سر ورق / Uncategorized / بھولا رام کی روح۔۔۔ری شنکر پرسائی/عامر صدیقی

بھولا رام کی روح۔۔۔ری شنکر پرسائی/عامر صدیقی

بھولا رام کی روح

 ہری شنکر پرسائی/عامر صدیقی

ہندی کہانی

………………..

ہری شنکر پرسائی،پیدائش ۲۲ اگست ،۴۲۹۱ ئ، جمانی، ہوشنگ آباد، مدھیہ پردیش، بھارت۔کچھ اہم تخلیقات:ہنسنا روتے ہیں ،جیسے ان کے دن پھرے، ملکہ ناگ پھنی کی کہانی،تٹ کی تلاش،جوالا اور جل، ترچھی ریکھائیں۔ ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈز سمیت کئی اہم ایوارڈز اور اعزازات سے نوازا گیا۔انتقال ۰۱ اگست ،۵۹۹۱ ئ۔

…………

ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

 دھرم راج لاکھوں برسوں سے ہزارہا آدمیوں کو اعمال اور سفارش کی بنیاد پر جنت، جہنم کی رہائش گاہ کی جگہ ”الاٹ“کرتے آ رہے تھے۔ پر ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔

سامنے بیٹھے چترگپت بار بار چشمہ پونچھ کے، بار بار تھوک سے صفحے پلٹ پلٹ کے، رجسٹر پر رجسٹر دیکھ رہے تھے۔ غلطی پکڑ میں ہی نہیں آ رہی تھی۔ آخر انہوں نے دیکھ کر رجسٹر اتنے زور سے بند کیا کہ مکھی زد میں آ گئی۔ اسے نکالتے ہوئے وہ بولے،”مہاراج، ریکارڈ سب ٹھیک ہے۔ بھولارام نامی روح نے پانچ دن پہلے بدن کو چھوڑا اوریم دُوت کے ساتھ اس لوک کےلئے روانہ بھی ہوا، پر یہاں ابھی تک نہیں پہنچا۔“

 دھرم راج نے پوچھا،”اور وہ یم دُوت کہاں ہے؟“

”مہاراج، وہ بھی لاپتہ ہے۔“

اسی وقت دروازے کھلے اور ایک یم دُوت بڑا بدحواس سا وہاں آیا۔ اس کامنفرد بدصورت چہرہ درد، پریشانی اور خوف کی وجہ سے اور بھی بگڑ گیا تھا۔ اسے دیکھتے ہی چترگپت چلا اٹھے،”ارے، تو کہاں رہا اتنے دن؟ بھولارام نامی روح کہاں ہے؟“

 یم دُوت ہاتھ جوڑ بولا،”دیاندھان، میں کیسے بتلاﺅں کہ کیا ہو گیا۔ آج تک میں نے دھوکہ نہیں کھایا تھا، پر بھولارام نامی روح مجھے چکما دے گئی۔ پانچ دن پہلے جب روح نے بھولا رام کے بدن کو چھوڑا، تب میں نے اسے پکڑ لیا اور اس لوک سفر کا آغاز کیا۔ شہر کے باہر جیسے ہی میں اسے لے کر ایک تیز فضائی لہر پر سوار ہوا تبھی وہ میرے چنگل سے چھوٹ کر نہ جانے کہاں غائب ہو گیا۔ ان پانچ دنوں میں، میں نے ساری کائنات چھان ماری، پر اس کا کہیں پتہ نہیں چلا ۔“

موت کے فرشتے نے سر جھکا کر کہا،”مہاراج، میری احتیاط میں بالکل کسر نہیں تھی۔ میرے ان ماہر ہاتھوں سے، اچھے اچھے وکیل بھی نہیں چھٹ سکے۔ پر اس بار تو کوئی کرشمہ ہی ہو گیا۔“

چترگپت نے کہا،”مہاراج، آج کل زمین پر اس طرح کا کاروبار بہت چلا ہے۔ لوگ دوستوں کو کچھ چیز بھیجتے ہیں اور اس راستے میں ہی رےلوے والے اڑا لیتے ہیں۔ہوزری کے پارسلوں کے موزے ریلوے افسر پہنتے ہیں۔ مال گاڑی کے ڈبے کے ڈبے راستے میں کٹ جاتے ہیں۔ ایک بات اور ہو رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنما مخالف لیڈر کو اڑا کر بند کر دیتے ہیں۔ کہیں بھولارام کی روح کو بھی تو کسی مخالف کے مرنے کے بعد درگت بنانے کےلئے نہیں اڑا دیا؟“

 دھرم راج نے طنزیہ انداز سے چترگپت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،”تمہاری بھی ریٹائر ہونے کی عمر آ گئی۔ بھلا بھولارام جیسے غیر اہم اور خستہ حال آدمی سے کسی کو کیا لینا دینا؟“

اسی وقت کہیں گھومتے گھامتے نارد مُنی وہاں آ گئے۔ دھرم راج کو گم صم بیٹھے دیکھ بولے،”کیوں دھرم راج ،کیسے فکر مند بیٹھے ہے؟ کیا جہنم میں رہائش کی جگہ کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا؟“

 دھرم راج نے کہا،”وہ مسئلہ تو کبھی کا حل ہو گیا۔ جہنم میں پچھلے سالوں سے بڑے نیک کاریگر آ گئے ہیں۔ کئی عمارتوں کے ٹھیکیدار ہیں، جنہوں نے پورے پیسے لے کر ردی عمارتوں بنائیں۔ بڑے بڑے انجینئر بھی آ گئے ہیں، جنہوں نے ٹھیکیداروں سے مل کر پنجسالہ منصوبوں کا پیسہ کھایا۔ اوورسیرز ہیں، جنہوں نے ان مزدوروں کی حاضری بھر کر پیسہ ہڑپا، جو کبھی کام پرگئے ہی نہیں۔ انہوں نے بہت جلد ہی جہنم میں بہت عمارتوں تعمیر کر دی ہیں۔ وہ مسئلہ تو حل ہوگیا، پر ایک بڑی ڈراﺅنی الجھن آ گئی ہے۔ بھولارام نام کے ایک آدمی کی پانچ دن پہلے موت ہوئی۔ اس کی روح کویہ یم دُوت یہاں لا رہا تھا کہ روح اسے راستے میں چکما دے کر بھاگ گئی۔ اس نے ساری کائنات چھان ماری، پر وہ کہیں نہیں ملی۔ اگر ایسا ہونے لگا، تو گناہ ثواب کا فرق مٹ جائے گا۔“

 نارد مُنی نے پوچھا،”اس پر انکم ٹیکس کے تو بقایا جات نہیں تھے؟ ہو سکتا ہے، ان لوگوں نے روک لیا ہو۔“

چترگپت نے کہا،”انکم ہوتی تو ٹیکس ہوتا۔ بھک مراتھا۔“

 نارد مُنی بولے،”معاملہ بڑا دلچسپ ہے۔ اچھا مجھے اس کا نام، پتہ تو بتاﺅ۔ میں زمین پر جاتا ہوں۔“

چترگپت نے رجسٹر دیکھ کر بتایا،”بھولارام نام تھا اس کا۔ جبل پور شہر میں گھماپور محلے میں نالے کے کنارے ایک ڈیڑھ کمرے کے ٹوٹے پھوٹے مکان میں وہ گھر والوں سمیت رہتا تھا۔ اس کی ایک عورت تھی، دو لڑکے اور لڑکی۔ عمر تقریبا ًساٹھ سال۔ سرکاری نوکر تھا۔ پانچ سال پہلے ریٹائر ہو گیا تھا۔ مکان کا کرایہ اس نے ایک سال سے نہیں دیا، اس لیے مالک مکان اسے نکالنا چاہتا تھا کہ اتنے میں بھولارام نے دنیا کوہی چھوڑ دیا۔ آج پانچواں دن ہے۔ بہت ممکن ہے کہ اگر مالک مکان اصل مکان مالک ہے، تو اس نے بھولارام کے مرتے ہی، اس کے گھر والوں کو باہر نکال دیاہو گا۔ لہٰذا آپ کو تلاش میں کافی چلنے پڑے گا۔“

ماں بیٹی کے انداز سے ہی نارد مُنی، بھولارام کا مکان پہچان گئے۔

دروازے پر جا کر انہوں نے آواز لگائی،”نرائن، نرائن۔“

لڑکی نے دیکھ کر کہا،” آگے بڑھو مہاراج۔“

نارد نے کہا،”مجھے بھیک نہیں چاہئے؛ مجھے بھولارام کے بارے میں کچھ پوچھ گچھ کرنی ہے۔ اپنی ماں کو ذرا باہر بھیجو، بیٹی۔“

بھولارام کی بیوی باہر آئی۔ نارد نے کہا،”ماں، بھولارام کو کیا بیماری تھی؟“

”کیا بتاوں؟ غربت کی بیماری تھی۔ پانچ سال ہو گئے، پنشن پر بیٹھے، پر پنشن ابھی تک نہیں ملی۔ ہر دس پندرہ دن میں ایک درخواست دیتے تھے، پر وہاں سے یا تو جواب آتا ہی نہیں تھا اور آتا، تو یہی کہ تمہاری پنشن کے معاملے پر غور ہو رہا ہے۔ ان پانچ سالوں میں سب گہنے بیچ کر ہم لوگ کھا گئے۔ پھر برتن بکے۔ اب کچھ نہیں بچا تھا۔ فاقے ہونے لگے تھے۔ فکر میں گھلتے گھلتے اور بھوک سے مرتے مرتے انہوں دم توڑ دیا۔ ”

نارد نے کہا،” کیا کرو گی ماں؟ ان کی اتنی ہی عمر تھی۔“

”ایسا تو نہ کہو،مہاراج۔ عمر تو بہت تھی۔ پچاس ساٹھ روپیہ مہینہ پنشن ملتی تو کچھ اور کام کہیں کرکے گزارا ہو جاتا۔پر کیا کریں؟ پانچ سال نوکری سے بیٹھے ہو گئے اور ابھی تک ایک کوڑی نہیں ملی۔“

دکھ بھری کہانی سننے کی فرصت نارد کو تھی نہیں۔ وہ اپنے مدعے پر سیدھے آئے،”ماں یہ تو بتاﺅ کہ یہاں کسی سے انکی خاص محبت تھی، جس میں ان کا جی لگا ہو؟“

بیوی بولی،”لگاﺅ تو مہاراج، بال بچوں سے ہی ہوتا ہے۔“

”نہیں، خاندان کے باہر بھی ہو سکتا ہے۔ میرا مطلب ہے، کسی عورت سے۔ “

عورت نے غراکر نارد کی طرف دیکھا۔ بولی،”کچھ مت بکو مہاراج۔ آپ سادھو ہو، اچکے نہیں ہو۔ زندگی بھر انہوں نے کسی دوسری عورت کو آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا۔“

نارد ہنس کر بولے،” ہاں ، تمہارا یہ سوچنا ٹھیک ہی ہے۔ یہی ہر اچھی گرہستی کی بنیاد ہے۔ اچھا، ماں میں چلا۔“

عورت نے کہا،”مہاراج، آپ تو سادھو ہیں، نیک مرد ہے۔ کچھ ایسا نہیں کر سکتے کہ ان کی رکی ہوئی پنشن مل جائے۔ان بچوں کا پیٹ کچھ دن بھر جائے۔“

نارد کو رحم آ گیا تھا۔ وہ کہنے لگے،”سادھووں کی بات کون مانتا ہے؟ میرا یہاں کوئی مٹھ تو ہے نہیں۔ پھر بھی میں سرکاری دفتر میں جاوں گا اور کوشش کروں گا۔“

وہاں سے چل کر نارد سرکاری دفتر میں پہنچے۔ وہاں پہلے ہی سے کمرے میں بیٹھے بابو سے انہوں نے بھولارام کے کیس کے بارے میں باتیں کیں۔ اس بابو نے انہیں بغور دیکھا اور بولا،”بھولارام نے درخواستےں تو بھیجی تھیں، ان پر وزن نہیں رکھا تھا، تو کہیں اڑ گئی ہوں گی۔“

نارد نے کہا،”بھئی، یہ بہت سے ”پیپر ویٹ“ تو رکھے ہے۔ انہیں کیوں نہیں رکھ دیا؟“

بابو ہنسا۔ ”آپ سادھو ہیں، آپ کو دنیاداری سمجھ میں نہیں آتی۔ درخواستےں ”پیپر ویٹ“سے نہیں دبتیں۔خیر، آپ اُس کمرے میں بیٹھے بابو سے ملیں۔“

نارد اس بابو کے پاس گئے۔ اس نے تیسرے کے پاس بھیجا، تیسرے نے چوتھے کے پاس، چوتھے نے پانچویں کے پاس۔ جب نارد پچیس تیس بابوو ¿ں اور افسروں کے پاس گھوم آئے، تب ایک چپراسی نے کہا،”مہاراج، آپ کیوں اس گندگی میں پڑ گئے۔ آپ اگر سال بھر بھی یہاں چکر لگاتے رہیں تو بھی کام نہیں ہو گا۔ آپ تو سیدھے بڑے صاحب سے ملیں۔ انہیں خوش کر لیا، تو ابھی کام ہو جائے گا۔“

نارد بڑے صاحب کے کمرے میں پہنچے۔ باہر چپراسی اونگھ رہا تھا، اس لئے انہیں کسی نے چھیڑا نہیں۔ بغیر ”وزیٹنگ کارڈ“ کے آیا دیکھ کر، صاحب بڑے ناراض ہوئے۔ بولے،”اسے مندر وندر سمجھ لیا ہے کیا؟ دھڑدھڑاتے چلے آئے۔ چٹ کیوں نہیں بھیجی؟“

نارد نے کہا،”کیسے بھیجتا؟ چپراسی سو رہا ہے۔“

”کیا کام ہے؟“صاحب نے رعب سے پوچھا۔

نارد نے بھولارام کا پنشن کیس بتلایا۔

صاحب بولے،”آپ ہیں بیراگی۔ دفتروں کے رسم و رواج نہیں جانتے۔ اصل میں بھولارام نے غلطی کی۔ بھئی، یہ بھی ایک مندر ہے۔ یہاں بھی دان پنیہ کرنا پڑتا ہے۔ آپ بھولارام کے رشتہ دار معلوم ہوتے ہے۔ بھولارام کی درخواستےں اڑ رہی ہیں، ان پر وزن رکھیئے۔“

نارد نے سوچا کہ پھر یہاں وزن کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ صاحب بولے،”بھئی، سرکاری پیسے کا معاملہ ہے۔ پنشن کا کیس بیسوں دفتروں میں جاتا ہے۔ دیر لگ ہی جاتی ہے۔ بیسوں بار ایک ہی بات کو بیس جگہ لکھنا پڑتا ہے، تب پکی ہوتی ہے۔ جتنی پنشن ملتی ہے، اتنے ہی کی اسٹیشنری لگ جاتی ہے۔ ہاں ، جلدی بھی ہو سکتا ہے، مگر۔“صاحب رکے۔

نارد نے کہا،”مگر کیا؟“

صاحب نے ٹیڑھی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،”مگر وزن چاہئے۔ آپ سمجھے نہیں۔ جیسے آپ کا یہ خوبصورت ستار ہے، اس کا بھی وزن بھولارام کی درخواست پر رکھا جا سکتا ہے۔ میری لڑکی گانا بجانا سیکھتی ہے۔ یہ میں اسے دے دوں گا۔ سادھو سنتوں کے ستار سے تو اور اچھے سر نکلتے ہیں۔“

نارد اپنے ستار چھنتے دیکھ ذرا گھبرائے۔ پر پھر سنبھل کر انہوں ستار ٹیبل پر رکھ کر کہا،”یہ لیجئے۔ اب ذرا جلدی اس پنشن کا آرڈر نکال دیجئے۔“

صاحب نے خوشی سے انہیں کرسی دی، ستار کو ایک کونے میں رکھا اور گھنٹی بجائی۔ چپراسی حاضر ہوا۔

صاحب نے حکم دیا،”بڑے بابو سے بھولارام کے کیس کی فائل لاو ¿۔“

تھوڑی دیر بعد چپراسی بھولارام کی سو ڈیڑھ سو درخواستو ںسے بھری فائل لے کر آیا۔ اس میں پنشن کے کاغذات بھی تھے۔ صاحب نے فائل پر نام دیکھا اور اطمینان کرنے کےلئے پوچھا،”کیا نام بتایا سادھو جی آپ نے؟“

نارد سمجھے کہ صاحب کچھ اونچا سنتا ہے۔ لہٰذا زور سے بولے،”بھولارام۔“

اچانک فائل میں سے آواز آئی،”کون پکار رہا ہے۔ مجھے؟ ڈاکیا ہے؟ کیا پنشن کا آرڈر آ گیا؟“

نارد چونکے۔ پر دوسرے ہی لمحے بات سمجھ گئے۔ بولے،”بھولارام۔ تم کیا بھولارام کی روح ہو؟“

” ہاں ۔“آواز آئی۔

نارد نے کہا،”میں نارد ہوں۔ میں تمہیں لینے آیا ہوں۔ چلو، جنت میں تمہارا انتظار ہو رہا ہے۔“

آواز آئی،”مجھے نہیں جانا۔ میں تو پنشن کی درخواستو ںمیں اٹکا ہوں۔ یہیں میرا دل لگا ہے۔ میں اپنی درخواستےں چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔“

(اختتام)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہم کہ ٹھہرے اجنبی…عاصمہ نورین

ہم کہ ٹھہرے اجنبی عاصمہ نورین "تم مجھے بہت اچھے لگنے لگ گئے ہو ہاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے