سر ورق / سفر نامہ / سفر نامہ بھارت۔۔۔حسن عباسی

سفر نامہ بھارت۔۔۔حسن عباسی

سفر نامہ بھارت

حسن عباسی

            دل یا شِکم؟

ڈھوڈیکے ایک چھوٹا سا گاﺅں ہے جیسا کہ عموماً پنجاب میں ہوتے ہیں۔ ہر طرف سرسبز اور ہرے بھرے پیڑ، بے ترتیب بنے ہوئے کچے مکان، تنگ گلیاں اور خستہ حال در و دیوار، مٹی اور دھول، اس مٹی اور دھول میں لپٹے انتہائی سادہ مخلص اورمحبت کرنے والے گاﺅں کے لوگ مگر ایک اعزاز اس گاﺅں کے پاس ایسا ہے جس نے اسے منفرد مقام عطا کر دیا ہے۔

وہ ہے لالہ لاجپت رائے کی جنم بھومی ہونے کا شرف بقول غالب:

ہوتا ہے ہر مکیں کو مکاں سے شرف اسد

مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اُداس ہے

میں بہت دیر سے لالہ جی کے مجسّمے کے سامنے کھڑا اس سوچ میں گم تھا کہ وہ لوگ کتنے عظیم ہوتے ہیں جو اپنی زندگی، اپنے ملک اور اپنی قوم کے لےے وقف کر دیتے ہیں۔

اُن لوگوں کا مقام کتنا بلند ہوتا ہے جو ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔

لالہ لاجپت کا شمار بھی ہندوستان کے ایسے ہی نامور سپوتوں میں ہوتا ہے۔ اس لےے لالہ کو شیرِ پنجاب بھی کہا جاتا ہے۔

لالہ اٹھائیس جنوری 1865ءکو ڈھوڈیکے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد لالہ رادھا کرشن گونمنٹ سکول میں ٹیچر تھے۔ لالہ اگروال فیملی سے تھے۔ لالہ جی کی والدہ گلاب دیوی بھی ایک نامور مثالی ہندو خاتون تھیں لہٰذا لالہ کی تربیت اُن خطوط پر استوار ہوئی جن پر چل کے اُنھوں نے بھی ایک مثالی زندگی گذاری وہ بچپن سے ہی بہت ذہین تھے۔

غربت اور کمزوری لالہ کی اعلیٰ تعلیم میں رکاوٹ تو ضرور بنی مگر اُنھوں نے اپنی ذہانت، بلند حوصلگی اورمحنت سے کئی وظیفے جیتے۔ اُنھوں نے انٹر کا امتحان کلکتہ یونیورسٹی سے 1880ءمیں فرسٹ کلاس میں پاس کیا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی اور پھر گورنمنٹ کالج لاہورجوائن کیا اسی دوران قانون کی تعلیم بھی حاصل کرتے رہے۔ مالی پریشانیوں کے باعث اُن کی تعلیم دو سال تک موقوف رہی۔ لاہور میں گذارے ہوئے دو سال لالہ کے لےے بہت اہم تھے۔ وہ بمشکل سولہ سال کے تھے جب آریا سماج جوائن کیا۔

1883ءمیں لاءکا پہلا امتحان پاس کرنے کے بعد اُنھوں نے پریکٹس شروع کر دی تاکہ گھر والوں پر بوجھ نہ بن سکیں۔ وکالت کے امتحان پاس کرنے کے بعد اُنھوں نے حصار میں پریکٹس شروع کر دی۔

1888ءمیں ہندوستان کی آزادی کے لےے کانگریس میں شامل ہو گئے۔ انگریز کی ریشہ دوانیوں اور ہندوستان دشمن پالیسیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ وہ ہندوﺅں میں اتحاد کے بہت سرگرم رُکن رہے۔ وہ ہندوستانی معاشرے میں انقلابی تبدیلیوں کے خواہاں تھے اور اس کے لےے عملی طور پر بہت کُچھ کیا نہ صرف مزدوروں اورکسانوں کے حقوق کی جنگ بڑے دلیرانہ طریقے سے لڑی بلکہ تعلیم کے فروغ کے لےے بھی رات دن کوشاں رہے۔

لاہورمیں سائمن کمیشن کی آمد پر احتجاجی جلوس میں لالہ پر اتنا تشدد کیا گیا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے مگر بلا شبہ ایک مثالی زندگی گزاری وہ اپنے وطن اور قوم کے ساتھ مخلص تھے۔

وفاداری بشرطِ اُستواری اصلِ ایماں ہے

مرے بُت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

چھوٹے سے گاﺅں میں اسکول کی عمارت نہایت پُرشکوہ تھی۔

کیمپ کے سبب جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ کیمپ کے معمولات بہت دلچسپ تھے۔

صبح سویرے اُٹھ کر سب اپنے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرتے اُس کے بعد کُچھ مہان یوگی، یوگا کی ورزشیں کراتے۔ ورزش میں لڑکیاں، لڑکے ایک ساتھ ہوتے جس کا ایک فائدہ یہ تھا کہ سب ہی علی الصبح اُٹھ جاتے تاکہ کوئی ”آسن“ چھوٹ نہ جائے۔

ناشتے کے لےے روزانہ پاس ہی ایک بڑی حویلی میں جانا پڑتا۔ اس حویلی پر ایک طویل العمر بوڑھے برگد نے اپنا دستِ شفقت رکھا ہوا تھا۔

کیمپ میں شریک لڑکوں اور لڑکیوں کی تعداد 300 کے لگ بھگ تھی۔ سب کو ناشتے اور ڈنر کے لےے اس بڑی حویلی میں آنا ہوتا تھا۔ منظر دیدنی ہوتا۔

ساتھ میں گاﺅں کے لوگ بھی شامل ہو جاتے۔

پورے انڈیا میں اپنی مدد آپ (Self Service) کا رُجحان عام ہے اپنا برتن خود اُٹھاﺅ۔

کھانا لو….

کھاﺅ….

اور پھر برتن دھو کر وہیں رکھ دو جہاں سے اُٹھایا تھا۔

حویلی میں کھانے کے برتن اور لڑکی کا معاملہ ایک جیسا تھا۔

جو بڑھ کے خود اُٹھا لے ہاتھ میں مینا اُسی کا ہے۔

اکثر اوقات لڑکی کی نسبت کھانا لانا زیادہ مشکل کام تھا۔

لہٰذا جن لڑکوں کے ہاتھ میں پلیٹ نہ ہوتی اُن کا ہاتھ کسی لڑکی کے ہاتھ میں ہوتا۔

لڑکی تو بنگلہ دیش، پاکستان، نیپال، بھوٹان، برما یا انڈیا کی ہوتی جبکہ کھانا صرف دیسی ہوتا لہٰذا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں تھا۔

دِل یا شکم؟

کسی اجنبی مقام پر کسی اجنبی کے ساتھ بیٹھ کر آشنائی کی باتیں کرنا زندگی کی خالی تصویروں میں رنگ بھرنے جیسا عمل ہے۔

برگد کے پیڑ کے نیچے اہلِ دل تو اپنی زندگی کی تصویروں کو رنگین بنانے میں مصروف رہتے جبکہ اہلِ شکم کا معاملہ دوسرا تھا۔

یہاں زندگی خواب جیسی تھی اور خواب تعبیر جیسے۔

مختلف رنگوں، مختلف نسلوں، مختلف قوموں، مختلف ملکوں اورمختلف مذاہب کے لوگ جب آپس میں پیار محبت سے ملتے ہیں تو دھرتی پر کہکشاں اُتر آتی ہے اور آسمان پر قوسِ قزح کے رنگ پھیل جاتے ہیں۔

زبان، رنگ، نسل، مذہب اور وطن جداجدا ہونے کے باوجودوہ کون سا جذبہ تھا کہ ناگا لینڈ کی ایزون (Azone) ایک پاکستانی لڑکے کے پاس آکر بیٹھ جاتی اور پاکستانی لڑکے کی آنکھیں مہاراشٹر کی پلّاوی (Pallavi) کو ڈھونڈتیں تھیں۔

محبت کی سلطنت میں رنگ، نسل، زبان، وطن اور مذہب کی کوئی حیثیت نہیں ہے یہ سب غیر اہم ہیں۔

جب کوئی گوری کسی نیگرو کے گلے میں اپنی بانہوں کا ہار ڈالتی ہے تو رنگ اپنے معنی کھو دیتا ہے۔

جب کوئی ایرانی لڑکی کسی عرب نوجوان کی آنکھوں میں دور بہت دور نکل جاتی ہے تو نسل پیچھے کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔

جب کوئی فلسطینی کسی یہودی لڑکی کو I Love you کہتا ہے تو مذہب اپنا وجود کھو دیتا ہے۔

اسی طرح جب کوئی پاکستانی لڑکا اور انڈین لڑکی، برگد کے پیڑ کے نیچے باتیں کرتے کرتے لفظوں کو آنکھوں کے اندر رکھ دیتے ہیں تو وطن تھوڑی دیر کے لےے ہی سہی اوجھل ضرور ہو جاتا ہے۔

ناشتے کے بعد سب شرکاءدوبارہ اسکول کا رُخ کرتے۔ اسکول کے برآمدوں میں لگی پینٹینگز بھی دلچسپی کا مظہر تھیں۔ جس میں ہر ملک کے کلچر کو نمایاں انداز میں دکھایا گیا تھا اور آرٹ کے ذریعے امن کا پیغام دیا گیا تھا، کچھ پینٹنگز تو آرٹسٹ اپنے اپنے وطن سے ہی بنا کر لائے تھے مگر زیادہ تر یہاں آکر بنائی گئیں تھیں۔ باقی سرگرمیوں کی طرح تصویر سازی کا بھی مقابلہ ہوتا اور اُس کے بعد یہ تصاویر ان بر آمدوں میں آویزاں کر دی جاتیں تاکہ تمام شرکاءان کو دیکھ سکیں۔

صبح نو بجے لینگوئج کلاسز (Language Classes) کا آغاز ہو جاتا۔ اسکول کے وسیع میدان میں شرکاءٹکڑیوں میں بٹ جاتے، پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال، بھوٹان، میانمر، مغربی بنگال، اُتر پردیش، تری پورہ، تامل ناڈو، راجھستان، پنجاب، پانڈی چری، اُڑیسہ، ناگالینڈ، مہاراشٹر، کیرالہ، کرناٹکا، جموں و کشمیر، ہریانہ، آسام، آندھرا پردیش سب ملکوں اور علاقائی زبانوں کی علیٰحدہ علیٰحدہ کلاسز تھیں۔ شرکا پر زبان سیکھنے کے حوالے سے کوئی پابندی نہ تھی جس کلاس میں چاہیں براجمان ہو سکتے تھے۔

میں تو پلّاوی کی بھاشا سیکھنا چاہتا تھا مگر ایزون نے مجھے ناگا لینڈ کی کلاس میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا ناگالینڈ والوں کی زبان اور شکل و صورت چائنیز سے ملتی جُلتی ہے مگر ایزون خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ سر و قامت بھی تھی اس لےے سب کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ پھر اُس کے جسم کی تراش بھی ایسی تھی کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہوں گے۔

پلّاوی میں ایسی کوئی بات نہ تھی۔ وہ سانولی اور درمیانے قد کی تھی جیسا کہ عموماً انڈین لڑکیاں ہوتی ہیں یوں تو سب انڈین لڑکیاں جب بولتی تھیں تو کوئلوں کی طرح کانوں میں رس گھولتی تھیں مگر پلّاوی کی آواز اور بولنے کا انداز دین و دُنیا سے بیگانہ کرنے والا تھا۔ وہ جب بات کرتی تو فضا میں ان گنت گنگھرو بجنے لگتے۔

ایزون جتنی آسان تھی۔ ناگالینڈ کی بھاشا اُتنی مشکل تھی۔ بہت کوشش کے باوجود میں صرف چند کلمات سیکھ پایا اور اب تو وہ بھی بھول چکا ہوں صرف ایزون کی ہنسی یاد رہ گئی ہے۔

ہمارے کیمپ میں پہنچنے سے قبل ایزون کی دوستی افغانستان کے خوبصورت اور درازقد لڑکوں سے تھی مگر پتہ نہیں اُس کو کیا ہوا کہ اب وہ پاکستانیوں کے پاس آکر بیٹھ جاتی۔ وہ باتیں کم کرتی اور ہنستی بہت زیادہ تھی یا تو اُسے کسی نے بتا دیا تھا یا پھر اُس کو خود اس بات کا احساس تھا کہ اُس کی ہنسی دلکش ہے اور حقیقت بھی یہی تھی وہ واقعی جب ہنستی تو مکمل ہو جاتی۔

میں جب کہیں بیٹھا ہوتا وہ اچانک چپکے سے آکر دھڑام سے مجھ پر گر جاتی۔ میں ڈر جاتا اور وہ ہنستے ہنستے دوہری ہو جاتی۔ دن میں ایک دو بار وہ ایسا ضرور کرتی اس سے پتہ نہیں اُس کے کون سے جذبے کی تسکین ہوتی تھی البتہ مجھے اُس نے مشکل میں ڈال دیا تھا۔ میں نے اُس سے تھوڑی سی بے رُخی کی تو وہ اپنے پاس لوٹ گئی اب ہماری ملاقات ہیلو ہائے تک محدود ہو گئی آخری دِن جاتے وقت ہم نے ایک دوسرے کو بائے بھی نہیں کہا۔ ایزون کو میں نے کبھی یاد نہیں کیا البتہ اُس کی ہنسی کو بھول بھی نہیں پایا جب بھی کوئی لڑکی ہنستے ہنستے دوہری ہو جاتی ہے مجھے ایزون ضرور یاد آتی ہے۔

دس بجے کلاسز ختم اور لیکچر سیشن شروع ہو جاتا سب سے پہلے تنظیم کے صدر ستیہ پال جی آکر امن، دوستی اور محبت کے حوالے سے بات کرتے سارک ممالک میں معاشیات اور ترقی کا ذکر ہوتا، عوام کے حقوق، آزادی اور خوشحالی کا تذکرہ، ماضی کی تلخیوں، نفرتوں، جنگوں اور مسائل کا رونا رویا جاتا اُن کے بعد آنے والے مقررّین کے بھی اسی طرح کے جذبات و احساسات ہوتے مگر یہ سب باتیں ہوا میں ہوئیں اور ہوا ہو گئیں کیمپ میں رہ کر یہ تو اندازہ ہو گیا تھا کہ ان ممالک کے عوام ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ وہ تو بہت معصوم اور سادہ ہیں۔ یہ تو دو طرفہ حکومتوں کے اپنے مفادات ہیں جو نفرت کے شعلوں کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔

پتہ نہیں وہ کونسا قاتل ہاتھ ہے جس نے دونوں ملکوں کو آپس میں لڑا کر عوام پر خوشحالی اور ترقی کے راستے مسدود کر دیے ہیں۔ اُنھیں غربت اور بے روزگاری جیسے مسائل کے جہنم میں دھکیل دیا ہے۔

مقررّین میں کُچھ تو صاحبِ دل ہوتے۔ انڈو پاک کے عوام کے لےے حقیقتاً درد رکھتے تھے۔ اُن کی باڈی لینگوئج سے پتہ چلتا تھا وہ برصغیر میں مثبت تبدیلی کے دِل و جاں سے خواہاں ہیں۔ اُن کی زبان سے نکلا ایک ایک لفظ بہت پُر اثر ہوتا۔ چند لمحوں میں ہی سب کے دِل اُن کے دلوں کے ساتھ دھڑکنے لگتے۔

کُچھ مقررّین گفتار کے غازی ہوتے مگر اُن کی زبان اُن کے دلوں کی رفیق نہ ہوتی۔ تالیاں اور نعرہ بازی اُن کا مقصد ہوتا اُس میں وہ کامیاب رہتے۔

میں آخری لائن کی سب سے آخری کُرسی پر بیٹھا خموشی سے یہ سب دیکھتا رہتا اور سُنتا رہتا۔

لیڈروں، سیاست دانوں اورمذہبی پیشواﺅں سے میرا اعتبار اُٹھ چُکا ہے۔ اُن کے اتنے چہرے اور اُن چہروں پر اس قدر خول ہیں کہ پرکھنا مُشکل ہے۔ ان سب کی ذہنیت اور مقاصد مشترکہ ہیں۔

میں نے بچپن میں ایک انڈونیشیا کی کہانی پڑھی تھی جس نے مجھے بہت محتاط اور چوکنا کر دیا ہے۔

انڈونیشیا کے چھوٹے سے شہر میں رہنے والا ایک ٹیکسی ڈرائیور سُوہارتو اپنے ملک میں انصاف، ترقی اور خوشحالی کے خواب دیکھتا ہے۔

الیکشن کے دنوں میں وہ دائیں بازو کی حمایت میں اپنے شب و روز صرف کرتا ہے۔ جلسوں میں نعرہ بازی کرنا، جگہ جگہ جماعت کے پوسٹر لگانا، اپنے ٹیکسی ڈرائیور ساتھیوں کو اُس جماعت کی حمایت میں رضا مند کرنا، اُس کے صبح و شام الیکشن تک اُنھی سرگرمیوں میں بسر ہوتے ہیں۔ اُس کو یقین ہوتا ہے کہ اُس کی جماعت برسرِ اقتدار آتے ہی منشور کے مطابق انڈونیشیا کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر دے گی۔ مُلک سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو جائے گا اور ہر طرف انصاف کا بول بالا ہو گا۔

الیکشن میں اُس کی پارٹی جیت تو ضرور جاتی ہے مگر اُس کے دورِ اقتدار میں مُلک کی حالت پہلے سے بھی ابتر ہو جاتی ہے۔

وہ حوصلہ نہیں ہارتا بلکہ اس بار بائیں بازو کی جماعت کی حمایت میں بڑھ چڑھ کر حِصہ لیتا ہے اس بار بھی وہی کہانی دوہرائی جاتی ہے۔ جماعت برسرِ اقتدار آتے ہی اپنے سب دعوے اور وعدے بھول جاتی ہے۔ ملک کی حالت اور بھی بدتر ہو جاتی ہے۔ مہنگائی اور غربت بڑھ جاتی ہے۔ ظلمت کی سیاہ رات مُلک پر چھا جاتی ہے۔

سو ہارتو کے سارے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ نئے الیکشن میں سیاست دانوں کے ہاتھوں بے وقوف نہ بننے کا تہیہ کرتا ہے۔ مگر اس بار اُس کے حلقے کا اُمیدوار اُس سے وعدہ کرتا ہے اگر وہ الیکشن جیت گیا تو شہر کی سطح پر وہ ترقیاتی کام ضرور کرائے گا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی فلاح و بہبود کے لےے بھی مو ¿ثر اقدام کرے گا۔

سوہارتو ایک بار پھر اپنے خوابوں کی بکھری ہوئی کرچیوں کو اکٹھا کرنا ثروع کر دیتا ہے اور اُس کی الیکشن کمپین (Election Compaign) کا حِصہ بن جاتا ہے۔

اس بار بھی ویسا ڈرامہ ہوتا ہے۔ اُمیدوار الیکشن جیتنے کے بعد آنکھیں پھیر لیتا ہے۔ جب وہ منسٹر بنتا ہے تو سوہار تو مبارکباد دینے اُس کے گھر جاتا ہے مگر اُس کو سیکورٹی گارڈز اندر نہیں گُھسنے دیتے۔ وہ اب مکمل طور پر مایوس ہو جاتا ہے اُس کا ذہن ہر وقت منتشر رہتا ہے وہ اندر سے ٹوٹ چُکا ہوتا ہے۔

ایک دن اسی انتشار کی وجہ سے اُس کی ٹیکسی ٹرک سے ٹکرا جاتی ہے۔ اتفاق سے اُسی دِن منسٹر کے بھتیجے کا بھی ایکسڈنٹ ہوتا ہے۔ دونوں کو او نیگٹو (O_) خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب منسٹر کو صورتحال سے آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ سوہار توکا خون اپنے بھتیجے کو لگانے کے لےے ڈاکٹر کو حُکم دیتا ہے۔

اس طرح بیچارہ سوہار تو زندگی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ساتھ بھی اب تک حُکمرانوں نے ایسا ہی سلوک روا رکھا ہے۔

امیر شہر غریبوں کی جان لیتا ہے

کبھی بہ حیلہ ¿ مذہب کبھی بنامِ وطن

—–٭٭٭—–

            نہ اپیل نہ شنوائی

لنچ ٹائم سے قبل جلسہ ختم ہو جاتا۔

گاﺅں کے لوگ بھی ہر سرگرمی میں بڑھ چڑھ کر حِصہ لے رہے تھے سب ہی جانتے تھے کہ یہ میلہ چار دن کا ہے اس لےے ہر کوئی اپنی بساط کے مطابق اسے لوٹنے میں مصروف تھا۔

گاﺅں کے لوگ نرے غریب نہ تھے۔

ان میں زیادہ تر تو کینڈا مقیم تھے۔

جو یہاں رہ گئے تھے وہ بھی وہاں جانے کے خواب دیکھ رہے تھے۔

کُچھ زمیندار اور باقی کاشتکار تھے۔

سِکھّوں کی پگڑیوں سے اُن کی حیثیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ پگ کے معاملے میں وہ بڑے محتاط (Concious) ہیں۔ البتہ نوجوان نسل پگ سے روٹھی روٹھی سی لگتی ہے۔

ڈھوڈیکے کے مُنڈے ”غنڈے“ نہ تھے۔ سیدھے سادھے، ہنس مُکھ اور خوش اطوار تھے۔ سچ مچ سکھوں کے بچے لگتے تھے۔

ایک بزرگ سردار جی جو کہ انتہائی نحیف اور کمزور تھے۔ اُنھوں نے ہمیں یہ خوشخبری سُنائی کہ تقسیم کے وقت اس گاﺅں کے سکھوں نے تمام مسلمانوں کو تحفظ دیا اور سب گاﺅں والے اُنھیں با حفاظت پاکستان کی سرحد تک لے گئے۔

شاید اس لےے پورے گاﺅں میں ایک بھی مسلمان نہ تھا۔

سہہ پہر تین بجے تک قیلولہ اورپھر میرا پسندیدہ پروگرام ملی نغموں کا مقابلہ شروع ہو جاتا ہر ملک کے گلوکار اپنے ملک کے ملی نغمے پیش کرتے۔ پاکستان کے مِلی نغمے بہت متاثر کن اور روح کو سرشار کرنے والے ہوتے۔ بلاشبہ پاکستان کے شاعروں نے دِلوں میں اُتر جانے والے مِلی نغمے لِکھے اور گلوکاروں نے بھی اپنی روح کی گہرائیوں سے اُنھیں گایا۔ آج سمیرا شہزاد نے جب یہ ملی نغمہ گایا۔

تیرا پاکستان ہے یہ میرا پاکستان ہے

تو اس کے بول سب کی زبانوں پر آگئے۔ اُس دن کے بعد کیمپ کے اکثر شرکا کو میں نے اُٹھتے بیٹھتے، آتے جاتے یہ ملی نغمہ گاتے سُنا خاص طور پر جب کوئی انڈین گا رہا ہوتا تو مجھے بہت خوشی ہوتی۔ اس ملی نغمے کی مقبولیت سے اگر تکلیف ہوئی تو افغانیوں کو، یہ تکلیف اور پریشانی اُن کے چہروں کی بدلتی رنگت سے صاف عیاں تھی۔ شاید اس لےے وہ ایک دن پہلے ہی کیمپ سے ”فرار“ ہو گئے۔

مِلی نغموں کے بعد کلچرل پروگرامز کا آغاز ہو جاتا جو کہ رات دس بجے تک جاری رہتے۔ ان میں خاص طور پر رقص کے مقابلے مدہوش کر دینے والے ہوتے۔

ایک سے بڑھ کر ایک جوڑی اسٹیج پر آتی اور اپنے مسحور کُن رقص سے بھرپور داد سمیٹ لیتی۔ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کس نے زیادہ بہتر پرفارم کیا ہے۔

یہ واحد پروگرام تھا جس میں نہ صرف کیمپ کے سب شرکاءبلکہ گاﺅں کے لوگ بھی کثیر تعداد میں شریک ہوتے۔

کتھک، گِدّا، بھنگڑا، کلاسیکی اور کلچرل رقص پرفارم کرنے والوں نے کیمپ کا ہی نہیں دلوں کا میلہ بھی لوٹ لیا۔ علاقائی رقص بھی اپنی جگہ بہت دلفریب تھے۔

ایسے لگتا تھا، جیسے یہی زندگی ہے اور یہی زندگی کا حُسن۔

اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ پلاوی اسٹیج پر اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ حشر برپا کر رہی ہے۔

دلوں کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی گئیں۔

وہ کوئی حور یا پری نہیں تھی۔

عام سی شکل و صورت والی لڑکی تھی۔

اُس میں کُچھ خاص بات تھی جو کہ ہر لڑکی میں نہیں ہوتی۔

اُس کی اداﺅں میں کچھ ایسی کشش تھی۔

جسے لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے۔

میر صاحب نے کہا تھا:

حُسن وہ ہے جو ادا رکھتا ہو

پلاوی کو دیکھ کر اس مصرعہ کی صداقت پر ایمان لانا پڑتا تھا۔

اُس کے پاس ادا تھی۔

کسی کو بھی دین و دُنیا سے بیگانہ کر دینے والی ادا

میں اس لےے اُسے دور دور سے دیکھتا رہا۔

کبھی قریب جانے کا حوصلہ نہ کیا۔

مجھے محبت کے سیلاب سے بہت ڈر لگتا ہے۔

سب کُچھ اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔

کُچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا۔

میں نے اپنے دِل کے چاروں طرف حفاظتی بند باندھ لےے تھے۔

پِلاوی کا رقص جاری تھا۔

دِلوں کی تھرتھراہٹ عروج پر تھی۔

میرے ساتھ والی سیٹ پر ہندو لڑکا مہتہ بیٹھا تھا۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ پُر جوش دکھائی دے رہا تھا اور پلاّوی کی لگاتار تصویریں کھینچے جا رہا تھا۔

مہتہ سے میرا تعارف آج ہی ہوا تھا۔ وہ دوبئی میں جاب (Job) کر تا تھا اور چُھٹیاں گذارنے انڈیا آیا ہوا تھا۔ اُس کی شکل بھارتی اداکار سنی دیول سے ملتی تھی۔

”لڑکی کیسا ڈانس کر رہی ہے؟“

اُس نے اُس کی تصویر کھینچتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔

”پورے کیمپ میں ایک ہی تو لڑکی ہے جس کے پاس ادا ہے“۔ میرا جواب بے ساختہ تھا۔

اس سے پہلے کہ میں اُس کی تعریف میں رطب للسان ہوتا مہتہ نے یہ کہہ کر میرے اوسان خطا کر دیے:

”She is my Sister.“

ہمارے درمیان کُچھ دیر خموشی رہی۔

پلاوی کا رقص ختم ہو چُکا تھا۔

ہماری خموشی تالیوں کے شور تلے دبتی چلی گئی۔

اچانک مہتہ کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔

اُس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا:

”دُعا کرو یار! پلاوی کو اُس کی محبت مِل جائے“۔

یہ لمحے بہت ہی عجیب ہوتے ہیں۔

دُکھ اور طمانیت سے گُندھے ہوئے۔

میں مہتہ کا سر اپنے شانوں سے لگائے ان لمحوں سے گذر رہا تھا مہتہ نے ماتا پیتا کی وفات کے بعد اپنی اکلوتی بہن کو ہر خوشی دی تھی۔ مہتہ کو پتہ ہی نہ چلا اور پلّاوی نے خود کو محبت کا روگ لگا لیا جس کو دِل دیا وہ کسی اورکا تھا۔ مہتہ کو اس کا بہت رنج تھا۔ وہ بے بس تھا۔

ساز بجتے رہے، رقص ہوتا رہا، فن کار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے، تالیاں بجتی رہیں۔

میں اور مہتہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے، اُداسیوں کی شال اوڑھے دِل ہی دِل میں پلاوی کی خوشیوں کے لےے دُعا کرتے رہے۔

آخری رقص فقیر حسین ساگا کا مور ڈانس تھا۔ ساگا نے یہ مور کے پر اپنی جیب سے ہزاروں روپے جمع کر کے خریدے تھے۔ یہی مور کے پر ہی اُس کا کُل اثاثہ تھے اس لےے وہ خود سے بڑھ کر ان کی حفاظت کرتا تھا۔ ساگا جب مور کے پر اپنے گورے بدن پر لگا کر ڈانس کا آغاز کرتا تو یوں لگتا جیسے اللہ تعالیٰ نے ساگا کو بنایا ہی مور ڈانس کے لےے ہو۔ میں ساگا کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا لیکن اُس کا یہ تعارف کم نہ تھا بلکہ اُس کا پہلا اور آخری تعارف بھی یہی تھا۔ ساگا ساری دُنیا بھول کر مُور ڈانس میں محو تھا اور میں مور ڈانس بھول کر ساگا کو غور سے دیکھ رہا تھا جو سراپا مور بن چکا تھا۔ یہ اُس کی فن کی بلندی اور سچائی تھی ساگا کے مور ڈانس نے میلہ لوٹ لیا۔

تقریب ختم ہوئی تو پلاّوی مہتہ کے پاس آئی اور اُس کا ہاتھ پکڑ کر کہا:

”بھیّا میں کیسی لگ رہی تھی“۔

”یہ حسن سے پوچھو“۔

مہتہ نے شرارت بھری آنکھوں سے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پلاّوی نے ایک نظر مجھ پر ڈالی۔ شاید وہ پوچھنے ہی والی تھی کہ میں وہاں سے اُٹھ کر آ گیا۔

کچھ چیزیں اپنی نہیں ہوتیں مگر اُن کے کھو جانے کا دُکھ بہت ہوتا ہے۔ اپنے کلاس فیلو کے کھلونے کی طرح مجھے پلّاوی کی محبت کے کھو جانے کا بھی دُکھ تھا۔

کیمپ میں اگر میری کسی سے دوستی ہوئی تو وہ کرناٹک کا نیگندرا پرساد تھا۔ وہ غضب کا ڈانسر تھا۔ پرسادکی وجہ سے میری اُس کی ڈانس سٹوڈنٹس (Dance Students) کے وانی، جیوتی، منجولہ، مدھاونی، اشاونی اور لکشمی سے خاصی آشنائی ہو گئی تھی۔ یہ سب سانولی سلونی لڑکیاں ہر وقت اُس کے ساتھ رہتیں اور میں پرساد کے ساتھ۔

جب بھی ڈانس کی ریہرسل ہوتی پرساد مجھے بُلا لیتا۔ لڑکیاں ہمارے پاس رقص کرتی رہتیں پرساد اور میں ہندومت اور اسلام کے بارے میں ایک دوسرے کے (Concepts Clear) کرتے رہتے۔ اُسے مذہبی گفتگو کرنے اور پاکستان کے بارے میں جاننے کا بہت شوق تھا۔

پرساد نے سُن رکھا تھا کہ پاکستان میں اگر کوئی لڑکی بغیر برقعے کے گھر سے باہر نکلے تو اُسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اُس نے یہ بھی سُن رکھا تھا اگر کوئی شخص نماز قضا کر دے تو اُسے بھی گولی مار دی جاتی ہے۔

جب میں نے اُسے وہاں کی اصل صورتحال بتائی تو وہ بہت حیران ہوا اُسے یقین نہیں آرہا تھا۔

پرساد نے اسلام اور پاکستان کے متعلق بہت سی من گھڑت اور بے بنیاد باتیں سُن رکھیں تھیں جنھیں کلیئر (Clear) کرنا ضروری تھا اس لےے میرا زیادہ وقت اُس کے ساتھ گذرتا۔

پرساد کی ساری سٹوڈنٹس اُس کے گرد جمع تھیں۔ اُن کی خوشی دیدنی تھی۔ اُنھوں نے ڈانس مقابلے میں دوسرا انعام حاصل کیا تھا۔ میں نے پرساد اور اُس کی ٹیم کو مبارک دی تو اُس نے فخر سے سر بلند کرتے ہوئے کہا:

”حسن! تمہیں ہماری لڑکیوں کا ڈانس کیسا لگا؟“

میرے لبوں پر بے ساختہ شعر مچل گیا۔

وہ کہے جاتی تھی لے لو جو بھی شے اچھی لگے

ماں سے کیا کہتی مجھے میلے میں کیا اچھا لگا

پرساد نے کہا:

”کیا؟“

میں نے کہا: ”کچھ نہیں“۔

اب میں اُسے کیا بتاتا کہ اس میلے میں مجھے کِس کا ڈانس اچھا لگا تھا۔ اپنی تمام سٹوڈنٹس کی طرح پرساد بھی سانولا، تیکھے نقوش والا، خوش اخلاق اور مہذب تھا۔ ہم مزاج اور خوش اطوار تھا۔ اس لےے میری اُس سے زیادہ بنتی تھی۔ ہندی ٹھہر ٹھہر کر بولتا جو کہ بہت اچھی لگتی۔

ایک دن اُس نے مجھ سے قائدِ اعظم کی تصویر مانگی اتفاق سے میرے پاس دس کا نوٹ تھا میں نے اُس پر

”اپنے دوست پرساد کے لےے“

لکھ کر نیچے دستخط کر دےے۔

اُس نے میرے بغیر مانگے نوٹ نکالا اور ہندی میں دستخط کر کے گاندھی کی تصویر میرے ہاتھ میں تھما دی۔

وہ نوٹ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے میں جب بھی اُسے دیکھتا ہوں پرساد کے ساتھ گذرے لمحوں کی یادیں صندل کی لکڑی کی طرح مہکنے لگتی ہیں۔ اُس نے آخری روز گلے ملتے ہوئے مجھے ایک چھوٹا سا گنیش بھی دیا۔ اُس نے کہا یہ ہمارے سب سے قدیم مندر کا ہے اسے لینے کے لےے بہت دور دور سے لوگ آتے ہیں تم اپنے پاس رکھنا تمہاری رکشا کرے گا۔

میں نے جلدی جلدی ایک کاغذ پر حَسبُنَا اللّٰہُ وَ نِعمُ الوَکِیل ۱۵ لکھ کر دے دیا، کہا اِسے تعویذ بنا کر گلے میں پہننا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر بلا تم سے دور رہے گی۔

دُنیا کی طرح ڈھوڈیکے میں بھی ہمارا قیام چار دن کا تھا۔ ان چار دنوں میں یادوں کے اتنے سکے جمع ہو گئے کہ ساری جیبیں بھر گئیں۔ ان سب سِکوں کو میں نے ابھی تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ کسی سکے کو گم نہیں ہونے دیا۔

مجھے یاد ہے ایک شام گاﺅں کے پیڑ کے نیچے بہت سے سکھ بچے جمع ہو گئے تھے۔ میں نے جب ایک بچے کو کاغذ پر اُردو میں اُس کا نام لکھ کر دیا تو اُس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اُسے بار بار دیکھتا پھر تو میرے چاروں طرف بچوں کا جھمگٹا لگ گیا اور سب کے ہاتھ میں کاغذ اور دِل میں نام لکھوانے کی معصوم خواہش۔

نام واحد چیز ہے جس میں ہماری مرضی شامل نہیں ہوتی پھر بھی ہمیں بہت عزیز ہوتا ہے۔ ہمارا نام رکھتے وقت ہم سے مشورہ نہیں کیا جاتا۔ نام کے معاملے میں ہم مکمل طور پر اپنے بڑوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ پھر بھی بڑے ہو کر ہمیں اپنے نام سے کوئی شکوہ کوئی گلہ نہیں ہوتا۔ ہم اپنے نام کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں اُس کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔ ماﺅں کو جب بے ساختہ پیار آتا ہے تو اپنے بچوں کو عجیب عجیب ناموں سے پُکارتی ہیں۔ اُن ناموں میں بڑی مٹھاس ہوتی ہے۔ اُن کا کوئی لفظی مطلب نہیں ہوتا وہ تو صرف محبت سے لبالب بھرے ہوتے ہیں۔

بچپن کا Nick Name بھی ہمیں بہت عزیز ہوتا ہے مگر کچھ لوگ بڑے ہو کر اُسے چُھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے آپ کو اُس سے جُدا کر کے اصل نام سے خود کو جوڑ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور زندگی بھر Nick Name ہی اُن کی پہچان بنتا ہے۔ اگر ہماری ذات میں سے نام نکال دیا جائے تو باقی کچھ بھی نہیں بچتا ہم اپنے بارے میں اگر کچھ جانتے ہیں تو صرف اتنا کہ ہم اپنا نام جانتے ہیں۔ ہم کہاں سے آئے ہیں اور ہمیں کہاں جانا ہے۔ اس کا علم اپنی جگہ مگر حقیقت یہی ہے۔

کون ہوں اس کی کیا خبر مجھ کو

میں تو بس اپنا نام جانتا ہوں

میں کاغذوں پر نام لکھ لکھ کر بچوں میں خوشیاں بانٹ رہا تھا۔ جو خوشی مجھے حاصل ہو رہی تھی اُس کا کوئی نعم البدل نہ تھا۔ آخر میں، میں نے اپنا نام ایک بچے سے گُر مُکھی میں لکھوایا وہ کاغذ بھی اب تک میرے پاس محفوظ ہے۔ میں جب بھی اُس کو نکال کر دیکھتا ہوں تو وہ شام میرے آنگن میں آکر ٹھہر جاتی ہے۔

ستیہ پال ساﺅتھ ایشین فریٹرنٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں۔ جنگل میں منگل اُن کی کوششوں کے دم سے تھا۔ میں جتنے دن وہاں رہا ستیہ جی کو شلوار قمیض میں دیکھا وہ ایک کمرے میں چٹائی پر بیٹھے رہتے۔ سارا انتظام و انصرام اُن کے ذمہ تھا۔ اپنے چہرے کے تاثرات اور چال ڈھال سے بال برابر بھی شائبہ نہ ہونے دیتے کہ وہ اتنے بڑے کیمپ کے منتظم ہیں ہر وقت مطمئن اور شانت رہتے۔ خود بھی ورکر آدمی تھے۔ اس لےے ایک ایک چیز پر اُن کی نظر تھی۔ اُن سے ملاقات کے اوقات مقرر نہ تھے کیمپ کا کوئی بھی Participant اُن کو جب چاہے مِل سکتا تھا۔

وہ ہنس مُکھ، سادہ اور پُررعب شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ کیمپ کا اُسی طرح حِصہ تھے جیسے سب لوگ ہمارے ساتھ اُٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے یہاں تک کہ سونے کے لےے بھی اُن کا کوئی خاص علیٰحدہ سے انتظام نہ تھا ہماری طرح فرشی بستر پر ہی مزے سے سو جاتے۔

میں نے اُن کو چھوٹے چھوٹے کام جو کہ وہ باآسانی حُکم دے کر کرا لیتے بخوشی خود کرتے دیکھا۔ جس دِن شرکاءکو بستر تقسیم ہونے تھے اُنھوں نے ایک ایک بستر اپنے ہاتھ سے دیا اُن کا کیمپ کے ہر Participant سے رابطہ تھا۔ وہ دِن میں ایک بار ضرور سب کا حال احوال پوچھتے۔ کچھ لوگوں کو میں نے ستیہ پال جی کے خلاف باتیں کرتے بھی سُنا۔

ہوتا آیا ہے کہ اچھوں کو بُرا کہتے ہیں

وہ اُن کی میزبانی پر معترض تھے کہ مہمانوں کو اسکول میں نہیں ٹھہرانا چاہئے تھا نیز مہمانوں کو ملنے والے کھانے پر بھی وہ مطمئن نہ تھے اُن کے خیال میں اس سے تنظیم اور انڈیا کی میزبانی پر حرف آیا ہے جس کے ذمہ دار ستیہ پال ہیں۔

اُن کی یہ باتیں مہمانوں کی حمایت میں کم اور ستیہ جی کی مخالفت میں زیادہ تھیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمیں کوئی پریشانی نہ تھی اور ہم سب بڑے مزے سے رہ رہے تھے۔

ستیہ جی کو میں نے کبھی کسی کے خلاف کوئی بات کرتے نہیں سُنا۔

جن کے سامنے بڑا مقصد ہو وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں اُلجھا نہیں کرتے منصور آفاق کا ایک شعر ہے۔

ہر قدم پر کوئی دیوار کھڑی ہونی تھی

میں بڑا تھا مری مشکل بھی بڑی ہونی تھی

ستیہ جی کی مشکل بھی بڑی تھی مگر وہ ایک ایک مشکل کی گِرہ بڑی آسانی سے کھولتے جا رہے تھے۔

جب کوئی شخص اپنے مُلک سے باہر جاتا ہے تو وہ اُس مُلک میں اپنے مُلک کا سفیر ہوتا ہے۔ اُس کی حرکات و سکنات اور قول و فعل پر اُس کے مُلک کی عزت کا دارومدار ہوتا ہے۔

میں بہت دُکھ اور شرمندگی سے یہ بات لکھ رہا ہوں کہ ہم پاکستانی کبھی بھی بہت اچھے سفیر ثابت نہیں ہوئے۔

ہماری زیادہ سے زیادہ قیمت ”امریکی ویزہ“ اور کم سے کم قیمت ”ایک شراب کی بوتل“ لگانے والے ہمارے دشمن کچھ زیادہ غلط بھی نہیں ہیں۔ ہم نے اپنے قول و فعل سے ثابت بھی کیا ہے کہ ہم ان چیزوں کے لےے بکنے کو تیار ہیں۔

یہاں بھی میں نے زیادہ تر پاکستانیوں کو ہی انگور کی بیٹی کا غلام پایا۔ یوں لگتا تھا اک گونہ بے خودی اُنھیں دن رات چاہےے۔ ایسا دکھائی دیتا تھا جیسے سب ہی زندگی سے بھاگ کر آئے ہوں۔ کُچھ نے تو بوتل کو گلے لگا لیا تھا اور کچھ….

اے مری ہم رقص مجھ کو تھام لے

کی درخواست ہاتھوں میں لےے پھرتے تھے۔

شاعر تو بہت تھے۔ مشاعرہ صرف ایک دن ہوا۔ وہ بھی بے وزن شاعر کی صدارت میں۔ ستیہ جی اس معاملے میں بھی ”سیّانے“ نکلے۔ روزانہ مشاعرہ کراتے تو باقی شرکاءکیمپ چھوڑ کر بھاگ جاتے۔

اسٹیج پر مشاعروں کے شایانِ شان فرشی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ عقبی دیوار کے بینر پر لکھا تھا: ”ہم تمام معزز کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں“۔ ہمیں شاعروں کو کھلاڑی لکھنے پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ ایک تو اُ س سے پہلے معزز لکھا ہوا تھا دوسرا ہم میں سے ہر شخص کسی نہ کسی گیم کا کھلاڑی تو تھا ہی۔

بائیس شعراءاپنے اپنے کلام کے انتخاب میں مشغول تھے۔ سامعین کی کثیر تعداد بھی موجود تھی جیسا کہ ہر پروگرام میں ہوتی تھی۔

صدارت کے لےے محمد صدیق ندیم کا انتخاب ہوا۔ گوجرانوالہ میں ایڈووکیٹ ہیں۔ لاہور کے کسی اخبا رمیں کالم لکھتے ہیں۔ ان کا شمار اُن کالم نگاروں میں ہوتا ہے جنھیں بتانا پڑتا ہے بلکہ بطور ثبوت اکثر اوقات اخبار بھی دکھانا پڑتا ہے کہ وہ کالم نگار ہیں۔

جس اعتماد سے بے وزن شعر کہتے ہیں اُسی اعتماد سے سُناتے بھی ہیں۔ اُن کے چہرے کے تاثرات سے لگ رہا تھا جیسے مشاعرہ اُن کی صدارت کے شایانِ شان نہ تھا۔ اُن کے سفید بالوں کا بھرم رکھا گیا جو مہنگا پڑ رہا تھا۔

مشاعرہ بہت کامیاب رہا افضل ساحر، انجم سلیمی، عابد گوندل، طارق گجر، عنایت اللہ عاجز، بشریٰ حزیں، شفیق انصاری اور بندئہ ناچیز نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خوب داد سمیٹی۔ مشاعرے کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار سامعین پر ہوتا ہے۔ اس مشاعرہ میں بھی سامعین نے ہر شاعر کے ہر شعر پر اس طرح دِل کھول کر داد دی کہ اُن کی شعر فہمی مشکوک اور مشاعرے کی کامیابی یقینی ہو گئی۔

افضل ساحر اپنی موج اور اپنی ترنگ میں رہنے والا شاعر ہے۔ اُس نے پنجابی شاعری کی روایت کو صرف چکھا نہیں بلکہ ہضم بھی کیا ہے۔ جدید پنجابی نظم کے اچھے شاعروں میں اُس کا شمار ہوتا ہے۔ بن پےے مدہوش اورمستی میں ہوشیار رہنے والے افضل ساحر کا ظاہر، باطن ایک ہے۔ وہ جیسا ہے ویسا نظر بھی آتا ہے۔ فی زمانہ یہ بہت بڑی بات ہے اُس کی رفاقت میں بندہ بور نہیں ہوتا، انڈیا میں اُس کی کمپنی کسی میل (Male) کو میسّر نہ آسکی۔

انجم سلیمی بھی اُردو اور پنجابی کا بہت اچھا شاعر ہے۔ اُس کا ادبی رسالہ ”خیال“ انڈو پاک میں دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے۔ اُس کے ادارے ہم خیال نے نہایت سلیقے سے ادبی کُتب شائع کی ہیں۔

عابد گوندل شاعر، صحافی اور ڈرامہ رائٹر ہے۔ جہانزیب بلاک اقبال ٹاﺅن میں ہم کچھ عرصہ اکٹھے رہتے رہے تھے۔ اُن دنوں یہ صرف صحافی تھا۔ پبلشنگ کا ادارہ بند کیے اور شاعری چھوڑے اسے چند ماہ گذرے تھے۔ یوسف بلوچ، افضل ساحر اور نثار اے سنی کی طرح عابد گوندل بھی پہلے کئی بار انڈیا آچُکا تھا اس لےے یہ سب اپنے اپنے تجربے کے مطابق شاٹس کھیل رہے تھے۔

نثار اے سنی دراز قد ہونے کے باوجود نہایت سمجھدار، ذمہ دار اورہوشیار آدمی ہے۔ اُس کا پہلا اور آخری شوق سیاحت ہے۔ کئی ملکوں میں آوارہ گردی کر چُکا ہے۔ ہمارے وفد کے دفتری معاملات اُس کے سپرد تھے۔ ہمیں آگرہ کا ویزہ دلانا اُس کا کارنامہ تھا ورنہ دہلی سے واپس لوٹنا پڑتا اور زندگی کا سب سے بڑا سپنا شرمندئہ تعبیر نہ ہوتا۔

تھینک یو سنی۔

طارق گجر پنجابی کا خوبصورت شاعر ہے وہ اپنے بزرگوں کی جنم بھونی پر اشک بہانے کے لےے اس وفد میں شریک تھا۔

عنایت اللہ عاجز سے تعارف مشاعرہ کے دوران ہوا۔ پتہ چلا کئی شعری مجموعوں کے خالق ہیں۔ شفیق انصاری کے متعلق میں اپنی رائے محفوظ رکھتا ہوں۔ بشریٰ حزیں کا ذکر ہو چکا ہے مشاعرہ میں باقی مُلکوں کے شعراءنے بھی کلام سُنایا خاص کر مجھے میانمار کا شاعر نہیں بھولتا جس کی زبان کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی اور وہ اپنی شاعری کا ترجمہ اشاروں سے کر کے سمجھانے کی کوششیں کرتا تو عجیب سی مزاحیہ صورتحال بن جاتی اور سب لوگوں کا ہنس ہنس کے بُرا حال ہو جاتا۔

مشاعرے کے بعد شعراءمیں اسناد تقسیم کی گئیں۔

دو لڑکیوں نے میرے ساتھ تصویر کھنچوانے کی خواہش ظاہر کی جسے میں نے بغیر کسی تردّد کے قبول کر لیا ان میں ایک پنکی سائیکا تھی۔

 اُس سے مل کر ہوا معلوم کہ جادو کیا ہے

اُس کی آواز میں واقعی جادو تھا۔ وہ آسام میں ریڈیو کمپئر تھی اُس نے اپنے متعلق کچھ زیادہ نہیں بتایا۔ اور نہ ہی میں نے جاننے کی کوشش کی۔ اگلی صبح ناشتے کے بعد لوٹے تو اسکول کے گراﺅنڈ میں حیران کر دینے والا منظر تھا۔ تمام گاﺅں کے مرد اور عورتیں اکٹھے تھے۔ اُنھوں نے نہایت صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اُن کی آنکھیں خوشی سے چمک رہیں تھیں۔ عید کا سماں تھا۔ پتہ چلا گاﺅں والے ہماری خاطر آئے ہوئے ہیں۔ بضد ہیں کہ اُنھیں بھی میزبانی کا شرف حاصل ہونا چاہےے۔

مگر کیسے؟

بذریعہ قرعہ اندازی سب شرکاءکو گاﺅں والوں میں بانٹ دیا گیا۔ طریقہ بہت دلچسپ تھا۔ ہر صوبے اور ملک کی علیٰحدہ علیٰحدہ ٹوکری میں شرکاءکے نام کی پرچیاں تھیں۔ میزبان جوڑی (میاں، بیوی) اسٹیج پر آتے اور ایک ایک کر کے سات پرچیاں اُٹھا لیتے۔ نام پکارتے جاتے۔ وہ سات لوگ بھی اسٹیج پر آجاتے۔ میزبان اُن کو لے کر اپنے گھر چلے جاتے۔

بڑا کمال کا آئیڈیا تھا مگر اس میں قباحت یہ تھی کہ اپنی مرضی شامل نہ تھی۔ ہر شخص قسمت کے رحم و کرم پہ تھا۔ میں نے بہت دُعا مانگی پلّاوی ہمارے گروپ میں ہو مگر ہمیشہ کی طرح اس بار بھی آدھی دُعا عرش تک پہنچی آدھی پہلے، دوسرے یا تیسرے آسمان میں کہیں اٹک گئی۔ اُس کا بھائی مہتہ ہمارے گروپ میں تھا۔

منیاپور کی رنجیتا دیوی اور اڑیسہ کی شُرتی ہمارے حِصے میں آئیں دونوں کی عمریں اٹھارہ سال سے کم تھیں مگر پھر بھی اُن کو دیکھ کے یوں لگتا تھا جیسے ہمارے ساتھ ”دھاندلی“ ہوئی ہو۔

راجندر سنگھ بیدی نے کہیں لکھا ہے کہ لڑکی جتنی بدصورت ہو عمر کے کِسی حصے میں خوبصورت ضرور لگتی ہے اور لڑکا جیسا بھی گیا گذرا ہو شاعری ضرور کرتا ہے ہم تو شاعر بن گئے تھے البتہ اُن کی عمر کا وہ حِصہ جن میں اُنھوں نے خوبصورت لگنا تھا شاید کسی اور کے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔ قسمت کی عدالت بھی کیسی عدالت ہے نہ اپیل نہ شنوائی۔

مہتہ کے علاوہ کشمیر کا یوگیش شرما اور دو تین لڑکے آسام اور کیرالہ سے تھے اب مجھے اُن کے نام یاد نہیں آرہے۔ یوگیش شرما صحافی تھا۔ کشمیری تھا مگر لگتا نہ تھا یا پھر مجاہدین کے خوف سے اُس کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ اُڑیسہ کا نوجوان اُس سے صحت مند دکھائی دیتا تھا۔ جو کچھ بھی تھا یوگیش کی باتیں بہت مزے کی تھیں لڑکیوں کے علاوہ کسی Topic پر بات کرنا گناہ سمجھتا تھا۔

پھر بھی ہم نے کشمیر کا مسئلہ اور دِل کا مسئلہ سامنے رکھ کے جی بھر کے باتیں کیں۔

مہتہ کم گو اور اپنے آپ میں گم رہنے والا تھا۔ جب بھی بولتا خوب ناپ تول کر بولتا اور بات ختم کر کے اس طرح مُسکراتا کہ اُس کی بات کا لطف دوبالا ہو جاتا۔

ہمارے میزبان سردار جی ٹیچر تھے۔ اُن کا بڑا بیٹا بھی اسکول ٹیچر تھا، گاﺅں کے ساتھ ہی اُن کا رقبہ تھا۔ بہو بیٹیاں، اُن کے بچے، اچھا خاصا کُنبہ تھا۔ سب ہی محبت کرنے والے تھے۔

اُنھوں نے میزبانی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اُس روز پہلی بار احساس ہوا کہ پنجاب کے کسی گاﺅں میں آئے ہوئے ہیں۔ لسی، ساگ، دیسی گھی، مکھن صرف کمی تھی تو پلاوی کی۔

سردار جی نے اپنی خاندانی روایت کے مطابق ہمیں نئے کپڑے کے پگ باندھے اور تھوڑی دیر کے لےے ہم بھی سردار بن گئے۔

آئینہ دیکھنا چاہا مگر چھوٹا نکلا سر اور چہرہ مکمل نظر نہ آیا۔ لڑکیوں نے ہمارا یہ روپ دیکھا تو دیکھتی رہ گئیں۔ مگر ہم سے اُن کا اس طرح دیکھنا دیکھا نہ گیا۔

سارا دن بڑے مزے کا گزرا خوب گپ شپ رہی، ڈھیر ساری باتیں ہوئیں، لطیفے سُنائے گئے۔ جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تو اچانک تاج محل کے خیال نے ملول کر دیا یوں لگا جیسے میں اپنی منزل بھول کر جنگل میں کھو گیا ہوں، پھر یہ سوچ کر دِل مطمئن ہو گیا کہ اسی جنگل میں کہیں پلّاوی بھی ہے۔

سفر میں جو منظر ہمیں اچھا لگتا ہے۔ ہم وہاں تھوڑی دیر ٹھہرتے ہیں۔ اُس کی خوبصورتی اپنی آنکھوں میں بھرتے ہیں اور پھر چل پڑتے ہیں۔ اُس منظر کا ہمیشہ ہمیشہ کے لےے حِصہ نہیں بنتے۔

اسی طرح سفر میں اچانک کوئی خوبصورت چہرہ سامنے آجاتا ہے تو اُس کو دیکھ کر بھی ہم تھوڑی دیر کے لےے اپنا سفر اپنی منزل بھول جاتے ہیں۔ میں بھی پلّاوی کی موجودگی میں تھوڑی دیر کے لےے تاج محل کو بھول گیا تھا۔ میرا دِل ڈھوڈیکے گاﺅں میں اٹک گیا تھا۔

میں جانتا تھا۔

پڑاﺅ مختصر ہے۔

بچھڑنے کی گھڑی جلد آنے والی ہے۔

جدائی کا دِن قریب ہے۔

پھر بھی میں….

—–٭٭٭—–

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفر کاغان : اعجازالحق عثمانی

سفرنامہ: سفر کاغان سفرنامہ نگار: اعجازالحق عثمانی کے۔پی۔کے ” کے ہزارہ ڈویژن میں واقع وادی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے