سر ورق / Uncategorized / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 41 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 41 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 41

سید انور فراز
زندگی کے اونچے نیچے راستوں پر سفر جاری رہتا ہے اور انسان بالآخر اپنی حقیقی منزل تک پہنچ جاتا ہے جسے عرف عام میں موت کہا جاتا ہے، حالاں کہ اردو کے عظیم شاعر میر تقی میر نے موت کوبھی ایک عارضی منزل قرار دیا ہے، وہ کہتے ہیں ؂
موت اک زندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ کا سفر بھی اس ماہ خاصا ناہموار رہا، ذاتی مصروفیات اور کچھ مزاجی کیفیات کے باعث ہم نئی قسط شروع ہی نہیں کرسکے، امجد جاوید صاحب اور دیگر احباب نے یاد دہانی بھی کرائی لیکن گزشتہ دو ہفتے سے کچھ بھی لکھنے کی توفیق نہ ہوئی، 10 فروری یار طرح دار جمال احسانی کا یوم وفات تھا، آئی جو اس کی یاد تو آتی چلی گئی، چند سطور نہایت اختصار کے ساتھ لکھ کر فیس بک پر ایک پوسٹ لگائی اور اب گویا ماضی کے جھروکے کھلنا شروع ہوگئے ہیں، بہت سی باتیں ، بہت سے قصے یاد آرہے ہیں۔
قسط نمبر 40 میں علیم الحق حقی کے انتقال پرملال کا ذکر تھا لیکن ہماری آنکھوں نے ایسے کئی تکلیف دہ، جاں سوز واقعات دیکھے اور سنے، کیسے کیسے لوگ دیکھتے ہی دیکھتے اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور اپنی یادیں، اپنی باتیں، اپنے کارنامے سب چھوڑ گئے، ہمارے لیے یہ سب لوگ آج بھی زندہ ہیں، آج بھی ان کی باتیں یاد آتی رہتی ہیں، آنکھوں میں وہ منظر تازہ ہوتے رہتے ہیں جو کبھی دیکھے تھے، اب ایک خواب بن چکے ہیں۔
ابو ضیا اقبال کا تذکرہ ابتدا میں خاصی تفصیل کے ساتھ ہوچکا ہے، سرگزشت کے اجرا کے بعد وہ دوبارہ ادارے سے باقاعدہ طور پر وابستہ ہوگئے تھے، انھیں واپس لانے کے لیے ہم نے ہی معراج صاحب کو آمادہ کیا تھا اور معراج صاحب بھی دل سے ان کی عزت کرتے تھے، عمر میں وہ ہم سے بڑے تھے، دفتر میں پابندی سے آتے، ان کے لیے ایک علیحدہ ٹیبل مخصوص تھی لیکن دفتری نوعیت کا کوئی کام ان کے ذمے نہ تھا، البتہ بعض مسودات میں ترمیم و اصلاح کا کام ان کے ذمے تھا، اکثر ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والی کسی ایسی کہانی کو ری رائٹ کرنے کی ذمے داری بھی ان پر تھی جس میں کوئی اچھا آئیڈیا یا موضوع ہوتا، اس کے علاوہ ابو ضیا اقبال صاحب ترجمے کا کام بھی کرتے اور طبع زاد کہانیاں بھی لکھتے تھے لیکن اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ طبع زاد کہانیوں میں ان کا ایک مخصوص اور محدود انداز تھا، وہ بنیادی طور پر کلاسیکل روایات سے جڑے ہوئے تھے، ہلکے پھلکے معاشرتی موضوعات پر کہانیاں لکھتے تھے، ڈائجسٹوں کے لیے انھوں نے ترجمے کا کام زیادہ کیا،کوئی طویل کہانی انھوں نے طبع زاد نہیں لکھی، چھوٹی چھوٹی کہانیاں جو معاشرتی مسائل سے متعلق ہوتی تھیں، لکھتے رہتے تھے کبھی کبھی کسی طویل ناول کی تلخیص کا کام بھی ان کے سپرد کردیا جاتا تھا، ہمیں یاد کہ جمیلہ ہاشمی کے ناول دشتِ سوس کی تلخیص بھی انھوں نے کی تھی جو مشہور صوفی منصور بن حلّاج سے متعلق تھا، اسی طرح چوں کہ انھیں فارسی زبان پر بھی دسترس حاصل تھی تو ایک فارسی کا طویل ناول بھی انھوں نے ترجمہ کیا تھا جو ماہنامہ سرگزشت میں شائع ہوا، ناول کا نام یاد نہیں رہا،شاید ابن الوقت تھا، الغرض ایسے ہی کام ان کے ذمے رہے۔
***
دفتر میں وہ کسی سے زیادہ بے تکلف کبھی نہیں رہے،البتہ ہم سے ضرور بے تکلفی اور محبت کا رویہ رہا، ایک بار سیاست پر گفتگو ہورہی تھی، ساجد امجد اور غلام قادر بھی بیٹھے تھے، ساجد نے اپنے کالج کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا کہ ایک لیکچرار اپنے محلے میں ایم کیو ایم کے کم عمر لڑکوں کی شرارت اور زیادتی کا ذکر کر رہے تھے اور بتارہے تھے کہ ان لڑکوں نے زندگی عذاب کرکے رکھ دی ہے،یہ ماجرا سن کر ایک دوسرے لیکچرار نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ ان لڑکوں سے نہ الجھیں بلکہ ان کی شکایت نائن زیرو پر کریں، وہ ہی انھیں کنٹرول کریں گے، یہ بات سن کر ایک تیسرے لیکچرار نے دلچسپ لقمہ دیا، وہ بولے ’’کوئی فائدہ نہیں ہوگا، ان کے بڑے بھی اتنے ہی بڑے ہیں‘‘
اس پر ایک زبردست قہقہ لگا، سب نے اس جملے کا لُطف اٹھایا، ابو ضیا صاحب جو اکثر خاموش ہی رہا کرتے تھے اور کسی بحث میں حصہ نہیں لیتے تھے لیکن اچانک بول پڑے، کہنے لگے ’’ ایم کیو ایم اردو بولنے والوں کی پیپلز پارٹی ہے، ان کے طور طریقے اور لچھن بھی پیپلز پارٹی والوں جیسے ہی ہیں‘‘
یہ گیند سیدھی غلام قادر کی وکٹوں میں لگی اور وہ سیدھے ہوکر بیٹھ گئے، ہمیں نہیں یاد کہ جواباً انھوں نے کیا کہا لیکن اس کے بعد دونوں کے درمیان ایسی بحث چھڑی جو تھوڑی سی تلخ ہوگئی، آخر ہمیں مداخلت کرنی پڑی، غلام قادر پیپلز پارٹی کے حوالے سے خاصے حساس تھے اور ہیں جب کہ ایم کیو ایم کے سخت مخالف تھے، شاید کم لوگ یہ بات جانتے ہوں گے کہ 1988 ء میں ہونے والے الیکشن میں غلام قادر نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کا الیکشن بھی لڑا تھا جس میں وہ ناکام رہے تھے کیوں کہ وہ ایم کیو ایم کے عروج کا دور تھا۔
ابو ضیا اقبال ایگزیما کی پرانی بیماری میں مبتلا تھے، کبھی کبھی یہ بیماری شدت اختیار کرلیتی اور اس کے اثرات ان کے چہرے پر بھی نظر آنے لگتے، ہم چوں کہ ہومیوپیتھی کے اسیر ہوچکے تھے اور ہمارے اولین ہومیوپیتھک استاد ڈاکٹر حنیف اسعدی حیات تھے، چناں چہ ہم نے ابو ضیا صاحب کو مشورہ دیا کہ آپ اپنا ہومیو پیتھک علاج کرائیں اور انھیں حنیف اسعدی صاحب کے پاس لے گئے۔
اسعدی صاحب ڈاکٹر سے زیادہ ایک سچے شاعر تھے اور نعت گوئی میں پاکستان کے چند گنے چنے افراد میں ایک ممتاز مقام کے حامل تھے،وہ بڑے تپاک سے ملے، ایسے مریضوں سے مل کر وہ بہت خوش ہوتے تھے جو کوئی ادبی یا شعری ذوق بھی رکھتے ہوں لہٰذا انھوں نے سب سے پہلے ابو ضیا صاحب کو اپنے کلام سے مستفید کیا اور پھر دوا دی، ہومیو پیتھک دوا خصوصاً ایسے جلدی امراض میں مرض کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے بڑھاوا دیتی ہے، چناں چہ ہفتہ بھر ہی میں ابو ضیا صاحب کا مرض مزید بڑھ گیا اور وہ گھبراگئے، انھوں نے علاج چھوڑ دیا اور فوری طور پر کسی ایلوپیتھک ڈاکٹر سے اینٹی بائیوٹک کا کورس شروع کردیا۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ قلم کے مزدور تھے اور ان کے معاشی حالات ایسے نہیں تھے کہ وہ چند روز بھی اپنے روزی روزگار کی مشقت کو ترک کرسکیں، کئی روز وہ دفتر نہ آسکے، ہمیں فون کرکے اپنی طبیعت کی خرابی کی اطلاع دے دی تھی اور جب اینٹی بائیوٹک کورس کے نتیجے میں بیماری دب گئی تو دوبارہ دفتر آئے، ہم نے حال احوال پوچھا تو انھوں نے صورت حال سے آگاہ کیا جس پر ہم تھوڑے سے ناراض بھی ہوئے اور ان سے کہا کہ جناب اس طرح اس بیماری سے مکمل طور پر جان نہیں چھوٹے گی، آپ کو تھوڑے سے صبروتحمل اور برداشت کے ساتھ ہومیوپیتھک علاج جاری رکھنا چاہیے، جواباً انھوں نے معصومیت کے ساتھ وعدہ کیا کہ ہاں میں دوبارہ ہومیو پیتھک علاج ضرور کراؤں گا لیکن فی الحال یہ ممکن نہیں ہے کیوں کہ معراج صاحب نے کچھ فوری ضرورت کے کام میرے سپرد کیے ہوئے ہیں، ان سے فارغ ہونے کے بعد میں دوبارہ اسعدی صاحب کے پاس جاؤں گا۔
اصل بات یہ ہے کہ ان کے حالات اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتے تھے کہ وہ ہفتہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ اپنے فرائض منصبی سے دور رہیں اور گھر پر آرام کریں، یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو ہر قلم کے مزدور کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، ڈائجسٹوں سے وابستہ تقریباً تمام ہی مصنفین کو ہم نے دن رات ایسے ہی مصروف عمل دیکھا، انھیں اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے مسلسل لکھنا اور صفحات کالے کرنا ضروری تھا، کیا یہ صورت حال کسی اعلیٰ درجے کے تخلیقی عمل کے لیے موزوں ہوسکتی ہے؟ اور اس طرح اعلیٰ درجے کے تخلیقی شاہ پارے وجود میں آسکتے ہیں؟
ڈائجسٹوں میں لکھنے والے تقریباً تمام ہی مصنفین کہنہ مشق اور تخلیقی ذہن کے حامل افراد تھے، انھیں زبان و بیان پر بھی بھرپور قدرت حاصل تھی، بے تحاشا لکھنے کے باوجود بھی وہ اپنے کام سے انصاف کرنا جانتے تھے اور نتیجے کے طور پر اعلیٰ درجے کی کہانیاں بھی منظر عام پر آتی تھیں اور بھرتی کا کام بھی نظر آتا تھا، چناں چہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس دور میں لکھی جانے والی ہر کہانی ایک شاہکار ہوتی تھی۔
معراج صاحب اپنے مستقل لکھنے والوں سے ہر طرح کی کہانیاں لے لیا کرتے تھے، اگر انھیں کوئی کہانی کمزور یا کم دلچسپ محسوس ہوتی تو اسے واپس کرنے کے بجائے رکھ لیتے تاکہ مصنف کی محنت ضائع نہ ہو، اس کا مہینے بھر کا بجٹ متاثر نہ ہو، ایسی بہت سی کہانیوں سے فائل بھرے پڑے تھے،جب مواد کا فقدان ہوتا اور پرچے کا پیٹ بھرنا بھی ضروری ہوتا تو اکثر ایسی کہانیاں استعمال میں لائی جاتیں ، آخری زمانے میں ایسی کہانیوں کے تمام فائل انھوں نے ہمارے حوالے کردیے تھے، اس تاکید کے ساتھ کہ جب پرچے کا پیٹ بھرنے کے لیے کچھ نہ ہو تو اس مواد سے استفادہ کیا جائے۔
ابو ضیا اقبال صاحب اچانک غائب ہوگئے، دفتر آنا چھوڑدیا، ہم سے کوئی رابطہ ہی نہ رہا،پھر ایک روز معراج صاحب نے بتایا کہ وہ حسب عادت کہیں اور کام کر رہے ہیں، بہت عرصے تک ان کی کوئی خیر خبر ہی نہ مل سکی، ایک روز اقبال پاریکھ دفتر آئے تو انھوں نے اطلاع دی کہ ابو ضیا اقبال شدید بیمار ہیں اور ان کی معاشی حالت بھی بہت خراب ہے، ایگزیما کا مرض نہایت شدت اختیار کرگیا تھا، اقبال پاریکھ ان سے ملاقات کرکے آئے تھے، ہم نے اقبال پاریکھ سے ہی ان کا پتا معلوم کیا اور ایک روز ان سے ملاقات کے لیے پہنچ گئے، یہ شاید 1998 ء کی بات ہے، وہ گزری میں ٹی این ٹی کے کوارٹروں میں رہائش پذیرتھے کیوں کہ ایک طویل عرصہ ٹی این ٹی میں ملازمت کرکے ریٹائر ہوئے تھے،یہ کوارٹر سرکاری طور پر انھیں ملا ہوگا، پہلے کبھی ہمیں ان سے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی تھی کہ ان کی رہائش کہاں ہے اور وہ اپنے ذاتی مکان میں رہتے ہیں یا کرائے پر؟
ہم ان کے گھر پہنچے تو واقعی ان کی حالت بہت تشویش ناک تھی، ہمیں دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور ان کا یہ حال دیکھ کر ہمیں بھی سخت اذیت محسوس ہوئی، ان کے بیٹوں میں سے شاید ایک لڑکا برسرروزگار تھا، واپس آکر ہم نے معراج صاحب کو صورت احوال سے مطلع کیا، وہ بھی بہت افسردہ ہوئے اور فوری طور پر کچھ رقم ان کی مدد کے لیے روانہ کی، بعد ازاں یہ رقم مستقل طور پر ہر ماہ انھیں بھیجی جاتی رہی، ہم بھی اس دوران میں کبھی کبھی انھیں دیکھنے جاتے رہے لیکن ان کی حالت سنبھل نہیں رہی تھی، آخر کار ایک روز ان کے انتقال کی خبر آگئی، شاید یہ 2000 ء کا سال تھا۔
ابو ضیا اقبال کہاں پیدا ہوئے، اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، ایک بار انھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ بمبئی سے پاکستان آئے تھے، بمبئی میں کسی اخبار میں لکھے گئے اپنے چند مضامین اور شاید ایک کہانی بھی انھوں نے ہمیں دکھائی تھی جس کا موضوع برصغیر کی تقسیم اور مسلم لیگ ، کانگریس چپقلش تھا، گویا وہ پوری طرح ایک مسلم لیگی ذہن کے حامل تھے، اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب بمبئی میں وہ نوعمر تھے اور کسی اخبار میں لکھ بھی رہے تھے تو یقیناً ڈائجسٹ میں لکھنے والوں میں خاصے سینئر ہوں گے، پاکستان آنے کے بعد انھوں نے ٹی این ٹی کے محکمے میں ملازمت اختیار کی اور اپنے ادبی اور صحافتی شوق کی تکمیل کے لیے مختلف اخبارات و رسائل میں لکھنا شروع کیا، ہمیں نہیں معلوم وہ کراچی سے لاہور گئے یا انڈیا ہی سے لاہور آگئے تھے کیوں کہ ابتدائی زمانے میں انھوں نے روزنامہ نوائے وقت میں بھی کام کیا اور اردو ڈائجسٹ کے لیے بھی لکھا، پھر شاید کراچی آگئے اور یہاں مختلف اخبار و رسائل کے لیے لکھتے یا ان کے لیے کام کرتے رہے، شاید گورنمنٹ ملازمت تک معاشی حالات مناسب رہے ہوں گے کیوں کہ رہائش کا مسئلہ بھی سرکاری کوارٹر کی وجہ سے پریشانی کا باعث نہ تھا مگر ریٹائرمنٹ کے بعد صرف پنشن سے گزارا نہیں ہوسکتا تھا اس لیے مسلسل ترجمے کا کام زیادہ کرتے تھے، بعض نئے نکلنے والے اخبارات و رسائل کے مدیر بھی رہے لیکن یہ پرچے زیادہ عرصہ نہ چل سکے۔
اقبال صاحب ڈبل ایم اے تھے، شاید اسی لیے ابتدا ہی میں سرکاری ملازمت مل گئی لیکن بلا کے تنک مزاج اور بے چین طبیعت انسان تھے، کوئی چھوٹی سی بات بھی ان کا موڈ خراب کرنے کا باعث ہوسکتی تھی، شاید اسی لیے زیادہ لوگوں سے ان کی رسم و راہ نہ تھی اور جن سے تھی، ان سے بھی ایک حد میں رہ کر ہی تعلقات رکھتے تھے جو زیادہ تر کاروباری مقاصد کے زیر اثر ہوتے، کراچی کے تقریباً تمام ہی ڈائجسٹوں میں انھوں نے لکھا ہوگا اور تمام ہی مدیروں اور لکھنے والوں سے شناسائی رہی ہوگی لیکن وہ کبھی ان حوالوں سے کوئی بات نہیں کرتے تھے، نہ کسی کی برائی کرتے اور نہ تعریف، البتہ معراج رسول صاحب کی ہم سے اکثر تعریف کرتے تھے، اس کی وجہ مصلحت بھی ہوسکتی تھی، اس میں کوئی شک نہیں کہ فطری طور پر وہ نہایت نیک طبیعت اور شریف و وضع دار انسان تھے، کسی ایسے شرعی عیب میں کبھی مبتلا نہیں رہے جو قابل تعزیر ہو، بے حد سادہ انداز میں زندگی گزاری اور بالآخر اپنے وقت مقررہ پر اس بے وفا دنیا کو خیر باد کہا ؂
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بھولا رام کی روح۔۔۔ری شنکر پرسائی/عامر صدیقی

بھولا رام کی روح  ہری شنکر پرسائی/عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. ہری شنکر پرسائی،پیدائش ۲۲ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے