سر ورق / ناول / تھیا، تھیا… دوسری قسط …شہباز اکبر الفت

تھیا، تھیا… دوسری قسط …شہباز اکبر الفت

تھیا، تھیا
دوسری قسط
شہباز اکبر الفت

تانیہ کے لہجے کی قطعیت آنے والے طوفان کا صاف پتہ دے رہی تھی،تہمینہ بیگم اس کے رویہ میں بغاوت کے عنصر کو محسوس کانپ سی گئی تھی،علامہ اقبال ٹاﺅن کے ایک چھوٹے سے کرائے کے پورشن میں عزت کی زندگی گزارنے کے باوجود وہ کبھی اپنے ماضی، اپنی اصلیت کو نہیں بھولی تھی،اس نے ایک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی تھی جہاں دن سوتے اور راتیں جاگتی ہیں اور گناہ کی اس دنیا میں پیدا ہونے والے کسی بچے سے اس کے باپ کا نام نہیں پوچھا جاتا، جہاں لڑکی پیدا ہونے پرصرف اس لیے خوشیاں منائی جاتی ہیں کہ وہ ماں کے ورثے کو آگے بڑھائے گی اور بیٹے کو صرف یہ سوچ کر پال پوس لیا جاتا ہے کہ اگر وہ بڑا ہوکر نشے کی لت میں مبتلا نہ ہوا تو ماں اور بہن کی دلالی کرلے گا، لاہور کی ہیرا منڈی کے ٹیکسالی چوک میں پھجا پائے والی کی دکان سے تھوڑا آگے اس کی ماں لاڈلی بائی کا کوٹھا تھا، جہاں دن ڈھلنے کا آغاز ہی گھنگھروﺅں کی جھنکار سے ہوتا، بالکونیوں پر لہراتے رنگین پردوں اور پردوں کے پیچھے سے جھانکتی، دعوت گناہ دیتی شرابی آنکھیں بڑے بڑے پارساﺅں کے قدم لڑکھڑانے پر مجبور کر دیتی تھیں۔
لاڈلی بائی اپنے وقت کی معروف طوائف تھی، رقص، موسیقی اور دلفریب اداﺅں سے تماش بینوں کو لبھانے کا فن اسے بھی اپنی ماں سے ہی ورثے میں ملا تھا اور وہ اسے آگے بڑھانے کے لیے بے چین تھی، تہمینہ کا بچپن بھی مردوں کو لبھانے والی اداﺅں اور رقص و موسیقی کے اسرار رموز کو سیکھنے میں ہی گزرا، واجبی سی تعلیم بھی دلوائی گئی تاکہ زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھنے میں اسے کوئی دقت نہ ہو۔
تہمینہ کو یہ تو پتہ نہیں تھا کہ وہ کس کا تخم ہے لیکن اٹھارہ سال کی عمر میں ہی اس نے وہ رنگ روپ اور قد کاٹھ نکالا کہ ہر طرف ہاہاکار مچ گئی ، چڑھتی جوانی کے جوبن نے تہمینہ کو کسی حد تک خود سر بنا دیا تھا ، اسکول سے مڈل تک کی تعلیم نے اس حد تک باشعور ضرور بنا دیا تھا کہ اب اسے ماں کا دھندہ گناہ کی دلدل لگنے لگا، اسے مردوں کی ہوس بھری نظروں کا سامنا کرنے سے کوفت ہونے لگی تھی اور پھر اس نے برملا اس کا اظہار بھی کرنا شروع کر دیا لیکن لاڈلی بیگم نے کبھی اس کے باغیانہ خیالات کی پرواہ نہیں کی، اس کے کلیجے میں تو یہی سوچ کرٹھنڈ پڑگئی تھی کہ اب اس کا بڑھاپا بھی عام طوائفوں کی طرح بالکونی پر کھڑے ہوکرحسرت سے گاہکوں کا انتظار کرتے اور سستے تماش بینوں سے جسم نچواتے نہیں گزرے گا۔
٭٭٭
لاڈلی بیگم نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ تہمینہ کی خود سری بڑھتے بڑھتے اس مقام پر پہنچ جائے گی جہاں پہنچ کر مسافرلٹتے اور عمر بھر کی پونجی گنوا بیٹھتے ہیں،لاڈلی بیگم توہیرا منڈی کے مروجہ اصول کے تحت تہمینہ کی نتھ اتروائی ( پہلی رات) کی رسم کا سوچ رہی تھی اور اس مقصد کے لیے اسے کسی موٹی آسامی کی تلاش تھی لیکن تہمینہ نے دلبر حسین سے عشق اور شادی کی خواہش کا اظہار کرکے اس کے سر پر بم پھوڑ دیا، اسے اپنی دنیا اندھیر نظرنے لگی ۔
” یہ تو کیا کہہ رہی ہے نگوڑ ماری، کیا تو پاگل ہو گئی ہے؟“
” ہاں، ہاں، میں پاگل ہو گئی ہوں، مجھے نہیں کرنا یہ گناہ کا دھندہ، مجھے ذلت نہیں عزت چاہیے،میں نے شادی کرنی ہے، گھر بسانا ہے اور عزت کی زندگی گزارنی ہے“
تمہینہ نے بھی تقریباً چلاتے ہوئے ترکی بہ ترکی جواب دیا تھا
”کون دے گا تمہیں عزت، کون کرے گا تم سے شادی، تم طوائف زادی ہو، ساری عمر طوائف ہی رہو گی؟“
” دلبر حسین کرے گا مجھ سے شادی، وہ دے گا مجھے عزت اور وہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے“
” جانتی ہوں اس دو ٹکے کے فلم ڈائریکٹر کو، پچھلے چار سالوں میں تین فلاپ فلمیں دے چکا ہے اور اب تو کوئی پروڈیوسر اسے منہ لگانے کوبھی تیار نہیں ،اس نے تمہیں ایسی کیا پٹی پڑھا دی کہ ماں کے آگے ہی زبان چلانے لگی“
” فلاپ وہ نہیں، لوگوں کی بیمار سوچ ہے ماں، وہ ایک سچا تخلیق کار ہے، عام ڈگر سے ہٹ کر فلمیں بناتا ہے، اسے حقیقت پسندی کا جنون ہے، وہ منافقت کی بجائے پوری دیانت داری کے ساتھ معاشرے کے ان تلخ پہلوﺅں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں ہم عام طور پر جانتے بوجھتے بھی نظرانداز کردیتے ہیں“
” دیکھو! اگر تم فلموں میں کام کرنا چاہتی ہو تو میںتمہیں نہیں روکوں گی لیکن اس بھوکے ننگے فلم ڈائریکٹر کے ساتھ شادی کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتی، یہ میرا آخری فیصلہ ہے“
”اگر یہ آپ کا آخری فیصلہ ہے تو پھر میرا بھی آخری فیصلہ سن لیں، میں نے دلبر حسین کے ساتھ شادی کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا اور اب مجھے کوئی نہیں روک سکتا، یہ کوئی فلم نہیں ہے کہ آپ حبس بے جا میں رکھ کر یا اسے غنڈوں سے پٹوا کر فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیں گی، اگر آپ نے ایسا کیا تو ۔۔۔ “ اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی
” تو کیا کرو گی؟“ لاڈلی بیگم اس کے لہجے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہی لرز سی گئی
” میرے پاس قانون سے مدد لینے کا راستہ موجود ہے “ اس نے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوری دلیری سے جواب دیا
٭٭٭
دلبر حسین تہمینہ سے پورے سترہ سال بڑا تھا لیکن عمروں میں واضح فرق کے باجود دونوں کی خوب بنی، وہ اپنے قول کا پکا نکلا اور تہمینہ کو گناہ کی دلدل میں دھنسنے کی بجائے ایک باعزت زندگی مہیاکرنے میں کامیاب رہا، وہ غریب ضرور تھا لیکن کم ظرف نہیں تھا،اس نے کبھی بھول کر بھی اسے اس کے ماضی کا طعنہ نہیں دیا،پورے اہتمام سے شادی کی اورا پنی بوڑھی ماں کے پاس لے آیا، دلبر کی ماں نے جب اسے سگی ماں سے بڑھ کر پیار دیا تو وہ اپنی قسمت پر رشک کرنے لگی اور ان کی خدمت میں جت گئی، دلبر کی ماں نے بھی دعاﺅں میں کبھی بخل سے کام نہ لیا اور انہی کی دعاﺅں کے صلہ میں اللہ نے انہیں تانیہ کی صورت میں ایک گول مٹول سی گڑیا عطا کر دی، تانیہ کی پیدائش نے تو جیسے ان کی زندگی ہی مکمل کر دی تھی، وہ بہت خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے، دلبر نے ایک تشہیری کمپنی میں ملازمت کرلی تھی جہاں اسے چھوٹی موٹی تشہیری فلمیں بنانے کا کام ملا تھا اور معقول تنخواہ میں اچھی گزر بسر ہونے لگی، گناہ کی دنیا اور عزت کی زندگی میں فرق کو تہمینہ نے بہت جلد محسوس کرلیا، وہ اپنی قسمت پر ناز کرتی تھی کہ اسے دلبر جیسا پیار کرنے والا شوہر ملا، وہ اکثر اس وقت کو یاد کرکے اللہ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتی تھی جب ایک فلم کے لیے نئے چہروں کی تلاش میں دلبر نے بازار حسن کا رخ کیا اور اتفاقیہ طور پر اس کی ملاقات تہمینہ سے ہوگئی، وہ فلم تو کبھی نہ بن سکی لیکن تہمینہ کی زندگی میں دلبر کی صورت انقلاب ضرور آگیا
٭٭٭
دلبر نے مرتے دم تک تہمینہ سے وفا کی اور ساری زندگی اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہ لگائی، حتیٰ کہ اس نے لاڈلی بیگم سے ملنے سے بھی منع نہیں کیا لیکن یہ الگ بات کہ تہمینہ نے اس بازار میں جانے کی بجائے اپنی ماں کو پیغام بھجوا دیا اور وہ کبھی کبھار آکر اسے مل جاتی، بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے اور تہمینہ کو خوش باش دیکھ کر لاڈلی بیگم کی آنکھیں بھی اس کے سائب فیصلے پر بھیگ جاتی تھیں، تہمینہ نے کئی بار اصرار کیا کہ وہ بھی بازار حسن چھوڑ کر مستقلاً اسی کے پاس آجائے لیکن لاڈلی بنے انکار کر دیا، شاید وہ اپنی گناہ آلود زندگی کی نحوست کا سایہ اپنی بیٹی کی ہنستی بستی زندگی پر نہیں پڑنے دینا چاہتی تھی، کچھ عرصے بعد پہلے لاڈلی بیگم کا انتقال ہوا اور پھر دلبر کی ماں کا، دلبر کی ماں کو دنیا سے گئے ابھی چار پانچ سال ہی گزرے تھے کہ ایک دن دلبر بھی سکون کی کچھ ایسی نیند سویا کہ صبح اس کی آنکھ ہی نہ کھلی
٭٭٭
ماں، ساس اور شوہر کی پے در پے اموات نے تہمینہ پر مصیبتوںکے پہاڑ توڑ دیئے تھے،تانیہ کی ننھی جان کا آسرا نہ ہوتا تو شاید وہ خود بھی تنہائی اور حالات کے جمود کا شکار ہوجاتی لیکن تانیہ کی قلکاریوں نے ہمیشہ اسے زندگی کی ڈور سے باندھے رکھا،زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے دلبر کی پس انداز کی ہوئی کچھ جمع پونجی زیادہ دن نہ چلی تو اس نے قرب و جوار کے گھروں میں برتن مانجھنے شروع کر دیئے اور آہستہ آہستہ زندگی اعتدال پر آتی گئی۔
تانیہ پڑھنے لکھنے میں بہت ہشیار واقع ہوئی تھی، ابتدائی کلاسز سے ہی اس نے پوزیشنز زلینا شروع کر دی اور پھر میٹرک تک وظیفے کے سارے امتحان بھی کامیاب سے پاس کرکے اس کے کندھوں کا کچھ بوجھ ہلکا کر دیا، اس کے جوانی کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی تہمینہ نے ایک دن موقع پاکر تانیہ کو اپنے ماضی کی ساری حقیقت سے آگاہ کر دیا، وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی بیٹی اگلے گھر جانے کے لیے کوئی ایسی ضد کر بیٹھے جو اس کے ماضی کی وجہ سے پوری نہ ہو او ر بیٹی کو بھی بعد میں حقیقت پتہ چلنے پر اس کی نظروں سے گر جائے، یہی وجہ تھی کہ تانیہ نے اپنے دل میں تابش کے لیے بے پناہ محبت کے باوجود کبھی اس پر اپنے احساسات کا اظہار نہ کیا لیکن اب صورت حال کسی اور ہی سمت اشارہ کر رہی تھی
(جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے