سر ورق / کہانی /  کھڑکی خوابوں کی۔۔۔حمیرا تبسم۔۔۔حصہ اول

 کھڑکی خوابوں کی۔۔۔حمیرا تبسم۔۔۔حصہ اول

 کھڑکی خوابوں کی

حمیرا تبسم

حصہ اول

 وہ سوئمنگ پول کے کنارے چکنے فرش پہ سر جھکائے اداس بیٹھی تھی۔دونوں بازو گھٹنوں کے گرد حمائل کر رکھے تھے اور اپنا چہرہ گھٹنوں پہ ٹکائے اور رخ قدرے شفاف پانی کی جانب موڑے ہوئی تھی۔ہر سو خاموشی کا راج تھااور ماحول پہ عجب سوگواریت سوار تھی۔بہت کچھ کھونے کا احساس اس پہ کوڑے کی طرح برسا تھا اور پچھتاوے کے انمٹ نشان چھوڑ گیا تھا۔اسکی فطرت میں کبھی پچھتانا تھا ہی نہیں۔وہ تو تب بھی نہیں پچھتاتی تھی جب آنگن میں لگے آم کے پیڑ سے گر جانے کی وجہ سے درد سے کراہتی اور شدت کرب سے اسکا چہرہ سرخ ہو جاتا تھا۔دوسرے دن پھر سے سب بھلائی نئے سرے سے پیڑ پہ چڑھتی جاتی ،وہ درد اور ڈر کو مات دینے کی کوشش کرتی تھی اور امی کی جھڑکیوں کی پرواہ کیے بغیر کچی کیریاں توڑ کے کھاتی تھی زیادہ وقت تو پیڑ پہ بیٹھتے ہی گزار دیتی۔جب وہ میٹرک میں بری طرح سے فیل ہوئی تو امی نے کافی مارا تھا اسے۔پچھتائی تو وہ پھر بھی نہیں تھی اور تب بھی جب اس نے سجاول کا دل توڑا تھا۔اور کتنی بار توڑا تھا شاید گنتی کرنا ناممکن تھا۔لیکن آج وہ پچھتا رہی تھی۔آنکھوں میں چمکتے لو دیتے خوابوں کے دیپ بجھ چکے تھے ،اور وہ ویران آنکھیں لیے تماشا دیکھتی رہی۔

ےادیں کبھی پیچھا نہیں چھوڑتیں،دبے پاﺅں دل پہ قدم رکھتی ہیں،چاہے وہ ےادیں خوشگوار ہوں چاہے پچھتاوے سے بھری۔انکا کام صرف آنا ہے اور آ کہ ہی دم لیتی ہیں۔

امی ،آپ ےہ مت سوچیں کہ میں اس پینڈو سجاول سے شادی کرلونگی۔دیکھا نہیں آپ نے کس طرح بنا شرمائے ہاتھ میں چھابیاں پکڑے لایا تھا اور بڑے فخر سے کہہ رہا تھا،خالہ جان ےہ چھابیاں امی نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہیں لیکن کھجور کے پتے میں لایا تھا۔توبہ توبہ اسکے ہاتھ میں چھابیاں دیکھ کے لوگ کتنا ہنسے ہونگے۔مجھے شوق نہیں ہے مذاق بننے کا،

زوباریہ جیسے پھٹ ہی پڑی،تھی اور ویسے بھی کسی کی تذلیل کرنے میں اسے مہارت حاصل تھی،اپنے پرائے کی پہچان ہی نہ تھی اسے،سجاول اسکا خالہ زاد تھا،اور اسے پسند بھی کرتا تھا تب ہی خالہ نے رشتہ مانگا تو زبیدہ بیگم کی تو جیسے مراد بر آئی ہو،جھٹ سے ہاں کہہ دی،اسکا نتیجہ ےہ نکلا کے زوباریہ چہرہ پہ غصہ سجائے ان کے سر پہ کھڑی تھی ،

زبیدہ بیگم نے کڑھائی کا سامان پرے دھکیلا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے سامنے چارپائی پہ بٹھایا،لیکن انداز میں واضح غصہ تھااور آنکھوں میں نرمی سختی میں بدل چکی تھی۔

شریف لڑکا ہے وہ،سیدھا سادہ معصوم،اور تم بھی کونسا شہر میں رہتی ہو تم بھی تو پینڈو ہو،میٹرک فیل کہیں کی،دوسروں میں اچھائی ڈھوندنے کی کوشش کیا کرو،بس میں نے فیصلہ کر دیا تمہاری شادی ہوگی تو صرف سجاول سے،۔

انکی دو ٹوک بات سننے کے بعد زوباریہ کی آنکھوں میں نمی جھلکی،مزید کچھ بھی بولنے کا اندازہ ترک کرکے وہ اٹھ کھڑی ہوئی،زبیدہ بیگم پہ شکوہ بھری نگاہ ڈالنے کے بعد وہ کمرے میں چلی آئی،

میٹرک فیل ہونے کا مطلب ےہ ہرگز تھوڑی ہے کہ میرا رشتہ کسی بھی انسان کے ساتھ طے کر دیا جائے،سجاو ل خود کو سمجھتا کیا ہے،میرے خوابوں کی تعبیر وہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔جسے فصل سبزی اور گنے کے بھاﺅ کے علاوہ کچھ بولنا ہی نہیں آتا۔عورتوں کی طرح سر جھکائے بیٹھا رہتا ہے۔مرد تو وہ اچھے لگتے ہیں جو شوخ جملہ بولیں،اونچے اونچے قہقہے لگائیں،اور عورت کے حسن کو سراہیں۔بس جو مرضی ہو جائے میں اس سجاول نامی بلا سے شادی ہرگز نہیں کرنے والی،میں کیوں بند کروں خوابوں کی کھڑکی۔وہ انہی سوچوں میں گم فیصلہ کن انداز میںایک گہری سانس بھری اور مطمین ہونے کی ناکام کوشش کی۔خوبصورت آنکھوں میں من پسند سپنے اترنے لگے تو وہ خوبصورت مسکان نے لبوں کا احاطہ کر لیا۔

           ٭٭٭

لان میں لگے آم کے درخت سے کیری گرنے کی آواز آئی تو اس نے سر اٹھاتے ہوئے چونک کے اس جگہ دیکھا جہاں کیری گری تھی اور درخت پہ بیٹھے شور مچاتے پرندوں کو ،ےہ پرندے روز ہی کچی کیریوں کو چھیڑتے اور وہ ٹوٹ کے زمین بوس ہو جاتیں،اکثر ٹھیک ہوتیں جب کے کچھ آدھی،۔وہ تھکے وجود کو بمشکل سنبھالتے ہوئے سوئمنگ پول کے کنارے سے اٹھ کھڑی ہوئی اور ننگے پاﺅں نرم نرم گھاس پہ ڈال لیے ،آج تو اسے ےہ نرم گھاس بھی آگ کی مانند محسوس ہوئی جو پیروں کو جھلسا رہی تھی۔تنہائی اسکی ذات کا حصہ بن چکی تھی۔کبھی کبھی تو وہ اکتا جاتی اور بے آواز آنسو بہانے لگتی،خود کو کوستی،ےہ زندگی اس نے خود ہی تو چنی تھی۔ایسا ہی بڑا گھر اسے پسند تھا،جس میں زندگی کی ہر سہولت موجود ہو،پودے ہوں پھول ہوں اور گاڑی کے ساتھ نوکر چاکر ہوں۔ےہ سب پانے کے بعد بھی وہ افسردہ تھی۔

اب وہ سمجھ چکی تھی کہ ضروری نہیں سنہرے خوابوں کی کھڑکی صرف جنت کی طرف ہی کھلتی ہو کبھی کبھار زرا سی چوک سے جہنم کی جانب بھی کھل سکتی ہے۔پیروں میں صدیوں مسافت جیسی تھکاوٹ تھی۔اور خوبصورت آنکھیں نمکین اشکوں سے لبالب بھر چکی تھیں۔اس نے لان میں کھڑے ہو کے چاروں جانب نظر گھمائی تو محسوس ہوا ےہ گھر نہیں گھٹن زدہ بھٹی ہے جو انگاروں سے بھری ہے اور رفتہ رفتہ تن من کو جھلسا کے رکھ دے گی۔لیکن اب اسے ےہیں جینا تھا،ےہ اسکے خوابوں کی تعبیر تھی ان خوابوں کی جو اس نے اپنوںکا دل کچل کے حاصل کی تھی۔

اس نے کلائی میں باندھی رسٹ واچ پہ نگاہ ڈالی تو جلدی سے کمرے کی جانب دوڑی،اسکے شوہر کے گھر آنے کا وقت ہو چکا تھا ۔

وہ آیئنے میں اپنا عکس بغور دیکھنے لگی۔میک اپ کی تہہ جمانے کے بعد اسکی آنکھوں کے گرد پھیلے حلقے اور چہرہ پہ چھایا زرد پن چھپ گیا تھا۔خوبصورت چہرے کے نقوش واضح ہو چکے تھے،وہ خود کو سرتاپا دیکھتے ہوئے زخمی انداز میں مسکرائی اورلپ اسٹک کا آخری ٹچ دیتے ہوتے ہوئے خود کلامی کی،

آخرکار ،مصنوعی مسکراہٹ لبوں پہ سجانا مجھے آ ہی گیا۔میں نے بھی سیکھ لی منافقت۔پچھتاوے ،نارسائی کا احساس ہونے کے باوجود بھی خوش نظر آنے کا فن بھی کتنا نرالا ہے،بے اختیار ہی اس نے قہقہ لگایا جب کے دل اندر سے رو رہا تھا۔

تم ہمیشہ کی طرح شاندار ہو۔تمہاری اسی مسکراہٹ نے میرا دل اسیر کیا تھا،وہ کمرے میں آ چکا تھا اور اسکے پیچھے کھڑا مسکراتی نظروں سے بولا تو وہ اسکی طرف گھوم گئی۔اسکے چہرے پہ کچھ کھوجنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی نگاہیں جھکا لیں۔

ناراض ہو ؟ وہ اسکے قریب ہوا تو وہ ذراپیچھے ہوئی،چہرے پہ زبردستی مسکراہٹ سجاتے ہوئے شکوہ کناں نظروں سے اسکی جانب دیکھا جس کے چہرے پہ سکون رقم تھا،واقعی مطلب پرست اور خود غرض انسان کے چہرے پہ سکون ہونا ہی چاہیے،ایسی ہی سوچوں میں گھری وہ بے اختیار شکوہ زبان تک لے ہی آئی،

مجھے تنہائی سے ڈر لگتا ہے،مجھے تمہاراساتھ چاہیے۔تم کئی دنوں بعدگھر آتے ہو،مجھے بھی تمہاری ضرورت ہے،بس تم مجھے چھوڑ کر کہیں مت جایا کرو۔وہ منت بھرے لہجہ میں بولی تو اس شخص کے چہرے پہ پھیلی نرمی نے سختی کا روپ ڈھالا،وہ اسکو کلائی سے تھامے بیڈ تک لے آ یا اور دوسرے ہی پل بیڈ پہ دھکا دینے والے انداز میں بٹھایا ۔

آخر تمہارا مسئلہ کیا ہے ؟ لگتا ہے تمہیں خوشیاں راس نہیں ہیں،سب جانتے ہوئے بھی میرا جینا حرام کرتی ہو۔میں نے تمہیں اس دڑبے نما گھر سے اٹھا کے اس عالیشان گھر میں جگہ دی،تم سے شادی کی،لیکن تم نا شکری ہو ۔پینڈو کہیں کی،

وہ اسکے سامنے کھڑا حلق کے بل چلایا تو وہ تڑپ کے ہی رہ گئی۔تو ےہ تھی میری اوقات جو اس نے دکھا دی،اس نے دکھی دل سے سوچا تو چند آنسو پلکوں کی باڑ توڑے گالوں پہ آ ٹھہرے،کاجل کی ایک لمبی لکیر سی بن گئی۔اس نے شاکی نگاہ اس بے رحم پہ ڈالی جو اسکا شوہر تھا ۔دولت تو دی تھی لیکن قربت میں فاصلے حائل کر رکھے تھے۔نہ ہی کبھی زیادہ وقت دے سکا تھا۔

آنکھوں میں اجنبیت سموئے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

تو نہ کرتے مجھ سے شادی،اس عالیشان گھر سے بہتر تو میرے ماں باپ کا وہ دڑبہ نما گھر تھا،جس میں رشتوں کا مان رکھا جاتا ہے،دکھ سکھ میں شریک ہو اجاتا ہے،وہاں انسان بستے ہیں وحشت نہیں۔حارث میں بیوی ہوں تمہاری،حق مانگتی ہوں اپنا۔وہ پورے ےقین سے بولی تو حارث نے طنزےہ مسکراہٹ اسکی جانب اچھالی،اور درشتی سے بولا۔

تمہیں کتنی بار ےاد دلاﺅں،کہ میں پہلے سے شادی شدہ ہوں،دو بچوں کا باپ ہوں۔انکو بھی ٹائم دینا ہوتا ہے۔امی بڑی مشکل سے مانی تھیں ہماری شادی کے لیے۔ابو جان کو تو ابھی معلوم نہیں،اور میں بتانا بھی نہیں چاہتا۔میں کوئی اور عذاب پلے نہیں باندھنا چاہتا ،تم ایک عذاب ہی کافی ہو۔

وہ لفظوں کے تیر چلاتا اسے پاتال کی گہرایوں میں دھکیل رہا تھا ،اس بات سے قطع نظر کہ اسکے الفاظ سامنے بیٹھی لڑکی کو کتنے گراں گزر رہے ہیں۔اس کے انداز میں پہلے والی چاہت مفقود تھی۔اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا،آئے روز ےہی تماشا دوہرایا جاتا ،اس میں کچھ قصور اس لڑکی کا تھا ،خواب دیکھ لیے،منزل پا لی لیکن سمجھوتہ اور صبر کرنا نہ سیکھ سکی۔

تو کیا میں زندگی سے چلی جاﺅں ؟ ےا پھر میرا وجود ارزاں ہے جسکی اہمیت نہیں۔میری خواہش مادی اشیاءنہیں تم ہو حارث،میں کئی کئی دن تمہاری صورت دیکھنے کو ترس جاتی ہوں،تمہیں میں سجی سنوری مسکراتی ہوئی ملوں اس بات کا خیال رکھتی ہوں،کیا تمہیں میرے مسکراتے چہرے کے پیچھے چھپا دکھ دکھائی نہیں دیتا ؟ ےعنی تم اتنے اجنبی بن چکے ہو کہ سمجھ نہیں پاتے ؟ ۔وہ منت کر رہی تھی،جب کے وہ مسکرا رہا تھا۔

تمہاری ان فضول باتوں کا جواب فی الحال میرے پاس نہیں ہے،تیار ہو جاﺅ کچھ دیر تک ایک پارٹی میں جانا ہے،اور وہ مہرون رنگ کی ساڑھی پہن لینا تم پہ جچتی ہے۔اور خدا کے لیے اپنا حلیہ درست کرو،وہ کوفت سے بولتا ہوا واش روم میں گھس گیا تو وہ بے حس و حرکت وہیں بیٹھی رہ گئی۔اب وہ ایسے نہیں جی سکتی تھی،جینا بھی نہیں چاہتی تھی۔جب رشتے درد کے سوا کچھ نہ دیں توان سے دور چلے جانا ہی بہتر ہوتا ہے،اس نے فیصلہ کیا اور آنکھ سے ٹپکنے والا آنسو بے رحمی سے ہتھیلی کی پشت سے رگڑ ڈالا۔

           ٭٭٭

تیرے مست مست دو نین ۔۔میرے دل کا لے گئے چین۔۔۔

ٹی وی پہ فل والیم میں انڈین گانا دیکھتے ہوئے وہ مزے سے خود بھی ساتھ گنگنا رہی تھی اور امی کے کپڑے بھی استری کر رہی تھی،امی چونکہ ساتھ والی پڑوسن خالہ جمیلہ کے ہاں گئی ہوئی تھی اس لیے وہ بے فکر تھی ورنہ امی کی صلواتیں سن رہی ہوتی،ےہ دش بھی اس نے منت کر کے لگوایا تھا ،ورنہ امی اسکے حق میں نہیں تھیں ،پورے محلے میں واحد انکا گھر تھا جہاں ڈش موجود تھا ورنہ لوگ ٹی وی انٹینا کی بدولت ہی چند چینلز دیکھ پاتے۔

وہ بڑے مزے سے کپڑوں پہ استری چلاتے ہوئے گنگنا رہی تھی کے اچانک سجاول کمرے میں چلا آیا،اسکو دیکھتے ہی زوبارےہ گنگنانا بھول گئی اور بے اختیار ہی اسکے منہ سے ہنسی کا فوارہ چھوٹا جبکہ اسکی حالت پہ شک کرتا سجاول ہونق بنا اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگا۔

اسے پریشان ےوں اپنی جانب دیکھتا پا کے زوبارےہ نے بمشکل ہنسی کو کنٹرول کیا

مجھے دیکھتے ہی ہنسنے لگ گئی ؟ وجہ کیا ہے سجاول کے چہرے پہ الجھن در آئی اس نے سوالیہ نگاہیں زوباریہ کے چہرے پہ ٹکا دیں

زوباریہ نے استری کا پلگ نکالا اور ریمورٹ سے ٹی وی کا والیم کم کرتے ہوئے ایک بھرپور نگاہ سجاول پہ ڈالی تو وہ مزید پریشان ہو گیا

تیرے مست مست دو نین میرے دل کا لے گئے نین،وہ پھر سے گنگنانے لگی اور سجاول کی سرمے سے بھری آنکھوں پہ شرارت بھری نگاہ ڈالی،

ویسے ےہ گانا تم پہ بڑا فٹ ہوتا ہے،سرمے سے بھری کالی سیاہ آنکھیں ،قسم سے لڑکیوں کی آنکھوں کو مات دیتی آنکھیں ،وہ ایک ہی سانس میں بول گئی تو سجاول کا منہ بن گیا

اب تم میرا مذاق اڑاﺅ گی ؟ سچ میں مجھے آنکھوں میں سرمہ لگانا بالکل پسند نہیں وہ تو بس اماں لگا دیتی ہیں وہ سمجھتی ہیں میں اب تک بچہ ہی ہوں ، سجاول نے شرمندہ ہوتے ہوئے صفائی پیش کی

ہاں جانتی ہوں کتنے معصوم بچے ہو،اپنی اماں سے شادی کی بات کر سکتے ہو اور میرے سامنے بھولے بنتے ہو بہت خوب۔

 زوباریہ نے آج دو ٹوک بات کرنے کی ٹھان لی اور سامنے رکھی بان کی چارپائی پہ ٹک گئی

سجاول کے چہرے خوشی کے رنگ بکھر ے اور اسکی سرمہ بھری آنکھیں مزید پھیل گئیں وہ دھڑکتا دل لیے زوباریہ کی معصوم صورت دیکھنے لگا اور بمشکل بولا

جی شادی کی بات تو میں نے کی تھی آپ کیا کہتی ہیں راضی ہیں کیا ؟ سجاول امید بھرے لہجے میں بولا تو زوباریہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا،وہ درشتی سے بولی

میں تم جیسے پینڈو اور ان پڑھ بندے سے شادی نہیں کر سکتی ،عورتوں کی طرح سرمہ لگاتے ہو،شلوار قیض پہنتے ہو،اور تم مجھے دے بھی کیا سکتے ہو ؟ نہ ہی اچھا گھر نہ ہی خوشیاں ۔اور ویسے بھی میرے خواب بہت بلند ہیں تم ان میں دور تک نہیں ہو۔بہتر ہے میرے بارے میں سوچنا چھوڑ دو۔

اسکا زہرخند لہجہ نفرت بھرے الفاظ سن کے سجاول کے چہرے پہ پھیلی مسکراہٹ سمٹ گئی ،سرمہ بھری آنکھوں میں امید کی کرن مدھم ہوئی تو دکھ ،نارسائی کا غم نمی کی مانند چمکا اور اسکا دل ڈوبنے لگا۔اسے اپنی ذات کی نفی ہوتی دکھائی دی تو وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا لیکن شدت غم سے اسکا وجود ناسور کی طرح دکھ رہا تھا

میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ تمہاری مجھ سے بے زاری ایک بچپنا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائے گی لیکن تمہارے روےے اور اپنے متعلق تمہاری نفرت جان کے میری خوش فہمی ختم ہو گئی ہے،تم ٹھیک کہتی ہو میں واقعی پینڈو اور عقل سے عاری شخص ہوں جو تمہیں سمجھ نہیں پایا، تمہیں چاہتا رہا اور عزت سے اپنانا چاہا۔خواب تو سب کے ہوتے ہیں میرے بھی ہیں لیکن پورے وہی ہوتے ہیں جو حد میں رہ کے دیکھے جائیں ایسے خواب جو کسی کا دل کچل دیں اسکی عزت نفس مٹا دیں انکی تعبیر کبھی خوبصورت نہیں ہو سکتی۔

وہ دکھ سے چور لہجے میں بولا اور زخمی سخت نگاہ سفاک زوبارےہ پہ ڈالی جسکی آنکھوں میں سوائے نفرت کے وہ کچھ نہیں کھوج پایا ۔وہ بھی خاموش بیٹھی اسکی بات پہ غور کیے گئی۔جو اتنے عرصہ میں آج اتنی روانی سے بول پایا تھا ۔

میں جا رہا ہوں ،کبھی سامنے نہیں آﺅنگا ۔دعا ہے تمہیں خوابوں کی تعبیر مل جائے مجھے تو ملی نہیں ،وہ زبردستی ہنسا اور کمرے سے باہر کی جانب قدم موڑ لیے۔زوباریہ نے اسکے قدموں کی لڑکھڑاہٹ واضح محسوس کی لیکن جلد ہی رخ موڑ لیا اور اپنی کامیابی پہ مسکرائی،

ارے سجاول بیٹا تم کب آئے اور جا کیوں رہے ہو خیریت تو ہے ؟ زبیدہ بیگم نے گھر میں قدم رکھا تو زرد چہرہ لیے سجاول پہ نگاہ پڑی جو واپس جا نے کے لیے دروازہ میں کھڑا تھا۔

جی خالہ وہ میں ےہاں سے گزر رہا تھا سوچا آپ سے ملتا چلوں،آپ تھیں نہیں اس لیے واپس جا رہا ہوں ،سجاول نے اصل بات چھپائی اور زبردستی مسکرایا لیکن سامنے زبیدہ بیگم تھیںاسکے چہرے پہ رقم دکھ محسوس کیا اور کھوجنے والی نگاہ اس پہ ڈالی

زوبارےہ نے کچھ کہا کیا ؟ زبیدہ بیگم نے تصدیق چاہی

نہیں ، سجاول نے کمال مہارت سے جھوٹ بولا اور گھر کا دروازہ پار کر گیا زبیدہ بیگم سب سمجھ گئیں تھیں،انکی بیٹی نا سمجھ ثابت ہوئی تھی جس نے اپنی خوشیوں میںخود ہی انگارے بھر دیے تھے سچے اور معصوم انسان کو ٹھکرا دیا تھا۔

            ٭٭٭

سجاول کے رشتے سے انکار کرنے کے بعد زوبارےہ پھر سے خوابوں میں ڈوب چکی تھی،اس پہ زبیدہ بیگم کی ملامت کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اسے اپنی خوشی عزیز تھی،زبیدہ بیگم نے آج کل اس سے بات چیت کرنا کم کر دی تھی اور ضرورت کے تحت ہی مخاطب ہوتیں۔

محلے میں زوباریہ کی ایک ہی دوست تھی نیلم۔جسکا کردار مشکوک تھا اور وہ تھی بھی کافی آزاد خیال۔ہر وقت فون پہ لڑکوں سے باتیں کرتی رہتی اور بازار کے چکر بھی ضرور لگاتی۔

آج زوبارےہ اسکے گھر آئی ہوئی تھی جبکہ زبیدہ بیگم نے روکا تھا لیکن وہ کہاں سننے والی تھی۔ےہاں آ کے ہی دم لیااور اپنے خیالات نیلم کے گوش گوار گزار تے ہوئے رائے طلب نگاہ اس پہ ڈال دی۔

میں تمہارے ساتھ ہوں ،تمہاری اپنی زندگی ہے۔اپنے خواب ہیں،کسی کو حق نہیں پہنچتا کے تمہارے خواب چھینے اور سجاول تو ویسے بھی مجھے اچھا نہیں لگتا تم نے اسے منع کر دیا بہت اچھا کیا،نیلم نے چائے کا کپ اسکے آگے رکھتے ہوئے مصروف انداز میں کہا تو زوباریہ کو مزید حوصلہ ملا

صرف تم ہی تو ہو جو میری بات سمجھتی ہو ورنہ امی تو مجھے عقابی نگاہوں سے گھورتی ہے۔تمہارے گھر آﺅں تو منع کرتی ہے،اب بتاﺅ کیا میں کھل کے سانس بھی نہیں لے سکتی ؟ زوبارےہ نے ترنت سے کہتے ہوئے منہ بنایا ۔

اس سے پہلے کہ نیلم جواب دیتی اسکا موبائل بج اٹھا ،کال اٹھاتے ہی نیلم کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھر گئی جب کے زوبارےہ نے نگاہیں وال کلاک پہ ڈال دیں اسے آئے کافی ٹائم گزر چکا تھا اب اسکا ارادہ گھر واپس جانے کا تھا

اتنی دیر بعد کال کیوں کی ؟ کب سے تمہاری کال کا انتظار کر رہی تھی ۔نیلم موبائل کان سے لگاتے ہی اس طرح بولی جیسے وہ کسی شساسا سے بات کر رہی ہو

کچھ دیر خاموش بیٹھی وہ کال کرنے والے کی بات سنتی رہی پھر ایک نگاہ زوبارےہ پہ ڈالی جو گھر جانے کے لیے اجازت طلب نگاہوں سے اسی کی جانب دیکھ رہی تھی

اچھا بات سنو ،میری سہیلی سے بات کرو گے ؟ بہت اچھی ہے ۔ نیلم بولی تو زوبارےہ اپنی جگہ سے اچھل ہی پڑی ،بھلے وہ ضدی تھی لیکن کسی اجنبی انسان سے بات کرنا اسے ہرگز گوارا نہ تھا جبکہ نیلم موبوئل فون اسکی جانب بڑھا چکی تھی ،

ےار لائف انجوئے کرو،اچھا انسان ہے کر لو بات اور دولت مند بھی ہے ،ےہ بات اس نے سرگوشی میں کہی تو نہ چاہتے ہوئے بھی زوبارےہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ موبائل فون کان سے لگا لیا جبکہ نیلم کسی کام کا بہانہ کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی

کیسی ہو آپ ؟ ایک نرم اورگمبھیر آواز زوبارےہ کی سماعت سے ٹکرائی تو اسکا دل نئی لے پہ دھڑک اٹھا وہ خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیرتے ہوئے بمشکل بولی

میں ٹھیک ہوں ، آپ کیسے ہیں ،آہستہ آواز میں بولتے ہوئے زوبارےہ خاموش ہوئی تو دوسری طرف جاندار قہقہ ابھرا ،

لگتا نہیں کے آپ نیلم کی دوست ہو ،وہ بلا کی پر اعتماد ،بولڈ اور آپ ڈری سہمی خوبصورت آواز کی مالک لڑکی،

زوبارےہ کو لگا جیسے وہ کوئی اور ہی دنیا میں پہنچ گئی ہو،اسے بات کرنا اچھا لگنے لگا۔مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا اور وہ بھی ہنسنے لگی

مسکرا مسکرا کے اسکی باتوں کا جواب دینے لگی،وہ ایک پل میں اجنبیت کا پردہ چاک کیے اپنائیت اور چاہت کا لبادہ اوڑھے دوسری ہی دنیا کی سیر کرنے لگی،جہاں پہ دولت تھی،پیار تھا،اور چاہنے والا ہمسفر ۔

پھر اکثر ہی ایسا ہونے لگا وہ بے قرار دل لیے نیلم کے گھر آنے لگی اور اس شخص سے کال پہ ڈھیروں باتیں کرتی،نیلم کی امی تک خاموش رہتی،ےا پھر سارا دن گھر سے باہر اس لیے وہ آزادی سے بنا خوف کے نیلم کا موبائل استعمال کرنے لگی۔نیلم بھی اسکا ساتھ دیتی ،پھر ےوں ہوا کے زندگی میں پہلی بار زوبارےہ نے امی کو بتائے بنا ہوٹل میں قدم رکھا اور نیلم کے ساتھ چلتے ہوئے اس شخص کے سامنے والی کرسی پہ جا بیٹھی،

وہ ایسا شخص تھا کے کوئی بھی لڑکی اسکا ساتھ پانے کی طلب گار ہو سکتی تھی،اسکی شخصیت سے امارت ٹپک رہی تھی،وہ شخص بھی زوبارےہ والہانہ نگاہیں ٹکائے ہوئے بیٹھا تھا۔وقت کیسے گزرا پتا ہی نہ چلا ۔دونوں میں عہد و پیماں ہوئے ،جبکہ حارث پہلے سے شادی شدہ مرد تھا،لیکن زوبارےہ کو اسکی دولت سے غرض تھی،اسکے خوابوں کی کھڑکی خوشیوں کی جانب کھلے گی اسے ےقین ہی نہیں ہو پا رہا تھا وہ نیلم کی شکر گزار تھی جس نے ان دونوں کی بات کروائی تھی ۔حارث نے شادی کا کہا تو و ہمزید ہواﺅں میں اڑنے لگ گئی ،۔ جلد ہی اس نے زبیدہ بیگم سے بات کرنے کی ٹھان لی۔

           ٭٭٭

زبیدہ بیگم سبزی فروش سے سبزی خریدنے میں مصروف تھیںکہ وہاں موجود ایک عورت نے دوسری عورت کے کان میں سرگوشی کی

زبیدہ کے چہرے پہ موجود سکون دیکھ کے لگتا ہے جیسے ےہ بھی بیٹی کے ساتھ ملی ہوئی ہے،کل بھی میرے میاں نے زوبارےہ کو ایک ہوٹل میں کھانا کھاتے دیکھا ساتھ میں ایک مرد تھا اور دوسری نیلم،،

انکی سرگوشی بھری آواز زبیدہ کی سماعت سے ٹکرائی تو خفت سے چہرہ سرخ ہو گیا آنکھوں میں نمی اتر آئی،سبزی وہیں چھوڑی اور بوجھل دل لیے گھر میں داخل ہوگئیں،جبکہ سبزی والا پکارتا رہا باجی سبزی تو لیتی جاﺅ لیکن سبزی کی فکر کسے تھی،جہاں بیٹیاں رسوا کروا دیں وہاں دم گھٹنے لگتا ہے،جان سانسوں میں اٹک جاتی ہے اور زمانہ جینے نہیں دیتا، وہ غصے بھرے انداز میں اندر داخل ہوتے ہی زوبارےہ کو پکارنے لگیں،

زوبارےہ،کہاں ہو تم ،مجھے منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا اور خود سکون میں ہو ؟ شرم نہیں آئی تمہیں ، زوبارےہ کی تلاش میں اِدھر ادھر نگاہیں گھماتے ہوئے انکی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

وہ کچن میں کھڑی چائے بنا رہی تھی کے زبیدہ کی آواز پہ ڈرتے ہوئے باہر صحن میں آ گئی،دل میں خوف سا پیدا ہوا،کیونکہ آج سے پہلے زبیدہ بیگم نے اسے اتنے غصے سے نہیں پکارا تھا،آج تو انکی آواز بھی اچھی خاصی بلند تھی اس لیے وہ سہمی نگاہوں سے روتی زبیدہ کو دیکھنے لگی،

زوبارےہ پہ نگاہ پڑتے ہی زبیدہ بیگم کسی چیل کی مانند اس پہ لپکی اور بے اختیار دونوں ہاتھوں سے اسے پیٹنا شروع کر دیا زوبارےہ اچانک اس افتاد پہ گھبرا سی گئی ،

امی چھوڑیں مجھے،ےہ کیا کر رہی ہیں آپ ؟ وہ خود کو بچانے کی کوشش کرنے لگی لیکن زبیدہ بیگم کی گرفت مظبوط تھی،انک آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا،زوبارےہ کو دائیں گال پہ ایک زوردار تھپڑ رسید کیا تو درد کی شدت سے اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے گال دہکنے لگا ۔

بتا کون ہے وہ ؟ جس سے تم ملنے جاتی ہو ؟ زبیدہ بیگم غم سے چور لیجے میں بولی تو زوبارےہ ساری بات سمجھ گئی،ےعنی امی کو معلوم ہو ہی گیا ےہ سب سوچتے ہوئے وہ گال سہلانے لگی اور مظبوط لہجے میں بولی،

چلو اچھا ہوا امی،آپکو معلوم ہو ہی گیا،اسکا نام حارث ہے،اور مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے،میں بھی اسے پسند کرتی ہوں،،بات مکمل کرتے ہی وہ نگاہیں جھکا گئی کیونکہ زبیدہ ناقابل ےقین نگاہیں اس پہ ٹکائے کھڑی تھی،

اچھا ہوا،تمہارا باپ ےہ دن دیکھنے سے پہلے ہی مر گیا،اگر زندہ ہوتا تو ضرور آج مر جاتا ،سب لوگ ہماری عزت پہ انگلیاں اٹھا رہے ہیں ،وہ بھی صرف تمہاری وجہ سے،ایک پل کی محبت کے لیے تم نے اپنے ماں باپ کی سالوں سے بنائی عزت داﺅ پہ لگا دی ،تمہارا دل نہیں پھٹا ؟ زبیدہ بیگم کے چہرے پہ حزن وملال بکھرا تھا ،وہ ویران آنکھوں سے اس بیٹی کو دیکھ رہی تھیں جسکو آج تک کسی شے کی کمی نہیں آنے دی،لیکن آج اسی بیٹی نے انکا مان چھینا تھا،

امی ہر انسان کو اپنی مرضی سے جینے کا پورا حق ہے،اور مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ۔میں آپکی طرح گھٹ گھٹ کے زندگی نہیں گزار سکتی،بس میں شادی کرونگی تو حارث سے ورنہ کسی سے نہیں،وہ ڈھٹائی سے بولتے ہوئے کمرے میں جانے لگی تو زبیدہ بیگم کی آواز سن کے رک گئی

تمہاری شادی اس سے ہرگز نہیں ہو سکتی،ےہ میرا ٹل فیصلہ ہے،اپنا سامان پیک کرو اور چچا کے گھر جانے کی تیاری پکڑو،اب ےہاں میں تمہیں ایک منٹ نہیں رکنے دونگی،تمہارے چچا نے بھی ارباز کے لیے تمہارا رشتہ مانگا ہے اور میں نے ہاں کر دی ہے،

ےہ الفاظ تھے ےا کوئی انگارے جو سیدھے زوبارےہ کے دل پہ لگے اور تن من جھلسا گئے ،اسکے چہرے کا رنگ تاریک ہوا اور دماغ میں جھکڑ سے چلنے لگے،وہ بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے زبیدہ بیگم کی جانب مڑی اور تنفر سے بولی،

،آپ نے اپنا فیصلہ سنا دیا اب میرا بھی سنیں ،اگر آپ نے میری شادی حارث سے نہیں کی تو میں اسکے ساتھ بھاگ جاﺅنگی،زوبارےہ کا لہجہ کافی جارحانہ تھا اور آنکھوں میں واضح بغاوت تھی ۔وہ باغی بنی زبیدہ بیگم کے سامنے ڈٹ گئی تھی،اور ےہ تک بھول گئی تھی وہ ماں ہیں،وہی جس نے بہت پیار سے پالا،اسکو کسی شے کی کمی نہیں آنے دی،مشکلات کے آگے خود دیوار بن کے کھڑی ہو گئیں اور ماےوسی و فکر کی سلگتی دھوپ اس پہ نہ پڑنے دی،چند لمحے کے پیار نے اسکو ماں کا قیمتی پیار بھلا دیا تھا۔

زبیدہ بیگم نے دہل کے اسے دیکھا،جو اپنی بات مکمل کرتے ہی تن فن کرتی کمرے میں چلی گئی تھی۔جس کو کوکھ میں پالا تھا وہی کوکھ میں آگ لگا رہی تھی،کاش تم نہ پیدا ہوتی،میں بے اولاد ہی رہتی تو اچھا تھا،وہ زاروقطار روتے ہوئے ڈوبتا دل لیے چارپائی پہ بیٹھ گئیں ،انہیں اپنی ہی بیٹی نے توڑ ڈالا تھا۔جب غم دینے والا اپنا ہو تو دوا بھی نہیں ملتی آرام بھی نہیں آتا انکے سینے میں بھی درد بڑھتا جا رہا تھا۔

            ٭٭٭

وہ پارٹی میں نہ چاہتے ہوئے بھی شریک ہوئی تھی۔چاروں جانب رنگ و بو کا سا عالم تھا۔چہرے پہ میک اپ کی تہہ جمائے گہرے رنگوں کے ملبوسات زیب تن کیے خواتین عجیب مزحقہ خیز دکھائی دے رہی تھیں۔حارث اپنے کولیگ کے ساتھ محو گفتگو تھا۔وہ کسی بات پہ ہنستے ہوئے بے اختیار قہقہ لگاتا تو وہ دیکھ کے افسردہ سانس خارج کرتی۔میرا جینا حرام کرکے موصوف خود انجوئے کر رہا ہے۔آج پارٹی میں نہ آنا ہوتا تو شاید ےہ اپنی پہلی بیوی کے پہلو سے چپکا ہوتا۔اور میرے پاس بھی نہ آتا۔ان گنت سوچوں میں گھری وہ حارث پہ نگاہ ڈالے کھڑی تھی۔جلد ہی اکتاتے ہوئے اس نے نخوت سے سر جھٹکا اور رخ دوسری جانب پھیر لیا۔جہاں کچھ مرد آپس میں سرگوشیاں کرتے اس کے سراپے کا جائزہ لینے میں مشغول تھے۔ان کی بے باک نگاہوں کی تپش کے زیر اثر اس نے سٹپٹاتے ہوئے ساڑھی کا پلو ٹھیک کیا اور جھنجلاہٹ بھرے انداز میں دوسرے کونے میں چلی آئی۔لیکن وہاں بھی چند خواتین ڈگمگاتے قدم لیے کسی گانے کی دھن پہ بے ڈھنگے انداز میں جھوم رہی تھیں۔ےہ منظر دیکھ کر وہ مزید بد مزہ ہوئی،جبکہ وہ ایسی ہی پارٹیوں کی خواستگار تھی لیکن آج اسے سب برا لگ رہا تھا۔دل چاہا ابھی ےہاں سے بھاگ جائے لیکن حارث کی وجہ سے خاموش کھڑی رہی۔اسکا پارہ تب ہائی ہوا جب ایک جھومتی ہوئی لڑکی حارث کے قریب آئی اور اسکا گال چھوتے ہوئے ڈانس کی پیشکش کی اور بغیر شش و پنج کے حارث مان بھی گیا۔مسکراتے ہوئے بانہیں اسکی کمر کے گرد حائل کیے جھومنے لگا۔

میں واپس جانا چاہتی ہوں،سر چکر ارہا ہے میرا۔وہ حارث کو شعلہ با ر نگاہوں سے دیکھتے ہوئے قریب آئی اور تیز آواز میں بولی۔

حارث نے لڑکی کو خود سے دور کیا اور معذرت کرتے ہوئے کھا جانے والی نگاہ اپنی بیوی پہ ڈالی۔

ےار کیوں تنگ کرتی ہو ،تم ایسا کرو بس کچھ دیر ویٹ کر لو پھر ہم چلتے ہیں ۔وہ عادت کے بر خلاف غصہ پیتے ہوئے نرم لہجے میں بولا تو اسکے چہرے پہ ناگواری پھیل گئی۔

بس جانا ہے مجھے،وہ ضدی پن سے بولی تو وہ ہار مانتے ہوئے سب سے معذرت کرنے لگا اور اسے بازو سے دبوچے کلب سے باہر لے آیا۔ویسے تو تمہیں بہت پسند تھی تمہیں ایسی پارٹیاں ؟ پھر تبدیلی کیسے آئی ۔ وہ طنزےہ مسکرایا اور چبھتے ہوئے لہجے میں بولتا ہوا گاڑی کا دروازہ کھولے اسٹیرنگ سیٹ سنبھال چکا تھا وہ بھی تپتے ہوئے ساتھ والی سیٹ سنبھال چکی تھی۔

مجھے اب ایسی پارٹیوں میں آنا بالکل پسند نہیں ،اور تم نہ جانے کس طرح لڑکیوں سے فری ہوجاتے ہو ،وہ استہزاےہ ہنسی ہنستے ہوئے بولی تو وہ سرتاپا سلگ گیا۔لیکن لبوں پپہ خاموشی کی دبیز چادر اوڑھے انہماک سے ڈرائیو کرتا رہا۔

مجھے امی کے گھر چھوڑ دو، وہ خاموشی کو توڑتے ہوئے ہمت کرتے ہوئے بول ہی پڑی،کیونکہ وہ جانتی تھی حارث امی کا نام سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ جاتا تھا۔

اسکی بات سن کے حارث نے بغور سخت نگاہ اس پہ ڈالی اور پیشانی پہ کئی ناگواری کے بل سجاتے ہوئے اونچی آواز میں بولا،

تمہیں روکا تھا ناں وہاں زیادہ جانے سے ؟ بس اب چپ رہو،میرے صبر کا امتحان مت لو وہ درشتی سے بولتا ہوا اسکا دل ہی توڑ گیا،اسکی آنکھیں نمکین آنسوﺅں سے بھر آئیں ،اس نے خشک لبوں پہ زبان پھیری اور نگاہیں جھکا تے ہوئے الفاظ جوڑنے لگی

پلیز آج جانے دو،وہ التجائیہ انداز میں گویا ہوئی تو حارث کے چہرے پہ پھیلی سختی میں مزید اضافہ ہوا اور وہ نخوت سے سر جھٹکتے ہوئے درشتی سے بولا،

ٹھیک ہے آج مل لو اپنی امی سے،لیکن پلیز مجھے بھی سمجھنے کی کوشش کرو،تمہاری ماں ہماری شادی کے حق میں نہیں تھی اس لیے میرے دل سے اتر گئی،اور میرے آگے بار بار اس ماں کا نام لے کے ڈسٹرب مت کیا کرو،وہ اس پہ حکم صادر کیے اسکی حالت سے بے نیاز ڈرائیو کرنے میں مگن تھا اور کار اسکی امی کے گھر جاکی طرف جانے والی روڈ کی جانب موڑ دی تھی۔وہ سر جھکائے اداس چہرہ لیے خاموش بیٹھی رہی بالکل بے جان گڑیا کی طرح جسے چابی سے چلایا جاتا ہو۔

اسکے خیال میں دیر سے سہی لیکن حارث نے اسے امی سے ملنے کی اجازت تو دی تھی۔دل میں وہ مکمل طور پہ حارث سے بد ظن ہو چکی تھی اور اسکا ارادہ امی کے گھر جا کے واپس نہ لوٹنے کا تھا۔

          ٭٭٭

سجاول کی شادی کی ڈیٹ فکس ہو چکی تھی،خالہ کارڈ دینے آئیں تو زوبارےہ کو نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے حسرت بھری آواز میں گویا ہوئیں، میرا سجاول واقعی بیوقوف ہے،زوبارےہ جیسی سگھڑ اور خوبصورت لڑکی کو ٹھکرا کے اپنے چاچا کی بیٹی عالےہ کو پسند کر لیا، توے پہ روٹی ڈالتی زوبارےہ نے حیران کن انداز میں خالہ کی جانب دیکھا جب کہ زبیدہ بیگم نے ملامت بھری نگاہ زوبارےہ پہ ڈالی،

کیا واقعی سجاول اتنا اچھا ہے،سارا الزام اپنے سر لے لیا اور میری عزت بچا لی،زوبارےہ شرمندہ ہوئی روٹی ڈالتے ہوئے سوچنے لگی ،لیکن اسکی شادی کا سن کے بوجھل دل کو قرار سا آ گیا ےعنی اسکا راستہ صاف ہو گیا تھا،

عالےہ بہت سگھڑ لڑکی ہے اور پڑھی لکھی بھی بہت ہے،سجاول سمجھدار ہے کہ عالےہ کا انتخاب کیا،زبیدہ بیگم نے اپنی بہن عبیدہ بیگم کو دیکھ کے نرمی سے کہا اور ایک کٹیلی نگاہ زوبارےہ پہ ڈالی،اپنی امی کی بات سن نے کے بعد زوبارےہ گڑبڑا سی گئی،اور انجان نظر آنے کی اداکاری کرنے کی کوشش کی،

بس بہن کیا بتاﺅں ،میرے دل میں ارمان تھا کہ زبارےہ میری بہو بنے لیکن ہوتا وہی ہے جورب سوہنڑے کو منظور ہو،عبیدہ بیگم نے عاجزی سے کہا تو زبیدہ بیگم سر ہلا کے رہ گئیں،اب وہ بہن کو کیسے بتاتیں کہ کھوٹ تو انکی اپنی بیٹی میں ہے،انکا بیٹا تو لاکھوں میں ایک ہے جسکا دل اتنا بڑا ہے کہ سارا الزام اپنے سر لے لیا،رشتے سے انکار زوبارےہ نے کیا جبکہ سجاول نے انکار کا لیبل اپنے اوپر سجا لیا،ےہ سب سوچتے ہوئے زبیدہ بیگم کی آنکھیں دکھ سے نم ہو گئیں ،سجاول کو داماد کے روپ میں نہ دیکھ پانے کاغم انکے چہرے پہ رقم تھا۔

لیکن اب ہو بھی کیا سکتا تھا ،کچھ ہی دیر میں عبیدہ بیگم نے اجازت چاہی اور شادی پہ آنے کی ےا دہانی کروائی تو نہ چاہتے ہوئے بھی زبیدہ بیگم نے جانے کی حامی بھر لی ۔

زوبارےہ نے کمرے میں جاتے ہی ٹرنک میں چھپایا موبائل نکالا اور حارث کو کال کرکے سجاول کی شادی کی خوشخبری سنائی ،حارث ےہ بات سن کے بہت ہی خوش ہوا کیونکہ اب انکا راستہ صاف ہو چکا تھا،وہ با آسانی زوبارےہ کو اپنی دلہن بنا سکتا تھا لیکن دوسرا مرحلہ ےہ تھا کہ وہ اپنے والدین کو کیسے مناتا،اگر وہ کنوارا ہوتا تب انہیں منانا آسان تھا ،امی تو پھر بھی مان جاتیں لیکن ابا جان بالکل نہ مانتے الٹا جائداد سے بھی عاق کر دیتے جبکہ پہلی شادی والدین کی کرضی سے کی تھی اور شرط ےہ رکھی تھی کہ دوسری اپنی مرضی سے کرونگا ۔تو بس اس نے امی کو منانے کا عہد کیا اور زوبارےہ کو پرسکون رہنے کا عندےہ دینے کے بعد کال بند کر دی،زوبارےہ کی آنکھوں میں اپنی من پسند زندگی گزارنے کے خواب اترنے لگے اور دل میں سکون اترتا چلا گیا۔جلدی سے موبائل ٹرنک میں واپس رکھا کیونکہ ےہ موبائل حارث نے اسے لے کر دیا تھا جو کہ زوبارےہ نے امی کی آنکھوں سے پوشیدہ رکھا ہوا تھا۔ اور جو لڑکیاں اپنی من مرضی کرتی کرتی ہیں وہ ندامت کے سوا کچھ نہیں پاتیں ،اندھیرے راستے پہ قدم رکھ دینے سے منزل روشن نہیں ہو پاتی نہ ہی سب کچھ ویسا ہوتا ہے جیسا دکھتا ہے۔

سجاول کی شادی کا دن بھی آن پہنچا ،زبیدہ بیگم زوبارےہ سے خفا تھی لیکن پھر بھی اسے ساتھ چلنے کا کہا ۔وہ کافی دل سے تیار ہوئی کیونکہ سجاول نے خود انکار کرکے اسکا سر جھکنے سے جو بچا لیا تھا ،وہ سوچ رہی تھی عالےہ بے حد عام شکل و صورت کی حامل غریب لڑکی ہو گی کیونکہ وہ سجاول کے ابو کی جانب سے رشتہ داروں کو زیادہ نہیں جانتی تھی اور اتنا زیادہ آنا جانا بھی نہیں تھا،لیکن سٹیج پہ دلہن بنی بیٹھی عالےہ کو دیکھ کر وہ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکی،وہ بہت خوبصورت تھی ،اور شرمگیں مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا ہوا تھا۔ہمیشہ عام سے شلوار قیض میں لبوس رہنے والا سجاول آج بلیک کلر کے تھری پیس سوٹ میں کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔وہ دونوں بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔زوبارےہ کو اپنا آپ انکے سامنے نہاےت چھوٹا لگنے لگا تو وہ تیز قدموں سے چلتی ہوئی سر درد کا بہانہ کیے اینڈ والی کرسی پہ جا بیٹھی ،زبیدہ بیگم نے بھی اس کے چہرے پہ پچھتاوے کا عکس دیکھا لیکن خاموش بیٹھی رہیں ۔واپسی پہ زوبارےہ بہت اداس تھی اسکے خیال میں خاندان بھر میں اسکے جیسی خوبصورت لڑکی موجود نہیں تھی لیکن عالیہ کے حسن اور تعلیم نے اسے مات دے دی تھی۔لیکن ایک بات اسکے لیے سکون بخش تھی کہ سجاول کے پاس دولت نہیں تھی ےہ خیال آتے ہی اسکے لبوں پہ طنزےہ مسکراہٹ بکھر گئی ۔گھر آتے ہی اس نے جیسے ہی موبائل آن کیا حارث کی کال آ گئی ۔حارث کی بات سنتے ہی زوبارےہ کا دل بے اختیار دھڑکاکیونکہ اس نے اپنی امی کو منا لیا تھا اور جلد ہی انکے گھر رشتہ لیکر آنے والا تھا اور اس نے ےہ بھی کہا تھا کہ اپنی امی کو بھی ہماری آمد کا پہلے سے بتا دینا اور ےہ بھی کہ میں پہلے سے شادی شدہ ہوں لیکن تمہیں خوش رکھوں گا۔

باقی سب تو ٹھیک تھا لیکن زوبارےہ امی کا سوچ کے پریشان ہو گئی کیونکہ زبیدہ بیگم بالکل نہ مانتی۔لیکن اب جو بھی کرنا تھا زوبارےہ کو کرنا تھا اس نے امی سے بات کرنے کی حامی بھری اور بات کر بھی لی۔زبیدہ بیگم کو جب ےہ بتایا کہ حارث شادی شدہ ہے تو اس نے زوبارےہ کو کافی ملامت کی۔

جو لڑکیاں کسی کا گھر اجاڑتی ہیں وہ کبھی خوش نہیں رہ پاتیں ،میں ہر گز تمہیں ایسا نہیں کرنے دونگی۔تمہاری شادی جنید کے ساتھ ہوگی کچھ دنوں تک تمہاری چچی اور چچا رشتہ لیکر آ رہے ہیں سمجھیں تم ؟ زبیدہ بیگم نے سختی سے کہا تو زوبارےہ خاموش رہی اور دل میں پیچ و تاب کھاتی حارث کو سب بتا دیا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کانچ کی محبت محمد عرفان رامے آخری حصہ 2

کانچ کی محبت محمد عرفان رامے قسط نمبر 2 جولی نے چند قدم ہی اُٹھائے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے