سر ورق / ثقافت / ”کراچی لٹریچر فیسٹیول ادبی و ثقافتی حسن کا اظہار“۔کِرن صِدّیقی۔

”کراچی لٹریچر فیسٹیول ادبی و ثقافتی حسن کا اظہار“۔کِرن صِدّیقی۔

کِرن صِدّیقی۔

15فروری2018.

”کراچی لٹریچر فیسٹیول ادبی و ثقافتی حسن کا اظہار“۔

                   کتب میلے کراچی میں سال بھر ہی ہوتے رہتے ہیں لیکن فروری کے پہلے عشرے میں بیچ لگژری ہوٹل میں ہونے والا کراچی لٹریچر فیسٹیول جسے مختصراً کے۔ ایل۔ ایف۔ کہا جاتا ہے، شہر کے بڑے نمایاں اور بہترین اجتماعات میں سے ایک ہے جو کہ آکسفرڈ پریس کے زیر اہتمام منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ اگرچہ بہت زیادہ وسیع پیمانے پر تو نہیں ہوتا اور ہوتا بھی محض تین دن کے لیے ہے جن میں سے پہلا دن افتتاحی اور آخری دن اختتامی اجلاسوں میں گزر جاتا ہے، اب اگر دیکھا جائے تو یہ میلہ تین کے بجائے تقریباً ڈیڑھ ہی دن کا ہوتا ہے لیکن اتنے کم وقت کے باوجود بھی لوگوں کی اس میلے میں دلچسپی اور شوق بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ میلہ آکسفرڈ پریس کے زیر اہتمام ترتیب دیا جاتا ہے جس کی روحِ رواں امینہ سید ہیں۔ ان کی ان تھک محنت اور جدوجہد نے اس ادارے کو شہر کے معتبر اور قابل قدر ناموں کی صف میں شامل کر دیا ہے اور ان کی اور ان کے ساتھیوں کی کاوشوں کے سبب سمندر کنارے تین دن رنگا رنگ پھولوں سے آراستہ گلشن مہکتا رہتا ہے جہاں کتابوں کے اسٹال بھی سجے ہوتے ہیں اور ہر طرح کے علمی موضوعات پہ اپنے اپنے شعبوں کے ماہرین بات کر کے لوگوں کے علم اور معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔

 اس میلے میں ہم نے کراچی لٹریچر فیسٹیول کے بارے میں مختلف شخصیات کے خیالات جاننا چاہے۔ سب سے پہلے مشہور ادیبہ نیلم بشیر احمد تھیں جن کا ناول آج کل ادبی حلقوں میں موضوع گفتگو ہے۔ نیلم بشیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اجتماعات کا ہونا اور کروانا بہت اچھی بات ہے کیوں کہ اس لوگوں کو ایک ہی جگہ مختلف موضوعات پر متعدد ناشرین کی کتابیں مل جاتی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ وقت ہے کہ نئے لوگ آگے آئیں اور اپنا کام سب کے سامنے پیش کریں اور پرانے لوگوں کو ان کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ سینئرز بھی یہی چاہتے ہیں کہ اب جونیئر اور نئے لوگوں کو سامنے آنا چاہیے تاکہ وہ بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور طریقے سے اظہار کر سکیں۔

 بہت اچھے شاعر جو منفرد لہجے میں جذبات کو بیان کرتے ہیں وہ ہیں جناب فہیم شناس کاظمی، اُن سے ہم نے پوچھا کہ اس فیسٹیول کے بارے میں وہ کیا کہتے ہیں تو اُن کا جواب کچھ یوں تھا کہ فیسٹیول بہت اچھا ہے۔ کتابوں کی جہاں بات ہو، لکھنے پڑھنے کی جہاں بات ہو اُس جگہ کی تو بس تعریف ہی ہو سکتی ہے۔ اس لحاظ سے تو یہ بہت اچھا فیسٹیول ہے۔ ہمارا عہد وہ بد قسمت عہد ہے جو بڑے لوگوں سے محروم ہو گیا ہے۔ پہلے جو صاحب کمال لوگ ہوتے تھے ان کے اندر کا انسان بھی بہت بڑا ہوتا تھا۔ وہ نئے آنے والوں کو راستہ دیا کرتے تھے۔ محسن بھوپالی، عزیز حامد مدنی اور غلام عباس وغیرہ جیسے لوگ اب نہیں ہیں جو نئے اور نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور اُن کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔ غلطیوں پر مناسب انداز میں اصلاح بھی کیا کرتے تھے۔ اب کسی کو اتنی فرصت ہی نہیں کہ نئے لوگوں کو کچھ بتا ہی دیں۔ مزید انھوں نے یہ کہا کہ اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ اب کتاب پڑھنے کا ذوق ختم ہو گیا ہے اب کوئی کتاب نہیں پڑھنا چاہتا، لیکن یہ بات غلط ہے۔ اب ایک اعتراض کراچی لٹریچر فیسٹیول پر یہ بھی کیا جاتا ہے کہ یہاں اردو سے زیادہ انگریزی کی کتابیں ہیں  تو معترضین کو یہ سوچنا چاہیے کہ اردو ہو، انگریزی ہو یا کوئی اور زبان، آخر کتاب تو ہے نا اور اُس کے پڑھنے والے بھی ہیں تو یہ تو اچھی بات ہے ۔ گفتگو کے اختتام پر انھوں نے کہا کہ یہاں دراصل وہ لوگ زیادہ ہیں جو اردو بھی انگریزی میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ اُن کے اس پر لطف جملے کا لطف اٹھاتے ہوئے اُن سے رخصت ہو کر ہم آگے بڑھے تو مجاہد بریلوی صاحب جو صحافت اور ٹاک شوز کے حوالے سے کسی تعارف کے محتاج نہیں، اُن سے کراچی لٹریچر فیسٹیول کے بارے میں بات کی تو انھوں نے کہا کہ بہت اچھا فیسٹیول ہے اور ایسے اجتماعات ثقافتی زندگی کے حُسن کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن

اس کے دن کم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کتب میلے دنیا بھر میں ہوتے ہیں اور وہاں بہت منظم طریقے سے بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اُسی طرح اور اُسی طرز پہ ایسے اجتماعات ترتیب دیں۔ کتب میلے لوگوں میں کتب بینی کے فروغ اور کتابوں کی فروخت کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ غازی صلاح الدین نے کراچی لٹریچر فیسٹیول کے بارے میں کہا کہ دنیا بھر میں کتب میلوں کی روایت ہے مگر وہ اس طرح ترتیب دیے جاتے ہیں کہ ان میں وہی لوگ آتے ہیں جنھیں واقعی کتاب سے رغبت ہوتی ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ وہاں داخلے پر ٹکٹ ہوتا ہے تو اس طرح صرف وہ ہی لوگ ان میلوں میں آتے ہیں جنھیں حقیقتاً کتاب خریدنا ہو۔ یہاں بھی اگر ایسا ہو تو بہتر ہوگا کیوں کہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ جنھیں کتاب نہ خریدنا ہو وہ بھی ایسے اجتماعات میں محض تفریحاً چلے آتے ہیں، اس رجحان کی نفی ہونا چاہیے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ کتب میلے ہر جگہ دو تین دن ہی کے ہوا کرتے ہیں۔ مشہور شاعر، محقق اور اردو لغت بورڈ کے مدیر عقیل عباس جعفری نے کراچی لٹریچر فیسٹیول کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اچھا اجتماع ہے اور ایسے اجتماعات کا ہونا ایک اچھی روایت ہے، اسے برقرار رہنا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس مرتبہ کتابوں کے اسٹالز کی تعداد بہت کم ہے جب کہ یہ زیادہ ہونا چاہییں اور یہ کہ انگریزی زبان کی کتابیں اچھی خاصی تعداد میں ہیں ، اردو کی کتابوں کے اسٹالز کی تعداد مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس فیسٹیول کے منتظمین میں سے ایک ڈاکٹر آصف فرخی جنھیں کسی تعارف کی ضرورت نہیں، ان سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ کتابوں کے اسٹالز پہلے سے کم ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ تب انھوں نے کہا کہ اس مرتبہ اسٹال کم لگے ہیں، لیکن اگلی مرتبہ ایسا نہیں ہو گا۔ انتظامات کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہم تو اپنی بھرپور کوشش کرتے ہیں کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے اور یقیناً ہم کامیاب رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہاں انگریزی کتب کی تعداد زیادہ ہے لیکن یہاں صرف انگریزی ہی کی تو کتابیں نہیں ہیں بلکہ اردو کی کتابیں بڑی تعداد میں ہیں اور اس کے علاوہ سندھی زبان کی کتابیں بھی بہت تعداد میں ہیں۔ شیما کرمانی رقص کے حوالے سے ایک بڑا نام ہیں۔ وہ خاصی دل گرفتہ محسوس ہوئیں کیوں کہ اسی دن دو بڑی شخصیات ہم سے رخصت ہو گئیں تھیں۔ عاصمہ جہانگیر اور قاضی واجد۔ ایک فنکار بہت حساس ہوتا ہے اسی لیے وہ ملول تھیں مگر پھر بھی انھوں نے ہم سے مختصر سی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ انھیں کتابوں سے عشق ہے اس لیے کتب میلے میں ان کا آنا کوئی انہونی بات نہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ تین بھی کافی ہیں، اگر کسی کو کتاب لینا ہے تو ان دنوں میں خرید سکتا ہے۔ بات تو یہ ٹھیک ہے کہ جس کو کتاب خریدنی ہے وہ ان دنوں میں ہی لے سکتا ہے۔ مختصراً اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ اجتماع اگرچہ محدود پیمانے پر تھا، بہت وسیع نہیں تھا لیکن بہت اچھا تھا۔ ایسے میلے مسلسل ہوتے رہنا چاہییں۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

عروس البلاد کی ایک جگمگاتی ہوٸ شام…کرن صدیقی

عروس البلاد کی ایک جگمگاتی ہوٸ شام کرن صدیقی     نو فروری کی خوش …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے