سر ورق / افسانہ / حیا۔۔۔ زویا مریم

حیا۔۔۔ زویا مریم

 

 

حیا

زویا مریم

میرے در و دیوار میں اک خلش سی رہتی ہے
روبرو گو کہ وہ ہوتا ہے میرے،
پھر بھی نہ جانے کیوں ،اک خلش سی رہتی ہے
سلونی سی ،نازک کلی کی طرح ہر کسی کا دل مو لینے کی اہلیت رکھتی حیا اپنے پیار ے پودوں کو پانی دینے میں مگن تھی ۔ بھوان میاں پاس ہی صحن میں بیٹھے مسلسل اس نازک سی کلی کو دیکھ رہے تھے ،اور ہونٹوں کے نیچے دبی مسکراہٹ کو چھپانے کی بے جا کوشش کر رہے تھے۔
©©”گو کہ محترمہ ہمارے حالِ دل سے قطاََ متفق نہیں ہیں۔“بھوان میاں حیا کے انکار کے باوجود اسے اپنی محبت کا یقین دلانے کی ناکام کوشش کرتے رہتے تھے ۔
گلاب کی پنکھڑیوںجیسے ہونٹوں سے مسکراتی حیا بھوان میاں کی طرف متوجہ ہوئی۔©©”بھوان میاں اب آپ کی عمر نہ رہی ایسی بحث میں پڑنے کی باخدا ہم قطاََ متفق نہ ہوں گے آپ سے۔“
بھوان میاں کو جیسے حیا کی بات چبھ گئی۔”وہ تو ہم انتظار میں بیٹھے رہے کہ کب آپ کی نظرِ کرم ہو ۔تو کنوارے رہ گئے ورنہ بال بچے ہمارے بھی ہوتے۔“
حیاکے ہونٹ خودبخود ہنسنے پہ مجبور ہوگئے۔”ارے جانے دیجیے ،ہمارے ابا کی عمر کے معلوم ہوتے ہیں۔اور یہ جو چاندی آپ نے سیاہ رات کی تہہ میں چھپا رکھی ہے یہ کسی اور ہی بات کی گواہی دیتی ہے۔“
”اب یہ تو سراسر الزام ہوا ۔مانا کہ چاندی اب چمکنے لگی مگر یہ تو غضب خدا کا ان موٹی موٹی کتابوں کا اثر ہے ۔عمر سے پہلے ہی بڑھاپے کی چادر پہنا دی۔ذرا آپ بھی کتابوں سے جی بہلاتیں تو سمجھ جاتیں۔“بھوان میاں کو اپنی زیادہ عمری کا تانہ نا گوار گزرا تو جھٹ سے حیا کو کم تعلیم یافتہ ہونے کا تا نہ دے ڈالا۔
”ان رُتوں کو دیکھوذرا کس ادا سے سنورتی جاتی ہیں،
کوئی تو پوچھے ان سے ایسا کیا ہے جو نکھرتی جاتی ہیں۔“حیا نے ادب میں ان سے آگے ہونے کا مظاہرہ جواباََ شعر کہہ کر دیا۔
”یہ فن تو کمال ہے اور خدا کی دین اب یہ آسان بھی کہاں کہ ہر کوئی اعلیٰ پائے کا شعر کہہ دے ۔“بھوان میاں نے یہاں بھی حیا کی شاعری کو نیچا دکھانا چاہا۔
ذرا تو سنبھلئے کہ اب ہوش نہ کھو جائیں،
ہم آپ کے اور آپ ہمارے نہ ہو جائیں۔۔۔۔۔بھوان میاں کچھ علم سیکھائے نہیں جاتے ،لاعلمی سے آجاتے ہیں۔“

بھوان میاں قہقہ لگاتے ہوئے گویا ہوئے”ارے مہتاب کو روکتا کون کم بخت ہے ،گزارش بس ذرا سی وقت کے سمندر سے ایک بوند ہمیں
بھی دے دیجیے۔“
”عمر چالیس برس سے اوپر ہوگئی مگر لڑکپن سی عادات نہ گئیں بھوان میاں۔“
”آجی عمر تو بہتا ہوا پانی ہے ۔جو مسلسل تیز رفتاری سے اس بلند جھرنے سے بہتا ہی چلا جاتا ہے ۔“ بھوان میاں بھی باتوں کا خوب تانا بانا بنتے تھے۔
”بھوان میاں اب اپنی رخصتی کی تیاریاں پکڑیئے ،اور جا کر کہ اپنی شادی کی رسمیں نبھائیں۔“
”نہ کر ستم اتنا کہ ہم مٹ جائیں،
جرم محبت کی سزا اتنی طویل تو نہ تھی۔“
بھوان میاں اسی بات پر تلے ہوئے تھے کہ کسی طرح حیا ا ن سے شاد ی کے لیے عمادہ ہو جائے۔لیکن وہ بھی حیا تھی جس کے صرف نام میں حیا نہیں تھا بلکہ آنکھوں میں بھی حیا تھی ۔
”بھوان میاں سیراب کرنے کے لیے پانی ہی درکار ہوتا ہے ،چاہے ندی کا ہو یا کنوے کا۔۔۔۔جہاں تک بات رہی محبت کی تو یہ چاند دن کی چاندنی ہے ۔آپکی عمر کی چاندنی نہیں کہ آنے کے بعد رہے ہی نہ۔“حیا اپنی بات پر بضد تھی۔
”کون کم بخت کہتا ہے کہ محبت نہ رہے گی۔۔۔۔اللہ عالم کون سی منہوس گھڑی تھی جب رشتے کے لیے ہاں کر بیٹھا وہم ہوگیا کہ شاید اب کہ ہی تم ہاں کردو۔“
”ارے واہ بھوان میاںکیا کہنے ہیں آپ کے اگر میں ہاں کر بھی دیتی تو اس منگنی کاکیا ہوتا جو آپ کر چکے تھے؟“
”منگنی تو بنی ہی ٹوٹنے کے لیے ہوتی ہے ۔۔۔۔ایک بار ہاں تو کرکہ دیکھتیں محترمہ۔“
”کہتے ہوئے بھی آپ سوچتے نہیں ہماری عمر میں بھی کم سے کم سولہ برس کا فرق ہے صاحب۔“حیا نے بھوان کو اپنی اور اس کی عمر کا فرق بتانے کی کوشش کی ۔
”عمروں کے تقاضے کہاں معنی رکھتے ہیں ۔آپ تو یومِ اول سے ہی ہماری محبت سے متفق نہ ہوئیں کبھی نہ مانا کہ چاہتے ہیں اور چاہتے ہی رہیں گے۔“
”نئی عورت کی مار ہوتی ہے مرد کی محبت بھوان میاں ۔۔۔۔مانتے ہیں ہم عمر میںا ٓپ سے چھوٹے ہیں لیکن کچے تو نہ ہیں۔“حیا اپنے نظریئے پر ہی قائم تھی۔
”باخدا یہ بھوان مر جائے اگر آپ کی جگہ کوئی اور عورت دل میں گھر کر جائے ۔ہاں تو کرکے دیکھئے۔“
”بڑے ضدی ہیں بھوان میاں چھ سال سے ضد نہ چھوڑی ،چلیں کیا یا دکریں گے ۔حیا ہو جائے گی آپکی ۔“حیا نے اتراتے ہوئے کہا

”ارے چل پگلی اب کاہے کہتی ہے اب تو شادی میں بھی دن چار باقی ہیں۔“بھوان نے جیسے افسوس کرتے ہوئے کہا۔
”بھوان میاں عمر بھر کی محبت کو چار دن میں بانٹ رہے ہو۔“بھوان میاں کو یہ احساس دلانا چاہا کہ وہ چار دن میں کسی او ر کے ہو کہ بھول جائیں گے ۔
”محبت تو ہم مرتے دم تلک کرنا نہ چھوڑیں گے حکم کریئے ابھی بتائے دیتے ہیں کوئی بارات نہ جائے ۔“بھوان نے دعویٰ کرتے ہو ئے کہہ دیا۔
”بھوان میاں محبت تو نہ رہے گی یہ میرا دعویٰ ہے ۔اک بار شادی کی قبول قبول تو ہونے دیجیے آپ کا رخ کبھی ادھر کا نہ ہوگا۔“حیا کو جیسے بہت یقین ہو کہ وہ کبھی ایسے نہ آئے گا۔
”تیار رہیو اب کہ آپ کے ہی ڈولی آئے گی بس گلے پڑی بلا کو بھگتا آو¿ں۔پھر لے چلیں گے آپ کو بیاہ کے آپ کی سوت کوذرا بھگتا آو¿ں چلئے حضور آتے ہیں۔“اتنا کہتے ہی بھوان میاں نے رخصت لی۔
حیا بھوان میاں کو جاتے دیکھ کر مسکاتی ہے ۔”بھوا ن میاں اب تو آپ چلے ہی گئے ہیںا ٓنے کی تو بابت ہی ختم ہوئی۔“
بھوان میاں تین چار ماہ کے لیے غائب رہے ۔حیا کو بھی انکا انتظار کبھی سے نہیں تھا کہ وہ آئیں کیوں کہ وہ خیالوں میں نہیں حقیقت میں جسنے والی لڑکی تھی ۔لیکن پھر اچانک سے ایک دن حیا کے گھر آتا ہے اور لاکھ چھپانے کے باوجود بھی خوشی نہیں چھپا سکے۔”آیئے بھوان میاں گالوں کی لالی بتا رہی ہے کہ موسم خوشگوار ہے ۔“
”آپ نے درست فرمایا تھا ۔“بھوان نظریں چراتے ہوئے کہتا ہے ۔
”ہاں جانتے ہیں ،یہ محبت تو صحبت کی ماں جائی ہوتی ہے جس کے پہلو میں بیٹھو اسی کو گلے لگا لیتی ہے ۔خیر دل کو اچھلنے دیجیے ہم بھی کون سا آپ کی راہ تک رہے تھے ۔“حیا نے لاپرواہی سے جواب دیتے ہوئے بھوان میاں کی طرف دیکھا۔”ہمارے کہے گئے چند الفاظ بھی وقت کا تقاضہ تھے ۔ورنہ ادب کو صحبتیں کہاں راس آتی ہےں۔ہم تو ادب کے دھارے پر بہیں گے۔“
بھوان میاں نے نا سمجھتے ہوئے سوال کیا۔”حیا آپ اب تو خدارا کچھ کھل کر کہہ دیجیے ہم اتنے ظرف کے نہیں کہ سمجھ سکیں۔“
”ارے بھوان میاں ابا نے داماد کے کندھوں پہ بیٹی کا بوجھ ڈال دیا ہے اب وہ مطمئن ہیں۔“
”آپ شادی کرر ہی ہیں۔آپ نے مجھے بتایا ہی نہیں۔“بھوان میاں کے جیسے ہوش ہی اڑ گئے۔
”بھوان میاں میں نے سوچا نئی نویلی مہندی لگے ہاتھوں کا مزہ آپ ابھی لوٹ لیں آپ کو تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔“
”گو کہ آپ میری منتظر نہ تھیں؟“بھوان کو لگ رہاتھا کہ حیا اس کی منتظر ہوگی تو اب وہ اسے شادی سے انکار کر دے گا ۔لیکن حیا ایک پختہ مزاج لڑکی تھی وہ کبھی بھی کسی کے دعوو¿ں میں بندھ کر خود کو بے وقوف بنانے کی قائل نہ تھی ۔
”بھوان میاں اب یہ فلمی ڈائیلاگ کسنے ہیں تو مرضی جناب کی لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کو کچھ پسند ہے تو آپ چاہتے ہیں مل جائے لیکن

نہ اپنانے کا حوصلہ ہے نہ چھوڑنے کا آپ توا پنے قدموں پہ بھی نہ ٹک پائے تو کیا کہنے؟آپ کے گمان میں تھا کہ اب حیا میری منتظر ہے تو
اسے ٹھکرا کر اپنی اَنا کو تسکین پہنچاو¿ںگا ۔ہم نے سوچ تھا کہ آپ کو خوش کرنے کی خاطر ہم یہ بھی کر لیں گے کہ آپ سے کہہ دیں ہم آپ سے
محبت کرتے ہیں اور آپ کے منتظر بھی ہیں۔لیکن صاحب کیا کریں ہماری بھی عزتِ نفس کے کچھ تقاضے ہیں ۔جنہوں نے ہمار ا جھوٹ اپنانے سے انکا کر دیا اور ہم نے سچ کہہ دیا ۔ہم کبھی سے بھی آپ کا انتظار نہیں کر رہے تھے ۔کیونکہ کہ جو چلے جاتے ہیں وہ کبھی بھی ہمارے مستقبل کا حصہ نہیں ہو سکتے ۔ہاں لیکن ماضی ضرور وہ سکتے ہیں۔اس لیے اب اپنی زندگی کے دائرے میں رہئے اور دوبارہ اس راہ کو مت تکیئے گا ۔چلتے ہیں چولہے پہ ہانڈی چڑھائی ہوئی ہے ۔“
حیا کی باتیں بھوان میاں کو سوچنے پر مجبور کر گئے ۔وہ بچی ضرور ہو سکتی تھی لیکن کچی واقعی نہیں تھی ۔بھوان میاں کی اَنا کی تسکین کے چکر میں حیا نا جانے کتنوں کی زبان کا افسانہ بن جاتی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

زندگی بے بسی کا نام!!” ناہیدطاہر 

زندگی بے بسی کا نام!!” ناہیدطاہر سعودی عرب ، ریاض نمازِ فجر کی ادائیگی کے …

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے