سر ورق / کہانی /  کھڑکی خوابوں کی حمیرا تبسم حصہ دوم

 کھڑکی خوابوں کی حمیرا تبسم حصہ دوم

 کھڑکی خوابوں کی

حمیرا تبسم

حصہ دوم

میں کچھ نہیں جانتا بس تم چاہو تو اپنی امی کو منا سکتی ہو ورنہ بھول جاﺅ مجھے،،حارث درشتی سے بولا تو زوبارےہ کی جان ہی نکل گئی ،اس نے پھر سے کوشش کرنے کا وعدہ کیا اور ےقین دہانی کروائی کہ امی مان جائیں گی۔

اس کے چچا اور چچی نے ےہ کہہ کہ انکار کر دیا کہ انکا بیتا جنید زوبارےہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا کسی اور لڑکی کو پسند کرتا ہے تو زبیدہ بیگم کافی پریشان ہوئیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی حارث کے رشتے کے لیے ہاں کہہ دی۔زوبارےہ نے جلدی سے حارث کو خوشخبری سنائی تو وہ اپنی امی کو لیکر انکے گھر آ گیا ،اسکی امی برا سا منہ بنائے ناقدانہ نظروں سے انکے گھر کا ہی جائزہ لیتی رہی۔دوسرے ہی دن انکا نکاح ہو گیا اور وہ رخصت ہوتے ہوئے زبیدہ بیگم کے گلے لگی بے حد روئی۔زبیدہ بیگم ویران آنکھوں سے بت بنی کھڑی رہیں۔

امی مجھے دعا نہیں دیں گی ؟ زوبارےہ نے روئی اور سوجی آنکھوں سے انہیں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ رخ موڑتے ہوئے سخت لہجے میں بولیں

جو بیٹیاں ماں باپ کے گھر سے بھاگ جائیں انکو دعا نہیں دی جاتی ،

امی کے منہ سے اتنی سخت بات سنتے ہی وہ سناٹے میں آ گئی جھٹ سے انکے مقابل آن کھڑی ہوئی اور روتے ہوئے بولی

امی ،،میں تو رخصت ہو رہی ہوں ،بھاگ تو نہیں رہی،

اپنی مرضی کرنا،ماں باپ کی عزت خاک میں ملانا،اور کسی عورت کا گھر اجاڑنا بھاگنے جیسا ہی تو ہوتا ہے،،

زبیدہ بیگم نے اسکے چہرے سے نگاہیں ہٹا دیں اوراور غم سے چور لہجے میں بولتی ہوئی کمرے میں چلی گئیں تو زوبارےہ بت بنی انکے قدموں کو گنتی رہی جبکہ حارث زبیدہ بیگم کا ےہ روےہ دیکھ کر دل میں ارادہ کر چکا تھا کہ وہ زوبارےہ کو ےہاں زیادہ نہیں آنے دے گا۔

حارث نے واقعی زوبارےہ کو کسی شے کی کمی نہیں دی اسے ہنی مون کے لیے نیو ےارک لے گیا ،انکا ہر دن عید ہوتا تھا ۔لیکن جلد ہی وہ بدلنے لگا زیادہ تر وقت اپنی پہلی بیوی کے پاس گزارتا اور وہ تنہا رہتی کبھی تو راتوں کو ڈر جاتی اور جب شکوہ کرتی تو وہ لڑائی کرتا اور الٹا اسی سے شکوہ کرتا۔اسے امی سے بھی نہ ملنے دیتا ان دو سالوں میں وہ چار مرتبہ امی سے ملی تھی لیکن زبیدہ بیگم کا روکھا لہجہ دیکھ کر لوٹ آتی ،زبیدہ بیگم ابھی تک خفا تھیں اس سے۔حارث کے دوستوں کا حلقہ احباب بھی خاصہ وسیع تھا زیادہ تر تو لڑکیاں ہی شامل تھیں زوبارےہ جلے دل کے ساتھ ےہ سب برداشت کرتی رہتی لیکن ایک لفظ تک نہ بولتی،حارث آئے دن انکی دعوت کرتا رہتا،جب زوبارےہ نے نیلم کو بھی دعوت پہ بلانے کی بات کی تو حارث نے منع کر دیا

جانتی ہو نیلم نے تم سے بات کروانے کے عوض مجھ سے کافی رقم بٹوری تھی،اور مجھے منع بھی کیا تھا کہ تم سے شادی نہ کروں صرف ٹائم پاس کروں، اور ویسے بھی بلانا بھی چاہو تو وہ نہیں آ سکتی،کیونکہ مجھے معلوم ہوا ہے وہ کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے،اور اسکی ماں مارے صدمے کے گھر تبدیل کر چکی ہے،الللہ بچائے ایسی گھٹیا لڑکیوں سے جو ماں باپ کی عزت نیلام کر دیتی ہیں۔حارث نے نیلم کے بارے میں نیا انکشاف کرتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگایا ،

ےہ بات سنتے ہی زوبارےہ سکتے میں آ گئی اور ندامت سے سر جھکا لیا گھر سے بھاگنے والی بات تو اس نے بھی اپنی امی سے کی تھی شکر ہے حارث کو ےہ بات معلوم نہ ہو سکی ورنہ نہ جانے کیا ہوتا ،اسے نیلم سے اس فعل کی امید ہرگز نہ تھی۔اسے اب سمجھ آنے لگ گیا کہ امی اس سکے گھر جانے پہ کیوں منع کرتی تھیں ۔زوبارےہ کے پاس دولت تو تھی لیکن سکون نہیں تھا۔اسکے خواب سراب بن گئے تھے جن میں وہ بھٹک گئی تھی۔حارث کبھی تو بہت ہی اچھا بن جاتا لیکن اچانک ہی جنونی ۔سجاول کا نام لیکر اس پہ شک کرتا تو وہ تڑپ ہی اٹھتی۔

آج کئی ماہ گزر جانے کے بعد وہ امی سے ملنے جا رہی تھی،تھوڑی دیر کے لیے سر سیٹ کی پشت سے لگایا تھا اور ماضی کے اوراق پلٹتے چلے گئے ۔آنکھ تب کھلی جب کار ایک جھٹکے سے رکی تو سامنے وہی گلی تھی جہاں اسکا بچپن گزرا تھا۔اسکے گھر کا وہی دروازہ تھا جو ہمیشہ اس پہ مہربان رہا وہ ایک جھٹکے سے کار کا دروازہ کھولے باہر نکلی اور حارث کو بھی آنے کا کہا لیکن وہ تنفر بھری نگاہ اس پہ ڈالتا ہوا کار زن سے بھگا لے گیا۔لیکن آج وہ خود میں بے پناہ ہمت سمیٹے اسے جاتا دیکھتی رہی ۔

           ٭٭٭

اس نے جیسے ہی دروازے بجانے کے لیے ہاتھ بڑھایا،دروازہ خود ہی وا ہو گیا وہ دھڑکتے دل کے ساتھ جیسے ہی اندر گئی ایک تین سالہ بچے سے ٹکرا گئی،خوبصورت سا معصوم بچہ اسکو دیکھ کے سہم سا گیا جبکہ زوبارےہ کے سینے میں پنپتی ممتا امڈ آئی اس نے بے اخیتار ہی بچے کو چھونا چاہا کمرے سے باہر آتی زبیدہ بیگم ایک لمحے کو ٹھٹکی،زوبارےہ کی نگاہ جیسے ان پہ پڑی وہ دوڑتی ہوئی زبیدہ بیگم کے گلے سے جا لگی اور کسی بچے کی مانند آنسو اسکے گال بھگونے لگے۔دل ہی دل میں اپنی بیٹی سے خفا زبیدہ بیگم کا دل پسیج گیا۔وہ زوبارےہ سے لاکھ خفا صیح لیکن تھیں تو ماں ناں ،اور ماں کا سینہ بے حد فراخ ہوتا ہے جو اولاد کو سینے سے لگا ہی لیتا ہے۔

خالہ ،معیز کہاں ہے،میں نے کہا بھی تھا کہ اسکے لاڈ مت اٹھایا کریں بہت تنگ کرے گا،،،اچانک کمرے میں سے نکلتی عالےہ نے عجلت میں زبیدہ بیگم کو آواز دی تو سامنے کا منظر دیکھ کر وہیں کھڑی رہی اسکے پیچھے سانول بھی تھا،وہ بھی ٹکٹکی باندھے اتنے سالوں بعد زوبارےہ کو دیکھنے لگا۔

اب روتی ہی رہو گی ےا اندر چل کے بیٹھو گی بھی ،زبیدہ بیگم نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے شیرینی لہجے میں کہا تو زوبارےہ کی آنکھیں نیم ہو گئیں،اس نے نگاہ اٹھا کے سامنے دیکھا جہاں عالےہ اور سانول کھڑے اسے ہی دیکھ رہے تھے،اس سے پہلے کہ وہ عالےہ کو گلے لگاتی عالےہ نے خود ہی آگے بڑھتے ہوئے اسے گلے سے لگا لیا ،

اچھا ہوا تم آ گئی ورنہ خالہ تو ہر وقت تمہیں ہی ےاد کرتی ہیں ،کیا حارث بھائی نہیں آئے،عالیہ نے متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا لیکن ناکام ہو گئی،

وہ آفس کے کام میں مصروف ہوگا اس لیے نہیں آ سکا ،تم لوگ اندر چل کے بیٹھو میں شربت بناتی ہوں گرمی بھی تو بہت ہے،زبیدہ بیگم نے عالےہ کے سوال پہ پریشان صورت بنائے کھڑی زوبارےہ کو پیار سے دیکھا اور خوبصورتی سے بات تبدیل کرلی،زوبارےہ نے مسکرا کے تشکر بھری نگاہ امی کی جانب ڈالی اور انکے ساتھ کمرے میں چلی آئی،سانول بھی ننھے معیز کو سنبھالے انکے پیچھے چلا آیا،

آپ کیسے ہیں ،زوبارےہ نے سوال پوچھا تو سانول نے اسکی آنکھوں میں جھانکا جیسے پوچھ رہا ہو تم کیسا دیکھنا چاہتی ہو ،لیکن جلد ہی نگاہیں جھکاتے ہوئے بولا

بالکل ٹھیک ہوں ،عالےہ نے میری زندگی جنت بنا دی ہے،اسکے لہجے میں عالےہ کے لیے مٹھاس تھی ،زوبارےہ نے بغور اسکا مشاہدہ کیا،وہ پہلے ولا سانول تو کہیں کھو ہی چکا تھا،اسکی شخصیت میں جھلکتا وقار خوشیوں بھری زندگی کو ظاہر کر رہا تھا،وہ بات بھی پر اعتماد لہجے میں کر رہا تھا اور اسکی آنکھوں سے وہ وارفتگی مفقود تھی جو کبھی زوبارےہ کے لیے ہوتی تھی،اب اسکی آنکھوں سے عالےہ کی محبت کا عکس جھلک رہا تھا،جبکہ عالےہ پہلے سے بھی زیادہ نکھر چکی تھی۔معیز کی صورت میں انکی زندگی مکمل ہو چکی تھی۔

زوبارےہ کے دل میں پچھتاوا کچوکے لگا رہا تھا،بہت کچھ کھونے کا احساس اسکی آنکھوں سے عیاں ہو رہا تھا،وہ نگاہیں جھکائے خاموش بیٹھی تھی،جن خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے اس نے کئی دل توڑے تھے اب وہ ان سے شرمندہ تھی،حارث تو اسے ماں بننے کی اجازت بھی نہیں دیتا تھا اس کے خیال میں اسکی پہلی بیوی سے دو بچے تھے وہ مزید بچے نہیں چاہتا تھا،اس لیے زوبارےہ کی گود ابھی تک خالی تھی۔نٹ کھٹ سے معیز نے جب اسکی ساڑھی کا پلو پکڑا تو زوبارےہ نے اسے گود میں لیتی ہی چوم ڈالا ،اسکی پیاسی ممتا سراب ہونے لگی،سانول نے ایک لمحہ لگایا سب سمجھنے میں ،زوبارےہ کی آنکھوں سے امڈتا درد ،چہرے پہ نارسائی کا کرب،لبوں پہ پھیکی مسکراہٹ ،سب ہی تو نقلی لگا اسے،اور ےہ سب محسوس کرنے کے بعد سانول نے اپنا دل ڈوبتا دیکھا تو کچھ ہی دیر میں عالےہ اور معیز کو لیے واپسی کی اجازت مانگی،زبیدہ بیگم انہیں روکتی رہ گئیں ،لیکن وہ نہ رکا اور واپس چلا گیا ،عالےہ سانول کی اچانک واپسی کے فیصلے پہ چونک سی گئی لیکن کوئی سوال نہ پوچھا کینونکہ اسکی سرشت میں شوہر کا کہنا ماننا شامل تھا اس لیے وہ بھی زوبارےہ کو اپنے گھر آنے کا کہہ کے روانہ ہو گئی،اب کمرے میں سوائے زوبارےہ اور زبیدہ بیگم کے کوئی نہ تھا۔

زبیدہ بیگم نے محسوس کیا ،کہ زوبارےہ کے چہرے پہ تھکن کے ساتھ ساتھ دکھ بھی رقم تھا۔انکا دل مٹھی میں بند ہونے لگا،

امی مجھے معاف کر دیں،میں نے آپکا دل دکھایا،اب دیکھیں نہ میں کتنی اکیلی ہوں،زوبارےہ کی آنکھوں میں آنسو در آئے اور وہ شکست خوردہ انداز میں ہاتھ جوڑتے ہوئے انکے سامنے بیٹھ گئی۔اسکا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ،وہ پچھتاوے اور کرب کی انتہا پہ تھی۔زبیدہ بیگم نے نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اسکے ہاتھ مظبوطی سے تھامے،

دیکھو بیٹا،میں نے تو ہمیشہ تمہیں سمجھانا چاہا کہ زندگی کا فیصلہ سوچ سمجھ کہ کرنا چاہیے لیکن تم نہیں سمجھی ،ہمیشہ اپنی مرضی کی ،اور اب بیٹھی رو رہی ہو،ےہ سوچے بنا کہ تمہیں ےوں روتا دیکھ کے مجھے کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی۔

زبیدہ بیگم نے نرم لہجے میںشکوہ کرتے ہوئے دوپٹے کے پلو سے اسکے آنسو صاف کیے،،،

امی ،حارث کئی دنوں تک اپنی پہلی بیوی کے ہاں رہتا ہے،مجھے تنہائی کاٹتی ہے،اور اولاد بھی نہیں چاہتا۔زوبارےہ نے بمشکل بات مکمل کی اور نگاہ چرا گئی،

ظاہر ہے وہ پہلی بیوی کے پاس ہی رہے گا،اور اسکے پہلے سے ہی بچے موجود ہیں پھر وہ تم سے کیونکر بچے چاہے گا ، بیٹا قصور اسکا نہیں تمہارا ہے۔اس نے تمہیں بتایا بھی تھا کہ وہ شادی شدہ ہے پھر تم کیوں اسکی جانب مائل ہوئی،اور اب اسے ہی موردالزام ٹھہرا رہی ہو ،بری بات۔

زبیدہ بیگم نے اسے سمجھانا چاہا۔

زوبارےہ امی کے منہ سے کڑوا سچ سنتے ہوئے ندامت سے سر جھکا گئی،لیکن دل میں ابھی ،بھی حارث سے بدظن تھی،وہ اس موڑ پہ تھی جہاں سے واپسی کے تمام راستے دھندلے تھے ےا پھر بند،پھر بھی لوٹنا چاہتی تھی،۔بیتے دنوں کو پھر سے کشید کرنا چاہتی تھی۔جو رشتہ اس نے محبت سے سینچا تھا اب وہی اسے بوجھ لگنے لگا تھا۔وہ اب اکتا چکی تھی۔اور دل کے نہہ خانے میں سجاول کو کھونے کا دکھ بھی ابھرنے لگا تھا۔وہ خود کو اس سے برتر سمجھتی تھی لیکن بھول چکی تھی کہ کایا پلٹ بھی سکتی ہے۔بے اعتنائی کے خود کے کھودے گڑھے میں وہ خود بھی گر سکتی ہے،۔وہ دل ہی دل میں امی سے آنے کا مقصد بیان کرنے کے لیے مناسب الفاظ جوڑنے لگی۔

امی،میں حارث کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی،وہ ہر وقت مجھے کم مائیگی کا طعنہ دیتا ہے ،دل چاہے تو پیار سے بات کرتا ہے ورنہ خوامخواہ ہی موڈ خراب کر لیتا ہے،مجھے اس سے کچھ نہیں ملا سوائے دولت کے،اور میں آپ کے پاس لوٹ آنا چاہتی ہوں ،میں پھر سے نئی زندگی کی شروعات کرونگی۔ بولتے ہوئے زوبارےہ کو اپنے ہی الفاظ اجنبی لگے۔اسکی بات سنتی زبیدہ بیگم دہل سی گئیں۔انکا دل صدمے کی زد میں تھا۔

غم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ انکی آنکھوں سے عیاں تھا۔وہ بے ےقینی سے تواتر سے بولتی زوبارےہ کو دیکھنے لگیں ۔

انکا دل چاہا ایک زوردار تھپڑ اسکے منہ پہ دے مارے جو نہ جانے چاہتی کیا تھی،نہ جانے اور کتنے امتحان باقی تھے زلت و رسوائی کے۔

تم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو ،میرے سر میں پھر سے خاک ڈلواﺅ گی کیا،پہلے ہی لوگوں کی زبان بڑی مشکل سے بند ہوئی ہے۔زبیدہ بیگم بولتے بولتے ہانپنے لگیں زرا دیر رک کے گہری سانس لی اور پھر سے گویا ہوئی،

اور تم خود کو تنہا کہتی ہو،تنہائی اور دکھ کیا ہوتا ہے مجھ سے پوچھو،تمہارے باپ کے فوت ہوجانے کے بعد میں نے کتنی محنت کی اور اپنی عزت بچاتے ہوئے کیسے تمہیں پالا،تم کیا جانو۔خدا نے بیٹا نہیں دیا تھا دل میں ارمان ہی رہ گیا ،لیکن سجاول کو بیٹا سمجھا تمہاری شادی اس سے کرنی چاہی لیکن تم نے بے لگام خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے اسے ٹھکرا کہ انجان راہ پکڑ لی۔آج اگر سجاول نہ ہوتا تو میں گھٹ گھٹ کے مر چکی ہوتی،وہ تو مجھے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے میں اس پہ بوجھ نہیں بننا چاہتی،بہت بڑا ظرف ہے اس بچے کا،اور تم ایک غلطی سدھارنے کے لیے دوسری بڑی غلطی کرنے کا سوچ رہی ہو ؟ اپنے ماتھے پہ طلاق شدہ عورت کا کلنک لگا کے پھر بدنام ہونا چاہتی ہو،ےا سوچتی ہو میں زندہ کیوں ہوں ؟ زبیدہ بیگم نے روتے ہوئے ملامتی نگاہ اس ڈالی،زوبارےہ حیرت سے دونوں آنکھیں کھولے انکو دیکھ رہی تھی اور سن رہی تھی،انکے لہجے سے دکھ ٹپک رہا تھا،بوڑھے جھریوں زدہ چہرے پہ صدیوں جیسی تھکان تھی،وہ بولنے پہ آئیں تو بس بولتی ہی چلی گئیں۔زوبارےہ نے سوچا تھا شاےد امی اسکی تائید کریں گی اب اپنی ہی سوچ پہ پچھتا رہی تھی،زبیدہ بیگم کے الفاظ اسے پتھر کی مانند لگے تھے۔خود احتسابی کا آئینہ اسکا عکس دکھانے لگا تھا،زبیدہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو ایسے بہہ رہے تھے جیسے آج ہی ختم ہونے ہوں،زوبارےہ تڑپ ہی اٹھی ،وہ انہیں مزید کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی تھی،

امی ،آپ جیسا کہیں گی میں ویسا ہی کرونگی۔آپ روئیں تو ناں۔میں وعدہ کرتی ہوں کہ جو آپ چاہیں گی وہی ہوگا،زوبارےہ نے انکے سینے سے لگتے ہوئے ےقین دلانا چاہا۔

تو پھر ٹھیک ہے ،فیصلہ ہو گیا۔تم حارث کے پاس لوٹ جاﺅ،وہ اتنا برا بھی نہیں ہے جتنا تم نے سمجھ رکھا ہے۔انسان غلطیاں ضرور کرتا ہے لیکن اسکی معافی بھی ہوتی ہے۔آپس میں الجھتے رہنے سے رشتے کمزور ہوتے ہیں سوائے جگ ہنسائی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا بہتر ہے تم محبت،تحمل مزاجی اور سمجھوتے سے رشتے کو مظبوط کرو،حارث کو ےقین دلاﺅ کہ وہ تمہارے لیے اہم ہے،دیکھنا وہ بہت چاہے گا تمہیں،اور اسے ٹوکنا چھوڑ دو۔زبیدہ بیگم اسے سمجھا رہیں تھیں اور وہ انکی باتوں کو دل میں اتار رہی تھی،عمل کرنے کا سوچ رہی تھی،اسکے دل میں اجاگر تمام شکوے،وہم،محبت میں بدلنے لگے تھے۔وہ امی کو تشکر بھری نظر سے دیکھ رہی تھی،اپنی طرف ےوں ٹکٹکی باندھے دیکھتا پا کہ زبیدہ بیگم کو اس پہ بے اختیار پیار آیا تو انہوں نے جھٹ سے اسکی پیشانی چوم ڈالی،امی کے نرم اور ممتا سے بھرپور لمس پہ زوبارےہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔

میں کھانا بناتی ہوں،حارث کو فون کرو کہ تمہیں لینے آئے،ایسا نہ ہو وہ سوچے ماں کے گھر جا کہ تم اسے بھول جاتی ہو،زبیدہ بیگم نے اسے خود سے الگ کیا اور وہاں سے اٹھ گئیں۔

پہلی ہی بل پہ حارث نے فون اٹھا لیا،زوبارےہ نے اسے کہا کہ مجھے لے جاﺅ تو وہ جی بھر کے حیران ہوا،ورنہ اسے تو وہ زوبارےہ ےاد تھی جو شکوہ ہی کرتی رہتی اور امی کے گھر جا کے پلٹنے کا نام نہ لیتی،اگر وہ بدلی تھی تو حارث نے بھی بدلنے کا سوچا،

چلو ٹھیک ہے،تم امی کے ساتھ مل کے رات کا کھانا تیار کرو ،میں آ رہا ہوں کھانا مل کے کھائیں گے اور رات بھی تمہاری امی کے ہاں رہیں گے،وہ ےہ کہتے ہوئے مسکرا رہا تھا جبکہ زوبارےہ کو اسکی بات سن کے خوشی بھرا شاکڈ لگا،وہ ورطہ حیرت میں گھری حارث کی بات کا ےقین کرتی رہی،کال بند ہو چکی تھی اس نے مسکراتے ہوئے موبائل کو دیکھا،اور اپنے اس گھر کے کچے آنگن کو جس سے اسکی ےادیں جڑیں تھی،ایک آسودہ سانس خارج کی ،دل سے ایک بوجھ سا سرکا تھا۔مغرب کی ازان سنتے ہی وہ وضو کرنے چلی گئی اسکا ارادہ کے آگے سجدہ شکر ادا کرنے کا تھا،۔

           ٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ماسی منظورہ۔!…عروسہ وحید

ماسی منظورہ۔! عروسہ وحید                 ”ہائے ہائے قسمت پھوڑ ڈالی میری ماں نے مجھے یہاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے