سر ورق / افسانہ / تاریکی : عماؔر نعیمی

تاریکی : عماؔر نعیمی

~~~~تاریکی~~~~
مصنف : عماؔر نعیمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اجلاس منعقد ہوا؛ جس میں نظامِ شمسی کے سیاروں؛ زھرہ، کرہ ارض، مریخ، مشتری، یورینس اور نیپچون کے چاند شریک ہوئے۔ وقتی طور پر سیاروں کی گردش تھم گئی اور وہ سب سیارے ایک قطار میں کھڑے ہوگئے۔ سیارہ "پلوٹو” کو ایک عرصہ پہلے تمام سیاروں نے بڑے سیارے کی نافرمانی کی وجہ سے اپنے نظام سے خارج کردیا تھا۔ اب "پلوٹو” نظامِ شمسی کا حصہ نہیں تھا اس لیے "چاند” رکھنے کے باوجود اسے اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
اب تقریر کرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ سب سے بڑے سیارے کے چاند نے تقریر شروع کی۔

” دیکھو ہمیں ، ہم کیسے چمک رہے ہیں۔ ہمارے ہی دم سے دہر میں اجالا ہے۔ ہماری چاندنی دیکھو۔ کون رکھتا ہے ہم جیسی چمک یہاں ؟ بےشک کوئی بھی نہیں۔ کھڑے اور کھوٹے کی پہچان کرنا سیکھیں "

کہکشاں میں شش جہت اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ پورے کہکشاں میں اسی کی آواز گونج رہی تھی۔وہاں موجود اندھیرے پر بڑے سیارے کے چاند کی تقریر کا برابر اثر ہورہا تھا اور وہ چاند کی چاندنی سے جگمگا بھی رہا تھا۔ اسی اثناء میں بہت دور کہکشاں سے ایک سیارے "عطارد” کی آواز آئی جس کا کوئی چاند نہیں تھا؛ اور اس پر چاند کی روشنی بھی نہیں پہنچ رہی تھی۔ جو حجم میں "کرہ ارض” کے چاند سے بھی چھوٹا تھا :
” یہ سب جھوٹ ہے۔ تم بکواس کرتے ہو ، تمھارے قول میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ تم بھی کسی اور کے توسل سے روشن ہو۔ تم خود کچھ بھی نہیں ہو جب تک سورج نہ ہو۔ ہمیں تمہاری نہیں سورج کی ضرورت ہے”
اس پر چاند نے قدرِ غصے سے کہا :
” تمھاری جرات کیسے ہوئی میری شان میں گستاخی کرنے کی اے ذلیل سیارے۔ تم شاید بھول گئے ہو کہ تم ایک سیارہ ہو اور میں ایک چاند ہوں۔ بکواس کرنے سے پہلے کم از کم اپنا حجم تو دیکھ لیتے۔ اب تمھیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید بولا :

” کیا سب اندھے ہوگئے ہو ؟ یہ گستاخ ہے۔ دبوچ لو اس کو ”
اس پر تمام اندھیرا اس کی جانب بڑھا اور پھر تاریکی چھا گئی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

حیا۔۔۔ زویا مریم

    حیا زویا مریم میرے در و دیوار میں اک خلش سی رہتی ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے