سر ورق / افسانہ / احساس جرم۔۔۔شمائلہ عزیز

احساس جرم۔۔۔شمائلہ عزیز

احساس جرم

شمائلہ عزیز

مراد علی کے مہنگے چمکتے ہوئے فون کی رنگ ٹون بجی۔۔۔۔کئی بار بجنے پہ اس نے بادل نخواستہ اٹھا لی۔۔دوسری طرف سے سسکیوں کی آواز آئی ۔۔مراد علی نے بنا کسی تامل کے کہہ دیا ۔سنو آرزو بی بی تم مڈل کلاس لڑکیوں کا یہی المیہ ہے۔حجاب میں بھی لپٹی رہنا چاہتی ہو اور محبت  بھی کرنا چاہتی ہو۔ماں باپ کی عزت کا فلسفہ بھی یاد رہتا ہے اور عیاشی کے سامان بھی ڈھونڈتی ہو تم سا منافق کوئی دوسرا نہیں ۔۔اب رو اپنے نصیب پہ۔توبہ کرو معافی مانگو اپنے رب سے۔۔جاو میری طرف سے آزادی بھی ہے معافی بھی۔رونا دھونا بند کر کے اپنی زندگی جیو اور مجھے بھی سکون لینے دوبھی ۔ہچکیاں چیخوں میں  بدل چکیں تھیں۔۔مراد علی نے ایک بلند قہقہے کے ساتھ کال بند کی اور لاپرواہی سے فون ایک طرف پھینک کر بے فکری سے سو گیا۔۔صبح کاذب کے وقت یکدم اسی چیخوں کی آواز سنائی دی۔وہ اپنے کمرے سے نکل کر نیچے کی طرف بھاگا۔لیکن اسکی امی راستے میں ہی اسے آپہنچی ۔مراد بیٹا مراد بیٹا مولوی صاحب کی بیٹی نے اپنی دونوں کلائیاں کاٹ لیں اسکا بہت خون بہہ چکا اسے ہسپتال لے جانا گاڑی نکالو۔۔مراد کا خون جو اب تک رگوں میں  دوڑتا پھر رہا تھا اب منجمد ہوتا جارہا تھا۔۔امی کو ایک طرف ہٹاتا ہوا وہ بے ساختہ مولوی صاحب کے گھر کی طرف دیوانہ وار بھاگا۔دوسری منزل کے چھوٹے سے کمرے میں  فرش پر آرزو خون میں  لت پت پڑی تھی اور ایک طرف اس کا ٹوٹا ہوا موبائل جس میں  خون رستا جارہا تھا۔ایک ایک کر کے سارے مناظر مراد علی کی آنکھوں سے گزر گئے۔اسکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جواب دے چکی تھی۔بلا کا ہجوم اور شور تھا لیکن مراد علی کو کوئی آواز سنائی نہیں  دے رہی تھی۔ایک خاموشی اور سناٹا ۔۔۔۔۔یکدم اس کے حواس ٹھکانے آئے جب مولوی صاحب نے اپنے سر سے رومال اتار کر آرزو کے چہرے پہ ڈالتے ہوئے اناللہ وانا الیہ رجعون کہا۔اور ساتھ ہی فلک شگاف چیخیں۔۔اگر دیوار کا سہارا نہ ہوتا تو وہ گر گیا ہوتا۔

مراد علی خود کو گھسیٹتا ہوا گھر سے اپنے کمرے تک پہنچا۔موبائل اٹھایا پنتیس سے زائد مسڈ کالز اور ایک میسج آرزو کے نام سے تھا۔۔کانپتے ہاتھوں سے میسج کو کھولا۔۔

"مراد علی صاحب جب ہم مڈل کلاس لڑکیاں محبت  کرتی ہیں تو دیوانہ وار کرتی ہیں عبادت سمجھ کے تعلق نبھاتی ہیں اپنا تن من دھن محبوب پہ وار دیتی ہیں۔ہاں دونوں معاملات میں  عزت کو ترجیح دیتی ہیں۔اگر عزت سے محبت  کرنا منافقت اور عیاشی ہے تو مجھ سا بدکردار کوئی نہیں۔۔اور ایک مڈل کلاس بھلے منافق ہو  بدکرداری کی تہمت کے ساتھ کیسے جی سکتی ہے۔۔معافی اور آزادی کے لیے شکر گزار رہوں گی۔”

چند گھنٹے پہلے تک خود کو دنیا کا سب سے مہان آدمی سمجھنے والا مراد علی اپنی ہی نظر میں  ایک مجرم بن چکا تھا۔

 اسکی امی تھی جو ایک بار پھر اس سے مخاطب تھی۔۔بہت بڑا صدمہ ہے اٹھو اور بچی کی تدفین اور مہمانوں کی دیکھ بھال میں  مولوی صاحب کا ہاتھ بٹاو۔۔باقی کے معاملات تمھارے ابا دیکھ لیں گے۔مراد علی ہونقوں کی طرح ماں کا چہرہ دیکھتا رہ گیا۔اللہ جانے کس طرح مراد علی نے تدفین تک وہاں وقت گزارا۔۔ہر شخص کی زبان پہ سوال تھا کہ آرزو جیسی نیک سیرت اور سگھڑ لڑکی آخر کس بات پہ خود کشی کر گئی؟؟ مراد علی کو وحشت سی ہونے لگی وہ اپنے گھر کی طرف بھاگا اور کمرے کے دروازے کو بند کر لیا ۔لیکن سبھی ملی جلی آوازیں جیسے اسی کے تعاقب میں  تھیں۔

اگلی دوپہر جب مراد کمرے سے نکلنا تو اسکے ہمراہ اسکا سوٹ کیس اور بیگ بھی تھا۔سب حیرت  میں  مبتلا تھے ۔مراد نے بتایا کہ شام سات بجے اسکی فلائٹ ہے وہ لندن جارہا ہے۔لیکن تم نے دو ماہ بعد واپس جانا تھا۔سبھی ایک ساتھ سراپا سوال تھے۔۔بس کچھ ضروری کام آ گیا جس کی وجہ سے جانا پڑ گیا۔۔سب جانتے تھے کہ اسے روکنا یا سمجھانا بے سود ہے۔ماں نے کہا کچھ کھا لو پھر چلے جانا۔۔زبردستی مسکراتے ہوئے وہ کھانے بیٹھ گیا۔

زاہدہ بیگم اس کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی بیٹا مولوی صاحب کی طرف سے ہوتے ہوئے جانا۔بہت بڑے صدمے سے گزر رہے ہیں بیچارے اور کوئی بیٹا بھی نہیں  انکا۔۔آرزو کو ہی اپنا بیٹا  مانتے تھے۔بڑی پیاری بچی تھی میں  نے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا کہ اسے اپنے گھر کی بہو بناوں گی۔

نوالہ مراد علی کے حلق میں  اٹک گیا۔۔کسی پھانس کی طرح  کہ نہ جینے کی مہلت تھی نہ مرنے کی اجازت۔مراد علی آج پہلی بار زندگی کی تلخیوں سے مل رہا تھا لیکن پانی سر سے گزر چکا تھا۔۔زاہدہ بیگم نجانے کیا کیا بولتی رہیں اسے کچھ سنائی نہ دیا۔۔سب کو الوداع کہہ کہ وہ بنا ماں کی سنے گاڑی میں  بیٹھ چکا تھا۔ڈرائیور آئیر پورٹ کی طرف چلو۔۔

اس نے اپنا سر سیٹ سے ٹکا دیا گاڑی آئیر پورٹ کی طرف بھاگتی جارہی تھی جبکہ مراد کا دماغ ماضی کی طرف چل پڑا۔

مراد علی عارفین علی کا اکلوتا چشم و چراغ۔۔شہر کے مشہور بزنس مین کا لاڈلہ بیٹا۔دو بہنوں کے بعد منتوں مرادوں سے مانگا ہوا خاندان کا وارث۔شہر کے مہنگے سکولوں سے پڑھ کے  اعلی تعلیم کے لیےگزشتہ چھ سال سے لندن میں  مقیم تھا۔تین ماہ قبل چھٹیاں گزارنے پاکستان آیا تھا اور آنے کی ایک بڑی وجہ اسکی دوسری بہن کی شادی بھی تھی۔

شادی سے دو دن قبل وہ پاکستان پہنچا۔۔ماں اور دادی صدقے واری گئیں۔۔بہنوں نے جی جان سے پیار کیا۔۔باپ اپنے خوش شکل، قدآور شخصیت کے بیٹے کو دیکھ کے پھولے نہ سمایا۔سارا خاندان اٹھ اٹھ کے مراد علی کو دیکھتا تھا۔اور سبھی لڑکیاں دیار غیر سے آئے اس شہزادے کے خواب دیکھ رہی تھیں۔تھکا دینے والے استقبال اور بھر پور کھانے کے بعد مراد علی ماں کی گود میں  سر رکھ کے گہری نیند سو گیا۔دن سے شام اور شام سے رات ہو گئی ۔ڈھولک کی آواز نے مراد علی کو جگا دیا۔وہ کمرے سے نکل کر اوپر ٹیرس میں  آیا جہاں عین نیچے ٹی وی لاوئج لڑکیوں اور عورتوں سے بھرا ہوا تھا ڈھولک کی تھاپ پہ نغمے گائے جارہے تھے ۔۔نیلے پیلے ہرے کتنے ہی رنگین ملبوسات، زیورات سے لدی پھندی خواتین اور میک اپ سے اٹی لڑکیاں۔۔نیند سے جاگے مراد کو سب بھلا لگ رہا تھا۔۔کتنی دیر وہ یونہی کھڑا دیکھتا رہا لیکن نظر کہی رکی نہیں ۔اسی اثنا دروازے سے چند پردہ دار خواتین اندر آئیں۔مراد کو حیرت ہوئی کہ انکے ایسے کوئی رشتے دار یاد نہیں  جو ایسے ہوں۔زاہدہ بیگم نے اٹھ کے تپاک سے استقبال کیا ۔۔رفتہ رفتہ پردے کی چادریں ہٹیں۔۔جاتے ہوئے مراد علی کے قدم وہی رک گئے۔کالی چادر  ہٹی اور سرخ مگر سادہ لباس میں  حسن و سادگی کا ایسا امتزاج شاید ہی مراد کی آنکھوں نے دیکھا ہو۔سر پہ سرخ دوپٹہ، چوڑی دار پاجامے کے ساتھ امریلہ فراک، پاوں میں  نفیس ملتانی کھسہ، کمر تک جاتی بالوں کی گندھی ہوئی چٹیا، دونوں بازو میں  کانچ کی سرخ چوڑیاں اور بڑی بڑی دلکش آنکھوں میں  کاجل کی دھار۔۔۔کل سنگھار تھا۔۔نہ مہنگا لباس نہ بھاری زیورات نہ گہرا میک اپ۔۔مراد علی تو جیسے پتھر کا ہو گیا۔۔اسکے ہونٹوں پہ پھیلی مسکراہٹ، اور قدموں کی متانت و دلکشی۔۔پورے ہجوم میں  مراد علی کی آنکھیں اسی پہ مذکور رہ گئی۔۔وہ آمنہ عارفین کے پاس جا بیٹھی اسی محبت سے گلے لگایا اور بے تکلفی سے باتیں کرنے لگ گئی ۔زاہدہ بیگم نے مہندی لا کر اسکے ہاتھ میں  دی اور وہ آمنہ کو مہندی لگانے لگی۔۔مراد علی کب سے وہی کھڑا تھا کہ اسے اپنے کزن دوستوں نے آ لیا وہ اسے کھنچتے ہوئے باہر لے گئے۔۔سبھی اس سے یورپ کے قصے سننے کو بے چین تھے، لیکن وہ ابھی تک اسی منظر میں  کھویا ہوا تھا۔اسکے کئی آفئیرز چل کے ختم ہو چکے تھے لیکن ایسی دلکشی۔۔ہاااائے وہ بے اختیار مسکرا رہا تھا۔۔لگتا ہے چھٹیاں اچھی گزرنے والی ہیں ۔۔۔

دیر تک بزم سجی رہی مراد اپنی عاشقی اور یورپ کی عیاشی کے قصے سناتا رہا اور تقریبا نصف رات کو محفل برخاست ہوئی ۔۔مراد کو پھر سے وہی منظر ستانے لگا وہ آمنہ کی طرف گیا لیکن سبھی تھک ہار کے سو چکے تھے۔۔مراد ٹیرس پہ ٹلہنے لگا کیونکہ وہ اپنی نیند پوری کر چکا تھا۔یہاں وہاں دیکھتے اسکی نظر سامنے والے گھر کی کھڑکی پہ پڑی جہاں سے روشنی نظر آرہی تھی۔۔مراد ہنس پڑا شاید کوئی تہجد گزار جاگ رہا ہو۔۔

دوسری صبح وہ جاگ کہ جونہی ٹیرس پہ آیا سامنے والی چھت پہ اسے پھر وہی چہرہ نظر آیا۔اسے یوں گھورتے دیکھ جلدی سے دوپٹہ سر پہ لیتے ہوئے وہ روپوش ہو گئی ۔۔بارات پہ بھی گاہے بگاہے اسکی شکل مراد کو نظر آتی رہی لیکن وہ اسے دیکھتے ہی غائب ہو جاتی ۔مراد کو حیرت بھی تھی اور غصہ بھی۔۔خیر شادی ختم ہوئی تو مراد نے زاہدہ بیگم سے پوچھ ہی ڈالا۔استغفار پہ معلوم ہوا کہ مسجد کے مولوی صاحب کا خاندان بستا ہے پڑوس میں  انکی تین بیٹیاں ہیں آرزو، اقراء اور بسمہ۔بیچاروں کے ہاں بیٹا نہیں  ہے بھلے لوگ ہیں۔

اچھے پڑھے لکھے خاندانی۔۔ اور ہمارے خاندان سے گھر جیسے تعلقات ہیں ۔مراد علی من ہی من مسکرا دیا۔شام کو وہ آمنہ کے موبائل  سے آرزو کا نمبر حاصل کر چکا تھا۔۔کتنے ہی میسج کیے کتنی ہی فون کالز مگر کوئی جواب نہ موصول ہوا تین سے چار دن گزر گئے ۔مراد علی کی بے چینی میں  اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ایک دن گلی میں  مدبھیڑ ہوئی تو مراد نے آرزو سے درخواست کی کہ اس سے بات کرے۔۔ڈری ڈری آواز میں  صرف جی ہی کہہ سکی۔۔رات ہوتے ہی مراد نے فون کیا ۔دوسری طرف خاموشی تھی ۔مراد علی نے اپنے دل کا حال ایسے کہا کہ اگر پتھر بھی ہوتا پگھل جاتا۔یہ تو پھر بھی ایک نازک اور حساس لڑکی کا دل تھا۔مراد کو پتہ چلا کہ آرزو دن میں  ایک پرائیوٹ سکول میں  پڑھاتی ہے اور شام میں  یونیورسٹی سے ایم فل کر رہی ہے۔۔مراد ہزار سوال کرتا اور جواب میں  جی جی کے علاوہ کوئی جواب نہیں  ملتا۔۔پھر وہ کہنا شروع کرتا اور وہ وہ باتیں کہہ دیتا کہ آرزو کی سوچ بھی نہ پہنچ پاتی وہاں۔۔سورج کی روشنی پھیکی پڑ جاتی، قوس قزاح کے رنگ دھندلے پڑ جاتے اور چاند شرما کے بادلوں کی اوٹ میں  چھپ جاتا۔۔وہ بات بات پہ اسے اچھی لڑکی پیاری لڑکی کہتا تو آرزو کے تن من میں  پھول سے کھل جاتے۔کتنی ہی راتیں دن میں  بدل گئیں لیکن مراد علی کا اظہار محبت ختم نہ ہوا۔۔آرزو کب اسکی باتوں کے بہاو میں  بہہ گئی  کچھ خبر نہیں  ۔مراد نے اسکے سبھی خدشات اپنی باتوں کی حلاوت میں  حل کر کے اسے ہی پلا دیے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ کہا بھی نہیں  اور  کچھ رہا بھی نہیں ۔پاگل آرزو کو یہ بات اور پاگل کر گئی  کہ سینکڑوں لڑکیوں  کا خواب مراد علی اسکی محبت  میں دیوانہ ہے۔

کتنے دن تو وہ بس اظہار سنتی رہی، کچھ بھی نہ کہا۔آخر ایک دن بولی۔۔۔مراد صاحب ہم لڑکیاں کسی کو چاہ کہ بھی نہیں  چاہ سکتی جب تک یہ یقین کامل نہ ہو کہ چاہنے والا عمر بھر ساتھ نبھائے گا آپ میرے ابا سے بات کیجیے۔مجھے انکار نہیں ہوگا۔

مراد پہ ہتھوڑے کی طرح برسے یہ جملے۔وہ دانت پیس کے رہ گیا لیکن ملائمت سے بولا۔۔آرزو تم میری آرزو ہو تم ہاں کہو آگے کی بات مجھ پہ چھوڑ دو۔

آرزو سب ہار چکی تھی لیکن آنا تھی کہ جھکنے نہ دیتی تھی تربیت تھی کہ ہارنے نہ دیتی تھی۔

لیکن کب تک۔مراد علی کا تجربہ جیت گیا اور آرزو اپنا سب کچھ ہار بیٹھی۔یہی وہ وقت  تھا جسکی طلب مراد علی کو تھی۔آرزو اسکے قریب تھی اور یہی قربت آزرو کو لے ڈوبی۔مراد علی کی جنونیت کے سمندر میں  آرزو نہ نہ کرتے کرتے ڈوب گئی ۔اچھی لڑکی جو کبھی نہ ہاری تھی محبت میں  سب کچھ ہار گئی ۔

اپنا آپ گنوا کے بھی وہ اس آس پہ تھی کہ مراد علی اسے اپنا لے گا۔

اور دوسری طرف مراد خاندان کی لڑکیوں کا اکلوتا ہیرو۔کس کس سے وفا کرتا ہزاروں چاہنے والیاں۔آرزو تو کہیں فراموش ہی ہوتی جارہی تھی بس اسکے کال میسج پہ یاد آتا کہ ہاں ہے وہ ۔۔۔

ڈھائی ماہ میں  ہی مراد کا عشق کم ہوتے ہوتے ختم ہو گیا اور آرزو رو رو کے ٹوٹ گئی  اور وہ آخری فون کال تھی جس میں  مراد علی نے محبت  کا رہا سہا مان بھی توڑ ڈالا۔جس کا نتیجہ آرزو کی موت نکلا۔۔۔۔۔

مراد علی کو لوٹے تین سے چار ماہ ہو چکے تھے اسکے اندر سب کچھ بدل چکا تھا وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہونے سے گھبراتا تھا، اپنے آپ سے بھاگ کے ہجوم میں  پناہ لیتا لیکن کہیں بھی سکون نہ پاتا۔ماضی کسی خوفناک جن کی طرح اس کا پیچھا کر رہا تھا۔اور خود سے بھاگتے بھاگتے مراد کا وجود زخمی ہو چکا تھا۔

دوسری طرف زاہدہ بیگم، اسکی بہنیں دادی اور عارفین علی لگاتار اس سے شادی پر اصرار کر رہے تھے۔وہ ہر بار ٹال دیتا لیکن بات ہر بار وہی پہ آ رکتی۔۔وہ خود سے بھی تنگ آ چکا تھا۔آخر کار رضامند ہو گیا۔ماں نے پسند پوچھی تو صاف کہہ دیا کہ جہاں آپکو مناسب لگے کردیجیے جب معاملات طے ہو جائیں تو مجھے بتا دیں میں  آ جاوں گا۔

دس سے پندرہ دن میں  ماں نے مراد علی کو بتایا کہ وہ اگلے ماہ کی دس تک پاکستان آ جائے پندرہ سولہ کو اسکی شادی ہے۔اور لڑکی۔۔ماں کی بات مکمل سنے بنا ہی مراد نے کال کاٹ دی۔۔

دس کی بجائے مراد تیرہ تاریخ کو پاکستان  پہنچا۔۔گھر کی سجاوٹ سے لے کر شادی کے تمام چھوٹے بڑے انتظامات مکمل تھے۔۔مہندی کی رات جب دلہن کے گھر سے مہندی آئی تو مراد علی پر گویا آسمان ٹوٹ پڑا۔۔بسمہ سالی کے روپ میں  مراد علی کو ہلدی، مہندی اور تیل لگا رہی تھی اور اقراء مراد کی شریک حیات بننے جارہی تھی۔۔مراد علی نے چیخنا چاہا لیکن آواز نہ نکلی، بھاگنا چاہا لیکن قدم نہ اٹھے، بے حس و حرکت  بیٹھا تقدیر کا کھیل دیکھتا رہا۔ مراد علی جو کبھی نہ ہارا تھا آج کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح بیٹھا تھا۔شادی ہو گئی  سبھی رسم و رواج پورے ہوئے۔۔اقراء خوش شکل، خوش مزاج اور سلیقہ شعار لڑکی تھی ۔مراد علی کو اپنا جیون ساتھی پا کر خوشی سے پھولی نہ سما رہی تھی۔۔مراد علی نے اپنی ساری ہمت مجتمع کی اور خوش دلی سے جینے کی ایک آخری کوشش کی ۔جہاں ماضی کی پرچھائی بھی نہ پڑے۔۔لیکن جب جب اقراء اس کے پاس ہوتی وہ شرمندگی اور جرم کے سمندر میں  ڈوبتا ہی جاتا۔اقراء کی قربت میں  آرزو کا لمس اسکے دل و دماغ میں زہر بن کے بھاگتا۔آرزو کی معصوم محبت  کی خوشبو کافور کی وحشت بن کے اس کے تن بدن سے لپٹی ہوئی تھی

دو ماہ کرب و اذیت کے گزار کے مراد علی اقراء کو روتا چھوڑ واپس لندن آ گیا۔اسکی حالت نیم پاگل شخص کی سی ہو چکی تھی۔گھر والوں سے بات کیے ہفتوں گزار دیتا۔اقراء نے اسے بتایا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔۔تو مراد علی کا رہا سہا ہوش بھی جاتا رہا۔

وقت کو پر لگ گئے۔مراد علی ایک خوبصورت بیٹی کا باپ بن چکا تھا۔لیکن اب مہینوں گھر والوں سے رابطہ نہ کرتا۔پہلے پہل کہا نیا کاروبار شروع کیا وقت نہیں ۔اقراء اور گھر، والے گھر فون کریں تو آفس، اور آفس فون کریں تو موجود نہیں  کا جواب ملتا۔مراد علی کی بیٹی چار ماہ کی ہو چکی تھی اس نے آج تک اسے دیکھا نہیں  نہ نام پوچھا۔۔وہ کسی کو میسر کب تھا۔

اقراء تنہائی میں  روتی رہتی لیکن سب کے سامنے ہنستی مسکراتی رہتی۔گھر میں  سو سکھ تھے اور پیاری سے گڑیا کا ساتھ ۔۔جو سب کی آنکھ کا تارہ تھی۔مراد کی کمی تھی لیکن سسرال کی محبت  نے اسے کم کرنے کی حتی الامکان کوشش کی۔

چار سے پانچ ماہ ہو گئے تھے مراد علی کا کچھ اپتہ پتہ نہیں  تھا آخر کار عارفین علی سے نہ رہا گیا اور انہوں نے خود لندن جانے کا فیصلہ کیا۔وہ مراد علی کو ڈھونٍے میں  کامیاب ہوگئے۔غصہ پیار، ڈانٹ ڈپٹ ہزار گلے شکوے سے وہ مراد علی کو ساتھ لے آئے ۔۔گھر کے دروازے پہ پہنچے تو کافی رش تھا۔ہر طرف چہل پہل، بچوں کا شور، کھانے کی خوشبو، روشنیاں۔۔مراد علی کسی پرانے منظر میں  کھو گیا۔۔وہ گھر کے دروازے پہ ٹھہر سا گیا۔۔سرخ امریلہ فراک میں ،سیاہ بال، لمبی لمبی دلکش آنکھیں وہی نین نقش ایک بچی رونق بزم تھی۔وہ مسکراتی ہوئی اٹھے اٹھے ننھے قدموں سے کبھی یہاں جاتی کبھی وہاں۔سبھی اسکو دیکھ کے ہنس رہے تھے۔یکدم جو وہ گرنے لگی تو اقراء چیخ اٹھی ۔۔۔آرزو۔۔۔۔۔۔

مراد علی کی دنیا ایک دفعہ گھوم گئی ۔روشنیاں کبھی تیز کبھی مدھم اسکے دماغ میں  چھبنے لگیں ۔۔آوازوں کا شور یکدم بند ہو گیا۔سائیں سائیں کرتا سناٹا اسکے کانوں کے پردے پھاڑنے لگا۔۔۔سبھی چہرے دھندلا گئے۔۔صرف سرخ فراک کے گھومتے دائرے مراد علی کو دیکھائی دیے۔۔

وہ جو سالوں سے خود سے بھی چھپائے بیٹھا تھا بھری بزم میں  بول اٹھا۔۔وہ چیخ رہا تھا ۔۔مار دیا تھا آرزو کو میں  نے۔۔۔اسکا قاتل میں  ہوں۔۔۔وہ خون میں نے کیا۔۔۔ایک اچھی لڑکی کی محبت  کا خون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ چیختا رہا تب تک جب تک اقرار ِجرم کا لفظ آخر اس کے منہ سے نکل نہ گیا۔اس نے سب کہہ ڈالا۔۔۔آخری منظر جو اس نے دیکھا عارفین علی منہ کے بل گر چکے تھے، اقراء اپنی ماں کی بانہوں میں  جھول گئی ۔۔۔۔اور ننھی آرزو اس سب سے بے خبر مسکراتی، تالیاں بجاتی سرخ فراک میں  گول گول گھوم رہی تھی۔۔سب روشنیاں گل ہو چکی تھی۔۔مراد علی گہری تاریکی میں  ڈوب چکا تھا۔

مراد علی منٹل ہسپٹل کا مریض نمبر چوبیس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج سولہ سال بعد اس سے کوئی پہلی بار ملنے آیا جو کہ اسے دوبارہ گھر لے کے جائے گا۔۔۔۔۔آرزو بنت مراد علی

کاش بوڑھا مراد علی اپنے حواس میں  ہوتا تو اسے اچھی لڑکی کی وہ بات ضرور یاد آتی۔۔

پیارے مراد علی میں  مر بھی گئی  میرا نام اور میری محبت  تمھارا پیچھا نہیں  چھوڑے گی۔سایہ بن کے ساتھ رہے گی۔تم بکھرو یا سمٹو اچھی لڑکی کی محبت  ہی تمھاری آرزو ہو گی۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

نا رسائی : محمد جاوید انور

نا رسائی افسانہ نگار: محمد جاوید انور میرے بھاری جوتے خزاں گزیدہ سوکھے پتوں کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے