سر ورق / کہانی / معزز گنجے نوشاد عادل حصہ سوم آخری

معزز گنجے نوشاد عادل حصہ سوم آخری

معزز گنجے

نوشاد عادل

حصہ سوم آخری

”پتا نہیں وہ کون لوگ ہیں، جو میری روزی پر لات مار رہے ہیں۔“ دنبہ نائی خاصا افسردہ تھا۔ ”کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ نیک فرائض میرے ہاتھوں انجام پاتے۔“ اس نے گنجوں کو بڑی حسرت سے دیکھا۔ وہ بڑا دل فریب منظر تھا، وہ تمام کھوپڑیاں صابن ملے پانی کے بڑے بڑے بلبلوں کی طرح لگ رہی تھیں۔

”ایک تو یہ چاچا چراندی بھوتنی کے پتا نہیں کیا کرتے پھر رہے ہیں۔ ان کا دماغ ہی سٹھیا گیا ہے۔“ استاد دلارے نے منہ بنایا۔

”کیا ہوگیا ہے استاد؟“ شرفو صاحب چاچا والے واقعے سے لاعلم تھے۔ ”خیریت سے تو ہیں ناں چاچا؟“

”ارے بھئی…. چاچا کے گھر کے سامنے ایک قبر اچانک نمودار ہوگئی ہے۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ قبر نہیں ہے کسی نے چاچا کے ساتھ خوف ناک مذاق کیا تھا۔ رات میں مٹی کا ڈھیر لگا کر قبر کی طرح بنادیا اور چاچا کے نام کا کتبہ بھی گاڑ دیا تھا۔ چاچا تو فل گھبرا ئے تھے۔ بعد میں کالونی کے بچوں نے قبر کھود ڈالی۔ اس میں سے کچھ بھی نہ نکلا تھا۔ بس اس وقت سے چاچا انتقام کے چولہے میں جلتے ہوئے اپنے انجانے دشمن کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ انہوں نے امرود کے درخت پر ایک مورچہ بنالیا ہے اور پوری پوری رات اس پر ہی بیٹھے رہتے ہیں۔“ چپٹے نے مکمل تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔

”اوبس اوئے…. بس کر۔“ چوہدری بشیر نے دونوں ہاتھ اُٹھاتے ہوئے کہا۔ ”وہ چاچا کا ذاتی مسئلہ ہے۔ فی الحال ہمیں اپنے مسئلے پر غور کرنا ہے…. ہمیں اس دشمن پر قابو پانا ہے، اگر ہم نے اسے نہ پکڑا تو جلد ہی پوری کالونی گنجوں سے بھر جائے گی۔“

”میں…. میں ایک ترکیب بتاﺅں۔“ بابو باﺅلا ہاتھ اٹھا کر کھڑا ہوگیا۔ حسب دستور استاد دلارے نے اسے شلوار سے پکڑ کر کھینچ لیا اور منہ پر مضبوطی سے ہاتھ جمادیا۔ بابو باﺅلا ”اوں اوں“ کرنے لگا۔ یہ دیکھ کر گلابی نے اپنی توتلی لینگویج میں تجویز پیش کی۔

”میں ایت تلتیب بتاتا اوں….ہمیں دچھمن تو پتڑنے تے لیے ایت دروپ بنانا پلے دا۔“ (میں ایک ترکیب بتاتا ہوں۔ ہمیں دشمن کو پکڑنے کے لیے ایک گروپ بنانا پڑے گا)

”گروپ؟“ معزز گنجے چونکے۔ ”کیسا گروپ؟“

”دنجا دروپ…. اس دروپ میں تھب دنجے ہوں دے۔ اول دس دنجے تی تھوپلی تھپ تھے بلی ہو،اُ تھے دروپ تا سل دال بنادو۔“ (گنجا گروپ۔ اس گروپ میں سب گنجے ہوں گے اور جس گنجے کی کھوپڑی سب سے بڑی ہو اسے گروپ کا سردار بنا دو) گلابی نے دانش مندانہ تجویز دی۔

”اوئے میں تیرے صدقے جاﺅں اور واپس نہ آﺅں….“ چوہدری بشیر نے اس تجویز پر نہایت خوشی کا اظہار کیا۔ ”کیا ترکیب بتائی ہے توتلے….“

”تجویز بڑی دھانسو ہے…. اس پر فوراً عمل درآمد ہونا چاہیے۔“ یامین نے آواز لگائی۔

”اب یہ پتا کیسے چلے گا کہ کس کی ٹانٹ سب سے بڑی ہے۔“ انگریز انکل نے بڑی مغز پچی کے بعد سر ُاٹھا کر کہا۔

”تم بھی انگریز ہو پورے کے پورے۔“ سخن نے انگریز انکل کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ”بھئی کسی درزی کی دکان سے انچی ٹیپ منگوا کر کھوپڑی کا ناپ لے لو۔ ایک منٹ میں ساری حقیقت سامنے آجائے گی…. اللہ اللہ خیرصلا….“

بات دو آنے درست تھی۔ چناں چہ چپٹے کو دوڑایا گیا۔ وہ اندھا دھند دوڑا ہوا گیا اور فیتہ لے آیا۔ سب کی کھوپڑیاں ناپنے کا خوش گوار فریضہ انجام دینے کے لیے استاد دلارے کو زحمت دی گئی تھی۔ وہ اپنی دونوں ہتھیلیوں پر تھوک ملتے اور چھو چھو کرکے پھونکیں مارتے ہوئے سب سے پہلے معزز گنجوں کے پاس پہنچا۔ سب گنجوں کو ایک لائن میں بٹھایا گیا، جس میں معزز گنجے آگے تھے، پیچھے خوارین براجمان تھے۔ پنجو ایک کاپی اور پین لے کر استاد دلارے کے ساتھ آکھڑا ہوا تھا، تاکہ سب کی کھوپڑیوں کا صحیح صحیح ناپ تحریر میں لکھا جاسکے اور کوئی دھاندلی کا الزام نہ لگا سکے۔ سب سے آگے شرفو صاحب اکڑے بیٹھے تھے۔ اب ان کی شرم وحیا اور جھجک فلمی ہیروئنوں کی طرح مرچکی تھی۔ یہ احساس ان کے دل کو سکون اور طمانیت پہنچا رہا تھا کہ اب وہ اکیلے ہی گنجے نہیں ہیں، ان کے ساتھ اور لوگ بھی بے بال وپر بیٹھے ہیں۔

 استاد دلارے نے شرفو صاحب کی کھوپڑی کا ایمان داری سے ناپ لیا اور پنجو کو نوٹ کرایا۔ آگے بڑھنے سے پہلے استاد دلارے نے اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑے ہوئے بلیک مارکر سے شرفو صاحب کی گنجی کھوپڑی پر ”کٹم“ کا نشان بنادیا۔ شرفو صاحب تلملا گئے۔

”ابے یہ کیا…. یہ کھوپڑی پر کٹم کا نشان کیوں بنایا ہے؟“

”کٹم کا نشان ڈالنا ضروری ہے شرفو صاحب…. تاکہ معلوم ہوجائے کہ بھئی اس کھوپڑی کا ناپ لیا جاچکا ہے، بعد میں بھول ہوسکتی ہے۔“ استاد دلارے نے ان کو مطمئن کیا۔ انہوں نے مختصر اور جامع انداز میں سمجھایا تھا۔

”اوہ…. آئی سی….“ شرفو صاحب بھی ایسے احمق کہ مطمئن ہوگئے۔ ناپ لینے کے سلسلے میں استاد دلارے کا انواع واقسام کی رنگ برنگی، ٹیڑھی میڑھی کھوپڑیوں سے واسطہ پڑا۔ سب سے آخر میں سخن بیٹھا تھا اور وہ اپنے آگے بیٹھے مائیکل بھنگی کی کھوپڑی میں سے جوئیں تلاش کررہا تھا۔ سخن کی باری پر پہلے استاد دلارے نے اس کی کھوپڑی کو مڑی ہوئی انگلی سے ”ٹنگ ٹنگ“ کرکے بجایا۔ یہ موسیقی سن کر لوگوں کی روح کو غذا مل گئی۔

”کیا کر رہے ہو استاد….؟“ سخن نے اپنی ٹنڈ پرے کرلی۔

”ابے بھوتنی کے…. ذرا چیک کررہا ہوں کہ اندر کچھ ہے بھی کہ نہیں…. ایسے ہی مجھے شبہ ہورہا تھا، میں نے سوچا شک دور کرلوں…. آواز سے تو لگ رہا ہے کھوپڑی بالکل خالی ہے۔ یہ تو خالی مٹکے کی طرح بج رہی ہے۔“ استاد دلارے نے کہتے کہتے سانپ کی تیزی سے ہاتھ بڑھا کر مزید دو مرتبہ ”ٹنگ ٹنگ“ کردی۔

”استاد تم صرف ناپ لو…. میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔ ابھی مجھے ایک بہت ارجنٹ فالتو کام سے آوارہ گردی کرنے جانا ہے۔“ سخن نے اپنا فالتو وقت برباد ہونے کا احساس دلایا۔

 تمام کھوپڑیوں کے ناپ لیے جاچکے تو سب رزلٹ کھلنے کا انتظار کرنے لگے۔ استاد دلارے نے پنجو کے ہاتھ سے کاپی لی اور لکھے ہوئے تمام ناپ دیکھ کر ایک خالی صفحے پر حساب لگایا۔ پھر انہوں نے سر اٹھا کر اسکول کے ہیڈماسٹر کی طرح کہا۔

”آپ لوگوں کو یقیناً رزلٹ کا بے چینی سے انتظار ہوگا۔ میں کسی بھوتنی والے کے صبر کا مزید امتحان نہیں لوں گا۔ رزلٹ کارڈ میرے ہاتھوں میں ہے۔ سب کی کھوپڑیاں پوری نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ ناپی گئی ہیں، بیچ میں کوئی بے مانٹی نہیں ہوئی ہے۔ آخر مرنے کے بعد مجھے بھی اپنے اعمالوں کا حساب دینا ہوگا۔ میں اپنی آخرت خراب نہیں کرنا چاہتا…. تو میرے گنجے بھائیو۔ اول آتی ہے ڈربہ کالونی کے بھنگی مائیکل کی کھوپڑی۔ دوسرے نمبر پر یامین بھوسی ٹکڑے والے کی کھوپڑی رہی اور تیسری پوزیشن پر سخن اکبر آبادی کی آتی ہے۔ میری طرف سے تینوں پوزیشن ہولڈر ز کو مبارک باد۔“

مائیکل کا چہرہ گلِ گزاربن گیا۔ اس کی شکل پر فاتحانہ غرور نمودار ہوگیا تھا۔

”نامنظور، نامنظور….“ خالو خلیفہ طیش میں آکر کھڑے ہوگئے۔ ”ہمیں ایک بھنگی کی سرداری منظور نہیں…. ہم پر آج یہ وقت بھی آنا تھا کہ ہم ایک بھنگی چمار کو اپنا لیڈر مان لیں…. آخ تھو….“ انہوں نے غصے میں بغیر دیکھے تھوکا۔ یہ ایلفی جیسی خاصیت رکھنے والا تھوک شرفو صاحب کی کھوپڑی پر جاکر اسٹیکر کی طرف چپک کیا۔

”خالو یہ بات غلط ہے…. معاملہ پہلے ہی طے ہوگیا تھا، لہٰذا اب اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب گنجا گروپ کی لگام مائیکل کے ہاتھوں میں ہی ہوگی۔ وہی سارے کارندوںکو ہانکے گا۔“ چوہدری بشیر نے خالو کو ٹوکا۔

اس طرح گنجا گروپ کا لیڈر بھنگی مائیکل بن گیا۔ اس کی چوسے آم کی گٹھلی کی طرح نکلی ہوئی بڑی سی کھوپڑی نے اسے آج عزت بخش دی تھی۔ مائیکل نے پہلا حکم صادر فرماتے ہوئے سخن کو اپنا مانیٹر بنالیا تھا۔ پھر وہ لوگ نامعلوم دشمن پر قابو پانے کے لیے منصوبہ ترتیب دینے لگے۔

٭٭٭

اب راتوں میں یہ تمام جاں باز گنجے کالونی میں گشت کرنے لگے تھے۔ ہر کسی کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا ہوتا تھا۔ کئی روز گزرنے کے باوجود اب تک وہ اپنے نامعلوم دشمن کا سراغ لگانے میں ناکام رہے تھے۔ مزے کی بات ہے کہ نامعلوم دشمن کی کارروائیاں ہنوز جاری تھیں۔ وہ کون تھا، تعداد میں کتنے تھے، کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے جاتے تھے؟ کچھ پتانہیں چل رہا تھا۔ وہ باقی بچنے والے کالونی کے نمایاں لوگوں کو بھی گنج پن سے روشناس کراچکے تھے۔ سب لوگ حیران، پریشان تھے۔ ادھر چاچا چراندی قبر بنانے والے شخص کی تاک میں روزانہ رات کے وقت امرود کے درخت پر چڑھ کر بیٹھ جاتے تھے۔ اس شخص سے نمٹنے کے لیے انہوں نے ایک بڑی سی غلیل بنالی تھی اور اپنی جیبوں میں موٹے موٹے پتھر بھرلیے تھے۔ ان تمام پتھروں کا مجموعی وزن چاچا کے وزن سے تین پاﺅ زیادہ تھا۔

حیر ت انگیز بات یہ تھی کہ صرف دنبہ نائی گنجا ہونے سے بچا ہوا تھا۔ دنبے نائی کو بھی اس بات پر سخت تعجب تھا۔ کئی روز گزر جانے کے باوجود گنجا گروپ پراسرار دشمن کا کھوج لگانے میں ناکام رہا اور ادھر چاچا بھی ناکامی کی غزلیں سن رہے تھے۔ صرف انہوں نے یہ کام کیا تھا کہ اس درخت پرلگے تمام امردو توڑ کر کھالیے تھے اور اب نوبت پتوں تک آپہنچی تھی۔

آج بھی گنجاگروپ بڑی سرگرمی سے کالونی کی گندی گلیوں میں گھوم رہا تھا۔ ان لوگوں نے تین، تین افراد کی ٹولیاں بنالی تھیں۔ ان ٹولیوں کی مڈبھیڑ کئی بار کالونی کے لفنگے کتوں سے ہوچکی تھی۔ گنجا ہونے کی وجہ سے کتوں نے انہیں پہچاننے سے انکار کردیا تھا۔ وہ ان کے رات میں بھی چمکتے سر دیکھ کر غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ شاید دڑبہ کالونی پر خلائی مخلوقوں نے اٹیک کردیا ہے۔ بڑی مشکلوں سے ان لوگوں نے اپنے جسموں سے پھوٹنے والی بدبو سنگھا کر اپنی شناخت کرائی تھی، تب کہیں جاکر کتے مطمئن ہوئے تھے اور بدبو سونگھ کر کھانستے ہوئے چلے گئے۔

چاچا چراندی کے گھر کے ایک کمرے میں گندی گلی کی جانب کھلنے والی کھڑکی تھی۔ یہ کھڑکی چاچا نے ہوا خوری کے لیے خود بنائی تھی۔ لوگوں کو تو چاچا نے یہی بتا رکھا تھا، لیکن اس کے پیچھے ایک میٹھی حقیقت تھی۔ اصل میں چاچا یہاں سے گردن نکال کر سخن کے گھر کی چھت کو تاڑا کرتے تھے ،جہاں کبھی کبھی سخن کی والدہ محترمہ، یعنی ان کی سابقہ محبوبہ گل بہار سخن کے ناقابل دید اور ناقابل برداشت پاجامے سکھاتی نظر آجایا کرتی تھیں۔ ان کو دیکھ کر چاچا ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھرا کرتے تھے۔ گندی گلی کے سارے جراثیم آہوں کے ذریعے چاچا کے جسم میں بھر جاتے تھے۔

اس تاڑو کھڑکی پر اس لمحے ہلکی سی دستک ہوئی۔ دستک مخصوص انداز میں ہوئی تھی۔ چمکی ابھی جاگ رہی تھی، اس نے خفیف سی آواز سن لی اور جلدی سے کھڑی تک آئی۔ اس نے کھڑکی کھولی تو سامنے اندھیرے میں صرف ایک چمکتا ہوا جادوئی گولا دیکھا۔ یہ سخن تھا، اس کا محبوب، لیکن اب وہ گنجا محبوب تھا۔ اس کا سر ہی واضح دکھائی دے رہا تھا۔ باقی دھڑ اندھیرے میں مدغم تھا۔

”چمکی…. میں ہوں….“ چمکتا ہوا گولا آگے آیا اور اس میں سے خودبخود ایک آواز آئی۔

”میں چمکی اور تم چمکا….“ چمکی نے شرارت سے ہنستے ہوئے سخن کی کھوپڑی پر پچاک سے ہاتھ مارا۔ اندھیرے اور سناٹے میں یہ آواز بڑی پراسرار اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی لگی تھی۔

”کیا کر رہی ہو….؟“ سخن بوکھلا گیا۔ ”ابھی تمہارے اس منحوس بڈھے نے آواز سن لی تو بدروح کی طرح آجائے گا۔“

”وہ کہاں آئیں گے…. وہ تو امرود کے درخت پر چڑھے بیٹھے ہیں…. پتا نہیں کیوں اتنے سٹھیا گئے ہیں وہ….“ چمکی نے منہ بنا کر کہا۔

”ان کو میں نے چکر دیا ہے۔“ سخن ہنسنے لگا۔ ”وہ قبر اصل میں، میں نے بنائی تھی…. تاکہ تمہارے باپ کی توجہ نامعلوم دشمن کی جانب ہوجائے اور مجھے تم سے راتوں کو ملاقاتیں کرنے کے گولڈن چانس مل سکیں…. دیکھ لو…. میں اپنی سازش میں کامیاب ہوگیا ہوں۔“

”ہائے…. تو وہ تم نے قبر بنائی تھی ابا کی؟“ چمکی حیران رہ گئی۔

”تو اور کیا…. گورکن آکر بنائے گا۔“ سخن کے دانت اور کھوپڑی ایک ساتھ چمکی۔

”اگر ابا کو معلوم ہوگیا تو تیری خیر نہیں…. وہ تو پہلے ہی تجھ سے خار کھاتے ہیں۔“

”ابھی گھاس بھی کھائیں گے تو دیکھتی جا…. اور سن…. یہ لے….“ سخن نے ایک کاغذ کی پڑیا چمکی کے حوالے کردی۔

”یہ کیا ہے….؟“ چمکی نے پوچھا۔

”اس میں زہر ہے…. خالص اور زوداثر زہر…. ابا کے کھانے میں ملا دینا…. پھر…. پھر ہم تم ہوں گے بادل ہوگا، رقص میں کوئی پاگل ہوگا۔“

”رہنے دو…. پہلے بھی تم نے زہر دیا تھا لاکے…. میں نے ابا کے حقے کے تمباکو میں ملادیا تھا۔ بس اسی روز کے بعد ابا نے اور جان پکڑلی تھی۔ پتا نہیں کیسا زہر لائے تھے۔“

”وہ غلطی سے اس مردود حکیم نے غلط چیز دے دی تھی۔ میں نے جاکر حکیم کو ٹھوکا بھی تو تھا…. اگر اس مرتبہ بھی کوئی اونچ نیچ ہوئی تو پھر دیکھنا…. میں اس نیچ حکیم کا کیا حال کرتا ہوں۔“

 اسی وقت گلی کے ایک جانب سے کوئی کتا بھونکا۔ چمکی نے ڈر کے مارے جلدی سے کھڑکی بند کرلی۔ وہ کتا گندی گلی میں خوراک یا اپنی جورو کی تلاش میں آیا تھا۔ سخن کا دل چاہا کہ بڑھ کر کتے کا نرخرہ چبا ڈالے، مگر بمشکل اپنے آپ کو اس ارادے سے باز رکھا اور کتا بھی اتنا خبیث کہ دور ہی دور سے سخن پر بھونکے جارہا تھا۔ سخن نے کہا۔

”کتے کے بچے…. خود نہیں کھیلا تو مجھے بھی کھیلنے نہیں دیا….“

 پھر اسے خیال آیا کہ اس کی ٹولی کی باقی ساتھی اب تک نامعلوم دشمن کی تلاش میں سرگرداں ہوں گے، چناں چہ ذمہ داری کا احساس ہوتے ہی وہ گندی گلی سے نکل کر اپنی ٹولی سے جاملا۔ اندھیرے میں ان لوگوں کی ٹولیاں آپس میں ٹکراتے ٹکراتے رہ گئیں،حتیٰ کہ کئی بار ایک دوسرے کی کھوپڑیوں پر ڈنڈے مارتے مارتے رہ گئے۔ آخر یہ طے ہوا کہ کسی کوڈورڈ کے ذریعے ایک دوسرے کو شناخت کرلیا جائے۔ پھر انہوں نے کافی غوروخوض اور باہمی اتفاق سے” ڈھینچو“ کو کوڈورڈ منتخب کرلیا۔ اب جہاں کہیں دو ٹولیاں آپس میں ملتیں تو ڈھنچو کی آوازیں نکال کر ایک دوسرے کو شناخت کرلیا جاتا تھا۔

 ادھر چاچا بدستور ثابت قدمی سے امرود کے درخت پر جمے بیٹھے تھے۔ چاچا کی شکرے جیسی آنکھیں قرب وجوار کا جائزہ لے رہی تھیں۔ اچانک وہ چونک پڑے۔ انہوں نے گلی کے کونے پر کسی ہیولے کومتحرک دیکھا تھا، مگر وہ اس کی ایک جھلک ہی دیکھ سکے تھے۔ وہ بڑے پراسرار انداز میں چل رہا تھا۔

چاچا ہوشیار ہوگئے تھے۔ عین اسی وقت گنجا گروپ کی ٹولیاں کالونی میں گشت کر رہی تھیں۔ ایک ٹولی میں سخن اکبرآبادی، استاد دلارے اور پنجو شامل تھے۔ اسی جگہ ان تینوں نے بھی ایک سائے کو متحرک دیکھا ،جو ایک تنگ وتاریک گلی میں عجیب سے جھکے جھکے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا۔ تینوں اس کا پیچھا کرنے لگے۔ تینوں کے ہاتھوں میں سندھی پلنگ کے پائے جیسے موٹے موٹے ہول ناک ڈنڈے تھے۔ سایہ نہایت چالاکی سے چوپایوں کے انداز میں آگے بڑھ رہا تھا۔ سخن کو اس کے انداز پر ہی یقین ہوگیا تھا کہ یہ وہی پراسرار شخص ہے، جس نے ان لوگوں کو گنجا کیا تھا۔ اس کے رگ وپے میں سنسنی کی لہریں دوڑنے لگیں۔ وہ سرفروشانہ جذبے کے ساتھ ڈنڈا اٹھا کر سائے کی طرف لپکا اور جب چند قدم کا فاصلہ رہ گیا تو وہ حیران کن پھرتی اور مہارت کے ساتھ عقاب کی طرح فضا میں اُڑا۔ استاد دلارے اور پنجو بھی اس کی مہارت دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے تھے۔ بلاشبہ سخن گنجا گروپ کا مانیٹر ہونے کی اہلیت سے مالا مال تھا۔ اگلے ہی لمحے سخن نے اپنے جسم وجان کی پوری قوت سے سائے کی کمر پر ڈنڈا مارا۔

اُف مالک…. وہ کیا ضرب تھی۔ اور وہ بھی ضربِ سخن….وہ بلاشبہ قیامت کی راڈوگھڑی تھی۔

ڈنڈا پڑتے ہی ایک کتے کی دل خراش اور دل دوز چیخ ابھری۔

سخن نے جس سائے کو پراسرار آدمی سمجھا تھا وہ ایک مظلوم اور خارش زدہ کتا تھا، جو خوراک کی تلاش میں زمین سونگھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ الفاظ نہیں مل رہے جن سے کتے کی تکلیف اور کیفیت بیان کی جاسکے۔ ڈنڈا کتے کی ریڑھ کی ہڈی پر لگا تھا، جس نے کتے کی ریڑھ لگا دی تھی۔

 کتاایمبولینس کے سائرن کی طرح مسلسل بجے جارہا تھا۔ سخن کے ہاتھ پیر پھول گئے اور وہ ڈنڈا پھینک کر کتے کی طرف بڑھا۔ کتا لٹو کی طرح گھوم رہا تھا۔ سخن نے کتے کے گلے میں ایک ہاتھ حمائل کردیا اور دوسرا ہاتھ اس کی غلیظ تھوتھنی پر رکھ کر اسے خاموش کرانے کی کوشش کرنے لگا۔

”ابے ابے…. چپ ہوجا…. اوئے…. ابے خاموش…. تجھے تیری کتیا کی قسم ہے…. ابے سن لے…. مانے گا نئیں…. اب اتنی زور سے بھی نہیں مارا تھا…. زیادہ ہی نخرے دکھا رہا ہے…. ایک تو پیار کر رہا ہوں اوپر سے زیادہ ہی پھیل رہا ہے…. بس بس بہت ہوگئی…. نہیں سنے گا…. اچھا تو پھر یہ لے۔“

سخن نے اس کی تھوتھنی مضبوطی سے دبا کر بند کردی، لیکن وہ پھر بھی بجے جارہا تھا۔ آخر تلملا کر سخن نے اپنا ڈنڈا اٹھایا اور دھائیں سے دوبارہ کتے کی کمر پر دے مارا۔ اس کے بعد کتا بندوق سے نکلی ہوئی گولی کی طرح کہیں غائب ہوگیا۔ استاد دلارے اور پنجو خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔

ادھر چاچا امرود کے درخت پر مکمل چوکنا ہوچکے تھے۔ انہوں نے جس ہیولے کو تاکا تھا، وہ اب چلتا ہوا چاچا کے گھر کے آگے رک گیا تھا۔ بلاشبہ وہ کوئی آدمی ہی تھا۔ چاچا نے اپنی غلیل کے میگزین میں پتھر فٹ کرکے غلیل لوڈ کرلی۔ ہیولے کا انداز عجیب سا تھا۔ وہ اب دروازہ کے اوپر چڑھ کر منڈیر پکڑنے کی کوشش کررہا تھا۔ اسی لمحے چاچا نے غلیل کا ٹریگر دبا دیا۔ پتھرہیولے کی کن پٹی پر لگا اور وہ پٹ سے زمین پر گر کر بے حس وحرکت ہوگیا۔

”ابے وہ مارا فالتو فنڈ میں….“ چاچا شکار کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اچھل پڑے۔ اچھلنے سے ان کا توازن بگڑ گیا اور وہ درخت کی شاخوں، پتوں اور ٹہنیوں سے الجھتے ہوئے ”ٹیاﺅں“ کرکے زمین پر آگرے۔ انہیں زبردست چکر آئے اور ان کا دماغ بے ہوشی کے نالے میں ڈوبتا چلا گیا۔

٭٭٭

دڑبہ کالونی کے سب سے مشہور ومعروف چوراہے ”ماموں چوک“ پر تقریباً پوری کالونی والے جمع تھے۔ دائیں ہاتھ پر گنجوں کے کھڑے ہونے کا خصوصی انتظام کیا گیا تھا،اس جگہ سورج سوا ٹانٹ پر چمک رہا تھا اور ان کی گنجی کھوپڑیاں سورج سے زیادہ چمک رہی تھیں۔ ہر کھوپڑی بہ زبان خاموش چلا چلا کر گویا اعلان کر رہی تھی کہ سب سے زیادہ چمک دار کھوپڑی میں ہوں۔ ہم سا ہو تو سامنے آئے۔ شرفو صاحب کی کھوپڑی کو آج زیادہ ہی جوش چڑھا ہوا تھا، وہ تو انتہا سے زیادہ لائٹ مار رہی تھی۔ پتا نہیں انہوں نے ایسا کون سا کیمیکل اپنی کھوپڑی پر لگا لیا تھا کہ باقیوں کے چراغ اُن کے آگے مقابلتاً بجھے بجھے سے لگ رہے تھے۔ سخن نے تو ان کے منہ پر ہی بول دیا تھا۔

”شرفو صاحب…. خیر تو ہے نا…. ماشااللہ چشم بددور…. آج تو آپ کی ٹانٹ مرکری کا بلب بنی ہوئی ہے۔ کیرم بورڈکا بورک تو نہیں لگالیا آپ نے؟“

”بورک کیوں لگاﺅں گا بے…. میری کھوپڑی کو تو نے ڈبو سمجھ لیا ہے کیا؟“ شرفو صاحب نے دانت نکوسے۔

ماموں چوک پر ایک اونچا سا چبوترہ بنا ہوا تھا۔ اس چبوترے پر جھنڈا لگانے کے لیے ایک بہت اونچا کھمبا نصب تھا۔ آج وہاں کا منظر ہی بدلا ہوا تھا۔ کھمبے کے ساتھ ایک آدمی بندھا ہوا تھا۔ اس کے نزدیک چاچا چراندی کسی عظیم فاتح کی طرح کھڑے تھے۔ چبوترے پر تمام معزز گنجے چڑھ آئے تھے۔ وہ بندھا ہوا شخص وہی پراسرار آدمی تھا، جس نے کالونی والوں کو گنجا کیا تھا۔ چاچا چراندی نے اس آدمی کے منہ پر پونچا ڈالا ہوا تھا۔ اس کی شکل دکھائی نہیں دے رہی تھی، سب لوگ بے چین تھے۔ اتنے میں چاچا کی کراری آواز وہاں گونجنے لگی۔

”ابے سنو بھئی سنو…. تم لوگوں کو اس منحوس کے بچے کی تلاش تھی نا…. یہی وہ منحوس ہے جو لوگوں کو گنجا کرتا پھر رہا تھا۔ بڑی مشکلوں سے میں نے اسے قابو کیا ہے…. کئی راتیں کالی کی ہیں میں نے…. اب بتاﺅ اسے سز ا ملنی چاہیے کہ نئیں….؟“

”ملنی چاہیے…. ضرور ملنی چاہیے….“ سارے گنجے یک ٹنڈ ہوکر چلائے۔

”پہلے اس کے منہ پر سے پونچا تو ہٹاﺅ، تاکہ معلوم ہو یہ کون خبیث ہے۔“ سخن گنجوں کے درمیان میں سے اپنی کھوپڑی اُچکا کر بولا۔

چاچا چراندی نے مجرم کے منہ پر سے پونچا ہٹا دیا اور وہاں موجود تمام لوگوں کے منہ سے حیرت میں ڈوبی ہوئی آوازیں نکل گئیں۔

”دنبہ…. دنبہ نائی…. یہ مجرم ہے؟“

”ہاں…. یہی مجرم ہے….“ چاچا نے پونچا گھما کر بغیر دیکھے ایک طرف اچھال دیا۔ خوش قسمتی سے پونچا یامین بھوسی ٹکڑے والے کی کھوپڑی پر ہیٹ کی طرح فٹ ہوگیا۔ دنبہ نائی حیرت سے آنکھیں جھپکا رہا تھا۔اس کے منہ میں چاچا نے اپنے دو موزے ٹھونس رکھے تھے، تاکہ وہ چیخ پکار نہ مچاسکے۔

”یہ بھلا کیسے ہوسکتا ہے….“ انگریز انکل نے اعتراض کیا۔ ”دنبہ نائی لوگوں کو مفت میں گنجا کرکے اپنی روزی پر کیسے ٹھڈا مار سکتا ہے؟“

”یہ تو دنبہ نائی خود ہی بتائے گا۔“ چاچا نے دنبے نائی کے حلق تک ٹھنسے ہوئے موزے نکالے۔ ”ہاں بھئی…. اب بتا یہ تُو راتوں کو لوگوں کے گھروں میں کود کر انہیں گنجا کیوں کر رہا تھا فالتو فنڈ میں۔“

”مم…. میں…. میں نے کسی کو گنجا نہیں کیا…. میں بے قصور ہوں۔“ دنبہ نائی منمنایا۔

”ابے میں نے خود تجھے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے…. تو میرے گھر کی دیوار پر چڑھ رہا تھا اور تیرے کپڑوں میں سے قینچی اور استرا بھی ملا ہے۔“ چاچا نے آنکھیں نکال کر اسے ڈرایا۔

اچانک ہجوم میں سے ایک نئی آواز اُبھری۔ ”ارے جے کا بتاوے گا…. مَنّے بتاتا اوں….مَنّے۔“

”یہ مَنّے کون ہے بھئی…. سامنے آبھئی مَنّے۔“شرفو صاحب نے آواز لگانے والے کو بلایا۔

اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک فقیر لوگوں کے درمیان میں سے نمودار ہوا۔ یہ ایک دبلا پتلا فقیر تھا۔ وہ زمین پر ڈنڈا ٹیکتا ہوا چبوترے پر چڑھ گیا۔

”کون ہو تم بابا جی…. کس ملک سے آئے ہو؟“ سخن نے بڑے ادب سے پوچھا۔

”ابے تُو پیچھے ہٹ جا…. بابا کے بچے…. ہاں بھئی …. کون ہے تُو پتنگ کی ڈنڈی۔“ خالو نے فقیر کو دیکھ کر بھویں اُچکائیں۔

”مَنّے پھکیر اوں پھکیر….“ فقیر کے ایکشن بھی چاچا کے جیسے تھے۔

اُدھردنبہ نائی فقیر کو دیکھ کر بری طرح چونک گیاتھا۔ اسے یاد آگیا تھا کہ کئی روز پہلے اسی صورت حرام کو اس نے اپنی دکان سے بے عزت کرکے بھگایا تھا۔ اس نے صبح صبح دکان میں آکر نحوست پھیلا دی تھی۔

”مَنّے بتاﺅں…. جے نائی ہی سب لوگوں کو گنجا کرتا پھرے ہے…. جے سب اسی کی حرکت ہے۔“ فقیر نے شہادت دی۔

”ابے تو تیرے کو کیسے معلوم کہ دنبہ نائی ہی لوگوں کو گنجا کر رہا تھا بھوتنی کے….“استاد دلارے نے نتھنے چوڑے کرلیے۔

”ارے مَنّے سب کھبر اے…. کئی روج پیلے مَنّے اس کی دکان میں آیا تھا اور اس سے بھیک منگی تھی پر اس نے مَنّے بے عجتی کرکے بھگا دیا تھا۔ مَنّے اس کو بددعا دی تھی…. جے سب جو کچ بی ہوا…. مَنّے بددعا سے ہوا…. جے نائی راتوں کو اپڑیں گھر سے نیند میں نکل جاتا تھا۔ اپڑیں سات کیچی اور استرا بی لے جاتا تھا…. پھر کسی بی گھر میں گود کے گھر والے کو گنجا کردیتا تھا اور واپس اپڑیں گھر آگے بستر پر سوجاتا تھا۔ اسے بعد میں کھدبی پتا نئیں چلتا تھا کہ یہ رات میں کیا کام کر آیا ہے۔“ فقیر نے حقائق کا پاندان کھول کر سامنے رکھ دیا تھا۔ سب لوگ منہ کھولے یہ ہوش رُبا داستان سن رہے تھے۔ دنبہ نائی کا سب سے برا حال تھا۔

”یہ غلط ہے….“ دنبہ نائی چلایا۔ ”یہ جھوٹ بول رہا ہے فقیر کا بچہ….“

”مَنے جوٹ بول کے کیا گاجر کاحلوہ ملے گا؟“ فقیر نے ڈنڈا گھمایا ،جو دنبے نائی کے بندھے ہوئے جسم پر پڑا۔ ”جوٹ تو تُو کھد بول ریا اے…. مَنّے پھکیر کا بچہ نہیں، بلکہ کھد پھکیر اوں….“

”لیڈیز اینڈ گنجو مین….“ انگریز انکل نے موقع غنیمت جان کر قوم سے خطاب شروع کردیا۔”اب یہ بات کھل کر مارکیٹ میں آچکی ہے کہ ہم سب لوگوں کو دُنبے بھائی نے ہی گنجا کیا تھا، مگر اس بات کا خود دنبے نائی کو بھی علم نہیں ہوتا تھا۔ رات ہوتے ہی اس پر ایک عجیب حیوانی کیفیت طاری ہوجاتی تھی۔ وہ نیند کی حالت میں اٹھ کر گھر سے باہر نکلتا اور کالونی والوں کو گنجا کرتا رہا۔ اس میں دنبے نائی کا آدھا قصور ہے اور اگر ہم لوگ حقیقت کے کھمبے پر چڑھ کر دیکھیں تو ہمیں اس معاملے میں آدھا قصور اس کالی زبان والے کالے فقیر بھی دکھائی دے گا، لہٰذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس فقیر کے بچے کو دُنبے نائی کے ساتھ باندھ کر گنجا کردیا جائے۔“

”ہاں ہاں…. یہ دونوں بھی گنجے ہونے چاہئیں۔“ شرفو صاحب جوش میں ایسے اچھلنے لگے، جیسے پتنگ لوٹ رہے ہوں۔

”آئے اس منحوس مارے کو تو میں اپنے ہاتھوں سے گنجا کروں گی…. اس نے میرے کزن کو گنجا کیا ہے۔“ معاً شرفو صاحب کی کزن ،یعنی بربادی بیگم ایک جانب سے نمودار ہوئیں۔ انہوں نے پیراشوٹ نما برقع پہن رکھاتھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ابھی ابھی وہ کسی لڑاکا طیارے سے کودی ہیں۔

سارا ہجوم زور زور سے چلانے لگا۔ فقیر کو بھی پکڑ کر کھمبے کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ وہ غریب بری طرح ہڑک رہا تھا۔ چاچا چراندی نے دنبے نائی سے برآمد ہونے والے ہتھیار نکالے اور اپنے دست بے رحم سے دنبے نائی کی کھوپڑی کا افتتاح کردیا۔ سب سے پہلے انہوں نے باغبان کی طرح قینچی چلائی۔ پھر گدی سے لے کر ماتھے تک استرے کی مدد سے پیدل چلنے والے کے لیے ایک پتلا سا فٹ پاتھ بنادیا۔ دنبہ نائی بلک بلک کر رورہا تھا، مگر چاچا نے اپنا دل اسٹیل کی طرح مضبوط کرلیا تھا۔ پھر استرا چاچا چراندی کے ہاتھ سے نکل کر دیگر معزز گنجوں کے ہاتھوں میں پہنچتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد دنبے نائی کی کھوپڑی انڈے کی زردی کی طرح نمودار ہوگئی۔ اس کے بعد ان لوگوں نے فقیر کی طرف خصوصی توجہ کی۔ بربادی بیگم بھی اس کارخیر میں پیش پیش تھیں۔ سب لوگ ان دونوں کی نئی نویلی کھوپڑیوں سے انجوائے کر رہے تھے۔

اسی وقت شور سنائی دیا۔ ان لوگوں نے اپنے بوتھے اٹھا کر دیکھے تو کئی سوٹڈ بوٹڈ اشخاص چبوترے کی جانب بڑھتے ہوئے دکھائی دیئے۔

”ابے یہ کون آگئے بھوتنی کے….؟“ استاد دلارے نے اپنے لمبے سے ناخن سے قریب کھڑے بابو باﺅلے کی گنجی کھوپڑی زور سے کھجائی۔ وہ غریب بلک کر رہ گیا۔

”ابے مجھے تو یہ انگریز لگ رہے ہیں فالتو فنڈ کے….“ چاچا بولے۔ ”ارے بھئی انگریز انکل…. تم ہی ان سے بات کرو۔“

اتنے میں وہ آدمی قریب آگئے۔ وہ بڑی حیرت سے ان تمام لوگوں کے سروں کو دیکھ رہے تھے۔ اتنے ڈھیر سارے گنجے انہوں نے پہلی مرتبہ یکمشت دیکھے تھے۔

”ہاں جی…. کس سے ملنا ہے؟“ چوہدری بشیر نے اپنی توند کواصل سائز سے بڑھاتے ہوئے پوچھا۔

”ہم یہاں کے کونسلر صاحب، یعنی شرف الدین صاحب سے ملنے آئے ہیں۔“ ایک صاحب بولے۔

شرفو صاحب آگے آئے۔ ”میں ہوں یہاں کا کونسلر شرفو…. میرا مطلب ہے شرف الدین۔“

”آپ کو اسلام آباد بلایا گیا تھا آپ آئے نہیں، لہٰذا ہم خود ہی چلے آئے…. آپ نے بتایا تھا کہ آپ کا ایک اور بھائی پیدا ہوا ہے۔ ہم نے سوچا آپ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوجائے گا اور بھائی کی خوشی میں مٹھائی بھی کھانے کو مل جائے گی۔“ دوسرے صاحب نے بتایا۔

شرفو صاحب نے جونہی ان کی بات سنی، انہوں نے جھپٹ کر بربادی بیگم سے ان کا برقع چھینا اور اپنی کھوپڑی چھپاتے ہوئے چبوترے سے چھلانگ لگاگئے۔ سب لوگ ارے ارے کرتے رہ گئے۔ بربادی بیگم ہائے ہائے کل کل کرنے لگیں۔

”پکڑو اس گنجے کو….“ خالو خلیفہ چلائے اور اَن گنت لوگ شرفو صاحب کے پیچھے دوڑ لگانے لگے۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

کانچ کی محبت محمد عرفان رامے آخری حصہ 2

کانچ کی محبت محمد عرفان رامے قسط نمبر 2 جولی نے چند قدم ہی اُٹھائے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے