاں سے جانے دیں مجھے کچھ نہیں چاہئے۔“ وہ ایک دم پلٹی اس کے پیچھے دو پولیس کانسٹیبل کھڑی تھیں۔

”یہ جو کچھ تم کہہ رہی ہو ہمیں تحریر میں لکھ کر دو۔“

پولیس آفیسر نے اس کے سامنے ٹیبل پر ایک پیپر اور پن رکھتے ہوئے اسے حکم دیا نبیرہ نے خاموشی سے دونوں چیزیں اٹھا لیں۔

”اپنا بیان لکھ کر دو کہ تمہیں اپنا یا اپنے بچے کا کوئی پروٹیکشن آرڈر نہیں لینا۔“

اس نے پولیس آفیسر کی ہدایت کے مطابق بیان لکھ کر اس کے سامنے رکھ دیا جسے اس نے اٹھا کر دیکھنے کے بعد سامنے رکھی فائل میں لگا دیا۔

”اب یہ ہی بیان ہمیں ملائی زبان میں بھی لکھ کر دو۔“

لیڈی آفیسر نے مزید ایک پیپر اس کے سامنے رکھ دیا جانے وہ کیا چاہتی تھی نبیرہ سمجھ نہ پائی مگر خاموشی سے اس کی ہدایت کے مطابق اپنا بیان ملائی زبان میں بھی تحریر کر دیا اور پیپر اس کے سامنے ٹیبل پر رکھ دیا

”تمہیں ملائی لکھنا بھی آتی ہے؟“ آفیسر نے ٹیبل پر رکھا پیپر اپنے سامنے سرکا کر دیکھا اور حیرت سے ابرو چکاتے ہوئے بولی۔

”یعنی تم مکمل طور پر ایک فراڈ عورت ہو اور کون کون سی زبان جانتی ہو؟ شاید اپنی ان ہی خوبیوں سے مرد پھنساتی ہو؟“

”پلیز میں نے آپ کے کہنے کے مطابق اپنا بیان لکھ دیا ہے اب مجھے واپس جانے دیں۔“ وہ اپنے لرزتے ہاتھوں کو چھپا کر تیز تیز لہجے میں بولی۔

”ٹھیک ہے تم جا سکتی ہو مگر یاد رکھنا تمہیں بہت جلد اپنا بیٹا اس کے باپ کے حوالے کرنا ہو گا ہم تمہیں ایک ملائی بچہ یہاں سے نہیں لے جانے دیں گے۔“

نبیرہ نے اس کی کسی بھی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اس کیلئے اتنا کافی تھا کہ اسے تھانے میں روکا نہ گیا، وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی اور تیز تیز چلتی سوزان کے پاس جا پہنچی جو باہر کاﺅنٹر پر کھڑی کسی سے کوئی بات کر رہی تھی۔

”مل گیا پروٹیکشن آرڈر؟“ اسے دیکھتے ہی سوزان نے سوال کیا۔

”آپ چلیں یہاں سے میں آپ کو سب کچھ بتاتی ہوں۔“

وہ خاصی گھبرائی ہوئی تھی، آنسو مسلسل اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔

”تمہیں کیا ہوا ہے؟“ سوزان نے حیرت سے دریافت کیا مگر نبیرہ بنا کوئی جواب دیئے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر جا بیٹھی۔

”پروٹیکشن آرڈر کہاں ہے؟“ سوزان کی سوئی ابھی بھی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔

”جہنم میں گیا پروٹیکشن آرڈر مجھے نہیں چاہئے پلیز آپ جلد از جلد یہاں سے نکلیں۔“ وہ بولتے بولتے رو پڑی، سوزان نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور خاموشی سے کار ڈرڈائیو کرنے لگی اور پھر سارے راستے اس نے نبیرہ سے کوئی سوال نہ کیا نبیرہ کی حالت دیکھ کر اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ پروٹیکشن آرڈر کے بغیر ہی آگئی ہے مگر کیوں اس کا جواب اسے WAO کے آفس جاتے ہی مل گیا جب نبیرہ نے رو رو کر آنٹی نوما کو تمام تفصیل سائی۔

”جو بھی ہے تمہیں کوئی بھی تحریری بیان مجھ سے پوچھے بغیر نہیں دینا چاہئے تھا تم وہاں پروٹیکشن آڈر لینے گئیں تھیں تمہیں اسی کے متعلق بات کرنی چاہئے تھی۔

”مگر اس لیڈی آفیسر نے مجھے اتنا ذہنی ٹارچر کیا کہ میں گھبرا ہو گئی۔“

”جو بھی تھا سوزان تمہارے ساتھ تھی تمہیں کمرے سے باہر آکر اس سے ملنا چاہئے تھا میں تمہیں اتنا بیوقوف نہیں سمجھتی تھی نہیں جانتیں تم نے یہ سب کرکے کتنی بڑی غلطی کی ہے۔“ آنٹی نوما نے بڑی مشکل سے اپنے غصے کو دباتے ہوئے کہا جبکہ یہ سب سن کر سوزان کا چہرہ غصے کی زیادتی سے سرخ پڑ گیا تھا، اسے امید نہ تھی کہ نبیرہ اس قدر کمزور ثابت ہو گی۔

”تم شاید نہیں جانتیں وہ پولیس آفیسر تمہیں صرف دھمکیاں دے رہی تھی ورنہ وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی کیونکہ میں وہاں تمہارے ساتھ تھی اور تم نے مجھے کوئی اہمیت دینے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی۔“ سوزان نے غصے سے کہا۔

”آپ نہیں جانتیں سکندر وہاں میٹنگ کرکے میرے بارے میں ساری بات کر چکا ہے اس کے لگائے گئے الزامات کی روشنی میں میری کی ہوئی ہر بات ان کے نزدیک جھوٹ اور فراڈ تھی وہ آفیسر مکمل طور پر سکندر کے فیور میں تھی۔“

”جو بھی تھا نبیرہ تمہیں وہاں سے پروٹیکشن آرڈر لے کر ہی آنا چاہئے تھا اب اگر یہ آرڈر لے کر تمہارا ہزبینڈ یہاں آجاتا ہے تو یقینی طور پر تم کسی بڑی مصیبت میں پھنس جاﺅ گی جس سے نکلنے میں ہم بھی تمہاری کوئی مدد نہ کر سکیں گے۔“

”سوزان بالکل درست کہہ رہی ہے۔“ آنٹی نوما نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی جب کہ نبیرہ کا دھیان اس وقت ان کی کسی بات کی طرف نہ تھا وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ اسے اب جلد از جلد یہاں سے نکلنا ہو گا کیونکہ WAO اب اس کیلئے محفوظ نہ رہی تھی اس نے دل ہی دل میں حساب لگایا فردوس خان کے مطابق اگلے ایک ہفتہ تک اس کا پاسپورٹ مل جانا چاہئے تھا، اس کے بعد یقینا آگے کی منزل اس کیلئے آسان ہو جاتی مگر مسئلہ اس ایک ہفتہ کا تھا جو اسے لگ رہا تھا کہ وہ WAO میں نہ گزار سکے گی اور جلد ہی اس کا یہ بدترین خدشہ درست ثابت ہو گیا۔

QQQQ

مسلسل بجتے موبائل کی رنگ ٹون نے اس کی نیند کو خراب کر دیا، اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی ٹائم پیس پر نظر ڈالی صبح کے چھ بجے تھے جانے کون تھا جو اتنی صبح صبح اس سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔

”الٰہی خیر یہ صبح صبح میں کیسے یاد آگیا؟“ جنید نے بے ساختہ سوچتے ہوئے تکیے کے پاس رکھا موبائل اٹھا لیا جو ایک بار پھر پوری شدت سے بج اٹھا تھا۔

”یہ اتنی صبح صبح کون ہے؟“ رحاب نے کروٹ بدلتے ہوئے سوال کیا۔

”سکندر؟“ اسکرین پر نظر ڈال کر اس نے یس کا بٹن دبا دیا، فون کان سے لگائے وہ باہر بالکونی میں آگیا تاکہ رحاب کی نیند خراب نہ ہو صبح چھ بجے کا مطلب ملائیشیا میں نو بجے تھے، اتنی صبح یقینا کوئی ایسی ہی خبر تھی سکندر کے پاس جس نے اسے دن چڑھنے کا انتظار بھی نہ کرنے دیا، اس سوچ نے جنیدکو پریشان سا کر دیا۔

”ہیلو….“ وہ اپنی بے چینی چھپاتے ہوئے مدھم آواز میں بولا۔

”نبیرہ کہاں ہے؟“ دوسری طرف سے بلا تمہید پوچھے جانے والے اس سوال نے ایک سیکنڈ کیلئے جنید کے دماغ کو بھک سے اڑا دیا اور وہ اپنے غصے پر قابو نہ پا سکا۔

”واٹ ڈویو مین نبیرہ کہاں ہے؟ تم ہوش میں تو ہو وہ سوال جو ہمیں تم سے کرنا چاہئے الٹا تم ہم سے کر رہے ہو؟ مسٹر سکندر ہم نے نبیرہ یہاں سے تمہارے ساتھ بھیجی تھی اس کا پاسپورٹ ابھی بھی تمہارے پاس ہے میرا خیال ہے کہ ہم سے زیادہ یہ بات تمہیں پتا ہونی چاہئے کہ نبیرہ اس وقت کہاں ہے؟“

”زیادہ ڈرامہ مت کرو میرے ساتھ؟“ سکندر نے چیختے ہوئے کہا۔

”تم اچھی طرح جانتے ہو تمہاری بدچلن بہن میرا بچہ اغواءکرکے غائب ہو گئی اور مجھے امید ہے کہ وہ تم لوگوں کے پاس پاکستان پہنچ گئی ہے اور اگر ایسا نہ ہوا وہ یہیں کہیں ہوئی تو خدا کی قسم کبھی میرا بچہ لے کر یہاں سے زندہ سلامت نہ جا سکے گی۔“

”مگر تمہارا تو کہنا تھا کہ وہ کسی این جی او کے پاس ہے۔“

سکندر کی باتوں نے جنید کو بھی تھوڑا سا پریشان کر دیا ورنہ اس سے قبل وہ سب یہ سن کر مطمئن ہو چکے تھے کہ نبیرہ وہاں کسی شوشل ویلفیئر والوں کے پاس محفوظ ہے جہاں سے سکندر قانون کے ذریعے اپنا بچہ حاصل کرکے اسے وطن واپس بھیج دے گا مگر آج سکندر بالکل ہی ایک نئی کہانی سنا رہا تھا جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ نبیرہ اب وہاں نہیں ہے جہاں کا سکندر نے بتایا تھا۔

”وہاں تھی مگر اب نہیں ہے اور ہاں میں نے جو کبھی تم سے وعدہ کیا تھا کہ میں ابوذر کو حاصل کرکے اسے وطن واپس بھیج دوں گا اب اسے بھول جاﺅ اب وہ جب بھی مجھے ملی میں اپنا بچہ لے کر اسے پولیس کے حوالے کر دوں گا۔“

نفرت اور حقارت سے کہتے ہوئے سکندر نے فون بند کر دیا۔

”کیا ہوا اب نبیرہ کہاں گئی؟“ رجاب جانے کب اس کے پیچھے آکھڑی ہوئی اسے سکندر سے بات کرتے ہوئے پتا ہی نہ چلا۔

”پتا نہیں کہاں گئی مگر اس لڑکی نے ہمیں ذلیل کرکے رکھ دیا ہے کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا، ہر جاننے والا شخص ایک ہی سوال کرتا ہے تم لوگ اسے جا کر واپس پاکستان کیوں نہیں لا رہے اب ہم کس کس کو بتائیں ہمیں تو یہ بھی علم نہیں ہے کہ وہ ہے کہاں۔“ جنید غصے سے بولتے ہوا کمرہ سے بھی باہر نکل گیا رحاب جانتی تھی کہ اب وہ یہ خبر گھر کے دیگر افراد کو دینے گیا ہے، اس نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی ابھی صرف سات بجے تھے۔ وہ خاموشی سے چادر اوڑھ کر ایک بار پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگی نبیرہ کہاں گئی اسے اس مسئلے سے کوئی سروکار نہ تھا کیونکہ یہ اس کی درد سری نہ تھی۔

QQQQ

”دیکھو نبیرہ تم نے اب تک جو بھی پریشانی دکھ اور تکلیف برداشت کی صرف اور صرف اپنے بیٹے کی خاطر، اب اگر تمہارا شوہر یہاں سے تمہارا بچہ واپس لے جاتا ہے تو تمہاری ساری جدوجہد بے کار جائے گی، تم خود سوچو اس صورت میں تمہارے پاس کیا باقی بچے گا۔“ آنٹی نوما کی بات ختم ہونے پر اس نے سر اٹھا کر ان کے چہرے پر ایک نظر ڈالی جہاں نبیرہ کےلئے ہمدردی نمایاں طور پر نظر آرہی تھی، ساتھ ہی اس نے کمرے میں موجود دیگر افراد پر بھی ایک ایک نظر ڈالی، سوزان اور سہتی کے علاوہ وہاں WAO کی انچارچ میڈم سریابھی موجود تھیں اور ان کی یہاں موجود بھی معاملے کی سنگینی کا احساس دلانے کیلئے کافی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ سکندر نے اپنے وکیل کے ذریعے آئی، پی آرڈر لے لیا ہے جس کے تحت بچہ اس کی کسٹڈی میں جانا تھا اس آڈر کے حصول کے بعد اس کے وکیل کارویہ کافی تبدیل ہو گیا تھا پچھلے بارہ گھنٹوں میں وہ کئی فون WAO کر چکا تھا اب اس کے ہر فون میں وارننگ اور دھمکیاں تھیں فی الحال وہ WAO والوں کی اجازت کے بغیر اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔

”ہاں نبیرہ نوما درست کہہ رہی ہے ابھی کچھ دیر قبل یہاں سکندر کا فون آیا تھا۔“ وہ خبر نبیرہ کیلئے نئی تھی اس نے چونک کر سوزان کی جانب دیکھا۔

”وہ کچھ دیر میں پولیس لے کر WAO آنے والا ہے اور اگر اس کی بات درست ثابت ہوئی اور وہ پولیس کے ساتھ یہاں آگیا تو پھر یقینا اس کا لائر اندر داخل ہو جائے گا اور اس صورت میں شاید ہم تمہاری مدد نہ کر سکیں۔“

سوزان کی بات ختم ہوتے ہی وہ بوکھلاہٹ میں اٹھ کھڑی ہوئی یہاں سے سکندر ایک گھنٹے کی مسافت پر موجود تھا اور اگر وہ فون کرنے کے بعد بھی وہاں سے نکلتا تو کچھ ہی دیر میں یہاں پہنچنے والا تھا اور اگر وہ یہاں پہنچ گیا تو….

اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہ چاہتی تھی۔

”آنٹی مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کہاں جاﺅں؟ ربیعہ اور انکل صالح میں سے کوئی بھی مجھے پناہ نہیں دے سکتا ہے۔“ گھبراہٹ سے اس کی ٹانگیں لرزنے لگیں۔

”تم ایسا کرو فردوس خان کو فون کرو مجھے امید ہے وہ تمہاری ضرور مدد کرے گا کیونکہ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس نے اپنے آخری فون میں تم سے کہا تھا کہ کسی بھی ایسی صورتحال میں تم اس سے رابطہ کر سکتی ہو۔“

سہتی کے یاد کروانے پر اسے فردوس خان یاد آگیا ورنہ اپنے ماﺅف دماغ کے ساتھ وہ سب کچھ بھول چکی تھی اس نے تشکر بھری نگاہ سے سہتی کی جانب دیکھا اور جلدی سے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل سے فردوس خان کا نمبر ڈائل کیا دوسری ہی بیل پر اس نے فون اٹھا لیا۔

”السلام علیکم….“ ایئر پیس میں اس کی آواز ابھری۔

”بھائی میں سخت پریشانی میں ہوں سکندر آئی پی آرڈر لینے کے بعد اپنے وکیل اور پولیس کے ساتھ یہاں آنے والا ہے اور آپ جانتے ہیں میرے پاس WAO کے علاوہ کوئی دوسری جگہ نہیں جہاں میں سکندر نامی شیطان سے محفوظ رہ سکوں۔“ بات کرتے کرتے وہ رو پڑی۔

”تم ایسا کرو یہاں سے نکل کر ٹرین کے ذریعے سنبھرن پہنچ جاﺅ وہاں میرا چھوٹا بھائی تمہیں ریسیو کر لے گا کیونکہ میں فی الحال تھائی لینڈ میں ہوں واپس آتے آتے مجھے دیر ہو جائے گی تم فوراً یہاں سے نکل جاﺅ سبنھرن میں اسٹیشن پر ہی تمہیں فراز مل جائے گا اس کے ساتھ چلی جانا وہ تمہیں میرے گھر بحفاظت پہنچا دے گا وہاں میری بیوی اور بچے تمہارا استقبال کریں گے پریشان مت ہو اور جلد از جلد یہاں سے نکلو۔“

فردوس خان کے ان الفاظ نے اس کے جسم میں توانائی بھر دی سچ ہے دنیا میں صرف سکندر جیسے لوگ ہی نہیں پائے جاتے بلکہ فردوس خان اور شمریز جیسے لوگ بھی اسی دنیا کا ایک حصہ ہیں اور شاید ایسے ہی لوگوں کی بدولت دنیا اپنے محور پر چل رہی ہے ورنہ کب کی ملیا میٹ ہو چکی ہوتی۔ اس نے جلدی جلدی اپنا سامان سمیٹا اور سب سے باری باری گلے ملی، وہاں موجود ہر عورت کی آنکھ میں اس کیلئے آنسو تھے نبیرہ کے دکھ اور تکلیف نے سب کو اپنا دکھ بھلا دیا تھا سب کی یہ ہی خواہش تھی نبیرہ اپنے بچے سمیت وطن واپس پہنچ جائے۔

”آپ سب لوگ میرے لئے دعا کیجئے گا میں خیر و عافیت کے ساتھ اپنے گھر واپس چلی جاﺅں۔“ گیٹ سے باہر نکلتے نکلتے وہ ایک بار پھر واپس پلٹ آئی۔

”ہماری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں، یہ تم میرا فون نمبر بھی رکھ لو باقی سب کے تمہارے پاس ہوں گے تم جب واپس پہنچ جاﺅ تو ہمیں ضرور اطلاع دینا کیونکہ تمہاری کامیابی ہم سب کی کامیابی ہو گی جسے ہم فخر کے ساتھ ان لڑکیوں کو بتائیں گے جو تمہارے بعد یہاں آئیں گی۔“

میڈم سریا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنا کارڈ اس کے ہاتھ میں تھما دیا، اس نے خاموشی سے سر ہلایا اور تیزی سے گیٹ عبور کر گئی۔

باہر ٹیکسی موجود تھی جس میں بیٹھ کر اسے اپنا نیا سفر شروع کرنا تھا وہ خاموشی سے دروازہ کھول کر پیچھے بیٹھ گئی ٹیکسی اسٹارٹ ہو کر اسٹیشن کی جانب رواں دواں ہو گئی لمبی روڈ پر مڑتے ہوئے سکندر کی گاڑی کے ساتھ پولیس موبائل تیزی سے اس کے قریب سے گزر گئیں اس نے بے ساختہ اللہ کا شکریہ ادا کیا جس نے بروقت اسے WAO سے نکلنے کا موقع فراہم کیا، ورنہ آج یقینا اس کی ہار اور سکندر کی جیت کا دن ہوتا۔

QQQQ

”کہاں ہو تم؟“ فون کان سے لگاتے ہی ربیعہ کی بے چین آواز سنائی دی۔

”کیوں خیریت کیا ہوا تمہیں؟“ اس نے کھڑکی سے باہر بھاگتے دوڑتے نظاروں پر ایک نظر ڈالی۔

”ابھی ابھی بھائی عبد الرحمن کا فون آیا تھا۔“ ربیعہ کی سانس پھولی ہوئی تھی۔

”انہوں نے بتایا ہے کہ سکندر WAO پولیس کے ساتھ گیا ہے۔“

”میں وہاں نہیں ہوں۔“ وہ ربیعہ کی بے چینی کی وجہ شروع میں بھی جان چکی تھی۔

”اوہ تھینک گاڈ۔“ اس نے سکون بھرا ایک سانس خارج کیا۔

”وہاں نہیں ہو تو پھر کہاں ہو؟“ فوراً ہی اسے ایک نئی پریشانی نے گھیر لیا۔

”بھائی کے گھر جا رہی ہوں۔“ اس نے جان بوجھ کر فردوس خان کا نام نہیں لیا۔

”شکر ہے ورنہ میں تودڑ ہی گئی تھی۔“ بھائی کا حوالہ فردوس کیلئے ہے یہ بات ربیعہ جانتی تھی۔

”سنو ربیعہ میرا ایک کام کرنا اگر کبھی بھی پاکستان سے کسی کا بھی فون آئے میرا پوچھے تو پلیز کسی کو مت بتانا میں کہاں ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ میری ہمدردی میں کسی شریف انسان کو کوئی نقصان پہنچے۔“

ٹرین رک چکی تھی۔ سنبھرن آگیا تھا وہ بیگ اور ابوذر کو سنبھال کر باہر پلیٹ فارم پر آگئی، باہر نکل کر اس نے یہاں وہاں نظر دوڑائی سامنے کچھ دور ایک اٹھارہ انیس سالہ پٹھان نوجوان کھڑا تھا جس کی شکل فردوس خان سے خاصی ملتی تھی یقینا وہی فراز تھا۔

”ٹھیک ہے میں کسی کو کچھ نہیں بتاﺅں گی اور تم مجھ سے ملنے اب کب آﺅ گی۔“ اسے دیکھ کر فراز بھی اس کے قریب آگیا حالانکہ ملائی روایتی لباس نے اس کے حلیے کو خاصا تبدیل کر دیا تھا اور وہ دیکھنے میں ایک ملائی لڑکی ہی دکھائی دے رہی تھی لیکن چونکہ اس ٹرین سے نکلنے والی واحد عورت تھی جس کے ساتھ بچہ تھا یہ ہی سبب تھا جو فراز نے اسے دور سے ہی پہچان لیا۔

”میں جب بھی ایمبیسی آئی تم سے ملوں گی کیونکہ مجھے تم سے اپنا سامان بھی لینا ہے اور اب میں فون بند کر رہی ہوں کیونکہ میں اپنی منزل تک پہنچ گئی ہوں۔“ ربیعہ سے خدا حافظ کرکے وہ فراز کی جانب متوجہ ہوئی جو اس کے قریب آکر کھڑا ہو گیا تھا۔

”آپ نبیرہ ہیں؟“

اس کے متوجہ ہونے پر وہ دھیرے سے اس کے کان کے قریب بولا۔

”اور تم یقینا فراز۔“ اس کااندازہ درست نکلا۔

”جی بالکل، لائیں یہ بیگ مجھے دے دیں۔“

”فراز نے اس کے ہاتھ سے بیگ اور ابوذر دونوں کو ہی لے لیا وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چلتی باہر پارکنگ میں آگئی جہاں اس کی گاڑی کھڑی تھی، اس نے پچھلا دروازہ کھول کر بیگ رکھا وہ بھی پچھلی سیٹ پر ہی بیٹھ گئی جبکہ فراز نے ابوذر کو اگلی سیٹ پر بٹھا کر گاڑی اسٹارٹ کر دی۔

”یہاں سے ثمن جایا پندرہ منٹ کے فاصلے پر ہے جہاں ہماری رہائش ہے۔“ اس نے پیچھے مڑ کر نبیرہ کو اطلاع فراہم کی جس کیلئے اس بات کی کوئی اہمیت نہ رہی تھی کہ اسے یہاں سے آگے کہاں جانا ہے اس نے خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا اسے ہر حال میں اپنے خدا سے پوری امید تھی کہ وہ کبھی بھی اسے مایوس نہ کرے گا اس کی یہاں تک کامیابی نے خدا پر اس کا یقین اور ایمان پہلے سے کئی گنا مضبوط کر دیا تھا۔

وہ خیالوں ہی خیالوں میں سکندر کا تصور کر رہی تھی جو یقینا اسے WAO نہ پا کر بے حد تلملایا ہو گا وہ یہ سوچ کر بڑی مطمئن ہوئی کہ وہ جب سے سکندر کے گھر سے نکلی تھی اس نے اس کی ہر اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تھا، فاطمہ یقینا اس وقت کو کوستی ہوں گی جب انہوں نے نبیرہ کو روزینہ کے ساتھ ابوذر کو لے جانے دیا اور روزینہ وہ ضرور مطمئن ہو گی کیونکہ وہ تو خود دل سے چاہتی تھی کہ نبیرہ یہاں سے نکل جائے، ان ہی سوچوں میں گھری وہ اپنی منزل تک پہنچ گئی گاڑی کے ایک جھٹکے سے رکتے ہی اس نے باہر جھانکا، ایک چھوٹا سا علاقہ جہاں اکثریت چھوٹے چھوٹے مکانوں کی تھی۔

”تو فردوس خان یہاں رہتا ہے۔“ یقینا ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے والے فرد کا دل ان لوگوں سے کئی گنا بڑا تھا جو بڑے بڑے محلوں میں رہتے تھے یہ ہی سوچتی ہوئی وہ دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔

QQQQ

”یا اللہ میری بہن کی عزت و ناموس کی حفاظت فرما، اس کو بحفاظت ہم تک پہنچا دے۔ تیرا یہ احسان ہم زندگی بھر نہ بھولیں گے۔

حرم شریف کے احاطے میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنی بند آنکھیں کھول دیں اور خانہ کعبہ پر پڑنے والی پہلی نظر کے ساتھ ہی نبیرہ کی خیر و عافیت کی دعا اس کے لبوں سے پھسل پڑی، اس کے بعد عمرہ کی ادائیگی اس نے بڑے صبر و ضبط کے ساتھ کی مگر جیسے ہی باب رحمت کے سامنے دو نفل پڑھ کر فارغ ہوئی خود پر اختیار کھو بیٹھی اور یکدم ہی بلک بلک کر رونے لگی اس کی سسکیوں کی آواز سن کر خشوع و خضوع سے دعا کرتے حمزہ نے پلٹ کر اس کی جانب دیکھا، اپنی دعا ختم کی اور اس کے قریب آگیا۔

”کیا بات ہے شفا کیوں اس قدر رو رہی ہو؟“ وہ اس کے قریب ہی دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا۔

”حمزہ…. نبیرہ….“ ہچکیوں کے دوران اس کے منہ سے نکلنے والے ان دو لفظوں نے ہی حمزہ کو سب کچھ سمجھا دیا شفا پاکستان سے نبیرہ کی پریشانی اپنے ساتھ لے کر آئی تھی۔

”حوصلہ کرو شفا اللہ تعالیٰ سب کچھ اچھا کر دے گا۔“

سمجھانے کے ساتھ ساتھ حمزہ نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا بھی کر دیا زیادہ رش کے سبب دیگر لوگ بھی اپنے اپنے نفل کی ادائیگی کےلئے جگہ کے منتظر تھے۔

”جانتے ہو حمزہ گھر میں اس نے کبھی اٹھ کر پانی بھی نہ پیا تھا، اپنی چائے تک خود نہ بنائی تھی۔“ حمزہ کے ساتھ چلتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔

”سب کچھ جانتا ہوں یہ بھی کوئی ایسی بات ہے جو میں بھول سکتا ہوں بہت نکمی لڑکی ہے وہ۔“ حمزہ نے اس کی ٹینشن دور کرنے کیلئے ہنستے ہوئے کہا، وہ حرم شریف کے احاطے سے باہر نکل آئے اب ان کا رخ اپنے ہوٹل کی جانب تھا۔

”نکمی تھی ہے نہیں۔“ شفا نے فوراً اس کے جملے کی تصحیح کی۔

جانتے ہو ربیعہ بتا رہی تھی وہ WAO میں باتھ روم کی صفائی تک کرتی رہی ہے۔“ اپنی بہن کی محبت اور اس کا دکھ شفا کے لہجے میں کوٹ کوٹ کر بھرا تھا۔

”اور اب وہ جس پاکستانی فیملی کے ساتھ رہ رہی ہے ان کے گھر کا سارا کام خود کرتی ہے تم سوچ ہیں سکتے ربیعہ سے یہ سب کچھ سننے کے بعد میں کس قدر اذیت میں ہوں۔“

”یہ سب بے کار اور فضول باتیں ہیں جنہیں سوچ سوچ کر تم اپنا خون جلا رہی ہوں۔“ حمزہ نے اسے ایک بار پھر سمجھایا۔

”جہاں انسان رہتا ہے وہاں کام تو کرنا پڑتا ہے اور ہر وہ لڑکی جو اپنے والدین کے گھر کوئی کام نہیں کرتی سسرال جاکر سب کچھ کرتی ہے اسے اتنا بڑا ایشو مت بناﺅ، ہمارے پیارے نبی حضرت محمدﷺ اپنا ہر کام خود اپنے ہاتھ سے کرتے تھے، کام کرنا کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے اصل مسئلہ تو اس کی اپنے بچے سمیت گھر بدری ہے دعا کرو اس کی یہ تکلیف جلد دور ہو اور شکر ادا کرو اپنے رب کا جس نے اسے فردوس خان جیسے فرشتہ تک پہنچا دیا۔ فردوس خان جیسے لوگ زبانی بہن کہہ کر اسے نبھانے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں اور جہاں اسے ایک محفوظ پناہ گا نصیب ہوئی ہے وہاں وہ اس کیلئے اپنے وطن واپسی کا بھی کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا اگر فردوس خان نے اسے بغیر کسی لالچ کے اپنے گھر رکھا ہے تو کیا حرج ہے جو وہ اس کے گھر کا کام کر دیا کرے اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنے اعصاب پر سوار مت کرو، سبق سیکھو نبیرہ سے جو اتنے کٹھن اور مشکل حالات میں بھی ہمت اور حوصلہ کشا دامن تھامے ہوئے ہے جس پر گزر رہی ہے اتنا تو وہ نہ رو رہی ہو گی جس قدر تم رو رہی ہو۔“ نبیرہ فردوس خان کی فیملی کے ساتھ تھی یہ ربیعہ نے کل اسے بتایا تھا حمزہ کی بات بالکل درست تھی شفا کو اندازہ تھا نبیرہ بہت بدل چکی ہے اور یقینا سکندر کے گھر سے نکلنے کے بعد وہ رونا دھونا بھول گئی ہو گی، اس کا مقصد صرف سکندر اور اس کی فیملی سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا تھا جو وہ ابوذر کو وہاں سے نکال کر لے چکی تھی پاکستان بخیریت پہنچ کر وہ سکندر کی نام نہاد عزت کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دے گی۔ حمزہ کی باتوں نے شفا کو خاصا حوصلہ دیا سچ تھا جب نبیرہ کو یہ سب کرنے میں کوئی عار نہ تھا تو پھر وہ کیوں اس قدر پریشان ہو رہی تھی اسے تو صرف یہ ہی دعا کرنی چاہئے تھی کہ نبیرہ کی تمام مشکلات آسان ہوں اور وہ ہر مرحلہ سے بخیریت گزر کر اپنے دیس واپس پہنچ جائے۔

QQQQ

زرگو نہ کے رونے کی تیز آواز پر نبیرہ نے کچن کی کھڑکی سے باہر جھانکا، اس کا خدشہ درست ثابت ہوا، ابوذر زرگونہ کے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ چھین چکا تھا جانے ابوذر کو کیا ہو گیا تھا جب سے یہاں آیا تھا ہر وقت کھانے کو کچھ نہ کچھ مانگتا اور پھر اپنے حصہ کا کھا کر دوسروں سے بھی چھیننے کی کوشش کرتا، نبیرہ نے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ جلدی سے سنگ میں رکھی نل کھول کر ہاتھ دھوئے اور تیزی سے باہر لپکی باوجود کوشش کے اس کے پہنچنے سے قبل ہی اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر زرین بھابی بھی باہر نکل آئی اور اب اپنی نیند خراب ہونے پر عین دروازے کے درمیان کھڑی ابوذر کو بری طرح گھور رہی تھی نبیرہ شرمندہ سی ہو گئی فوراً ابوذر کے ہاتھ سے زرگونہ کے چپس کا پیکٹ واپس لے کر اس کے حوالے کیا اب ابوذر نے رونا شروع کر دیا زرین کی بڑی بیٹی نے ہند کو زبان میں اپنی ماں سے کچھ کہا وہ بڑبڑاتی ہوئی واپس اندر کمرے میں چلی گئی، نبیرہ روتے ہوئے ابوذر کو اپنے ساتھ ہی کچن میں لے آئی، جو بھی تھا زرین اور فردوس خان کے اس پر بے شمار احسانات تھے جن کا بدلہ شاید وہ مر کر بھی نہ دے سکتی تھی۔

پچھلے اٹھارہ دن سے وہ اس دو کمروں کے چھوٹے سے گھر میں مقیم تھی جہاں پہلے ہی سات افراد رہتے تھے۔ اس کے باوجود اس کے کھانے پینے اور سونے کا پورا خیال رکھا جاتا یہاں تک کہ وہ دو دفعہ پاکستانی سفارتخانے گئی اپنے پاسپورٹ کے سلسلے میں تو ابوذر کو زرین نے بخوشی اپنے پاس رکھا، ٹرین کے ذریعے سفارتخانے کا ایک گھنٹہ کا سفر وہ ابوذر کے بغیر بنا کسی پریشانی کے کرتی اسے یقین تھا فردوس خان اور اس کی فیملی ابوذر کی حفاظت اپنی جان سے بھی بڑھ کر کرے گی البتہ وہ جتنی دفعہ بھی سفارتخانے گئی وہاں موجود پاکستانی مردوں نے اسے بہت زچ کیا، اپنے ویزے اور پاسپورٹ کے سلسلے میں آئے ہوئے اکثر اس کے ہم وطن اس کے پیچھے پیچھے اسٹیشن تک آجاتے، کھانے اور جگہ کا لالچ دے کر ساتھ لے جانے کی کوشش کرتے ان میں بیس سالہ نوجوان سے لے کر پچاس سالہ مرد تک شامل ہوتے ایسے میں نبیرہ کو سخت شرمندگی ہوتی اس کا دل چاہتا وہ اپنے سامنے کھڑے ان مردوں کے منہ نوچ لے جنہیں اپنا ہم وطن بھائی کہتے ہوئے بھی اسے گھن آتی تھی۔

آج صبح گھر سے جاتے ہوئے اسے فردوس خان نے بتایا تھا کہ سفارتخانے سے شمریز کا فون آیا ہے اس کا پاسپورٹ کل صبح گیارہ بجے مل جائے گا لہٰذا کل فردوس خان اسے خود سفارتخانہ لے کر جائے گا وہاں سے پاسپورٹ لے کر وہ سیانگ جائیں گے جہاں سے ربیعہ کے پاس سے نبیرہ کو اپنی رقم اور زیور لینا تھا وہ خود بھی ایک آخری بار ربیعہ سے ملنا چاہتی تھی پھر جانے کب دوبارہ ملاقات ہو، چاہتی تھی کہ سیانگ جا کر ربیعہ اور عبدالوہاب کا شکریہ ادا کرے جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں اس کا ساتھ دیا شکریہ تو اسے شوبھا کا بھی ادا کرنا تھا اس سلسلے میں اس نے سوچ رکھا تھا جانے سے قبل ایک دفعہ شوبھا سے مل کر اس کا شکریہ ضرور ادا کرنے کی کوشش کرے گی آخری بار وہ گھر بھی ضرور دیکھے گی جہاں سکندر کے ساتھ اس نے اپنی زندگی کے بدترین چھ سال گزارے شاید وہ ایک آخری بار حماد کو بھی دیکھے سکے یہ سب اس کی سوچ تھی جس پر عمل ہونا یا نہ ہونا آنے والے وقت پر منحصر تھا۔

برتن دھو کر اس نے سنگ صاف کیا اور ابوذر سلیب پر ہی لیٹ کر سو گیا تھا، نبیرہ نے جلدی جلدی کچن کا باقی کام ختم کیا، ابوذر کو گود میں اٹھا کر اس کمرے میں آگئی جہاں وہ فردوس خان کی بیٹیوں کے ساتھ رہتی تھی، صوفہ کم بیڈ کو سیدھا کرکے ابوذر کو اس پر ڈال دیا خود بھی ساتھ ہی لیٹ گئی ابھی بھی درمیان میں بیس گھنٹے باقی تھے، بیس گھنٹے بعد اس کے ہاتھ میں اس کا پاسپورٹ ہو گا اس پاسپورٹ کے حصول کے ساتھ ہی اس کا اگلا سفر بھی آسان ہو جائے گا ابوذر کے بعد نئے پاسپورٹ کا حصول سکندر کے منہ پر لگنے والا دوسرا طمانچہ تھا اپنی تلاش میں کتے کی طرح در در پھرتے سکندر کا تصور ذہن میں ابھرتے ہی وہ پرسکون ہو گئی اور اس کی نیند سے بوجھل آنکھیں جلد ہی بند ہو گئیں۔

QQQQ

”پاپا…. پاپا۔“ وہ مسلسل سسک رہی تھی۔

”بولو میرا بچہ، میری جان میں سن رہا ہوں۔“

احتشام صاحب کو محسوس ہوا وہ کئی صدیوں بعد نبیرہ کی آواز سن رہے ہیں وہ بھی اس وقت جب وہ ہر طرف سے مایوس ہو چکے تھے ایسے میں نبیرہ کی آواز نے ان کے جسم کے روئیں روئیں کو سرتاپا گوش کر دیا وہ چاہتے تھے کال بند ہونے سے قبل نبیرہ انہیں اپنے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور بتا دے یہ کہ وہ کہاں ہے؟ کیسی ہے؟ کس حال میں ہے؟ مگر دوسری طرف سوائے نبیرہ کی سسکیوں کے کوئی دوسری آواز سنائی نہ دے رہی تھی ہر گزرتا پل ان کی بے چینی میں اضافہ کا سبب بن رہا تھا۔

”نبیرہ مجھے بتاﺅ بیٹا تم ٹھیک تو ہونا۔“

دل کا خدشہ ان کے لبوں پر آہی گیا۔

”ہاں پایا شکر الحمد اللہ میں بالکل ٹھیک ہوں۔“

جانے کتنے عرصہ بعد اپنے باپ کی آواز سن کر وہ خود پر کنٹرول کھو بیٹھی تھی اسے تو روئے ہوئے بھی زمانے گزر گئے تھے کیونکہ رونے کیلئے کسی اپنے کے کندھے کا ہونا ضروری ہے اور اس کے پاس تو کوئی اپنا تھا ہی نہیں، آج ….

”پاپا میں جس نمبر سے بات کر رہی ہوں یہ میرا ہے اسے اپنے پاس محفوظ کر لیں۔“

”تم کہاں ہو اس وقت۔“ احتشام صاحب جلد از جلد اس سے سب کچھ جان لینا چاہتے تھے۔

”پاپا میرے پاس ٹائم بہت کم ہے یہ سب باتیں میں آپ کو وطن واپسی پر بتاﺅں گی فی الحال میرا نمبر محفوظ کر لیں جب بھی مجھ سے رابطہ کرنا ہو آپ اس نمبر پر کریں اور ہاں یہ نمبر سوائے آپ کے کسی کے پاس نہیں ہونا چاہئے اس کا علم ماما کو بھی نہ ہو ورنہ میں آپ سے بھی دوبارہ رابطہ نہ کروں گی۔“

وہ جلدی جلدی بولی اسے خدشہ تھا کارڈ ختم نہ ہو جائے دوسرے کارڈ کیلئے اسے پھر بازار جانا پڑتا، وہ جانتی تھی اس وقت احتشام صاحب آفس ہوں گے اس لئے بھی اس نے یہ وقت منتخب کیا تھا۔

”اگر آپ کو کبھی میرا نمبر بند ملے یا میں کال ریسیو نہ کروں تو سمجھ لیجئے گا میں اس دنیا میں نہیں ہوں یا کسی بڑی مشکل میں پھنس گئی ہوں۔“

”خدا نہ کرے بیٹا کیوں اتنی خوفناک باتیں کر رہی ہو۔“ احتشام صاحب دہل گئے۔

”مجھے یہ تو بتا دو تم ہو کہاں۔“

”یہ میں نہیں بتا سکتی مگر اتنا ضرور کہوں گی میں جہاں ہوں اپنے بھائی کے گھر ہوں اور بالکل خیریت سے ہوں مگر اب بہت جلد مجھے یہاں سے نکلنا ہے اگر مجھے کسی وجہ سے نمبر تبدیل کرنا پڑا تو اس کی اطلاع میں یا میرا بھائی آپ کو دے دیں گے آپ میری طرف سے بے فکر ہو جائیں میں انشاءاللہ جلد ہی آپ لوگوں سے آملوں گی۔“ تفصیل کے ساتھ ہی کارڈ بھی ختم ہو گیا، جو بھی تھا احتشام صاحب کےلئے اتنا کافی تھا۔ نبیرہ خیریت سے ہے ورنہ دنیا کی طرح طرح کی باتوں اور بے بنیاد خدشات نے انہیں کئی عرصہ سے پریشان کر رکھا تھا آج اتنے عرصہ بعد نبیرہ کی آواز سن کر انہیں دلی سکون حاصل ہوا مگر اس کی آواز سے بھی انہیں احساس ہو گیا تھا کہ وہ پریشان ہے۔

”اللہ میری بچی کی تمام پریشانیاں دور کرے۔“ اتنی دور سے وہ صرف دعا ہی تھی جو نبیرہ کے حق میں بھیج سکتے تھے سو انہوںنے دل کی گہرائیوں سے بھیج دی ویسے ہی اتنے کٹھن حالات میں نبیرہ کو اپنے حوصلہ کے ساتھ اپنوں کی دعاﺅں کی ضرورت تھی۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔a

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ۔۔۔ ابصار فاطمہ جعفری ۔۔۔ قسط نمبر 7 ۔۔۔ آخری قسط

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 7 آخری قسط ”جب تک ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے