سر ورق / افسانہ / غریب کا خواب۔۔۔ ایمان بخاری

غریب کا خواب۔۔۔ ایمان بخاری

غریب کا خواب۔۔۔

ایمان بخاری

کاغذ کا جہاز اڑاتے ہوئے اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیا اور آن کی آن میں بابا کے پاس پہنچا اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ بابا کے چہرے کے گرد پیالے کی صورت میں بناتے ہوئے بولا ” بابا میں بڑا ہو کر پائلٹ بنوں گا”

اسے پتہ نہیں تھا کہ اس نے اپنی ایک ننھی سی سوچ کو بابا کی آنکھوں کا خواب بنا دیا تھا اور اس خواب کے ساتھ ہی بہت سے شکنیں بھی بابا کے چہرے پہ نمودار ہو رہی تھیں کسی شکن میں ننھی غازیہ کے پھولوں والے کپڑوں کی خواہش نمودار ہو رہی تھی تو کہیں غازیان کے کھلونوں کا شوق بول رہا تھا۔

آج پھر بابا ایک نئے دن کی شروعات کے ساتھ ہی نئے کام کی تلاش میں عازمِ سفر ہوئے۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے ہمیشہ کی طرح کئ سوچوں اور ضرورتوں نے انہیں آ گھیرا تھا لیکن آج جو چیز سر فہرست تھی وہ تھی عالیان کی پائلٹ بننے کی سوچ۔ پورا دن کام کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے بھوک کا بری طرح سے شکار ہو چکے تھے لیکن خواب کی تعبیر کی تلاش بھی تو آسان نہیں تھی۔ وہ خواب انہیں پھر سے بیساکھی کی مانند سہارا دیتا رہا اور وہ ٹوٹے جوتے کے ساتھ لڑکھڑاتے ہوئے چلتے رہے۔ اچانک ہی انہیں یاد آیا کہ آج تو غازیان کو بلا اور گیند لے کے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اب جب کہ آج کا کھانا بھی کھانے کے پیسے نہ تھے وہ گیند اور بلا کہاں سے لیتے۔ وہ آہستہ آہستہ خود کو کمزور پڑتا ہوا محسوس کر رہے تھے۔ وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ یہ کمزوری جسمانی کمزوری ہے یا اعصاب پہ بیشمار ضرورتوں کے چھائے ہوئے ہالے انہیں کمزور کر رہے تھے۔

وہ لڑکھڑاتے خود کو سنبھالتے تھک چکے تھے اور اب تھک کے گرنے والے تھے وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ گھر میں کیسے داخل ہوں گے کس طرح غازیان سے کہیں گے کہ بیٹا آج میرے پاس پیٹ بھرنے کے لیے پیسے نہیں تھے تیرے لیے کھلونے کہاں سے لاتا۔ غازیہ کو کس طرح بتاتے کہ بیٹا آج بھی وہ دکان بند تھی جس پہ پھولوں والے کپڑے ملتے ہیں۔ عالیان سے کیسے کہتے کہ بیٹا جو خواب تو نے ان آنکھوں کو دکھایا ہے وہ بہت بڑا ہے۔ جن آنکھوں سے بھوک کے مارے نیند دور ہو وہاں بڑے بڑے خواب نہیں دیکھے جا سکتے۔ وہ کیسے کہتے کہ میرے بچوں اپنی بے پناہ تگ و دو کے باوجود آج تک میں اپنا ایک خواب پورا نہیں کر سکا اور وہ خواب ہے تمہیں پیٹ بھر کر کھانا کھلانے کا خواب۔ عید پہ نئے کپڑوں میں کھلکھلاتے ہوئے پھولوں کو دیکھنے کا خواب۔ اپنوں بچوں کے دوسروں بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھنے کا خواب۔ جو انہیں صرف اپنے ساتھ کھیلنے کی اجازت اس لیے نہیں دیتے تھے کہ ان کے پاس گیند بلا نہیں تھا۔ وہ کیسے کہتے بیٹا آج آپ کے بابا ہار گئے ہیں۔ آج وہ آپ کو اپنی سچائ بتانا چاہتے ہیں آج وہ بتانا چاہتے ہیں کہ جن بابا کو آپ بادشاہ سمجھتے ہیں وہ حقیقت میں ایک گدا بھی نہیں ہیں کیونکہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا بھی خودادری کی توہین سمجھتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی وہ گھر کے اندر داخل ہوئے غازیان کے چہرے کی مسکراہٹ نے عالیان کے ہاتھوں کے سہارے نے اور غازیہ کے دوڑتے قدموں کی چاپ نے سب کچھ بھلا دیا۔ وہ پھر سے بچوں سے جھوٹ بول رہے تھے۔ بیٹا کپڑے کل تک مل جائیں گے. کھلونے والے نے کہا ہے کہ جلد منگوا دوں گا آج ہی سامان ختم ہوا ہے اور عالیان بیٹا میں نے اپنے دوست سے بات کی ہے جلد ہی آپ کو اچھے سکول میں داخلہ مل جائے گا اور آپ بھی باقی بچوں کی طرح سکول جائیں گے اور پائلٹ بنیں گے۔

یہ سب بتاتے ہوئے وہ بھول گئے تھے کہ وہ جھوٹے ہیں سب سے بڑے جھوٹے جو اپنوں کے سامنے بھی سچ نہیں بول سکتے۔۔۔۔۔!!!!!

وہ نہیں بتا سکتے کہ میرے بچوں غریب کے خواب کی مدت ایک دن بھی نہیں۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے