سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دُنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد قسط نمبر 8

ست رنگی دُنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد قسط نمبر 8

                ست رنگی دُنیا

                ٭

                میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد

                آندھیاں غم کی یوں چلیں باغ اجڑ کے رہ گیا

                ٭

                قسط نمبر 8

                ابھی کلّو تایا نے بات ختم ہی کی تھی کہ حویلی کے باہر سے ٬٬ اللہ اکبر ، ، ، ، ، اللہ اکبر،، کی آواز آئی اور سب لوگ حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے ۔ ۔ ۔ ۔

                میں بھی تائی خیرن کے کمرے سے باہر اپنا منہ نکالے سب بڑوں کی باتیں سن رہا تھا ۔ میری سمجھ میں کچھ آ بھی رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور کچھ سمجھ میں بھی نہیں آتا تھا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔ جو کچھ بھی ہو رہا تو وہ تو اپنی جگہ تھا لیکن مجھے ان سب کی باتیں بھی اچھی لگ رہی تھیں اور ایک عجیب قسم کا مزا آرہا تھا ۔۔ ۔ ۔ مجھے بس ایسی خوشی اور دلچسپی ہو رہی تھی جیسے جب میں دادا ابا کی دی ہوئی ریوڑی یا مٹھائی کی گولی کھا کر خوش ہوتا تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اس وقت بھی میرے منہ میں مٹھائی کی گولی یا ریوڑی بھری ہوئی ہے اور میں اس کے چسکارے لے رہا ہوں۔۔ ۔ ۔ ٬٬ ذرا دیکھنا کلّو ، کون ہے ہماری حویلی کے باہر ؟۔ ۔ ۔ کس نے اللہ کو پکارا ہے،،۔ دادا ابا اپنی کڑک دار آواز میں بولے اور کلو تایا فورا! ہی باہر کی طرف دوڑے۔ ۔ ۔

                ٬٬ یہ کوئی سرائے والا ہے ، ، ۔ ۔ آواز جانی پہچانی ہے،، تایا بدرالدین بولے

                ٬٬ ہاں ، مجھے بھی یہی لگتا ہے ۔ ۔ ۔ ،، میرے ابا نے کہا ٬٬یہ ۔ ۔ جامن کی آواز ہے ۔ ۔ ۔ شاید، ۔ ۔ حبیب اللہ کا بیٹا،،

                ٬٬ ہنھ ۔ ۔ کلو آکر بتائے گا کہ کون ہے ۔ ۔ ۔،، دادانے کہا

                مجھے ایک بار پھراماں نے بازو سے پکڑ کر کمرے میں گھسیٹا۔ ۔ ۔٬٬ تجھے بڑا چاﺅ لگ رہا ہے ا ن باتوں میں ۔ ۔ ۔اندر آجا ۔ ۔ ۔ نہیں تو دادا غصے ہو جائیں گے۔،

                ٬٬ اوں ۔ ۔ ہوں ۔ ،، میں کسمسایا اور اماں سے بازو چھڑاتے ہوئے بولا ۔٬٬ میں کوئی باہر تھوڑی جا رہا ہوں اماں۔ ۔ ۔ یہاں تو کھڑا ہوں۔،،

                ٬٬ ادھر آ ۔ ۔ میں ۔ ۔تیرے ۔۔ کان کھینچتی ہوں ۔ ۔،، تائی اندھی خیرن ہکلاتے ہوئے بولی۔ ۔ ۔ ٬٬ تو ہمیں بھی ڈانٹ پڑ وائے گا۔ ۔ ۔ دادا ہمیں بھی بھگا دیںگے یہاں سے۔،،

                اماں نے مجھے پیارسے اپنی گود میں بھر لیا اور پیار سے بولیں ۔ ۔ ٬٬بیٹا تھک جائے گا، اتنی دیر سے کھڑا ہے تو ۔ ۔ کھانا بھی نہیں کھایا ہے تو نے۔ ۔ ۔ ،،

                ٬٬ آجا۔ ۔ ۔ اندر آجا۔ ۔ ۔ جامن ۔ ۔ ۔ دادا سے بات کر لے ،،۔ ۔ تایا کلو اپنے ساتھ ایک آدمی کو لے کر آگئے ۔ ۔ وہ آدمی ڈرتے ڈرتے دادا کے سامنے آگیا اور دونوں ہاتھوں کو جوڑتے ہوئے سلام کیا ۔

                 ابے حبیب اللہ کابیٹا ہو کر ہاتھ جوڑتا ہے۔ ۔ ،، مسلمان سوائے خدا کے کسی کے آگے ہاتھ نہیں جوڑتا ۔ ۔ ،، دادا پیار سے بولے ۔ انہوں نے اس آدمی کو پہچان لیا تھا۔

                ٬٬ دادا سراجو ۔ ۔ ۔ ابا نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے ۔ ۔ ۔ ،، وہ آدمی بولا ۔۔ ۔ ۔ ٬٬ ٹیشن پہ ہمارے تاﺅ کی کٹیا جلا ڈالی ۔ ۔ ۔ پنڈت کے آدمیوں نے ۔ ۔ سب کچھ جل گیا وہ اپنی جان بچا کرتھوڑی دیر پہلے ہی ہمارے گھر پہنچے ہیں۔،،

                ٬٬ ہوں ۔ ۔ تو اب نوبت یہ بھی آگئی ہے ۔ ۔ پہلے ان مردودوں نے مسلمانو ں کو مارا اور اب ان کا گھر بار جلانے پر تل گئے ہیں۔۔ ۔ ،،دادا نے گہرا سانس بھرتے ہوئے کہا اور باری باری سب کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ پھر بولے ۔ ۔ ۔ ٬٬ میں اسی دن سے بچنے کے لئے راجہ ٹھاکر داس جی سے ملنا چاہتا تھا لیکن مجھے تم لوگوں نے نہیں ملنے دیا۔،،

                ٬٬ نہیں ابا ۔ ۔ ۔ یہ بات نہیں ہے ۔ ۔ میں تو گیا تھا بدری کے پاس اس کا تانگہ لینے۔،، کلو تایا بولے ۔ ۔ ۔ ۔٬٬ وہ تھا ہی نہیں اس کا تانگہ کھلا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی ابھی تو بتا یا ہے میں نے آپ کو ۔،،

                ٬٬ جب اس کے آدمی مجھے بلانے آئے تھے تو ان کے ساتھ ہی مجھے چلا جانا چاہئے تھا۔ ۔ ۔ وہ کیا سوچتا ہوگا کہ میں نے اس کی بات نہیں مانی ۔،، دادا نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔

                ٬٬ابا ۔ ۔ سارے حالات آپ کے سامنے ہیں ، پھر بھی آپ ایسی بات کر رہے ہیں۔،، تایا بدر الدین بولے ۔ ۔ ۔ ۔٬٬ ہم کیسے آپ کو جانے دیتے ۔ ۔ جب تک ریواڑی سے پولیس نہیں آئے گی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے ۔ ۔ بگڑتے ہی رہیں گے۔،،

                دادا نے گردن ہلائی اور تایا بدرو سے پوچھا۔٬٬ کیا عصر کی اذان ہوگئی ہے؟ ۔ ۔ وقت تو ہو گیا ہے ۔،،

                تایا بدرو کے جواب دینے سے پہلے ہی کلو تایا کے ساتھ آنے والے آدمی نے جھٹ سے کہا۔٬٬ دادا سراجو ۔ ۔ اب گاﺅں کی مسجد میں اذان نہیں ہوگی ۔،،

                ٬٬ کیا بکواس کر رہا ہے بے ۔ ۔ ۔ گاﺅں کی مسجد میں کبھی آندھی طوفان میں بھی اذان نہیں رکی۔،، دادا کو غصہ آگیا اور وہ اس آدمی پر چلائے ۔ ۔ ۔ ٬٬ کیوں نہیں ہوگی اذان؟،،۔

                ٬٬ وہ ۔ ۔ وہ ۔ میں آپ کو بتانا بھول گیا ۔ ۔ دادا سراجو ۔ ۔ ۔،، وہ آدمی بولا۔٬٬ کچھ ہندوﺅں نے مولوی جی کو ان کے گھر سے اٹھا لیا اور اپنے ساتھ کہیں لے گئے ہیں ۔ ۔ میرے باپ نے مجھے یہی بات آپ کو بتانے کے لئے بھیجا تھا ۔ ۔ ۔ میں نے اللہ اکبر ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ اس لئے کہا تھا کہ اذان کا وقت ہو چکا تھا اور ۔ ۔ مسجد میںمولوی جی نہیں تھے ۔،،

                ٬٬تو پھر پوری اذان کیوں نہیں دی تو نے مسجد میں جا کر ۔ ۔ ۔؟ ، داداچیخے

                ٬٬ جی مجھے اذان نہیں آتی ۔ ۔ ۔ میں نے کبھی اذان نہیں دی ۔ ۔ بس ابا نے کہا تھا کہ میں آپ کو جا کر یہ بات بتا دوں،،۔ اس آدمی نے جسے تایا کلو نے جامن کہہ کر بلایا تھا ، ڈرتے ڈرتے کہا۔

                 ٬٬حبیب اللہ کا بیٹا ہے اور تجھے اذان نہیں آتی؟ ۔ ۔ اتنا بڑا دھینگڑا ہو گیا بے شرم ۔ ۔ تجھے کون کہے گا مسلمان کی اولاد ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ہیں،، ۔ ۔ ۔ دادا نے جامن کو بری طرح ڈانٹ دیا ۔دادا اس وقت بڑے غصے میں تھے جس سے میں بھی ڈر گیا اور کمرے میں اماں سمیت تائی خیران اوراندھی تائی اور محمودن بھابی بھی ڈر گئیں کہ اب جامن کی خیر نہیں ہے ۔ لیکن اسی وقت جامن نے ڈرتے ڈرتے ہوئے کہا ۔٬٬ دادا سراجو ۔ ۔ اذان ۔ ۔ تو ۔ ۔ آتی ہے مجھے ۔ ۔ پر ۔ ۔ میں نے کبھی اذان نہیں دی ۔ ۔ اس لئے ڈر گیا تھا ۔ ۔ کہ کہیں ٹھیک سے اذان نہ دی تو اللہ میاں ناراج ہو جائے گا۔،،

                ٬٬ شاباش ۔ ۔ ۔ ہر مسلمان کو نماز اور اذان ضرور آنا چاہئے ۔ ۔ ۔ اللہ میاں اپنے بندوں سے ناراض نہیں ہوتا ۔ ۔ وہ نیتوں کا حال اور دلوں کا بھید جانتا ہے۔،، دادا نے جو پہلے بہت غصے میں تھے ۔ ۔ ۔ اب جامن سے میٹھے لہجے میں بات کر رہے تھے۔ پھر وہ جامن سے بولے ۔ ۔ ٬٬ جا بیٹا ، تو اپنے گھر جا اور حبیب اللہ سے میرا سلام کہنا۔ ۔ ۔ حالات خراب ہوتے جارہے ہیں ۔ ۔ ۔ اب ہمیں کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا ۔،،

                ٬٬ جی اچھا۔ ۔ ۔ اللہ حافظ ۔،، جامن نے کہا اور باہر جانے کے لئے تایا کلو کی طرف دیکھا ۔ ۔ ۔ وہ اسے چھوڑنے کے لئے حویلی کے دروازے تک اس کے ساتھ چلے گئے۔۔ ۔ ۔ دادا کا چہرہ ایسا لگ رہا تھاجیسے وہ بہت غصے میں ہوں ۔ ۔ ۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر سب خاموش تھے ۔ ۔ ۔اور باری باری ایک دوسرے کا منہ دیکھ رہے تھے۔۔ ۔ ۔ کچھ ہی دیر میں تایا کلو واپس آگئے ۔ ۔ دادا مستقل زمین پر اپنی نظریں گاڑے ہوئے جیسے کسی چیز کو غور سے دیکھ رہے تھے۔تایا کلو کے آنے کے بعد دادا نے نے اپنی نظریں اوپر اٹھائیں اور ایک گہراسانس بھرتے ہوئے سب کو گھورتے ہوئے بولے۔٬٬ ہاں تو ۔ ۔ اب کیا کرنا ہے بولو ۔ ۔ مولوی صاحب کو اٹھا کر لے گئے ہیں یہ بات تو بہت خراب ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ہمارے لئے ۔ ۔ مسلمانوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے یہ تو ۔،،

                ٬٬ ہاں ابا! ۔ ۔ ۔ یہ بڑی شرم کی بات ہے ۔ ۔ ان ہندوﺅں نے مسلمانو کو چنوتی دی ہے کہ ان کی گاﺅں میں کیا حیثیت ہے۔ ۔ ۔،، بدر الدین تایا بولے

                میرے ابا نے کچھ بولنا چاہا تو تایا کلو نے آنکھ کے اشارے سے انہیں روک دیا ۔ویسے بھی جب بڑے تایا دادا کے ساتھ ہوتے تھے تو وہ کم ہی بولتے تھے ۔ جب تک دادا انہیں نہیں کہتے تھے وہ خاموشی سے بڑوں کی باتیں سنتے تھے ۔۔ ۔ یہ ہماراخاندانی طور طریقہ تھا ۔ ۔ ۔ ادب اور آداب تھا ۔ ۔ جب تک دادا کسی سے کچھ نہیں پوچھتے وہ چپ چاپ رہتا اور دادا کی بات سنتا رہتا۔٬٬ ابا ۔ ۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ باول کی کمشنری بھی یہاں سے بہت دور ہے ۔،،کلو تایا بولے،،۔ ۔ ۔ لے دے کے ایک پولیس چوکی ہے وہ بھی پرانے قلعے میں۔ ۔ ۔ اس کا انچارج بھی سردار بلونت سنگھ ہے، جو مسلمانوں کو ہمیشہ خونی نظروں سے دیکھتا ہے ۔ ۔۔ اسے آپ کے اس راجہ ٹھاکر داس کی آشیر باد ہے ۔ ۔ اسی نے دلی جا کر اسے یہاں چوکی پر رکھوایا ہے ۔ ،،

                دادا نے کچھ نہ کہا بس خاموشی سے تایا کلو کی بات سنتے رہے۔پھر تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد سر کو ہلاتے ہوئے بولے۔٬٬ بات تو تمہاری ٹھیک ہے کلو۔ ۔ ۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے ۔ ۔ ۔ اللہ نے گاﺅں میں ہمیں عزت دی ہے ۔ ۔ ہمارے باپ دادا کا بڑا نام رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہاں جتنے بھی مسلمان رہتے ہیں وہ ہماری ہی طرف دیکھتے ہیں۔ اب جو گاﺅں میں آگ لگی ہے وہ میرا خیال ہے کہ بجھائی نہیں جا سکے گی ۔ ۔ ۔ یہ آگ مسلمانوں کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے اگر اسے نہ روکا گیا تو ہم سب اس میں جل مریں گے ۔ ۔ اور یہ بنیا یہی چاہتا ہے۔،،

                ٬٬ بالکل یہ بات ہے ابا،،۔ ۔ ۔ تایا بدر الدین نے کہا اور سب نے اس بات پر اپنی گردن ہلائی۔

                ٬٬آپ ہمارے اور گاﺅں کے بڑے ہیں ابا۔ ۔ ۔ پہلے آپ بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے۔،، میرے ابا جوش میں آ کر بولے

                دادا نے ایک بار پھر باری باری سب کی طرف دیکھا ، پھر ایک گہری سانس بھرتے ہوئے بولے۔٬٬ ہوں ۔ ۔ میں سمجھتا ہوں صبح ہوتے ہی سب سے پہلے ہمیں گھر میں گاﺅں کے مسلمانوں کی بیٹھک بلانا چاہئے ۔ ۔ ۔ جب سب جمع ہوں گے تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آئے گا۔۔ ۔ ۔ اتحاد میں بڑی برکت ہے۔،

                ٬٬ ہاں ابا۔ ۔ ۔ میرا بھی یہی خیال ہے ،، میرے ابا نے کہا

                ٬٬ مگر جس قسم کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ ۔ ۔ ان حالات میں کیا گاﺅں کے مسلمانوں کی بیٹھک بلائی جا سکے گی،،۔ بدر الدین تایا بولے ۔ ۔ ۔ ٬٬ ابا نے بیٹھک کی رائے ٹھیک دی ہے لیکن گاﺅں کے ہندو ہم پر نظریں گاڑ کر بیٹھے ہیں۔ ۔ ۔ مجھے تو یہ بہت مشکل کام دکھائی دیتا ہے۔،،

                ٬٬ بھائی بدرو۔ ۔۔ آپ نے بھی ٹھیک بات کی ہے ۔ ۔ ۔ لیکن یہ بیٹھک تو ہر صورت میں بلانا ہی ہوگی۔ ۔ ۔ اگر ہم جمع نہ ہوئے تو ہندو ہمیں چن چن کر ماریں گے اور ایک دن نہ ہم ہوں گے اور نہ ہمارے بال اور بچے۔،، تایا کلو بولے ۔ ۔ ۔ ۔ ٬٬ ہمیں ہرحال میں یہ بیٹھک بلانا ہے ۔ ۔ ۔ جب کوئی مشکل پڑے گی تو دیکھا جائے گا ۔ ۔ ۔ اللہ ہماری ضرور مدد کرے گا۔،،

                ٬٬کلو ۔ ۔ ۔ میں تمہاری بات مانتا ہوں کہ یہ بٹھک موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے ۔ ۔ ۔ لیکن ہمیں اپنا ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا ۔ ۔ ۔ یہ نہ ہو کہ ہماری مشکلوں میں اور بڑوھتڑی ہوجائے۔،، بدر الدین تایا بولے۔

                ٬٬ ہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے گا بھائی بدرو۔ ۔ ۔ آپ فکر نہ کریں ۔ ۔ ۔ ۔ صبح ہونے دیں ۔ ۔ ۔ یہ کام میںخود کروں گا ۔ ۔ اور ان بنیوں کے ہاتھوں ہی کر واﺅں گا ۔ ۔ ۔ آپ دیکھ لینا۔،، تایا کلو نے اپنی گردن کو ہلاتے ہوئے کہا اور سب نے انہیں حیرت سے دیکھا

                ٬٬ اچھا اب سب عصر کی نماز پڑھ لیں ۔ ۔ وقت گزرا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ تھوری دیر میں مغرب کا وقت بھی ہوجائے گا۔ ۔ ۔ لالٹین مین تیل بھی دیکھ لینا ۔ ۔ ۔ اگر کم ہو تو ڈال لینا۔،،دادا نے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ پھر وہ اماں کو آواز دے کر بولے ۔٬٬ اری سعیدن۔ ۔ ۔ ضیاءالدین کو کھانا کھلاﺅ جا کر ۔ ۔ صبح سے بھوکا ہے میرا بچہ۔ ۔ ۔ جا فخر الدین ۔ ۔ نماز پڑھ لے پھر بات کریں گے۔،،

                 دادا کی بات سنتے ہی اماں نے مجھے بازو سے پکڑا اور تائی خیرن کے کمرے سے نکل کرراہداری میں آگئیں ۔ ۔ ۔ اسی وقت فاروق بھائی باہر صحن سے راہداری میں آگئے اور بڑ براتے ہوئے ہکلا کر بولے ۔٬٬ چاچی۔ ۔ وہ ۔ ۔ باہر ۔ ۔ تو ۔ ۔ ۔ اندھیرا ۔ ۔ چھا گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کالے کالے بادل آ گئے ۔ ۔ ہیں ،،

                 اماں نے صحن میں آ کر سر اٹھا یا اور آسمان کی طرف دیکھ کر بڑبڑائیں ۔ ۔ ۔ لو ۔ ۔ اب یہ بادل بھی سر پر آگئے ۔ ۔ ۔ ۔ کہیں بارش نہ ہوجائے ۔ ۔ پہلے ہی سردی بہت ہے ۔ ۔ اور بڑھ جائے گا جاڑا۔،،۔ ۔ ۔ چل ضیاءالدین جلدی سے کھانا کھا لے تو نے صبح سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے ۔ ۔ چل میرا بچہ ۔،،

                ایک دم بندروں کے چیخنے اور چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔ ۔ ۔ پھر تیز تیز ہواﺅں کا شور اٹھا ،۔ ۔ اور اس کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا کہ میں سہم کر اماں سے چمٹ گیا ۔ ۔ ۔ ٬٬ اماں ۔ ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔ ۔ اماں ،،

                اماں نے مجھے گود میں بھر لیا اور دوڑتی ہوئی کمرے کی طرف بھاگیں۔ ۔ ۔ (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 تحریر اعجاز احمد نواب وزیر آباد شہر کئی حوالوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے