سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ۔۔۔رضالحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ۔۔۔رضالحق صدیقی

دیکھا تیرا امریکہ

رضالحق صدیقی

علم کا معبد

ہم ایک بار پھر نیویارک میں تھے۔ہر روز بلا سوچے سمجھے برکلین سے نکل آتے تھے پھر کار کو کسی مناسب جگہ پارک کر کے جو بھی قابل دید مقام سامنے آتا اسے ایک نظر ضرور دیکھ لیتے اور اگر ٹائم ہوتا تو کسی اور مقام کی طرف چل دیتے تھے۔اس روز بھی یہی ہوا،کار پارک کرکے ہم پیدل ہی چل پڑے ،چلتے چلتے کرسٹل پارک کے عقب میں جا نکلے۔وہیں ایک وسیع اور شاندار عمارت نظر آئی،جدید طرز کی اتنی بڑی عمارت دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی۔ہم نے سوچا دیکھیں تو سہی کہ یہ عمارت کیا ہے۔اس جگہ بھی دوسری جگہوں کی طرح لوگوں کا ہجوم تھا،معلوم ہوا کہ یہی نیویارک کی پبلک لائبریری ہے۔اتنی بڑی لائبریری تو ہم نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھی تھی۔لائبریری کو دیکھنا تو تھالیکن ہمارا آج یہاں آنے کا پروگرام نہیں تھا۔عدیل کہنے لگا آپ نے یہاں آنا تو تھا ہی اور اب جب کہ ہم آ ہی گئے ہیں تو آپ اندر چکر لگا لیں،عنایہ اندر ، نہ آپ کو کچھ دیکھنے دے گی اورنہ ہمیں۔اس لئے آپ ہو آئیں ہم باہر ہی گھومتے ہیں آپ واپس آئیں گے تو کہیں اور چلیں گے۔

یہ لائبریری جدید آرٹ اور فنَ تعمیر کا عجوبہ ہے۔اونچے اونچے سفید ستون جنہیں ایک اونچے چبوترے پر کھڑا کر کے اور اونچا بنایا گیا ہے۔؛ائبریری تک جانے کے لئے بہت ہی کشادہ اور چوڑی سفید پتھر کی سیڑھیاں بنائی گئی ہیں۔اس عمارت کے سامنے دو بڑے بڑے شیر بنائے گئے ہیں۔مقصد تو ان شیروں کا معلوم نہ ہو سکا لیکن یہ شیر عمارت کے سامنے لگ خوبصورت رہے تھے لیکن یہ شیرپاکستان مسلم لیگ کے بالکل نہیں تھے،البتہ ہمارے دوست حکیم سلیم اختر ملک کے بھاٹی گیٹ میں حکیم صاحب کی شیراں والی بلڈنگ کے ضرور لگ رہے تھے کہ کچھ ادبی ادبی سے تھے۔

لائبریری کے باہر سیاحوں، طالب علموں اور دانشوروں کا بہت ہجوم تھا،کچھ لوگ اندر جا رہے تھے،کچھ باہر آ رہے تھے ۔لڑکے،لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد کشادہ سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔کوئی دوستی کے تقاضے نباہ رہے تھے۔چند ایک سر سے سر جوڑے محبتوں کے ابواب کھولے رازو نیاز کر رہے تھے۔پیار محبت کا یہاںکھلے عام اظہار معاشرتی تقاضوں کا ایک حصہ ہے اس لئے کئی لڑکے لڑکیاں، جوان مرد،عورتیںان خوبصورت،صاف شفاف سیڑھیوں پر بیٹھے ایسی حرکات میں مصروف تھے جن کے ہم لوگ عادی نہیں ہیں۔لیکن وہاں کوئی ان لوگوں کو دیکھ کر رکتا نہیں ہے اور نا ہی تجسس بھری نگاہ ڈالتا ہے۔وہاں ایک تو لوگ تیزی میں ہوتے ہیں دوسرا اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ہر طرح کی شخصی آزادی کے اس ملک میں کسی کو کسی پر اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

لائبریری کے بیرونی حصے میں ایک جگہ لکھا ہوا تھا کہ آپ علم پھیلانا چاہیں تو دو ڈالر یہاں ڈال دیں۔اسی جگہ ڈالر ڈالنے کی جگہ بھی بنی ہوئی تھی۔میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ قوم نفسیات کو کتنا سمجھتی ہے،کون ایسا شخص ہو گا جو علم کے فروغ اور کتاب بینی کی عادت ڈالنے کے لئے دو ڈالر ڈال کر اپنا حصہ نہ ڈالنا چاہے گا۔ہزاروں کی تعداد میں روزانہ لوگ یہاں آتے ہیںیقیناََ دو ڈالر ہر کوئی ڈالتا ہو گا۔یہ فنڈ لائبریری کے ہی کام آتا ہو گا،یہی سوچ کر میں نے بھی دو ڈالر نکالے اور ڈالر ڈالنے کی جگہ میں ڈال دیئے۔

نیویارک پبلک لائبریری دنیا کی بڑی لائبریریوں میں سے ایک ہے،رینکنگ کے اعتبار سے غالباََ دسویں نمبر پر ہے۔لائبریری کی عمارت بہت بڑی اور کئی حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔اس میں کروڑوں کے حساب سے کتابیں ہیں۔لائبریری کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ صرف نیویارک اور امریکی تاریخ کے بارے میں تقریباََ ساڑھے تین لاکھ(350,000) کتابیں اور پمفلٹ جبکہ دس ہزار نقشے اور اٹلس موجود ہیں۔یہاں آ کر مطالعہ کرنے والوں کے لئے بڑے بڑے ہال ہیں۔

عدیل وغیرہ عنایہ کا بہانہ کر کے باہر ہی رک گئے تھے اس لئے کہ شاید انہیں کتاب بینی کی عادت نہیں رہی یا انٹرنیٹ پر وہ دنیا جہاں کی ہر چیز کے بارے میں معلومات چند منٹوں میں تلاش کر لیتے ہیں۔ہماری یہ حالت ہے کہ ہمیں چھپی ہوئی کتاب پڑھنے ہی میں مزا آتا ہے۔پی ڈی ایف میں آئی ہوئی کتاب ہم سے پڑھی نہیں جاتی۔

لائبریری میں ایک بہت بڑا شعبہ ریفرنس کا بھی تھا جہاں علوم تحقیقات، جغرافیہ، معاشیات،سیاسیات اور سائنس،غرضیکہ کوئی ایسا موضوع نہ تھا جس کے بارے میں ایک سے بڑھ کر ایک کتاب موجود نا ہو۔یہ لائبریری نہیں علم کا بیش قیمت خزانہ ہے جس سے ہر کوئی استفادہ کر سکتا ہے۔یہ لائبریری پبلک ہے اور پبلک اس سے مفت فائدہ اٹھاتی ہے۔مجھے ادب کے شعبے کی تلاش تھی خاص طور پر اردو کی کتب کی تاکہ ادب میں مختلف اصناف کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کر سکوں۔پھر مجھے ادب کا شعبہ مل گیا لیکن یہاں صرف انگریزی کی کتابیں ہی تھیں انگریزی کبھی میری مرغوب زبان نہیں رہی،شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ میرے والداردو،فارسی اور عربی کے ماہر تھے،اس لئے ان زبانوں میں کبھی مار نہیں کھائی،اسی لئے انگریزی لٹریچر کے اس شعبے میں ہم نے بڑی بے دلی سے ریک دیکھنا شروع کئے،نثری نظم ہند و پاک میں قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف صنفِ شاعری ہے،غزل سے بیزار،پابند نظم میںاٹکتے، الجھتے شاعراسی صنف میں پناہ ڈھونڈتے نظر آتے ہیں،اسی سلسلے کی کی ایک کتاب نظر آئی۔نام تھا،، لیوز آف گراس ،، اس کتاب کے شاعر تھے والٹ واٹ مین۔ والٹ واٹ مین کو امریکہ کا بابائے نثری نظم کہا جاتا ہے۔نیویارک ہی اس کی جائے پیدائش ہے جس علاقے میں اس کی پیدائش ہوئی وہ پورے کا پورا علاقہ اسکے نام سے منسوب ہے،تعلیمی ادارے،لائبریریاں،سڑکیں ،یہاں تک کہ اس علاقے میں بننے والا پلازہ کا نام بھی اس کے نام پر رکھا گیا ہے۔

واٹ مین ایک تشکیکی تھا اور خدا پر یقین نہیں رکھتا تھا۔وہ سمجھتا تھا کہ خدا کی کوئی ذات نہیں ہے جو اس کائنات میں علیحٰدہ وجود رکھتی ہو۔ واٹ مین کو انسان دوست کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔وہ اس بات کا بھی قائل تھا کہ ادیب کو اپنے معاشرے کے ساتھ جڑ کر رہنا چاہیئے۔واٹ مین نے چونکہ امریکہ سے غلامی کے خاتمے کی بھی حمایت کی تھی اس لئے اس حوالے سے اسے شاعرِ جمہوریت بھی کہا جاتا ہے۔والٹ واٹ مین کی کتاب کے بارے میں پڑھتے ہوئے اس بات کا انکشاف بھی ہوا کہ یہ کتاب جب پہلی بار چھپی تو یہ شاعر کی اپنی کاوش تھی،یہ بات پڑھتے ہوئے ہمیں اپنے ایک افسانہ نگار دوست یاد آ گئے جنہوں نے ہمارے بولتا کالم میں ایک کتاب بارے کالم پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ بس واجبی سا افسانہ نگار تھا آپ نے ایسے ہی اسے چڑھا دیا ہے،یہاں تک تو ان کی بات درست کہی جا سکتی ہے کہ ہر شخص کا اپنا نکتہ نظر ہوتا ہے لیکن مجھے اعتراض تب ہوا کہ انہوں نے کہا ایسے لوگ اپنے پاس سے پیسے خرچ کرکے کتابیں کیوں چھپواتے ہیں اور ایسے ادب کا کیا فائدہ ہے اور کیا ایسے ادب کی ضرورت ہے؟اپنے اس دوست کی بات یاد کرتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ والٹ واٹ مین نے پہلی بار اپنی شاعری خود نہ چھپوائی ہوتی تو کیا آج اس کا کوئی نام لیوا ہوتا؟ اور کیا وہ آج امریکہ کا بابائے نثری نظم کہلاتا؟

خیر۔۔،میں جب لائبریری کے وسیع ہال میں داخل ہوا تو کتا بوں پر جھکے افراد علم کے دیوتا کے حضور سربسجود نظر آئے۔میں بھی اس کائنات نما لائبریری کے اس وسیع وعریض ہال کے ایک کونے میں لیوز آف گراس کھول کر بیٹھ گیا۔فال نکالنے کے سے انداز میں، میں نے کتاب کو کھولا تو جو نظم سامنے آئی وہ تھی،،ایک بچے نے کہا ۔۔گھاس کیا ہے،،۔

میں نے پہلی نظم تو پوری پڑھ لی،پھر مجھے یاد آیا کہ یہ کتاب تو شاید کتابوں کے انبار میں کہیں پڑی ہے شاید،اس زمانے کی یادگار کے طور پر جب زمانہِ طالب علمی میں ہم بھی شاعری کیا کرتے تھے،اللہ بخشے ہمارے انگریزی کے استاد دلدار پرویز بھٹی صاحب کو کہ جن کا کہنا تھا کہ نظم کہنی ہے تو والٹ واٹ مین کی شاعری ضرور پڑھنا،شاعری کا نیا نیا شوق تھا،عروض والد صاحب نے گھٹی میں پلا دیا تھا،شاعری میں انگریزی ادب کی چاشنی ڈالنے کے لئے اور نظم کا صحیح اسلوب سیکھنے کے لئے ،، لیوز آف گراس،، خریدی تھی،جیسا کہ میں نے عرض کیا انگریزی زبان میں کوئی اتنا شغف نہیں رہا سو اس وقت اسے پڑھا لیکن شاعری میں کوئی نکھار نہ آ سکا سو اس بھاری پتھر کو چوم کر چھوڑ دیا،آج کوئی چالیس سال بعد پھر وہی کتاب میرے سامنے تھی،اور جو نظم سب سے پہلے میرے سامنے آئی وہ آپ بھی پڑھیئے۔

A Child Said, What Is The Grass?

A child said, What is the grass? fetching it to me with full

hands;

How could I answer the child?. . . .I do not know what it

is any more than he.

I guess it must be the flag of my disposition, out of hopeful

green stuff woven.

Or I guess it is the handkerchief of the Lord,

A scented gift and remembrancer designedly dropped,

Bearing the owner’s name someway in the corners, that we

may see and remark, and say Whose?

Or I guess the grass is itself a child. . . .the produced babe

of the vegetation.

Or I guess it is a uniform hieroglyphic,

And it means, Sprouting alike in broad zones and narrow

zones,

Growing among black folks as among white,

Kanuck, Tuckahoe, Congressman, Cuff, I give them the

same, I receive them the same.

And now it seems to me the beautiful uncut hair of graves.

Tenderly will I use you curling grass,

It may be you transpire from the breasts of young men,

It may be if I had known them I would have loved them;

It may be you are from old people and from women, and

from offspring taken soon out of their mother’s laps,

And here you are the mother’s laps.

This grass is very dark to be from the white heads of old

mothers,

Darker than the colorless beards of old men,

Dark to come from under the faint red roofs of mouths.

O I perceive after all so many uttering tongues!

And I perceive they do not come from the roofs of mouths

for nothing.

I wish I could translate the hints about the dead young men

and women,

And the hints about old men and mothers, and the offspring

taken soon out of their laps.

What do you think has become of the young and old men?

What do you think has become of the women and

children?

They are alive and well somewhere;

The smallest sprouts show there is really no death,

And if ever there was it led forward life, and does not wait

at the end to arrest it,

And ceased the moment life appeared.

All goes onward and outward. . . .and nothing collapses,

And to die is different from what any one supposed, and

luckier.

مجھے اس نظم کوترجمہ کر کے پیش کرنا چاہیئے تھا لیکن میرے ترجمہ کرنے سے شاعرانہ حسن غارت ہو جاتاجو میں بالکل نہیں چاہتا،ہاںبچے کے حوالے سے مجھے ایزد عزیز کی ایک نظم ،، ڈری ہوئی بازگشت ،، یاد آ گئی ۔

پیارے بچو

بچپن کوئی دیوار سے لگ کر لوٹنے والی گیند نہیں ہے

مجھ کو تو ان پکی،گلی ہوئی عمروں سے خوف آتا ہے

میں نے تو ان سارے بڑوں کو نا منظور پارسل کی طرح ٹھکرایا ہے

میرا چہرا مت دیکھو

میری روح توتم جیسی ہے

اجلے پھولو

میں نے ان کانٹوں سے نکل کر خود کو تم میں گم پایا۔۔اور

تم سب کی پیاری باتوں سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے آئے

لیکن جب ہم بہت سا کھیل کے لمبی گھاس پر گر جاتے ہیں

تم میں سے کوئی بچہ

دور افق پر نظریں پھینکے

اک پکی،سنجیدہ بات سنا جائے تو

مجھ کو تم سے ڈر لگتا ہے۔۔پیارے بچو

علم کے اس معبد سے نکل کر جب میں برآمدے میں آیا تو ایک دیوار گیر تصویری نقش نظر آیا جس میں حضرت موسیٰ علیہالسلام کو کوہِ طور سے اترتے ہوئے دکھایا گیا ہے،وہ دس حکام کی لوح ہاتھوں میں تھامے ہوئے نیچے آ رہے ہیں،یہ مصوری اگر پاکستان کے کسی ادارے کی دیوار پر ہوتی تو اب تک فساد کھڑا ہو چکا ہوتا بلکہ اب تک لائبریری ہی جلا دی گئی ہوتی۔لیکن اس تصویری نقاشی کو دیکھتے ہوئے مجھے میرے آقا کا تصور سامنے آ گیا کہ جنگِ بدر میں پڑھے لکھے قیدیوں سے فرما رہے ہیں کہ دس افراد کو وہ کچھ پڑھا دو جو کچھ تم جانتے ہو تو تم آزاد ہو۔میں نے اسی تصور میں آقائے نامدار صل اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی کہ میرے ملک کے عوام کو علم و تحقیق کی روشنی میں وہ سیدھا راستہ دکھا جو یہ قوم بھلا بیٹھی ہے۔

کالوں کی بستی میں

ارشد محمود چودھری میرے ساتھ اس وقت سے مستقل رابطے میں تھا جب اسے پتہ چلا کہ میں امریکہ آ رہا ہوں۔پھر سلور سپرنگ میری لینڈ میں بھی تواتر سے فون پر رابطے میں تھا،پھر جب میں نے بتایا کہ میں چند دنوں کے لئے نیویارک آ رہا ہوں تو خوشی سے نہال ہو گیا،لیکن سلسلہ ہی ایسا تھا کہ مین ہاٹن کئی بارجانا ہوا لیکن ارشد سے ملاقات کا کوئی سلسلہ بن نہیں پا رہا تھا اس روز جب ہم سنٹرل پارک کے لئے نکلے تو میں نے عدیل سے کہا کہ آج کچھ وقت کے لئے ارشد سے ملنے جانا ضروری ہے۔

ارشد چودھری سے ملنے جب میں مین ہاٹن کے ایک پاکستانی ہوٹل پر پہنچا تو بچے مجھے وہاں اتار کر چلے گئے کہ آپ اپنے پرانے دوست سے مل لیں ہم دو تین گھنٹے ادھر ادھر گھوم کر آتے ہیں پھر سنٹرل پارک چلیں گے

چودھری ایک کھلا ڈھلا شخص ہے۔شکوہ کرنے لگا کہ مجھے بتایا نہیں برکلین میں کہاں ٹھہرے ہیں،اگر بتا دیتے تو میں آپ کو وہیں سے لے کر پورا نیویارک گھما دیتا۔میں نے معذرت کی کہ بچے ساتھ ہیں اس لئے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔کہنے لگا خیر چلیںکھانا کھاتے ہیں۔

کھانا کھاتے ہوئے اس نے پوچھا صدیقی صاحب اب تک نیویارک میں کیا کیا دیکھا ہے ۔ میں نے تفصیل بتائی یہ تو امریکہ کی بڑی روزی روزی سی پکچر ہے۔آئیں آپ کو امریکہ کا وہ پہلو دکھاتا ہوں جو اس ملک کا سیاہ چہرہ ہے۔غربت،افلاس،گندگی اورگناہ سے بھرپور چہرہ۔ہم اس علاقے سے صرف گذریں گے،رکیں گے کہیں نہیں،گھنٹے ڈیڑھ میں واپس آ جائیں گے،میں گھبرا گیا مجھے لگا کہ جیسے ارشد مجھے بادشاہی مسجد کے زیرِ سایہ پرورش پانے والے علاقے میں لے جانے کی دعوت دے رہا ہو،مجھے ہچکچاتے دیکھ کر ارشد نے کہا یہ کوئی اتنا خطرناک علاقہ نہیں ہے،ہاں کسی زمانے میں بہت خطرناک تھا لیکن اب نہیں ہے ۔یہ کالوں کی بستی ہے اسے ہارلیم کہتے ہیںمین ہاٹن میں اسٹریٹ 110سے سنٹرل پارک تک کا علاقہ ہارلیم کہلاتا ہے جہاں نیگرو افراد کا راج ہے۔میں نے ایک لمبی سی سانس بھری جیسے ایک بوجھ اتر گیا ہو۔میں نے موقع غنیمت جانا اور ارشد چوہدری کے ساتھ چل دیا۔

ارشد کا ایک رخ صحافی کا بھی ہے اور اسی حوالے سے وہ امریکہ کا نیا چہرہ دکھانے جا رہا تھا۔

ارشد نے بتایا کہ ویسے تو یہ کالے امریکہ کے ہر علاقے میں موجود ہیں لیکن کالوں کی یہ بستی امریکہ کا وہ چہرہ ہے جسے آپ نے ابھی تک نہیں دیکھا۔یہ امریکہ کے سکے کا دوسرا رخ ہے جو روزی روزی نہیں ہے،یہ ایک نیا امریکہ اور یہ اس کی بھیانک تصویر ہے۔

یہ علاقہ نیویارک میںساحلِ سمندر سے منسلک ہے اس لئے یہاں لوگ دور دراز سے آ کر آ باد ہوتے رہے۔امریکہ کی آبادی جب یہ دریافت ہوا بہت کم تھی ریڈ انڈین یہاں کے باشندے تھے۔امریکہ بہت وسیع و عریض ملک ہے اسی مناسبت سے وسائل بھی بے پناہ تھے۔کاشت کاری،صنعت کاری اور دیگر شعبوں میں کام کرنے کے وسیع امکانات تھے۔ان امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لئے آبادکاروں کو معاونت کی ضرورت تھی۔اس معاونت کی طلب نے دنیا کی طرح امریکہ میں غلام کلچر کو رواج دیا اور غلامی کا بیج بویا گیا۔سن1619 میں ڈچ بحری جہاز 20 غلاموں کو لے کر یہاں لنگرانداز ہوا۔یہ پہلی بار تھا کہ افریقہ سے غلاموں کو شمالی امریکہ کی ریاست ورجینیا کے جیمزٹاﺅن میں لایا گیا۔ان کو وہاں لانے کا مقصد تمباکو جیسی منافع بخش فصلوں کی پیداوار میں معاونت حاصل کرنا تھا۔سترھویں اور اٹھارویں صدی میں امریکہ کی تمام کالونیوں میں غلام رکھنے کا رواج تھا،ڈینل ڈین ٹن نے سن1670میں لندن سے شائع ہونے وا لی اپنی کتاب ،، اے بریف ڈسکرپشن آف نیو یارک ،، میں اس خطے کو نیو نیدر لینڈ کا نام دیا ہے،جو پوری طرح دریافت نہیں ہوا تھا لیکن جو دریافت ہوا تھا وہ میری لینڈ تک پھیلا ہوا تھا۔یہیں ایک چھوٹا سا قصبہ تھا ہارلیم جہاں ہالینڈ کے باشندے آبادتھے لیکن جب یہاں غلاموں کی آباد کاری شروع ہوئی تو ہالینڈ کے باشندے یہاں سے امریکہ کے خوشحال علاقوں کی جانب منتقل ہونا شروع ہوگئے۔یوں نیویارک کے ساحلی یا سمندر کے قریب قریب علاقوں میںغلاموں کے علاﺅہ دنیا پھر سے آنے والوں نے اپنی اپنی بستیاں بسا لیں جیسے اٹلی سے آنے والوں نے منی اٹلی، چین سے آنے والوں نے چائناٹاﺅن کی بنیاد رکھی،انگریز تو خیر نیویارک کے کئی علاقوں میں پھیل گئے۔

مین ہاٹن نے جب ترقی کرنا شروع کی اور یہاں خوشحالی آنا شروع ہوئی تو ہارلیم میں سیاہ فام لوگوں کی آبادی بڑھنے لگی تویہ علاقہ خالصتاََ سیاہ فام لوگوں کی آ بادی بن کر رہ گیا۔سفید فام امریکی ان سیاہ فاموں کو نفرت سے دیکھتے ہیں۔

اگرچہ یکم جنوری1863 کوامریکہ کے سولہویں صدر ابراہم لنکن نے امریکہ میں غلام رکھنے اور غلاموں کو آزاد کردئیے جانے کے قانون ،،اعلانِ نجات EMANCIPATION PROCLAMATION ،، پر دستخط کئے جس سے امریکہ سے غلامی کا قانونی خاتمہ ہو گیا۔لیکن سفید فام امریکی ان سیاہ فاموں کو اب بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔گوری چمڑی والے امریکن بسوں میں، سب وے میںکھڑے رہیں گے لیکن کسی پوری سیٹ پر بدن پھیلا کر بدتمیزی سے بیٹھے ہوئے ان کالوں کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے ،یہ رویہ دونوں جانب سے انتہا پسندانہ ہے،ایک طرف گوری چمڑی کا تفاخر بولتا ہے کہ ہم ان سے اعلیٰ نسل کے ہیں ۔تو دوسری جانب آج کے ان امریکی سیاہ فام باشندوں کے اس بدتہذیب روئیے کو تب تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک ان کے غلامی کے دور کونہ سمجھا جائے،ان کالوں میںصدیوں کی غلامی کی تھکن ، جھنجھلاہٹ اور بدتمیزی کی شکل میں بولتی ہے۔جھنجھلاہٹ اور بدتمیزی تو ان کے رویوں کے لئے بہت چھوٹا لفظ ہے،ان کے رویے دراصل ایک انتقام ہے۔

ہارلیم میں داخل ہوئے تو بڑی بری حالت تھی علاقے کی۔امریکہ میں صفائی کا جو معیار دیکھا تھایہاں آ کر ایسا لگا جیسے یہ امریکہ کا حصہ ہی نہ ہو۔سڑکیں ٹوٹی پھوٹی،جا بجا کوڑے کے ڈھیر،سڑکوں کے کنارے کوئی ایسی جگہ تھی جہاں پیشاب نہ کیا ہو،ہر طرف بدبو پھیلی ہوئی تھی،میلے کچیلے لباس میںوہاں لوگ گھوم رہے تھے،کچھ بوڑھے لوگ برآمدوں کے باہر بیٹھے نشہ پانی کر ہے تھے۔یہ گندے مندے لوگ بھی امریکی تھے لیکن سہولتوں سے محروم ذلتوں کے مارے لوگ۔

یہاں رہنے والے کالے،زندگی سے بیزار نظر آتے تھے۔یہ لوگ بہت کم بولتے ہیںیا خلاﺅں میں گھورتے نظر آئے یا سفید فانوں سے نفرت کا اظہار کرتے۔اس علاقے میں رہنے والوں کو ہر سفید چیز سے نفرت ہے۔یہاں غریبوں،بے کاروں اور بےروزگاروں کی اکثریت ہے۔

مجھے لوگوں کے رویے سے گھبراہٹ ہو رہی تھی میں نے ارشد چوہدری سے کہا ،یار یہاں سے نکلو،ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ ایک موٹا تازہ کالا جس کے گندے لباس سے بو کے بھبکے اٹھ رہے تھے قریب آیا اور بولا ۔

،،دو ڈالر،،

میں نے گھبرا کر جیب میں ہاتھ ڈالا تو5ڈالر کا نوٹ ہاتھ میں آ گیا جو میں نے اسے تھما دیا۔پھر ارشد کی طرف دیکھا،اس نے کہا امریکہ کا دوسرا رخ یہی ہے۔یہ ان کا ٹیکس ہے، اس علاقے میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔میں نے کہا چلو یہاں سے نکلو۔ارشد نے سر ہلایا اور ہم واپس اسی پاکستانی ہوٹل میں آ گئے جہاں سے بچہ لوگ نے مجھے پک کرنا تھا۔

ارشد تو بچہ لوگ کو بھی کھانا کھلانے پر مصر تھا لیکن میں اس سے اجازت لے کر باہر آ گیا۔

میں اس علاقے سے تو نکل آیا تھا لیکن میں اب بھی سوچ رہا ہوں کہ امریکہ میں کالوں کو برابری کے حقوق کب ملیں گے؟

سکوٹی والی لڑ کی

خاموشی کی آواز ہوا کے دوش پر سوار میرے کانوں سے ٹکرائی تو احساس ہوا کہ میں کسی اجنبی جگہ آ گیا ہوں۔یہاں نیویارک کی گہماگہمی اور ہجوم نہیں تھا،درختوں کی بہتات نے اس جگہ کو ساﺅنڈ پروف بنا دیا تھا،یہاں کی ہوا بھی کثافت سے پاک اور ہلکی ہلکی محسوس ہو رہی تھی جس نے مجھے ایک لمبی سی سانس کھینچنے پر مجبور کر دیا اور میرے رگ و پے میں فرحت کی ایک لہر دوڑ گئی۔مین ہاٹن کے جزیرے کے اندر اونچی اونچی عمارتوں میں گھرے سرسبز جزیرے میں کھڑا تھا جسے امریکانوز سنٹرل پارک کہتے ہیں۔

مجھے انتہائیں بے چین کر دیتی ہیں،وہ چاہے میری لینڈ میں عدیل کے فلیٹ میں آتی فائر بریگیڈ کی کرخت آواز ہو یا سنٹرل پارک کا سناٹا۔

عدیل نے کہا یہ درخت اور یہاں کا ماحول کتنا سرسبز لگ رہا ہے ،ذرا ایک دو ماہ گذر جانے دیں پھر یہی منظر خزاں کے تکلیف دہ منظر میں بدل جائے گا۔پتے جب رنگ بدلتے ہیں تو وہ منظر بھی بڑا خوبصورت ہوتا ہے،یہی سبزرنگ پتے جب جون بدل کر سرخ ہوتے ہیں تو منظر بڑا ہی دلکش ہو جاتا ہے۔

میں ہنس دیا کہ یہی سرخی،جوانی کی جوالا مکھی ہوتی ہے اور جب زردی پتوں کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے تو ا ناََ فاناََ موت پتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اور پتے ڈالی سے ٹوٹ کر مٹی پہ آ گرتے ہیں،پھر یہی مٹی پتوں کو چاٹ جاتی ہے۔

،،آپ بہت مشکل مشکل باتیں کرنے لگتے ہیں کبھی کبھی، ہم ذرا جھیل کی طرف جا رہے ہیں آپ آ جائیے گا آہستہ آہتہ،،عدیل نے یہ کہہ کر اپنی رفتار بڑھا دی

انسان جب پت جھڑ کے موسم میں پہنچ جاتا ہے تو گویا اکھاڑے سے باہر بیٹھا پہلوان ہو جاتا ہے۔اکھاڑے میں لڑتے،کسرت کرتے،بازوﺅں کی مچھلیاں پھڑپھڑاتے نوجوان پہلوانوں کو دیکھ کر استاد پہلوان کے ڈھلکے ہوئے تمام اعضاءبھی پھڑ پھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

میں بھی اب اکھاڑے سے باہر بیٹھا ہوا پہلوان تھا جس کے گالوں کی سرخی میں تھوڑی تھوڑی زردی نظر آنے لگی تھی ۔امریکہ میںجب درختوں پر خزاں اترتی ہے تو پہلے وہ سرخ ہوتے ہیں پھر زردی مائل اور پھر ہوا کا ایک جھونکا انہیں درختوں سے کہیںدور اڑا لے جاتا ہے۔

سنٹرل پارک بھی اتنا ہی سر سبز ہے جتنا سارا امریکہ۔میں اسی سبزے سے آنکھوں کو تروتازگی بخشتا دھیرے دھیرے جھیل کی جانب بڑھ رہا تھا،اچانک درمیانی راستے پر چلتے چلتے ایک جانب استادہ ایک مجسمہ دیکھ کر میں ٹھٹھک سا گیا کہ یہ ویسا ہی تھا جیسا نیویارک پبلک لائبریری سے ملحقہ یاد گار میں دیکھا تھا۔ میری یاداشت نے دھوکا نہیں کھایا تھایہ امریکہ کے معروف رومانوی شاعر اور ایوننگ پوسٹ(اب نیویارک پوسٹ) کے ایڈیٹر ولیم کیولن برئینٹ کا ہی مجسمہ تھاجس نے امریکہ کے پہلے لینڈ سکیپ آرکیٹیکٹ انڈریو جیکسن کے ساتھ مل کر آواز بلند کی تھی کہ نیویارک کی آبادی کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیشِ نظر ایک پبلک پارک کی ضرورت ہے،ایک ایسی خوبصورت جگہ جہاںوہ کھلی فضا میں سانس لے سکیں،بالکل لندن کے ہائیڈ پارک کی مانند۔ ولیم کیولن برئینٹ کے اس مطالبے کی گونج تا دیر سنائی دیتی رہی حتیٰ کہ 1853میں نیویارک کے قانون سازوں نے سٹریٹ59سے سٹریٹ106کے درمیانی علاقے پر پارک کی تعمیر کی منظوری دے دی۔ان سڑکوں کا درمیانی علاقہ 3.41کلومیٹر یعنی843ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔اس زمانے میں یہ ایک ایسا علاقہ تھا جہاں دلدلیں اور جنگلی جانوروں کی بھرمار تھی۔اس علاقے کو پارک میں تبدیل کرنے کے لئے پارک کا تھیم پیش کرنے کا مقابلہ کرایا گیا۔یہ مقابلہ جیتنے پر حکومت نے فریڈرک اور کلورٹ نامی فرموں کو اس پارک کا آرکیٹیکٹ مقرر کیا۔ جنہوں نے اس علاقے کو ایک عظیم سیر گاہ میں تبدیل کر دیا جہاں پہاڑیاں ہیںکہ دلدلی زمین کو پتھر ڈال کر پرگیا گیا،مصنوعی جھلیں ہیں،جنگل نما علاقہ بھی ہے کہ امریکہ میں جتنے بھی پارک ہیں ،وہ چھانگا مانگا کی طرز کے فارسٹ پارک ہیں،جہاںندیاں اور گھنے جھنڈ ہیں۔جہاں چڑیا گھر ہے،مصنوعی قلعے بنائے گئے ہیں،خوبصور ت پل بنے ہوئے ہیں کہتے ہیں36پل بنائے گئے ہیں اس علاقے میں ربط رکھنے کے لئے۔رب نے دنیا بنائی اور پھر اس پر سب کچھ رکھ دیا۔یہاں بھی وہ سب کچھ ہے جو قدرت تخلیق کرتی ہے۔

عنایہ کی پریم دھکیلتے ہوئے عدیل اور رابعہ دور چلے گئے تھے،ہماری بیگم بھی ان کے ہم رکاب تھیںکہ میں تھا جو ادھر ادھر دیکھتے ہوئے دھیرے دھیرے چل رہا تھا،اور بھی جوڑے تھے جو بچوں کو پریم میں ڈالے ادھر ادھر چل رہے تھے۔

اس درمیانی راستہ کے دونوں جانب خوانچہ فروشوں نے اپنے سٹال سجا رکھے تھے۔ایک صاحب پورٹریٹ بنا رہے تھے،یہ بول کچھ نہیں رہے تھے کیونکہ تصویر بنانے میں مصروف تھے،لیکن لکھ کر بورڈ لگایا ہوا تھا

،، آپ کا پورٹریٹ صرف دس ڈالر میں،،

اس نے کچھ تصویریں ،چند تصویرِ بتاں اپنے سٹال پر آویزاں کر رکھی تھیںیہ تصاویر اس کے فن،اس کے ہنر کا منہ بولتا ثبوت تھیںکہ یہ بوڑھا تصویروں کو بھی زبان دے سکتا ہے۔ایسی تصاویر کہ لگتا تھا ابھی بول اٹھیں گیئں،یہ تو نصیب نصیب کی بات ہے کے وہ اسٹوڈیو بنا کر مہنگے داموں نہیں بک رہا تھا حالانکہ اس کی تصاویر کسی شاہکار سے کم نہ تھیں۔ایسا لگتا تھا کی اس کے نصیب نے یاوری نہیںکی اور وہ سنٹرل پارک کی ایک سڑک کنارے سوت کی اٹی کے عوض اپنا آرٹ بیچ رہا تھا۔

ارے یہ کون ہے؟ یہ بھی آرٹسٹ ہی ہے لوگوں کی جانب دیکھ رہا ہے،کوئی اس کی جانب دیکھ لے تو کہنے لگتاہے۔،،اپنا کیری کیچر بنوائیے اور جان جائیے کہ آپ کتنے مخولیئے لگتے ہیں،ویسے کہا اس نے کارٹون تھا،اس سے کارٹون بنوانے سے بہتر تھا کہ ہم بھاگ لیتے،سو ہم نے اس سے آنکھیں چار کرنا مناسب نا سمجھا اور وہاں سے آگے چل دئیے۔

میری کوشش تھی کہ سڑک کے انتہائی کنارے پر چلوںاور اس میں کامیاب بھی تھا۔چلتے چلتے اچانک میرے جسم کو ایک جھٹکا سا لگا،میرے پیر میں درد کی ایک ٹیس سی اٹھی اور میں گرتے گرتے بچ گیا کہ میرے دونوں ہاتھ ایک درخت سے ٹکرا چکے تھے۔اس ساری صورتحال میں جب میرے ہوش کچھ ٹھکانے آئے تو میں نے مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے پیروں سے ایک عدد سکوٹی اپنے مالک سمیت ٹکرائی تھی۔اس سے پہلے کہ میں اپنے پاکستانی سٹائل میں اپنے غصے کا اظہار کرتا،وہ نوخیز سی لڑکی سوری سوری کرتی ہوئی اپنی گرنے والی سکوٹی کوسنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے ایک بار پھر مجھ سے ٹکرا گئی۔پاس سے گذرتے ہوئے ایک لڑکے نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے سیدھا کیا۔اس حسین ٹکراﺅ کے پے در پے ٹکراﺅمیںاپنی زبان کی گالیاں توبھول گیا اور انگریزی کی گالیاں مجھے آتی نہیں تھیں۔

میں لنگڑاتا ہوا تھوڑی دور چلا تو پیر کے کھنچاﺅ میں کچھ کمی آگئی لیکن چلنے میں ابھی بھی تکلیف باقی تھی۔جھیل تک پہنچنے کے لئے سیڑھیاں اترنا پڑتی ہیں،اس لئے بچہ لوگ اوپر ہی میرا انتظار کر رہے تھے۔مجھے دور سے تھوڑا لنگڑا کر آتا دیکھ کر عدیل نے پوچھا ،کیا ہوا،میں نے کہا کچھ نہیں ایک سکوٹی مجھ سے ٹکرا گئی تھی۔

جھیل تک پہنچنے کے لئے دس ،پندرہ سیڑھیاں اترنا پڑتی ہیں جہاں ایک خوبصورت فوارہ ہے اور اس کے بعد جھیل کا خوبصورت نظارہ ہے۔ہم سیڑھیاں اتر کر جھیل کنارے جا بیٹھے۔

جھیل کی گہرائیوں میں جھانکتے،اس کے پانیوں میں پیر مارتے،ان سے بنتے بھنوروں کو دور تک پھیلتے اورپھر سامنے سے آتی کشتیوں سے ٹکرا کر ٹوٹتے دیکھتے خاصی دیر ہو گئی تو عدیل نے واپسی کا بگل بجا دیا۔

جھیل کنارے سے نکل کر سنٹرل پارک کے باہر سٹریٹ59کے قرب جوار میں پارک کی ہوئی گاڑی تک جانے کے لئے بالکل وہی رستہ اپنانا تھا جس سے آئے تھے۔

اچانک وہی نوخیز سی لڑکی ایک بار پھر ہمارے بہت ہی قریب سے سکوٹی پر گذری،میری طرف دیکھ کر مسکرائی اور سوری کہتی ہوئی گذر گئی۔بچہ لوگ نے میری طرف دیکھا پھر دور جاتی لڑکی کو

 اور کہا ،،پاگل،،

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفر نامہ بھارت۔۔۔حسن عباسی

سفر نامہ بھارت حسن عباسی             گرمی اُس کے ہاتھوں کی آج کیمپ میں ہمارا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے