سر ورق / ناول / بلاوا۔۔خورشید پیرزادہ۔۔قسط نمبر 1

بلاوا۔۔خورشید پیرزادہ۔۔قسط نمبر 1

بلاوا

خورشید پیرزادہ

قسط نمبر 1

”ابے یہ کیا تھا؟-“ روہن نے اچانک ہی آس پاس کی گھنی جھاڑیوں سے اپنی اچھل کر آتے گلہری نما جانور کو دیکھ کر تیزی سے ایک طرف ہوتے ہوئے کہا- گلہری نما جانورجس طرح سے اچھلی تھی اس سے یہی ظاہر ہورہا تھا وہ ان پر حملہ کرنا چاہتی تھی- ”تو نے اس کے دانت دیکھے؟-“— دس دس فٹ لمبی چھلانگ لگاتے ہوئے وہ جانور دوسری طرف کی جھاڑیوں میں کھو گیا- دونوں کچھ پل کے لئے وہیں کھڑے ہوکر اس عجیب و غریب گلہری کو آنکھوں سے اوجھل ہوتے دیکھتے رہے- اور پھر سے اپنی انجان منزل کی طرف بڑھنے لگے-

” اف کہاں لے آیا یار–؟ کتنا سناٹا ہے یہاں- یہاں تو نہ آدم نہ آدم زاد- کتنا عجیب سا لگ رہا ہے یہاں سب کچھ- تجھے لگتا ہے کہ یہاں تیری نیرو مل جائے گی؟—- دیکھ مجھے تو لگتا ہے کہ کسی نے تجھے الو بنایا ہے- کیوں بلاوجہ اپنے ساتھ میری بھی رات برباد کر رہا ہے— چل واپس چلتے ہیں-“ نتن نے یہ کہتے ہوئے حفاظت کے ارادے سے ریوالور نکال کر ہاتھ میں لے لیا-

”ایسی بات نہیں ہے یار— وہ یہیں رہتی ہے آس پاس- دیکھنا- کوشش کریں گے تو وہ ہمیں ضرور مل جائے گی- اگر وہ نہ ملی تو میں پاگل ہوجاﺅں گا یار-“ روہن نے آگے قدم بڑھاتے ہوئے کہا- اس کے آگے نتن بہت چوکنا ہو کر چل رہا تھا- چوکنا ہونا لازمی بھی تھا- جہاں اس وقت وہ تھے اس جگہ کے آس پاس کوئی شہر یا گاﺅں نہیں تھا- ہر طرف سناٹے کی بھیانک چادر پھیلی ہوئی تھی- اس سناٹے میں اگر ان دونوں کے علاوہ کوئی آواز تھی تو وہ تھی جھینگروں اور مینڈکوں کے ٹرٹرانے کی اور رہ رہ کر جھاڑیوں کے اندر کچھ رینگنے کی- دور دور تک کسی بھی قسم کی روشنی کا نام و نشان تک نہیں تھا- بس آدھے چاند اور ٹمٹماتے ہوئے تاروں کی مدھم سی روشنی تھی جو ان کو راستہ دکھا رہی تھی-

راستہ بھی ایسا جو نہ ہونے کے برابر تھا- کہیں اونچا- کہیں نیچا- بیچ بیچ میں گہرے گہرے گڑھے- اتنے گہرے کہ دھیان سے نہ چلا جائے تو اچانک پورا آدمی ہی ان میں غائب ہوجائے- راستے کے دونوں طرف چار چار فٹ اونچی جھاڑیاں تھیں-

”یار راستہ صاف ہوتا تو گاڑی ہی لے آتے- تجھے کیا لگتا ہے؟— یہاں پر کوئی انسان رہتا ہوگا— اور وہ بھی لڑکی- سچ بتانا ‘ خود تجھے ڈر نہیں لگ رہا یہاں کا ماحول دیکھ کر- “ نتن نے چلتے چلتے روہن سے سوال کیا-

”ڈر لگ رہا ہے تبھی تو تمہیں ساتھ لے کر آیا ہوں- نہیں تو میں اکیلا ہی نہ چلا آتا-“ روہن نے جواب دیا- اور اچانک ہی اچھل پڑا-” نتن دیکھ آگے پکی سڑک دکھائی دے رہی ہے—میں نہ کہتا تھا— ہم ضرور کامیاب ہوں گے— آگے ضرور کوئی بستی ملے گی— دیکھ لینا-“

”ابے بستی کے بچے– اس سے کوئی ڈھنگ کا راستہ بھی تو پوچھ سکتا تھا تُو- آخر وہ لوگ بھی تو شہر آتے جاتے ہوں گے؟-“ نتن کو بھی آگے کا راستہ پچھلے راستے کے مقابلے بہتر دیکھ کر کچھ امید سی بندھی-

”یا رکیا کروں- جب یہی ایک راستہ بتایا اس نے-“ روہن نے تیزی سے چلنا شروع کر چکے نتن کے قدموں سے قدم ملاتے ہوئے کہا-

”عجیب محبوبہ ہے تیری- ایک تو رات میں ملنے کی ضد کر بیٹھی او ر اوپر سے راستہ بھی ایسا بتایا— چل دیکھ – ہم پہنچنے ہی والے ہیں— ادھر لائٹ دکھائی دے رہی ہے-“ نتن نے اپنی بائیں طرف ہاتھ اٹھا کر اشارہ کرتے ہوئے کہا-

دونوں بائیں طرف مڑے ہی تھے کہ اچانک ٹھٹھک گئے-”یہاں تو پانی ہے یار-“ روہن نے اپنے قدم واپس کھینچتے ہوئے کہا-

”ہوں– کوئی تالاب لگتا ہے- چل آگے سے راستہ ہوگا-“ نتن نے روہن سے کہا اور دونوں پھر سے سیدھے راستے پر چل پڑے- کچھ آگے جاکر ان کو ایک پگڈنڈی سی بائیں جانب جاتی دکھائی دی- دونوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اس راستے پر اتفاق کیا اور اس طرف بڑھنے لگے-

”ابے تیری ماں کی آنکھ– یہاں تو کیچڑ ہے- چل واپس چل- یہ راستہ نہیں ہے-“ دل ہی دل میں نتن اس لڑکی کو سو صلواتیں سنارہا تھا جس کے پیار میں پاگل روہن اپنے ساتھ ساتھ اس کی بھی درگت بنا رہا تھا-

”یار آدھا راستہ تو آہی چکے ہیں- آگے چل کر تالاب میں پیردھو لیں گے-“ روہن نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا-”اب وہ لائٹ بھی نزدیک ہی دکھائی دے رہی ہے-“

”چل سالے– اگر پھر بھی لڑکی نہیں ملی تو دیکھ لینا- ایسی بکواس جگہ میںنے آج تک نہیں دیکھی-“ بڑبڑاتے ہوئے نتن پھر سے روہن کے آگے آگے چلنے لگا-

”دیکھی کیوں نہیں ہے- تُو تو ماسٹر ہے ایسے ٹھکانوں کا- آدھی زندگی تو تُو نے جنگلوں میں ہی گزاری ہے— مجھ پر احسان کرنے کے لئے بول رہا ہے کیا؟-“ روہن نے اس پر پھبتی کستے ہوئے کہا-

”ہاں گزاری ہے- مگر ایسے تھوڑی ہی- پورے بندوبست کے ساتھ چلنا پڑتا ہے- تُو تو مجھے ایسے لے آیا ہے جیسے ہم ان کے داماد ہیں اور ہمارے انتظار میں وہ کسی ایئرپورٹ پر پلکیں بچھائے کھڑے ہوں گے— خدا جانے کس گھڑی کون سا جانور باہر نکل آئے؟— وہ تو اچھا ہوا میں کم سے کم اپنا ریوالور ساتھ رکھتا ہوں- کوئی بھروسہ ہے ایسی سنسان جگہ کا-“ نتن سنبھل سنبھل کر پیر رکھتے ہوئے بولا- دونوں کی پینٹ کیچڑ کے چھینٹوں سے گھٹنوں تک سن گئی تھی- اس کے بعد ان کو زیادہ دیر تک چلنا نہیں پڑا- کچھ دور چلنے پر وہ ایک صاف ستھرے راستے پر پہنچ گئے- راستہ پرانے زمانے کی چھوٹی چھوٹی اینٹوں سے بنا ہوا تھا- وہ جگہ کوئی چوراہا لگ رہی تھی-

پانی کا تالاب یہاں تک بھی پھیلا ہوا تھا- ”چل اپنے پیر صاف کرکے آگے چلتے ہیں- اب وہ گھر بھی زیادہ دور نہیں لگتا-“ روہن نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا- پھر دونوں نے تالاب کے پانی سے اپنے پیر دھوئے اور دوبارہ سے آگے بڑھ گئے-

”یار یہاں گلیاں اور دیواریں تو اتنی دکھائی دے رہی ہیں- مگر گھر کہاں ہیں؟— کیا اس گاﺅں میں وہ ایک ہی گھر ہے جہاں لائٹ جل رہی ہے-“ نتن نے حیرانی سے روہن کی طرف دیکھا-

”میں نے پوچھا نہیں یار– کیا پتہ ایک ہی ہو- چل تُو چلتا رہ-“ روہن نے کھسیائی ہوئی بلی کی طرح بے تکا سا جواب دیااور اپنے پیار کو پانے کی امید میں آگے بڑھتا رہا‘ نتن کے ساتھ ساتھ- دونوں کو بڑے ہی عجیب ماحول سے سامنا کرنا پڑ رہا تھا- کافی دیر تک چلنے کے بعد بھی وہ روشنی ان سے ابھی تک اتنا ہی دور لگ رہی تھی- انہوںنے گلیاں بھی بدلیں‘ مگر ہر بار کچھ دور چلتے ہی پھر سے وہ روشنی ٹھیک ان کے سامنے آجاتی- اور انہیں پھر سے اسی راستے پر چلتے رہنے کا احساس ہوتا-

”دھت تیرے کی— دیکھ روہن— مجھے تو یہ سب کچھ گڑبڑ لگ رہا ہے- بھلا ایسی جگہ پر بھی آج کل کوئی گھر بناتا ہے کیا—- وہ لڑکی سچ میں یہاں ہوگی نا؟“ نتن تھک ہار کر کھڑا ہوگیا-

”ارے ہاں نا بھائی- تُومیرا—- ارے– دیکھ بچہ-“ روہن ایک دم اچھل پڑا- روہن کی بات سنتے ہی نتن کا دل بلیوں اچھلنے لگا-

”بچہ— رات کے گیارہ بجے— گھر سے باہر- وہ بھی ایسی سنسان جگہ پر؟— آخر تم مجھے صاف صاف بات کیوںنہیں بتا دیتے– کون ہے وہ لڑکی- یہاں آخر کرتے کیا ہوں گے اس کے گھر والے-“ نتن کا دماغ چکرانے لگا تھا- جو کچھ وہاں بیت رہا تھا وہ سب اسے بالکل عجیب سا لگ رہا تھا- اور ماحول کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس کرنا لازمی تھا-

روہن نے بنا کچھ بولے نتن کا ہاتھ پکڑا اور اس بچے کی طرف لپکا- دیوار کے ساتھ کھڑا وہ بچہ جھک کر کچھ کر رہا تھا-جیسے ہی وہ دونوں اس کے قریب پہنچے تو وہ پلٹ کر مسکرانے لگا- بڑا ہی معصوم سا بچہ تھا- تقریباً آٹھ سال کی عمر ہوگی اس کی -دونوں اس کی شکل دیکھتے ہی حیران رہ گئے- اس کے چہرے پر ایسا لگتا تھا جیسے کسی گھاﺅ کا نشان بنا ہوا ہو—- تازہ گھاﺅ— اس کے ہونٹوں کے پاس سے خون رس رہا تھا- اس کی آنکھوں میں گہری چمک تھی- اور چہرے پر عجیب سا میلا پن- دونوں اس سے کچھ دوری پر ٹھٹھک گئے- بچہ ان کی طرف لگاتار پلکیں جھپکائے بنا دیکھ رہا تھا- اس کی آنکھوں میں نہ تو اجنبیت کا کوئی تاثر تھا نا ہی کسی طرح کا خوف تھا-مگر آنکھوںکی تیز چمک میں بھی عجیب سے سونے پن نے ان کو ان کو چونکا دیا- نتن نے اس سے فاصلہ رکھتے ہوئے پوچھا-”یہاں کیا کر رہے ہو بیٹا- اتنی رات کو؟“-

”اپنے پیروں کا کیچر صاف کر رہا ہوں انکل-“ بچے نے بڑی ہی معصومیت سے جواب دیا- اس کی آواز اور بات کرنے کے ڈھنگ سے ان کو کہیں سے بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ اس کی عمر چار سال سے اوپر ہوگی- حالانکہ قد کاٹھی سے انہوں نے اسے سات آٹھ سال کا ہونے کا اندازہ لگایا تھا-

”یہاں کوئی نیرو رہتی ہے—؟— بتا سکتے ہو کہ اس کا گھر کون سا ہے؟-“ روہن کا دل بیٹھنے لگا تھا- یہاں تو سب کچھ عجیب ہی ہو رہا تھا- اس نے جلدی سے وہاں سے ٹلنے میں ہی بھلائی سمجھی- لڑکے نے انگلی اٹھاکر اشارہ کرتے ہوئے کہا- ”وہاں- ہم سب وہیں رہتے ہیں- اس حویلی میں-“

”مطلب- ‘مطلب وہ– تمہاری کچھ لگتی ہے کیا وہ؟-“ روہن کو رہ رہ کر جھٹکے لگ رہے تھے-

 ”مگر اس حویلی کا راستہ کہاں سے ہے- ہم تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے ہیں— اور تم گھر کیوں نہیں گئے ابھی تک— یہاں کیا کر رہے ہو؟-“نتن نے بچے سے سوال کیا-

”میں کھو گیا ہوں انکل- مجھے بھی راستہ نہیں مل رہا- اتنے دنوں سے ڈھونڈ رہا ہوں-“ لڑکے نے اتنی ہی معصومیت سے جواب دیا-

کت— کتنے دنوں سے ڈھونڈ رہے ہو-“لڑکے کے ہر جواب سے دونوں کے دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی تھی-

”700 سال سے-“

”بھاگ نتن بھاگ— نہیں تو پھنس جائیں گے—- سمجھ لے مارے گئے-“ روہن نے بھاگنے کے لئے نتن کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا- مگر نہ جانے کیوں نتن وہاں سے ہل نہیں پارہا تھا- شاید گوں مگوں کی کیفیت میں تھا-

”کیوں مذاق کر رہے ہو یار– کیوں جھوٹ بول رہے ہو-“

اس بار لڑکے کے چہرے پر شکنیں اور صدیوں پرانی تڑپ ابھر آئی-

” میں مذاق کیوں کروں گا انکل— مرے ہوئے لوگ جھوٹ نہیں بولتے-“

روہن کی وہیں کھڑے کھڑے گھگھی بندھ گئی- جس طرح کے حالات وہاں پیش آرہے تھے اور جس طرح سے وہ بچہ انہیں ملا اور جو کچھ اس نے کہا- دونوں کے کلیجے باہر نکال آنے پر آمادہ ہو رہے تھے- روہن کو احساس ہو رہا تھا کہ اس نے یوں پاگل پن میں یہاں آکر کتنی بڑی بھول کی ہے- وہ کھڑے پیر وہاں سے بھاگنا چاہتا تھا- لیکن نتن کو وہاں چھوڑ کر کیسے بھاگے- وہ بس نتن کے اشارہ کرنے کا انتظار کر رہا تھا- جس نے گھبراہٹ میں اپنا ریوالور اس بچے پر تان لیا تھا- ”دفع ہوجاﺅ یہاں سے-“

”کیا انکل-“ ننھے سے بچے کے چہرے سے نادانی اور معصومیت ٹپک رہی تھی-”دفع ہوجاﺅ یہاں سے— بھاگ جاﺅ-“

”انکل آپ مجھے میرے گھر چھوڑ آئیں نا- مجھے گھر نہیں مل رہا ہے-“ بچے نے سادگی سے درخواست کی-

اس بچے کی صرف یہ پیاری سی آواز ہی تھی جو اب تک انہیں پیروں پر کھڑے رہنے لائق ہمت دے رہی تھی- مگر آگے بڑھنے کی تو بات سوچنا بھی دشوار تھا- نتن نے روہن کی آنکھوں میں دیکھا اور وہ الٹے پاﺅں ہو لئے- کچھ دور تک یونہی ہوشیاری سے پیچھے دیکھتے دیکھتے – جب وہ اس بچے کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے تب جاکر روہن اور نتن کی آواز نکلی-

”راستہ یاد ہے نا بھائی-“ روہن نے پوچھا-

”سیدھا چلتا رہ- اور اپنی بک بک بندھ رکھ تھوڑی دیر-“ نتن نے غصے سے اس کو جھڑک دیا-

اس کے بعد تو انہوں نے کیچڑ والے راستے سے ہوتے ہوئے سڑک پر جاکر ہی دم لیا- تب تک تو شاید سانس بھی گن گن کر لے رہے تھے- دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے تیزی سے آگے بڑھنے لگے- اب مینڈکوںکا ٹرٹرانا ان کو کسی بھوت نگری میں چل رہے پراسرار سنگیت سے کم نہیں لگ رہا تھا- جھاڑیوں میں ذرا سی بھی سرسراہٹ ہوتے ہی دنوں کی سانسیں جم جاتیں تھیں-بھگوان کا نام لے کر وہ کانپتے کانپتے آخرکار اپنی کار تک پہنچ ہی گئے- پیدل جاتے ہوئے جہاں ان کو ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگا تھا- واپس آنے میں آدھا گھنٹہ بھی نہیں لگا-

”ابے کہاں موت کے منہ میں لے آیا تھا تُو مجھے-“ نتن نے گاڑی اسٹارٹ کرکے پسینے میں تر اپنا چہرہ پونچھا-

” سوری بھائی- مجھے نہیں پتہ تھا کہ -“ روہن اب ڈھنگ سے سانس لے پا رہا تھا-

”ابے سوری کے بچے- یہ بتا آخر نیرو ہے کون؟– کیا چکر ہے تیرا اس کے ساتھ— اور اس نے تجھے یہاں کیوں بلایا تھا-“ نتن نے بناوٹی غصے سے کہا-

اسے اس بات سے اطمینان ہو رہا تھا کہ وہ سلامت واپس لوٹ آئے تھے وہاں سے- گاڑی نے جیسے ہی رفتار پکڑی اس کو احساس ہوگیا کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے-اور پھر گڑبڑ یہ ہوئی کہ گاڑی بری طرح سے لہرانے لگی-

”ٹائر پنکچر ہوگیا ہے شاید- اب کیا کریں؟-“ کہہ کر نتن نے گاڑی کی رفتار دھیمی کرتے ہوئے اس کو ایک سائیڈ میں روک دیا- روہن سہمی ہوئی نظروں سے نتن کو دیکھنے لگا-

”سوری یار- میری وجہ سے-“

نتن ‘ روہن کی بات پر دھیان دیئے بنا گاڑی سے اترا اور ٹائر چیک کرنے لگا- چاروں ٹائر زمین سے لگے ہوئے تھے- سب کی ہوا غائب تھی- نتن دوبارہ گاڑی میں آیا اور اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا-”اب کیا کریں- ایک ٹائر پنکچر ہوتا تو— اگلا گاﺅں کتنی دور ہے-“

روہن اپنی ناسمجھی سے نتن کو بھی پریشانی میں ڈال دینے کی وجہ سے شرمندہ تھا-

”ہوگا کوئی پانچ سات کلومیٹر دور— کیوں؟“

نتن اب کچھ سنبھل چکا تھا- جو ہونا تھا وہ تو ہو ہی چکا تھا- غنیمت تھا کہ اس سے بھی برا جو ہونا تھا وہ نہیں ہوا-

” وہاں تک لے چلو کسی طرح- شاید وہاں کوئی پنکچر لگانے والا مل جائے-“

اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا- نتن نے گاڑی دھیرے دھیرے لڑھکانی شروع کیا- گاﺅں آتے ہی انہوں نے پہلے ہی گھر کے سامنے گاڑی روک دی- یہ گھر گاﺅں سے باہر تھا- کچھ الگ ہٹ کر-گھر کے دروازے پر لگی مورتی سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ ہندو گھرانہ ہے-

”یہاں پوچھتے ہیں- گاﺅں میں کوئی نہ کوئی پنکچر لگانے والا تو ہوگا-“

دونوں گاڑی سے اترے اور دروازے کے سامنے جاکر اس پر دستک دینے لگے-

”کون؟-“ گھر کے اندر سے آواز آئی- نہایت ہی میٹھی آواز نے ان کے کانوں میں مصری سی گھول دی- آواز کسی نوجوان لڑکی کی لگتی تھی-

”جی ہم مسافر ہیں- باہر سے آئے ہیں- تھوڑی مدد چاہئے-“

نتن نے روہن کے بولنے سے پہلے ہی جواب دے دیا-

”بابا- وہ آگئے-“ اندرسے اسی لڑکی کی وہی سریلی آواز باہر تک آرہی تھی- یہاں تو رہ رہ کر جھٹکے لگ رہے تھے- نتن نے روہن کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولا-”یہ تو ایسے کہہ رہی ہے جیسے یہ ہمارا ہی انتظار کر رہے تھے-“ یہ کہہ کر دونوں ہوشیار کھڑے ہوگئے-

چرررر کی آواز سے کے ساتھ پرانا دروازہ کھلنے لگا- ایک بار تو اس آواز نے بھی انہیں ڈرا دیا تھا- کہتے ہیں نا دودھ کا جلا چھاج بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے-تقریباً ساٹھ سال کے بزرگ آدمی نے دروازہ کھولا- اس کی آواز میں بھی اتنی ہی مٹھاس تھی-اس نے اوپر سے نیچے تک دونوں کو دیکھا اور بولا- ”پرانے ٹیلے سے آئے ہو نا؟-“

”جی کیا مطلب؟ پرانا ٹیلہ– ہم کچھ سمجھے نہیں-“

دونوں کی حالت دیکھنے لائق تھی- روہن دل ہی دل میں سوچ رہا تھاکہ یہ رات کسی طرح سے گزر جائے بس-

”تمہارے پیروں میں یہ چپچپا سا کیچڑ لگا ہے نا- اس لئے پوچھا- یہ وہیں کا کیچڑ ہے-“ بڈھے نے بنا کسی جھجھک کے ان سے کہا-

دونوں نے ایک ساتھ ہی نیچے جھک کر اپنے پیروں کا دیکھا- ”ہاں مگر-“

تم خونی تالاب کے پاس سے گزرے ہو بیٹا- آ جاﺅ- اندر آجاﺅ-“ بڈھا یہ کہہ کر پیچھے گھومنے لگا-

جی– جی نہیں- شکریہ— وہ— ہمیں بس– یہی پوچھنا تھا کہ یہاں کوئی پنکچر لگانے والا ہے— ہماری گاڑی-“ روہن کے لئے ایک ایک پل کاٹنا مشکل ہو رہا تھا-

”ہی ہی ہی– آجاﺅ- اندر آجاﺅ-“ بڈھے نے بڑے ہی پیار سے روہن کا بازو پکڑا اور ہلکے سے اندر کھینچ لیا- روہن میں جیسے مدافعت کی ہمت ہی نہیں رہی تھی- کٹھ پتلی کی طرح وہ اس کے ساتھ اندر چلا گیا- اب نتن کے پاس بھی کوئی چارہ نہیں بچا تھا- وہ روہن کو یوں چھوڑ کر کیسے بھاگ جاتا- یوں تو اب تک اس کی اپنی حالت بھی پتلی ہو چکی تھی- وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے اندر چلا گیا-

” آﺅ- بیٹھو– یہاں آجاﺅ- ارے بھائی شرما کیوں رہے ہو– آﺅ بیٹھو نا-“ بڈھے نے ان کو کمرے میں لے جاتے ہوئے پوری شرافت کے ساتھ ان پرمیزبانی کا حق جتایا- مگر شرافت اور معصومیت کے پیچھے چھپی ہوئی ہلاکت خیزی وہ گھنٹہ بھر پہلے ہی محسوس کر چکے تھے- اس لئے دنوں کے دل میں اتھل پتھل جاری تھی- دونوں نے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھااور پوری ہوشیاری برتتے ہوئے دیوار کے ساتھ لگے پلنگ پر جاکر بیٹھ گئے-ان کی پیٹھ کے پیچھے صرف ایک سپاٹ دیوار تھی- وہ وہاں اس لئے بیٹھے تھے تاکہ کمرے میں ہونے والی ہر حرکت پر نظر رکھ سکیں-

”شروتی بیٹا— ذرا کچھ پانی وانی لے آﺅ- اتنی دیر کیوں لگا رہی ہو؟-“ بڈھے نے ان دونوں کے سامنے بیٹھتے ہوئے آواز لگائی-

”ابھی لائی بابا-“ دوسری طرف سے وہی سریلی آواز دونوں کے کانوں میں پڑی-

” تو- وہاں کیا کرنے گئے تھے تم لوگ— شہری معلوم ہوتے ہو-“ بڈھے نے بڑے ہی اطمینان سے دونوں سے پوچھا-

”جی ہم راستہ بھٹک گئے تھے-“ نتن نے بات کو گول مول کرتے ہوئے جواب دیا-یہ کہنا اس کو قطعی مناسب نہیں لگا کہ وہ کسی لڑکی کی تلاش میں اپنی ایسی تیسی کرانے گئے تھے-

”ہوں—تم دو ہی گئے تھے یا کوئی وہیں رہ گیا؟-“ بڈھے نے پریشان ہو کر پوچھا-

”کیا مطلب- ہم دو ہی تھے بس-“ اس بار بھی نتن نے ہی جواب دیا- روہن تو چپ چاپ ہی ان کی باتیں سن رہا تھا- وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ یہاں سے کب نکلیں گے-

”شکر ہے- تم دونوں صحیح سلامت واپس آگئے-“ بڈھے نے گہری سانس لیتے ہوئے بیڑی سلگائی-”پیتے ہو کیا-“ کہہ کر بڈھے نے بیڑیوں کا بنڈل ان کی طرف بڑھایا-

”جی نہیں شکریہ-“

نتن نے منع کرتے ہوئے کہا- تبھی روہن پلنگ سے لگ بھگ اچھل کر کھڑا ہوگیا-

”نی ی ی -“

نتن نے چونکتے ہوئے پہلے روہن کی طرف دیکھا اور پھر اس کی نظروں کا پیچھا کرتے ہوئے نگاہیں دروازے پر جما دیں-

”کیا ہوا بیٹا- تم کھڑے کیوں ہوگئے-“ بڈھے نے بھی روہن سے بات کہہ کر دروازے کی طرف دیکھا-”یہ میری بیٹی ہے – شروتی- آجاﺅ بیٹی-“

روہن کی سانسیں اس کے حلق میں ہی اٹکی ہوئی تھیں ابھی تک- دروازے سے اندر آنے والی لڑکی نیرو ہی تھی- وہی نیرو جس کے لئے روہن پاگل ہوا جا رہا تھا- خوبصورتی کی انوکھی مثال تھی وہ- سر سے لے کر پاﺅں تک- چھریرا لانبا بدن‘ ہلکی سی لمبائی لئے ہوئے تقریباً گول گورے چہرے پر انوکھی کشش لئے ہوئے لمبی کجراری آنکھیں- ہلکا گلابی پن لئے رسیلے ہونٹ‘ صراحی دار لمبی گردن- اور— خیر یوں کہیں کہ خوبصورت کا رس اس کے بدن میں صرف دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا- مانو ٹپک رہا ہو- اس کی معصومیت سے‘ اس کے شرمیلے پن سے‘ اس کے انداز سے‘ اس کی ہر ادا سے- ایک بار بھی پلکیں اٹھائے بنا شروتی نے ان کے سامنے میز پر پانی رکھا اور واپس جانے لگی-

”بیٹی کھانا بنا دینا- جانے کب سے بھوکے ہوں گے بیچارے-“

”جی بابا- میں نے سبزی رکھ دی ہے-“ نظریں جھکائے ہوئے ہی اس نے مڑ کر اپنے لرزتے ہونٹوں سے بات کہی اور باہر نکل گئی-

”جی نہیں- ہمیں بھوک نہیں ہے- ہم اب بس واپس جانا چاہتے ہیں- آپ صرف کسی ٹائر پنکچر والے کا گھر بتا دیں-“ نتن نے کھڑا ہوتے ہوئے کہا- دراصل روہن کو اس طرح چونکتے دیکھ کر نتن کے دل میں کوئی سوال ابھر رہے تھے- اور وہ جلد سے جلد باہر نکل کر ساری بات صاف کرلینا چاہتا تھا-

”نہیں بھائی- ایسے کیسے جانے دوں گا تمہیں- یہ بھی کوئی جانے کا وقت ہے- اور اس گاﺅں میں کوئی ٹائر پنکچر لگانے والا بھی نہیں ہے- ابھی آرام سے کھانا کھا کر سو جاﺅ- صبح دیکھ لینا-“ بڈھے نے نتن کا ہاتھ پکڑ کر اس کو واپس پلنگ پر بٹھا دیا- نتن نے روہن کی طرف دیکھا- اس کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ اس کو اپنی منزل مل گئی ہے-

”ٹھیک ہے انکل جی- جب آپ اتنا اصرار کر رہے ہیںتو یہی صحیح- آپ کا یہ بڑا احسان ہوگا ہم پر-“ روہن کو جیسے منہ مانگا مل گیا-

”اس میں احسان کی کیا بات ہے بیٹا- آدمی ہی آدمی کے کام آتا ہے- اور پھر مہمان تو رحمت ہوتا- کسی بات کی فکر مت کرو- اسے اپنا ہی گھر سمجھو-“ بڈھے نے بڑے ہی پیار سے مسکراتے ہوئے کہا- بڈھے کی باتوں نے دونوں کو تسلی سی دی- کم سے کم یہاں اب تک کچھ ایسا ویسا نہیں ہوا تھا‘ جس سے انہیں یہاں بھی کچھ عجیب و غریب ہونے کا ڈر رہے-

”انکل جی- یہ خونی تالاب کا کیا چکر ہے-“ نتن نے ہچکچاتے ہوئے بات چلا ہی دی- نتن کے ذکر کرتے ہی بڈھے کی آنکھیں کچھ یاد سا کرنے کے انداز میں سکڑ گئی تھیں-

”اس کے بارے میں ہم گاﺅں کے لوگ کسی کو بتاتے نہیں بیٹا- بس اتناخیال رکھنا کہ دوبارہ کبھی اس طرف بھول کر بھی مت جانا- اور ناہی کسی سے اس کا ذکر کرنا- تم صحیح سلامت واپس آگئے‘ اس کے لئے بھگوان کا شکر ادا کرو-“

”ہم کسی سے نہیں کہیں گے- لیکن بتانے میں حرج ہی یا ہے- کچھ تو بتایئے-“ نتن اور روہن دونوں کچھ بتانے کا موڈ بنا رہے بڈھے کی طرف دیکھ رہے تھے-

”ہوں— کسی سے بھول کر بھی اس بات کا ذکر مت کرنا- ہمارے بڑے کہتے تھے کہ پرانے ٹیلے کی روحیں باہر کے لوگوں سے نفرت کرتی ہیں- ایک بار کوئی انگریز تمہاری طرح بھٹک کر وہاں چلا گیا تھا- صبح اس کی لاش تالاب کے کنارے پر ملی تھی- اتنے بڑے بڑے کیڑے چل رہے تھے ا س کی ادھ کھائی ہوئی لاش میں-“ بڈھے نے کیڑوں کا سائز بتانے کے لئے اپنی انگلیوں کو لمبا کر دیا- ”لاش کا سر تو بالکل ہی غائب تھا- اس کے پیٹ کو چیر سا دیا گیا تھا- اور دل چھاتی سے باہر لٹک رہاتھا- بس پھر کیا تھا- اس کے موت کی وجہ جاننے کے لئے انگریزوں نے وہاں ڈیرا ڈال دیا- بہت کوشش کی پر کسی کو کچھ حاصل نہ ہوا- مگر اس کے بعد موتیں بہت ہوئیں- اور یہ ساری موتیں باہر کے لوگوں کی تھیں- اس لئے اب ہم کسی کو کچھ نہیں بتاتے- پڑھے لکھے لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے نا- پھر کوئی وہاں کا راز جاننے جائے گا اور خواہ مخواہ اپنی جان سے جائے گا- کیا فائدہ-“ یہ کہہ کر بڈھا کچھ دیر کے لئے خاموش ہوگیا –

”ہم ایسی غلطی نہیں کریں گے انکل جی- کسی سے کچھ بھی نہیں کہیں گے— بتائیں نا– اور ایسا کیا ہے وہاں پر— اور وہ خونی تالاب-“ نتن کا تجسس بڑھتا ہی جا رہا تھا-

”تم اب مانو گے نہیں پوچھے بنا- دراصل وہ تالاب بہت پرانا ہے- ہزاروں سال پرانا- اس کا پانی کبھی بھی نہیں سوکھتا- مگر جو وہاں سے تمہاری طرح بچ کر واپس آ جاتے ہیں- وہ بتاتے ہیں کہ رات کو تالاب کا پانی لال ہو جاتا ہے- خون کے جیسا لال- اس لئے ہم اس کو خونی تالاب کہتے ہیں- روحوں کے عذاب سے بچنے کے لئے گاﺅں والے وہاں لگے پیپل کے پیڑ کے پاس چڑھاوے چڑھاتے ہیں- دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ رات بھر پیڑ پر روشنی رہتی ہے- مگر رات میں آج تک کوئی اس کے پاس پہنچ نہیں پایاہے- یا جو پہنچا ہوگا وہ مارا گیا ہوگا- سنا ہے وہاں ایک چھوٹے بچے کی روح بھی بھٹکتی رہتی ہے-

”ہاں-“ روہن بچے کے بارے میں بولنے ہی والا تھا کہ نتن نے اس کا ہاتھ دبا دیا اور اس نے اپنی بات پلٹ دی-”ہاں روحیں ہوتی ہیں- میں نے بھی سنا ہے-“

”سنا کیا ہے بیٹا- گاﺅں والوں نے تو اس بچے کو دیکھا بھی ہے- بتاتے ہیں کہ وہ بچا وہاں جانے والے لوگوں کو ا س کے گھر چھوڑ آنے کا کہتا ہے- پیپل کے پیڑ پر- “

”مگر وہ روحیں آخر ہیں کس کی؟ اور باہر والے لوگوں سے ہی نفرت کیوں کرتی ہیں-“ بڈھے کے ہر خلاصے کے ساتھ نتن کا تجسس فزوں تر ہوتا جا رہا تھا- سب کچھ جان لینے کے لئے- حالانکہ وہ روحوں کے چکر کو نہیں مانتا تھا- مگر آج رات کا نظارہ اس کو ان کے بارے میں جاننے اور سننے کو بے تاب کر رہا تھا-

”اب سچائی تو بھگوان ہی جانتا ہے بیٹا- ہمارے پاس تو سنی سنائی باتیں ہیں- کہتے ہیں کہ اس پیپل کے پیڑ کی جگہ پہلے کسی راجہ کا محل ہوا کرتا تھا- تین رانیاں تھیں اس کی- تینوں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت تھیں- پھر کسی دوسرے راجا نے اس راجہ کو ہرا کر رانیوں کے سامنے ہی اس پر رولر چلوا کر مروا دیا اور اس محل کو اپنا حرم بنا لیا‘تینوں رانیوںسمیت محل کی تمام عورتوں کو اپنی کنیزیں بنا کر رکھا- جو کچھ وہ ان رانیوں اور عورتوں کے ساتھ کرتا تھا وہ بتانے لائق نہیں ہے- تم میرے بیٹوں کے جیسے ہو- مگر ہاں- ہر صبح ایک میت اٹھتی تھی محل سے- یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک کہ محل میں ایک بھی عورت بچی- کہتے ہیں کہ یہ روحیں اسی راجہ اور انہی رانیوں کی ہیں-“

”اوہ-“ نتن نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا-تبھی شروتی کھانا لے آئی اور اس کو میز پر سجانے لگی- روہن لگاتار اس کی آنکھوں کی طرف دیکھ رہا تھا- اس تاک میں کہ شروتی اس کی طرف دیکھے اور وہ اس کی آنکھوںمیں اپنے لئے اپنا پن ڈھونڈ سکے- مگر بدقسمتی سے ایسا ہوا نہیں- شروتی نے نظریں اوپر ہی نہیں اٹھائیں اور کھانا لگا کر بولی- ”آپ کے لئے بھی لے آﺅں بابا-“ آواز میں اتنی مٹھاس تھی کہ روہن اس کے منہ سے اپنا سننے کو ترس گیا- اگر بابا نہ ہوتے تو وہ کب کا اس کو ٹوک چکا ہوتا-

”ارے نہیں بیٹی- تھوڑی دیر پہلے ہی تو کھایا تھا- تم جاﺅ- جاکر سوجاﺅ- میں آتا ہوں تھوڑی دیر میں-“

”اچھا بابا- میں کنڈی نہیں لگاﺅں گی- آپ آکر بند کر لینا-“ شروتی نے اپنے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر واپس مڑ گئی-

”آپ کے گھر میں اور کون کون ہیں انکل جی-“ روہن کی دلچسپی صرف نیرو کے بارے میں جاننے کی ہی تھی-

”بس ہم دو جان ہی ہیں بیٹا- بیوی اس کو جنم دیتے ہی گزر گئی تھی- سواور کوئی اولاد نہیں ہے- کچھ دن بعد تو میں اکیلا ہی رہ جاﺅں گا-“ بڈھے نے جواب دیا-

”وہ کیوں-“ کھانا کھاتے ہوئے ہی روہن نے اس کی طرف دیکھا-

”اس کی شادی نہیں کروں گا کیا بیٹا- لڑکی تو ہوتی ہی پرایا دھن ہے-“

روٹی کا ٹکڑا روہن کے حلق میں ہی اٹک کیا- ”کک— کب کر رہے ہیں شادی-“

”ابھی تو یہ مان ہی نہیں رہی ہے- کہتی ہے پڑھائی پوری کرنے کے بعد ہی سوچوں گی- نادان اور بھولی ہے مگر ضدی بھی بہت ہے- جو سوچ لیا وہ سوچ لیا- پھر کسی کی نہیں سنتی یہ-“

”اوہ-“روہن کی جان میں جان آئی- پہلے اس کو لگا تھا کہ کہیں شادی پکی نہ ہوگئی ہواس کی- کھانا کھانے کے بعد بڈھے نے برتن اٹھائے اور ان کو صبح ملنے کا کہہ کر چلا گیا- اس کے جاتے ہی روہن نے آنکھیں مٹکاتے ہوئے نتن کی طرف دیکھا-

”کیوں- کیسی لگی-“

”یہی ہے وہ؟-“

نتن کو شک تو تھا- مگر تعجب اس سے کہیں زیادہ تھا-

روہن خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا – عجیب سی خماری میں اس نے تکئے کو اپنی چھاتی کے نیچے دبالیا اور پیٹ کے بل لیٹ گیا-

”مگر اس کا نام تو شروتی ہے- تُو تو نیرو کہہ رہا تھا؟-“نتن نے دوسرے پلنگ پر لیٹتے ہوئے دوسرا سوال کیا-

”نام میں کیا رکھا ہے یار- بس اتنا جان لے- جس کے لئے میں آیا تھا- مجھے مل گئی ہے- میں تیرے اس احسان کا بدلہ کبھی نہیں چکا پاﺅں گا-میں نہ کہتا تھا‘ میری نیرو مجھے ضرور ملے گی-“ روہن پر پیار کا بھوت سوار تھا-

”ابے یار اس نے تجھے دیکھا تک نہیں اور تُو ایسے اچھل رہا ہے- کہیں تجھے بھول نہ گئی ہو- کتنے عرصہ پہلے ملی تھی؟-“ نتن اٹھ کر بیٹھ گیا-

”یہ سب میں تمہیں بعد میں بتاﺅں گا- مگر تم یہ تو بتا دو کہ تمہیں کیسی لگی؟-“

”بہت پیاری ہے- سچ بولوں تو اس کے جیسی کوئی لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی- اگر یہ نیرو نہ ہوتی تو میں اس کے بارے میں اپنے لئے سوچ رہا تھا- اور اب بھی کیا پتہ— یہ شروتی ہی ہو- تمہاری نیرو کی ہمشکل- تمہاری نیرو تو تمہیں وہیں ملے گی- پرانے ٹیلے پر- ہی ہی ہی-“ نتن نے شرارتی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجاتے ہوئے کہا-

”ایسی بات مت کر یار- مجھے اچھا نہیں لگتا-“ روہن نے منہ بنا کر کہا-

”مذاق کر رہا ہوں بھائی- مگر ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی-“ نتن کو اچانک جیسے کچھ یاد آگیا ہو-

”وہ کیا؟-“ روہن بھی اٹھ کر بیٹھ گیا-

”اس نے تمہیں وہاں کیوں بلایا تھا؟— اور بلایا بھی تو وہاں ملنا چاہئے تھا- اب کس کو پتہ تھا کہہ ہماری گاڑی پنکچر ہوجائے گی اور ہم واپس آکر اسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے- اگر ہم سیدھے نکل جاتے تو شاید ہی کبھی دوبارہ آتے یہاں پر-“ نتن کی بات میں دم تھا-

”ہاں یار وہ تو ہے- جب بات کرے گی تو ضرور پوچھوں گا یہ بات-“ روہن نے جواب دیا-

”اچھا اب یہ تو بتا دو کہ یہ تمہیں کہاں ملی ؟— کیسے ملی؟— اور کیسے پٹی؟-“نتن جاننے کے لئے بے چین تھا-

”ایک بار بات ہونے دے پھر سب کچھ بتا دوں گا- ہمارا ملنا انکل جی کی بھوت والی کہانی سے کم دلچسپ نہیں ہے- مجھے خود یقین نہیں تھا کہ میں اس سے مل پاﺅں گا-“

”ابھی بتا دے نا- ابھی کیا دقت ہے؟-“ نتن نے اس بار زور دے کر کہا تھا-

”نہیں ابھی نہیں- بہت دلچسپ ہے- مگر ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا- پہلے ا سے بات کر لوں-“ روہن نے کہا اور واپس لیٹ گیا-”چل اب سو جا- صبح جلدی اٹھنا ہے-“

”ٹھیک ہے بیٹا- لوگ مطلب نکل جانے کے بعد کس قد رنگ بدلتے ہیں- یہ میں دیکھ رہا ہوں- چل اچھا ہے- میں انتظار کروں گا- تیری اس سے بات ہونے تک- گڈ نائٹ-“

”گڈ نائٹ بھائی- گڈنائٹ-“روہن نے کہا اور سر کے نیچے سے تکیہ نکال کر دونوں ہاتھوں میں دبوچ کرسینے پر رکھ لیا-

رات کے تقریباً سوا دو بج رہے تھے جب روہن دروازے پر قدموں کی آہٹ سن کر چونک گیا- اس کی امید کو پوری طرح پنکھ لگے بھی نہ تھے کہ کمرے میں روشنی چھا گئی- ہلکی سی ناراضگی جتاتی ہوئی نیرو اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے گھور رہی تھی- ہولے ہولے چلتی ہوئی وہ اس کے پاس آکر پلنگ پر بیٹھ گئی-

”یہ کون ہے؟-“ نیرو نے جھکتے ہوئے دھیرے سے نتن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا-

”میرا دوست ہے- میرے لئے بھائیوں جیسا ہے- کیوں؟-“ روہن نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا-

”اس کو کیوں لے کر آئے ہو- میں نے اکیلے آنے کا بولا تھا نا-“ ناراضگی اب بھی نیرو کی ناک پر بیٹھی تھی-

” کمال کرتی ہو- ایسی خطرناک جگہ پر اکیلے – جان لینے کا ارادہ ہے کیا؟-“ روہن نے لیٹے ہی لیٹے جواب دیا-

”جان تو میں تمہاری لوں گی ہی – ایک بار وقت آنے دو-“ یہ کہہ کر نیرو قاتل ادا سے مسکرانے لگی- اس کی اسی ادا کا تو روہن دیوانہ تھا- ”چلو ٹھیک ہے – تمہاری یہ بات مان لیتی ہوں- اس کو لے کر آجاﺅ – مگر ا س کو دور ہی کھڑا کر دینا- مجھے تم سے ضروری باتیں کرنی ہیں- جانے کب سے تمہارے لئے تڑپ رہی ہوں- تمہیں تو احساس بھی نہیں ہوگا میری محبت کا-“

”تمہاری یہ بات میری سمجھ میں نہیں آرہی- کہتی ہو مجھ سے پیار کر تی ہو- مگر آج تک کبھی چھونے کی اجازت نہیں دی- میں بھی تمہارے لئے پاگل ہو رہا ہوں- پلیز ایک بار- بس ایک بار مجھے تمہیں چھو کر محسوس کر لینے دو- کتنی پیاری ہو تم- تمہارے لئے میں یہاں تک بھی آگیا ہوں-ایک بار میری آغوش میں آ جاﺅ نا-پلیز-“روہن اس کے جوان بدن کی حرارت کو اپنے اندر تک محسوس کرنے کے لئے تڑپ اٹھا-

”میں بھی تو اتنی ہی تڑپ رہی ہوں دیو- تمہیں کیا پتہ- میرا ایک ایک پل کیسا بیت رہا ہے- اس پل کے لئے جب میں اور تم”ہم “ ہوں گے- یہ فاصلے کتنا تڑپاتے ہیں- مجھ سے زیادہ کون سمجھے گا- بس انتظار کرو-“ نیرو کی آنکھوں سے اس کے لئے بے انتہا جذبات جھلک رہے تھے-

کتنی بار بتاﺅں کہ میں روہن ہوں- اگر تم کسی دیو کے دھوکے میں میرے پیچھے پڑی ہو تو معافی چاہتا ہوں- مگر پھر بھی یہی کہوں گا کہ اب میں تمہارے بنا رہ نہیں پاﺅں گا- تمہارے پیار نے— تم نے مجھے جیسے پاگل سا کر دیا ہے-“

”دنیا کے لئے چاہے تم کچھ بھی ہو- مگر میرے لئے تو میرے دیو ہی ہو- مجھے تمہارا یہی نام اچھا لگتا ہے- میں تو یہی کہوں گی-“ آنکھوں میں گہرا پیار اور مدک احساس لئے نیرو اس کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی-

”تم مجھے پوری طرح پاگل بنا کر ہی چھوڑو گی- مجھ روہن کو تم دیو کہتی ہو اور اپنا نام نیرو بتا رہی ہو جبکہ تمہارے پتا جی تمہیں شروتی کہتے ہیں- میں کیا سمجھوں اور کیا نہیں-“ روہن نام کے چکر سے ابھی تک بھی نہیں نکل پایا تھا-

”وہاں آﺅ گے تو سب سمجھ آ جائے گا- اب یہاںمیں تمہیں کیا بتاﺅں-“ نیرو نے بے بس نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے کہا-

”عجیب لڑکی ہو- یہاں میرے سامنے بیٹھی ہو- اس وقت تم نے نظر اٹھا کر بھی میری طرف نہیں دیکھا تھا- اور اب یہ چھوٹی سی بات بتانے کے لئے مجھے وہاں بلا رہی ہو- اتنی خطرناک اور ڈراﺅنی جگہ میں نے آج تک نہیں دیکھی- روہن کے چہرے پر اس عجیب و غریب جگہ کی ڈراﺅنی یادوں کی ٹیس چھا گئی-

”کیا؟— تم وہاں گئے تھے- مگر میں نے تمہیں بارہ بجے کے بعد آنے کا کہا تھا نا- رکے کیوں نہیں وہاں پر-“ نیرو کچھ تیز لہجے میں بولی-

”کیسے رکتے-ہم وہاں گئے تو ہمیں وہاں ایک بچہ ملا- اتنا خوفناک منظر تھا کہ میری تو جان ہی نکل گئی ہوتی- اور تمہیں پتہ بھی ہے- وہاں بھوت رہتے ہیں- تمہارے پتا جی نے ہی بتایا ہے-“ روہن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا-

” مرے ہوئے لوگوں کو بھوت کہہ کر ان کا مذاق مت بناﺅ دیو- تمہیں ان کی پیڑاﺅں کا احساس نہیں ہے – ہر پل کیسے درد کی بھٹی میں تڑپتے رہنا پڑتا ہے- یہ تمہیں کیا معلوم- تم تو آزا دہو- کہیں بھی آ جا سکتے ہو- مگر وہ ہر طرح سے ایک ہی دائرے میں بندھے ہیں- ہر پل اسی دردناک منظر کو آنکھوں میں لئے تڑپتے رہتے ہیں- جس گھڑی زندگی نے بڑی بے دردی سے ان کے سر سے اپنا ہاتھ ہٹا لیا- وہ ہر پل اسی انتظار میں رہتے ہیں کہ کب کوئی رہنما آئے گا اور ان کو وہاں سے- اس جہنم سے نجات دلائے گا- آجاﺅ نا دیو- صرف ایک بار آجاﺅ- میں ہر پل تمہارا انتظار کرتی ہوں- ایک بار وہاں آجا ﺅ میری جان- مجھے جہنم سے نکال کر جنت میں لے چلو-“ نیرو بولتے بولتے بے بس ہو کر گڑگڑا رہی تھی-

”ایسے کیوں کہہ رہی ہو- مجھ سے تمہاری یہ بے چینی دیکھی نہیں جاتی- مگر ایسا کیا ہے جو یہاں نہیں بتا سکتیں- وہیں جانا کیوں ضروری ہے نیرو-“

”وہاں جانا ضروری نہیں ہے دیو- مگر مجھے ڈر ہے- میں نے یہاں بتا دیا تو تم وہاں شاید کبھی نہیں آﺅ گے- “ مایوس نیرو کی آنکھوں سے آنسو چھلک اٹھے-

”اس کا مطلب ہے تمہیں میرے پیار پر بھروسہ نہیں ہے- اس کا مطلب ہے کچھ ایسا ضرور ہے جو تم مجھ سے چھپا رہی ہو- جب تم مجھ پر اعتماد نہیں کرتی ہو تو میں تم پر کیوں کروں؟-“ روہن بات جاننے کے لئے بے تاب ہو رہا تھا-

”تمہارے اندر کے دیوپر مجھے پورا اعتماد ہے- مگر باہر کے روہن پر نہیں- وقت جانے کتنی کروٹیں بدلتا ہے- اس درمیان جانے تم کتنی بار بدلے ہوگے- میں اس لئے ڈر رہی ہوں-“ نیرو نے اپنا ہاتھ بڑھا کر روہن کے چہرے کو چھونا چاہا مگر کچھ یاد آتے ہی فوراً ہاتھ واپس کھینچ لیا-

”دیکھو نیرو یا شروتی- تم جو بھی ہو- تم نے اپنے پیار میں تو مجھے پاگل کر ہی دیا ہے- اب اصلیت میں پاگل ہونا نہیں چاہتا- پہیلیاں مت بھجواﺅ- اور اتنا جان لو کہ جب تک تم مجھے سب کچھ سچ سچ نہیں بتاتیں- میںوہاں واپس نہیں جاﺅں گا- ہرگز نہیں-“ روہن نے دو ٹوک جواب دیا-

”ایسا کیوں کہہ رہے ہو دیو- کیا میں یونہی تڑپتی رہوں گی- تم میری بات سمجھتے کیوں نہیں ہو- آ جاﺅ نا -“ نیرو کی حالت غیر ہو چلی تھی-

”میں تو سب سمجھ رہا ہوں- اگر سمجھتا نہیں تو یہاں تک آتا ہی کیوں- اچھا چلو- میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر تم ابھی سب کچھ بتا دوگی تو تم جہاں کہو گی وہاں آنے کے لئے تیار ہوں-“

کچھ دیر سوچنے کے بعد نیرو بولی-”یہ روہن کا وعدہ ہے یا پھر دیو کا-“

روہن جھلا اٹھا- ” کیا ہے یار- دیو— روہن- دنوں کا وعدہ رہا- دیو کا بھی اور روہن کا بھی- اب تو بتا دو-“

”سوچ لو- دیو کے وعدے سولی پر جاکر بھی نہیں ٹوٹتے-“ نیرو کو کچھ امید سی بندھی-

”سوچ لیا- وعدہ رہا – دیو کا-“ روہن نے کہتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا مگر نیرو کی طرف سے ایسی کوئی حرکت نہیں ہوئی- نیرو نے لمبی سانس بھرتے ہوئے چھت کی طرف دیکھا- اور اچانک ہی بولنا شرو ع کر دیا-

”وہ بچہ- جس کی تم بات کر رہے ہو- میرا چھوٹا بھائی ہے- “

”کیا؟-“ روہن ‘ نیرو کی اس بات کو ہضم نہیں کر پایا اور نیند میں ہی اندر تک کانپ گیا- ہڑبڑا کر لگ بھگ چیختے ہوئے وہ اٹھ بیٹھا- اس کے چیختے ہی نتن ایک پل میں اٹھ کر پلنگ سے کھڑا ہوگیا-” کیا ہوا؟-“

”یہ لائٹ کیوں بند کر دی- نیرو کہاں گئی-“ روہن کا سر چکرا رہا تھا- بند آنکھوں میں جہاں اس کو اجالا ہی اجالا دکھائی دے رہا تھا آنکھیں کھولتے ہی اندھیرے کے سوا اس کو کچھ نظر نہیں آیا- وہاں تو پہلے سے ہی اندھیرا تھا- اجالا تو نیرو سپنے میں ساتھ لے کر آئی تھی-

”نیرو یہاں- ابے تم پاگل ہوگئے ہو کیا- لگتا ہے کوئی سپنا دیکھ رہا تھا-“ نتن نے روہن کو کندھے سے پکڑ کر ہلاتے ہوئے کہا-

روہن نے جیسے تیسے خود کو سنبھالا- ”ہاں بھائی- سپنا ہی تھا- سوری- سو جا-“

” اب تھوڑی بہت رات بچی ہے- اس میں تو چین سے سو لینے دو یار- کیا ہو گیا ہے تمہیں- بتاﺅ نا- تم کھل کر کیوں نہیں بتاتے-“ نتن نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیار سے پوچھا-

”کچھ نہیں یار- سو جا- صبح بات کریں گے-“ کہتے ہوئے روہن منہ ڈھک کر لیٹ گیا-

”دیکھو- کوئی بات دل میں نہیں رکھنی چاہئے- گانٹھ بن جاتی ہے- اور پھر مجھ سے چھپا کر تجھے ملے گا کیا- باقی تیری مرضی ہے- صبح کا انتظار کروں گا-“ نتن نے کہا اور دوسری طرف کروٹ لے کر سو گیا-

روہن کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا- پچھلے قریب دو مہینے سے اس کی راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام تھا- اور وجہ تھی نیرو- ہر رات کو وہ اس کے سپنوں میں آتی اور دن بھر وہ اس کے سپنوں میں کھویا رہتا- زندگی اچانک کتنی بدل گئی تھی اس کی- ہمیشہ مست قلندر کی طرح جینے والا روہن شروع میں تو ان سپنوں کا مزا لیتا رہا اور رات کو ا س کے پاس آکر اس کو پکار رہی اس حسینہ کے بارے میں دن بھر سوچ کر لذت اٹھاتا رہتا- نتن کی بات سچ تھی- نیرو جیسی پیاری لڑکی اس نے بھی آج تک نہیں دیکھی تھی- مگر جلد ہی یہ مزا بے چینی میں اور پھر وہ بے چینی ایک انجانے سے لگاﺅ میں بدل گئی- آخر یہی لڑکی روز اس کے سپنوں میں کیوں آتی ہے- کیا رشتہ ہے اس لڑکی کا اس کے ساتھ- لڑکی کا صرف سپنے میں آنا ہی ہوتا تو الگ بات تھی- مگر وہ تودونوں کے پیار کی دہائی دیتی تھی- اپنے پاس بلاتی تھی- سپنے میں اس کی آواز یوں لگتی تھی جیسے کسی گہری کھائی سے بول رہی ہو- رک رک کر کہی گئی اس کی باتوں کی بازگشت بار بار اس کے کانوں میں گونجتی رہتی تھی- رات بھر- دن بھر- اپنے مست انداز کا مالک روہن دوستوں میں اپنے ہنسی مذاق اور لڑکیوں کو لفٹ نہ دینے کی وجہ سے ہمیشہ چھایا رہتا تھا- مگر اچانک ہی وہ گم سم سا رہنے لگا- پوچھنے کی کوشش بہتوں نے کی- مگر بتاتا بھی تو کیا بتاتا- آخر جب اس کی بے چینی اور اپنے آپ کو نیرو کہنے والی لڑکی کے ساتھ اس کا لگاﺅ آخری حدوں کو چھونے لگا تو اس نے ایک دن اس کے پاس جانے کی ٹھان لی- مگر نیرو کی ایک شرط نے اس کو نتن کا سہارا لینے پر مجبور کر دیا- ایک تو صرف رات کو ہی مل پانے کی بے بسی اور دوسرا اس کے پاس آنے کے لئے بتائے گئے راستے کا نقشہ- نتن اس کے سب سے نزدیکی دوستوں میں سے ایک تھا- وہ انجانی جگہوں پر جانے‘ گھومنے پھرنے اور دور دراز کے علاقوں میں جاکر وہاں کے لوگوں کی بود و باش جاننے کا شوقین تھا- یعنی ایڈونچر اس کی زندگی کا ایک حصہ تھا- روہن نے نتن کو ایک بناوٹی کہانی سنائی- اس کو یقین تھا کہ اگر سپنے والی بات اس کو بتائے گا تو وہ ساتھ دینا تو دور- الٹا دوستوں میں اس کی کرکری کرنے میں بھی کسر نہیں چھوڑے گا- اس نے نتن کو بتایا کہ بہت پہلے ایک لڑکی سے وہ ملا تھا اور اب اس کو پتہ چلا ہے کہ وہ لڑکی اس سے بے انتہا پیار کرتی ہے- اور اس کو ملنے کے لئے بلا رہی ہے- پہلے پہل تو نتن نے اس کو ان خواہ مخواہ کے چکروں سے دو ررہنے کی ہدایت دے کر صاف منع کر دیا- لیکن جب اس کو کئی دنوں تک لگاتار روہن کا چہرہ اترا ہوا دکھائی دیا تو ایک دن اس نے خود ہی روہن کو ٹوک دیا-

”کہاں ہے وہ لڑکی- چل ملا لاتا ہوں-“

”یار ان کا گھر گاﺅں سے دور ہے- کافی آگے چل کر-“ روہن اس بات کو کھا گیا کہ لڑکی نے اس کو بتایا تھا کہ اس کو کافی دور پیدل چلنا پڑے گا-

”اچھا – تو تم ڈر رہے ہو-اس لئے مجھے ساتھ لے جانا چاہتے ہو- ہے نا- نہیں تو تم مجھے بتاتے بھی نہیں کہ تم مجنوں بن گئے ہو آج کل-“ نتن نے مذاق کرتے ہوئے کہا-

”کچھ بھی سمجھ لے یار- مگر مجھے اس سے ایک بار مل کر آنا ہے-“

”ہوں- چل پھر کل ہی چلتے ہیں-“ نتن تیار ہوگیا ا س کے ساتھ جانے کو- اور وہ کل آج رات ہی تھی- لیکن جو کچھ بھی آج رات کو انہوں نے دیکھا اس نے اس کی بے چینی کم کرنے کی بجائے اور بڑھا دی تھی- خاص طور سے تب‘ جب اس نے سپنوں میں روز آنے والی لڑکی کو پورے پیکر کے ساتھ اپنی نظروں کے سامنے دیکھا- شروتی کے روپ میں- اس وقت تک تو ٹیلے سے واپس آتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا کہ یہ سب محض اس کے دماغ کا فتور ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں- لیکن اب- اب تو وہ قطعی ایسا نہیں سوچ سکتا تھا- اس کے سپنوں کی رانی تعبیر کا روپ لئے اس کے روبرو آچکی تھی- بھلے ہی اس کا انداز بے رخا ہو- بھلے ہی اس کا نام شروتی رہا ہو- کچھ نہ کچھ تو بات ضرور ہے- ورنہ اسی گاﺅں کی لڑکی اس کے سپنے میں کیوں آتی- مگر اب— آج رات کے سپنے کو وہ کیسے لے- کہیں نیرو سچ میں کوئی بھوت تو نہیں- اس نے ٹیلے پر ملنے والے بچے کو اپنا بھائی بتایا تھا- چکر کیا ہے؟—- اور پھر بھوت تو ڈراتے ہیں- پیار تھوڑا ہی کرتے ہیں- پھر بھوت بھی مانے تو کیسے مانے- لڑکی توزندہ روپ میں اس کے سامنے تھی ہی- روہن کو لگ رہا تھا جیسے وہ بھی اس لڑکی کے پیار میں بری طرح جکڑا جا چکا ہو- وہ پھر سے اس کو اپنے سپنے میں لانا چاہتا تھا- اپنے ان گنت سوالوں کا جواب لینے کے لئے- اس سے اس کا کیا رشتہ ہے- یہ جاننے کے لئے- اسی ادھیڑ بن میں وہ کب سو گیا اور کب خود کو نیرو بتانے والی شروتی دوبارہ ا سکے سپنے میں آ گئی اس کو پتہ ہی نہیں چلا-

”کیا ہو گیا تھا- تم چلے کیوں گئے تھے‘ بیچ میں ہی-“ نیرو وہیں بیٹھی تھی-اس کے پیروں کے پاس-

”میں کہاں گیا تھا- چلی تو تم گئی تھیں- میرے سپنے سے-“ روہن نیند میں بڑبڑایا-

”ہاں مگر سپنا تو تمہارا ہی تھا نا- تم نے وہ کیوں توڑ دیا- مجھے جانا پڑا-“

”تم سپنے میں ہی کیوں آتی ہو- اٹھ کر آجاﺅ نا-برابر والے کمرے میں ہی تو ہو-“ روہن نے جواب دیا-

نیرو نے یہیں پر اس کو سب کچھ بتانے کا ارادہ کر لیا تھا- اس کے دیو نے وعدہ جو کیا تھا- اس جنم میں اس کا ساتھ دینے کا-

”سمجھنے کی کوشش کرو دیو- میں وہ نہیں ہوں‘ جو تم سمجھ رہے ہو- وہ تو شروتی ہی ہے جسے تم اپنے سامنے بیٹھی دیکھ رہے ہو- میں دیو کی پریا درشنی ہوں اور اس جنم کی تمہاری نیرو-“

روہن کسی طرح اپنے آپ پر قابو پائے رہا-

اس کو سب کچھ جان لینا تھا- آج ہی- ”مطلب ہمارا پچھلے جنم سے کوئی رشتہ ہے؟-“

”پچھلے جنم کا نہیں- پچھلے کئی جنموں کا- پریا درشنی کے ہر جنم میں میں نے تمہارا انتظار کیا- مگر میں تمہیں اسی جنم میں ڈھونڈ سکی-“ نیرو نے جواب دیا-

”لیکن تم مجھے پہلے بھی تو ڈھونڈ سکتی تھیں- میرا مطلب ہے پچھلے جنموں میں-“ روہن نے اسے ٹوک دیا-

”ہاں- اور میں نے بہت ڈھونڈا بھی- مگر میری ایک حد ہے- ہم ایک دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے- دو مہینے پہلے تم اس گاﺅں کے پاس سے گزرے اور میں نے تمہیں پہچان لیا- تب سے میں اس بات کا انتظار کر رہی ہوں کہ تم کب آﺅ گے میرے پاس- اپنی نیرو کے پاس- ہمارا ملن کب ہوگا- اسی وجہ سے میںنے اس گھر میں رہنے والی لڑکی کا روپ چرایا- تاکہ تمہیں اس کے سراپے میں باندھ کر اپنے پاس لا سکوں- کیونکہ اس سے خوبصورت کوئی اور لڑکی مجھے آس پاس دکھائی نہیں دی-“ نیرو لگاتاربول رہی تھی کہ روہن نے اسے ٹوک دیا-

” لیکن اگر تم روح ہو تو ہم کیسے مل سکتے ہیں- بتاﺅ-“

”نہیں میں روح نہیں ہوں- میں بھی جنم لے چکی ہوں- کئی بار- اس بار بھی- نیرو کے روپ میں- صرف اس کا دل محل میں موجود اس لاکٹ میں اٹکا ہوا ہے جو دیو نے پریا درشنی کو دیا تھا- یعنی تم نے مجھے- پیار کی پہلی اور آخری نشانی کے روپ میں-“

”اب یہ لاکٹ کا کیا چکر ہے؟-“روہن نے اس کو پھر ٹوکا-

”وہ ایک لمبی کہانی ہے- ہمارے پیار کی- ہمارے ملن کی اور ملن پورا ہونے سے پہلے ہی ہماری جدائی- کبھی فرصت میں بتاﺅں گی-“ نیرو اب اس کا جواب سننے کے لئے بے چین تھی- روہن کو کچھ کچھ پلے پڑ رہا تھا- لیکن بہت کچھ نہیں-

”اور اب اصلی نیرو کو کون ڈھونڈے گا- کہاں کہاں بھٹکوں میں- اور کیوں بھٹکوں-“

”تمہیں بھٹکنے کی ضرورت نہیں ہے- ہر جنم میں وہ میرے اندر ہی رہی ہے- آخر میں بھی اس کا حصہ ہوں- عمر کوٹ کے ایک قصبے میں رہتی ہے وہ- گورنمنٹ کالج کے پاس گھر ہے اس کا- مجھے اس بات پر فخر ہے کہ ہر جنم میں وہ انجانے میں ہی سہی لیکن کنواری ہی رہی- تمہارے علاوہ میں نے کسی کے بارے میں سوچا تک نہیں دیو- تمہارے علاوہ مجھے کوئی چھو بھی نہیں پایا-“ نیرو کی آواز رندھ گئی-

”اوہ- اور میں؟-“ روہن کو اس کی عجیب مگر میٹھی سی کہانی میں مزا آنے لگا تھا-

”تمہارا مجھے نہیں پتہ- اور اس جنم کی کہانی تو تم خود ہی جانتے ہوگے-“ نیرو نے اس کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا-

”تو کیا وہ مجھے دیکھتے ہی پہچان لے گی-“ روہن کے دل میں سوالوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی-

”بس یہی ایک مسئلہ ہے- اس کے لئے تمہیں اس کو وہیں لانا ہوگا- محل میں-“ نیرو کے چہرے پر اداسی چھا گئی-

”اب یہ محل کا کیا چکر ہے؟-“ سوالوں میں سے ہی اتنے سوال نکل رہے تھے کہ پرانے سوال روہن بھولتا جا رہا تھا-

”جہاں تم گئے تھے – وہاں پیپل کا ایک پیڑ ہے- اس کے نیچے ہمارا محل ہے- تمہیں نیرو کو وہیں لے کر آنا ہوگا-“

”ایک منٹ- — ایک منٹ— جو لڑکی مجھے جانتی نہیں‘ پہچانتی نہیں- اس کو میں کیسے لا سکتا ہوں- اور وہ بھی ایسی جگہ پر جہاں کے بچے بھی اتنے خطرناک ہیں- “روہن کا سر چکرانے لگا تھا-

”اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے- لیکن اگر تم اس کے دل میں پیار جگاﺅ گے تو وہ آ سکتی ہے تمہارے ساتھ- تمہیں اس کا پیار بھی جیتنا ہوگا اور بھروسہ بھی- یہ کام تمہیں اپنے طریقے سے کرنا ہوگا-“

”مجھے نہیں پتہ کہ لڑکیوں کا دل کیسے جیتا جاتا ہے- اس معاملے میں میں ایک دم اناڑی ہوں- تم ہی کچھ بتاﺅ-“ روہن کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا-

” تم جب دیو تھے- تب بھی تم ایسے ہی تھے- شرمیلے اور جھینپو- لیکن تمہیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہوگا-“ نیرو اپنے دیو کی یادوں میں کھوکر مسکرانے لگی-

”سوری نیرو- یہ سب میں نہیں کر سکتا- کسی انجان لڑکی سے میں نے آج تک بات بھی نہیں کی ہے- اور تم اس کو یہاں لانے کو کہہ رہی ہو- یہ نہیں ہوسکتا- اور پھر اس کو بھی رات کو ہی لانا ہوگا- ہے نا؟-“

”ہاں دیو- یہ میری مجبوری ہے-“

”شٹ- ناممکن- ایسا کبھی نہیں ہو سکتا- اور پھر تم ہی بتاﺅ- میں تمہاری باتوں پر کیوں یقین کروں- اور یقین کر بھی لوں تو میں اتنی بڑی ٹینشن کیوں مول لوں؟-یہ جاننے کے بعد کہ تم کوئی بھٹکی ہوئی روح ہو- میرے دل میں تمہارے لئے ہمدردی کے علاوہ کچھ نہیں ہے- لیکن پھر بھی میں معافی چاہتا ہوں- میری زندگی سے نکل جاﺅ- تم نے میری ہنستی کھیلتی زندگی برباد کر دی ہے- میں پاگل سا ہو گیا ہوں- تمہاری بات کو سچ مان بھی لوں تو مجھے اب کچھ یاد نہیں ہے- پھر میں تو کسی بھی لڑکی سے پیار کر سکتاہوں- شادی کر سکتا ہوں- سچ بولوں تو میں صبح شروتی کے باپ سے اپنے رشتے کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں- میں نے اپنی زندگی میں ایسی ہی لڑکی کے سپنے دیکھے ہیں- جس کا چولا پہنے ابھی تم میرے سامنے بیٹھی ہو- مجھے اس سے پیار ہو گیا ہے- — تو کیوں نہ میں نیرو کے آگے پیچھے بے وجہ چکر لگانے کے شروتی پر ہی ڈورے ڈال لوں- پلیز میرا پیچھا چھوڑ دو- آج کے بعد میری زندگی میں مت آنا- میں تنگ آگیا ہوں تمہاری باتیں سن کر- میں اور کچھ جاننا نہیں چاہتا-“ روہن نے سیدھے اور بے رحم لفظوں میں اپنی بات کہہ دی- نیرو کا چہرہ سفید پڑ گیا- روہن کو اس بار پا کر بھی کھو دینے کے صدمے اور غصے سے وہ کانپنے لگی-

”دیو- تمہارے وعدے کا کیا ہوگا؟-“ نیرو کے منہ سے کہتے ہی سسکی نکلی-

”بھاڑ میں گیا وعدہ- مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے- مجھے مرنا نہیں ہے ابھی‘ جینا ہے- اپنے لئے- گھر والوں کے لئے-“

نیرو کھڑی ہوگئی-” ٹھیک ہے دیو- میں جا رہی ہوں- آئندہ کبھی نہیں آﺅں گی- میں نے تو یہ سوچ کر تمہیں کبھی خود کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیا کہ میرا دھارا ہوا یہ روپ کسی اور کا ہے- اس کو ہاتھ لگوا کر میں تمہیں ناپاک کرکے خود کو پاپ کا بھاگیدار نہیں بنانا چاہتی تھی- اگر تمہیں یہی پسند ہے تو لو- نوچ ڈالو ابھی اس کو- کر لو اپنی ہوس پوری-“

یہ کہتے ہوئے نیرو نے غصے سے گلے سے پکڑ کر اپنی قمیص کھینچ کر تار تار کر دی‘ شروتی بنی نیرو نیم برہنہ حالت میں نظریں جھکائے سسکیاں لے رہی تھی- روہن کی آنکھیں شرم سے جھک گئیں- اس کو یوں نظریں جھکاتے دیکھ کر نیرو نے کھڑے کھڑے ہی بولنا شروع کردیا-

”کاش تمہیں احساس کروا سکتی کہ تم کیا تھے- کاش تمہیں دیواور پریا درشنی کی محبت سے روبرو کروا پاتی- تمہیں دیو کے وعدے کی قیمت کا احساس ہوتا تو تم کبھی ایسا نہ کہتے- جان پر کھیل جاتے اپنی نیرو کو اپنے گلے سے لگا کر‘ اس کو کم سے کم اس جنم میں مکمل عورت بنانے کے لئے- بے شک اس کے پاس پریا درشنی کا دل نہیں ہے- پھر بھی اس نے دیو کو کیا وعدہ ہر جنم میں نبھایا ہے- بے شک وہ تمہارا انتظار نہیں کرتی- مگر کسی کا بھی انتظار نہیں کرتی وہ- اس جنم میں بھی ایسے ہی جائے گی- اور میرا کیا ہے؟– ´- کاش مجھے تمہارے دیئے گئے لاکٹ سے بھی اتنی ہی محبت نا ہوتی جتنی کہ تم سے ہے تو میری روح میرے دل کو بھی ساتھ لے کر نکل جاتی- یوں نہ تڑپتا رہنا پڑتا مجھے- جنم جنم— تمہارے آنے کے انتظار میں-“ نیرو نے بھرے ہوئے گلے سے کہا اور چپ چاپ سسکیاں لیتی روہن کے سپنے سے غائب ہوگئی- اگلی صبح بڈھے نے آکر روہن اور نتن کو اٹھایا- روہن کے سر میں درد ہو رہا تھا- رات کے سپنے کی باتیں اس کے دماغ پر اب بھی ہتھوڑے کی طرح بج رہی تھیں-

”کیا بات ہے؟— ٹھیک تو ہے نا-“ نتن نے اس کو اس طرح سر پکڑ کر بیٹھے دیکھا تو پوچھ لیا-

”نہیں بھائی- سب ٹھیک ہے- بس ایسے ہی سر میں درد ہو رہا ہے-“ روہن نے نتن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”تو اب چلیں یا تیری نیرو سے ملنے کی تمنا ہے-“ بڈھے کے واپس جاتے ہی نتن نے روہن کو چھیڑا-

”یار اس کا نام بھی مت لے میرے سامنے-“ روہن پھٹ پڑا-

”ارے میں تجھے فون کرکے ٹیلے پر بلانے والی لڑکی کی بات نہیں کر رہا- میں اس کی بات کر رہاہوں- شروتی کی- ملی تو یہی تھی نا تم سے- کافی پہلے- تم نے ہی تو بتایا تھا-“ نتن نے اس کو کھنگالنا شروع کیا-

”ابھی کچھ مت بول یار- پلیز- میرے سر میں درد ہے-“ روہن اب بھی اپنا سر پکڑے بیٹھا تھا-”چلو چھوڑو- تم ٹینشن کیوں لے رہے ہو- ابھی نکلتے ہی میں بس یہاں سے-“ روہن نے بات کو ٹالتے ہوئے کہا-”میں فریش ہوکر آتا ہوںیار- ٹوائلٹ کدھر ہے- کچھ آئیڈیا ہے-“ روہن کھڑا ہوتے ہوئے بولا-

”باہر نکل کر دائیں طرف سیدھا چلا جا-“

”تھینکس-“ کہہ کر جیسے ہی روہن باہر نکلنے کو ہوا- ان کے لئے چائے بنا کر لا رہی شروتی اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی-

”اوہ سوری-“ روہن ٹھٹھک کر کھڑا ہوگیا-

شروتی اس کے سامنے کھڑی ہوئی- کیا غضب کی مٹھاس تھی اس کے چہرے پر- شرم کے مارے وہ اپنی آنکھیں جھکائے کھڑی تھی-جب کافی دیر روہن یونہی خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا تو اسے بولنا ہی پڑا- ”جی چائے-“

”اوہ اندر رکھ دو- میں آتا ہوں ابھی- تھینکس-“ کہہ کر روہن اس کو راستہ دے کر باہر نکل گیا- شروتی چائے لے کر اندر گئی اور میز نتن کی طرف کھسکا کر چائے اس پر رکھ دی- مڑ کر جیسے وہ باہر جانے کے لئے پلٹی- نتن نے اس کو ٹوک دیا- ”کیا نام ہے تمہارا؟-“

شروتی کے قدم وہیں جم گئے- شرمیلی تھی لیکن پاگل نہیں تھی- اس کے بابا نے کتنی ہی بار اس کا نام لیا تھا ان کے سامنے- وہ سمجھ گئی کہ لائن مارنے کے چکر میں ہے- وہ دو پل کے لئے رکی اور پھر سے آگے بڑھنے لگی-

”نیرو—- یہ بھی تمہارا ہی نام ہے نا-“ نتن نے اس کے بڑھتے قدموں پر پھر سے روک لگائی-

”جی— جی نہیں-“ شروتی نے جواب دیا-

”روہن تمہارے لئے ہی یہاں آیا ہے-کوئی تمہارا نام لے کر اس کو یہاں بلا رہی تھی- تم ملے ہو نا پہلے–“

شروتی کو نتن کی باتیں سمجھ میں نہیں آرہی تھیں- وہ پلٹ کر کچھ بولنا چاہتی تھی لیکن اس کی ہمت نہ ہوئی- بنا پلٹے ‘ بنا رکے وہ باہر نکل گئی-

”عجیب لڑکی ہے-“ نتن بڑبڑایا- اور اخبار اٹھا کر پڑھنے لگا-

شروتی نے نتن کی آخر میں کہی گئی باتوں کو سن لیاتھا- کچھ دیر بعد روہن واپس آیا تو بڈھا وہیں بیٹھا تھا- روہن آتے ہی ٹھنڈی ہو چکی چائے اٹھانے لگا تو بڈھے نے اس کو روک دیا-”رہنے دو بیٹا- ٹھنڈی ہوگئی ہے- شروتی کہہ رہی تھی کہ وہ اور بنا کر لا رہی ہے-“

”ارے انکل جی- کیا ضرورت تھی پریشان ہونے کی-“ روہن نے اپنی بات ختم بہ نہیں کی تھی کہ شروتی وہاں حاضر ہوگئی- ٹرے میں ایک کب چائے لے کر- نتن نے آنکھوں ہی آنکھوں میں روہن کی طرف اشارہ کیا- جیسے کہہ رہا ہو کہ ”کیا بات ہے- تم پر تو بڑی مہربان ہے-“

اس بار شروتی سیدھی آکر روہن کے سامنے کھڑی ہوگئی اور ٹرے اس کی طرف بڑھا دی- روہن نے چہرہ اٹھا کر اس کی نظروں میں جھانکا- اس بار وہ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی- آنکھوں میں آنکھیں ڈالے- روہن اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہی گنگ سا رہ گیا-اپنی آنکھوں میں دنیا بھر کی خوشیاں سمائے وہ اس کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتی رہی- جب کافی دیر تک روہن نے ٹرے نہیں پکڑی تو شروتی کو کہنا ہی پڑا- ”چائے لیجئے-“

روہن نے چونکتے ہوئے کہا- ”اوہ ہاں-“ روہن جھینپ سا گیا- شروتی کے بابا وہاں نہیں بیٹھے ہوتے تو نتن کوئی نا کوئی جملہ ضرور دیتا‘ ان کے آنکھیں چار کرنے کے انداز پر-

”اچھا انکل جی- اب ہم نکلنے کی تیاری کرتے ہیں- بتا سکتے ہیں کہ پنکچر لگانے والا کہاں مل سکتا ہے-“

”ارے جلدی کیا ہے بیٹا- کھانا وانا کھا کر نکل جاتے- “ بڈھے نے مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا-

”نہیں انکل جی- پہلے ہی آپ—- ویسے بھی ہم لیٹ ہو رہے ہیں- پنکچر بھی لگوانا ہے- جانے کہاں ملے گا- ہمیں اب اجازت دیجئے-“

”ٹھیک ہے بیٹا- جیسے تمہاری مرضی- پنکچر کی ایک دوکان اگلے گاﺅں میں ہے-“ بڈھے نے بتایا ہی تھا کہ باہر سے شروتی کی آواز آئی-

”ذرا باہر آنا-“

”ایک منٹ-“ بڈھا یہ کہہ کر باہر نکل گیا-

روہن کے کپ رکھتے ہی وہ دونوں بھی یونہی باہر نکل کر گاڑی کے پاس آگئے-

”نتن- یہ کیسے ہوا؟— تم نے رات کو ٹھیک سے دیکھا تھا نا-“ روہن اچھل پڑا-

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خون ریز۔۔۔امجد جاوید ۔۔۔قسط نمبر5

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر5 صبح میری آ نکھ کھلی تو ارم کے بیڈ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے