سر ورق / مکالمہ / محترمہ سیما غزل سے مکالمہ۔ محمد زبیر مظہر پنہوار

محترمہ سیما غزل سے مکالمہ۔ محمد زبیر مظہر پنہوار

ٹی وی پلے رائٹر‘ ناولسٹ‘ کہانی کار‘ افسانہ نگار ‘ شاعرہ

سیما غزل

یوں تو پاکستان میں بے شمار ایسی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے اپنے شعبوں میں نام پیدا کیا لیکن آج ہم جس شخصیت کا ذکر کررہے ہیں ان کا شمار کسی ایک شعبے میں کرنا ان کے ساتھ انصاف نہ ہوگا ۔ہم بات کررہے ہیں مس ”سیما غزل“ کی جو صرف رائٹر ہی نہیں بیک وقت ناولسٹ ‘ ٹی وی پلے رائٹر‘ کہانی کار‘ افسانہ نگار‘ شاعرہ بھی ہیں۔ اتنے شعبوں میں ان کی مہارت کی ایک وجہ ان کا خاندانی پس منظر ہے اور والد کی صحبت کا اثر ہے۔ ان کے والد ”شعیب عباسی “جو ریڈیو پاکستان میں بطور اسکرپٹ رائٹر خدمات انجام دیا کرتے تھے ‘ اسکرپٹ رائٹر کے علاوہ مشہور شاعر بھی تھے ”حزیں“ تخلص کرتے تھے اورجگر مراد آبادی کے ہم عصروں میں شمار تھے صرف یہی نہیں ان کے خاندان کے دیگر رشتے دار بھی علم سے محبت کرنے والوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مس سیما غزل نے اپنی کم سنی کی عمر محض 14سال میں پہلاشعر کہا جو درج ذیل ہے۔

”قبل آغاز کے انجام کا ڈرہوتا ہے

دور اندیش بڑا تنگ نظر ہوتا ہے“

اس شعر نے ان کی زندگی ہی بدل دی اور اس دن سے آج تک ان کے لکھنے لکھانے کا سلسلہ جاری ہے ‘وہ جب میٹرک میں تھیں تو انہوں نے ریڈیو پاکستان پر اس وقت کے مشہور پروگرام ”آﺅ بچو سنو کہانی“ سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا ‘اس کے بعد انہوں نے1987ءمیں مشہور و معروف رسالے ”دوشیزہ“ سے آغاز کیا اور بطور ایڈیٹر مسلسل ساڑھے بارہ سال خدمات انجام دیں۔ لیکن ان کا یہ سفر یہاں تک ہی محدود نہ رہا اس دوران میں انہوں نے تقریباً 5ہزار کہانیاں اور افسانے بھی لکھے جو ”دوشیزہ میگزین“ کے علاوہ پاکستان میں چھپنے والے صف اول کے دیگر رسائل میں بھی چھپے اور لوگوں کی بھرپور پذیرائی حاصل کی۔

سیما غزل کی شخصیت میں نہ رکنے والا سفر جاری رہا اور وہ 1998ءمیں الیکٹرونک میڈیا سے منسلک ہوگئیں اور پہلا سیریل ”منزلیں“ لکھا جسے شائقین کی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہی نہیں سیما غزل پاکستان میں کئی ریکارڈ بنا چکی ہیں ‘جس میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار PTV سے ایک کوارٹر میں 3 سیریل آن ایئر ہونا بھی شامل ہےں ‘ یہی نہیں ”سیما غزل“ وہ واحد رائٹر ہیں جن کے لکھے گئے ڈرامہ سیریل ”چاندنی راتیں“ اور ”مہندی“ کی وجہ سے پاکستان ٹیلی ویژن نے ریکارڈ ریونیو حاصل کیا جو آج تک کوئی دوسرا رائٹر نہیں توڑ سکا۔

اس کے علاوہ وہ پاکستان میں پہلی بار لکس ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں بھی شامل ہیں ‘ان کی چار سیریل -1”چاندنی راتیں“ -2 ”مہندی“ -3 ہم سے جدا نہ ہونا“ -4”انا“ وہ سیریل ہیں جنہیں2002,2003,2004ءمیں ایوارڈ سے نوازہ گیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان میں اپنے ناولز پر ایوارڈ سابق گورنر سندھ معین الدین حیدر سے وصول کیا۔وہ پاکستان میں پہلی خاتون رائٹر ہیں جو بیک وقت دو سیریل ایک ساتھ لکھ سکتی ہیں اور لکھ رہی ہیں‘آج کل ایک سوپ اور سیریل پر کام کررہی ہیں۔

ان کی شاعری کی پہلی کتاب ”میں سائے خود بناتی ہوں“ بھی مارچ 2013ءسے مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

اس کے علاوہ اس وقت ARY Digital سے ڈرامہ سیریل ”پرچھائیاں“ بھی آن ایئر ہے جو بروز منگل رات 8 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق) ٹیلی کاسٹ ہورہی ہے۔ جبکہ دوسری سیریل ”پل میں عشق پل میں نہیں“ Express Entertainmentسے آن ایئر ہے۔

ویسے تو انہیں بطور رائٹر‘ شاعرہ ‘ افسانہ نگار‘ ناولسٹ سینکڑوں ایوارڈ مل چکے ہیں لیکن چند ایوارڈ کی تفصیل درج ذیل ہے۔

-1 2012ءمیں انہیں ڈرامہ سیریل ”عورت کا گھر کونسا“ پر بہترین رائٹر کے نیشنل ایوارڈ سے نوازہ گیا‘جو پی ٹی وی پر آن ایئر ہوئی۔

-2 2002,2003,2004ءمیں لکس ایوارڈ برائے بیسٹ آف دی ایئر ایوارڈ سے نوازہ گیا۔

 -2 1994ءمیں انہیں خواتین کے مشاعرے میں ایوارڈ سے نوازہ گیا۔

-3 دوشیزہ کی جانب سے انہیں 1995ءمیں بہترین ناول ”زرد پتوں کا بھنور“ پر ایوارڈ دیاگیا۔

-4 1999ءمیں انہیں بیسٹ رائٹر ”شام سے پہلے“ پر بیسٹ رائٹر کے ایوارڈ سے نوازہ گیا۔

-5 2002ءمیں روزنامہ ”جنگ“ کی جانب سے انہیں نیشنل رائٹر کے ایوارڈ سے نوازہ گیا۔

-6 2006ءمیں اسلام آباد میں منعقدہ پی ٹی وی کی ایک تقریب میں سابق وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی نے ”زندگی جیت گئی“ پر ایوارڈ سے نوازہ۔

-7 ”چار چاند“ پر انہیں 2008ءمیں وحید مراد ایوارڈ سے نوازہ گیا۔

اس کے علاوہ متعدد ایوارڈ اور اعزازات شامل ہیں جو انہیں شاعری‘ افسانہ نگاری‘ کہانی کاری‘ ناولز اور دیگر شعبوں میں دیئے گئے۔

٭٭٭٭

چند سوالات کے جوابات….﴿

تعلیمی اور خاندانی پس منظر؟

-گریجویشن کیا ہے۔۔۔۔۔خاندان ادبی ہے۔۔۔ہمارے دادے پر دادے بھی یا تو شاعر تھی یا انھوں نے کتابیں لکھی ہیں۔۔میرے پاپا شاعر تھے۔اور ریڈیو پہ اسکرپٹ رائٹر تھے۔ والدہ ,بہن بھائی سب لکھتے ہیں۔۔میرے بڑے بھائی زبیر عباسی نے کئی ٹی وی سیریلز لکھی ہیں۔میرے خاندان کے بہت سے لوگ شوبز سے وابستہ ہیں۔۔میرا بیٹا سید علی رضا (اسامہ) ڈائریکٹر ہے اس نے مشہور سیریلز ڈائریکٹ کی ہیں جن میں ” بشر مومن, اب دیکھ خدا کیا کرتا ہے, خدا اور محبت۔ تیری میری جوڑی۔کاش میں تیری بیٹی نہ ہوتی, مریم, دل عشق اور آج کل اے پلس سے” دل بے رحم ” آن ائر ہے۔ شمعون احمد عباسی میرا بھتیجا, رامش رضوی بھانجا , جویریہ عباسی۔اور انوشا عباسی۔اور انزلہ عباسی بھتیجیاں ہیں۔۔۔۔غرض سارے لوگ یا لکھتے ہیں یا آرٹسٹ ہیں۔۔۔

ادب سے لگاو کی خاص وجہ اور آپ کو کب ایسا لگا کہ آپکے اندر ایک تخلیقکار موجود ہے جو بہت سی باتیں کہنا لکھنا چاہتی ہیں؟

 

– ادب سے لگا تو اب سب کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ کیوں تھا۔۔جو ماحول چاروں طرف تھا۔۔اور شاید یہ تخلیقی صلاحیت ہمارے جینز میں شامل ہیں میں نے شاید 14 سال کی عمر میں ہی ریڈیو پر "او بچوں کہانی سنو” لکھنا شروع کیا اور پہلا شعر بھی اسی عمر میں کہا۔۔۔۔۔بس شاعری کی طرف کم کم ہی رجحان رہا نثر ذیادہ لکھتی رہی۔۔ساڑھے بارہ سال دوشیزہ کی ایڈیٹر رہی اور 1998 میں پہلی سیریل لکھی۔۔۔اس دوران میں 7 ناولز , 500 کے قریب ڈرامے اور ہزاروں کہانیاں لکھیں جو پاکستان کے تقریبا” سارے ہی میگزین میں چھپیں۔۔۔

پہلی تخلیق کب لکھی اور کس مجلہ یا اخبار میں شائع ہوئی۔

تجریدی افسانے لکھے جو ادب عالیہ کے رسالے "افکار ” میں چھپے۔۔۔۔۔میرا پہلا افسانہ افکار میں چھپا۔۔اور پھر۔۔۔۔۔۔

 ہمارے معاشرے کا چونکہ ماحول ایسا ہے کہ انٹلیکچوئل طبقے کو اہمیت کم دی جاتی ہے پھر آپ تو انٹلیکچوئل طبقہ کے سب سے حساس ترین لوگوں میں سے ہیں آپکو ضرور شروعات میں فیملی دوستوں محلوں داروں سے کچھ نہ کچھ عجیب سننے کو ملا ہو گا خاص کر پہلی دو چار کہانیوں کے بعد لوگوں کا ری ایکشن کیا تھا آپ کے متعلق؟

– نہیں مجھے خاندان میں کسی طرف سے روک ٹوک نہیں ملی بلکہ اگر میں یہ نہ کر رہی ہوتی تو شاید خاندان کے لوگ حیران ہوتے۔۔

 صیح معنوں میں آپکی کونسی تحریر تخلیق آپکی پہچان بنی جس نے آپکو عام عوام میں سے اٹھا کر علمی و ادبی طبقہ میں متعارف کروایا؟

– میری ناول "چاند کے قیدی” اور کال بیل نے مجھے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا اور ٹی وی سیریل "منزلیں ” نے ڈراما رائٹر کی حیثیت سے میری لوگو میں

شناخت بنائ۔۔الحمداللہ میرے کریڈٹ پہ بہت سی مشہور سیریلز ہیں۔۔۔

آپ کے احباب میں سے بہترین دوست جو رائیٹر اور شاعر بننے کے بعد بنے ہوں اور آپکی ہمیشہ رہنمائی کی ہو؟

– حسن اتفاق سے رہنمائی مجھے کسی سے نہیں لی۔۔نہ ڈرامے میں نہ شاعری میں۔۔۔لیکن دوستیاں تقریبا” سب سے ہے۔۔۔۔۔

سوال:کوئی ایساکردار جوابھی تک نہ لکھا ہو اور اُسے لکھنے کی شدید خواہش ہو؟

سیما غزل:ابھی تک میں نے کسی اندھے اور گونگے کا کردار نہیں لکھا جو میں لکھوں گی ‘ فی الحال میں اس پر تحقیق کررہی ہوں تاکہ کوئی باریک سے باریک بات بھی رہ نہ جائے۔

سوال:کیا آپ ڈرامے کا پلاٹ کسے واقعے سے متاثر ہو کر بناتی ہیں؟

سیما غزل:ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ ہمارے سامنے کسی کہانی کو کھول دیتا ہے اور کبھی کوئی کردار اپنے پیچھے کوئی پر اسرار کہانی چھپائے محسوس ہوتا ہے اور لگتاہے کہ مستقبل میں بھی اس کے ساتھ کہانی کی پر اسراریت وابستہ ہے۔ یہی چیز ڈرامہ بنادیتی ہے اور میں اسے لکھ لیتی ہوں۔

سوال:ڈرامہ لکھنے کے لیے آپ کا پسندیدہ وقت کون سا ہے؟

سیما غزل:میں لکھنا رات کو پسند کرتی ہوں‘ میں یوں بھی رات کی تاریخی کو اپنی زندگی کا اہم ترین وقت سمجھتی ہوں جب نہ صرف پڑھنا‘ لکھنا بلکہ خود اپنی ذات سے ملاقات اور اپنے آپ کو سمجھنے میں بھی مجھے کافی مدد ملتی ہے‘ میں سو کر زندگی کے اتنے بہت سے وقت کو ضائع کرنا بے عقلی سمجھتی ہوں‘ ہاں چار پانچ گھنٹے کی نیند کافی ہوتی ہے جو صبح 6بجے سے 11بجے تک کی کافی ہوسکتی ہے اس لئے میں برسوں سے راتوں کو جاگ رہی ہوں۔

سوال:کیا آپ نے کوئی فلم بھی لکھی یا لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟

سیما غزل:جی میں نے ایک فلم لکھی ہے مگر اس سلسلے میں ابھی تک قسمت میرا ساتھ دینے کو تیار نہیں‘ شاید کسی لمحے قسمت ساتھ دے جائے‘ میں نے 6برس پہلے ہالی وڈ کے ایک ڈائریکٹر جوانڈین ہیں اور دبئی میں رہتے ہیں‘ ہالی وڈ کی فلم بنا رہے ہیں ارشدپٹھان ‘ ان کے لئے ایک فلم لکھی ہے جس کا نام ”الہام“ ہے مگر یہ پیریڈ فلم ہے یعنی 100سال پہلے کے عرب علاقے کی اسی لئے بڑی بجٹ کی فلم ہے ۔ ارشد پٹھان بھی اس اسکرپٹ کو بچے کی طرح سینے سے لگائے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپا ہم جلد بنائیں گے اور میں بھی اسی کے انتظار میں ہوں لیکن خوش ہوں کہ پاکستان میں بھی اب فلموں کو فروغ دیاجارہاہے‘ فلم ”میں ہوں شاہد آفریدی“ کو میرے بیٹے نے ڈائریکٹ کیا ہے جو کامیابی کا سفرطے کررہی ہے بلکہ اس کے بارے میں شاہ رخ خان نے اپنی ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ میری فلم ”چنائے ایکسپریس “کا ”میں ہوں شاہد آفریدی“ سے پاکستان میں مقابلہ ہے جو میرے لئے ایک چیلنج ہے۔ مجھے اس بات سے اس لئے زیادہ خوشی ہے کہ اس فلم کا ڈائریکٹر میرا بیٹا سید علی رضا(اسامہ) ہے۔ شاید اب میں بھی پاکستان کے لئے فلم لکھوں۔

سوال:کہانی اپنی مرضی سے لکھتی ہیں یا ڈائریکٹر کی ڈیمانڈ کے مطابق لکھتی ہیں؟

سیما غزل:اپنی پسند کی کہانی زیادہ تر لکھتی ہوں کبھی کبھی ڈائریکٹر ‘ پروڈیوسر اگر کوئی اچھی کہانی دیتاہے تو اپنی مرضی اور کہانی کے حساب سے اس میں تبدیلی (اگر ضروری ہو) توکرکے لکھ دیتی ہوں۔ اس بات پر اکثر ڈائریکٹرز اورپروڈیوسرز سے جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں کہ میں بہتر کہانی کو خراب کرنے پر کمپرومائز نہیں کرسکتی۔ تب انکار کردیتی ہوں ویسے زیادہ تر لوگ میری بات مان لیتے ہیں کیونکہ میں قائل کرتی ہوں اور اچھا لکھنے کی کوشش بھی کرتی ہوں۔ میرا خےال ہے کہ ہم ڈرامہ ڈرائریکٹریا پروڈیوسر یا اپنے لئے نہیں‘ دیکھنے والوں کے لئے لکھتےہیں تو ہمیں ان کی نفسیات کو سامنے رکھنا بہت ضروری ہے۔ اسی لئے کامیاب بھی ہوجاتی ہوں اور لوگ پسند کرتے ہیں۔

سوال:کیا ڈرامہ نگار ڈرامے میں اپنی زندگی کو بھی لکھتا ہے؟

سیما غزل:اگر چاہے تو لکھ سکتا ہے مگر پابندی نہیں‘ ہاں اپنی زندگی کے کچھ نہ کچھ تجربات تو اسے لکھنا ہی پڑتے ہیں‘ وہ تجربات ہو یا مشاہدات ‘ یہ بہت ضروری ہے ورنہ ڈرامے میں حقیقت کا رنگ پیدا نہیں ہوسکتا اور دیکھنے والوں کو کچھ حقیقت اور کچھ افسانہ ہی ڈراما دیکھنے پر مجبور کرتاہے‘ فینٹیسی بہت ضروری ہوتی ہے اتنی ہی جتنی حقیقت اور اس کی تلخیاں۔

سوال:کسی بھی ڈرامے کے ہٹ ہونے میں گلیمر کا کنتا ہاتھ ہوتا ہے؟

سیما غزل:ڈرامے کے ہٹ ہونے میں گلیمر کا بالکل بھی ہاتھ نہیں ہوتا‘ Content کا ہاتھ ہوتا ہے۔ آپ کوئی بھی فضول کہانی لکھ کر اس میں گلیمر بھر کر اسے کامیاب نہین بنا سکتے نہ فضول کہانی میں سارے پاکستان کے اسٹار ڈال کر ہی اسے ہٹ کیاجاسکتا ہے‘ کہانی نہ ہو تو ڈائریکٹر‘ گلیمر اور پوری دنیا کے آرٹسٹ بھی کچھ نہیں کرسکتے‘ اس لئے کہانی کی مضبوط بنیاد اور مربوط بنت انتہائی اہم ہے‘ جس میں آگہی کا عنصر ضرور ہوتا ہے کہ ہم دیکھنے والوں کو اہم معلومات(زندگی سے متعلق) بھی فراہم کرسکیں۔

سوال:خواتین ڈرامہ نگاری کے میدان میں بہت آ گئی ہیں،اِس کی کیا وجہ ہے؟

سیما غزل:اس میں سراسر مردوں کا قصور ہے شاید ان میں کانفیڈینس کم ہوگیا ہے یا وہ دوسرےہی معاملات میں مصروف ہوگئے ہیں جو بھی ہو اس میں عورتوں کا بالکل بھی قصور نہیں ہے‘ یہ مجھے یقین ہے ۔ ویسے یہ سوال آپ مردوں سے بھی کرکے دیکھیں‘ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وہ عورتوں کو قصور وار گردانیں گے‘ میں مردوں کی نفسیات سے بھی واقف ہوں۔

سوال:ایک وقت تھا جب ہر طرح کے موضوع کو ڈرامے کا حصہ بنایا جاتا تھا مگر آج کل ہر کہانی خواتین کے گرد ہی گھومتی نظر آتی ہے،اِس کی کیا وجہ ہے؟

سیما غزل:ہاہاہاہا…. یہ کیا بات کی آپ نے….؟اس پر مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔ بہت پہلے کی بات ہے‘ پانچ بیٹیوں کی ایک پریشان ماں ہمارے ساتھ کہیں جارہی تھی کہ بارات گزری جس میں انہوں نے دولہا کو ماں باپ کے ساتھ بیٹھے دیکھا اور بہت حسرت سے کہا ”ہائے اللہ…. آج کل بس لڑکوں کی شادیاں ہورہی ہیں…. اور بیٹیاں بیٹھی ہیں“ تو جناب عورت تو پہلے ڈراموں میں بھی ہوتی تھی‘ موضوع بھی عورت ہوتی تھی کہیں تو گنوادوں۔ شہزوری‘ عروسہ‘ تنہائیاں‘ افشاں‘ دشت ‘ کہی ان کہی‘ انکل عرفی۔ یہ ساری کہانیاں عورت کے گرد گھومتی تھیں۔ آج بھی وہی کچھ ہورہا ہے‘ پہلے فینٹیسی زیادہ تھی‘ لڑکیاں دیواریں کود کے ٹینس کھیلنے چلی جاتی تھیں‘گھروں میں منیجر رکھ لئے جاتے تھے‘ ایک پھوپھی یا خالہ نما چیز چینی اور پتی چھپایا کرتی تھیں‘ بہو چاقو لے کر سسر کے پیچھے گھوما کرتی تھی ‘ سسر مسہری کے نیچے چھپ کر اپنی جان بچاتے تھے‘ محبت اور صرف محبت موضوع تھا‘ اب تو کینوس بہت وسیع ہوچکاہے‘ ایسے موضوعات پر بھی لکھا جارہا ہے جس پر پہلے قلم اٹھاتے ہاتھ کانپتے تھے‘ حالانکہ حقائق ہمارے چاروں طرف بکھرے تھے مگر بات کرنے پر قدغن تھی۔

سوال:آپ نے ابتدا میں شاعری بھی شروع کی تھی جو کہیں دب گئی۔کیا اس کی وجہ ڈرامے کی چکاچوند اور اِس سے حاصل ہونے والی آمدنی تو نہیں؟

سیما غزل:نہیں…. شاعری کہیں دبی نہیں تھی میری شیلف میں رکھی ڈائریوں تک محدود تھی اور ڈرامے نے میرا بہت سا وقت چھین لیا تھا اس میں پیسے کی چکا چوند کا کوئی تعلق نہیں ‘ میں اسے چکا چوند نہیں کہتی نہ سمجھتی ہوں‘ پیسا زندگی کے لئے ضروریہے ‘ اگر خواہ مخواہ کی ضرورتوں کو نہ بڑھایاجائے تو کمانا اور حق حلال کمانا جائز ہے اسے طنز نہیں بنایاجاسکتا جبکہ آپ کے سوال میں سوال کم اور طنز زیادہ ہے معذرت کے ساتھ‘ دولت کرپٹ لوگوں کے لئے چکا چوند ہوسکتی ہے محنت اور لگن سے کمانے والوں کے لئے خوشی اور اس کی دیانت داری کا معاوضہ ہوتی ہے۔

 آپکی نظر میں ادب کی معاشرے میں گنجائش کتنی ہے اور آج کا قاری شاعر سے کیا چاہتا ہے؟

– دیکھیں کوئی بھی معاشرہ ادب کے بغیر نہیں ہوتا۔۔ادب ثقافت روایات یہ سب مل ایک معاشرے کی الگ شناخت بناتی ہیں اور ماشااللہ آج کی جواں نسل بھی ادب سے بھرپور رغبت رکھتی ہے۔۔آج بھی اچھے افسانے لکھے جا رہے ہیں۔۔۔اچھا شعر کہا جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی زمانے میں ترقی پسند ادبائ  تحریک کا جنم ہوا تھا۔ کیا اس سے اردو ادب کا فائدہ ہوا یا نقصان؟

میں نہیں جانتی کہ آخر ترقی پسند ادبا کی اس تحریک نے کون سا ایسا جدید کام کیا ہے جس نے اپنی خاص جگہ بنائی ہو۔۔۔۔آج جو بھی جو کچھ لکھ رہا ہے وہ جدید ہی ہے۔۔۔۔گل و رخسار کی باتیں اب بھی پرانے لوگ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔یا کچھ مضامین اس انداز سے باندھتے ہیں کہ اس کو دیکھ کر قدیم شاعری کا احساس ہوتا ہے وہ بھی اچھا لگتا ہے۔

ادب میں جدیدیت اور مابعدجدیت کا فلسفہ کس حد تک ہمارے قاری پہ اثر انداز ہوا یا پھر ہمارا قاری یا شاعر بیسویں صدی کی پہلی پچاس دہائیوں میں کھڑا نظر آتا ہے۔؟

– ادب میں جدیدیت, اور مابعد جدیدیت کا فلسفہ تو پہلے بھی کسی حد تک موجود تھا اور آج بھی ہے ہاں ایک بڑی تبدیلی جو آئی ہے وہ موضوعاتی غزل کی ہے۔۔یہ سچ ہے کہ پہلے ذیادہ تر شاعری محبوب سے گفتگو ہی تھی جبکہ آج ایسا بالکل نہیں ہے۔۔۔آج کی نسل کے پاس بہت بڑا کینوس ہے۔۔۔۔اور ہماری نئی نسل اس سے خوب فائدہ بھی اٹھا رہی ہے۔

کیا آپکی نظر میں موجودہ کا ادب قاری یا عام آدمی جو کہ سرسری مطالعہ کرتا ہے اس کو اپیل کرتا ہے بالخصوص اردو ادب

 جی ہاں آج کا قاری بھی بہت مطمئن ہے۔۔۔کیونکہ ان مسائل پر شعر کہے جا رہے ہیں جن سے وہ خود کو ریلیٹ کر رہے ہیں۔

کیا وجہ ہے کے اردو ادب کا معیار اس لیول تک نہیں پہنچ پایا جہاں آج مغرب ہے حالانکہ ماضی میں اردو ادب اور ادبائ نے اچھی خاصا عالمی لیول کا کام کیا مگر اب فقدان؟

– ایسا بالکل نہیں ہے کہ ہمارے ہاں ادب پہ کام نہیں ہو رہا اور مغرب میں ذیادہ ہورہا ہے۔۔۔ دیکھیں ہمارے ہاں ادب پر کام سست روی کا شکار ضرور ہے۔۔۔۔دیکھیں کسی بھی ادب کی صنف پہ ماحول اور اپنے گرد کے حالات بہت اثر انداز ہوتا ہے۔۔۔۔۔کوئی بڑا سانحہ سکتے میں مبتلا کر سکتا اور کوئی چھوٹی سی خوشی سرشار کر دیتی ہے۔

 آپکی نظر میں ماضی و حال کے دو نام بطور بہترین افسانہ نگار اور ناول نگار۔۔ شاعر کس وجہ سے؟

بہترین افسانہ نگار تو آج بہت لوگ ہیں مگر سینئر میں مجھے غلام عباس۔۔۔ممتاز مفتی پسند ہیں اور شاعروں میں نظم کے بادشاہ مجید امجد پسند ہیں۔

سوال:نئے ڈرامہ نگاروں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی؟

سیما غزل:یہی کہ پڑھے بغیر لکھنا ایک بے سود عمل ہے‘ آپ زیادہ سے زیادہ پڑھیں‘ صرف کتابیں ہی نہیں انسانوں کو بھی اور نیوٹرل ہوکر پڑھیں تو آپ پر بہت سی جہتیں کھلتی چلی جائیں گی‘ رائٹر وہ ہوتا ہے جو چاروں طرف نکلنے والے کسی بھی راستے پر نہیں بلکہ ان کے بیچوں بیچ کھڑاہوکر سب طرف دیکھ کر سب کچھ لکھ دیتا ہے تب وہ سچائی سے لکھ پاتا ہے‘ اگر وہ کسی راستے ”پر“ کھڑاہوکر لکھے گا تو وہ جانب دار ہوجائے گا‘ بات یہ ہے کہ اسے ظالم اور مظلوم ‘ امیر اور غریب ‘ جاہل اور عاقل سب کا ری ایکشن ‘ سب کی فیلنگ اور سب کے رویئے دکھائی اور سجھائی دے رہے ہوں‘ اور وہ سب کچھ محسوس کرکے لکھ رہا ہو۔

آپ کی طرف سے ہمارے قارئین کے لئے کوئی پیغام

آخر میں یہ یہی پیغام دوں گی لوگوں کو کہ خدا کے واسطے اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں ‘ پڑھیں بالخصوص ان خواتین کو جن کے بارے میں آپ نے سوال بھی کردیا کہ لوگ ان کولکھ کر دیتے ہیں میں انہی کو کہوں گی اور ان کو بھی جو لکھ کر دیتے ہیں کہ آپ اگر واقعی استاد بن جائیں ان کو سکھا دیں تو آپ کا لیا ہوا پیسہ بھی حق حلال ہوجائے گا اور آپ آنے والی نسل کو ادب کے بارے میں کچھ سکھا سکیں گے وہ احترام سے آپ کا نام تو لیں گے کہ آپ استاد تھے کہیں یہ سن کے کہ آپ انہیں لکھ کر دے رہے ہیں اور پیسے لے رہے ہیں اور آپ مذاق اڑا رہے ہیں ان کے دل سے آپ کے لئے بدعائیں نہیں نکلیں گی اور ان خواتین سے بھی میں کہوں گی کہ خدا کے واسطے آپ لوگوں کی وجہ سے ہم باقی تمام خواتین پر حرف آتا ہے جو اپنی دن رات کی محنت سے خود لکھتی ہیں ‘ اگر آپ کو واقعی شاعری نہیں آتی تو آپ پڑھیئے سیکھنے کی کوشش کیجئے ماضی کے بے پناہ ایسے شعراءموجود تھے اور ایسے ہیں کہ جن کو آپ پڑھیں گی تو شعر کہنے کی تمیز آجائے گی کوئی ضروری نہیں کہ آپ عروج سیکھیں لیکن اگر سیکھ سکتی ہیں تو وہ بھی سیکھیں شعر میں آپ کی کیفیت آنی چاہئے اس کیفیت کو قتل مت کیجئے گاجب تک کیفیت نہیں ہوتی احساس نہیں ہوتا اس میں شعریت پیدا نہیں ہوتی‘ میں ایسے بہت سے عروسیوں کو بھی جانتی ہوں جن کا شعر ‘ شعر تو ہوتا ہے نپا تلا ٹھوکا ٹھاکالیکن اس میں شعریت نہیں ہوتی تو آپ کو تو وہ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن آپ خود سیکھیں جس سے آپ کے شوق اور شاعری کو تقویت پہنچے گی۔

٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ملاقات ۔۔ جناب محمود احمد مودی ۔۔۔۔ سیف خان

دوستو!! جےڈی پی کے سابقہ اور قارئین کے ہردلعزیز مصنف اخبارجہاں کے مدیر جناب محموداحمد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے