سر ورق / Uncategorized /  اچھے دن…فضہ ملک 

 اچھے دن…فضہ ملک 

اچھے دن
فضہ ملک

وہ بڑی احتیاط سے زینہ بہ زینہ اُتر رہی تھی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ کپڑوں کی گٹھری تھامے بالائی چھت سے نیچے آنا، اس کے لیۓ مشکل ہورہا تھا۔ آخری زینے پر قدم رکھتے ہوئے پانی کی پیاس نے شدت اختیار کر لی تھی۔  باورچی خانے میں داخل ہوتے ہی وہ بے آب مچھلی کی طرح پانی کی طرف لپکی تھی۔ ابھی دو گھونٹ حلق میں اتارے ہی تھے کہ مردانہ گرج دار آواز اس کے کانوں میں پڑی۔ اس نے اس آواز کی پیروی کرتے ہوئے پیچھے مُڑ کر دیکھا ،تو وه تٙر چہرہ لیے، بڑی بڑی آنکھوں سے اسی کو دیکھ رہا تھا۔
” تولیہ کہاں ہے ؟” اس کے لہجے میں سختی تھی۔
” جی وہ ، تو دھو کر ڈالا ہے ” اسے لگا کہ اس کا حلق کٹ رہا ہے۔
"ٹھیک ہے، دوسرا  دے دو ” اس کی آنکھوں کے ڈورے قدرے لال ہو رہے تھے جو اس کے غصے کو ظاہر  کرتے تھے جو کہ اب بہت بڑھنے والا تھا۔
” یہ — یہ لیجیۓ !” اس نے نہایت افراتفری کے عالم میں گٹھری میں سے ایک پُرانہ مگر صاف تولیہ نکالا اور اسے دینے کے لیۓ ہاتھ آگے بڑھایا۔
” بے وقوف عورت! اسے تو تولیہ کہتی ہے، اس سے منہ پونچھوں گا میں؟ ” اس نے وہ مٙرمرا سا تولیہ اس کے ہاتھ سے لے کر زمین پر پٹخ دیا۔
” ابھی اِسی سے گزارہ کر لیجیۓ، سردی کی وجہ سے سارے کپڑے نہیں سوکھے تھے، یہ پتلا ہے اس لیے جلدی سُوکھ گیا، تو میں نیچے لے آئی تھی۔”
اس نے وہ تولیہ زمین سے اٹھایا اور ایک بار پھر اس کے آگے بڑھا دیا۔
”  کتنی بار کہا ہے میرے آگے زبان مت چلایا کر ۔۔۔۔ اور مجهے کیا بتا رہی ہے جا کر اپنی ماں سے کہہ ناں کہ تجھے کچھ دے کر بھیجتی، منحوس خالی ہاتھ میرے پلے سے باندھ دی ” اس نے طنز کا نشتر چلایا جو سیدھا نشانے پر لگا تھا۔
” میری ماں نے تو سب کچھ دے کر ہی بھیجا تھا۔”
” اچھا! تو پھر کہاں ہے کچھ نظر کیوں نہیں آرہا ؟ ” اس نے اِدھر اُدھر نظر دوڑاتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔
"سب کچھ ہی دیا تھا بلکہ سب کچھ میری ماں کا ہی دیا ہوا ہے۔ مگر تمہیں تو شرم نہیں آتی نا۔۔۔ شادی کے پچیس سال بعد بھی تم مجهے جہیز کے تانے دے رہے ہو۔ اور گھر کی ضروریات پوری کرنا تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔۔۔میری ماں کی نہیں! ”
تھر تھر کانپتے وجود کے ساتھ آج اس نے پہلی بار اسے جواب دیا تھا۔
” جاہل عورت! اب تو مجهے سیکھائے گی کہ مجهے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔۔۔ تیری اتنی جرات؟ ”
*__*__*__*
وہ کتنی دیر سے  اپنے چاندی اُترے بالوں کو، اس کے مضبوط ہاتھوں کی قید سے، آزاد کروانے کی اپنی سی کوشش میں لگی تھی کہ اچانک اسے وہ گرفت ڈھیلی پڑتی محسوس ہوئی اور عین اسی لمحے کے دوسرے حصے میں اس نے خود کو فرش پر نیم دراز پایا تھا۔ اُس کے جانے کے کتنی دیر بعد بھی، وہ اُسے یوں ہی بے ربط سوچتی رہی تھی۔

یہ وہ انسان تھا جس پر اس نے اپنی ذندگی کے پچیس سال نچھاور کیۓ تھے۔ اچھے دنوں کے انتظار میں، برے سے برے حالات میں اس کی چارہ گری کرتی رہی تھی۔ کہ کب اس کے گھاؤ پر مرہم رکھتی، خود اندر سے کس قدر کمزور اور کھوکھلی ہوگئی تھی، ایک وہ جانتی تھی اور اس کا رب جانتا تھا۔
مگر اچھے دن ۔۔۔اچھے دنوں کو تو جیسے اس سے خدا واسطے کا بیر تھا۔ یہ سب اس کے لئے نیا نہیں تھا۔ پھر آج کیوں وہ اس کے آگے بول گئی تھی؟ اس کے صبر کا  پیمانہ لبریز کیوں ہوگیا تھا؟  یہ معمہ اس سے حل نہیں ہو پارہا تھا۔
ان ہی سوالوں کی گتّھی سلجھانے میں گم تھی کہ اچانک اُس کی آنکھوں میں، اس کی جواں سالہ بیٹی کا معصوم چہرہ اُبھرنے لگا، جس کے جہیز کی تیاری وہ سالوں سے کر رہی تھی۔

* ختم شد *

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 41 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے