سر ورق / ناول / من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 8

من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 8

من کے دریچے

عابدہ سبین

قسط نمبر 8

وہ رات گئے لوٹا تو تمام ملازم سونے جا چکے تھے اور بھوک سے اس کا بُرا حا تھا۔ وہ خود کچن کی طرف بڑھا مگر تب ہی کچن کی لائٹ آن ہوئی۔ اس نے حیرت سے دیکھا، مدیحہ اس کے لیے کھانا نکال رہی تھی۔

”آپ ہاتھ دھو لیں، میں کھانا گرم کر دیتی ہوں۔“ اس کی آواز پر اس نے وہیں سنک میں ہاتھ دھوئے اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔ مدیحہ نے کھانا اس کے سامنے رکھ دیا، وہ خاموشی سے کھانے لگا۔

”کافی بنا دوں؟“ وہ جان چکی تھی کہ اس وقت وہ کافی پیتا ہے۔

”تم رہنے دو، میں دودھ پی لوں گا۔“ یہ ہی وہ چاہتی تھی کہ رات کے وقت کافی چھڑوا دے کیونکہ نیند خراب ہوتی ہے۔ وہ کھانا کھا کے کمرے میں چلا گیا اور برتن وغیرہ دھو کر جب وہ اوپر آئی تو اس کے لیے دودھ لانا نہیں بھولی تھی۔

”یہ دودھ….“ وہ جو اس وقت فائل پھیلاوے جانے کیا کھوج رہا تھا، حیران رہ گیا۔ یعنی اسے یاد تھا۔ مدھو نے تکیہ اٹھایا اور صوفے پر جالیٹی۔ احزاز نے ایک اچٹتی نظر اس پر ڈالی پھر کام میں لگ گیا۔

صبح الارم کی تیز آواز پر اس کی آنکھ کھلی۔ مدیحہ خود الارم لگا کر واش روم میں چلی گئی تھی، غصے سے لال پیلے ہوتے ہوئے اس نے الارم بند کیا تب تک وہ باہر آ چکی تھی۔ جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنے لگی شاید احزاز کو اس کی یہ واحد خوبی بھائی تھی وہ عجیب سے احساس سے دوچار ہوا تھا۔ نیند بھک سے اُڑ گئی تھی۔ وہ اٹھا، وضو کیا اور نماز کے لیے چلا گیا۔ یہ دیکھ کر مدیحہ کو بہت خوشی ہوئی تھی۔ یعنی بابا ٹھیک کہتے ہیں، کوشش کرنے سے ہر چیز بدل جاتی ہے۔ یہ اس کی پہلی کامیابی تھی اور وہ بہت خوش تھی۔نماز کے بعد احزاز کمرے میں آیا تو وہ غائب تھی البتہ کمرے کی صفائی حیران کن تھی۔ اس ایک ڈیڑھ ماہ میں اس کا کمرہ ہر وقت چمکتا تھا اور اسے ملازم کے پیچھے چیخنا بھی نہیں پڑتا تھا۔ ناشتے کے لیے آیا تو وہ ٹیبل پر ناشتا لگا رہی تھی۔ آج اس کے چہرے پر عجیب سی چمک تھی، مسکراہٹ بھی الگ تھی۔ ڈیڈ اور کشف شاید اب تک سوئے ہوئے تھے۔ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

”ڈیڈ اور کشف نہیں کریں گے ناشتا؟“

”کشف رات دیر سے آئی تھی۔ کسی آپریشن میں مصروف تھی اور بابا آفس جا چکے ہیں۔“ اس کے منہ سے ”بابا“ بہت بھاتا تھا اسے بنا جواب دیئے ناشتا کر کے وہ بھی چلا گیا اور مدیحہ جلدی جلدی کام ختم کرنے لگی کیونکہ آج اسے کشف کےساتھ پارلر جانا تھا۔ اس کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آ گئی۔

ہر دن احزاز کو مدیحہ کا ایک نیا روپ دکھتا تھا۔ وہ اس پر توجہ دینا نہیں چاہتا تھا مگر جانے کیسے خودبخود وہ اس کی توجہ کا مرکز بن جاتی تھی۔ اس کے اندر آنے والا چینج بہت انوکھا تھا۔ آج انہیں کسی بزنس پارٹی میں جانا تھا اور ڈیڈ کا حکم تھا کہ مدھو ساتھ جائے گی کیونکہ تمام لوگ ہی اپنی بیگمات کے ساتھ ہوں گے۔

”لیکن بابا….!“ آج ڈیڈ کی جگہ بابا کہا تو خود ہی سٹپٹا گیا۔ شاہ نواز کے لیے بھی یہ حیران کن مگر خوشگوار تھا۔

”بہت خوبصورت لگتا ہے تمہارے منہ سے بابا کہنا…. ڈیڈ مت کہا کرو۔“

”وہ کہاں ہمارے ساتھ جائے گی، آپ جانتے ہیںنا کہ وہاں کس طرح کے لوگ آئیں گے اور….؟“

”بابا میں تیار ہوں۔“ چہکتی آواز کے ہمراہ وہ آئی تھی اور پل بھر کو تو احزاز نے اسے پہچانا تک نہیں۔

بلیو ساڑھی، خوبصورت ہیئر کٹنگ، میک اَپ اور میچنگ جیولری ہر لحاظ سے بہترین۔ وہ ایک لمحے کو سوچ میں پڑ گیا کہ یہ مدیحہ ہے۔

”احزاز! تم تیار ہو جاﺅ، میں تمہاری مما کو دیکھتا ہوں۔ ان کی تیاری میں تو رات ہو جائے گی۔“ ڈیڈ اسے حکم دے کر چلے گئے اور وہ اپنی حیرت چھپاتا کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کی ہر چیز بیڈ پر رکھی اس کی منتظر تھی۔ پانچ منٹ لگے تھے اسے تیار ہونے میں…. جب وہ نیچے آیا تو مما اور ڈیڈ اپنی گاڑی میں بیٹھ چکے تھے اور مدیحہ اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کے بال بہت خوبصورت تھے اور اب اس نئی ہیئر کٹنگ نے ان کو مزید سنوار دیا تھا۔ کھلے بالوں میں وہ اچھی لگتی تھی۔ وہ دل کو روک رہا تھا مگر وہ خود ہی تعریف کرنے پر مجبور تھا۔

”چلو….!“ بے نیازی کی اداکاری کرتا وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا اور مدیحہ بھی چپ چاپ اس کے ہمراہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔

ض……..ض……..ض

دھیرے دھیرے اسے محسوس ہونے لگا تھا کہ اس کے تمام کام بہت اچھے طریقے سے ہونے لگے ہیں۔ شاید اس کے لیے مدیحہ اس کے تمام کام خود کرتی تھی اور اب جب وہ ان تمام چیزوں کا عادی ہونے لگا تو یک دم ہی پھر چینج آ گیا۔ مدیحہ کے ہاتھ کا ناشتہ کرنے کی عادت پڑی تو اب اسے ملازم کے ہاتھ کا کھانا پسند نہ آتا اور آج جب ناشتا ملا تو وہ چڑ گیا۔

”کیا مسئلہ ہے، آج نہ چائے میں ذائقہ ہے، نہ آملیٹ مزے کا ہے۔“

”بھیا جی! دراصل بھابی آج جلدی میں تھیں۔ ناشتا میں نے بنایا ہے۔“ یعنی آج مدیحہ کے ہاتھ کا بنا ناشتہ نہیں تھا مگر اسے کیا جلدی تھی۔ صبح کمرے میں بھی وہ اس کی افراتفری نوٹ کر رہا تھا۔

”پھر کھا بھی خود لینا۔“ وہ ناشتا چھوڑ کر اٹھ گیا۔ شاہ نواز احمد کے ہونٹوں پر آنے والی مسکراہٹ بہت جاندار تھی، یعنی ان کا بیٹا یہ تمام چیزیں نوٹ کر رہا تھا۔ اب وہ مدیحہ کے ہاتھ کے ذائقے کا عادی ہو چکا تھا اور اس کی کمی اب محسوس کرے گا، ضرور کرے گا۔

شام میں وہ آفس سے لیٹ آیا تھا چونکہ اب وہ بہت کم رات کو باہرجاتا تھا، کھانا اکثر اب ڈیڈ کے ساتھ کھاتا تھا پھر آفس کا کام جو ہوتا وہ دیکھ کر جلد سو جاتا تھا تاکہ فجر کی نماز مس نہ ہو۔ ہاں مدیحہ نے اسے یہ احساس دلایا تھا۔ بے شک زبان سے نہیں، اپنے عمل سے سہی، اس کی کوشش ہوتی تھی کہ ساری نمازیں باقاعدگی سے ادا کرے مگر چونکہ نئی نئی روٹین تھی تو عادی ہونے میں ٹائم تو لگنا تھا۔

رات کے کھانے پر صرف ڈیڈ تھے۔ اسے کشف اور مدیحہ کی کمی محسوس ہوئی مگر بولا نہیں۔ مگر کھانا شروع کرتے ہی چپ نہ رہ سکا۔

”آخر ہو کیا گیا ہے تمہیں مانی! تمہارا کام پر دھیان کیوں نہیں رہا۔“

”کیوں بھیا جی! کیا ہوا؟“

”کوفتے تم نے بنائے ہیں نا! پچھلے ہفتے کتنے مزے دار بنے تھے مگر آج ان میں ذرابھی مزا نہیں ہے۔“

”بھیا جی! پچھلے ہفتے کوفتے بھابی جی نے بنائے تے آج انہیں کشف باجی کے ساتھ پارٹی پر جانا تھا نا! اس لیے کھانا مجھے بنانا پڑا۔“ مانی کی وضاحت سے اس کا دماغ گھوم گیا۔ نہ صبح ناشتہ کیا، نہ رات کا کھانا اچھا لگا۔

”ڈیڈ! آج کل آپ کی چہیتی کہاں مصروف رہتی ہیں؟“ شاہ نوازکے لیے یہ سوال خوشی کا باعث تھا یعنی مدیحہ کا وجود اس کے لیے بے معنی نہیں رہا۔ دھیرے دھیر وہ اس کی زندگی میں شامل ہو رہی تھی، چاہے وہ اس بات کا اظہار برملا نہ کرے مگر اس کے تیور اس کا ثبوت ہیں۔

”مائی سن! اس میں بھڑکنے کی کیا بات ہے؟ وہ بھی ہماری طرح جیتی جاگتی انسان ہے، بوریت سے تنگ آ گئی تھی سو اس نے جاب کرلی۔“

”جاب! گھریلو ملازمہ کی؟“ اس کے لہجے میں طنز امڈ آیا۔

”وہ اسکول ٹیچر ہے احزاز!“ شاہ نواز نے ٹوکا۔

یہ بات اس کے لیے جھٹکے سے کم نہ تھی کیونکہ مما کے بقول گاﺅں میں تعلیم کا تصور نہیں ہوتا اور لڑکیوں کی تعلیم کے تو وہ لوگ سخت خلاف ہوتے ہیں۔

”ٹیچر! کیا مطلب؟ وہ تعلیم یافتہ ہے؟“

”اس نے گریجویشن کر رکھا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس میں ہم شہر میں رہنے والوں کی طرح شو آف کرنے کی عادت نہیں ہے۔ سارا دن وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی، میں نے اسے مشورہ دیا اور اسے ٹیچر کی جاب دلوائی۔“

”یہ ہی جاب سوٹ کر سکتی تھی آپ کی دیہاتی بہو پر…. چلو دو چار ہزار روپے تو مل ہی جائیں گے۔“ جانے مما کب آ گئیں۔ ایک تو جس دن مما گھر پر ہوتی تھیں جھگڑا تو لازمی ہوتا تھا۔

”تم سے تو لاکھ درجے بہتر ہی ہے نا سلمیٰ! لوگوں کو تعلیم کا شعور دیتی ہے۔ خود کو باشعور کہنے والے جاہل لوگوں سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ وہ جنہیں استاد جیسے عظیم پیشے کا احساس تک نہیں ہے“ ڈیڈ نے کاٹ دار لہجہ اختیار کیا۔

”مما پلیز! آپ ہر دم کیوں اپنا بلڈ پریشر ہائی رکھتی ہیں؟ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے کبھی ڈیڈ سے آرام سے یا پیار سے بات کی ہو۔ ایک عورت کی ذمہ داری میں اس کا شوہر سب سے پہلے آتا ہے مگر آج تک میں نے کبھی آپ کو ڈیڈ سے دھیمے لہجے میں بات تک کرتے نہیں دیکھا، ان کی ضرورت کا خیال رکھنا تو دور کی بات ہے۔“ جانے یہ مدیحہ کی ذمہ دار طبیعت کا نتیجہ تھا یا کچھ اور…. اب اسے مما کی یہ ٹوٹلی سوشل لائف کھٹکنے لگی تھی۔ انہیں بابا کا خیال رکھنا چاہیے الٹا ہر وقت وہ لڑتی رہتی ہیں ان سے….

”احزاز ڈئیر! بے جوڑ شادی میں یوں ہی ہوتا ہے۔ تمہارے ڈیڈ میرے قابل کبھی تھے ہی نہیں پھر بھی میں نے ساری عمر گنوا دی ان کے لیے…. اب یہ ہی تمہارے ساتھ ہو گا۔ بہتر ہو گا کہ ابھی فیصلہ لے لو ورنہ میری طرح ساری عمر فرسٹریشن کا شکار رہو گے۔“ مما کی اس بات نے اسے دلی دکھ دیا تھا۔ ”بابا جیسے باظرف انسان کو مما کس طرح سے بے عزت کر رہی تھیں۔ یہ واقعی ڈیڈ کا بڑا پن تھا کہ انہوں نے ساری عمر مما کی ہر بات نظرانداز کی تھی۔

”مما! کبھی اپنی ذات کے خول سے باہر نکلیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہمارے ڈیڈ کتنے اچھے ہیں۔“ جانے کیوں آج وہ ڈیڈ ی بے عزتی برداشت نہ کر سکا۔ مما حیران تھیں کہ اسے کیا ہوا اور ڈیڈ کی آنکھوں کے گوشے نم ہو گئے۔ آج انہیں علم ہوا کہ تربیت کا اثر ضرور ہوتا ہے انسان پر…. وہ اپنے کمرے میں آ گیا مگر نیند آنکھوں سے دور تھی۔ بارہ بجے تھے اور مدیحہ ابھی تک نہیں آئی تھی۔تقریباً ڈیڑھ بجے ہلکی سی آہٹ سے دروازہ کھلا تھا اور محترمہ تشریف لائی تھیں اور کچھ دیر بعد فریش ہو کر وہ لیٹ گئی۔ ادھر بھوک سے اسے نیندنہیں آ رہی تھی۔

”اُف خدایا! تھوڑا بہت کھانا کھا لیا ہوتا تو اب یوں نہ تڑپ رہا ہوتا۔محترمہ نے آج دودھ تک نہیں پوچھا، بمشکل دو بجے کے بعد سویا تھا اور اذان کی پہلی آواز رپر اس کی آنکھ کھل گئی مگر آج مدیحہ اب تک نہیں جاگی تھی۔ اس کی نماز قضا ہو جانے کے خیال سے وہ اسے جگانے آیا مگر اک ہچکچاہٹ تھی جو اسے ایسا کرنے نہیں دے رہی تھی۔ کتنے لمحے وہ تذبذب کا شکار رہا پھر ہلکے سے کاندھے پکڑ کر اسے ہلایا۔ وہ یکدم اٹھ بیٹھی پھر سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی۔

”نمازنکل جائے گی تمہاری….“ نظریں چرائے وہ کہہ کر خود چلا گیا۔ مدیحہ کے لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ رینگ گئی۔ اس سے پہلے کہ وہ ان لمحوں میں کھو جاتی، نمازکا سوچ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

ض……..ض……..ض

روز بے مزا ناشتہ کرنے سے بہتر تھا کہ وہ آفس بھوکے پیٹ ہی چلاجائے، وہیں کچھ کھا لے۔ یہ ہی سوچ کر وہ آیا تھا نیچے جہاں مما کے علاوہ سب ناشتے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔

”مانی پلیز جلدی کر لو۔ آج ویسے ہی میں لیٹ ہو گئی ہوں۔“ مدیحہ کی بات پر اس کا دماغ گھوم گیا اور وہ جو کچھ خوش فہمی کا شکار ہو کر ناشتا کرنے آیا تھا، شدید غصے میں آ گیا۔

”کیا سمجھتی ہو تم! یہ چھوٹی موٹی جاب کر کے تم ہمیںمتاثر کر سکتی ہو؟ ہر وقت تمہیں جلدی پڑی رہتی ہے۔ رات کو تمہاری پارٹیاں ختم نہیں ہوتیں۔ ضرورت کیا ہے تمہیں یہ سب کرنے کی؟ تم گھر میں نہیں رہ سکتیں سکون سے؟“ مسلسل پندرہ دن کی روٹین نے اس کا دماغ گھما دیا۔ کشف اور ڈیڈ نے مسکراہٹ چھپانے کے لیے اخبار چہرے کے سامنے پھیلا لیے اور مدیحہ دل باغ باغ ہونے کے باوجود معصوم سی صورت بنائے بیٹھی تھی۔

”بھابی جی ناشتا!“ مانی کی آوازپر سب متوجہ ہو گئے۔

”بس مانی! مجھے بھوک نہیں ہے، میں چلتی ہوں۔“ اس نے بیگ کاندھے پر ڈالا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ ”اللہ حافظ بابا!“ وہ باہر نکل گئی۔ ایک طرف احزاز کو غصہ تھا کہ اس پر تقریر کا اثر نہ ہوا، دوسری طرف بنا ناشتے کے جانے پر ملال سا بھی تھا۔ وہ بھی کچھ کھائے بنا آفس چلا گیا۔

رات کو کھانے کی ٹیبل پر وہ نہیں تھی مگر کھانے کا ذائقہ بتا رہا تھا کہ کس نے بنایا ہے۔ کتنے دن بعد اس نے پیٹ بھر کے کھانا کھایا تھا، پھر عشاءکی نماز کے بعد جب وہ کمرے میں گیا تو اسے لیٹا پا کر چونک گیا۔ اس کے خیال میں تو وہ کشف کے ساتھ ہو گی مگر وہ تو….! وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا مگر بے چینی حد سے سوا تھی کہ کبھی بھی وہ ا سطرح نہیں لیٹتی۔

”تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا!“ لاکھ خود کو روکا مگر زبان پھر بھی دغا کر گئی۔ مدیحہ اس کی آواز پر اٹھ گئی۔ اسکا اترا چہرہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔

”سر میں درد ہے!“ اس نے دھیرے سے کہا پھر بیڈ سے اٹھ گئی۔ ”آپ آ جائیں،میں صوفے پر سو جاﺅں گی۔“ احزاز نے ایک نظر اس پر ڈالی۔

”تم لیٹ جاﺅ، مجھے آفس کا کچھ کام کرنا ہے۔“ وہ کہہ کر اپنی فائلز پھیلا کے بیٹھ گیا۔

”دودھ لادوں آپ کو….؟“

”تم سو جاﺅ،میں لے لوں گا۔“ اس نے دھیمے لہجے میں کہا۔ مدھو کچھ لمحے کھڑی رہی پھر بیڈ کے کونے پر جا کر لیٹ گئی۔ احزاز دو گھنٹے مصروف رہا لیکن اب نیند سے بُرا حال تھا۔ وہ تکیہ اٹھانے بیڈ تک آیا تھا کہ یک دم اس کی نگاہیں مدیحہ کے معصوم چہرے پر ٹھہر گئیں۔ وہ پُرسکون نیند میں تھی۔ سوتے ہوئے اس کے چہرے کی پاکیزگی اسے نظریں ہٹانا بھلا گئی۔ صاف شفاف روشن چہرہ اور چہرے پر بکھری آوارہ بالوں کی لٹیں….! کیا کوئی سوتے میں بھی اتنا حسین لگتاہے…. اسے احساس نہ ہوا کہ وہ کب تک اسے دیکھتا رہا پھر اسی طرح بیڈ کراﺅن سے ٹیک لگائے وہ سوگیا۔

ض……..ض……..ض

حماد احسن کا فون آیا تھا۔ اماں جی اور اباجی نے شاہ نواز کو بلایا تھا۔ تقریباً چار ماہ بیت گئے تھے، مدیحہ ملنے تک نہیں گئی تھی پھر حماد اور کشف کی شادی بھی طے کرنی تھی۔ وہ ایک بار سلمیٰ سے آرم سے بات کرنا چاہتے تھے شاید وہ مان جائیں اور بیٹی کی خوشیوں میں شریک ہو جائیں۔ آج چونکہ اتوار تھا، سب ہی گھر پر تھے، مدیحہ بھی صبح سے کچن میں مصروف تھی کہ احزاز کی بھی چھٹی تھی اور نہیں چاہتی تھی کہ کھانے پر پھر وہ بے چارے مانی کو ڈانٹے کیونکہ وہ یہ بات اسے کبھی نہیں کہہ سکتا کہ کھانا تم خود بنایا کرو، بس سارا غصہ اس مانی غریب پر نکل جاتا تھا۔ دوپہر کا کھانا اتوار کو کچھ اسپیشل ہوتاتھا کیونکہ اس دن مما بھی گھر پر ہوتی تھیں۔ مدیحہ نے اب ان سے گھبرانا چھوڑ دیا تھا اور ان کی باتوں کی عادی ہو گئی تھی، بابا کی محبت اور کشف کے ساتھ نے اسے بہت اعتماد دیا تھا۔ کھانا سب کو پسند آیا تھا کیونکہ اس نے تقریباً گھر کے ہر فرد کی پسند کا خیال رکھا تھا۔ شکر تھا کہ مما نے بھی کوئی بدمزگی نہیں کی۔ کھانے کے بعد سب سٹنگ روم میں بیٹھے تھے، کشف اور وہ اپنی باتوں میں لگ گئیں، احزاز ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا اور شاہ نواز کو آج اپنی بیگم کا موڈ کچھ بہتر لگا تھا سو بات چھیڑ دی۔

”سلمیٰ! اباجی کا فون آیا تھا، حماد اور کشف کی شادی کا پوچھ رہے تھے، تم بتاﺅ کہ کب کا ٹائم دوں؟“ اب تقریباً سبھی ان کی طرف متوجہ تھے۔

”مجھے نہیں پتا شاہ نواز! مجھے اس معاملے میں مت گھسیٹو۔“

”کشف تمہاری بھی بیٹی ہے سلمیٰ!“ بابا کا لہجہ اب بھی نرم تھا۔

”اگر یہ سمجھتے ہو تو پھر یہ شادی میں کبھی نہیں ہونے دوں گی۔“

”سلمیٰ! ہمارے بچوں کی خوشی وابستہ ہے اس کام میں۔ کشف ساری عمر اپنے گھر میں خوش رہے گی تو ہم بھی پُرسکون رہیں گے۔“

”جہاں تم کشف کو بھیجنا چاہتے ہو ناں شاہ نواز! ہاں وہ کچھ سالوں بعد ہی دم گھٹ کر مر جائے گی۔“

”مما! وہاں بھی ہم جیسے انسان رہتے ہیں۔“ احزاز نے کہا۔

”میرے نزدیک وہ انسان ہی نہیں ہیں۔ میں نے بھی زندگی کے کچھ دن گزارے ہیں۔ وہا ںاس گندے ماحول میں….“

”مما! وقت بہت بدل گیا ہے، وہاں کا ماحول بھی اب چینج ہو گیا ہے، لوگوں کو شعور آ گیا ہے۔ اب زیادہ فرق نہیں رہا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو اب اچھا لگے گا۔“

”اگر اتنا چینج آ گیا ہے تو تم اب تک اس لڑکی کو کیوں اپنی زندگی میں شامل نہیں کر پائے ہو؟“ ان کی تلخ بات پر اس کی نظر فوراً مدیحہ پر گئی تھی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

”مما! میرے اور مدیحہ کے بیچ صرف ذہنی ہم آہنگی کی کمی ہے ورنہ مدیحہ کی یہاں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ….“ وہ جانے کیوں بات مکمل نہ کر پایا۔ مدیحہ کی منتظر نظریں مایوس لوٹ گئیں۔

”میں تمہیں بتاتی ہوں احزاز! تم لوگوں کی حقیقت ہے کیا…. بے شک میں نے تمہیں جنم دیا ہے مگر تم دونوں بہن بھائی اپنے باپ پر گئے ہو۔ اس لیے کبھی اس گھٹیا ماحول اور چھوٹی سوچ سے باہر نکل ہی نہیں سکتے۔ شہرمیں رہے ہو تو اس ماحول کے اثر سے پہننے اوڑھنے کا شعور اٹھنے بیٹھنے کی تمیز آ گئی ہے لیکن دراصل تم لوگ بھی اپنے خاندان جیسے ہو اور بس….!“

”بس سلمیٰ! بہت ہو گئی تمام عمرمیں نے تمہاری ہر بات برداشت کی، تم نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا، میں سہہ گیا مگر تم جیسی خودغرض عورت پھر بھی میری نہ بن سکی۔ یہاں تک کہ تم تو اچھی ماں بھی نہ بن سکیں۔ تم ہمیشہ سے اکیلی ہو اور تمہیں اکیلے رہنے کا شوق ہے نا تو ٹھیک ہے آج میں تم سے ہر بندھن توڑ کر جا رہا ہوں، اپنے بچوں کو لے کر….“ بابا کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ کوئی بھی کچھ نہ بول سکا مگر احزاز نے ہمت کی۔

”بابا! مما کو تو عادت ہے نا! آپ پلیز کیوں پریشان ہوتے ہیں۔ پلیز غصہ مت کریں۔“

”ہر بار میں نے اس کی غلطی یہ سوچ کر معاف کر دی کہ اسے عادت ہے مگر اب میں تھک گیا ہوں۔ کشف! مدیحہ! بیٹا تیاری کرو۔“

”شاہ نواز! یہ دھمکیاں اور ڈرامے کہیں اور کرنا، مجھ پر ان کا اثر نہیں ہونے والا۔ یہ مت سمجھنا کہ میں تمہارے سامنے گڑگڑاﺅں گی بلکہ باقی زندگی سکون سے گزاروں گی، مجھے پروا نہیں کہ تم جاتے ہویا یہیں رہتے ہو۔“

”مماپلیز خاموش ہو جائیں۔“ احزاز چیخ پڑا۔ ”آخر آپ کیوں سارا گھر برباد کرنا چاہتی ہیں اپنی ضد سے….؟“

”احزاز! تم اس معاملے میں مت بولو، یہ ہمارا ذاتی معاملہ ہے۔“

”اور مما ہم آپ کے ذاتی معاملات کا حصہ نہیں ہیں….؟ ہم آپ کے…. آپ نے کبھی زندگی میں ہمارے بارے میں سوچا ہے؟“

”تمہاراباپ کافی ہے نا! تمہارے لیے سوچنے کے لیے پھر تم دونوں نے ثابت بھی تو یہ ہی کیا ہے کہ تم صرف اس کی اولاد ہو۔“ وہ بے دردی سے کہہ کر چلی گئیں۔ احزاز کو اپنے دماغ کی رگیں پھٹتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں۔ وہ اپنے کمرے میں بند ہو گیا۔ ڈیڈ اسٹڈی روم میں چلے گئے۔ وہ اور کشف اکیلی رہ گئیں۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا بات کریں۔

”پتا نہیں مما ایسی کیوں ہیں؟ کیوں مما خود کو بدل نہیں سکیں۔ عورت کا نام تو مدھو قربانی دینا ہے پھر ہماری ماں میں عورت کے احساسات کیوں نہیں ہیں؟ وہ تمام عمر صرف خود کے لیے جیتی رہیں، شادی سے پہلے خودسر بیٹی…. پھر خود سر بیوی اور جب ماں بنیں تب بھی ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ میں نے سنا ہے مدھو! عورت جب ماںبن جاتی ہے تو اس کی دنیا ہی بدل جاتی ہے اور وہ ایک نئے احساس میں ڈوب جاتی ہے۔ مگر میں نے کبھی اپنی ماںمیں وہ احساس نہیں پایامدھو! ہم اتنے بڑے ہو گئے ہیں مگر میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ مما نے ہمیں کبھی اپنی گود میں لیا ہو، کبھی پیار سے اپنے ساتھ لگایا ہو یا سلایا ہو۔ ہمارے یہ کام ہمارے ڈیڈ نے کیے۔ انہوں نے مما کو سمجھایا مگر جب ان کی طرف سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے اپنی ساری محبت کا رُخ ہماری طرف کر دیا۔ انہوں نے باپ کی شفقت کے ساتھ ساتھ ہمیں ماں کی کمی بھی محسوس نہیں ہونے دی۔ ہر وہ کام جو ماں کی ذمہ داری ہوا کرتا ہے، وہ خود انہوں نے ہمارے لیے کیا۔ پھر بھی مما کے دل میں ڈیڈ کے لیے ذرا بھی جگہ نہیں ہے۔ مدھو! تم اپنی مثال لو۔ تم نے بھیا کی خاطر خود کو کتنا بدل لیا، جیسا وہ چاہتے تھے، وہ ہی بن گئیں مگر دیرے دھیرے بھیا کو اپنا احساس بھی دلایا۔ آج بے شک وہ لفظوں میں یہ بات تسلیم نہیں کر رہے مگر ان کو تمہاری عادت پڑ گئی ہے۔ تم کھانا نہ پکاﺅ تو وہ تمہارے ہاتھ کا ذائقہ محسوس کرتے ہیں۔ تم گھر پر نہ ہو تو تمہاری کمی انہیں محسوس ہوتی ہے۔ کیا کبھی زندگی کے کسی موڑ پر ڈیڈ کو یہ محسوس نہیں ہوئی ہو گی؟ مگر ممانے کبھی ان کے احساسات و جذبات کی قدر نہیں کی….“ کشف رو پڑی تھی۔ مدیحہ نے اسے گلے لگا لیا۔

”پلیز کشف! کیوں خود کو ہلکان کررہی ہو۔“

”مدھو! ہمارا بھی دل چاہتا تھا کہ ہمارے مما ڈیڈ پُرسکون زندگی گزاریں، پیار محبت سے رہیں۔ مما نے تو کبھی اس چیزکا بھی احساس نہیں کیا کہ ان کے ان رویوں کا ہم پر کیا اثر پڑے گا۔ ڈیڈ صرف ہمارے لیے ہر بات سہہ لیتے، کوشش کرتے کہ جھگڑا نہ ہو اور ہمارے ذہنوں پر اثرنہ پڑے، مگر میں نے مما کو یہ قربانی دیتے کبھی نہیں دیکھا۔“

”کشف! دعا کیا کرو، اللہ کے حضور! ہم دعا کر سکتے ہیں نا! وہ دل سے مانگی دعا کبھی رَد نہیں کرتا۔“ اس نے کشف کے آنسو صاف کیے۔ ”اللہ جو بہتر سمجھتا ہے وہ ہی کرتا ہے اور اس پر بھروسا رکھو، ان شاءاللہ بہتر ہو گا۔“

”ہاں شاید یہ اللہ سے دوری کا ہی نتیجہ ہے۔ ہم نے خود کو دنیا میں اس قدر مصروف کر لیا کہ اس سے دور ہو گئے جو ہمارا رب ہے۔“ کشف نے چہرہ صاف کیا اور دل سے ارادہ کیا کہ آج وہ اللہ سے معافی مانگے گی اور اپنے ماں باپ کے حق میں دعا کرے گی۔

ض……..ض……..ض

عشاءکی نماز کے بعد وہ رب کے حضور بابا اور آنٹی کے لیے گڑگڑا کر دعا مانگ رہی تھی۔ وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو مدیحہ کو احساس بھی نہ ہوا۔ وہ بہت غور سے اس کا بھیگا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ اس لڑکی نے کتنا بدل دیا تھا اسے…. آج وہ اپنے دل میں اس چیز کا اعتراف کر رہا تھا کہ مدیحہ نے نا صرف خود کو بدل لیا بلکہ اسے بھی بدل ڈالا تھا۔ ان چند ماہ میں احساس ہوا تھا اسے کہ زندگی کیا چیز ہے اور ایک عورت کا وجود زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ممانے تو کبھی وہ احساس نہ دیا جو اس لڑکی نے صرف چند ماہ میں اس گھر کے مکینوں کو دیا تھا۔ وہ اس دنیاوی زندگی میں سرتاپیر ڈوبا ہوا تھا کہ اس رب کا نام تک لینا اسے یاد نہ رہتا تھا۔ صرف کام…. کام اور دنیا بھر کے کام….

زندگی کا اصل مقصد کیا ہوتا ہے، اسے کچھ پتا نہ تھا۔ ہاں ان میں جو مروت و لحاظ تھا وہ بھی صرف اپنے ڈیڈ کے باعث وگرنہ ان کی ماں نے تو ان کی تربیت پر کوئی توجہ نہ دی تھی اور وہ بھی جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا اسی زندگی میں ڈھلتا گیا۔ آسائش سے بھرپور زندگی….! اسے بھی شروع سے گاﺅں اور وہاں کے رہنے والے پسند نہیں تھے لیکن اس نے مما کی طرح کبھی اظہار نہیں کیا مگر جب پہلی بار وہ ڈیڈ کے ساتھ گاﺅں گیا تو اس کے ذہن پر پڑے پردے ہٹ گئے…. پھر اس کی مرضی کے خلاف سہی، مجبوری کے بندھن میں بندھ کر وہ اس کی زندگی میں آئی۔ اس نے نفرت بھی بہت کی اس سے، دھتکارا بھی مگر اس لڑکی نے کبھی گلہ نہیں کیا اور اپنی عملی زندگی سے اس نے احزاز کی زندگی میں تبدیلی پیدا کی وہ دھیرے دھیرے اس کی تمام عادتوں کو نوٹ کرتا اور اچھی عادتوں پرخود بھی عمل کرنے کی کوشش کرتا۔ صرف اس کی ذات ہی نہیں، اس گھر کے در و دیوار یہاں کے مکینوں تک پر اثر پڑا تھا اس ذات سے۔ وہ ہر کام پر توجہ دیتی نظر آتی۔ ہر فرد کی ضرورت کا دھیان رکھتی۔ یہ بھی تو عورت تھی….! میں نے کبھی اس سے کچھ نہیں کہا مگر اس نے میرے کہے بنا میرے سارے کام کیے، میرے دل کی ہر بات سنی اور میرا جو آئیڈیل تھا، اس نے خود کو اس روپ میں ڈھال لیا مگر اپنی نسوانیت کا وقار برقرار رکھ کے، اپنی روایات اور اسلامی اقدار کا پاس رکھتے ہوئے۔ مدیحہ اس کے ساتھ ہر پارٹی میں جاتی تھی جہاں وہ لے جاتا تھا اور اس کا لباس بھی ویسا ہوا تھا جو افراد کی پسند تھی مگر اخلاق، وقار اور عورت کا مان کبھی اس نے اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اس کے تمام دوستوں کو اس کی بیوی آئیڈیل بیوی لگتی تھی۔ ہر لحاظ سے مکمل…. شاید وہ ہی ناسمجھ تھا…. مگر آج اپنی مما کا اتنا سخت روپ دیکھ کر اسے یہ احساس شدت سے ہوا تھا کہ ان کی زندگی میں عورت کی جو کمی ہمیشہ سے رہی ہے، مدیحہ کے آنے سے دور ہوئی ہے۔ ان کے گھر کو عورت کی جو توجہ درکار تھی، وہ توجہ مدیحہ کے روپ میں مل گئی ہے۔ وہ اسے کیا سمجھتا رہا، اجڈ، گنوار، جال، اَن پڑھ اور نالائق…. مگر اس نے کبھی ان باتوں پر گلہ شکوہ نہیں کیا اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتی رہی۔ کاش مما کے اندر بھی ایسی ہی عورت ہوتی۔ انہیں بھی اپنے گھر، شوہر اور بچوں کی فکر ہوتی۔ وہ ہماری چھوٹی چھوٹی خواہشات اور ضروریات اپنے ہاتھوں سے پوری کرتیں تو ان کا گھر آئیڈیل گھر ہوتا۔ جانے کب تک وہ اپنی سوچو ںمیں الجھتا رہتا کہ مدیحہ کی آواز نے اسے چونکا دیا۔

”آپ کے لیے کافی بنا دوں؟“ روز اس وقت خود اسے دودھ پینے کی عادت ڈال کر اب وہ کافی کا پوچھ رہی تھی۔ احزاز نے الجھی نظروں سے دیکھا۔ ”میں سمجھ سکتی ہوں کہ آج آپ بہت ٹینس ہیں اور جب آپ پریشان ہوتے ہیں تو کافی ہی پیتے ہیں۔“

”بنا دو!“ تشکر بھری نظروں سے دیکھا۔ مدیحہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ پل بھر کو نظریں ملی تھیں پھر وہ رُخ موڑ گئی۔ آج اس نے اپنے اور کشف کے لیے بھی کافی بنائی تھی ± احزاز کا کپ اسے دے کر وہ دو کپ لے کر باہر آ گئی اور کشف کے روم میں داخل ہوئی۔

”ڈئیر کشف! یہ لو، کافی حاضر ہے۔“

”مگر میں تونہیں پیوں گی، میرا موڈ نہیں ہے۔“

”کیا….! تمہاری خاطر میں اپنے شوہر کو کافی وہیں دے کر تمہارے پاس آئی اور تم منع کر رہی ہو؟“

”تو مائی ڈئیر بھابی! تمہیں کس نے کہا تھا؟ تم اپنے شوہر نامدار کے ساتھ بیٹھ کرکافی پی لیتیں۔“

”اچھا…. اچھا…. نخرے مت کرو اور تم اچھی طرح جانتی تو ہو کہ میرے شوہر مجھے اپنے روم میں دیکھ کر زیادہ خوش نہیں ہوتے پھر بھلا میں ان کوکیوں تنگ کروں؟“ وہ مسکراتے ہوئے کپ اسے تھماکر بولی۔

”مدھو! تم خوش ہو؟ بھیا تمہارے ساتھ کتنی زیادتی کر جاتے ہیں مگر میں نے آج تک کبھی تمہارے چہرے پر اداسی نہیں دیکھی۔ تمہیںبھیا کی باتیں دکھ نہیں دیتیں؟“

”کشف! میرا احزاز کے علاوہ اب دنیا میں کوئی رشتہ باقی ہے ہی نہیں….“ احزاز اندر آتے آتے رک گیا اور کان اس کی آواز پر لگا دئیے۔ ”بابا کے بعد جب میں اس گھر میں آئی تھی تو مجھے اتنا پتا تھا کہ بے شک تم سب میرے اپنے ہو مگر احزاز اور میرا تعلق وہ ہے جو شاید دنیا کا مضبوط ترین تعلق ہے۔ ایک عورت کے شادی کے بعد تمام رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ماں باپ، بہن بھائی اور دوسرے تمام رشتے صرف شوہر کا رشتہ استوار کرنے کے لیے عورت تن من صرف اس رشتے کو مضبوط بنانے میں لگا دیتی ہے پھر کہیں جا کر اسے خوشیاں اور من چاہی بیوی کا اعزازملتاہے لیکن مجھے پتا ہے کہ میں کچھ کر لوں، اپنے اور احزاز کے رشتے کو مضبوط نہیں کر سکتی۔“

”مدھو….!“

”ہاں کشف! ان مہینوں میں میں نے پوری کوشش کی کہ احزاز کی نظروں میں اپنی کوئی حیثیت بنا سکوں، میں اس کے مزاج کے ہر موسم کو جان گئی، وہ کب کیا چاہتا ہے، کیا کہنا چاہتا ہے، اسے کس چیز کی ضرورت ہے، کیا پسند ہے اور کیا ناپسند ہے، میں نے خود کو مکمل اس کی پسند میں ڈھال لیا لیکن….“ اس نے گہری سانس خارج کی۔ احزاز دم بخود رہ گیا۔

”مدیحہ! تمہاری خواہش تھی نا کہ انجان بندے سے تمہاری شادی ہو جسے دھیرے دھیرے تم سمجھو….“

”ہاں! کیونکہ میں شادی کے بعد کی محبت پر یقین کرتی ہوں اور کشف میں نے اپنا کہا پورا تو کیا ہے۔ شادی کے بعد پل پل تمہارے بھائی کو جانا ہے، سمجھا ہے مگر میری خواہش اب بھی ادھوری ہے۔ کوئی مجھے بھی تو سمجھے کہ میں کیا چاہتی ہوں۔ میری خواہش میرے خواب…. شاید سب بے معنی…. میں نے تو اب یہ باتیں سوچنا ہی چھوڑ دی ہیں کشف! ہاں مگر جس انسان کی خاطر ہم ہر رشتہ چھوڑ دیتے ہیں، جس کے ساتھ ساری عمر گزارتے ہیں، اس کی باتیں ہمیں دکھ دیں تو….“اس کا لہجہ بھیگ گیا تھا۔

”میں جانتی ہوں، تم بھیا کی باتوں پر دکھی ہوتی ہو، پر اظہار نہیں کرتیں، ہے نا!“

”جب میں یہ سوچتی ہوں نا کشف کہ اتنی لمبی زندگی اگر اسی طرح گزرے گی تو دکھ ہوتا ہے۔ بابا اور آنٹی کی طرف دیکھتی ہوں تو دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ ان کے درمیان کے فاصلے مٹا دے اور اپنی طرف دیکھتی ہوں تو دعا کرتی ہوں کہ یہ کہانی پھر نہ دہرائی جائے، ہماری سوچوں کے یہ اختلاف عمر بھرنہ رہیں۔ مجھے ڈر لگتا ہے کشف! تم ہو یا بابا، کوئی کب تک میرا ساتھ دے گا؟ زندگی تو بہرحال مجھے اور احزاز کو ہی گزارنی ہے نا! میں پیچھے مڑ کر دیکھوں تو میرے پاس تو کچھ بچا ہی نہیں ہے۔ میرا تو کوئی بھی نہیں ہے، بس اب یہ ہی ایک بندھن ہے اور جو سب سے زیادہ اپناہے شاید اس چیز کا احساس بھی نہیں کہ مجبوراً اور زبردستی سہی، اس نے میرے مرحوم باپ کی خواہش پوری کی تھی اور میرے بابا مجھے یہ زندگی نہیں دینا چاہتے تھے، انہوں نے تو میری خوشیوں کے لیے بھیک مانگی ہو گی۔“

”مدھو!“ کشف نے اس کا چہرہ تھام کر اپنی طرف کیا، اس پورے عرصے میں پہلی بار اس کی پلکیں بھیگی تھیں۔ ”مدھو پلیز! رونا نہیں….“ اس سے پہلے کہ وہ دونوں مزید کوئی بات کرتیں، ہلکی سی دستک کے بعد احزاز اندر آیا تھا۔

”بھیا…. آپ….؟“ کشف کو سمجھ نہیں آیا کہ اس لمحے کیا کہے۔ مدیحہ نے جلدی سے چہرہ صاف کیا۔ ”آئیں ا بھیا! خیریت تھی یا اپنی بیگم کی کمی محسوس کر رہے تھے؟‘ کشف اس وقت ماحول کا بوجھل پن ختم کرنا چاہتی تھی۔

”دراصل کافی پینے کی عادت نہیں رہی تھی نا، آج پی تو نیند اُڑ گئی۔“ وہ کشف کے پاس ہی آ بیٹھا تھا۔

”مدھو! تمہیں پتا ہے، تمہاری شادی کے بعد بھیا پہلی بار آج میرے روم میں آئے ہیں۔ لگتا ہے مجھ سے بھی خفا ہیں، ورنہ پہلے تقریباً روز ہی ہم دونوں بہن بھائی گپ شپ کرتے تھے۔“

”کشف! تم کیا چاہتی ہو کہ میں اٹھ کر چلا جاﺅں؟“ وہ نروٹھے انداز میں بولا۔ مدیحہ نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا تھا۔ گندمی پُرکشش رنگت پر کھڑے نقوش، براﺅن گہری آنکھیں، بلیو ٹی شرٹ اور بلیک ٹراﺅزر میں وہ روٹھا روٹھا کتنا خوبصورت لگ رہا تھا۔ وہ کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل بن سکتا تھا کہ وہ تھا ہی اتنا اچھا اور وجیہہ…. اس نے احزاز شاہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی بہت کم دیکھی تھی۔ اکثر اس کے چہرے کے نقش بھی اکھڑے رہتے تھے۔

”ارے بھیا! میںتو آپ کو تنگ کر رہی تھی۔“ کشف کی آواز نے اسے حواسوں میں لوٹا دیا تھا۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی اور مانی آیا۔

”بھابی جی! بڑے صاحب بلا رہے ہیں آپ کو۔“

”مجھے بابا….؟ کہاں ہیں وہ….؟“

”اسٹڈی روم میں….“ مانی بتا کر چلا گیا۔ پتا نہیں کشف کو ہی محسوس ہوا تھا مگر احزاز کے چہرے پر سایہ سا لہرایاتھا۔

”اوکے کشف! گڈ نائٹ!“ مدیحہ کہہ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

”ارے ڈیڈ کی بات سن کر آ جاﺅ نا!“

”نہیں یار! اب آرام کروں گی۔“

”چلو ٹھیک ہے، تم بھی تو سارا دن کام کرتی رہتی ہو، تھکن ہوجاتی ہو گی۔“

”اوکے….!“ وہ مسکراتی ہوئی باہر نکل آئی اور اسٹڈی روم میںپہنچی تو بابا اس کے ہی منتظر بیٹھے تھے شاید….

”بابا! آپ نے بلایا تھا مجھے….؟“

”جی بیٹا! مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔“

”مجھ سے…. کہیں….!“ وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔

”مدیحہ! میں نے فیصلہ کر لیا ہے حالانکہ یہ فیصلہ مجھے بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا مگر دیر سے سہی، اب میں نے حتمی فیصلہ کر لیاہے۔ میں گاﺅں جارہا ہوں ہمیشہ کے لیے…. کشف تو ظاہر ہے کہ میرے ساتھ جائے گی مگر میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔“

”بابا! آپ آنٹی کو اکیلا چھوڑ کر کیسے جا سکتے ہیں؟ انہیں آپ کی ضرورت ہے۔“

”مدھو! اسے تو میری ضرورت کبھی بھی نہیں رہی بچے! کاش ایسا ہی ہوتا۔ خیر، میں تم سے پوچھنا چاہتا تھا کہ تم ہمارے ساتھ چلو گی؟ بچے! میں تمہارا بھی مجرم ہوں۔ اپنے مرحوم بھائی اور اپنی خواہش تو میں نے پوری کر لی لیکن تمہاری زندگی مشکل میں ڈال دی۔ احزازجانے کب تمہاری ذات کو سمجھے گا، جانے کب اسے احساس ہو۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم بھی میری طرح اکیلی ہی زندگی کا یہ سفر نہ طے کرتی رہو، ہم سفر کے انتظار میں…. میں جانتا ہوں کہ تم نے پوری کوشش کی ہے اور تم کسی حد تک کامیاب بھی رہی ہو…. لیکن احزاز کا مزاج اپنی ماں جیسا ہے، مدیحہ! اس کا تم اندازہ لگا چکی ہو گی اور میں اس کی طرف سے خوش فہمی کا شکار ہونا نہیں چاہتا۔ تم سوچ لو، رات ہے تمہارے پاس…. میں اور کشف کل چلے جائیں گے۔تم ہمارے ساتھ جانا چاہو گی یا احزازکو ایک موقع اور دو گی؟“ بابا نے اسے دیکھا جو خود جیسے ہاری ہوئی لگ رہی تھی۔ اس کا دل تو پہلے ہی اداس ہو رہا تھا۔ وہ بابا کی گود میں سر رکھ کے بُری طرح رو دی۔

”شاید بابا میری کوششوں میں ہی کمی رہ گئی ہے۔ میں آپ کے ساتھ جاﺅں گی۔ آپ کی ذات سے میرا حوصلہ بڑھتا تھا، آپ نہیں ہوں گے تو…. اور رہی میرے نصیب کی بات تو احزاز کو میری ضرورت ہوئی تو مجھے لینے ضرور آئیں گے۔ بابا میں انہیں موقع نہیں، خود کی کوششوں کو آزمانا چاہتی ہوں۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ میں خلوص اور نیک نیتی سے کیے گئے اس تمام عرصے کی کوشش میں کہاں تک کامیاب ہوئی ہوں اور کامیاب ہوئی بھی ہوں یا نہیں….؟“

”اللہ تمہیں کامیاب کرے بیٹا!“ انہوں نے اس کا سر تھپکا۔ وہ کافی دیر روتی رہی۔ بابا سے وہ دل کی ہر بات شیئر کر لیتی تھی۔ انہیں بتاتی رہی۔ وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا۔

”مدھو! بہت رات ہو گئی ہے بچے! اب جا کے آرام کرو۔“

”جی بابا!“ اس نے چہرہ صاف کیا اور ”گڈنائٹ“ کہتی اپنے کمرے میں آ گئی۔ اس کی آہٹ پر وہ یوں اٹھ بیٹھا تھا جیسے اس کا ہی منتظر ہو۔ مدیحہ نے پہلے واش روم کا رُخ کیا پھر باہر آ کر تکیہ اٹھاتے بیڈ پر گئی تو وہ خود کو روک نہ پایا اور پوچھ بیٹھا۔

”بابا سے کیا بات ہوئی ہے؟“ مدیحہ نے اسے بہت حیرت سے دیکھا۔

”بابا صبح ہمیشہ کے لیے گاﺅں جا رہے ہیں….“

”اور….“ اس نے پوچھا۔

”میں اور کشف بھی ان کے ساتھ جائیں گے۔“ یک دم ہی احزاز کو لگا اس کے اندر کچھ زور سے ٹوٹا ہو۔

”تم نے ڈیڈ کوسمجھایا نہیں….؟“ جواباً اس نے صرف سر ہاں میں ہلایا تھا۔ اس سے پہلے احزاز نے کبھی اتنی بات نہیں کی تھی اس سے….“ مگر وہ فیصلہ کر چکے ہیں۔“ اس نے تکیہ اٹھایااور صوفے پر جا کے لیٹ گئی۔

”اور تم….؟“ وہ آواز شاید ایک خواب تھا۔ وہ بھلا کیوں مجھ سے پوچھے گا۔ وہ آنکھوں پر ہاتھ دھر کے سونے کی کوشش کرنے لگی اور احزاز سوچ میں پڑ گیا۔ آج اس نے مدیحہ کی ہر بات سنی تھی اور واقعی اسے احساس ہوا تھا کہ وہ اس کی ذات سے وابستہ ہو کر ہی اس گھر میں آئی تھی اور اس نے کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔ صبح کیا وہ چلی جائے گی۔ بابا اور کشف کے ساتھ….؟ کیا مما کو روکنا نہیں چاہیے بابا کو؟ انہوں نے ایک عمر ساتھ گزاری ہے…. کاش مما روک لیں ڈیڈ کو…. اور وہ….! کیا وہ مدیحہ کو روک پائے گا؟ اس کا ذہن بُری طرح الجھ رہا تھا۔ مگر اس کے پاس ان الجھنوں کا کوئی حل نہیں تھا۔

اگلے روز اس نے بابا کو جا لیا۔

”بابا پلیز! آپ میرے بارے میں سوچیں، مجھے اکیلا چھوڑ کر مت جائیں نا!“

”میں نے تو کوشش کی تھی بیٹا کہ تم اکیلے نہ رہو، مگر تم نے خود وہ تمام لمحے گنوا دئیے اور اب میں مدیحہ کو یہاں چھوڑ کر پھر سے وہ کہانی نہیں دہرانا چاہتا جو میرے ساتھ بیت چکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری ذمہ ادری پوری ہوئی۔ تم ماشاءاللہ ایک اچھے بزنس مین بن چکے ہو، سیٹل ہو، البتہ کشف کو رخصت کرنے کی ایک ذمہ داری ابھی مجھ پر باقی ہے اور گاﺅں جا کر پہلا کام یہ ہی کروں گا۔ ٹائم ہو تو آ جانا ورنہ میں جانتا ہوں، تم اپنی بہن کو اچھی دعائیں ضرور دو گے۔ اپنا خیال رکھنا اور ہاں! بے شک تمہاری ماں کو کسی کی ضرورت نہیں ہے مگر تم اپنا فرض ادا کرنا اور ان کا خیال رکھنا۔“

”ڈیڈ پلیز!“

”احزاز! مجھے مجبور مت کرنا بچے! زندگی میں پہلی بار کوئی فیصلہ کر کے مجھے دلی سکون ملا ہے۔“ گویا وہ اٹل تھے۔ احزاز مما کے پاس گیا انہیں سمجھانے مگر….!

”تو کیا ہوا؟ وہ یہاں ہو کر بھی کبھی میرے نہ بن سکے۔ یہ شادی صرف ایک سمجھوتا تھی…. ورنہ شاہ نواز احمد کبھی بھی میرے شوہر نہ ہوتے۔“

”مما….!“ وہ ساکت رہ گیا۔ ”آپ کو ڈیڈ کے جانے کا ذرا بھی افسوس نہیں….؟ آپ نے ایک عمر ان کے ساتھ گزاری ہے۔“

”وہ میری مجبوری تھی مائی سن! پلیز میرا سر مت کھاﺅ۔ شاہ نواز نے بہت دیر سے سہی، صحیح فیصلہ کیا ہے، اسے بہت پہلے چلے جانا چاہیے تھا۔ شاید وہ یہاں ہو کر بھی یہاں کبھی تھا ہی نہیں…. میں نے زبردستی اسے اس کے ماں باپ سے دور رکھا تھا اور وہ صرف اپنے بچوں کی خاطر خاموش رہا۔ آج جب اس کے بچے اپنے پیروں پر کھڑے ہیں تو اس نے بالکل ٹھیک فیصلہ کیا ہے۔“ احزاز کو محسوس ہو رہا تھا کہ یہ عورت جسے وہ ماں کہتا رہا ہے اس کی ماں ہے ہی نہیں۔ اس عورت میں جذبات و احساسات تھے ہی نہیں۔ جس شخص کے ساتھ زندگی گزاری۔ اس کے ہونے نہ ہونے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

”مجھے بہت افسوس سے یہ کہنا پڑ رہا ہے آج کہ آپ ہماری ماں ہیں اور یہ بات میرے لیے خوشی کا باعث ہرگز نہیں ہے“ پہلی بار اس کے لبوں سے ایسے الفاظ ادا ہوئے تھے کہ جن پر اسے خود بھی دکھ تھا۔ مگر بابا کے جانے سے زیادہ نہیں۔ وہ ہارے ہوئے شخص کی طرح کمرے میں آ گیا جہاں مدیحہ جانے کی تیاری کر رہی تھی۔

”اب اس سے کیا کہوں….؟“ اس نے خاموشی سے اپنے آفس کی تیاری کی اور جب کمرے سے جانے لگا تو مدیحہ کی آوازنے قدم روک دیے۔

”میں جانتی ہوں احزاز! کہ میرے وجود نے آپ کو کبھی خوشی نہیں دی، میں ایک زبردستی کے بندھن میں بندھ کر آپ کی زندگی میں آئی تھی، میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میری ذات سے آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو پھر بھی کبھی اگر میں نے آپ کو دکھ دیا ہو تو اس کے لیے مجھے معاف کر دیجیے گا۔“ اس کی آواز بھاری ہو گئی تھی تب ہی وہ خاموش ہوگئی۔

”اگر یہ ہی الفاظ میں کہوں تو….؟ کیونکہ میری ذات سے تو مدیحہ احزاز شاہ تمہیں ہمیشہ دکھ اور تکلیف ہی ملی ہے۔ اس کے لیے ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔“ اس نے مڑ کر نہیں دیکھا تھا۔ اپنی بات ختم کر کے فوراً چلا گیا تھا۔

ض……..ض……..ض

حویلی کا ہر فرد انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوا تھا۔ دادی اماں اور پھوپو نے اسے گلے لگایا۔

”پتا ہے کتنا مشکل تھا ہمارے لیے تیرے بنا جینا، کتنے دن تو یوں محسوس ہوا کہ تُو آ جائے گا۔“ پھوپو اسے سینے سے لگائے کہہ رہی تھیں۔ ”اور حماد کتنے دن تجھے یاد کر کے روتا رہا، اس نے تو گھر آنا چھوڑ دیا تھا کہ مدھو کے بنا گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے۔ ہمیں تو عادت بھی نہیں تھی تیرے بنا رہنے کی کبھی تجھے خود سے الگ کیا نہیں…. اور جب یوں اچانک اپنے سسرال گئی تو لگا ہمارے آنگن کی ساری چڑیا اُڑ گئیں، وہ چہچہاہٹ نہیں رہی تھی مدھو!“ انہوں نے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اس کا چہرہ تھام کر چوما۔ مدیحہ کی مسکراہٹ انہیں اچھی لگ رہی تھی۔ اس کے اندر بہت تبدیلی محسوس کی تھی انہوں نے…. لیکن یہ تبدیلی اس پر جچ رہی تھی۔ پھوپو نے کشف کو بہت پیار کیا۔ اماں جی اور اباجی اپنے بیٹے کو دیکھ کر ہی مسرور ہو گئے تھے۔ حماد شام میں آیا تو گھر میں رونق دیکھ کر نہال ہو گیا۔ مدیحہ اس کے کاندھے سے لگ گئی۔

”بڑی سنگ دل بہن نکلی مدھو! ایسی پیا دیس گئی کہ مڑ کر اپنا بھائی بھی یاد نہ آیا۔ پتا ہے تیرے بغیر رہنے کی عادت کتنی مشکل سے ڈالی ہے ہم نے ….؟“

”میں نے ہر پل آپ لوگوں کو یا دکیا ہے بھیا! مگر وہاں زندگی گزارنے کے لیے ان لوگوں میں گھلنا ملنا انہیں وقت دینا بھی ضروری تھا نا!“

”اچھا کیا….! چل یہ بتا احزاز کیسا ہے اور وہ تم لوگوں کے ساتھ نہیں آیا؟“ اس کے سوال پر پل بھر کو وہ گڑبڑا گئی پھر سنبھل گئی۔

”بابا اور وہ دونوں آ جاتے تو بزنس کا کیا ہوتا؟ پھر آنٹی کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی فرینڈز کے ساتھ گھومنے جائیں گی۔ گھر پر کسی کو تو رہنا تھا نا!“ اس بے مہر کی سنگت نے اسے جھوٹ بولنے کا ہنر بھی سکھا دیا تھا۔ حماد ماموں اور کشف سے ملا۔ ان کے ساتھ باتیں کرتے ٹائم کا پتا ہی نہ چلا تھا۔

”میرا خیال ہے اب سو جانا چاہیے بچو! بارہ بچ چکے ہیں۔“ بابا نے کہا تو انہیں ٹائم کا احساس ہوا۔

”جی ماموں! آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، پھر صبح مجھے شہر بھی جانا ہے، ضروری کام سے….“ حماد بولا۔ کشف تو انجوائے کر رہی تھی مگر مدھو کا نیند سے بُرا حال تھا، اس نے شکر ادا کیا۔

ض……..ض……..ض

شام شاید اپنے پیر پھیلا چکی تھی۔ اس نے کسلمندی سے کمبل ٹانگوں سے ہٹایااور انگڑائی لیتا کھڑا ہو گیا۔ پردے سمیٹ کر کھڑکی کھولی تو سورج جیسے اسے ہی الوداع کہنے کو رکا ہوا تھا۔

موسم بدل رہا تھا اور بدلتے موسم کی یہ اداس سیاہ شامیں، ڈوبتا سورج احزاز شاہ کے اندر تک سناٹے اُتار گیا۔ اسے اپنے اندر کچھ ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔ سرد ہوا کا جھونکا چہرے کو چھو کر گزرا تو جھرجھری لیتا وہ کھڑکی بند کرنے لگا۔ فریش ہو کر نیچے آیا تو خلاف معمول مما سٹنگ روم میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔

”گڈ ایوننگ بیٹا! اب کیسا محسوس کر رہے ہو؟“ کل سے بخار نے اس کے وجود کو توڑ کر رکھ دیا تھا مگر اب کچھ بہتر تھا۔

”اب بہتر ہوں مما!“ جب ہی مانی چائے لے آیا۔

”بھیا جی! چائے کے ساتھ کچھ لاﺅں؟ آپ نے دوپہر بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔“

”نہیں! میرا دل نہیں چاہ رہا۔“ اس وقت کی چائے کے ساتھ کچھ نہ کچھ وہ ضرور بنا کے رکھتی تھی۔ یہ ٹائم وہ ہوتا جب مدیحہ، بابا، کشف اور ان سے الگ بیٹھا احزاز چائے پیتے گپ شپ کیا کرتے اور آج! شام تو تھی مگر وہ نہیں تھے۔ جانے کیوں اس کا دل عجیب سے سناٹے میں گھِر گیا۔ ملازم چائے لے کر آیا تو اس نے لوٹادی۔

”مانی! میرا دل نہیں چاہ رہا چائے کو، لے جاﺅ پلیز!“ ملازم نے اسے حیرت سے دیکھا۔ اس وقت کی چائے اور وہ منع کر دے؟ لیکن اسے اپنے چھوٹے صاحب کے موڈ سے ڈر لگتا تھا،سو خاموشی سے کپ اٹھا کے کچن کارُخ کیا۔

”مائی سن! مجھے لگتا ہے تم ان لوگوں کو یاد کر رہے ہو۔ آج دس دن ہو گئے ہی اور میں دیکھ رہی ہوں کہ تم میں پہلے والی بات نہیں رہی۔“

”مما! اگر ایسا ہے تو ظاہر سی بات ہے، وہ میرے ڈیڈی ہیں، کشف میری بہن ہے۔ اک عمر گزاری ہے میں نے ان کے ساتھ اور میں تو پھرانسان ہوں مما! شاید آپ نے غور نہیں کیا یہ گھر اس کے در و دیوار تک اداس ہیں۔“

”اور تمہاری بیوی؟ مجھے جانے کیوں لگتا ہے کہ تم اس میں شامل ہو چکے ہو، اس کی کمی محسوس کر رہے ہو؟“

مما کی بات پر پل بھر کو اس کے اندر ایک سکون سا اترا تھا پھر سنبھل گیا۔

”مما! مانا کہ میرے اور مدھو کے درمیان ہم آہنگی نہیں رہی مگر یہ سچ ہے کہ اس نے اس گھر کو گھر بنایا ہے، توجہ اور پیار سے…. جو آپ ایک عمر گزار کر بھی نہ کر سکیں، وہ چند ماہ میں کر گئی۔ اس نے مجھے احساس دلایا ہے کہ گھر کے لیے عورت کا وجود کتنی اہمیت رکھتا ہے اور عورت کی توجہ اگر اس کا گھر اور گھر والے ہوں تو وہ گھر کتنا مکمل اور پُرسکون ہوتا ہے۔ مجھے کوئی شرمندگی نہیں ہے یہ کہنے میں کہ میں اس کی کمی شدت سے محسوس کر رہا ہوں کیونکہ مجھے اور اس گھر کو اس کی عادت ہو گئی ہے، وہ میری ہر ضرورت، ہر ہر خواہش کا خیال رکھتی تھی بنا میرے کہے۔ کاش مما! آپ نے بھی ڈیڈ پر یوں توجہ دی ہوتی۔“

”اُف خدایا! یہ لیکچر بند کرو۔ اگر اتنی محبت ہے اس اجڈ سے تو چلے جاﺅ تم بھی وہاں….“

”کاش ایسا ہو سکتا مگر میرے ڈیڈ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اپنی ماں کے ساتھ رہوں، ان کا خیال رکھوں جنہیں اپنے علاوہ کسی کا خیال نہیں۔“

”میں اپنا خیال رکھ سکتی ہوں، مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے۔“

”جی مما! اس کا عملی مظاہرہ تو آپ کر چکی ہیں۔ اپنے شوہر کے جانے پر جس عورت کو دکھ تک نہ ہو وہ….“ وہ یہ کہہ کر اٹھ گیا۔

احزاز شاہ کی حالت عجیب سی تھی۔ گھر آنے کو دل نہ چاہتا تھااور آنا تو یوں محسوس ہوتا جیسے ابھی ڈیڈ یا کشف کی آواز آئے گی، وہ اسے پکاریں گے، اپنے کمرے میں جاتا تو لگتا ابھی کسی کی چوڑیاں کھنکیں گی مگر ہر سو صرف سناٹا تھا اور وہ ایک ماہ میں ہی اس زندگی سے اُکتا گیا تھا۔

”پلیز ڈیڈ! مجھے یہ سزا مت دیں، لوٹ آئیں،میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتا۔“ اس نے ڈیڈ کو فون کیا تھا۔ شاید اس دن سلمیٰ بیگم کو یہ احساس ہوا کہ اس نے احزاز کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئیں مگر انہوں نے یہ ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ ہی اطلاع دینے کے لیے آج زندگی میں پہلی بار انہوں نے خود شاہ نواز احمد کو فون کیا تھا۔

”میں احزاز کو یوں نہیں دیکھ سکتی۔ یہ سچ ہے شاہ نواز! میں کبھی تم سے محبت نہیں کر پائی ورنہ تم نے ہر ممکن کوشش کی کہ ہمارا یہ رشتہ مضبوط ہو مگرمیرے دل میں آج بھی تم نہیں ہو۔ سو میں مزید تمہیں یا اپنے بچوں کو دکھ نہیں دوں گی، میں امریکہ جا رہی ہوں۔ تم پلیز اپنے بچوں میں لوٹ آﺅ کیونکہ میرے بغیر تو بچے ہمیشہ ہی رہے ہیںلیکن تمہارے بنا وہ نہیں رہ سکتے۔ احزاز بہت تنہائی محسوس کرتا ہے، اس کا باپ اسے لوٹا دو پلیز!“ انہوں نے آج صرف اپنی کہہ کر لائٹ کاٹ دی اور شاہ نواز احمد ایک بار پھر سلمیٰ احمد کے سامنے ہار گئے۔

کاش ہمارے بڑوں نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کرکیا ہوتا تو آج….!

وہ اس وقت کشف کی شادی کی تیاری میں مصروف تھے اور انہوں نے احزاز کو بھی اطلاع دے دی تھی کہ پرسوں کشف کا نکاح ہے، تم آنا چاہو تو ضرور آنا اور جس دن نکاح تھا، وہ سویرے ہی پہنچ گیا تھا۔ کشف کو یوں لگا جیسے وہ برسوں بعد اپنے بھائی سے ملی ہو۔ کتنی دیر اس کے گلے سے چپکی رہی۔

”بھیا! آپ ٹھیک ہیں، اتنے کمزور لگ رہے ہیں۔“ اس نے بغور مشاہدہ کیا تھا۔ وہ مسکراتا ہوا ڈیڈ کے گلے لگ گیا اور جانے کس احساس سے اس کی آنکھوں کے گوشے نم پڑ گئے۔

”اگر آپ بھی مما کی طرح کا رویہ رکھتے تو شاید آپ کی کمی اتنی شدت سے محسوس نہ ہوتی۔ مگر آپ نے تو اپنی ذات سے زیادہ ہمارا خیال رکھا ہے۔ ڈیڈ! پھر آپ نے یہ سوچ کیسے لیا کہ ہم آپ کے بنا رہ پائیں گے؟ نہیں ڈیڈ….!“ ڈیڈ نے اپنے خوب صورت بیٹے کو مزید خود سے بھینچ لیا۔

”جناب! ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں….“ حماد کی چہکتی آواز نے اسے ڈیڈ سے الگ کیا۔

”اوہ، سوری ڈئیر!“ وہ حماد سے ملا پھر دادا، دادی جی، پھوپو اور گھر کے ہر فرد سے مل چکا تھا مگر اسے مدیحہ کا چہرہ نظر نہیں آیا۔ اس کی نگاہیں ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں۔ ظاہر ہے شادی کا گھر تھا، مہمان تھے اور اتنے لوگوں میں اسے تلاش کرنا…. شاید بابا اس کی نگاہوں میں چوری چوی کسی کی تلاشی دیکھ چکے تھے تبھی بھنویں اچکا کراشارے سے پوچھا تو وہ مسکرا کر سر جھکا گیا اور شاہ نواز احمد اسی بات کے منتظر تھے کہ احزاز، مدیحہ کو خود پکارتا ہے یا ان کی طرح اب مدیحہ نے بھی یوں ہی بے مقصد زندگی گزارنی تھی لیکن وہ خوش تھے کہ مدیحہ کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔

شام میں جا کر وہ اسے دکھائی دی تھی۔ میرون کلر کے فل کام والے سوٹ میں خوبصورت سے کیے میک اَپ اور جیولری نے اسے نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت بنا دیا تھا۔ کسی کام سے گزر رہی تھی جب احزاز سے سامناہوا۔

”السلام علیکم!“ اس کے یاقوتی لب ہولے سے ہلے تھے، احزاز کہیں کھو گیا۔

”بہت جلدی یاد آ گیا آپ کو….؟“ صبح سے اسے ڈھونڈ کر نگاہیں تھک گئی تھیں سو وہ نا چاہتے ہوئے بھی طنز کر گیا مگر اس کی موجودگی اس بہکا رہی تھی۔

”تم ٹھیک ہو؟“

”جی! آپ اور آنٹی کیسی ہیں؟“

”مما امریکہ چلی گئی ہیں۔“ سنجیدگی سے جواب دیا۔ مدیحہ نے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا، جسکے چہرے پر عجیب سا دکھ نظر آیا تھا، وہ پہلے سے بہت کمزور لگ رہا تھا۔ چہرے پر تازگی بھی نہیں تھی، اس کے دل کو کچھ ہوا۔

”آپ ٹھیک ہیں نا احزاز! بہت کمزور ہو رہے ہیں؟“ اس کی فکر جیسے احزاز شاہ کی روح تک کو پُرسکون کر گئی۔

”تمہیں فکر ہے میری….؟“ اس نے گلہ کیا۔ مدھو نے اسے دیکھا جو اسے ہی تک رہا تھا۔ ”جس دن سے آئی ہو بیمار ہی رہا ہوں۔“ جانے وہ کیا جتا رہا تھا۔ مدیحہ کی پلکیں خوشی سے بھیگیں۔

”احزاز بھائی!“ حماد کے دوست کی آواز نے اس لمحے بہت پریشان کیا تھا اسے۔ ”مجھے تم سے بات کرنی ہے مدیحہ احزاز!“ وہ اپنی بات مکمل کر کے تیز قدموں سے پلٹ گیا۔

ض……..ض……..ض

ڈیڈ! اب تو کشف کی ذمہ داری ادا کر دی آپ نے، پلیز اب گھر چلیں، میں بہت تنہا ہو گیا ہوں۔“

”احزاز! کیامیرے واپس جانے سے تمہاری تنہائی واقعی دور ہو جائے گی بچے!“ ڈیڈ کی ذومعنی بات وہ سمجھ نہیں پایا تھا۔

”کیا مطلب ڈیڈ!“

”میں نے تمہاری مما کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اک عمر تنہا گزاری ہے احزاز! اور میں نہیں چاہتا کہ دوبارہ ایسا ہو۔ میں تمہارے ساتھ رہوں یا نہ رہوں مگر تمہیں زندگی کے اس سفر میں ایک ہم سفر چاہیے۔ جس کا ہاتھ تھام کر تم یہ زندگی آسانی سے گزار سکو اور جو تمہارے ہر دکھ سکھ کی ساتھی ہو۔ تم ایک دوسرے کی مشکلیں سمجھو اور مل کر حل کرو۔“ اب اسے یہ بات واضح اندازمیں سمجھ آ گئی تھی۔ وہ خود بھی تو دوبارہ سے یہ کہانی نہیں دہرانا چاہتا تھا لیکن اپنی زندگی وہ کسی سمجھوتے کے سہارے نہیں بلکہ دل و دماغ کی رضامندی سے گزارنا چاہتا تھا، جس کے لیے وہ اب پوری طرح تیار تھا۔ وہ اس آنے والے نئے سال میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کرے گا، مڑ کر گزر جانے والے ماہ و سال کو نہیں دیکھے گا۔ یہ ہی وعدہ تو کر کے آیا تھا وہ خود سے اور یہ ہی اقرار تو اس نے مدیحہ سے لینا تھا۔

”آپ فکرنہ کریں ڈیڈ! مجھے صرف آپ کی دعائیں چاہئیں۔“ اس نے مسکرا کے ان کے خدشات دور کیے۔ ”میں مدیحہ سے کہہ دیتا ہوں کہ صبح ہمیں نکلنا ہے، وہ پیکنگ کر لے۔“ اس کی مکمل بات سن کر ڈیڈ سرشار ہو گئے تھے۔

ض……..ض……..ض

اگلی صبح وہ سب کی دعائیں سمیٹ کر ایک بار پھر اسی سفر پر رواں دواں تھی لیکن اس بار دل میں امید تھی، اسے یقین تھا کہ وہ اپنا ہم سفر پا چکی ہے۔ بس اس کے اظہار کی منتظر تھی۔ جس نے اس سے کہا تھا کہ وہ مدیحہ سے بات کرنا چاہتاہے۔

گھر پہنچے تو مانی انہیں دیکھ کر کھل اٹھا۔

”بھابی جی! قسم سے آپ کے آنے سے حوصلہ ملا ہے، ورنہ بھائی جی کے خراب موڈ سے مجھے ڈر لگنے لگا تھا۔“ احزاز نے اسے آنکھیں دکھائیں تو بابا اور وہ ہنس پڑے تھے۔

”اچھا اب فٹافٹ کچھ بناﺅ،میں ابھی فریش ہو کر آتی ہوں، بھوک سے بُرا حال ہے۔“

”جی اچھا….!“ وہ مسکراتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی تھی۔ شام تو ویسے بھی ڈھل چکی تھی۔ جب تک وہ لوگ فریش ہو کر آئے، مانی نے کھانا تیار کر لیا تھا۔

”ڈیڈ! میں اور مدیحہ کھانے کے بعد باہر جائیں گے۔ آپ چلی گے ہمارے ساتھ؟“ وہ کھانے کے دوران ڈیڈ سے مخاطب تھا۔

”ارے نہیں بھئی! میں آرام کروں گا۔ تم دونوں جاﺅ۔“ انہوں نے سہولت سے منع کر دیا۔

”تم تیار ہو جانا کھانے کے بعد!“ وہ اب مدیحہ سے مخاطب تھا۔ جس نے صرف سر ہلایا تھا۔ کھانا ختم کرتے ہی احزاز اٹھ گیا، بابا اسے دیکھ رہے تھے۔

”خوش رہو بچے! آج تمہاری محنت کا ثمر تمہیں مل گیا، اللہ رب العزت تمہیں ہمیشہ خوش رکھے اور ہر آنے والا ہر دن تمہارے لیے خوشیاں ہی خوشیاں لائے۔“

”شکریہ بابا!“ اس نے اٹھ کر ان کے گلے میں بانہیں ڈالیں۔

”اچھا! اب جا کر تیار ہو جاﺅ، کہیں احزاز کا موڈ بگڑ نہ جائے۔“ انہوں نے کہا۔

وہ ”اچھا“ کہتی اٹھ گئی اور آدھے گھنٹے بعد وہ دونوں باہرجا رہے تھے۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے پُرشوق نظروں سے مدیحہ کو دیکھا تھا، وہ جھینپ کر رُخ موڑ گئی۔ احزاز نے گاڑی اسٹارٹ کی۔

”ہم کہاں جا رہے ہیں؟“

دراصل میرے دوستوں نے آج پارٹی رکھی ہے لیکن وہاں جانے سے پہلے میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔“ وہ ڈرائیو کرتے ہوئے بہت نرم انداز میںبات کر رہا تھا۔ اس نے گاڑی کو ایک خوبصورت اور شہر کے بڑے ہوٹل کے سامنے لا کر کھڑا کیا تھا۔ مدیحہ نے حیرت سے دیکھا۔

”آجاﺅ!“ گاڑی پارک کر کے وہ آگے بڑھ گیا، مدیحہ اس کے ہمراہ تھی۔ یہاں بہت زیادہ لوگ تھے، شاید وہ بھی پارٹی میں مدعو تھے۔ احزاز اسے لے کر پُرسکون سی جگہ تلاشتے ہوئے ایسی جگہ لے آیا تھا جہاں بہت کم لوگ تھے۔

بیٹھ جاﺅ! اس نے کرسی کی جانب اشارہ کیا۔ مدیحہ کچھ جھجکتے ہوئے بیٹھ گئی۔ بے شک یہاں لوگ کم تھے مگر اس کے خیال سے رش تھا۔ احزاز نے اس کی الجھن محسوس کی۔

”پلیز ریلیکس! یہ وہ دنیا ہے جہاں کسی بھی شخص کو دوسرے سے کوئی سروکارنہیں، بے فکر ہو جاﺅ۔!!

”میں یہاں ایزی فیل نہیں کر رہی۔“ بار بار دوپٹا درست کرتے وہ تنگ آ گئی تھی۔

”مدھو! اِدھر دیکھو میری طرف….!“ وہ قدرے تیز لہجے میں بولا تھا مگر آج اس کے روئیے میں اپناپن نمایاں تھا اور پہلی بار اس نے ”مدھو“ پکارا تھا۔ مدیحہ نے نظریں ذرا سی اٹھائیں تو اسے متوجہ پایا۔

”میں تمہیں یہاں اس لیے لایا ہوں کہ ہم آرام سے بات کر سکیں گے۔ گھر کے ماحول سے دور….!“ اس کے لفظوں سے مدیحہ کے دل کی دھڑکن بے قابو تھی۔ ٹیبل پر نظریں جمائے جانے کیا کھوجنے لگی۔ احزاز نے بغور اس کا سراپا دیکھا پھر ٹیبل پردھرے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں کی پناہ میں لے لیا۔ مدیحہ کی جان پر بن آئی تھی، ایک تو احزاز کا یہ روپ، پھر پبلک پلیس۔

”مدھو! میں تمہیں شکریہ کہنا چاہتا ہوں۔ تم نے مجھے زندگی کی ایک نئی راہ دکھائی ، میں شاید اس حیات کے صحیح معنوں سے واقف ہی نہیں تھا اور کبھی ہو بھی نہ پاتا، اگر تم میری زندگی میں نہ آئی ہوتیں۔ میں بھی شاید مما کی پسند کی کسی لڑکی سے شادی کر لیتا، جو بے شک مما جیسی ہی ہوتی مگر ہمارے گھر کی وہ ہی روٹین تاعمر چلتی رہتی جو تمہارے آنے سے پہلے تھی۔ مدھو! تم میری زندگی میں بنا میری خوشی اور مرضی کے آئی تھیں اور یقین کرو کہ مجھے صرف تمہارا نام پتا تھا۔ اس کے علاوہ مجھے تمہارے بارے میں کچھ علم نہ تھا اور نہ ہی مجھے دلچسپی تھی۔ مجھے صرف اتنا پتا تھا کہ مما کہتی تھیں گاﺅں کے لوگ جاہل اور چھوٹی سوچ کے ہوتے ہیں اور تعلیم کے سخت خلاف۔ سو میرے ذہن میں یہ ہی تھا کہ تم بھی اَن پڑھ ہو گی حالانکہ حویلی کا ماحول دیکھ آیا تھا مگر مجھے لگا تم ہمارے گھر کے لیے قطعی نامناسب ہو۔ ہمارے ساتھ کبھی ایڈجسٹ نہیں کر سکتیں اور کم از کم ہم دونوں میں ہم آہنگی ہو ہی نہیں سکتی۔ مگر مدھو! میں غلط تھا۔ میں نے لاکھ تمہیں نظرانداز کیا مگر پھر بھی تم میری توجہ کا مرکز رہیں۔ تم نے دھیرے دھیرے میرے گھر، میرے کمرے اور پھر میرے دل میں ایسے جگہ بنائی کہ میں تمہارا عادی ہو گیا۔ ہاں مدھو! مجھے اعتراف ہے کہ تم میری ضرورت بن گئی تھیں۔ جب تم گاﺅں میں تھیں تو میں شدید تناﺅ کا شکار ہو رہا تھا، نہ کھانا اچھا بنتا اور نہ ہی میرے کام ٹھیک سے کوئی کر سکتا تھا۔ بس میں تم سے کہہ نہیں پایا کہ پلیز لوٹ آﺅ مدھو! تم نے مجھے جان لیا تھا، میری ہر خواہش ہر ضرورت اور ہر وہ بات جو میرے دل میں ہوتی تھی تم جان لیتی تھیں۔ میرے اندر کے انسان کو وہ ہی توجہ چاہیے تھی جو تم نے دی۔ ہاں میں آج تم سے اقرار کرتاہوں کہ تم نے مجھے مجھ سے چھین لیا ہے، تم میرے اندر بستی ہو، تم واحد ہستی ہو جس نے مجھے پیار کے معنی سکھائے۔ اپنی خاموشی، محنت اور لگن سے…. شکریہ مدھو! تھینک یو سو مچ!“ وہ بڑی سچائی سے اعتراف کر رہا تھا۔ جذبات سے بھرپور لہجے میں۔ اس نے مدھو کے ہاتھوں کو لبوں سے چھوا تو اس نے یک دم ہاتھ کھینچ لیے۔ ”تم کچھ نہیں کہو گی؟“ جواب میں مدھو نے صرف اسے دیکھا، لبالب پانی سے بھری آنکھیں…. احزاز شاہ چند لمحے دیکھتا رہا۔ ”میں جانتا ہوں تم مجھ سے خفا ہو، تمہارے اندر بہت گلے ہیں جو صرف میری ذات سے ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم کبھی بھی ان کا اظہار نہیں کرو گی؟“ مدیحہ نے بہت حیران نظروں سے اسے دیکھا۔ ”میں نے تمہاری تمام باتیں سن لی تھیں جو تم اس دن کشف کے روم میں بیٹھی اس سے شیئر کر رہی تھیں۔آئی ایم سوری، میں نے ارادتاً ایسا نہیں کیا تھا مگر جب میں نے تمہارے اندر کے وہم اور تمہارے شکوے جو تم کر رہی تھیں اور اپنا ذکر سنا تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی سنتا گیا…. تم نے بالکل غلط کہا تھا مدھو! کہ تم اپنے اور میرے رشتے کو کبھی مضبوط نہیں کر سکتیں۔ تمہیں اندازہ ہے کہ تم نے اس بندھن کو کس قدر محبت سے باندھ دیا ہے، مائی ڈئیر وائف! کہو تو کان پکڑ کر سوری کروں کہ میں نے تمہیں سمجھنے میں واقعی دیر کر دی یا شاید اظہار کرنے میں ٹائم لگا دیا۔ تمہیں پتا ہے مدیحہ! شاید میں اب بھی تمہاری محبت کو اندر ہی دبائے بیٹھا رہتا، مجھے اظہار کرنے کا ہنر نہیں آتا تھا مگر مما کی بات نے میرے جذبوں کو جیسے زبان دی تھی۔ جب انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں تم میں شامل ہو چکا ہوں اور تمہاری کمی مجھے محسوس ہوتی ہے تو میں یکدم پھٹ پڑا۔ اس دن میں نے مما کے سامنے وہ اقرار کر لیا جسے میں دل میں چھپائے پھرتا تھا۔ تب مجھے ہمت مل گئی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں جاﺅں گا، تمہیں لینے کیوں کہ تمہارے بنا میں واقعی نہیں جی سکتا۔“

”مجھے لگا کہ میں نے اپنی محنت اور سچی لگن سے آپ کو پا لیا تھا مگر جب میں نے آپ سے جانے کا کہا تو میرے دل کو امید سی تھی کہ شاید آپ مجھے روک لیں گے مگر وہ امید، امید ہی رہی۔ اگر آپ چاہتے تو میں کبھی نہ جاتی۔“ اس کے لب ہلے تو شکوہ ہی اترا تھا، وہ ہولے سے ہنس دیا۔

”شکریہ! تم نے کچھ کہا تو…. گلہ ہی سہی۔“ وہ ہولے سے ہنسا۔ ”تم میرے اندر سما گئی تھیں واقعی تمہیں روک سکتا تھا، کیونکہ تم میرے اندر عیاں نہیں تھیں۔ اسی لیے میںنے تمہیں نہیں روکا کیونکہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ میری یہ فیلنگز محض وقتی ہیں یا پھر تمہارے جانے کے بعد بھی تم یوں ہی میری روح میں بسی رہو گی۔ شاید میں خود کو آزمانا چاہتا تھا کہ میں تمہارے بن رہ پاﺅں گا یا نہیں اور تم جیت گئیں….“

”احزاز….!“ اس کے لبوں سے اپنا نام اسے بہت خوبصورت لگا تھا۔

”ہوں!“ وہ اب تک اس کی آواز کے سحر میں کھویا ہوا تھا۔

”آج میں بہت خوش ہوں، بہت خوش، کیونکہ تمہارے وسوسے دم توڑ گئے ہیں۔“

”ہاں مدیحہ! میں سمجھتا ہوں تمہیں ڈر تھا ناکہ کہیں ہماری بھی ساری زندگی مام اور ڈیڈ ی طرح نہ گزر جائے؟ لیکن نہیں، ہماری زندگی محبت و احساسات سے بھرپور ایک دوسرے پر مکمل اعتبار کے ساتھ گزرے گی کیونکہ مدھو! میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے بچے بھی…. ساری عمر اسی کشمکش کا شکار رہیں۔“ اس کے لفظوں نے مدیحہ کے چہرے کی رنگ گہری کر دی تھی اور احزاز شاہ کو اس کے اس روپ پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ ”تم بہت خوبصورت ہو مدیحہ احزاز! بہت پیاری…. آئی رئیلی لَو یو!“ محبت سے چُور لہجہ تھا اس کا۔ مدیحہ نے اسے گھورا مگر اس پر اثر نہیں تھا۔

”میں تم سے وعدہ کرتا ہوں مدیحہ کہ آج سے ہم اپنی زندگی کا خوشگوار آغاز کریں گے جس میں غلط فہمی اور گلے شکوے نہیں ہوں گے اور میں تمہیں اتنا پیار دوں گا کہ تم اپنے سارے دکھ بھول جاﺅ گی۔ بس مجھے اور میرے گھر کو ہمیشہ یوں ہی تھامے رہنا کیونکہ مجھے اور میرے گھر کو تمہاری عادت ہو گئی ہے اور میں اپنی یہ عادت عمر بھرنہیں بدلنا چاہتا۔“ اس کی دیوانگی پر وہ ہراساں تھی۔

”آﺅ آج سے ہم اپنے نئے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔“ اس نے مدیحہ کا ہاتھ تھاما اور ہوٹل سے باہر نکل آیا۔

ض……..ض……..ض

تمہاری یاد کے جگنو

وہ خاموشی سے اپنے کپڑے تہہ کر کے سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی۔ چہرہ کسی بھی قسم کے تا ¿ثر سے قطعی عاری تھا۔ اشعر نے اس کا بھرپور جائزہ لیا تھا پھر مضطرب ہاتھوں کو مسل ڈالا۔

”تم اکیلی چلی جاﺅ گی ناں ریحا؟“ اس نے کوئی دسویں بار یہ بات کہی تھی۔ اس بار وہ بنا کچھ کہے سر جھٹک گئی۔

”میں کیا کروں یار! بائی گاڈ اگر جاب کا پرابلم نہ ہوتا تو میں کبھی تمہیں اکیلے نہ جانے دیتا۔ آئی نو تم میرا مسئلہ انڈراسٹینڈ کر رہی ہو، بٹ ماموں اور ارشد بھائی خفا ہوں گے۔“ وہ خود ہی فکرمند ہوتا ہوا وضاحتیں دینے لگتا۔

”او مائی گاڈ! بلیو می، میرا تمہیں اکیلے بھیجنے کو قطعی دل نہیں چاہ رہا۔“

”تمہیں کوئی مشکل تو نہیں ہو گی ناں؟“

”اشعر میں فرسٹ ٹائم اس شہر میں نہیں جا رہی ہوں۔“ آخرکار اسے بولنا پڑا۔

”پھر بھی ڈئیر، ٹینشن تو ہے ناں مجھے۔“ اشعر بولا۔ اس کا دل چاہا کہہ دے کہ اشعر رضا، اس شہر کی گلیاں مجھے آج بھی ازبر ہیں مگر کہہ نہ سکی۔ اشعر شاید اس کی سوچ پڑھ گیا تھا تب ہی قدرے مسکرا کے اسے دیکھا جو پیکنگ مکمل کر کے سوٹ کیس بند کر رہی تھی۔ پھر قریب آ کر اس کے کندھوں پر مضبوط ہاتھ دھر دیے۔ ریحاب نے قدرے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔

”آئی نو، وہ شہر تمہارے لیے نیا نہیں ہے مگر یہ بھی مت بھولو مائی لائف کہ تمہیں چار سال ہو گئے ہیں وہاں سے آئے ہوئے۔ ظاہر ہے کچھ چینجز تو لگیں گے نا۔“ وہ قدرے مسکرا کے بولا تھا۔ ریحاب نے بغور اس کا چہرہ دیکھا جو اس کے اپنے چہرے سے قریب تر تھا۔

”میں نے زندگی کے بائیس سال گزارے ہیں اس شہر میں اشعر، وہاں کا کونا کونا مجھے یاد ہے۔“

”بات تو ساری میر دل کی ہے ناں جانو، جو تمہیں اکیلا بھیجنے پر راضی نہیں ہے۔ خیر میں ارشد بھائی کو فون کر دوں گا ، وہ تمہیں اسٹیشن سے لے لیں گے۔“ اشعر نے ہولے سے اس کی ٹھوڑی چھوتے ہوئے کہا۔ پھر اسے چھوڑ کر خود بیڈ پر گر گیا۔ گویا ریلیکس محسوس کر رہا ہو۔ ریحا نے گہری سانس خارج کی اور پھر اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گئی۔

”اشعر تم فون مت کرنا۔ میں سب کو سرپرائز دینا چاہتی ہوں۔“ چار سال میں پہلی بار اس کے لہجے میں پُرجوش سے جذبے اُبھرے تھے مگر صرف پل بھر کو۔ اشعر ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔

”سوری میری جان! ایسا ممکن نہیں، ہاں اگر ہم دونوں ساتھ ہوتے تو میں بخوشی تمہاری بات مان لیتا۔“

”بلیو می اشعر، میںاکیلے گھر جا سکتی ہوں۔“ اس نے اشعر کے کشادہ سینے پر پیشانی دھرتے ہوئے بے بسی سے کہا۔ اس لمحے اشعر کو ٹوٹ کر اس پر پیار آیا تھا۔

”یار مسز،تم کیوں ارشد بھائی سے میری پٹائی کراﺅ گی پلیز۔“ اس نے لجاجت سے کہتے ہوئے اس کے وجود کو بانہوں میں بھرا تھا۔ ریحاب گہری سانس لے کر رہ گئی تھی۔

”اوکے ایز یُو وِش۔“

”تھینک یو ڈئیر۔ خفا تو نہیں ہو ناں۔“ تب اس نے فقط سر ہلایاتھا۔

اشعر بھی خاموش ہو گیا۔ کبھی یہ لڑکی کتنی ضدی ہوا کرتی تھی مگر اب….!

ض……..ض……..ض

وہ کینٹ اسٹیشن پر اُتری تو ارشد بھائی کو ڈھونڈنے میں اسے قطعی وقت نہیں لگا۔ نیچے اُترتے ہی وہ مل گئے اور ریحاب ان کی بانہوں میں سماگئی۔

”کیسی ہے ہماری گڑیا۔“ اس نے مسکرا کر جواب میں فقط سر ہلایا تھا۔ لفظوں سے ناتا تو اس نے مروتاً ہی رکھا ہوا تھا، اس کا بس چلتا تو وہ بھی نہ رکھتی مگر بہرحال جیناتو تھا، سو لفظوں سے رشتہ رکھنا، اس کی مجبوری ہی سہی۔ وہ اسی خاموشی کے ساتھ ارشد بھائی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تھی حتیٰ کہ گھر کے کسی فرد تک کا نہ پوچھا تھا۔ بہت خاموشی سے سفر گزر رہا تھا لیکن صدر سے گزرتے ہوئے جانے اسے کیا یاد آیا کہ اس نے چونک کر ارشد بھائی کی طرف دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہے تھے اور یکدم مسکرا کر بولے تھے۔

”کھاﺅ گی آئس کریم۔“ اس نے نفی میں سر ہلا دیا اور ونڈو سے باہر دیکھنے لگی۔ آنکھوں میں پانی آ گیا تھا۔ ہر منظر دھندلا، دھندلا نظر آنے لگا۔

چار سال صرف اسی لیے اس نے یہاں کا رُخ نہیں کیا تھا کہ پرانی یادیں زخم بن کر پھر سے اُبھر آئیں گی اور وہی ہوا۔

اس شہرِ بے مثال میں داخل ہوتے ہی اس راستے سے گزرتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ ان راستوں کا سفر وہ دن میں ایک بار ضرور کرتی تھی۔ اس کی رگوں میں خون کی طرح یہ راستے، یہ گلیاں رچی بسی تھیں۔ اس شہر نے اسے سب کچھ دیا تھا اور پھر اسی شہر نے اس کا سب کچھ چھین بھی لیا تھا۔

اپنے علاقے میں قدم رکھتے ہی اس کے کانوں میں آوازوں کی بازگشت گونجنے لگی۔ کسی کے قہقہے، شوخیاں، روٹھنا، گانا، منانا، لڑنا، ہر ہر آواز اس کے قدم جکڑنے لگی تھی۔

ارشد بھائی جیسے اس کی کیفیت جانتے تھے، اسی لیے اس کا ہاتھ تھام کر تسلی دی۔

گھر میں جیسے سب ہی بے تاب تھے، اسے دیکھنے کو۔ امی، بابا، سحاب، سحرش، بھابی اور طلال سب نے جی بھر کے اسے پیار کیا لیکن اس کا وجود کسی پتھر کی مانند ساکت تھا۔

”سچ مجھے تو رات بھر نیند نہیں آئی جب سے اشعر نے فون کر کے بتایا کہ تم یہاں آ رہی ہو۔“ سحاب کی بے قراری پر اس نے مسکرا کے ساتھ دیا۔

بابا کتنی دیر تک اسے سینے سے لگائے رہے۔

”میں ابھی طیب اور کاشف کو بلا کر لاتا ہوں۔“ طلال نے فوراً ہی باہر کا رُخ کیا۔ ریحا کی آنکھیں دروازے میں گڑھ سی گئیں۔ ”طیب…. کاشف اور….“ اس کا سر یکدم بری طرح چکرایا۔

”اوہو اتنا لمبا سفر کیا ہے، بھئی اسے بیٹھنے تو دو۔“ اس کو تھامتے ہوئے امی بولیں۔ گھر کا ہر ہر فرد اس کی کیفیت جانتا تھا مگر کیا کرتے۔ ریحاب نے خود کو صوفے پر گرتے ہی ڈھیلا چھوڑ دیا۔

”اشعر تو ٹھیک ہے ناں بچے۔“

”جی امی، وہ معذرت کر رہے تھے کہ آ نہ سکے۔“ یہ پہلا جملہ تھا جو گھر آنے کے بعد اس نے ادا کیا تھا۔

”انس اور ثوبان آنے والے ہیں اسکول سے۔ تمہارا سناتو چھٹی کے موڈ میں تھے، زبردستی بھیجا تھا۔“ بھابی نے بتایا۔ بھتیجوں کا ذکر اس کے چہرے پر اطمینان بھر گیا تھا۔

”تم فریش ہو جاﺅ، میں ناشتہ لاتی ہوں۔“ بھابی کے کہنے پر وہ وہاں سے اٹھ گئی۔

ض……..ض……..ض

وہ لیٹی تو کچھ دیر کے لیے ہی تھی مگر جب آنکھ کھلی تو سورج الوداع کہہ رہا تھا۔ وہ ہاتھ منہ دھو کر باہر آ گئی۔ بھابی اور سحاب شاید کچن میں تھیں۔ طلال اور مہوش ٹی وی کے سامنے بیٹھے تھے۔ طلال ٹی وی کمرشلز پر ریمارکس دے رہا تھا اور مہوش اس سے ایگری نہیں تھی۔ وہ بھی وہیں صوفے پر بیٹھ گئی۔

”دیکھو ناں ریحا یہ طلال صرف ہر چیز میں خامیاں ڈھونڈتا ہے۔ اسے کبھی پاکستانی چینلز میں کوئی خوبی نہیں ملتی۔“

”تو غلط کہتا ہوں کیا؟ اچھا ریحا تم اس ایڈ میں مجھے بتاﺅ۔ کچھ بھی سمجھ آیا ہے، سراسر بکواس۔ پتا نہیں ہم لوگ کب اچھا کام کریں گے۔ یہ ملک کبھی آگے نہیں جا سکتا۔ نیور!“ یہ شاید طلال کی حتمی رائے تھی۔ کیونکہ وہ تو سدا سے ہی پاکستان کی ہر چیز پر تنقید کرتا تھا لیکن اس کے کانوں میں تو کسی اور کے الفاظ گونج رہے تھے۔

”یہ ملک ترقی پذیر ہی اس لیے ہے کہ یہاں کے لوگ اس کی ترقی میں حصہ لینے کے بجائے بیٹھ کر صرف تنقید کرنا جانتے ہیں۔ اگر ان لوگوں کی نیت صاف ہو اور وہ اس کی تعمیر میں عملی حصہ لیں تو یہ ملک ترقی پذیر نہیں بلکہ ترقی یافتہ کہلائے گا۔“ کتنی پوزیٹو سوچ رکھتا تھا وہ اور طلال نے کتنے سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ وہ بحث کرنا چاہتی تھی مگر لفظوں نے تو اس سے لڑائی برسوں پہلے کر لی تھی، سو وہ صرف سوچ کر رہ گئی۔

سحاب نے سب کو چائے دی۔ وہ خاموشی سے چائے انجوائے کرنے لگی۔ تب ہی اشعر کی کال آ گئی۔

”کیسی ہو ڈئیر۔“

”فائن…. تم کیسے ہو؟“

”تم بہت یاد آ رہی ہو۔“ وہ قدرے اداس لہجے میں بولا لیکن اس کا چہرہ احساسات سے خالی رہا تھا، بنا کسی تاثر کے۔ ”سفر ٹھیک سے گزرا؟“

”ہوں۔“ اس کے لب ہلے۔

”وہاںجا کر بھی اُداس ہو۔“ کتنا عجیب بے معنی سوال تھا۔

”میرے لیے یہاں بچا ہی کیاہے۔“ وہ شاید بھول گئی تھی کہ اس کے پاس سب کچھ ہے، ہر رشتہ ہے مگر اس نے تو صرف ایک شخص پر ہی دنیا ختم کر دی تھی ناں۔

”تمہارے لیے تو میں بھی بے معنی ہوں۔“ اشعر کی سنجیدہ آواز اُبھری۔ وہ کبھی اشعر کو جھوٹی تسلی تک نہ دے پائی تھی سو اب کیا کہتی۔ اشعر نے تمام حقیقت سمیت خود اپنی مرضی سے اسے اپنایا تھا۔ وہ تو صرف اسے اپنے فیصلے کی سزا دے رہی تھی شاید۔ چار سالوں میں پیار تو دور، وہ دل سے ایک مسکراہٹ تک اسے نہ دے سکی تھی۔

”تم آفس سے آ گئے۔“ اس سے اس سوال سے زیادہ کی امید رکھنا بے سود تھا۔ وہ گہری سانس لے کر رہ گیا۔

”ہوں اوکے ڈئیر ٹیک کیئر، اللہ حافظ۔“ بسا اوقات اشعر بہت دلبرداشتہ ہو جاتا تھا جیسے اب۔“ اور اس نے مزید کچھ کہے بغیر لائن کاٹ دی اور وہ سیل ہاتھ میں تھامے گھورنے لگی۔

سحاب اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ وہ ریحاب کو سمجھانا چاہتی تھی کہ ایسا کب تک چلے گا۔ اشعر کی خطا کیا تھی۔ اس نے تو تمہیں زندگی کی طرف واپس لانے کے لیے یہ فیصلہ کیا تھا اور تم…. جس کو جانا تھا وہ چلا گیا، وہ اب نہیں ہے۔ وہ کبھی آ بھی نہیں سکتا۔ پھر کیوں یہ حقیقت قبول نہیں کر لیتیں، مگر اس نے فی الوقت ریحا سے کچھ بھی نہیں کہا۔

”ریحا! شام میں پھوپو کی طرف چلیں گے،بہت یاد کرتی ہیں تمہیں۔“ سحاب بولی تو وہ چونکی۔

”ہوں…. اوکے۔“ اتنا کہہ کر وہ وہاں سے اٹھی اور بھابی کے پاس کچن میں آ گئی۔

ض……..ض……..ض

رات کے کھانے پر واک کے لیے جانا اس گھر کی پرانی ریت تھی۔ اس وقت بھی سب تیار تھے۔وہ بھی ان کے ساتھ تھی۔

محلے کے پارک میں اس وقت اکثر لوگ ٹہلنے آتے تھے۔ یہ پل وہ لوگ ہمیشہ اچھی طرح انجوائے کرتے تھے۔ اس وقت بھی ان سب کے ساتھ چلتے ہوئے وہ پرانی ہی یادوں میںکھوئی ہوئی تھی۔ ایک ایک قدم اٹھاتے ہوئے اسے کسی کی آہٹ، ہزاروں شوخیاں، بے ساختہ ہنسی، ساری شرارتیں، مڑمڑ کے صدائیں دے رہی تھیں۔ وہ پلٹ کر دیکھتی تو کچھ بھی نہیں ہوتا تھا اور پارک تک پہنچتے پہنچتے وہ بالکل ہی ہار گئی تھی۔ اس سے مزیدایک قدم بھی اٹھانا مشکل ہو گیا تھا۔ وہ بری طرح ہانپنے لگی۔

طلال کے ہاتھ میں تھما اس کا ہاتھ سرد پڑنے لگا۔

”تم ٹھیک تو ہو ریحا آپی۔“ طلال چلتے چلتے رک گیا۔

”بس طلال میں تھک گئی۔“ اس کی نظروں کے عین سامنے وہی بینچ تھا، جس پر بیٹھ کر وہ دن بھر کی باتیں شیئر کرتے تھے۔

”اوکے ریلیکس، تم بیٹھ جاﺅ۔“ اس نے ریحاب کو بٹھایا تو آگے چلنے والے بھی رک گئے۔

”کیاہوا؟“

”ریحا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے بس یہیں چہل قدمی کر لیتے ہیں، پھوپو کی طرف کل چلیں گے۔“ طلال کے کہنے پر سب خاموش ہو گئے اور چہل قدمی کرنے لگے۔

”طلال تم بھی واک کر لو میں یہیں بیٹھی ہوں۔“

”اوکے۔“ وہ اس کا ہاتھ تھپک کر اٹھ گیا۔

ریحا نے بے حد تھکن کے احسااس سے سر بینچ کی پشت پر دھر دیا اور آنکھیں موند لیں۔ کتنے ہی منظر اس کے سامنے رقص کرنے لگے تھے۔

”بہت ستاتی ہو تم، کہاں تھیں اتنے دن سے۔“ قریب سے کوئی سرگوشی اُبھری۔ اس نے تڑپ کر آنکھیں کھول دیں۔ لیکن سامنے کچھ بھی تو نہ تھا سوائے ہوا میں بکھری اِک مانوس سی خوشبو کے۔ تب اس سے برداشت نہ ہوا اور سیال مادہ آنکھوں سے بہنے لگا۔

ض……..ض……..ض

پھوپو سے مل کر وہ بالکل ہی بکھر گئی۔ انہیں دیکھ کر اندازہ ہوا تھا کہ ان کا نقصان کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ طیب اور کاشف کی محبتیں،اپنی جگہ مگر وہ شخص جو خلا چھوڑ گیا ہے، وہ کبھی نہیں بھر سکتا۔ پھوپو تو کبھی بھی اسے نہیں بھول سکتیں۔

”کیا حال بنا لیا ہے آپ نے پھوپو۔ خوش رہا کریں۔“

”میرے بچے میں کیا کروں۔ دل کو جیسے ایک روگ لگ گیا ہے۔ کسی خوشی میں اب خوشی نظر ہی نہیں آتی۔“ انہو ںنے آنکھوں کے گوشے صاف کرتے ہوئے کہا۔

”روگ تو لگ گیا ہے پھوپو مگر جینا بھی ہے۔“

”ریحا مجھے تو چھوڑو تم اپنی حالت دیکھو۔ بچے تمہارے آگے ساری زندگی پڑی ہے۔ وہ اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ تم زندگی کو کیوں گنوا رہی ہو۔ ماضی بھول کر اپنا آنے والا کل سنوارو۔“

”پھوپو! وہ ماضی نہیں، میرا سب کچھ تھا۔ میرا حال، میرا مستقبل….“

”ہاں! اگر وہ ہوتا تو، مگر اب وہ نہیں ہے تو وہ تمہارا صرف ماضی ہے۔ تمہارا حال، تمہارا مستقبل اشعر ہے ریحا۔“ طیب نے زبان کھولی۔ حالانکہ اسے کچھ کہنے سے سب ڈرتے تھے کہ طالب کے بعد ایک سال اس نے زندگی اور موت کی کشمکش میں گزارا تھا۔ یوں جیسے وہ سانس لیتی تھی مگر ایک بُت کی مانند اور جب اس نے ہولے ہولے خود کو سنبھالا تو سب نے اس کے سامنے طالب کا نام تک لینا چھوڑ دیاتھا۔ وہ سب کو عزیز تھا۔ اس کے جانے کا دکھ ہر ایک فرد کو تھا مگر صرف اس لیے کہ وہ بمشکل دھیرے دھیرے جینے کی طرف لوٹ رہی ہے تو سب چاہتے تھے وہ پھر سے زندگی سے منہ نہ موڑے مگر وہ سننا، بولنا سب بھول گئی تھی۔

اشعر نے اس سے شادی کا فیصلہ کیا تھا۔ ایک تو وہ اسے چاہتا تھا دوسرا اس لیے کہ شاید وہ سنبھل جائے مگر چار سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اب وہ لوٹی تو ویسی ہی تھی۔ ذرا بھی تو بدلاﺅ نہیں آیا تھا ا س میں۔

”میں نے سب سے کہا تھا کہ یہ فیصلہ مت کریں۔ وہ کبھی میری زندگی، میری روح سے علیحدہ نہیں ہو سکتا مگر نہ اشعر نے میری بات مانی اور نہ آپ سب نے۔ پھر اب مجھے مجبور مت کریں۔ میں نے اپنی ذات اس کے نام پر ختم کرنی ہے اور بس۔“

”ریحا تم….“

”طیب پلیز۔ مجھ سے مزید بحث مت کرو تم….“ وہ شاید آگے کچھ بھی بول نہیں پا رہی تھی تب ہی لب بھینچ گئی تھی۔

ض……..ض……..ض

پھوپو کے گھر سے آنے کے بعد تو وہ بالکل ہی بکھر گئی تھی۔ یوں لگا چار سال درمیان سے کہیں چلے گئے ہوں۔ آنکھیں بند کیں تو سامنے وہی مسکراتا، چمکتی آنکھوں سے سے اسے دیکھتا کھڑا تھا۔ تب وہ اپنے آپ کو نہ روک پائی۔ اور ماضی کے دریچے کھل بیٹھی۔

لاگی تم سے من کی لگن

لگن، لاگی تم سے من کی لگن….!!

گلی گلی گھومے

دل تجھے ڈھونڈے!!

طالب بے حدسُر میں راحت فتح علی خان کا سونگ گا رہا تھا، جب طیب نے آ کر اس کا سر ٹھونک دیا۔ کئی لمحے آنکھوں کے آگے اندھیرا رہا پھر کچھ حواس بحال ہوئے تو اس نے طیب کو گھورا۔

”میرا سُر تھا یہ جاہل آدمی، جسے تم نے کرکٹ بال سمجھ کر اُڑا دیا۔“ طالب کے چودہ طبق روشن ہو گئے تھے۔

”سوری ڈئیر برادر مگر آپ کی مستقبل قریب کی نصف بہتر کا یہی حکم تھا۔“ طیب ادب سے جھک کر کورنش بجا لایا تو طالب کا دل چاہا اسے بغیر بھونے ہی کھا جائے۔

”وہ نصف بہتر یا نصف بدتر اس سے تو میں ابھی جا کے پوچھ لیتا ہوں مگر تجھے شرم نہیں آئی، اپنے سے تین سال بڑے بھائی پر ہاتھ اٹھاتے ہوئے۔ ڈوب کے نہیں مرے تم کسی مین ہول میں۔“ وہ بکتا جھکتا طیب کو حسب توقع نوازتا باہر نکلا تھا اور سارے راستے جھلاتا، وہ ماموں کی طرف پہنچا تو وہاں لاﺅنج میں بھی سوگوار ماحول منتظر ملا۔ آنسو بہاتی منہ بسورتی اس کی نصف بہتر یعنی محترمہ ریحاب ضیاءبیٹھی تھیں اور اس کی دونوں طرف مایوسی اور دکھ سے کچھ سوچتے، افسوس سے سر ہلاتے طلال اور بھابی بیٹھے تھے۔ سحاب اور مہوش قدرے لاپروائی سے اپنا ہوم ورک کر رہی تھیں۔

طالب بھی عین اس کے سامنے آ بیٹھا اور ہاتھ کے اشارے سے کچھ جاننے کی سعی کی تو وہ رُخ پھیر گئی۔

”اللہ رے یہ ناراضگی۔ وجہ تو معلوم ہو کچھ۔“ وہ جو سارے راستے جھلاتا آیا تھا، اس کی صورت دیکھ کر سب بھول گیا مگر ریحا نے اسے قطعی لفٹ نہیں کرائی۔ مجبوراً اسے اپنے سات سُروں کو یاد کرنا پڑا۔

”دل تو میرا ہے تیرا

جان میری ہے تیری

پھر کیوں ناراض ہے

پھر کیو ںناراض ہے؟

تبلے، گٹار، ڈرم سارے انسٹرومنٹس کی جگہ ٹیبل بجاتے ہوئے وہ اسٹارٹ لے چکا تھا۔ ریحا نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔

”تم ناراض ہو

میرے کتنے پاس ہو

نازک نازک سی پیاری پیاری سی

میرے جینے کی آس ہو

وہ باقاعدہ کچن سے تھالی اٹھا لایا تھا۔ طلال تالیاں پیٹتے ہوئے اس کا ساتھ دے رہا تھا۔ ریحاب نے سر تھام لیا۔

”اسٹاپ اِٹ! تم سے کس گدھے نے کہہ دیا کہ میں خفا ہوں۔“

”پھر یہ خوبصورت چہرہ اس قدر پھولا ہوا کیوں ہے؟“ اس نے ترنگ میں پوچھا تو جواباً اس کی آنکھیں بھرآئیں۔

”سارا قصور تمہارا ہے۔ صرف تمہارا۔“ اس نے جرم بتائے بنا ہی اسے مجرم قرار دے دیا جس پر وہ تڑپ گیاتھا۔

”آخر کس چیز میں میرا قصور ہے منہ سے تو پھوٹو؟ یار طلال تم ہی بتا دو کیا مسئلہ ہے؟“ اس نے براہِ راست طلال کو مخاطب کیا جو کب سے منتظر تھا کہ ابوطالب اس سے پوچھے اور وہ اسٹارٹ لے۔

”میری بہن اور آپ کی کزن یعنی ریحاب ضیاءایک بار پھر اکنامکس کے پیپر میں اٹک گئی ہیں۔“ طلال بہت مزیدار انداز میں بتانا چاہا تھا مگر طالب کی کشادہ پیشانی پر کتنے ہی بل نمایاں ہو گئے۔

”واٹ؟ ستیاناس، تم میری ناک کٹوا کر ہی خوش ہوتی ہے۔ بھلا اتنے ایزی سبجیکٹ میں رہ جانے کی تُک بنتی ہے؟“

”ایزی…. طالب اتنا بکواس منحوس سبجیکٹ ہے جسے تم ایزی کہہ کر میری انسلٹ کر رہے ہو۔ میرا بس چلتا تو اس منحوس آدمی کو اپنے ہاتھوں مارتی جس نے یہ نحوست پھیلائی مگر اس نے صبر ہی نہیں کیا، پہلے ہی مر گیا۔“ ریحا نے دل کی بھڑاس نکالی۔

”شرم کرو۔ دنیا انہیں بابائے اکنامکس کہتی ہے۔ جانے کس گدھے نے تمہیں ایڈوائز کی تھی، اکنامکس رکھنے کی۔ کیا کہیں گے لوگ کہ اکنامکس کے پروفیسر کی زوجہ محترمہ اکنامکس میں دو بار سپلی دے چکی ہیں۔ کیا عزت رہ جائے گی میری۔“ طالب اچھا خاصا تپ گیا۔ اکنامکس اس کا فیورٹ سبجیکٹ تھا اور ریحا کو سدا سے ہی خدا واسطے کا بیر رہا تھا اس مضمون سے۔ اس کی تقریر پر ریحا کو غصہ آ گیا۔

”تم نے ہی زبردستی مجھے اکنامکس دلائی تھی، ورنہ میں تو دس دفعہ لعنت بھیج کر سائیکولوجی لے رہی تھی۔“ لمحہ بھر کو وہ گڑبڑایا تھا، اپنے آپ کو گدھا کہنے پر پھر قدرے ڈھٹائی سے اسے گھورا۔

”میں کراﺅں گا اس بار تمہاری تیاری، بس۔“

”ہرگز نہیں۔“ وہ بری طرح اچھل پڑی۔ ”تمہارا خیال ہے کہ میں ایک بار پھر اس ڈل اور بور مضمون کو پڑھوں۔ سوری ڈیئر ابوطالب! اب ایسا ممکن نہیں۔ بے شک میرا گریجویشن اِن کمپلیٹ رہ جائے۔“ اس نے صاف الفاظ میں منع کیا تھامگر وہ بھی ابوطالب تھا۔

”تمہارے تو ابا حضور بھی پڑھیں گے، تم کیا چیز ہو۔“

”بصد شوق اگر بابا نے دوبارہ پڑھنے کا ارادہ کیا تو……..“ ریحا نے دانتوں کی نمائش کی تو وہ بری طرح سلگ گیا۔

”تم جانتی ہو ناں ریحا تمہیں اکنامکس ہر حال میں کلیئر کرنی ہے۔ بی کوز تم نے ماسٹرز کرنا ہے اکنامکس ہیں۔“

”بھابی۔“ وہ بری طرح تڑپ کر بھابی سے لپٹ گئی۔ ”یہ ظلم ہے اور کچھ نہیں ابوطالب۔ تم مجھے جان سے مار دو مگر میں دوبارہ معاشیات کی کتاب دیکھوں گی بھی نہیں۔“

”جسٹ شٹ اَپ ریحا! احمق مت بنو۔“ وہ چیخا۔

”تم مجھے خاصا احمق پہلے ہی بنا چکے ہو، سو اتنا ہی بہت ہے، اب مزید نہیں۔“

”پھر کہتے ہیں ملک ترقی نہیں کرتا، ارے جس ملک میں تم جیسے نکمے اور تعلیم سے بھاگنے والے لوگ موجود ہوں گے، وہ خاک آگے بڑھے گا۔ کسی ملک کی ترقی میں اس ملک کی معاشیات اہم کردار ادا کرتی ہے اور….“

”اچھا بس۔“ ریحا نے ہاتھ جوڑے۔ ”ایڈم اسمتھ بننے کی کوشش مت کرو، میں بابا سے کہہ دوں گی کہ مجھے آگے نہیں پڑھنا اور اگر تمہیں اتنی ایجوکیشن کے ساتھ مجھ سے شادی پر اعتراض ہے تو کسی اکنامکس کی لیکچرار کے ساتھ بیاہ رچا لینا، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“

”آئی وِل کل یُو ریحا۔“ اتنا شدید دماغ اُبلا تھا کہ وہ ضرور ایک آدھا اسے لگا دیتا اگر وہ بھابی کی آغوش میں نہ دبکی ہوتی۔ یقینا اب ان کی لڑائی سنجیدہ ہو چکی تھی تب ہی طلال نے مداخلت ضرور سمجھی تاکہ طالب کا موڈمزیدنہ بگڑے۔

”چل دفع کر ناں یار، اچھا ہی ہے۔ زیادہ پڑھی لکھی بیوی بھی سر کھاتی ہے اور ریحا تو ویسے ہی ماشاءاللہ تمہیں بیچ کر کھاجائے گی۔ ایم اے کر لیا تو سب سے پہلے تمہاری معاشیات کا بیڑہ غرق کرے گی۔“

”عورت ے لیے تعلیم بہت ضروری ہوتی ہے طلال کیونکہ اس نے آنے والی نسل کی تربیت کرنی ہے اور ایک باشعور، پڑھی لکھی عورت ہی ہماری نسل کو بہتر پروان چڑھا سکتی ہے۔ اس ملک کو، ایسی نسل ہی چاہیے۔ دنیا میں آگے، بہت آگے جانے کے لیے۔“ اس نے نئی بحث کا آغاز کر دیا جس پر ریحاب دانت کچکچا کر رہ گئی۔

”طالب پلیز بس کر دو۔“

”شٹ اَپ ریحاب اور پلیز تم مجھ سے بات نہ کرو تو بہت اچھا ہے۔“ وہ یقینا بہت سنجیدہ تھا۔ ریحا جانتی تھی کہ اس کی تعلیم کے لیے وہ بہت کریزی تھا۔ بلکہ وہ تو ہر انسان کی تعلیم کے لیے یوں ہی پاگل تھا۔ یہاں تو پھر سوال اس کا تھا، جس سے اس کا مستقبل وابستہ تھا،اس کی آنے والی نسل کا مستقبل وابستہ تھا۔ اس کے لیے وہ کبھی کمپرومائز کر ہی نہیں سکتا تھا، کبھی نہیں۔

”کاش تم میرا پیپر دے سکتے۔“ وہ اس کی خفگی سہہ نہیں سکتی تھی اس لیے مریل اندازمیںبولی تو طالب بھی نرم پڑگیا۔

”پیپر نہیں دے سکتا لیکن تیاری تو کرا سکتا ہوں، تمہیں پڑھا تو سکتا ہوں۔ دیکھو ریحا، تم دل سے معاشیات پڑھو اور تمہارے اندر جو اس سبجیکٹ کو لے کر چڑ ہے اسے نکال دو۔ آئی بلیو، تم ضرور کلیئر کرو گی۔“ وہ غصہ بھول کر اسے سمجھانے لگا۔

بات تو ریحا کو ہر حال میں اس کی ماننی تھی کیونکہ ایجوکیشن کے معاملے میں بابا بھی اپنے بھانجے کی طرح سخت تھے سو مرتی کیا نہ کرتی، اسے ماننا تو بہرحال تھا۔

”اوکے مگر ایک شرط ہے تم مجھے ابھی آئس کریم کھلا کر لاﺅ گے۔“

”جان بھی مانگو گی تو مان لوں گا مگر….“

”ماسٹرز کرنا ہے۔“ ریحا نے اس کی بات مکمل کی۔

”ڈیٹس رائٹ اے گڈ گرل! چلو چلتے ہیں۔“

”امی سے پوچھ لو۔ پیپر رہ جانے پر Punish ملی ہے مجھے۔ باہر کہیں بھی جانا بند۔“ ریحا نے منہ بسورا تو وہ مامی کے پاس کچن میں چلا آیا اور ہاتھ پکڑ کر انہیں باہر لاﺅنج میں لے آیا۔

”مامی میرا وعدہ ہے آپ سے کہ اس بار یہ معاشیات میں کلیئر ہو گی۔ میں ذمہ داری لیتاہوں مگر آپ اتنی ظالم تو نہ بنیں۔ کیوں آپ نے اتنی نازک سی لڑکی کو باندھ کر رکھا ہے۔ جانے دیں ناں ہمیں۔“

”کہاں؟“

”آئس کریم کھانے۔“

”طالب تم نے ہی بگاڑا ہے اسے اتنی فیور لے کر۔“ وہ بگڑیں۔

”بھگتنا بھی تو مجھے ہی ہے ناں، ڈیئر مامی۔ یُو ڈونٹ وری۔ اس لڑکی کو اب میں سیدھا کروں گا۔ بس آج جانے دیں۔“

”اچھا مگر آدھے گھنٹے کے لیے۔“

”مامی خود انصاف کریں۔ آپ کی دختر آئس کریم بھی صدر کی پسند فرماتی ہیں اگر میں تیز بائیک بھی چلاﺅں تو بیس منٹ لگ جائیں گے اور….“

”بس بس تقریر نہیں، صرف ایک گھنٹہ، مزید ایک منٹ بھی نہیں۔“

وہ جانتی تھیں کہ اس نے پورا ٹائٹ ٹیبل گنوا دینا تھا سو فوراً ہی بول پڑیں۔

”یا،ہُو! مائی سویٹ مامی! آپ اتنی اچھی ہیں تب ہی تو ماموں اتنا چاہتے ہیں آپ کو۔ بلیو می، ایک گھنٹہ سے زیادہ نہیں۔“ اس نے انہیں گھورا تھا۔

”تمہیں ذرا شرم نہیں ہے طالب، ہٹو پرے۔“ وہ خود کو چھڑا کر چلی گئیں۔

”میر لیے لانا مت بھولنا۔“ طلال نے آرڈر دیا۔

”تیری بیگم کے باپ کا مال ہے ناں میری جیب میں، جو لٹاتا پھروں۔“ کورا جواب دے کر وہ باہر نکل گیا، طلال ناک منہ بنا کے رہ گیا۔

ض……..ض……..ض

اس نے کالج کے کھلے گیٹ کے باہر قدم رکھا ہی تھا جب پسینے سے شرابور بائیک سے ٹیک لگائے وہ کھڑا نظر آیا۔ شاید اس کی نظر بھی ریحا پر پڑ گئی تھی تب ہی وہ بائیک اسٹارٹ کرنے لگا۔

”حد ہو گئی پورے پچیس منٹ ہو گئے مجھے یہاں ذلیل ہوتے ہوئے اور محترمہ اب تشریف لا رہی ہیں۔ اندازہ ہے تمہیں مئی کا مہینہ چل رہا ہے۔ کس قدر گرمی ہوتی ہے اس وقت۔“ وہ تقریر شروع کر چکا تھا ریحاب نے اکتائے ہوئے انداز میںاسے دیکھا پھر چہرے پر آیا پسینہ صاف کرتی بائیک پر ٹک گئی۔

”تمہاری تقریر کا دورانیہ بھی چند منٹ پر محیط ہو چکا ہے۔ اب تمہیں گرمی نہیں لگ رہی۔“ اس کے اطمینان پر طالب نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا اور بائیک اسٹارٹ کر دی اور ان کے گھر کے عین سامنے لا کر ہی بریک ماری۔

”اترو، مرو اب۔“

”اور تم اتنی گرمی اور خراب حالت میں گھر جاﺅ گے۔ چلو اندر۔ کچھ دماغ ٹھنڈا کر لو پھر جانا۔“ ریحا ب ضیاءسے مزید بحث کرنے کے بجائے وہ اُتر کر اس کے ساتھ آ گیا۔

”اُف توبہ یار۔ اتنی گرمی۔“ اندر آتے ہی وہ طلال کی گود میں گر گیا جو خود بھی ابھی کالج سے لوٹا تھا۔ اس کی اپنی حالت بھی بدتر تھی۔

”تو میرے گلے کا ہار مت بن۔ مارے گا کیا مجھے۔“

”میں تمہارے لیے لیموں پانی لاتی ہوں، تم اپنی پسینہ خشک کرو۔“ بھابی نے اسے پسینے سے نہاتے دیکھ کر کہا۔

”یار تم اٹھ کر نہا لو۔“ طلال نے کہا۔

”نہا تو گیا ہوں پورے کا پورا۔“

”صاف پانی کا غسل لے لو، ورنہ ہم سب مر جائیں گے۔“ اس نے ناک پکڑی۔

”دماغ تو ٹھنڈا ہونے دو۔“ وہ پنکھے کے عین نیچے آ بیٹھا۔ سر درد سے ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔

”آئی ایم سوری طالب! میری وجہ سے تمہیں اتنی گرمی میں آنا پڑا۔“ وہ فریش ہو کر آئی تو طالب کو اپنا سر پکڑتے پا کر بولی۔

”اٹس او کے یار۔“ کتنی افسوس کی بات تھی کہ وہ اکثر اس کے ساتھ زیادتی کر جاتی تھی مگر مجال تھا جو وہ برا مانتا ہو ی اکبھی غصے میں آتا ہو۔

”کبھی کبھی میں بہت سیلفش ہوجاتی ہوں حالانکہ میں خود سے آ سکتی تھی مگر پھر بھی جان بوجھ کرتمہیں پریشان کیا۔“

’کم آن ریحا، کس طرح بی ہیو کر رہی ہو تم۔ اگر ہم ایک دوسرے کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتے تو کیا فائدہ اس رشتے کا جو ہم میں ہے۔ تم میری کزن ہو، فرینڈ ہو یار، اتنا تو میں تمہارے لیے کر ہی سکتا ہوں ناں اور پھر انسانیت کے ناطے ایک دوسرے کے کام آنا ہمارا فرض ہے۔“

”اور اب جو تمہارے سر میں درد ہے وہ….“

”وہ تو گرمی سے ہے اور یُو نو گرمی کے موسم میں یہ درد تو مجھے رہتا ہی ہے۔ لیکن اس کی ذمہ دار تم تو نہیں ہو۔ میں گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ میری کمزوری ہے۔“

”ہاں لیکن میں جانتی تھی کہ گرمی سے تمہاری طبیعت اکثر خراب ہو جاتی ہے پھر بھی ضد کی۔“

”آج خیر ہے ناں، بڑی ہمدردی ہو رہی ہے تمہیں مجھ سے۔“ اب اس کے لبوں پر شریر سی مسکراہٹ تھی۔

”کیوں صرف تمہیں ہی میرا خیال ہے۔ میں تمہارے لیے نہیں سوچ سکتی۔“

”آف کورس، صرف تم ہی میرے لیے سوچ سکتی ہو اور سوچو، کیونکہ میں گھر جا رہا ہوں۔“ یکدم ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

”کھانا کھا کر چلے جانا۔“

”اوں ہوں، امی ویٹ کر رہی ہوں گی۔ اوکے گڈ بائے۔“

”بائے اینڈ تھینک یُو۔“ طالب نے مسکرا کے اسے دیکھا اور ہاتھ ہلاتا باہر نکل گیا۔

وہ اس کا پھوپی زاد تھا۔ یوں تو وہ خاندان کے ہر فرد کا ہی خیال رکھتا تھا کیونکہ اوپر والے نے اس کے اندر رحم، ہمدردی جیسے جذبات کوٹ وٹ کر بھرے تھے مگر ریحاب ضیاءکی ہر بات وہ حکم کی طرح مانتا تھا۔ یہ بات کسی سے قطعی چھپی ہوئی نہیں تھی۔ سب بخوبی جانتے تھے اور وہ چھپانے کا قائل تھا بھی نہیں، تب ہی تو جب اس نے محسوس کیا ریحاب ضیاءاس کے لیے کزن اور دوست دونوں سے بڑھ کر کچھ اور ہے تو اس نے دیر نہیں کی تھی امی سے کہنے میں اور ضیاءاحمد کا تو وہ چہیتا بھانجا تھا۔ وہ کیسے منع کرتے…. یوں سادگی سے ان کی منگنی کی رسم ادا کر دی گئی۔

ریحا کو وہ ہر لحاظ سے پسند تھا کیونکہ ابوطالب میں واقعی ایک اچھا انسان ہونے کی تمام خوبیاں موجود تھیں۔ ہاں بعض عادتیں ریحا کو اس کی خوبی سے زیادہ بیماری لگتی تھیں، جیسے ہر شخص کے لیے ضرورت سے زیادہ فکر کرنا اور اس کی ایمانداری، جس پر وہ ایک لفظ سننا برداشت نہیں کرتا تھا مگر ریحاب بھی عادت سے مجبور تھی۔ جب تک اسے ٹوک نہ لیتی اسے بھی سکون نہیں ملتا تھا۔ حالانکہ وہ جانتی تھی سب بے سود ہے۔ ابوطالب کو بدلنا ممکن نہیں۔

ض……..ض……..ض

”بھابی پلیز! آپ اس بددماغ لڑکی کو سمجھائیں کہ ہم یہاں اپنے ملک میں رہ کر بھی کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں۔ پھر کیوں یہاں سے باہر جائیں محض پیسے کمانے کے لیے۔“

”مگر تمہیں تو چانس مل رہا ہے، میں زبردستی تو نہیں بھیج رہی ہوں تمہیں۔ آفر ہے تو ضرور جاﺅ۔ دو تین سال کی تو بات ہے…. یُو نو طالب، یہ تین سال تمہاری لائف بدل سکتے ہیں۔“

اس نے اپنی بات پر ڈٹے رتے ہوئے کہا مگر طالب اس سے قطعی ایگری نہیں تھا۔

”ریحاب! تین سال کم نہیں ہوتے۔ تین سال میں بہت کچھ بدل سکتا ہے۔ اتنے عرصے میں یہاں انتھک محنت کروں تو….“

”تم اچھی طرح جانتے ہو ابو طالب کہ تم تین کیا تیس سال بھی یہاں اپنی جان لگا کر کام کرو تو تمہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا، سوائے ذہنی ٹینشن کے۔ اس ملک میں صرف بے ایمان اور کرپٹ لوگ ترقی کر سکتے ہیں، تم جیسے ایماندار اور سچے انسان کے لیے یہاں صرف مشکلات ہیں اور بس۔“ وہ غصے سے بولی۔ ابوطالب نے سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھا۔

”تم اپنے ملک کے لیے اتنی چھوٹی سوچ رکھتی ہو۔ یہ محبت ہے تمہیں اس مٹی سے۔“

”محبت ہے مجھے اس ملک سے، اسی لیے تو دکھ ہوتا ہے اس کا یہ حال دیکھ کر۔ دل دکھتا ہے جب ہم جیسے لوگوں کو اس ملک میں…. طالب پلیز! تم آنکھیں بند کر کے جب تک چاہو جی سکتے ہو۔ اپنے ان خوابوں کو لے کر مگر ہم آنکھیں کھول کر جیتے ہیں۔ تب ہی تمہیں کہہ رہے ہیں۔ فار گاڈ سیک! اپنے سر سے یہ جنونی محبت کا بھوت اتار کر دیکھو۔ یہاں تمہارا کوئی فیوچر نہیں ہے۔ پلیز! اس آفر کو ہاتھ سے مت جانے دو۔“

”ریحا ٹھیک کہہ رہی ہے طالب۔ اتنی اچھی آفر کو یوں مت ٹھکراﺅ۔ ایسے مواقع بہت کم ملتے ہیں۔“

”طلال تم بھی….“ طالب نے صدمے کی حالت میں طلال کو دیکھا۔ ”یہ تو ناسمجھ ہے لیکن تم تو یار….“

”یہ محض کتابی باتیں ہیں طالب۔ زندگی ان کے سہارے نہیں گزاری جاتی ہے۔ ٹھیک ہے ہمیں بھی اس ملک سے محبت ہے۔ میں تمہاری سوچ کی قدر کرتا ہوں۔ تم ان تین سالوں میں جو کماﺅ گے اس کے بعد یہاں آ کر تم اپنے ملک میں اپنا وہ تجربہ لگاﺅ۔ ساری عمر یہیں رہنا ہے تمہیں۔“

”بہت افسوس ہو رہا ہے مجھے ضیاءماموں کے بچے یہ سوچ رکھتے ہیں۔“ اس نے افسردگی سے کہا۔

”ہاں تو بابا نے کیا پایا ہے اس حب الوطنی اور ایمانداری سے۔“ ریحاب نے جذباتی انداز میں کہا۔

”کیا؟ ریحا ماموں نے تم لوگوں کو کبھی کسی چیز کی کمی ہونے دی۔ ہر نعمت دی ہے انہوں نے، تم لوگوں کی ہر خواہش پوری کی ہے۔ اسی ملک میں رہتے ہوئے، اپنی ایمانداری کے ساتھ۔ لاکھوں لوگوں سے اچھی زندگی گزار رہے ہو تم لوگ۔“

”مگر اتنا عرصہ اگر بابا کسی دوسری کنٹری میں محنت کرتے تو ہم شاندار گھر بنا سکتے تھے، گاڑیاں ہوتیں ہمارے پاس اور اب صرف یہ پانچ مرلے کا عام سا گھر، ایک سیکنڈ ہینڈ گاڑی، وہ بھی اب ارشد بھائی نے لے لی ہے۔ مجھ سے ایسی زندگی نہیں جی جاتی۔ یہاں بھی اور پھر شادی کے بعد بھی، گھٹ گھٹ کر، اپنی خواہشات مار کر جینا۔ بس تم باہر جاﺅ گے۔“

”میں کہیں نہیں جارہا اور اگر تمہیں لکژری لائف چاہیے تو تم جیسے چاہو زندگی گزار سکتی ہو۔ اپنی ایمانداری کو داﺅ پر لگا کر میں کبھی بھی تمہاری خواہشات پوری نہیں کر سکوں گا۔ یہ بات میں ابھی کلیئر کر دیتا ہوں۔ سو میرا یہ فیصلہ ہے کہ میں تم سے دستبردار ہوتا ہوں تاکہ تم ساری عمر گھٹ گھٹ کر زندگی نہ گزارو۔ آج کے بعد ہم صرف کزنز ہیں اینڈ enough۔“ وہ بہت سنجیدہ تھا۔ اس کے بھنچے لب، پیشانی کے بل اور چہرے کی سختی گواہ تھی کہ وہ جو کہہ رہا ہے، اسے کرنے کا پورا عزم بھی رکھتا ہے۔ ریحاب تو جذباتی تھی، بے سوچے سمجھے بولتی تھی مگر بھابی جانتی تھیں کہ طالب اس وقت بہت غصے میں آ گیا ہے۔

”طالب تم اس کی فضول سی بکواس پر کیوں اپنا بلڈپریشر ہائی کر رہے ہو۔ تم وہی کرو جو تم بہتر سمجھتے ہو، کیونکہ مستقبل تو تمہارا ہے ناں۔“ بھابی معاملہ سنبھال رہی تھیں مگر ریحا جانے کیا سوچے بیٹھی تھی۔

”بھابی صرف اس کا نہیں، مستقبل میرا بھی ہے۔ آپ اسے سمجھانے کے بجائے اس کی سائیڈ لے رہی ہیں۔“

”ریحا چپ کرو تم۔“ بھابی نے اسے ڈانٹا، تب ہی امی بھی وہاں کی صورتحال دیکھ کر آ گئیں اور طالب کا سرخ ہوتا چہرہ انہیں فکرمند کر گیا۔

”کیا ہوا، کیا مسئلہ ہے؟“

”مامی، آپ کی بیٹی کا مستقبل میرے ساتھ صرف خراب ہو سکتا ہے اس لیے آپ اس کے لیے کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو کروڑوں کے بنگلے اور چار پانچ گاڑیاں رکھتا ہو کیونکہ میں اس کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں کر سکتا۔“ وہ اپنی بات مکمل کرکے رکا نہیں تھا۔ طلال اس کے پیچھے بھی گیا مگر وہ غصے میں تھا۔ امی الگ ہراساں ہو گئی تھیں۔ مذاق تو وہ کرتا رہتا تھا۔ ریحا کی اور اس کی جھڑپ بھی ہوتی رہتی تھی مگر وہ کبھی اتنا غصہ نہیں کرتا تھا اور ان کے ساتھ اس طرح کی بات، وہ بھی اتنے سخت لہجے میں۔ انہں نے ریحا کو دیکھا، جو خود بھی غصے میں تھی اور پیر پٹختی اندر کمرے میں چلی گئی تھی۔

طلال افسوس سے سر ہلانے لگا۔ ابوطالب اور اس کی سوچ بھی مختلف تھی اس لیے اکثر وہ بحث سے گریز کرتا تھا مگر ریحا نے آج جو بھی کہا، وہ سراسر غلط تھا اور طالب کا غصہ بالکل جائز تھا۔

ض……..ض……..ض

یہ محض ریحا کا گمان تھا کہ یہ طالب کا وقتی غصہ ہے، جب بھوت اُتر جائے گا تو اسے منانے آئے گا لیکن جب اگلے ہی دن پھوپو آئیں تو وہ حیران رہ گئی۔ پھوپو بہت پریشان تھیں۔

”کل سے میرا دل بہت پریشان ہے۔ آخر ایسا کیا ہو گیا ہے…. وہ تو شادی سے صاف منع کر رہا ہے۔ وہ تو اتنا خوش تھا اور اب اس نے حتمی فیصلہ کیا ہے کہ اگر آپ زبردستی بھی ریحا سے میری شادی کرنا چاہیں تو میں گھر چھوڑ کر چلا جاﺅں گا۔“

”کیا؟ اللہ میں کیا کروں ان بچوں کا۔ آپا ان دونوں میں بھی بحث ہوئی ہے کسی بات کو ایشو بنا کے۔ میں اور صوفیہ تو کل سے اسے ڈانٹ رہے ہیں کہ….“

”بات کیا ہوئی تھی؟‘ پھوپو نے اب صوفیہ کی طرف دیکھا۔ انہوں نے ساری روداد گوش گزار کر دی۔

”ریحا سے مجھے ایسی امید نہیں تھی۔ جب سے طالب نے مجھے یہ بتایا تھا کہ اسے باہر جانے کی آفر ہوئی ہے، میں دل میں خوفزدہ تھی کہ کہیں وہ حامی نہ بھر لے مگر میرا بچہ اچھی سوچ رکھتا ہے پر ریحا ایسا کیوں چاہتی ہے۔ کیا وہ نہیں چاہتی طالب اس کی نظروں کے سامنے رہے۔ ارے باہر چلا گیا تو دن رات پریشانی میں گزریں گے کہ جانے کیسا ہو گا۔ یہ فکر ہی مجھے بیمار کر ڈالے گی۔ اللہ کا شکر ہے کہ شام میں بچے گھر آ جاتے ہیں۔ دل پُرسکون رہتا ہے۔ بھاڑ میں جائے ایسا روپیہ پیسہ جو آسائش تو دے مگر دلی سکون نہ دے سکے۔“ پھوپو بھی اپنے بیٹے کے حق میں تھیں۔ خود اس کے گھر کے سب افراد بھی یہ ہی چاہتے تھے مگر….!!

”اب تم مجھے بتاﺅ میں کیا کروں۔ یہ لڑکا تو باﺅلا ہو گیا ہے۔ کیسے سمجھاﺅں اسے۔ میرا خیال ہے ارشد سے کہو کہ وہ بات کرے خوامخواہ اگر ضیاءاحمد کو علم ہوا تو اسے دکھ ہو گا۔ طالب کو بہت پیار کرتا ہے وہ۔ میں اپنے بھائی کو دکھی نہیں کرنا چاہتی۔“

”آپا غلطی ریحا کی ہے، آپ اسے بھی سمجھائیں۔“ امی طالب کی حامی تھیں۔ پھوپو نے اسے بلا کر اچھی طرح کلاس لی تھی اس کی۔

”کتنی قدر ہے ہم مسلمانوں کی ان باہر کے لوگوں کی نظر میں یہ تو تم جانتی ہو ناں ریحا۔ صرف چار پیسے زیادہ کمانے کے لیے تم چاہتی ہو وہ اپنی عزت نفس بیچ دے۔ بیٹا جو عزت ہماری یہاں اپنے وطن میں ہے ناں، وہ کہیں نہیں مل سکتی۔ وہ بھی آج کے وقت میں جب یہودیوں نے مسلمانوں کو بدنام کر ڈالا۔ ارے وہ ہمیں دہشت گرد کہتے ہیں، امن کا دشمن سمجھتے ہیں، ہم مسلمانوں کو۔ جن کا دین، امن کا علم بلند کرنے کے لیے بنا ہے وہ ہمارے اسلام کے دشمن ہیں۔ ہمارے دشمن ہیں۔ تم انہیں اپنا خیرخواہ کہتی ہو۔“

”اور پھوپو یہ دہشت گردی، یہ قتل عام جو ہمارے ملک میں ہو رہا ہے، ہمارے اپنے اسلامی ملک میں جو مسلمان بے گناہ مارے جا رہے ہیں اور انہیں مارنے والے اور کوئی نہیں، خود ہمارے اپنے مسلمان بھائی ہیں، یہ فرقہ پرستی کے نام پرجو….“

”یہ سب یہودیوں کی سازش ہے بچے، وہ ہمیں کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں آپس میں لڑا کر ہمیں کمزور کر رہے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں اسلام کی طاقت کو، مسلمان کی طاقت کو اور بچے اگر تمام مسلمان یہ بات سمجھ لیں اور ایک ہو جائیں تو دنیا میں ایک دن میں اسلام کا بول بالا ہو جائے مگر جانے ہمیں کیا ہو گیا ہے۔ ہم کیوں بھول گئے کہ ہمارے پیارے رسولﷺ نے ہمیں کیا بتایا تھا۔“

”تو پھوپو ہم یہ بات کیوںنہیں سمجھتے، کیوں ہم ان کے کہنے پر ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں، جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ وہ ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔“

”یہ ہی تو المیہ ہے ریحا، کاش پیسے کی چکا چوند کو ہم آنکھوں سے دور کر کے اس وطن کے لیے سوچیں۔ وہ تو ہمیں چمک دکھاتے ہیں پیسے کی۔ یہ تو ہماری کمزوری ہے جو ہم بھٹک جاتے ہیں اور ریحا تمہارے بابا نے ہمیشہ ایمانداری اور سچائی کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔ انہوں نے صرف اپنی محنت، اور حلال کی کمائی کا لقمہ تمہارے منہ میں ڈالا ہے۔ کیا تم نہیں چاہتیں کہ تمہارے بچوں کو جو بھی تم دو وہ کم بے شک ہو مگر حلال ہو۔ بچے! دولت کی صرف چار دن کی چمک ہے لیکن ایمانداری، سچائی اور محنت سے اگر تم اپنے بچوں کی تربیت کرو گی تو تمہیں اس کا پھل ضرور ملے گا۔ زندگی میں صرف پیسہ کام نہیں آتا بچے، اچھی تربیت کام آتی ہے۔ آنے والے کل میں تمہارے بچے ایک اچھا اور ایماندار انسان بن کر، جب تمہارا نام روشن کریں گے تو تمہیں فخر ہو گا ان پر۔“

”آئی ایم سوری پھوپو۔“ وہ واقعی شرمندہ تھی کہ بابا جیسے انسان کی بیٹی ہو کر وہ کتنا غلط سوچتی تھی۔ اس نے کتنا ہرٹ کیا تھا طالب کو اپنی باتوں سے۔

”مجھ سے نہیں، سوری اس سے کرو، جس کا دل تم نے دکھایا ہے۔ کل سے ایک پل وہ سکون سے نہیں بیٹھا۔ بہت بُرا لگا ہے ریحا اسے۔“ انہوں نے دھیرے سے کہا۔ وہ سر ہلا گئی مگر وہ کیسے جائے گی اس کے سامنے…. سراسر اس کی غلطی تھی۔ اسے ایسی بکواس نہیں کرنی چاہیے تھی۔ صرف پیسے اور آسائش کے لیے وہ اسے فورس کر رہی تھی۔ سب سے اتنا دور جانے کو۔ ارشد بھائی نے نا صرف طالب کو سمجھایا تھا، ریحا کو بھی خوب ڈانٹا تھا۔

”مجھے تو حیرت ہو رہی ہے کہ اس ناسمجھ لڑکی کو سمجھانے کے بجائے تم اتنا بڑااور غلط فیصلہ کر رہے تھے، جس سے صرف تمہیں ہی نہیں، دونوں خاندانوں کو تکلیف پہننی تھی۔“

”ارشد بھائی میں نے بہت سمجھایا تھا اسے مگر یہ سنتی تب ناں۔“

”تو دو تھپڑ لگاتے اسے، کوئی اعتراض نہ کرتا۔ اس کی بے وقوفی کی وجہ سے بابا اور پھوپو کو ہرٹ کرنے جا رہے ہو تم۔ اتنی بڑی نہیں ہے یہ جو اس کا فیصلہ مانا جائے۔ تم سے چھوٹی ہے۔ اس کی اچھی، بری عادت پر اسے ڈانٹنے کا تمہیں حق ہے طالب۔ ناں کہ تم بھی بچوں کی طرح بی ہیو کرو۔“ ارشد بھائی کے مزاج سے سب ہی سہمتے تھے۔

”سوری ارشد بھائی۔“ اس نے سر جھکا کے کہا۔

”اور ریحا اگر میں نے آئندہ تمہاری کوئی شکایت سنی تو بری طرح پیش آﺅں گا۔ طالب اگر تمہاری بدتمیزی برداشت کر لیتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ تم اسکے سامنے زبان درازی کرو۔ یہ تم سے بڑا ہے۔ میں نے آج کے بعد تمہیں اس کے ساتھ تیز لہجے میں بات کرتے سنا تو اچھا نہیں ہو گا۔ مذاق، شرارتیں اپنی جگہ مگر عمر اور رشتوں کا لحاظ بھی رکھنا چاہیے۔“

”جی…. بھیا….“ اس کی مری مری آواز نکلی۔

”اب جاﺅ یہاں سے۔ آئندہ ایسی بدتمیزی نہ ہو۔“ اس نے جلدی سے سر ہلایا اور باہر بھاگی۔ ارشد بھائی نے طالب کو دیکھا جو بہت سنجیدہ بیٹھا تھا۔

”طالب تمہاری سوچ بہت اچھی ہے، تم اپنی دانست میں بالکل ٹھیک فیصلہ کر رہے ہو۔ ریحا کا ذہن ابھی کچا ہے۔ وہ ابھی ان باتوں کی گہرائی نہیں سمجھتی، جو ہم جانتے ہیں اور اس عمر میں بچیاں ایسے ہی اُلٹے سیدھے خواب دیکھتی ہیں۔ تم میچور ہو،اس دھیرے دھیرے سمجھاﺅ، قائل کرو۔ وہ تمہاری ہر بات مانتی ہے۔ ٹائم لگے گا مگر مجھے یقین ہے وہ سمجھ جائے گی۔ تم اسے اپنی سوچ میں ڈھال سکتے ہو مگر اپنے غصے کو کنٹرول کر کے۔ مجھے اور بابا کو فخر ہے کہ ہم نے ریحا کا مستقبل بہت مضبوط ہاتھوں میں دیا ہے۔“

”تھینک یُوبھیا۔ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ وہ ابھی ناسمجھ ہے۔“ اس نے ارشد بھائی سے اتفاق کیا۔

”دیکھو طالب! تم جانتے ہو وہ اکنامکس پڑھنا نہیں چاہتی تھی مگر تمہارے سمجھانے پر، تمہارے پڑھانے سے اب وہ دل لگا کر اکنامکس پڑھ رہی ہے۔ تم جانتے ہو ناںکہ اسے قائل کرنا ہے، پھر یہ ناسمجھی کیوں؟ وہ ضدی اور جذباتی ہے لیکن تمہارے لیے اچھا ہی سوچتی ہے۔“

”آئی نو۔“ اس نے سر ہلایا۔

”پلیز دوبارہ اس طرح سب کو پریشان مت کرنا۔ تم دونوں کی سوچ کی لڑائی، گھر پر اثرانداز نہ ہو۔ ہاں ریحا کو کیسے سمجھانا ہے، یہ تم پر ڈیپنڈ کرتا ہے اور ہاں ضرورت سے زیادہ نرمی بھی تمہارے لیے غلط ہے۔ اس کو ڈانٹاکرو۔“

”جی بہتر۔“

ریحاب ضیاءکو ڈانٹنا! ابوطالب سے وہ ڈانٹ کھا سکتی تھی۔ الٹا اس کا ہی سر کھا جانے والی مخلوق تھی وہ۔ ہاں یہ بھی سچ تھا کہ یہ فائدہ وہ اس کی ضرورت سے زیادہ نرمی سے اٹھاتی تھی۔ ابوطالب نے کبھی اسے نہیں ڈانٹا تھا۔ بس جانے اس دن اُسے کیوں غصہ آ گیا تھا۔

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بلاوا … خورشید پیر زادہ … قسط نمبر 3

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر 3 ”جی-“ بڑی مشکل سے گھٹی ہوئی آواز شروتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے