سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر9

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر9

بے رنگ پیا

امجد جاوید

قسط نمبر9

۔آیت اس کی طرف کی دیکھتی رہی، جب تک وہ نگاہوںسے اوجھل نہیں ہو گیا، پھر اس نے صوفے سے ٹیک لگا لی۔ اس نے یوں پر سکون انداز میں آ نکھیں بند کر لیں جیسے کوئی بہت بڑا بار اس کے سر سے اُتر گیا ہو ۔وہ کتنی ہی دیر تک آنکھیں موندے یونہی بیٹھی رہی۔اس نے اس وقت آ نکھ کھولی جب آفس بوائے چائے کے خالی مگ اٹھانے آ یا ۔وہ اٹھی اس نے میز پر سے پرس اٹھایا ، انٹر کام پر ہدایات دے کر چل دی ۔

پورچ میں اس کی گاڑی موجود تھی ۔ اس نے بیٹھتے ہی ڈرائیور سے فارم ہاﺅس چلنے کا کہا تو گاڑی چل دی ۔وہ اپنے خیالوں میں کھو گئی ۔ اس کے چہرے پر بشاشت تھی ۔وہ ارد گرد دیکھنے کی بجائے گہرے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔یوں لگ رہ تھا جیسے وہ کسی نامعلوم نکتے پر سوچ رہی ہو یا پھر آنے والے وقت کے مناظر میں کھوئی ہوئی ہو۔اسے پتہ ہی نہیںچلا وہ کب فارم ہاﺅس پہنچ گئی ۔

جب تک وہ لاﺅنج میں بیٹھی رابعہ بھی کچن میں سے نکل کر وہاں آ گئی ۔آیت چونکہ یونہی اچانک آ جایا کرتی تھی ، اس لئے رابعہ نے بڑے نارمل انداز میں پوچھا

” چائے لاﺅں ؟“

”سرمد کے لئے لنچ تیار ہوگیا ہے؟“ اس نے جواب دینے کی بجائے پوچھا

” ہاں ،تیار ہے، بس وہ بھی تھوڑی دیر میں آ نے والا ہوگا۔ ڈرائیور گیا ہے اسے لینے ۔“ رابعہ نے بتایا تو وہ سوچتے ہوئے بولی

”اچھا ،تم چائے کا کہہ کر آ جاﺅ ، سرمد کے آ نے سے پہلے میں تم سے ایک بہت ضروری بات کرنا چاہتی ہوں ،بس جلدی سے آ جاﺅ ۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ پلٹتے ہوئے دھیرے سے بولی

” جی اچھا ، میں ابھی آ ئی ۔“

رابعہ لاﺅنج سے باہر چلے گئی تو آ یت صوفے پر سمٹ کر بیٹھے ہوئے پھر خیالوں میںکھو گئی ۔یہاں تک کہ چند منٹ بعد وہ واپس آ کر اس کے پاس صوفے پر آ ن بیٹھی۔ تب آیت نے اس کی طرف دیکھا اور نہایت سنجیدگی سے بولی

” رابعہ ۔!میں جو کچھ تمہیں کہنے جا رہی ہوں ،اسے غور سے سننا اور کوئی فوری فیصلہ دینے کی بجائے بہت سوچ کر جواب دینا۔“

آیت کے یوں کہنے پر رابعہ نے بڑے غور سے اُس کے چہرے پر دیکھا۔آیت کے انداز سے وہ سمجھ تو گئی تھی کہ کوئی بہت ہی اہم بات ہے ورنہ اس نے کبھی یوں نہیںکہا تھا۔بلاشبہ کوئی بہت ہی خاص بات ہے جس کے لئے آ یت کو یوں تمہید باندھنے کی ضرورت محسوس ہو ئی ۔اس کے ذہن میں کئی سارے خیال گھوم گئے ۔ایسا ہوتا ہے نا کہ انسان جب اپنے بارے میں سوچتا ہے ، آ نے والے وقت کے بارے میں تجزیہ کرتا ہے ۔تب بہت سارے مثبت اور منفی خیال آتے ہیں۔ مستقبل کے اچھے اور برے منظر دماغ دکھاتا ہے ۔ کمزوریوں اور کوتاہیوں کی بنیاد پر ، طاقت اور اچھائیوں کو مرکز بنا کر کھلی آ نکھوں سے بہت خواب دیکھتا ہے ، بہت سارے منظر نگاہوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔پھر وہی خواب، منظر اور سوچیںبندے کو ڈرا دیتی ہیں اور طاقت ور بھی بناتی ہیں ۔رابعہ ان لمحات میں کسی ایسی ہی الجھن میں جا پڑی تھی ۔ پھر جیسے اسے ہوش آ گیا کہ آ یت نے اس سے بات کرنی ہے ، وہ بات کیا ہے ۔ اس لئے پوچھا

” ایسی کیا بات ہے آیت ، پہلے کبھی تم نے اس انداز سے بات نہیںکی؟“

” بات ہی کچھ ایسی ہے۔ “ اس نے مسکراتے ہوئے کہا، پھر سنجیدہ لہجے میںبولی،”میں جو کچھ بھی کہنے جا رہی ہو ، وہ تمہاری بھلائی کے لئے ہوگا،دوسرا میرے بارے میں ایک ذرا سی بھی بدگمانی نہ کرنا، اس لئے مجھے یہ تمہید باندھنے کی ضرورت محسوس ہوئی ۔“

” بات کیا ہے ؟“ اس نے لرزتے ہوئے لہجے میں پوچھا تو چند لمحے اس کی طرف دیکھتی رہی پھر دھیمے سے لہجے میں بولی

” میں تمہاری شادی کر رہی ہو ں۔“

اس کے یوں کہنے پر رابعہ ہونق سی ہو گئی ۔جیسے اسے سمجھ ہی نہ آ رہا ہو کہ یہ بات کیا کہہ دی گئی ہے۔ پھر سرسراتے ہوئے لہجے میںبولی

” یہ تم کیا کہہ رہی ہو ؟“

” میں ٹھیک کہہ رہی ہو ں۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

”تم نے سوچا، سرمد کا کیا بنے گا ؟ اسے کون ….“ رابعہ نے کہنا چاہا تو وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی

” اسی کے لئے تو کر رہی ہو ۔میں نہیںچاہتی کہ اس کی زندگی میں کوئی خلا رہ جائے ۔“

” میری شادی ، سرمد کی زندگی کا خلا، یہ میں نہیں سمجھ سکی تم کہنا کیا چاہ رہی ہو ؟“ رابعہ نے حیرت سے پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے بولی

” سرمد بھی تمہارے پاس رہے گا ،اور تمہارا ہونے والا شوہر سرمد کاکہیں بڑھ کر خیال رکھے گا ، بلکہ تم دونوں کا ہی ۔ایک خاندان کی طرح تم پھر سے جی سکو گی ۔“

 ” کون ہے وہ جو اتنا خیال رکھ سکے گا ، میرے سرمد کو بھی قبول کر لے گا ، کیا انہونی بات کر رہی ہو ؟“ رابعہ نے پھر حیرے زدہ لہجے میں پوچھا

” تمہیں شاید یہ بات انہونی لگے گی ، لیکن میرے لئے نہیںہے ۔‘ ‘یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہو ئی ، پھر سر پرائز دینے والے لہجے میں پوچھا،” جانتی ہو تمہارا ہونے والا شوہر کون ہو گا؟“

” مجھے یہ سب سمجھ میں نہیںآ رہا اور تم مجھ ….“

” میں بتا تی ہو ں۔تمہارا ہونے والا شوہر ہے طاہر حیات ۔“ جس طرح ہی آ یت کے لبوں سے یہ لفظ نکلے اور رابعہ کے کانوں تک پہنچے تووہ سکتے میں آ گئی ۔ وہ کتنے لمحے اس کی طرف پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی رہی ۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہ ہو رہا ہو۔ اس کی آنکھوں بھر آ ئیں، پھر یوں بولی جیسے اس کی آواز کسی گہرے کنویں سے آ رہی ہو ۔

” میں ایسے کسی مذاق کی توقع کم از کم تم سے نہیں کر سکتی یا مان لو کہ تم آج انہونی باتیں کر رہی ہو ۔“

” ایسا کچھ بھی نہیںہے۔ میں تم سے مذاق نہیں رہی ہو ں بلکہ حقیقت بیان کر رہی ہو ں۔“ اس نے نہایت تحمل سے کہا تو اس نے قدرے تیکھے لہجے میں پوچھا

” لیکن یہ پوچھے بنا کہ میں اس شادی کے لئے تیار بھی ہو سکتی ہوں یا نہیں؟“

 ”کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ میں تمہارے لئے کبھی بھی غلط یا برا سوچ سکتی ہوں؟“ آ یت نے پوچھا

” لیکن کہاں طاہر اور کہاں میں، پہلی بات تو یہ ہے کہ کیامیں اس قابل ہوں ؟ دوسری بات کہ میں یہاں سکون سے عزت کے ساتھ رہ رہی ہوں، کیا مجھے وہ عزت ….“ اس نے کہنا چاہا لیکن آ یت نے اس کی بات پوری ہی نہیںہونے دی ۔ درمیان ہی میں بولی

”تم ایسا کیوں سوچ رہی ہو ۔ تم یہ سوچو کہ تم میرے ساتھ جڑی ہو ئی ہو ۔ تم مجھ سے الگ نہیںہو ۔“

” لیکن پھر بھی وہ ….“ وہ کہتے کہتے رُک گئی تو آ یت اسے سمجھاتے ہوئے بولی

”جو بھی خدشہ تمہارے ذہن میں اٹھ سکتا ہے ، وہ سب میں نے پہلے سوچا ہے ۔ تمہاری شادی ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ میں تم سے جدا ہو جاﺅں گی ۔تمہیں وہی عزت اور مقام ملے گا جس کی تم حقدار ہو کیونکہ تم سرمد کی ماں ہو ، تم نے پیدا کیا ہے سرمد کو ۔ تمہاری عزت اور مقام کہیں بڑھ جانے والا ہے ۔“

” لیکن میری شادی ہی کیوں ؟“ اس نے انتہائی الجھن میں پوچھا

”سر مد ، یہ سب کچھ میں سرمد کے لئے کر رہی ہوں، کیاتم نہیں چاہتی ہو کہ تم سرمد کے لئے کوئی بہت اچھا کرو؟“ آ یت نے وضاحت کرتے ہوئے پوچھا۔ اس پر رابعہ سر جھکائے چند لمحے سوچتی رہی ، پھر معذرت خواہانہ لہجے میں بولی

” ایک بات پوچھو ا ٓیت، اگر تم برا محسوس نہ کرو تو ؟“

” پوچھو۔“ اس نے مسکراتے ہوئے تحمل سے کہا

”ہم دونوں ہی جانتی ہیں کہ طاہر تم پر ہزار جان سے فدا ہے ، وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔تم کیوں نہیں اس سے شادی کرنا چاہتی ہو؟ اور وہ کیسے مجھ جیسی ایک عام سے عورت سے شادی کرے گا ؟“

” میںنے کہانا، وہ نہ صرف تم سے شادی کرے گا ، بلکہ تمہیں وہ عزت و احترام دے گا ، جو تمہارا حق ہے ، اور جس کے بارے میں تم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا۔ یہ کیسے کیوں سب مجھ پر چھوڑ دو ۔“ آ یت نے پھر اسے تحمل سے سمجھایا

” مگر میری بات تم پھر گول کر گئی ہو کہ وہ تم سے شادی کیوںنہیںکرنا چاہتا یا تم اس سے کیوں نہیں؟“ رابعہ نے اسے یاد دلایا

”کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں ، جنہیں کہا نہیںجاتا،بس تم اس سے شادی کر لو ۔“ آ یت نے حتمی لہجے میں کہا، اس سے پہلے کہ رابعہ کوئی جواب دیتی یا کوئی نیا سوال پوچھتی ، پورچ میں کار رُکی اور اس کے ساتھ ہی سرمد اندر آ گیا۔اسے باہر کھڑی ہو ئی گاڑی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ آ یت آ گئی ہو ئی ہے ۔ جیسے ہی سرمد کی نگاہ آ یت پر پڑی وہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آ کر سینے سے لگ گیا۔آ یت نے اسے یوں بھینچ لیا جیسے اسے ملے ہوئے برسوں بیت گئے ہوں ۔اس نے سرمد کے ماتھے پر بوسہ دیا۔ تب اس نے الگ ہوتے ہوئے پوچھا

” بڑی اماں آ پ کب آ ئے ؟“

” ابھی تھوڑی دیر پہلے۔تم نے فون کیا تھا نا کہ میں آ ﺅں تو آ گئی ۔“آیت نے بچوں کی طرح خوش ہو تے ہوئے کہا تو سرمد بولا

”میںنے صبح فون کیا تھا۔“ اس نے یوں کہا جیسے اسے یاد آ گیا ہو

 ” ہاں نا ، میں نے سوچا، تم اسکول سے ہو آ ﺅ ، میں ذرا دفتر میں تھوڑے کام نمٹا لوں ،پھر میں آ جاﺅں گی تمہارے پاس ۔ اب بولو کیا بات ہے؟“ اس نے سرمد کے چہرے دیکھتے ہوئے کہا ۔ اس دوران ڈرائیور نے سرمد کا سکول بیگ ایک صوفے پر رکھا اور واپس پلٹ گیا۔رابعہ ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔ سرمد اس سے الگ ہو کر اس کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔پھر سوچتے ہوئے اداس لہجے میں بولا

” کچھ نہیں ۔“

” یہ کیا بات ہوئی بھلا، بولو بات کرو ۔“ آ یت نے تڑپ کر پوچھا

” نہیں میں نہیں۔“ سرمد نے روٹھے ہوئے انداز میں کہا

” اچھا، میں سمجھ گئی،اب اگر میں تمہیں سرپرائز دوں تو ؟“ آ یت نے خوشگوار لہجے میں پوچھا

” سچ میں ….“ وہ کھل اٹھاتو آیت انتہائی خوشدلی سے بولی

” بالکل ، آپ کہو اور میں نہ مانوں ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔“

” تو پھر کیا ہے سرپرائز بڑی ماما؟“ اس نے اشتیاق سے پوچھا

”آپ مجھ سے پوچھتے رہتے ہو ناکہ میرے پاپا کیوں نہیںہیں۔“ اس نے خوشگوار انداز میںکہا

” ہاں بڑی ماما۔“ اس نے حیرت اور اشتیاق سے کہا

” تو پھر آپ کے پاپا، آ گئے ہیں اور وہ بہت جلد تم سے ملنے والے ہیں۔“اس نے ڈرامائی انداز میں کہا تو وہ انتہائی خوشی سے اچھلتے ہوئے بولا

” سچ بڑی ماما؟“

” پہلے کبھی آپ کی بڑی ماما نے جھوٹ بولا ہے؟“ وہ پیار سے سرمد کے بال سنوارتے ہوئے بولی

”نہیںبڑی ماما، آ پ نے کبھی جھوٹ نہیںبولا۔“ سرمد نے آ نکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا

 وہ اس کے چہرے پر دبی دبی خوشی کا اظہار دیکھتی رہی اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولی

” بس پھر ، ایک دو دن کی بات ہے۔ آ پ کے پاپا آ جائیں گے ۔“

اس پر سرمد اس سے الگ ہوتے ہوئے جوش سے بولا

” تو میںنا، اپنے کلاس فیلوزکی طرح اپنے پاپا کے ساتھ باہر سیر کرنے جایا کروں گا ،فاسٹ فوڈ کھانے جاﺅں گا ،وہ مجھے سکول لینے آ ئیں گے ، مجھے سکول بھی چھوڑا کریں گے۔میںان کے ساتھ گیم بھی کھیلوں گا ،نئے کارٹون بھی لوں گا ان سے ۔کتنا مزہ آ ئے گا نا “

 سرمد کے لہجے میں جوش ،خواہش اورشوق امنڈتا چلا آ یا تھا ۔ اس پر آ یت نے سامنے بیٹھی رابعہ کی طرف دیکھا۔ اس کی آ نکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ کچھ کہے بنا وہ اثبات میں سر ہلانے لگی تو آ یت نے سرمد سے کہا

”بالکل ایسا ہی کرنا ، بلکہ جو دل چاہے کرنا، اب جاﺅ چینج کرو ، پھر لنچ کے بعد باتیں کرتے ہیں۔“

” جی بڑی ماما۔“ اس نے کہا اور اندر کی جانب چل پڑا۔ رابعہ بھی اٹھ کر اند رکی طرف چلی گئی ۔ آ یت نے طویل سانس لیا اور صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر آ نکھیں بند کر لیں۔

ز….ژ….ز

اس دن ذیشان رسول شاہ صاحب کے کمرے کا ماحول خوشبوﺅں میں بسا ہوا تھا۔دودھیا روشنی میں کمرے کی ہر شے روشن تھی۔وہ صوفے پر براجمان تھے ۔ ان کا چہرہ بہت تروتازہ تھا۔ بالکل سامنے کے صوفے پر طاہر بیٹھا ہوا تھا۔طاہر کی حالت کوئی اتنی اچھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ بنا تیاری کئے یونہی اٹھ کر آ گیا ہو ۔اس کے چہرے پر وہ بشاشت نہیں تھی جو اس کی وجاہت کا خاصہ تھی۔شاہ صاحب اس کی طرف دیکھ کر لبوں میں مسکرا دئیے تھے۔ان کے درمیان اِدھر اُدھر کی باتیں چل رہی تھیں۔ ان باتوں میں ایک طویل وقفہ آ گیا تو خاموشی چھا گئی ۔ تب شاہ صاحب نے فرمایا

” سنائیں کیا احوال ہیں آپ کے ، لگتا ہے کوئی الجھن میں ہیں آ پ؟“

” جی الجھن میں تو ہوں،میں حتمی فیصلہ بھی کر چکا ہوں لیکن کہیں اندر سے مطمئن نہیں ہو پارہا نہ جانے کیوں ؟“ اس نے صاف کہہ دیا

” میں آپ کی الجھن نہیں پوچھتا اور نہ ہی ہم اس پر بات کریں گے کہ فیصلہ درست ہے یا غلط ، ہاں اگر اس بارے کوئی بات کرنا چاہیں تو ہم بات کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے متانت اور سکون سے فرمایا

ان کے یوں کہنے پر طاہر ذرا سا کسمسایا اور پھر دھیمے سے لہجے میں بولا

”کیا مستقبل میں جھانکا جا سکتا ہے ؟“

 ” بالکل دیکھا جا سکتا ہے ۔“انہوں نے سکون سے کہا

”میں اپنے مستقبل میں دیکھنا چاہتا ہوں ، کیا مجھے آپ دکھا سکتے ہیں؟“ اس نے تیزی سے پوچھا تو شاہ صاحب انتہائی سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھنے لگے پھر لمحہ بھر بعد ہی مسکراتے ہوئے بولے

 ”میں دکھا سکتا ہوں یا نہیں، یہ بات اپنی جگہ لیکن آپ ایسا کیوں چاہتے ہیں؟“

” میں سمجھنا چاہتاہوں ، جو میں نے فیصلہ کیا ہے اس کے بارے میں تصدیق بھی چاہتا ہوں۔“ طاہر نے تذبذب میں کہا تو شاہ صاحب چند لمحے سوچتے رہے پھر بولے

” میں آپ کی حالت کو سمجھ گیا ہوں، کیوں نا آ پ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے ہم تھوڑی باتیں کر لیں۔“

” جی بالکل ۔“ اس نے تیزی سے کہا تو شاہ صاحب بولے

”جس طرح بہت سارے پر وفیشن ہیں، مطلب وکالت ، تدریس ، انجینئرنگ، ڈاکٹری وغیرہ یہ سارے ضرورت کے تحت وجود میں آئے ۔ بحث یہ نہیں کہ یہ فطری پروفیشن ہیںیا غیری فطری ،کسی بھی پروفیشن کے بارے میں حتمی نہیں کہا جا سکتا ۔ لیکن۔! یہ پروفیشن اپنا وجود رکھتے ہیں اور ان کی ضرورت ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ یہ کبھی نہیںہوا کہ مدرس کی لائن کو وکیل سمجھ رہا ہے یا وکیل کے پیشے کو ڈاکٹر جانتا ہے یا ڈاکٹر کاکام انجینئرکو آ تا ہے۔ یہ سبھی ڈگری ہو لڈر ہیں۔ پڑھے لکھے تعلیم یافتہ ہیں۔ لیکن ،جب بھی عدالت کا کام ہوگا تو وہاں وکیل کی ضرورت پڑے گی ،اس سے بھی زیادہ پڑھا لکھا پروفیسر وہاں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ بندہ بیمار ہو جائے تو وہاں ڈاکٹر نے کام کرنا ہے ، وکیل کچھ نہیںکر سکتا ۔ یہ ایک نظام ہے جو قدرت کی منشاءسے بن گیا ہے۔اس سے یہ بات سامنے آ تی ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انسان تمام علوم پر قادر نہیں ہے ۔“

”جی ایسا تو ہے ۔چاہے انسان میں باوجود تمام صلاحیتیں جوانسان کے اندر ہیں اور تربیت سے انہیں اجاگر کیا جا سکتا ہے ، مگر پھر بھی وہ سارے کام نہیںکر تا۔“ اس نے سکون سے کہا

” جی بالکل ، اب ہر پروفیشن بنیادی طور پر ایک ضرورت کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہر علم کی انتہا ایک جیسی ہے ۔ مختلف علوم ہیں اوران کی مختلف شاخیں ہیں ۔ایک علم کی منتہا دوسرے علم سے الگ ہے ۔ دیکھیں ۔!ہر انسان ایک خیال لے کر آ تا ہے ۔ لیکن ایسا کیوں نہیںہے کہ ہر شخص اس خیال کی گہرائی تک پہنچ سکے؟ اب جیسے آ نے وقت کا ادارک ہی لے لیں، وہ نہیں کُھلتا ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ مخصوص لوگ ہیں، وہ دیکھ سکتے ہیں۔ مستقبل کے بارے میں کہی ہوئی بات پوری کی پوری سچ ثابت ہوتی ہے ۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ ایک مخصوص میدان ہے ۔ اس مخصوص میدان میں جائے بنا اُس کی حقیقت کو نہیںپا سکتے، کیونکہ اس کا تعلق آسمانی علم سے ہے ۔“ شاہ صاحب نے کہا اور چند ثانئے کو رک گئے تو اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا

” جی بالکل ، ایسا تو ہے ۔“

” اب سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جس طرح تمام علوم کی بنیاد حروف تہجی ہی سے ہوتی ہے ۔ ہر زبان کی اپنے ابتدائی حروف ہیں۔ علم کی بنیاد وہیں سے شروع ہوتی ہے اور پھر آ گے جا کر اس کے مفاہیم اور اصطلاحات وغیرہ بن کر مختلف ہو جاتے ہیں۔ان کی اپنی ایک منزل بن جاتی ہے ۔ جیسے ایک ڈاکٹر بننا چاہتا ہے ، وہ الف بے ہی سے شروع ہوگا اور پھر وہ میڈیکل کی جانب چلا جائے گا۔ دوسرا انہی حروف کی بنیاد پر پڑھے گا اور وکیل بن جائے گا ۔ بالکل ایسے ہی روحانیت یا مراقبہ ہے ۔یہ ایک ایسا علم ہے جس میں جائے بنائ، اپنائے بناءاس کا حصول ناممکن ہے ۔“

” اسے مشاہدہ بھی کہاجاسکتا ہے ؟“ طاہر نے کہا

” جی ، کہہ سکتے ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رکے پھر کہتے چلے گئے ،”علوم کے بارے میں ایک بات مزید عرض کرتا چلوں۔ وہ علوم جن کا تعلق واحد ایک علم توحید سے ہے ، اس کی صورت نزول سے ہے ۔ یعنی اوپر سے نیچے کی جانب ۔ اورباقی کا تعلق چونکہ زمین سے ہے اس لئے وہ نیچے سے اوپر کی طرف جاتے ہیں یعنی وہ صعودی ہیں۔یہ علوم مادی حالات میں ضرورت کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔یوں ان کا رُخ زمین سے اوپر کی جانب بنے گا ۔جبکہ علم توحید اوپر سے نیچے کی جانب ہے ۔ یہاں میں پورے وثوق اور ذمے داری سے یہ بات کر رہا ہوںکہ محبت اور عشق آ سمانی ہیں۔ اب یہ واضح ہے کہ توحید کو بیان کرنے والی صرف ایک قوت ہے اور وہ ہے عشق ۔یہ صرف زبانی نہیں بلکہ کردار سے ظاہر ہو تا ہے ۔ جب عشق کے ساتھ توحید کو کردار کے ساتھ بیان کیا جائے گا تو یہ بھی آ سمانی ہے ۔“

” میرا سوال کچھ دوسرا تھا۔“ اس نے بے چینی اورتذبذب سے کہا تو شاہ صاحب نہایت تحمل سے بولے

”یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی نئے سفر کا آ غاز کرتا ہے تب شعوری اور لا شعوری طور پر بڑی الجھن کا شکا رہوتا ہے ، بڑی کنفیوژن ہوتی ہے اُسے ۔ وہ فوراً منزل کو پا لینا چاہتا ہے ۔ یا کم ازکم اس بارے میں اطمینان حاصل کر لینا چاہتا ہے ۔ اور کچھ بھی نہ ہو تو وہ راہ کے بارے میں ضرور جاننے کی کوشش کرتا ہے ، کسی سہولت کا متلاشی رہتا ہے۔ اسی طرح جب وہ کسی نئی شے کو پاتا ہے تو اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا ہے ۔ جب وہ جان لیتا ہے تو اس کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے ۔یہ فطری بات ہے لیکن اس سے حاصل کچھ نہیں۔“

” میں سمجھا نہیں۔“ اس نے الجھتے ہوئے کہا

”اصل بات یہ ہے میاں ، جو شے ماضی ، حال اور مستقبل پر برابر گرفت رکھتی ہے ، وہی شے تینوں زمانوں میں جھانک سکے گی۔وہی شے استعمال کریں گے تو وہ ہمیں ماضی میں بھی لے جائے گی اور مستقبل کا احوال بھی بتا دے گی ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سی شے امر ہے ، ہمیشہ اور قائم و دائم رہی ہے۔ جو شے ان تینوں زمانوں کا احاطہ کرتی ہے اور اگر اس بندے کو اس پر دسترس بھی ہے تو بندہ ایسی طاقت رکھتا ہے کہ وہ مستقبل میںجھانک سکے ۔“

”اب وہ شے کیا ہے ؟“ اس نے تجسس سے پوچھا

” ہر شے میں تخریب ، توڑ پھوڑ،الجھن ، خلفشار ہوتا ہے ۔اب دو چیزیں ،مطلب زماں اور مکاں ، ہم نے اسی میں ہی اسے دیکھنا ہے ۔ ایک شے ہے نیچر کی بار آوری، اس میں چاہے زمان و مکاں کے ساتھ تباہی بھی آ جائے ، تو وہ پھر بار آ ور ہو جاتی ہے ۔دوبارہ پیدا ہو جاتی ہے ۔ جیسے انسان کا تسلسل ،اشجار کا تسلسل، چیزیں تباہ بھی ہو رہی ہیں اور بن بھی رہی ہیں۔یہ عمل کیا ہے؟ اس کی بنیاد کیا ہے ؟جو چیز اس کی بنیاد میں پڑی ہے وہ تباہ کیوں نہیں ہو رہی ؟“

یہ کہہ کر شاہ صاحب نے طاہر کی جانب دیکھا تو اس نے ہولے سے کہا

” کیوں نہیں ہو رہی؟“

”اس میں جو شے پڑی ہے وہ ختم ہو نے والی نہیں، وہ محض تعمیر ہے۔ نیچر کا نظام تباہ نہیںہوتا۔ نیچر میں جو پیداوار ہے ، جو بار آ وری ہے وہ تباہ ہو تی ہے۔ اس کی معمولی سی مثال سمجھنے کے لئے ۔ ٹی وی برقرار رہتا ہے لیکن اس میں پروگرام ، فلمیں بدلتی رہتی ہیں۔زمانہ وہی ہے ، زمانے کے مناظر بدلتے جا رہے ہیں۔ مناظر کے بدلنے کے ساتھ کچھ لوگ دھوکے میں ہیںکہ زمانے کی جو حقیقت ہے وہ حادثاتی ہے ۔یہ جھوٹ ہے ۔ جو چیز بھی پیدا ہو رہی ہے ،جس کی بھی افزائش ہو رہی ہے ، وہ عشق کی وجہ ہی سے ہو رہی ہے ۔ اس قوت کو آ گے چلانے والا عشق ہے ۔عشق ہی ماضی ، حال اور مستقبل پر برابر دسترس رکھتا ہے ۔اور یہ طاقت صاحب ِدل اور صاحب عشق کے پاس ہی ہوتی ہے ۔سو پہلے صاحب عشق ہونا لازم ہے ۔“

” یہاں یہ بات پیدا ہو سکتی ہے دسترس رکھنے والا کوئی تبدیلی بھی کر سکتا ہے ؟“

 ”جو شے ماضی ،حال اور مستقبل کو گرفت میں رکھے ہوئے ہے ،اس میں یہ اہلیت ضرور ہو تی ہے کہ وہ جزوی تبدیلی کر سکے ۔ بزرگوں کی زبان میں اسے ” امر “ کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ تینوں زمانوں پر حاوی ہے اس لئے اہلیت ہے ۔ یہاں پر آ کر اگر آپ صاحب عشق ہو جاتے ہو تو آپ کی خواہش پوری ہو جائے گی۔ وہ تقدیر انسان کے ہاتھ میں جاتی ہے ، جس کا امر رَبّ تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے ۔ جس پر قلندر لاہوری ؒ نے فرمایا ہے نا کہ تقدیر کے پابند نباتات و جمادات ، مومن ہے فقط تقدیر الہٰی کا پابند ۔اگرآپ کچھ حاصل کر نا چاہتے ہیںتو صاحب عشق بنیں ۔آپ بھی مستقبل پر دسترس پا جائیں گے ۔ اس وقت تمہارا مقصد تمہارے ہاتھ میں ہوگا ۔ہمت ہے تو پیدا کر فردوس بریں اپنا۔“

” کیا اس طرح سب دیکھ جا سکتا ہے ؟“

”ایک کمرے میں کسی ایک شے کو دکھانے کے لئے صرف اسی پر روشنی نہیںکرتے بلکہ پورے کمرے کو روشن کرتے ہیں۔ ایک چیز کو دکھانے کے لئے پورا کمرہ روشن کرنا پڑتا ہے ۔ جب تک عشق کا نور نہیںچمکتا، اس وقت تک ایک خاص شے کو نہیں دکھایا جاتا۔ یہ ایک تکنیکی بات ہے ۔“

” اس طرح میں ابھی کچھ نہیں دیکھ سکتا ؟“

”انسان کے بارے میں رَبّ تعالیٰ نے ایک بات یہ بھی فرمائی ہے کہ وہ جلد باز ہے ۔فرض کریں میں آپ کو آ پ کا مستقبل دکھا دوں ، اور اس میں آ پ اپنامن پسند منظر نہیں دیکھ پاتے ، تب کیا آ پ اپنے مقصد سے ہٹ جائیں گے ۔کیا عشق کی راہ سے ہٹ جائیںگے ،اپنے ہتھیار پھینک دیں گے ؟آپ کو اپنی منزل درکار ہے یاآپ فقط قوت چاہتے ہیں ، جس کے بل بوتے پر دوسرے انسانوں کو زیر کر سکیں۔ اگر آ پ قوت پیدا کرنا چاہتے ہوتو اس کی نیّت کیا ہے ؟اس میں نفس پڑا ہے، نفس کی گردن پر چھری نہیںپھری تو یہ پھر نری ریاکاری ہے، عشق نہیں ۔“

” یہ نفس کی قربانی کیا ہے ؟“ اس نے سوچتے ہوئے پوچھا

”نفس کا دائرہ کار جسم سے ہے ۔ مادہ اور اس کا حصول دوسرے لفظوں میں لذّت۔ جب یہ کہا جائے کہ نفس کی قربانی دےدو تو اس کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ کوئی جسم کے ساتھ ہی محبت کرنے تک محدود ہے ۔ اس لئے نفس کی قربانی دے کر آگے نکلنا ہے ، جہاں اسے سکون کا زادِ راہ مل جائے گا ، جس کی وجہ سے اسے اپنی منزل مل سکتی ہے ۔“

” یہ کیسے ہو گا ؟ کیا یہ مشکل نہیں ہے؟“ اس نے کہا

”دیکھیں ہم نے قربانی کرنا ہوتی ہے نا تو ایک ایسا جانور لیتے ہیں جو بہت خوبصورت ہوتا ہے ۔ کسی بھی خامی سے مبرا ہونا ہی قربانی کے لئے جائز سمجھا جاتا ہے ۔ جس وقت ہم جانور خرید رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ہمارے اندر کا خلوص ظاہر ہوتاہے کہ ہم کتنے خلوص سے قربانی کا جانور لے رہے ہیں۔ کس قدر محبت سے جانور تلاش کر رہے ہوتے ہیں۔ایک طرف رقم ہے ، دوسری طرف خوبصورت جانور لینے کی نیّت۔ اسی سے پتہ چل جائے گا ، دراصل ہم کیا چاہ رہے ہیں؟ ہماری ترجیح کیا ہے ؟ جب خوبصورت جانور کی تلاش ہوگی تو وہاں اہم رقم نہیں ، بلکہ جانور کی خوبصورتی اہم ہو گی ۔ہمارے بزرگ فرماتے ہیں کہ جانور کو بھی علم ہوتا ہے کہ وہ رب تعالی کے راستے میں قربان ہو نے جا رہا ہے ۔ وہ سمجھ بھی رہا ہوتا ہے کہ وہ درست راستے پر جا رہا ہے ۔خیر ۔! اتنے اہتمام کے بعد جب ہم جانور کو قربان کرتے ہیں تو وہ تڑپتا ضرور ہے ۔ کیونکہ یہ فطرت ہے ۔ نفس بھی ایک خوبصورت جانور کی مانند ہے۔تڑپنا تو ہے ۔“

” جی تڑپتا تو ہے ، میری کیفیت اس وقت ایسی ہی ہے ،اور میں ا سی ا لجھن کی وجہ سے ہی تو پھنسا ہوا ہوں۔“ طاہر نے تڑپتے ہوئے اپنے بارے میں بتایا تو شاہ صاحب مسکرا دئیے پھر بولے

” چلیں آپ کی الجھن دور کر دیتے ہیں۔ کیا اس طرح آپ کا تڑپنا ختم ہو جائے گا ۔“

” جی بالکل ، لگتا تو ہے ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

”تو پھر سوچیں، اپنی زندگی کا کوئی اہم ترین واقعہ ، جس نے آپ کو بہت زیادہ متاثر کیا ہو؟“ شاہ صاحب نے کہا تو اس نے آ نکھیں بند کرلیں۔ اس کے ذہن کی اسکرین پر واقعہ ابھر آ یا۔ تب شاہ صاحب کہنے لگے،” تم کار لئے جا رہے ہو ۔ یہ وہ کار ہے جو تمہاری پسندیدہ تھی ۔ اسے تم نئے اپنے بابا سے ضد کر کے لی تھی۔ سڑک ہے ، دو رویہ جس پر آپ جا رہے ہو ۔ تبھی سامنے سے ایک چرواہا سڑک کے دائیں جانب سے سامنے آ تا ہے ۔ آ پ ڈرائیونگ کرتے ہوئے لڑکھڑا جاتے ہو ۔اور بھیڑ بکریوں کے اس ریوڑ پر آ کے کار چڑھ جاتی ہے ۔ آپ کار پر قابو نہیں رکھ سکتے ہو ،اور آپ کی کار ایک درخت سے جا لگتی ہے ۔آپ بے ہوش نہیںہوتے ۔آپ کو وہی چرواہا کار سے نکالتا ہے ۔ آپ کار سے نکلتے ہو ۔ جب سامنے بھیڑ بکریں خون آ لود دیکھی تو آ پ بے ہو ش ہو گئے ۔“ یہ کہہ کر شاہ صاحب رُکے تو طاہر نے آ نکھیں کھول دیں

” بالکل ٹھیک فرمایا آ پ نے ۔“

” پھر آ پ کو جب ہسپتال میں ہو ش آیا تو وہ چرواہا بھی وہیں تھا۔ پتہ ہے آپ نے پہلا فقرہ کیا کہا تھا۔“ شاہ صاحب بولے تو اس کے تیزی سے کہا

” بس سرکار ، بس میں نے جان بھی لیا اور سمجھ بھی گیا۔“

”تو پھر جھانکنا ہے مستقبل میں؟“ شاہ صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا اور لمحہ بھر رُک کر اس کے چہرے پر دیکھتے رہے، کوئی جواب نہ پا کر بولے،” کیونکہ پھر اس کے لئے آپ کو اپنے عشق سے دستبردار ہونا پڑے گا۔“

” نہیں سرکار ، مجھے میرا عشق چاہئے۔“اس نے بھی مسکراتے ہوئے کہا

” جائیں پھر ، آ پ کا عشق سلامت ہے ۔“ وہ بہت پیار اور خلوص سے بولے۔ تب طاہر اٹھ گیا۔ اس نے سلام کیا نکلتا چلا گیا۔اس کے چہرے پر دبا دبا جوش جھلک رہا تھا۔

ز….ژ….ز

عصر کا وقت تھا۔فارم ہاﺅس کے لاﺅنج میںآیت النساءصوفے پر بیٹھی ہوئی تھی۔اس کے ساتھ ہی امبرین کا شوہر عدنان بیٹھے ہوئے تھے۔ جبکہ امبرین اندر کہیں رابعہ کے پاس تھی ۔ اگلے صوفے پر آیت النساءکا منیجر اپنی بیوی کے ساتھ براجمان تھا۔ایک الگ صوفے پر ایک مولانا صاحب تشریف فرما تھے۔آیت نے سرمد کو اپنے ڈرائیور کے ساتھ بھیج دیا تھا۔اسے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اسے گھمائے پھرائے، فاسٹ فوڈ کھلائے اور پھر مغرب ہوتے ہی واپس لے آ ئے ۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے سامنے نکاح کی یہ تقریب ہو ۔ورنہ کتنے ایسے سوال تھے ، جن کا سب کو سامنا کرنا پڑتا۔طاہر سامنے والے صوفے پر بیٹھا تھا۔اس کے ساتھ اس کے دونوں دوست ساجد اور منیب اس کے ساتھ ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہیں آ ئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی۔ایسے انتظار کے لمحات میں امبرین اپنے ساتھ رابعہ کو لے وہیں آ گئی۔امبرین نے اسے تھوڑا بہت تیار کر دیا تھا ، ورنہ رابعہ ایسا بالکل بھی نہیںچاہ رہی تھی ۔اس نے رابعہ کو طاہر کے ساتھ بٹھایا تو آ یت نے مولانا صاحب کی طرف دیکھ کر کہا

” بسم اللہ کیجئے مولانا صاحب۔“

اس کے یوں کہتے ہی لاﺅنج کی فضا بدل گئی ۔ ایجاب و قبول ہوگیا۔اس سے پہلے کسی بھی شرط وغیرہ کے بارے میں مولانا صاحب نے تصدیق کر لی ۔خطبہ نکاح کے بعد دعا ہوئی ۔ رابعہ یوں طاہر کے عقد میں آ گئی ۔دبی دبی مبارک سلامت ہوئی ۔نکاح نامے میں اندراج ہوا ۔رابعہ کی طرف سے منیجر اورعدنان، جبکہ طاہر کی طرف سے ساجد اور منیب گواہ ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی امبرین نے سب کو لان میں چلنے کا کہا تووہ اٹھ گئے۔ رابعہ اور طاہر بھی انہی کے ساتھ باہر چلے گئے۔

شام اُتر چکی تھی ۔لان میں آیت بیٹھی ہوئی سرمد کا انتظار کر رہی تھی۔طاہر اپنے دوستوں کے ساتھ چلا گیا تھا۔ جبکہ رابعہ اندر تھی۔تمام مہمان چلے جانے سے اب تک وہ وہیں بیٹھی ہوئی تھی۔وہ بڑے سکون سے آ نے والے وقت کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اسے احساس تھا ، کہاں پر کیا ہو نے والا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اس وقت اپنے بارے میں بہت زیادہ سوچتا ہے ، جب وہ تنہائی محسوس کرتا ہے ۔اس وقت اگر کوئی دوسرا اس کے بارے میں سوچتا تو نجانے کیا کیا خیال سامنے لاتا ، مگروہ اندر سے پر سکون تھی۔ اس کی نگاہ دور مین گیٹ پر تھی ، جہاں سے فارم ہاﺅس میں داخل ہو جاتا تھا۔ایسے میں طاہر کی کار آتی ہوئی دکھائی دی۔اگلے چند منٹوں میں وہ کار پورچ میں روک چکا تھا۔ وہ کار سے اترا اور اس کی جانب دیکھنے لگا۔ ایک لمحے کو لگا جیسے وہ اس کی طرف آ ئے گا، مگر اگلے ہی لمحے وہ اندر کی جانب چل دیا۔وہ شاید اس پر سوچتی لیکن انہی لمحوں میں اس کی گاڑی گیٹ میں داخل ہوئی ۔وہ اٹھ کر پورچ کی جانب بڑھ گئی۔جب تک وہ پورچ میں گئی ، تب تک گاڑی بھی وہیں آ کر رک گئی۔ سرمد باہر نکلتے ہی بولا

” بڑی ماما، بڑی ماما،میں نے بہت سیر کی ، بہت مس کیا آ پ کو ؟“

” کتنا مس کیا؟“ اس نے پیار سے مسکراتے ہوئے پوچھا تو وہ دونوں بازو پوری طرح پھیلا کر بولا

” اتنا!!!….“

” واﺅ….اتنا مس کیا۔“اس نے حیرت سے کہا

” جی بڑی ماما، آپ ہوتی نا تو بہت مزہ آتا۔“اس نے جوش سے کہا

” میں نے آپ کے ساتھ ہی جانا تھا، لیکن مجھے کسی کا انتظار تھا ، اس لئے رُک گئی تھی۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رکی ، پھر بولی،” پتہ ہے ، کس کا انتظار تھا؟“

” نہیں تو ، کس کے ؟اس نے معصومیت سے پوچھا

” آپ کے پاپا کے۔“ اس نے یوں کہا جیسے اس نے کوئی بڑا راز کھول دیا ہو

” سچ میں ؟ کہاں ہیں میرے پاپا؟“ اس نے یوں پوچھا جیسے اسے یقین ہی نہ آ رہاہو ۔

” اندر ہیں،لیکن جیسے میں نے کہا، سب یاد ہے نا؟“ اس نے پوچھا

” بالکل یاد ہے بڑی ماما،آئیں نا۔“ اس نے کہا اور انتہائی اضطراب میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اندر کی جانب جانے لگا۔ وہ بھی اس کے ساتھ اندر چل دی ۔

لاﺅنج میں بالکل سامنے کے صوفے پر طاہر بیٹھا ہوا تھا۔جیسے ہی سرمد لاﺅنج میں داخل ہوا ، وہ تیزی سے اُٹھ کر اس کی جانب بڑھا۔سرمد بھی تیزی سے اس کی جانب گیا۔ بالکل قریب آ کر طاہر نے اپنے گھٹنے قالین پر نکا دئیے اور سرمد اس کے گلے لگ گیا۔ چند لمحے یونہی لگے رہنے کے بعد وہ الگ ہوتے ہوئے بولا

” پاپا، پتہ ہے ، میںنے آ پ کو کتنا مس کیا، پتہ ہے ؟“

”ہاں ، بیٹا، مجھے سب پتہ ہے ،لیکن میں کیوں نہیں آ سکا،یہ ایک لمبی کہانی ہے ۔میں سب کچھ تمہیں سکون سے بیٹھ کر بتاﺅں گا۔“ اس نے پیار سے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

” اب تو آ پ نہیں جائیں گے نا ؟“ سرمد نے لرزتے ہوئے لہجے میں پوچھا

” بالکل بھی نہیں۔“ اسنے اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا

” پرامس ۔“ سرمد نے ہاتھ آ گے بڑھاتے ہوئے کہا

” بالکل پرامس ۔“ طاہر نے اس کا ننھا سا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔تب سرمد کہتا چلا گیا

” پتہ ہے ، میرے سب دوستوں کے پاپا ہیں۔ وہ سب اپنے پاپا کی باتیں کرتے ہیں،ان کے پاپا انہیںلینے آ تے ہیں، انکے ساتھ کھیلتے ہیں، انہیں باہر لے جاتے ہیں،انہیں پیار کرتے ہیں اور میں ….“

” اب میں آ گیا ہوں نا ، اب نہیں ….“ یہ کہتے ہوئے طاہر کا لہجہ بھیگ گیا۔آ یت نے دیکھا، اس کی آ نکھوں میں نمی تھی ، جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔دوسری جانب رابعہ کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی۔سرمد کی جیسے ہی نگاہ رابعہ پر پڑی تو تیزی سے بولا

” ماما، اب پاپا کہیںنہیںجائیں گے ۔مجھ سے پرامس کیا ہے۔“

”ہاں ، وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔“ رابعہ نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا تو سرمد نے آ یت کی جانب دیکھ کر خوشی سے کہا

”تھینک یو بڑی ماما، آ پ نے میرے پاپا لے کر آ ئے ۔“

” ویلکم بیٹا۔“اس نے خوشدلی سے کہا۔ پھر مسکراتے ہوئے بولی،” ارے آپ کے پاپا یونہی بیٹھے ہیں،ان کے ساتھ جا کر صوفے پر بیٹھو ، انہیں بتاﺅ ، آ ج کہاںگئے تھے۔“

” ہاں پاپا، آج بہت مزہ آ یا۔“ سرمد نے طاہر کی طرف دیکھ کر کہاتو طاہر نے اسے اٹھایا اور ایک صوفے کی جانب بڑھ گیا۔ تب آ یت نے رابعہ کی طرف دیکھا اور اس کے پاس چلی گئی ۔اس نے رابعہ کو ساتھ لیا اور باہر چل دی۔باہر آ کر بولی

” دیکھا ، سرمد کتنا خوش ہے؟“

 ” ہاں ، بہت خوش ،آج مجھے ….“ اس نے کہنا چاہا لیکن آیت نے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا، پھر نرم لہجے میں بولی

” نہیں، ایسا نہیں،میں نے سمجھایا ہے نا تمہیں۔“

اس کے یوں کہنے پر رابعہ خود پر قابو پاتی رہی ، پھر اپنے آ نسو صاف کرکے مسکراتے ہوئے بولی

” تمہارا بہت شکریہ ، تم نے سرمد کو یوں مانوس کر دیا ، ورنہ میں شاید ایسا نہ کر سکتی ۔“

” تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ، میں سب سنبھال لوں گی ۔“ آ یت نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔اس نے سرجھکاکر اثبات میں سر ہلا دیا ۔

ز….ژ….ز

فارم ہاﺅس پر سناٹا طاری تھا۔رات کا پہلا پہر گذر چکا تھا۔ رابعہ اپنے کمرے میں تھی۔وہ بیڈ کے ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہاں کی ہر شے کل ہی آیت کے کہنے پر بدل دی گئی تھی۔ جس طرح اس کی زندگی کے حالات بدل گئے تھے ۔اس نے کبھی سوچا بھی نہیںتھا کہ وقت یوں اسے اس طرح کے موڑ پر لے آئیں گے جہاں اُس کی سوچیں تک تبدیل ہو کر رہ جائیں گی۔ اس نے کب سوچا تھا کہ وہ شادی کر ے گی یا پھر طاہر جیسا نوجوان ہی اس سے شادی کر ے گا۔ وہ عمر میں چاہے اس کے برابر تھی لیکن عام حالات میں ایسا ممکن ہی نہیںتھا۔یہ سب آ یت ہی کی وجہ سے ہوا تھا۔وہ آیت کے احسانوں تلے دبی ہوئی تھی۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیںتھا کہ اس نے انہی احسانوں کا بدل لیا تھا۔ وہ جانتی تھی اور سمجھتی بھی تھی کہ آیت کا سرمد سے عشق کی حد تک تعلق ہے۔ ساری دنیا ایک طرف اور سرمد کی خواہش ایک جانب ،وہ ہر حال میں اسے پورا کرتی رہی تھی۔ یہ ممکن ہی نہیںتھا کہ وہ سرمد کی کوئی خواہش ٹال سکے۔ اس وقت بھی سرمد اس کے پاس دوسرے کمرے میںتھا۔وہ نجانے اُسے کون کون سی کہانیاں سنا رہی تھی۔وہ اس کے ساتھ بالکل بچہ بنی ہو ئی تھی ۔

ڈنر کے بعد طاہر نجانے کہاں نکل گیا تھا ۔تب تک رابعہ بھی انہی کے پاس بیٹھی رہی ۔جیسے ہی پتہ چلا کہ طاہر آ گیاہے اور لاﺅنج میں بیٹھا ہوا ہے ۔اسی وقت آیت نے رابعہ کو اپنے کمرے میں جانے کا کہہ دیا تھا۔ رابعہ کے لئے اپنے ہی کمرے تک کا سفر ایک نئے جہاں تک جانے کا سفر لگا تھا۔ اس کی بھی بالکل وہی حالت تھی جو کسی انجان مسافر کو کسی نئے راستے پر سفر کرنے سے ہوتی ہے ۔وہ خود میں انتہائی بے بسی محسوس کررہی تھی۔ایسا صرف اس وجہ سے تھا کہ ایک انجانا خوف اس پر مسلط تھا۔نجانے میں اس سفر پر چل بھی سکوں گی یا رستے ہی میںڈھیر ہو جاﺅں گی۔میں اگر خود ہی ساتھ نہ دے سکی تو کیا سوچا جائے گا ؟ ایسے بے شمار خیال اُسے گھیرے ہوئے تھے۔ وہ چونکی اس وقت جب دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی ۔پھر دروازہ کھلا اور طاہر اندر آ گیا۔وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا بیڈ کے دوسرے کونے پر بیٹھ گیا۔وہ مزید سمٹ گئی۔اسے گھبراہٹ ہونے لگی۔ یہ احساس اس پر چھانے لگا کہ میں کہاں اور طاہر کہاں؟

” کیسی ہیں آپ؟“ طاہر کی آواز نے خاموشی کو توڑ کر رکھ دیا۔ وہ چند لمحے سمجھ ہی نہ سکی، پھر جب سمجھ تو تیزی سے بولی

” مم…. میں …. ٹھیک ہوں۔“

” دیکھیں رابعہ۔! نکاح سے پہلے آپ جو بھی تھیں، لیکن اس وقت یہ حقیقت ہے کہ آپ میری بیوی ہو، میری عزت ، میری شریک حیات ۔“ یہ کہہ کر وہ چند لمحے خاموش رہا پھر کہتا چلا گیا،” ہماری شادی جن حالات میں ہوئی ، جیسے بھی ہوئی ،وہ اب ماضی ہے ۔اب ہمیں مستقبل میں جانا ہے ، اور ہم نے آ گے ہی کے بارے میں سوچنا ہے ۔میں جانتا ہوں کہ آنے والے وقت میں بہت ساری مشکلیں ہو سکتی ہیں۔لیکن جو بھی مشکل ہو گی اسے اب ہم دونوں نے مل کر ہی آسان بنانا ہے ۔“

” جی بالکل ۔“ اس نے سر نہیوڑے جواب دیا

”میںپوری کوشش کروں گا کہ آپ کو وہ عزت ، مان اور احترام دے سکوں جو میری بیوی ہونے کے شان شایان ہے ۔ وقت کا کوئی بھروسہ نہیں، کب کیسا آ جائے ۔ اب ہمارے دکھ اور سکھ سانجھے ہیں۔ میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کو خوشیاں دے سکوں۔“ اس نے دھیمے لہجے میں کہا تو رابعہ کے من میں کہنے کے لئے بہت کچھ ہونے کے باوجود وہ کچھ نہیںکہہ پا رہی تھی۔بہت حوصلہ کر کے اس نے اٹکتے ہوئے کہا

” میں بھی …. پوری کوشش کروں گی …. آپ کو کسی قسم کی کوئی …. شکایت نہ ہو ۔“

”آپ کوئی جواب دہ نہیںہو میرے سامنے، بس یہی کہ شوہر اور بیوی کے حقوق کو سامنے رکھتے ہوئے ، ہمارے درمیان کوئی الجھن نہ ہو ،بس اتنا ہی ۔“ اس نے کہا

” جی بالکل ۔“ رابعہ پھر اسی دھیمے سے لہجے میں بولی

 تبھی ان دونوں کے درمیان خاموشی آ گئی ۔ چند منٹ یونہی گزرگئے۔ تبھی طاہر نے اپنی جیب سے نفیس قسم کی دو سرخ رنگ کی ڈائریاں نکالیں۔ایک ڈائری اس نے اپنے پاس رکھی اور دوسرے اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا

” رابعہ ۔! یہ محض ایک ڈائری نہیں، بلکہ اپنے احساس کا وہ آ ئینہ ہے ، جس میں ہم نے اپنے آ پ کو خود دیکھنا ہے ۔“

” وہ کیسے ؟“ رابعہ نے ڈائری پکڑتے ہوئے پوچھا

” یہ اس وقت بالکل کوری ہے ، اس پر کچھ بھی نہیںلکھا ہوا ، ایک لفظ بھی نہیں لکھا ہو ا اس پر لیکن۔! اگر آ پ کے من میں، میرے بارے میں کوئی بھی منفی احساس ابھرے تو اس پر لکھ دیں۔لکھا ہوا یہ احساس صرف آپ ہی کے دیکھنے کے لئے ہوگا، میں اسے کبھی نہیںدیکھوں گا ۔ ایسی ہی دوسری ڈائری میرے لئے ہے۔“ طاہر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” یہ ایسا کیوں؟“ اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا، اسے سمجھ ہی نہیں آ ئی تھی۔

” میں نے کہا نا کہ یہ محض ڈائری نہیں، بلکہ ہمارے احساس کا وہ آ ئینہ ہوگا ، جس میں ہم نے اپنے آپ کو خود دیکھنا ہے۔“ طاہر نے بات دہرائی تو اس نے کچھ سمجھتے اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے ڈائری پکڑ تے ہوئے کہا۔

” جی جیسا آ پ کہیں۔“

” میں کوئی بھی دعوی یا وعدہ نہیں کرتا یہ وقت بتائے گا، میں یہ ڈائری خالی رکھنے کی کوشش کروں گا ، جسے میں نے کبھی نہیں دیکھنا۔“طاہر یہ کہتے ہوئے اٹھ گیا۔اس نے اپنا کوٹ اتار کر ادھر اُدھر دیکھا تو رابعہ نے اٹھ کر وہ کوٹ لے لیا تاکہ رکھ سکے ۔

ز….ژ….ز

طاہر کی شادی اور وہ بھی رابعہ جیسی عورت سے؟ یہ اطلاع سن کر سکندر حیات کی حیرت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا تھا۔وہ سرتاپا غصے میں لرز رہا تھا۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ جو اس نے سنا ہے وہ جھوٹ ہو جائے۔ اس حقیقت کو نہ اس کا دل مان رہا تھا اور نہ ہی دماغ تسلیم کر رہا تھا۔مگر طاہر کی شادی، ایک اٹل حقیقت کی طرح اس کے سامنے تھی،جسے وہ جھٹلا ہی نہیں پا رہا تھا۔ وہ سنسناتے ہوئے دماغ اور اتھل پتھل ہوتے ہوئے دل کے ساتھ حویلی کے پچھواڑے کاریڈور میں بڑے اضطرب میں ٹہل رہا تھا۔ اس کے دماغ میں صرف یہی سوچ تھی کہ طاہر نے یہ کیا کردیا؟ یہ خبرگویا سکندر حیات کے لئے ایسی ناکامی تھی ، جس سے اس کا سارا سنگھاسن ہی ڈول گیا تھا۔چاہئے تھوڑے سے علاقے پر ہی سہی اس کے راج پاٹ کی باگ ڈور اسے ہاتھ سے کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ اس نے جو اپنا رعب داب قائم کر رکھا تھا، وہ سرے سے ختم ہوتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ وہ پھر بھی ٹوٹ گیا تھا جو رکنیت ختم ہو جانے کے باوجود بھی قائم تھا۔اس کا دماغ ماﺅف ہو گیا تھا۔ اسے سمجھ میں نہیںآ رہا تھا کہ کیا کرے؟یہی سوچ سوچتے ہوئے دن کا پہلا پہر گذر گیا تھا۔

” سردار صاحب ۔! یہ چائے ہی پی لیں۔“ بلقیس بیگم کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا، اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے پکڑی ہوئی تھی، جس میں چائے کے ساتھ کافی لوازمات تھے ۔ایک ثانئے کو اسے سمجھ ہی نہیں آ یا کہ کہا کیا گیا ہے ، وہ خاموش رہا تو وہ بولی،” آ پ نے صبح سے کچھ نہیںکھایا، پلیز۔“ اس بار اس کے لہجے میں لجاجت تھی۔سکندر حیات نے یوں سنا جیسے یہ بات کسی دوسرے کو کہی گئی ہو ۔ وہ مڑا اور قریب پڑی بید کی کرسی پر ڈھیر ہو گیا۔وہ اضطرابی انداز میں اپنا ماتھا مسل رہا تھا۔ بلقیس بیگم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ٹرے پاس دھرے میز رکھی اور خود دوسری کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی،” آپ نے ملازموں کو کئی بار منع کیا، باہر کیا تاثر جا رہا ہوگا،میں خود اس لئے لے کر آ ئی ہو ں کہ ….“

” بیگم یہ سوچو، جب یہ خبر پورے علاقے میں پھیل جائے گی تو کیاہوگا۔ تب لوگ کیا کہیں گے ۔ دو،دو ٹکے کے لوگ ، تھڑوں پر ، دکانوں پر ، کھیتوں میں، تھانے کچہریوں میں ، سڑکوں پر ۔ محفلوں میں نجانے کہاں کہاں ہمارے بارے میں کیا کیا باتیں کریںگے ، اس وقت کی سوچو۔ کیا عزت رہ جائے گی ہماری ؟“سردار سکندر حیات جیسے پھٹ پڑا تھا۔ بلقیس بیگم چند لمحے خاموش رہی پھر بڑے تحمل سے بولی

” آپ کچھ بھی کھائیں پئیں گے نہیں تو کیا ہونی کو ٹال لیں گے ؟ کیا اس طرح مسئلہ حل ہو جائے گا ؟ کیا حقیقت بدل جائے گی ؟“

” کیا کروں میں ….؟“اس نے انتہائی مایوسانہ لہجے میں کہا

” آپ کچھ بھی نہ کریں، فی الحال آپ تھوڑا کھائیں پئیں ، پھر میں آ پ کو بتاتی ہو ں کہ کرنا کیا ہے ۔“ بلقیس بیگم نے لوازمات سے بھری پلیٹ اٹھا کر سکندر حیات کی جانب بڑھائی ۔اس نے پلیٹ میں سے ایک بسکٹ لے لیا۔اس دوران بلقیس بیگم نے چائے پیالی میں ڈال رہی تھی کہ سکندر حیات نے کہا

” کوئی حل ہے تمہارے پاس ؟“

” بتاتی ہوں نا۔ “ یہ کہتے ہوئے اس نے پیالی اسے تھما دی ۔

” کہو؟“ وہ بے چینی سے بولا

” دیکھیں۔! یہ اطلاع آ پ کو ساجد نے دی ہے ،اور اس نے یہ کہا ہے کہ یہ بات انہی چند لوگوں تک محدود ہے ، جو اس نکاح میں شامل تھے۔ مطلب بات ابھی اپنے ہاتھ ہی میں ہے ۔“ بلقیس بیگم نے بڑے سکون سے کہا تو اس نے تیزی سے پوچھا

” یہ تم کیسے کہہ رہی ہو ؟“

” میں نے ساجد سے بڑی تفصیل کے ساتھ بات کی ہے ۔اس سے سب پوچھا ہے اور اسے تلقین بھی کر دی ہے کہ یہ بات کسی سے مت کہے ، بلکہ دوسروں کو بھی سمجھا دے ۔“ بلقیس بیگم نے تحمل سے کہا

” اس سے کیا ہوگا ؟“ اس نے پوچھا

” اس سے یہ ہوگا کہ بات نکلے گی نہیں،انہی چند لوگوں تک محدود رہے گی ۔تب تک اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تو نکل آئے گا ۔“ بلقیس بیگم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

”کیا حل نکلنا ہے ؟ کیا ہوسکتا ہے اب ؟وہ….“ سکندر حیات نے غصے میں لرزتے ہوئے کہا

” اس سے تو پوچھیں ، ایسی کیا افتاد پڑ گئی تھی اسے، کیا ہوا ؟ کچھ اس کی بھی سن لیں ؟“ اس بار بلقیس بیگم نے ذرا سے سخت لہجے میں کہا تو سکندر حیات چند لمحے خاموش رہا ، پھر بولا

”اسے کیا مجبوری ہو سکتی تھی ؟“

”میں نے طاہر کو بلوایا ہے ،وہ ابھی آنے والی فلائٹ میں یہاں آ رہا ہے ، میرا اس سے مسلسل رابطہ ہے ۔اس سے بات کرتے ہیں، مجھے یقین ہے کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آ ئے گا ۔“ اس نے تحمل سے بتایا

”اس سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلقیس بیگم،اس نے اگر ہماری بات رکھنا ہوتی تو یہ کام ہی نہ کرتا ۔جس سے ہماری جگ ہنسائی ہونے والی ہے ۔“ اس بار اس کا لہجہ مایوسانہ تھا

” بات کرتے ہیں ابھی، لیکن آپ ذرا اپنے غصے پر قابو رکھئے گا۔آپ بھی جانتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات میں کتنا تحمل اور برداشت سے کام لیا جاتا ہے ۔“ بلقیس بیگم نے دبے ہوئے لہجے میں سمجھاتے ہوئے کہا تو سکندر حیات نے سوچتے ہوئے اس کی طرف دیکھا، کچھ کہنا چاہا لیکن خاموشی سے دیکھتا رہا۔ یہی وہ لمحات تھے، جب وہ اٹھ گئی ۔ اسے اپنے شوہر کی طبیعت کا اندازہ تھا۔

سکندر حیات تنہا بیٹھا سوچتا رہا۔وہ سوچ کا ایک سرا پکڑتا اور دور تک چلا جاتا۔ کوئی سرا بھی ایسا نہیںتھا جہاں بچاﺅ کی کوئی صورت ہوتی۔ ہر ایک سرے کے آخر پر اسے یہی لگتا کہ رابعہ نہیں ہونی چاہئے۔رابعہ کا وجود اسے اپنے لئے تباہی لگ رہا تھا ۔ایسی تباہی جس میں اسے اپنا سب کچھ ختم ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ انہی سوچوں میں الجھا ہوا تھا کہ بلقیس بیگم کے ساتھ طاہر آ تا ہوا دکھائی دیا۔ طاہر نے سلام کیا ، جس کا جواب سکندر حیات نے نہیں دیا۔ وہ گھورتی ہوئی نگاہوں سے طاہر کو دیکھتا رہا۔ وہ دونوں خاموشی سے آ کر پاس دھری کرسیوں پر بیٹھ گئے تو سکندر حیات نے اس کی طرف دیکھا اور بڑے گھمبیر لہجے میں پوچھا

” طاہر ۔! کیا میں یہ سمجھ لوں کہ اب تمہیں میری ضرورت نہیں رہی ؟“

” میں سمجھا نہیں آ پ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟“ اس نے نہایت مودب لہجے میں جواب دیا

”تمہیں اگر ہماری ضرورت ہوتی تو کم ازکم ایک گھٹیا سی کم ذات عورت کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے ایک بار پوچھ ہی لیتے ۔ یہ کیا تماشا کھڑا کر دیا ہے تم نے ؟ اگر شادی ہی کرنا تھی تو کسی معقول لڑکی سے کرتے، یوں ایک کم ذات سی بیوہ عورت سے کرنے کا مطلب کیا ہے ؟“ سکندر حیات گویا پھٹ پڑا۔ جس پر طاہر نے ساری بات خاموشی اور سکون سے سنی ، پھر اسی مودب لہجے میں بولا

”کیا رابعہ کا کم ذات ہونا، بیوہ ہونا ہی آپ کے معیار پر نہیں اترا؟“

”تم پاگل ہو ؟کیا تمہارے لئے رشتوں کی کمی تھی ، آیت النساءجیسی لڑکی تمہیں مل سکتی تھی؟تم احسان فراموش ، اگر اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا تھی تو کوئی اور اچھے خاندان کی،اچھی لڑکی سے شادی کرتے ، اس سے شادی کی ہمارے ہی ملازمین کی ایک بیوہ عورت ہے ؟“ وہ غصے میں کہتا چلا گیا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہو اپنے غم و غصے کا کیسے اظہار کرے ۔ جس پر طاہر نے پرسکون لہجے میں کہا

”بابا۔! ہر کسی کے لئے اپنا اپنا بہترین معیار ہو تا ہے ۔ رابعہ ایک انسان ہے ، باقی ساری ہماری سوچیں ہیں۔وہ میرا بہترین معیار بن گئی اور میں نے اس سے شادی کر لی۔“

” ایک بیوہ سے جس کا ایک بیٹا بھی تمہیں جہیز میں ملا؟“ سکندر حیات نے نفرت سے کہا

”بیوہ سے شادی کرنا، کیا ہمارے دین میں منع ہے ؟کیا یہ ہمارے نبی ﷺ کی سنت پاک نہیں؟ باقی رہی ذات پات کی، تو یہ بھی ہم نے بنائے ہیں، ہمارے دین میں تو اس کی کوئی گنجائش نہیں،وہ دین جو انسانیت کی بنیاد پر کھڑا ہے ،وہ انسان میں نفرت کیسے پیدا کر سکتا ہے۔“ طاہر نے مودب اور پر سکون لہجے میںجواب دیا

”اب تمہارے پاس اپنی بے وقوفی کا کوئی جوا زنہیں رہا تو تم مذہبی باتوں کا سہارا لے رہے ہو ،ایسا وہ لوگ کرتے ہیں ، جن کے پاس اپنے کسی عمل کی کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اور پھر میں تمہاری دلیلیں کیوں سنوں ؟ مجھے میرے سوال کا جواب دو کہ تمہیں اب ہماری ضرورت نہیں رہی ؟“سکندر حیات نے انتہائی غصے میں حقارت سے کہا تو بلقیس بیگم نے دبے سے لہجے میں بات کو سنبھالا دیتے ہوئے کہا

” سردار صاحب ۔! آپ اس سے یہ تو پوچھیں آخر کیا مجبوری تھی، جس کی وجہ ….“

” مجھے کوئی مجبوری نہیں تھی ۔ یہ شادی میں نے اپنی مرضی سے کی ہے ۔“ وہ سکون سے بولا

” کیوں ؟ ایسا کیوں کیا؟“ بلقیس بیگم نے پوچھا

”مجھے کوئی مجبوری نہیں تھی اورمجھے نہ کسی کا دباﺅ ،یہ میرا اپنا ذاتی فیصلہ ہے۔ اور میں اپنے اس فیصلے پر بہت خوش ہوں ۔“وہ مطمئن انداز میں بولا تو سکندر حیات غصے کی انتہا میں بھڑک اٹھا

”یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟ تمہارے اس ذاتی فیصلے سے کیا کچھ ہو نے والا ہے ، کیا تم اس کا تصور کر سکتے ہو ، ہم نے عوام کے سامنے جانا ہے ،ایک اسٹیٹس ہے تمہارا ، تم جذباتی فیصلے نہیں کر سکتے ہو ، یہ جانتے ہو تم ؟ ہمارا سب کچھ ختم ہو جائے گا ، سیاست تو جائے گی بھرم بھی ختم ہو جائے گا۔“

” یہ اگر ہم چاہیں گے تو ، ورنہ کسی کو ہمارے ذاتی فیصلوں سے کیا غرض ۔“ اس بار طاہر نے لاپرواہی سے کہا تو بلقیس بیگم بولیں

” ایسے نہیں طاہر بیٹا، تم یوں خاندان کی مٹی نہیں رول سکتے ،کبوتر کی طرح آ نکھیں بند کر کے خطرے کو نہیںٹال سکتے ہیں۔ہونا وہی ہے ، جو تمہارے بابا کہہ رہے ہیں۔نجانے تمہاری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کیوں کھو گئی ہے ۔“

” اماں مجھے کچھ بھی نہیں ہوا ، اور نہ ہی ایسی ویسی بات ہو گی ۔ہماری کسی سیاست کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا،آپ اطمینان رکھیں ۔خواہ مخواہ پریشان نہ ہوں ۔“ اس نے تسلی دیتے ہوئے کہا

” بیگم ۔! یہ کیا ہمیں سبق پڑھا رہاہے ؟من مانی کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ تم خاندان کی ناک ڈبو دو ،کچھ بھی ہے ، تم فوراً اس عورت کو طلاق دو ،یہ میرا حکم ہے ؟“ سکندر حیات نے غصیلے لہجے میں حتمی انداز میں کہا

”نہیں بابا آپ ایسا مت کہیں ، میں نے اس سے شادی اس لئے نہیں کی کہ اُسے طلاق دے دوں، اس سے شادی کرنا میری مرضی تھی ، اس کی نہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔“ اس نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا

” تو پھر ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔“ اس نے انتہائی غصے میں حقارت سے کہا

” سردار جی یہ کیا کہہ رہے ہیں ، آ پ ؟ ایسا ممکن ….“بلقیس بیگم نے کہا تو وہ بولا

” ہر شے ممکن ہے ، میں مرا نہیں ابھی سنبھال لوں گا سب کچھ، جاﺅ تمہاری کوئی ضرورت نہیں۔“ اس نے انتہائی دکھ سے کہا اور اٹھ کر وہاں سے چل دیا۔ بلقیس بیگم ہونقوں کی مانند اسے دیکھتی ہی رہ گئی ۔ کافی دیر بعد جب اسے ہوش آ یا تو طاہر کی جانب دیکھ کر بولی

” اب بھی وقت ہے ، منا لو اپنے بابا کو ، ورنہ سب ختم ہو جائےگا ۔“

” کچھ نہیں ہوگا ۔میں رابعہ کو نہیں چھوڑ سکتا۔بابا کو سمجھائیں وہ ضد نہ کریں۔ میں دیکھ لوں گا سب۔“ طاہر نے سکون سے کہا

” نہیں بیٹا، تمہیں رابعہ کو چھوڑنا ہی ہوگا۔جاﺅ اسے طلاق دو ،پھر ہم سے ملنا۔“بلقیس بیگم نے دل کڑا کر کے اسے کہا اور آنکھوں میں آ ئے آ نسو پونچھتے ہوئے اٹھ گئی ۔

” اماں آ پ تو ….“ طاہر نے کہنا چاہا مگر وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے چلی گئی ۔ طاہر بھی اٹھ گیا۔ اس نے اسی فلائٹ سے واپس جانے کا فیصلہ کرلیا، جس میں وہ آ یا تھا۔

ز….ژ….ز

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بے رنگ پیا۔۔۔امجد جاوید۔۔قسط نمبر 10

۔ بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 10 شام ہونے کو تھی۔ سورج مغرب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے