سر ورق / افسانہ / مقید روح۔۔۔ آمنہ  نثار

مقید روح۔۔۔ آمنہ  نثار

مقید روح

آمنہ  نثار

روح کا جسم سے نکل جانا ہی موت نہیں بعض اوقات روح جسم میں مقید ہوتی ہے پر ز ندگی نہیں…..ایک ایسا بوجھ ہوتا ہے جسے سہارتے سہارتے  انسان کا جسم نہیں بلکہ روح تهک جاتی ہے….پر جسم سے ناطہ نہیں ٹوٹتا …..تب روح اور جسم کا تعلق خاردار کانٹوں کی مانند ناقابل برداشت اور ازیت ناک ہو جاتا ہے……ایسا ناسور بن جاتا ہے جس کا علاج کسی طبیب کے پاس نہیں

….کسی ناسخ کے پاس نہیں……

شمع اس وقت ایسی زندہ لاش معلوم ہو رہی تھی   جو زندگی کی رمک سے عاری…..اس کے شوہر کو فوت ہوئے ایک مہینہ بیت چکا تھا  …ایک ایک پل قیامت سے کم نہ تھا….تین بیٹیاں ایک سات سال کی دوسری پانچ اور سب سے چھوٹی بیٹی دو سال کی تھی ….  …منٹ گھنٹوں اور گھنٹے دنوں میں بدلنے لگے ….

مگر شمع کے لیے تو جیسے وقت ٹهر گیا تھا
ہر گزرتے دن کے ساتھ  شمع کا یہ خیال شدت پکڑنے لگا کہ زمین بعض اوقات  پھیل جاتی ہے اور بعض اوقات سکڑتے سکڑتے ایک ڈبا نما کمرے کی شکل اختیار کر لیتی ہے…جس میں سانس لینا محال اور دم گھٹنے لگتا….

اور …..
زمین پر ہر طرف رینگتے ہوئے سانپ تیزی سے اپنی جانب بڑھتے ہوئے محسوس ہوتے جو اس کے  وجود کے گرد لپٹ کر رات کی سیاہی کو اور سیاہ کرنا چاہتے ہیں…… اسے ڈس کر اس کے خون سے لطفِ اندوز  ہو کر خود کو اس پر مسلط کرنے کی خواہش میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں…اور شمع کے  گرد دائره تنگ ہونے لگتا ہے….
زندگی بھی گلی کی طرح تنگ و تاریک اندھیروں میں ڈوبی ہوئی…..ایسی ہی کچھ حالت گھر کی بھی تھی. …چھوٹے سے دو تنگ و تاریک کچن نما کمرے…..ایک کمرے میں دو چارپائیاں جو بمشکل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر بچھائی ہوئی تھیں. ..دوسرے کمرے میں چٹائی بچهی تھی جو جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی اور میلی تھی  جسے دیکھ کر کراہت محسوس ہوتی….
دیواروں سے جابجا اکهڑا ہوا پلستر
مکمل گٹهن زدہ ماحول کا نقشہ دکھا رہا تها……
مگر جب انسان کے اندر کهٹن کا بسیرا ہو تو باہر کی کٹھن محسوس نہیں ہوتی…. بلکہ دب جاتی ہے…شاید وقت اور حالات کے سامنے محسوسات بھی خواہشات اور جذبات کی طرح دم توڑ دیتی ہیں…مگر انسان مجبوراً خود کو زندگی کے بے ہنگم سفر پر گھسیٹا چلا جاتا ہے..کیوں کہ زندگی کا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے اسے ہم بانٹ نہیں سکتے…قدم ڈگمگائیں یا سانسوں کی ڈوری الجھنے لگے خود کو سمجھانا پڑتا ہے…کیوں کہ بھوک بہت ظالم ہوتی ہے کسی منطق ،دلیل کو نہیں مانتی جب پیٹ میں بھوک سے انگارے پھوٹنے لگیں تو صرف ان کی تپش محسوس ہوتی ہے باقی  تمام جذبے سرد پڑه جاتے ہیں. …شمع نے بھی سرد جذبوں کو کریدتے کریدتے بچوں اور اپنے پیٹ کی خاطر لوگوں کے گھروں میں کام کرنا شروع کر دیا ….
پڑهی لکھی نہ تھی لیکن اچھے نقوش کی مالک….بڑی بڑی آنکھیں ہلکے گلابی ہونٹ جو اب کسی حد تک سیاہی مائل اور چہره مرجھا گیا تھا. …مگر وہ مرجھایا ہوا چہره بھی خزاں رسیدہ پتے کی طرح بهلا لگتا….
ایک روز شمع کام سے واپس آ رہی تھی کہ گلی کے نکر پہ کامران عرف کامی اپنے چند آوارہ دوستوں کے ساتھ کھڑا نظر آیا….شمع کو دیکھتے ہی اس نے اپنی بڑی بڑی مونچهوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے جملہ کسا….
” سنا شمع کس آنگن کو روشن کر رہی آج کل کبھی ہمارے غریب خانے میں بھی آ جا”
اور…..
دوستوں کے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہوئے مکرو سا قہقا بلند کیا….
شمع منہ میں کچھ بڑبڑائی ….جسے وہ سننے سے قاصر رہا….اور مونچھوں کو مڑورتے ہوئے بولا….
سن تو تیرے ہی بھلے کی کہتا ہوں
ورنہ تو مجھے تو جانتی ہی ہے…ساتھ ہی قہقہ لگایا جس سے اس کی باچھیں کهل گئ اور پیلے دانت اور سیاہ رنگت جس سے وہ خوفناک بلکہ بھیانک نظر آنے لگا…..
کون نہیں جانتا تجه کمینے کو…
جہاں اکیلی  عورت دیکھی رال ٹپکاتے ہوئے پہنچ جاتا ہے….
غصہ تھوک دے شمع….
اور آگے بڑھتے ہوئے شمع کا ہاتھ پکڑ تے ہوئے بولا….
یہ خوبصورت  ہاتھ لوگوں کے برتن مانچهنے کے لیے ہیں کیا پگلی. ..
شمع ہاتھ چهوڑانے کی کوشش کرنے لگی. …
کامی کان کهچهاتے ہوئے کچھ سوچنے لگا….اور  تھوڑی دیر تک بولا….
اگر تو چائے تو تھوڑی محنت سے زیادہ پیسہ کما سکتی ہے بس تھوڑا سا………….
میں آج ہی بیگم  سے بات کر لوں گا تجھے پاه کر بہت خوش ہو گی…
بیگم  تجهے تراش کر ہیرا بنا دے گی
شمع غصے سے بولی …. مردود آئندہ اپنی شکل نہ دیکھانا مجھے. …
میں برتن دھو لوں گی پر عزت کا سودا کر کے بچوں کے منہ میں حرام کا نوالہ نہ ڈهالوں گی
شمع نے حتمی انداز میں کہا…
یہ سنتے ہی کامی نے زور دار قہقہ لگایا
شمع تو بھی نہ……

بس کر…..

کیوں حرام حلال کے چکر میں پڑتی ہے…

اور عزت ہاہاہاہا

غریب کی کون سی عزت اس کی تو بھوک ہوتی ہے   بس بھوک
بھوک کا لفظ فضا میں  دیر تک گونجتا  رہا…..
خیر  جب بھی آنا چائے بیگم کا کوٹها تیرے لیے کھولا ہے..
لعنت بهجتی ہوں تجھ پہ اور تیری  بیگم کے کوٹھے پر یہ کہتے ہی شمع نے حقارت آمیز نظروں سے کامی کو دیکھتے ہوئے زمین پر تھوکا اور تهکے ہارے قدموں سے وجود گهیسٹتے ہوئے تنگ گلی کی طرف بڑھنے لگی جو قدرے تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی
دھیرے دھیرے شمع نظروں سے اوجھل ہونے لگی اور گلی کے آوارہ کتوں کے بهوکنے کی آوازیں دور تک سنائی دے رہی تھیں. ….
شب و روز مشکل سے ہی صحیح لیکن گزار رہے تهے. …
آج شمع بہت خوش تھی
خوش کیوں نہ ہوتی اسے آج تنخواہ ملنی تھی……   پورے مہینے کے حساب کتاب سے متعلق سوچا کب کہاں کیسے کتنا خرچ کرنا ہے …
سوچ رہی ہوں اس ماہ ثمن کے جوتے لے دوں اس کے جوتے پهٹ چکے ہیں پاؤں کا انگوٹھا  جوتے سے باہر جھانک رہا ہوتا ہے..سمرین کو کپٹرے
بنا دوں اور نمرہ کو گڑیا…
نمرہ کب تک عینی کی گڑیا کو دیکھ کر روتی رہے گی
گڑیا سے متعلق سوچتے ہی آنسو موتیوں کی صورت بہنے لگے
شمع خیالوں سے چونکی اف خدا دوکان دار کا قرض بھی تو دینا ہے
وہ مویا روز بروز قرض بڑھاتا ہی جا رہا ہے
مہنگائی تو ہم غریبوں کے تعاقب میں چلی آتی ہے
سوچوں کا تانا بانا ساجد صاحب کی کوٹھی کے سامنے ٹوٹا ….گیٹ کے ساتھ کیاری میں لگے رنگ برنگے پھولوں کو دیکھ کر طبعیت خوشگوار ہو گئ….
شمع نے جلدی سے گهر کے کام ختم کیے اور چوکیدار سے بیگم صاحبہ کے بارے میں  پوچھا
چوکیدار تفتیش ناک نظروں سے شمع کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
بیگم صاحبہ کسی تقریب میں گئ ہیں
کب آئیں گی شمع نے آگلا سوال داغ دیا…
چوکیدار ہارن کی آواز سنتے ہی  گیٹ کی طرف لپکا
اور ساجد صاحب گھر میں داخل ہوئے….
شمع جو  کچھ دیر پہلے مایوس ہو گئ تهی  صاحب کو دیکھتے ہی خوش ہو گئ
چلو شکر ہے صاب آ گئے ہیں تنخواہ مل جائے گی..
شمع تھوڑی دیر  بعد صاحب کے دروازے پہ دستک دے رہی تھی
اندر سے آواز آئی آ جاو
شمع جھجکتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئی
سلام صاب
اور جواب کا انتظار کیے بغیر اپنا مدعا بیان کر دیا
ساجد صاحب سر سے پاؤں تک جائزه لیتے ہوئے بولے
دے دیتے ہیں اتنی جلدی کس بات کی ہے
جاو پہلے اچھا سا ایک کپ چائے بنا لاو
شمع جلدی سے چائے بنا لائی….
اسے آج ہر کام کی جلدی تھی
وہ خیالوں ہی خیالوں میں اپنے ہاتھ میں پیسے اور  بچوں کے بدن پہ لباس اور چہرے پہ خوشی دیکھ رہی تهی. …..

کہ….

ساجد صاحب شمع کا ہاتھ پکڑ کر اسے قریب کرتے ہوئے بولے
یہ کچن کے کام تمہارے کرنے کے نہیں ہیں
تم صرف میرے آرام  کا خیال رکھ لیا کرو
اور معنی خیز انداز میں مسکرائے. ..
اس مسکراہٹ میں کامران عرف کامی کا قہقہ سنائی دینے لگا……
آف خدا یہ کیا ہو رہا ہے…
صاب کے چہرے پہ کامی کے نقش ابھرنے لگے ہیں…
اور صاب کی مسکراہٹ میں کامی  کے مکروه قہقے کی جھلک دکھائی دے رہی…..
صاب یا کامی آف خدا یہ کیا ہو رہا ہے یہ دونوں تو کهٹ مڈ ہو رہے ہیں
یہ دونوں تو ایک ہی لگ رہے…..افففف
نہیں نہیں
ایک کیسے فرق ہے….
ہاں  ہاں فرق …
کشمکش جاری تهی کہ کمرے کے بند ہونے کی آواز نے جهنجوڑ دیا….

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ریجیکشن۔۔۔مدیحہ ریاض

ریجیکشن۔۔ مدیحہ ریاض  زندگی اس کی جہنم نہیں تھی مگر سکون بھی نہ تھا ۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے